مولانا، عام کی بحث چل رہی ہے۔ عام کے بارے میں آپ نے پڑھا عام دو قسم پر ہے: ایک مخصوص البعض اور ایک غیر مخصوص البعض۔ مخصوص البعض وہ عام جس جو وہ عام ہے کہ باعتبارِ وضع کے، لفظ جن افراد پر بولا جاتا ہے ان میں سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے۔
اور غیر عام غير مخصوص البعض وہ ہے کہ باعتبارِ وضع کے، لفظ جن افراد پر بولا جاتا ہے ان میں سے کسی فرد کی تخصیص نہ کی جائے، نہ کی جائے۔ تو یہ عام غیر مخصوص۔ تو عام غیر مخصوص البعض کی مثالیں چل رہی ہیں مولانا۔ ایک مثال گزر گئی بھئی، وہ جو سارق پر زمان آئے گا یا زمان نہیں آئے گا اس سلسلے۔ وہ پہلی مثال عام غیر مخصوص البعض کی تھی۔ آج دوسری مثال یا تیسری مثال ہم پڑھیں گے عام غیر مخصوص البعض کی۔
تو عام غیر مخصوص البعض کی دوسری مثال ذکر کی ہے، کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں ہے: "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"، پس پڑھو تم ما وہ جو کہ تيسر میسر آئے مِنَ الْقُرْآنِ قرآن میں سے۔ پس پڑھو تم جو بھی میسر آئے قرآن میں سے، یعنی جو بھی آسانی سے ہو سکے۔ یعنی جو بھی آیت آسانی سے پڑھ سکو قرآن میں سے پڑھ لو بھئی۔ یہ آیت مولانا نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، نماز کے بارے میں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اب اس سلسلے میں کہ نماز میں کتنی قرات فرض ہے، کیا پڑھنا فرض ہے، کس چیز کی، تو یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ نماز میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ جس نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوگی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ نماز میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے، جس نے نہ پڑھی، چاہے جانتے بوجھتے نہ پڑھی، چاہے بھول کر نہ پڑھی، تو فرض رہ گیا، اگر جیسے بھی نہ پڑھی اور جب فرض رہ جائے گا تو نماز ہی نہ ہوئی۔
دلیل ان کی کیا ہے؟ دلیل دیکھیے متن ہی میں آگے آ رہی ہے، حدیث ذکر ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب"، کہ نماز سورۂ فاتحہ کے کوئی نماز سورۂ فاتحہ کے بغیر، یعنی نماز سورۂ فاتحہ کے بغیر جائز نہیں بھئی۔
کوئی نماز نہیں مگر کس کے ساتھ؟ سورۂ فاتحہ کے ساتھ، یعنی مراد کیا ہے سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں بھئی۔ یہ حدیث وہ ذکر کرتے ہیں خبرِ واحد ہے مولانا، خبرِ واحد بھئی۔
تو حدیثِ خبرِ واحد بھئی۔
احناف کا مذہب یہ ہے مولانا کہ نماز کے اندر مطلق قرات فرض ہے بھئی۔ قرآن میں سے ابتدا سے، سورۂ فاتحہ سے لے کر انتہا والناس تک، کہیں سے بھی کوئی ایک لمبی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھ لی جائے، یہ فرض ہے بھئی۔ مطلق قرات فرض ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مطلق قرات فرض ہے۔
تو اب جس شخص نے کہیں سے بھی قرات کر لی، ایک لمبی آیت کی یا تین چھوٹی آیتوں کی، تو فرض ادا ہو جائے گا بھئی۔ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں ہے۔
دلیل کیا ہے احناف کی؟ یہ آیت دلیل ہے، اللہ فرما رہے ہیں: "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"، پس پڑھو تم جو بھی آسانی سے ہو سکے قرآن میں سے۔ معلوم ہوا سورۂ فاتحہ سے لے کر سورۂ ناس تک جہاں سے بھی تمہیں تم اب پڑھ سکو آسانی سے، جہاں بھی تمہیں آسان لگے، جو بھی اس کو نماز میں پڑھ لو، ایک لمبی آیت پڑھ لو یا تین چھوٹی آیتیں، ان کی قرات کر لو، بس تمہارا فرض کیا ہے؟ ادا ہو جائے گا۔
تو یہاں لفظِ "ما" آیا مولانا، "مَا تَيَسَّرَ"، جو بھی کیا ہو جائے؟ آسان ہو جائے۔
تو یہ "ما" عام ہے مولانا اور عام غیر مخصوص البعض ہے اور عام غیر مخصوص البعض کیا ہوتا ہے؟ قطعی ہوتا ہے، اس پر عمل کرنا واجب۔ اب اگر ہم حدیث پر عمل کرتے ہیں کہ فاتحہ کا پڑھنا واجب فرض ہے، تو مولانا اس "ما" کا عموم فوت ہو جائے گا۔ یہ "ما" تو بتلا رہا ہے جو بھی پڑھ لو قرآن میں سے، اور ادھر حدیث کیا بتلا رہی ہے؟ کہ فاتحہ ہی کا پڑھنا ضروری ہے بھئی۔
سمجھ میں آ رہی ہے بات سب کو؟ تو اس وجہ سے تو اس کے مقابلے میں کیا آ گئی مولانا؟ خبرِ واحد آ گئی، اور عام کے مقابلے میں خبرِ واحد آ جائے تو کیا کیا جاتا ہے سب سے پہلے؟ عام کے حکم میں تبدیلی کیے بغیر جمع و تطبیق کی کوشش کی جاتی ہے، ورنہ پھر چھوڑ دیا جاتا ہے اسے، حدیث خبرِ واحد کو۔
اور یہاں تطبیق ممکن تھی، ہم نے تطبیق کر لی مولانا، اس طرح کہ دونوں پر عمل ہو جائے مولانا۔ دونوں پر عمل ہو جائے۔
وہ اس طرح مولانا کہ ہاں یہ "ما" سے جو ثابت ہوا، مطلق قرات ثابت ہوئی قرآن میں سے کہیں سے بھی، اسے ہم نے فرض قرار دیا۔ کیونکہ وہ واجب ہے قطعی ہے۔
اور خبرِ واحد کے ذریعے فاتحہ کا حکم آیا پتہ چلا، تو ہم نے فاتحہ کو واجب قرار دیا۔ مطلق قرات فرض اور سورۂ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے بھئی واجب۔
سمجھ میں آ رہی ہے بات؟
اب کوئی شخص مطلق قرات ہی نہیں کرتا، سے قرات کرنا ہی بھول جاتا ہے رکعت کے اندر مولانا، تو فرض ادا نہیں ہوا۔ ہم نے تو کیا کہا تھا مطلق قرات فرض ہے، وہ کچھ بھی نہیں پڑھتا، بھول گیا، خاموش رہا، تو مولانا اس کا فرض ہی ادا نہیں ہوا اور فرض ادا نہیں ہوا تو اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔
جبکہ اگر فاتحہ پڑھنا بھول گیا اور کوئی سورت پڑھ ڈالی، تو فرض ادا ہو گیا مولانا۔ فرض کیا ہوا؟ ادا ہو گیا اور فاتحہ وہ بھول بیٹھا ہے تو فاتحہ کا پڑھنا واجب تھا اور واجب چھوٹ جائے تو پھر کیا کیا جاتا ہے؟ سجدۂ سہو کیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھول جائے اگر، جان بوجھ کر چھوڑے پھر تو وہ ہو گئی، واجب کو جان بوجھ کر چھوڑا تو نماز ہی نہیں ہوگی۔
تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہم نے دلیل میں "مَا تَيَسَّرَ" "ما" کو ذکر کیا قرآن میں آیا ہے اور "ما" عام ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے، اس پر عمل کرنا واجب ہے بھئی۔
تو مطلق قرات فرض ہے بھئی، جو بھی قرات کر لو۔ اب فاتحہ بھی پڑھ لے گا تو اس پر بھی فرض ادا ہو گیا مولانا۔ کیونکہ فاتحہ بھی کس میں داخل تھی؟ "ما" کے عموم میں داخل تھی، تو ہم نے حکم، تو مولانا کتاب اللہ سے مطلق قرات ثابت ہوئی اسے ہم نے فرض قرار دیا اس کا درجہ اعلیٰ۔
اور خبرِ واحد چونکہ ظنی ہے مولانا اس کا درجہ کم ہے، تو اس سے جو بات ثابت ہوئی اس کو ہم نے کیا حکم دیا؟ واجب کا درجہ دیا۔ سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بات؟ اس کو واجب کا درجہ دیا۔
اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ "لا صلاة إلا بـ"، تو حدیث میں تو آیا فاتحہ کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں فاتحہ پڑھنا بھول گیا پھر بھی کیا ہو جائے گی اس کی نماز؟ ہو جائے گی، سجدۂ سہو کر لے۔ بھئی جواب ہم دیتے ہیں کہ یہاں مراد کمال کی نفی ہے۔ "لا صلاة" یعنی "لا صلاة كاملة" بھئی کامل نماز نہیں ہوتی بغیر فاتحہ کے، فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی۔
کامل نہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں بھئی، فاتحہ نہ پڑھا تو نماز کامل نہیں بھئی کامل نہیں، اس میں نقصان آ گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کمال کی نفی ہے۔
یہ اسی طرح ہے مولانا جیسے حدیث میں آیا ہے: "لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد"، "لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد"، بھئی جو مسجد کا پڑوسی ہے یعنی مسجد کے پاس ہے جس کا گھر اس کی نماز نہیں ہوتی مگر مسجد ہی میں۔
تو حدیث سے تو یوں لگ رہا ہے بظاہر کہ گھر میں پڑھے گا تو ہوگی ہی نہیں، اس کی جماعت نماز ہی کہاں پر ہوتی ہے صرف؟ مسجد میں پڑھے گا تو ہوگی۔ بھئی یہاں بھی کمال مراد ہے، کیا ہے؟ کمال کی نفی ہے کہ جو مسجد کے قریب ہے اس کی نماز تو کامل ہی نہیں ہے، اسے تو پڑھنی ہی کہاں چاہیے؟ گھر قریب ہے، ہر نماز کہاں پڑھنی چاہیے؟ مسجد میں پڑھنی چاہیے، تو کمال کی نفی ہے۔
اسی طرح ہے حدیث میں: "لا إيمان لمن لا عهد له"، اس شخص کا ایمان ہی نہیں جس میں عہد نہیں، یعنی وعدہ پورا نہیں کرتا۔
اب یہ معنی نہیں ہے کہ جو وعدہ پورا نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، کافر بن گیا۔ بلکہ یہاں بھی کمال کی نفی ہے کہ وہ کامل مومن نہیں ہے جو وعدہ پورا نہیں کرتا، تو کمال کی نفی ہے، سمجھ میں آیا؟
تو اس حدیث میں بھی اسی طرح کمال کی نفی ہے کہ وہ نماز کامل نہیں ہے، مکمل نہیں ہے کس کے بغیر؟ سورۂ فاتحہ کے بغیر، اور ہم بھی یہی کہتے ہیں بھئی، واجب ہم نے قرار دیا ہے اس کو۔
تو عمل ہوا یا نہیں دونوں پر مولانا؟ جی، جی، دونوں پر عمل ہو گیا۔
"وبمثله نقول في قوله تعالى"، اور اسی کے مثل ہم کہتے ہیں جیسے یہ گزری مثال، اسی کے مثل ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں۔ یہ عام غیر مخصوص البعض کی دوسری مثال آ رہی ہے مولانا: "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"، پس پڑھو تم جو کچھ میسر ہو قرآن میں سے، یعنی جو بھی آسانی سے پڑھ سکو قرآن میں سے، "فإنه عام في جميع ما تيسر من القرآن"، اس لیے کہ یہ آیت جو ہے عام ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا، یہ کلام کیا ہے؟ عام ہے اس سارے کے بارے میں "ما تيسر"، "في جميع ما تيسر من القرآن"، وہ سارا کچھ جو قرآن میں سے آسانی سے میسر ہو سکے، آسانی سے ہو سکے تلاوت۔
"ومن ضرورته"، ضرورت بمعنی لازم کے۔
"ومن ضرورته عدم توقف الجواز على قراءة الفاتحة"، اور اس کے لوازم میں سے ہے، یعنی اس کے ساتھ لازم ہے۔ "ومن ضرورته عدم توقف الجواز"، اور اس کے ساتھ لازم ہے، ترجمے پہ غور کرو بھئی، اور اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ "عدم توقف الجواز"، کہ جواز، نماز کا جواز موقوف نہیں ہے "على قراءة الفاتحة"، فاتحہ کی قرات۔ وہ کیا کہتے ہیں بھئی؟ نماز کا جواز کس پہ موقوف ہے؟ فاتحہ پہ، فاتحہ پڑھو گے تو نماز ہوگی، فاتحہ نہیں پڑھو گے تو نماز نہیں ہوگی۔ ہم یہ تو
ہم یہ آیت ذکر کر رہے ہیں اور اس آیت کے ساتھ لازم ہے مولانا کیا؟ کہ نماز کا جواز فاتحہ پر موقوف نہیں، کیونکہ یہاں تو آیا جو کچھ پڑھ لو۔ "وجاء في الخبر"، اور حدیث میں آیا ہے "أنه"، خبر حدیث کو بھی کہتے ہیں، حدیث کا ایک نام خبر بھی ہے۔ "أنه قال"، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب"، کہ نماز کوئی نماز نہیں ہے مگر فاتحہ کے سورۂ فاتحہ کے ساتھ، "فعملنا بهما"، پس ہم نے عمل کیا ان دونوں پر "على وجه"، ایسے طریقے پر "لا يتغير به حكم الكتاب"، کہ جس سے کتاب اللہ کا حکم نہیں بدلتا "بأن نحمل الخبر على نفي الكمال"، بحیثیت کے ہم محمول کرتے ہیں خبر کو "على نفي الكمال"، کس پر؟ کمال کی نفی پر، "حتى يكون مطلق القراءة فرضاً بحكم الكتاب"، یہاں تک کہ مطلق قرات فرض ہوگی کتاب اللہ کے حکم سے "وقراءة الفاتحة واجبة بحكم الخبر"، اور سورۂ فاتحہ کی قرات واجب ہوگی کس کے حکم سے؟ خبر کے۔
یہ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، آسان مسئلہ تھا بھئی۔ سب سے پہلے دونوں مذاہب ذکر کر دو بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل پھر ذکر کر دو گے، پھر ہم اپنی دلیل ذکر کریں گے اور دونوں میں تطبیق دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تطبیق دے دی اور امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب بھی دے دیا کہ بھئی اس میں کمال کی نفی مراد ہے بھئی، نماز کی ذات کی نفی نہیں ہے بھئی کہ نماز ہی نہ ہو۔
"وقلنا كذلك في قوله تعالى"، اور یہ تیسری مثال ہے بھئی۔
اللہ قرآن میں فرماتے ہیں بھئی ذبیحہ کے بارے میں: "وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ"، اور نہ کھاؤ تم "مِمَّا"، اس ذبیحے میں سے، "ما" سے کیا مراد ہے؟ ذبیحہ۔ تم نہ کھاؤ اس ذبیحے میں سے "لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ"، جس پر اللہ کا نام ذکر نہ لیا گیا ہو۔
تم اس ذبیحے میں سے نہ کھاؤ جس میں سے جس پر اللہ کا نام
اچھا یہ آیت دیکھ لی آپ نے۔
اچھا نچلی سطر کے آخر میں دیکھیں "وجاء في الخبر أنه عليه السلام"، حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں "سُئِلَ"، ان سے پوچھا گیا "عن متروك التسمية عامداً"، جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑنے والے کے بارے میں، "فقال: كلوه"، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو، "فإن تسمية الله تعالى في قلب كل امرئ مسلم"، اس لیے کہ بسم اللہ جو ہے ہر مسلمان کے دل میں ہے۔
یعنی اللہ کا ذکر جس پر اللہ کا ذکر نہیں ہوا اس کے ذبیحے، حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا "عن متروك التسمية عامداً"، کہ جو اللہ کے ذکر کو جان بوجھ کر چھوڑ دے جس ذبیحے پر، اس ذبیحے کے بارے میں پوچھا گیا، "فقال"، حضور نے فرمایا: اس کو کھا لو، اس لیے کہ اللہ کا ذکر کیا ہے؟ ہر مسلمان کے دل میں ہے بھئی۔
اچھا اب مسئلہ سمجھو بھئی۔
یاد رکھو یہاں تین مذاہب ہیں مولانا۔
تین مذاہب۔
بحث تو ہماری دو مذاہب میں ہی ہوگی، تینوں ویسے آپ یاد رکھیں بھئی۔
یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ذکر کرتے ہوئے، بسم اللہ نہ پڑھی، تو
حرام ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
اب بحث ہے یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ ہماری۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب آپ نے کیا لکھا بھئی؟ کوئی جان بوجھ کر چھوڑے، پھر بھی جانور حلال۔ کوئی غلطی سے، بھولے سے چھوڑ دے، تو بھی جانور حلال، حلال۔
ہم، دليل ان کی، وہ دلیل یہ حدیث ہے۔ حدیث میں آیا ہے: أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ عَنْ مَتْرُوكِ التَّسْمِيَةِ عَامِدًا، کہ حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا متروک التسمیہ عامدا کے بارے میں، ایسا جانور جس پر کیا کیا جائے؟
بسم اللہ نہ پڑھی جائے، جان بوجھ کر، عامدا، عمد ہو جس میں، ارادہ ہو، ارادے کے ساتھ جس پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ فَقَالَ، تو حضور نے فرمایا: كُلُوهُ، تم اس کو کھا لو، فَإِنَّ تَسْمِيَةَ اللَّهِ تَعَالَى فِي قَلْبِ كُلِّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، اس لیے کہ اللہ کا ذکر ہر مسلمان شخص کے دل میں ہوتا ہے۔ زبان سے نہ بھی پڑھے تو کیا ہے؟ دل میں تو اللہ کا ذکر موجود ہے وہاں۔
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، وقت ختم ہو گیا۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔