Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 129
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وراء عام غير مخصوص البعض کی مثالیں چل رہی تھیں، گزشتہ سبق میں مثال کون سی پڑھی تھی؟ عام تھی الله کا یہ قول ”وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ“. جی، میں نے بتایا تھا مولانا آپ کو کہ بسم اللہ چھوڑنے کی دو ہی صورتیں ہیں بھئی، تسمیہ کو چھوڑنے کی ذبیحے پر دو ہی صورتیں ہیں: ایک عامدا چھوڑ سکتا ہے اور دوسرا ناسیاً، جان بوجھ کر چھوڑے گا یا بھول کر چھوڑے گا۔ تو ہمارے نزدیک جان بوجھ کر اگر چھوڑے تو حرام، بھول کر چھوڑے تو ذبیحہ حلال، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک چاہے جان بوجھ کر چھوڑے، چاہے بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں کیا ہوا ذبیحہ حلال ہی حلال ہے مولانا۔ دلیل ان کی یہ حدیث ہے، حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ عَنْ مَتْرُوكِ التَّسْمِيَةِ عَامِدًا“ اس ذبیحے کے بارے میں جس پر جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑ دیا گیا ہو ”فَقَالَ كُلُوهُ“ حضور صلى الله عليه وسلم نے کیا فرمایا کہ اس کو کھا لو ”فَإِنَّ تَسْمِيَةَ اللَّهِ تَعَالَى فِي قَلْبِ كُلِّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“ اس لیے کہ اللہ کا نام ہر مسلمان کے دل میں ہے۔ اور ہم نے کیا کہا کہ اللہ نے قرآن میں کیا فرمایا: ”وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا“ تم نہ کھاؤ اس ذبیحے میں سے ”لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ“ جس پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو، تو ”مَا“ عبارت ہے ذبیحے سے مولانا، ذبیحہ مراد ہے اس سے۔ اور وہ ذبیحہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اللہ نے فرمایا اس کو نہ کھاؤ بھئی، نہ کھاؤ۔ اب ان دونوں کے درمیان تطبیق کی کوئی صورت نہیں تھی، حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کھا لو، اور قرآن سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ نہ کھاؤ۔ تو ہم نے کیا کیا مولانا؟ عام تھا، غیر مخصوص البعض تھا، اس پر عمل واجب تھا، قطعی تھا، تو ہم نے اس پر عمل کیا اور حدیث کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا مولانا، چھوڑ دیا۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی یہ تو عام غیر مخصوص البعض کی مثال ذکر کر رہے ہیں مصنف بھئی، اور آپ نے تو اس میں تخصیص کر دی کیونکہ تسمیہ چھوڑنے کی دو صورتیں تھیں: ایک یہ کہ جان بوجھ کر چھوڑی جائے، ایک یہ کہ بھولے سے چھوڑی جائے، اور آپ کہتے ہیں بھولے سے چھوڑ دے تو ذبیحہ حلال ہوا، تو آپ نے اس حرمت کے حکم سے بعض افراد کو کیا کر دیا؟ نکال دیا، تو یہ تو عام مخصوص البعض ہوا بھئی، نہ کہ عام غیر مخصوص البعض۔ تو جواب یہ مولانا، میں نے بتلایا تھا کہ یہ بھول کر بسم اللہ کو چھوڑنے والا صورتاً بسم اللہ کو چھوڑ رہا ہے، حقیقۃً نہیں چھوڑ رہا، تو وہ ابھی بھی اس میں داخل ہے بھئی۔ قرآن میں کیا ہے جو چھوڑ دے، یعنی حقیقۃً چھوڑ دے اس کو نہ کھاؤ، اور بھول کر چھوڑنے والا تو حقیقۃً نہیں چھوڑ رہا، بھولے سے چھوڑ رہا ہے، اس لیے کہ عمد کی نسبت ہوتی ہے بندے کی طرف بھئی، نسیان کی نسبت بندے کی طرف نہیں، الحديث میں آتا ہے: ”رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ“ میری امت سے اٹھا لیا گیا ہے خطا اور نسیان کو، یعنی خطا اور نسیاناً کوئی کام اس سے ہو جائے تو اس پر پرسش نہیں ہوگی، پوچھا نہیں جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، وہ معاف ہے۔ ایک جواب یہ دیا بعضوں نے کہ بسم اللہ کو چھوڑنے والا کیا ہے؟ بھول کر چھوڑنے والا صورتاً چھوڑ رہا ہے، حقیقۃً نہیں۔ بعض علماء نے یہ جواب دیا مولانا کہ یہ ”مَا“ وہ ذبیحہ جس پر اللہ کا نام نہ ذکر کیا جائے، اس سے مراد ”مَا“ سے مراد وہ ذبیحہ نہیں جس سے بسم اللہ کو چھوڑ دیا جائے، بلکہ وہ ذبیحہ مراد ہے جس پر بسم اللہ کو عامداً چھوڑ دیا جائے۔ کیا کر دیا جائے؟ عامداً چھوڑ دیا جائے، تو بھولنے والے کا ذکر ہی نہیں ہے اس آیت میں، اس آیت میں تو وہ کہتے ہیں ذکر ہی کس کا ہو رہا ہے؟ عامداً والے کا ذکر ہو رہا ہے جو عامداً ہے۔ اور جب عامداً ہے، تو عامداً کوئی بھی ہو چھوڑنے والا ہم ہمیشہ کیا کہتے ہیں کہ اس کا کھانا جانور ذبیحے کا کھانا کیا ہو جائے گا؟ حرام، تو کوئی تخصیص ہے؟ اسی طرح اپنے عموم پر باقی ہے۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہ متعلق ہی عامداً متروک التسمیہ عامداً سے متعلق ہے اور جب اس سے متعلق ہے تو اس کے تمام افراد اس میں اب بھی شامل ہیں، کوئی بھی جان بوجھ کر چھوڑے گا ہم کیا حکم لگائیں گے اس پر فوراً؟ حرمت کا حکم لگا دیں گے، تو کوئی تخصیص ہے؟ بھولنے والے کا تو اس میں ذکر ہی، اس سے تو متعلق ہی نہیں، تو اس کو نکالنے یا داخل کرنے کا سوال ہی نہیں، اس کے بارے میں ہے ہی نہیں تو وہ داخل ہی نہیں ہے اس کے اندر، جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعضوں نے یہ جواب دیا۔ پھر یہ عبارت جو آ رہی تھی آخر میں: ”لِأَنَّهُ لَوْ ثَبَتَ الْحِلُّ بِتَرْكِهَا عَامِدًا لَثَبَتَ الْحِلُّ بِتَرْكِهَا نَاسِيًا“ اس پہ ایک اشکال ذہن میں ابھرتا تھا مولانا، آپ غور کریں گے تو اشکال آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ کیا؟ کہ یہاں ”لو“ آیا ہے مولانا، کہ اگر جان بوجھ کر چھوڑنے والے کے ذبیحے کی حلت ثابت ہو جائے، تو بھول کر بسم اللہ کو چھوڑنے والے کی حلت بطریقِ اولیٰ کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی۔ تو یہاں آیا ”لو“ اور ”لو“ آتا ہے انتفائے جزا اور انتفائے شرط دونوں کے لیے، کس کے لیے آتا ہے؟ انتفائے شرط اور انتفائے جزا دونوں کے لیے آتا ہے، تو اس سے تو یوں ثابت ہو رہا ہے کہ عامداً ترکِ بسم اللہ کی صورت میں بھی جانور حرام، اور ناسیاً نسیاناً اگر ترک کرتا ہے تو اس صورت میں بھی جانور کیا ہو جائے گا؟ حرام، یہی سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں مولانا؟ کیونکہ ”لو“ کس لیے آتا ہے؟ انتفائے شرط اور انتفائے جزا دونوں کے لیے آتا ہے۔ تو جواب یہ مولانا، کہ ہمیشہ دونوں کے انتفاء کے لیے نہیں آتا ”لو“، کبھی کبھی ”لو“ آتا ہے انتفائے شرط پر دلالت کرتا ہے اور جزا ثابت ہوتی ہے ہر تقدیر پر۔ جیسے حدیث میں آیا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں: ”لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ“ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوا تو فارس والوں میں سے بعض لوگ اس کو پا لیں گے، تو دیکھو یہاں بعض لوگ ایمان کو پا لیں گے ہر صورت میں، یہی مراد ہے نہ؟ ہر صورت میں ایمان کو، تو یہاں بھی اس آیت میں، عبارت میں بھی یہی مراد ہے کہ بھول کر چھوڑنے والے کی صورت میں تو بسم اللہ ذبیحہ حلال ہے ہی ہے، اگر جان بوجھ کر چھوڑے گا تو پھر بھی حلت ثابت ہو جائے، تو پھر تو آیت پر عمل بالکل کیا ہو جائے گا؟ متروک ہو جائے گا۔ بھئی بھول کر چھوڑنے والے کی صورت میں تو ذبیحہ حلال ہے ہی ہے، ہمارے نزدیک بھی حلال، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی حلال، ہاں اگر عامداً کی صورت میں بھی کیا ہو جائے مولانا؟ حلال ہو جائے، تو پھر ”فَحِينَئِذٍ يَرْتَفِعُ حُكْمُ الْكِتَابِ“ پھر تو کتاب اللہ کا حکم ہی اٹھ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ ”وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح یہ مولانا چوتھی مثال ہے عام غیر مخصوص البعض کی، ”وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: ”وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ“ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں، جو تمہیں دودھ پلائیں۔ آیت کس طرح ہے بھئی؟ ”حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ“ ”وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ“ تم پر اے ایمان والو حرام کر دی گئی ہیں تمہاری وہ مائیں بھی جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ بھئی رضاعت سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے آپ جانتے ہیں بھئی، اگر ڈھائی سال کے اندر بھئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ عورت اس بچے کی کیا بن جائے گی؟ ماں بن جائے گی، اور اس عورت کی باقی اولاد اس بچے کے کیا بن جائیں گے؟ بھئی بہن بن جائیں گے، لہذا اس صورت کے اندر مولانا، اس صورت کے اندر کیا ہوگا؟ رضاعت ثابت ہو جائے گی مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ رضاعت ثابت ہو جائے گی بھئی۔ کیا بات چل رہی تھی؟ ہاں، تو قرآن میں آیا بھئی تمہاری وہ مائیں جو تمہیں وہ حرام کر دی گئی ہیں تمہارے اوپر جو تمہیں کیا کریں؟ دودھ پلائیں۔ یہاں ”أَرْضَعْنَكُمْ“ دودھ پلائیں، دودھ پلائیں تمہیں مطلق آیا ہے مولانا، عام ہے، یہ کیا ہے؟ عام۔ تھوڑا سا دودھ بھی پلا دیں، تو رضاعت آئی یا نہیں آئی مولانا؟ ”أَرْضَعْنَ“ پایا گیا یا رضاعت کا فعل پایا گیا ہے یا نہیں مولانا؟ تو بچہ ایک قطرہ بھی دودھ پی لے عورت کا، تو کیا ثابت ہو جائے گی ہمارے نزدیک؟ رضاعت ثابت ہو جائے گی مولانا، رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ کیونکہ ”أَرْضَعْنَ“ عام ہے، تھوڑا سا بھی پلا دے کیا کہیں گے؟ دودھ پلایا، زیادہ پلائے پھر بھی کیا کہیں گے؟ دودھ پلایا، تو ہر صورت اس میں شامل ہے، تھوڑا دودھ پلانا بھی اس میں آ گیا اور زیادہ دودھ پلانا بھی، تو ہمارے نزدیک ایک تھوڑا سا دودھ بھی بچہ پی لے تو رضاعت کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی، وہ عورت بچے کی کیا بن جائے گی؟ ماں بن جائے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“، حرام نہیں کرتا، مصہ کہتے ہیں ایک مرتبہ بچے کا دودھ چوسنا، ایک مرتبہ کا دودھ چوسنا حرام نہیں کرتا ”وَلَا الْمَصَّتَانِ“ اور دو مرتبہ کا دودھ چوسنا یہ بھی حرام نہیں کرتا، ”وَلَا الْإِمْلَاجَةُ“ املاجہ کہتے ہیں مولانا پستان بچے کے منہ میں دینا، عورت پستان بچے کے منہ میں دے اس کو کیا کہتے ہیں؟ املاج۔ تو ایک مرتبہ پستان بچے کے منہ میں دینا ”وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ اور دو مرتبہ پستان بچے کے منہ میں دینا یہ حرام نہیں کرتا۔ بھئی ہم نے کیا کہا تھا؟ تھوڑا سا بھی دودھ پی لے رضاعت ثابت ہو جائے گی اور وہ عورت بچے پر کیا ہو جائے گی ہمیشہ کے لیے؟ حرام ہو گئی، کیا بن گئی اس کی؟ ماں بن گئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی ایک روایت یہ ہے مولانا کہ تین مرتبہ کیا کرے؟ ان کی ایک روایت یہ ہے کہ تین دفعہ بچہ دودھ پیے تو پھر رضاعت ثابت ہوگی، اور ایک روایت یہ ہے کہ پانچ دفعہ بچہ دودھ پیے تو پھر کیا ثابت ہوگی؟ رضاعت ثابت ہوگی۔ ایک روایت کتنی ہے؟ کتنی دفعہ پیے؟ تین، اور دوسری روایت؟ پانچ، پانچ مرتبہ پیے تو پھر رضاعت ثابت ہو جائے گی مولانا۔ اور ایک مرتبہ پینے کا یہ معنی نہیں بچے نے ایک دفعہ تھوڑا سا پی لیا، نہیں نہیں، ایک مجلس میں جتنا بھی بچہ دودھ پی لے گا وہ کیا شمار ہوگا؟ ایک مصہ شمار ہوگا، ایک مرتبہ کا پینا شمار ہوگا، دوسری مجلس میں پھر پیا، دوسری مرتبہ کا شمار ہوگا، سمجھ میں آیا؟ تو ایک مجلس میں جتنا بھی دودھ پیے گا وہ کیا شمار ہوا؟ ایک مصہ شمار ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں دیکھیں حدیث میں آیا ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ“ ایک مرتبہ بچے کا دودھ چوسنا اور دو مرتبہ چوسنا یہ حرام نہیں کرتا ”وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ اور ایک مرتبہ پستان بچے کے منہ میں دینا اور دو مرتبہ دینا یہ حرام نہیں کرتا۔ اب مولانا یہ حدیث میں آیا، تو حدیث سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ ایک یا دو دفعہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں، کم از کم تین دفعہ یا دوسرے ان کے قول کے مطابق کم از کم کتنی دفعہ؟ پانچ مرتبہ مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس سے، اور تو تطبیق ممکن نہیں تھی، ہماری دلیل کتاب اللہ کا عام ہے مولانا اور وہ کیا ہے؟ ”أَرْضَعْنَ“ دودھ پلا دیں، چاہے تھوڑا پلا دیں رضاعت آ گئی، دودھ پلا دیا، اور چاہے زیادہ پلائیں، اور عام پر عام کون سا ہے؟ مخصوص البعض ہے یا غیر مخصوص البعض؟ کسی کی تخصیص کی گئی ہے اس میں سے کہ تھوڑا پلائے یا زیادہ پلائے؟ تو یہ عام غیر مخصوص البعض ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے قطعی طور پر، اور مقابلے میں خبرِ واحد آ گئی اور ان دونوں میں تطبیق کی کوئی صورت ہے؟ تطبیق کی کوئی صورت نہیں، تو ہم نے مولانا کتاب اللہ پر عمل کیا اور حدیث کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا ”فَلَمْ يُمْكِنِ التَّوْفِيقُ بَيْنَهُمَا“ پس ممکن نہیں ہے ان کے درمیان تطبیق ”فَيُتْرَكُ الْخَبَرُ“ پس خبر کو، حدیث کو کیا کر دیا جائے گا؟ ترک کر دیا جائے گا مولانا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ چلیے مولانا ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.
123 approved lectures · 15 of 123