Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 141
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا عام کی بحث ہم نے شروع کی تھی بھئی۔ عام کی تعریف اپ نے پڑھی تھی، وہ ایسا لفظ ہے جو شامل ہو افراد کے مجموعے کو اور یہ شمول یا تو لفظوں کے اعتبار سے ہو گا یا معنیٰ کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے جیسے مشرکون اور مسلمون مولانا۔ یہ لفظی کیا ہیں؟ افراد کے مجموعے پر بولے جاتے ہیں مولانا، واؤ نون جمع کے لیے اس میں آئے ہیں۔ اور جبکہ معنیٰ کے اعتبار سے شمول جیسے من اور ما مولانا۔ یہ اسماءِ موصولہ من کس کے لیے آتا ہے؟ ذوی العقول کے لیے اور ما کس کے لیے؟ غیر ذوی العقول کے لیے اور کثیرین پر بولے جاتے ہیں بھئی۔ اور اس کے بارے میں پھر میں نے بتلایا تھا کہ عام دو قسم پر ہے: ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام مخصوص البعض کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ عام ہے کہ لفظ باعتبارِ وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے کچھ افراد کی تخصیص کر لی جائے یعنی ان کو اس کے حکم سے کیا کر دیا جائے؟ خارج کر دیا جائے، اس سے نکال دیا جائے اس میں سے مولانا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ عام مخصوص البعض، مخصوص کر دیا بعض کو، تخصیص کر دی۔ اور ایک عام ہے غیر مخصوص البعض مولانا، وہ عام ہے کہ لفظ باعتبارِ وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے کسی کی تخصیص نہ کی جائے، کسی کو نہ نکالا جائے۔ نہ نکالا جائے۔ تو عام مخصوص البعض کی مثال میں نے ذکر کی تھی، جیسے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ" اللہ نے بیع کو کیا قرار دیا ہے؟ حلال قرار دیا ہے بھئی۔ اب اس میں ہر قسم کی بیع آ گئی مولانا، ہر قسم کی بیع حلال ہوئی لیکن پھر کچھ افراد کی تخصیص کر دی گئی اور آگے فرما دیا: "وَحَرَّمَ الرِّبَا" اور سود کو کیا کر دیا ہے اللہ نے؟ حرام۔ معلوم ہوا وہ بیع جس کے اندر سود آ جائے، وہ کیا ہے؟ حرام ہے، وہ حرام ہے۔ تو کچھ افراد کی تخصیص کر کے اس کو ان میں سے نکال دیا گیا۔ اور عام غیر مخصوص البعض کی مثال میں نے ذکر کی تھی، جیسے قرآن میں کیا آتا ہے: "إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ" اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ اب یہاں کسی قسم کی تخصیص نہیں، اللہ ہر چیز کو جانتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کچھ کی تخصیص کریں کہ ان کو اللہ نہیں جانتے۔ تو یہ عام ہے اور تمام جن افراد کے لیے وضع ہے ان سب پر، ان سب کو شامل ہے۔ اور اسی طرح جیسے "فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ" سجدہ کیا تمام فرشتوں نے بھئی۔ تو الملائکہ کا لفظ شامل تھا تمام فرشتوں کو اور ان میں سے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ یہ سب کے سب کو شامل ہے۔ آگے کُلُّهُمْ آ رہا ہے، بتلا رہا ہے کہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، کوئی ایک فرشتہ بھی ایسا نہیں جس نے سجدہ نہ کیا ہو حضرت آدم علیہ السلام کو بھئی۔ اور پھر دونوں کا میں نے حکم بتلایا تھا کہ عام غیر مخصوص البعض جو ہے، وہ کتاب اللہ کے، وہ کس کی طرح ہے؟ خاص کی طرح ہے۔ جیسے خاص پر عمل کرنا واجب تھا، وہ قطعی تھا۔ اسی طرح عام پر عمل کرنا بھی، عام غیر مخصوص البعض پر عمل کرنا بھی واجب اور یہ بھی کیا ہے؟ قطعی۔ جیسے خاص کے مقابلے میں خبرِ واحد یا قیاس آ جائے اور پھر جمع کی کوئی صورت نہ ہو، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ خاص پر عمل کیا جائے گا اور خبرِ واحد اور قیاس کو چھوڑ دیا جائے گا، اس لیے کہ خاص ہے قطعی اور حدیث اور قیاس کیا ہے؟ خبرِ واحد اور قیاس کیا ہیں؟ ظنی ہیں مولانا، ظنی۔ اسی طرح عام کے مقابلے میں بھی اگر خبرِ واحد اور قیاس آ جائیں، تو اگر عام کے حکم میں تبدیلی کیے بغیر کوئی جمع اور تطبیق کی صورت ہو، تو پھر دونوں پر عمل کر لیا جائے گا اور اگر جمع اور تطبیق کی کوئی صورت نہیں، تو پھر اس صورت میں عام پر عمل کیا جائے گا اور قیاس اور خبرِ واحد کو کیا کر دیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا۔ جبکہ، تو ہمارے نزدیک یہ قطعی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کیا ہے؟ ظنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس میں تخصیص کا احتمال ہے، تخصیص آئی تو نہیں لیکن تخصیص کا احتمال تو ہے کہ اس کے بعض افراد کو کسی دلیلِ شرعی کی وجہ سے ان سے کیا کر دیا جائے؟ جدا کر دیا جائے، جدا کر دیا جائے بھئی۔ اور جبکہ عام مخصوص البعض، وہ عام جس میں سے کچھ افراد کو نکال لیا گیا ہو، وہ ہمارے نزدیک ظنی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ سرے سے دلیل ہی نہیں ہے بھئی، وہ دلیل ہی نہیں بن سکتا کسی مسئلے میں بھئی۔ چنانچہ اسی پر مسئلہ متفرع کرتے ہیں بھئی، ایک مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کر رہے ہیں بھئی۔ مثال کیا ذکر کی؟ میں نے بتایا اگر کوئی شخص چوری کرتا ہے اور پھر پتہ چل جاتا ہے، پکڑا جاتا ہے، اب اس کے پاس تین صورتیں ہیں وہ مال کی اس کے پاس بھئی: یا تو وہ مال بعینہٖ جو چوری کیا تھا اس کے پاس موجود ہو گا یا وہ ہلاک و ضائع ہو چکا ہے کسی وجہ سے یا اس نے خود اس کو ہلاک کیا ہے۔ تو یا تو وہ مال موجود ہو گا یا ہلاک ہوا ہو گا یا استہلاک پایا جائے گا۔ استہلاک کا کیا معنیٰ؟ خود ہلاک کیا ہے، خود خرچ کیا ہے یا خود جلایا ہے، جو بھی کیا ہے مولانا خود ضائع کیا ہے۔ تو یاد رکھو، اگر وہ مال بعینہٖ پایا جائے، تو اس صورت کے اندر وہ مال واپس کیا، چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ مال کیا کیا جائے گا؟ واپس۔ اگر وہ مال ہلاک ہوا ہے، ضائع ہوا ہے، اس سے متعلق یہ مسئلہ ہے مولانا۔ اگر ہلاک ہوا ہو، تو کیا اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا؟ تو ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب کیا ہے اس سلسلے میں؟ وہ فرماتے ہیں کہ اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی، اس کا صرف ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور اس پر مال کا ضمان بھی آئے گا۔ اور دلیل وہ کیا دیتے ہیں؟ دلیل ان کی قیاس ہے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں غصب پر۔ غصب کے اندر جیسے مولانا کوئی شخص کسی کی چیز لے جائے بغیر اجازت کے، غصب کر لی اس نے مولانا، اب وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو جائے، تو اس کو اور سزا کے علاوہ یہ مال کا کیا دینا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑتا ہے بھئی، ضمان دینا پڑے گا۔ اور تو وہاں پر بھی بغیر اجازت کے مال لے گیا، ضمان آیا۔ چوری میں بھی بغیر اجازت کے مال لے گیا ہے اور ہلاک ہوا ہے، تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا، لہٰذا اس میں بھی کیا دینا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی ان کی؟ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ ہم کہ دلیل میں کیا عام کو ذکر کرتے ہیں، کتاب اللہ کا عام۔ اور وہ کیا ہے؟ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" یہ ما آیا مولانا، بِمَا کے بعد با کے بعد کیا آ رہا ہے؟ ما۔ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت، پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو بطور بدلے کے، بِمَا كَسَبَا جو انہوں نے کیا۔ جو انہوں نے کیا اس کے بدلے کے طور پر ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ تو یہاں اللہ نے ما عام ہے، جو کچھ انہوں نے کیا۔ جو کچھ، یعنی جو جرم بھی ہے ان کا اس سارے کی سزا کیا ذکر ہوئی؟ ہاتھ کاٹنا، ہاتھ کاٹنا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان کے سارے جرموں کی سزا ما عام ہے، جو کچھ انہوں نے کیا۔ یعنی ان کے سارے جرموں کی سزا کیا ہے؟ ہاتھ کاٹنا۔ تو اگر ہم ان کو اس پر کیا لے آئیں مولانا؟ ضمان بھی ساتھ واجب کر دیں، تو اب مولانا سزا کیا ہوئی؟ ہاتھ کا بھی کاٹنا ہوا اور تو یہ مجموعہ سزا ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ اور ہم نے کیا کہا تھا؟ اس سارے کی سزا قرآن میں کیا آیا؟ اس سارے کی سزا کیا ہے؟ ہاتھ کا کاٹنا۔ تو اگر ہم ہاتھ بھی کاٹتے ہیں، ضمان بھی لے آتے ہیں، تو بتائیے یہ ہاتھ کا کاٹنا اس سارے کی سزا ہے یا اس میں سے کچھ کی سزا ہے؟ اور کچھ کی سزا کیا ہے؟ ضمان۔ کچھ کی سزا ہاتھ کا کاٹنا اور کچھ کی سزا ضمان۔ حالانکہ ما عام تھا کہ جو کچھ بھی کریں اس کی سزا کیا ہے؟ ہاتھ کاٹنا ہے۔ تو اس صورت میں مولانا، ما کا عموم باقی نہیں رہتا۔ ما کا عموم باقی، اس پر تو عمل کرنا واجب تھا، اس کے عموم کو برقرار رکھنا کہ جو کچھ وہ کریں اس کی سزا کیا؟ ہاتھ کاٹنا، یعنی ان کے سارے جرموں کی سزا ہاتھ کاٹنا۔ اور اگر ہم ضمان بھی ساتھ لے آئیں، تو اس سارے کی سزا کیا ہاتھ کاٹنا ہے یا دو چیزیں آ گئیں؟ تو اس سارے کی سزا ہاتھ کاٹنا تو نہ رہا۔ تو عام کا عموم کیا ہوا؟ ختم ہوا، اور حالانکہ عام غیر مخصوص البعض پر عمل کرنا واجب ہے، وہ قطعی ہے مولانا۔ اور اس کے مقابلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کیا ذکر کر رہے ہیں؟ قیاس۔ اور قیاس عام کے مقابلے میں آ جائے غیر مخصوص البعض کے، تو کیا کیا جائے گا؟ تطبیق کی کوئی کوشش کریں گے، یہاں تطبیق کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا عام پر عمل کریں گے اور قیاس کو کیا کر دیں گے؟ چھوڑ دیں گے۔ یہ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ اب ما عام ہے یا عام نہیں؟ تو ما کے بتلایا آپ کو انہوں نے کہ ما عام ہے بھئی۔ دلیل کیا ہے اس بات کی؟ دلیل چاہیے کہ ما عام ہے۔ تو اس سلسلے میں امام محمد رحمہ اللہ کا ذکر کردہ ایک مسئلہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ امام محمد کا قول ان کے ذکر کردہ مسئلے کو اس لیے انہوں نے دلیل کے طور پر پیش کیا، ان کے قول کو اس لیے پیش کیا کہ جیسے امام محمد رحمہ اللہ فقہ کے امام ہیں، اسی طرح لغت کے بھی وہ امام ہیں بھئی، لغت میں بھی بے انتہا درجے کی مہارت رکھتے تھے اور لغت میں بھی امام شمار کیے جاتے ہیں بھئی۔ انہوں نے ایک مسئلہ ذکر کیا، دیکھیے بھئی: "وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ كَلِمَةَ مَا عَامَّةٌ" دلیل اس بات کی کہ کلمۂ ما عام ہے، ما وہ ہے "ذَكَرَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ" جس کو ذکر کیا کس نے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے، کیا؟ "كَهِيَ إِذَا قَالَ الْمَوْلَى لِجَارِيَتِهِ" جب آقا نے اپنی باندی سے کہا، یہ وہ امام محمد نے مسئلہ ذکر کیا کہ جس وقت آقا نے اپنی باندی سے کہا: "إِنْ كَانَ مَا فِي بَطْنِكِ غُلَامًا" اگر وہ جو کچھ تیرے پیٹ میں ہے غلاماً اگر وہ غلام لڑکا ہے "فَأَنْتِ حُرَّةٌ" تو تو آزاد ہے۔ حاملہ لونڈی تھی، باندی تھی، اس باندی سے کیا کہا آقا نے؟ کہ وہ جو تیرے پیٹ میں ہے، ما دیکھو یہاں بھی آ رہا ہے، "مَا فِي بَطْنِكِ" جو کچھ تیرے پیٹ میں ہے اگر وہ لڑکا ہوا، تو کیا ہے تو؟ آزاد ہے۔ "فَوَلَدَتْ غُلَامًا وَجَارِيَةً" تو اس نے جنم دیا ایک لڑکے کو اور ایک لڑکی کو "لَا تُعْتَقُ" تو وہ آزاد نہیں ہو گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آزاد نہیں ہو گی۔ کیوں نہیں آزاد ہو گی؟ بھئی امام محمد نے ما کے عموم سے استدلال کیا ہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی کلمۂ ما کیا ہے؟ عام ہے۔ کلمۂ ما کیا ہے؟ کیوں؟ وہ فرما رہے ہیں جو کچھ تیرے پیٹ میں ہے۔ جو کچھ وہ کیا ہونا چاہیے؟ لڑکا، اور وہ لڑکا تھا یا ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے مولانا؟ تو ما کے عموم کا تقاضا یہ تھا کہ جو کچھ بھی ہے وہ کیا ہونا چاہیے؟ لڑکا۔ تو معلوم ہوا، اب وہ تو جو کچھ سارا تو لڑکا نہیں، وہ تو لڑکا بھی ہے اور لڑکی بھی ہے، لہٰذا اس صورت میں مولانا باندی آزاد نہیں ہو گی۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور امام محمد نے کس چیز سے، یہ مسئلہ ذکر کیا ہے۔ معلوم ہوا انہوں نے کس چیز سے دلیل پکڑی؟ ما کے عموم سے، کہ جو کچھ پیٹ میں ہے وہ کیا ہونا چاہیے؟ لڑکا ہونا چاہیے۔ تو یہاں ما آیا تھا، انہوں نے ما کے عموم سے دلیل پکڑی اور امام محمد رحمہ اللہ لغت کے امام ہیں، ان کا یہ دلیل پکڑنا یہ واضح کرتا ہے، یہ دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ ما ان کے نزدیک کیا ہے؟ عام، اور وہ ہیں امامِ لغت، معلوم ہوا پتہ چل گیا کہ ما کیا ہوتا ہے؟ عام ہوتا ہے، امامِ لغت بھی یہی فرما رہے ہیں، امامِ لغت بھی اس میں عموم ہوتا ہے۔ سب کو مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
123 approved lectures · 12 of 123