Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 106
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی!‏ تو خاص کی تعریف، اس کا حکم اور اس کی کچھ مثالیں گزر گئیں بھئی۔ اب عام کی بات بتلائیں گے آپ کو۔ بھئی، عام کی تعریف آپ نے پڑھی تھی کہ العام کل لفظ یلتظم جمعا من الافراد، کہ عام وہ ہر ایسا لفظ ہے جو شامل ہو افراد کے مجموعے کو، افراد کے مجموعے پر بولا جائے بھئی۔ اور یہ شمول یا تو لفظوں کے اعتبار سے ہو گا یا معنیٰ کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے کیا تھا؟ مسلمون اور مشركون، کہ ان کا اطلاق کم سے کم کتنے پر ہو گا؟ تین پر ہو گا۔ اور یا معنیٰ، جیسے من اور ما۔ من ذوی العقول کے لیے ہے اور ما غیر ذوی العقول کے لیے ہے، اور کثیرین پر بولے جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ عام ہے بھئی۔ اب یاد رکھو مولانا! عام دو قسم پر ہے۔ ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام دو قسم پر ہے: ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام مخصوص البعض وہ عام ہے کہ باعتبار وضع کے، کہ باعتبار وضع کے جن جن افراد پر بولا جاتا ہے، باعتبار وضع کے جن جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے بعض افراد کی تخصیص کر دی جائے، ان میں سے بعض افراد کی تخصیص کر دی جائے، یعنی بعض افراد کو اس میں سے نکال دیا جائے، بعض افراد کو اس کے حکم سے کیا کر دیا جائے؟ نکال دیا جائے۔ لکھ لیا بھئی؟ تو عام مخصوص البعض کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ عام ہے جو باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے بعض افراد کی کیا کر دی جائے؟ تخصیص کر دی جائے، یعنی ان کو اس میں سے نکال دیا، ان کا حکم الگ کر دیا جائے بھئی۔ جیسے مولانا! اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: احل اللہ البيع۔ اللہ نے حلال کر دیا ہے بیع کو۔ اب یہ تمام اقسام بیع کو شامل ہے بھئی۔ ہر قسم کی بیع کیا ہے؟ حلال، ہر قسم کی بیع حلال۔ لیکن پھر بعض انواع کی تخصیص کر دی گئی بھئی۔ بس بھئی اشارات لکھو، سارے نہ لکھو بھئی سب، وقت تھوڑا ہے۔ چند ایک لکھیں، اشارات لکھ کے بس سارے۔ جی! تو اللہ نے کیا فرمایا مولانا؟ احل اللہ البيع، کہ اللہ نے بیع کو کیا قرار دیا ہے؟ حلال قرار دیا ہے۔ اب ہر نوع بیع کیا ہوئی؟ حلال۔ تو لیکن پھر اس میں سے بعض افراد کو نکال دیا گیا، ان کی تخصیص کر دی گئی، اور آگے کس طرح ہے مولانا؟ وحرم الربوا۔ ربوا یعنی سود والی بیع کو کیا کر دیا گیا، سود کو؟ حرام کر دیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پہلے تھا بیع کا لفظ مولانا البيع کا، وہ تمام افراد بیع، جن پر وہ سب اس میں داخل تھیں مولانا۔ باعتبار وضع کے وہ سارے اس میں، تمام بیوع اس میں داخل ہوئیں مولانا۔ لیکن پھر ان میں سے بعض کی کیا کر دی گئی؟ تخصیص کر دی گئی، یعنی ان کو اس حکم سے نکال دیا گیا اور وہ کون سی بیع ہے؟ جس میں کیا ہو؟ ربوا ہو مولانا، کیا ہو؟ ربوا ہو مولانا۔ تو یہ عام مخصوص البعض کی مثال ہے، سمجھ میں آئی بھئی سب کو بات؟ اور ایک عام غیر مخصوص البعض ہے مولانا، وہ عام ہوتا ہے اسی تعریف کے مطابق دیکھیں مولانا، وہ عام ہوتا ہے کہ لفظ باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، وہ عام ہوتا ہے کہ لفظ باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے کسی کی تخصیص نہ کی جائے، کسی کو ان سے خارج نہ کیا جائے بھئی، نہ کیا جائے۔ جیسے مولانا! قرآن میں کس طرح آتا ہے؟ ان اللہ بكل شيء عليم۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ تو دیکھو! اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اب اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں، کوئی ایسی چیزیں اس میں سے نکالی نہیں گئیں کہ جن کو اللہ نہ جانتے ہوں، تمام چیزوں کو اللہ جاننے والے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر چیز کو۔ یا اسی طرح دوسری مثال ہے: فسجد الملائكۃ۔ سجدہ کیا تمام فرشتوں نے، اب الملائكۃ شامل ہے تمام فرشتوں کو اور کسی کی تخصیص نہیں کی گئی، آگے بتلا دیا گیا: كلهم، سب کے سب نے سجدہ کیا بھئی۔ کسی کی تخصیص نہیں کہ باقیوں نے کیا اور فلانہ فلانہ فرشتے نے سجدہ نہیں کیا، نہیں مولانا! کوئی تخصیص نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے آپ سب کو بھئی؟ آسان مثال یوں سمجھو، مثلاً میں کہتا ہوں: درجہ ثالثہ کے ہر ہر طالب علم کو سو سو روپیہ مثلاً دیا جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہر طالب علم کو دیا جائے۔ اب درجہ ثالثہ کے طلباء، یہ کیا ہے مولانا؟ عام ہے، تمام طلباء کو شامل ہے۔ اور اس میں کسی کی تخصیص بھی نہیں، لیکن اگر میں کہتا ہوں تمام طلباء کو دیا جائے لیکن زید اور عمر اور بکر کو نہ دیا جائے، تو میں نے کیا کر دی ان کی؟ تخصیص کر دی، اس حکم سے کچھ کو نکال دیا مولانا۔ تو اگر تخصیص نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ عام غیر مخصوص البعض، اور اگر تخصیص کی ہے تو یہ کیا بن گیا؟ عام مخصوص البعض بن گیا۔ سب کو مثال سمجھ میں آ گئی؟ اب ان کا حکم یاد رکھو! جو عام غیر مخصوص البعض ہے مولانا، عام غیر مخصوص البعض، وہ خاص کی طرح ہے، قطعی ہے مولانا، قطعی ہے۔ اس پر عمل کیا جائے گا مولانا، عمل کرنا واجب ہے۔ اس پر عمل کرنا واجب ہے مولانا، اور اگر اس کے مقابلے وہی خاص والا حکم، اگر اس کے مقابلے میں خبر واحد اور قیاس آ جائے تو کیا کیا جائے گا؟ جمع و تطبیق کی کوشش کی جائے گی۔ اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے گا؟ عام پر عمل کیا جائے گا اور قیاس اور خبر واحد کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہمارے نزدیک کہ عام غیر مخصوص البعض کس کی طرح ہے؟ خاص کی طرح۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عام غیر مخصوص البعض ظنی ہے مولانا، کیا ہے؟ ظنی ہے، قطعی نہیں ہے۔ جبکہ عام مخصوص البعض ہمارے نزدیک ظنی ہے، عام مخصوص البعض ہمارے نزدیک ظنی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سرے سے دلیل ہی نہیں بھئی، سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا مولانا۔ لکھ لیا بھئی حکم؟ ہمارے نزدیک عام غیر مخصوص البعض کا کیا حکم ہے؟ قطعی ہے، خاص کی طرح اس پر عمل کیا جائے گا، اس کے مقابلے میں خبر واحد اور قیاس آ جائے تو اس کو جمع و تطبیق کی کوشش کریں گے ورنہ چھوڑ دیں گے اور کس پر عمل کریں گے؟ عام پر عمل کریں گے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ظنی ہے، ظنی ہے، قطعی نہیں ہے۔ اور ظنی ہے، کس طرح ظنی ہے بھئی؟ بھئی! اس کے کہتے ہیں یہ کثیرین پر بولا جا رہا ہے اور عام میں کبھی کبھار کیا کر لی جاتی ہے؟ تخصیص کر لی جاتی ہے، کی جاتی ہے یا نہیں تخصیص کبھی؟ بعض افراد کو نکال دیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی ظن ہے، امکان ہے مولانا کہ اس کے، کہ افراد، ہر ہر فرد میں احتمال ہے کہ شاید اس کی تخصیص ہو جائے، شاید اس کی تخصیص ہو جائے، کوئی ایسی دلیل قائم ہو جائے۔ کوئی شرعی دلیل قائم ہو جائے جس کی وجہ سے اس فرد کی کیا کر دی جائے؟ تخصیص کر دی جائے۔ تو ہر فرد میں تخصیص کا احتمال آ گیا، آیا یا نہیں آیا مولانا؟ ہر فرد میں تخصیص۔ مثلاً میں نے کہا: بھئی! درجہ ثالثہ والے ہر طالب علم کو سو سو روپیہ دیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آپ تخصیص کی تو نہیں گئی لیکن تخصیص کا احتمال تو ہے، شاید کسی کی، زید کی يا بکر کی يا عمر کی یا خالد کی یا فلانہ جو جو بھی افراد ہیں، کہ اس کی بھی تخصیص کا امکان، ہو سکتا ہے اس کو اس کی تخصیص کر دی جائے نکال دیا جائے، ہو سکتا ہے اس کی بھی تخصیص کر دی جائے، کسی کی کوئی دلیل قائم ہو جائے اور یہ بھی اس حکم سے نکالا جائے، تو امکان تو ہے۔ تو چنانچہ یہ قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ظنی بن گیا۔ اور جبکہ مخصوص البعض کا کیا حکم بتلایا ہمارے نزدیک؟ ظنی ہے، اور ان کے نزدیک یہ سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا بھئی، دلیل نہیں بن سکتا۔ دیکھیے!‏ واما العام فنوعان، اور عام جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ عام خص عنه البعض، ایک عام وہ ہے جس سے تخصیص کی جائے بعض کی، یعنی میں نے کیا لکھوایا اس کا نام؟ مخصوص البعض۔ وعام لم يخص عنه شيء، اور ایک وہ عام ہے جس سے کسی چیز کی تخصیص نہ کی جائے۔ فالعام الذي لم يخص عنه شيء، پس وہ عام جس سے کسی چیز کی تخصیص نہ کی جائے، فهو بمنزلة الخاص، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ خاص کے درجے میں ہے۔ بھئی، کس چیز میں؟ کہتے ہیں: في حق لزوم العمل به، اس پر عمل کے واجب ہونے میں، اس پر عمل کے لازم ہونے میں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ لزوم کا کیا معنیٰ؟ وجوب۔ یعنی اس پر عمل کرنا لازم ہے، جیسے خاص پر عمل کرنا لازم اور واجب تھا، اس میں بھی عمل کرنا لازم اور واجب ہے۔ لا محالة، قطعی طور پر۔ چنانچہ اب اس پر، اسی بنا پر کہتے ہیں، ایک مثال ذکر کرتے ہیں۔ اچھا!‏ بھئی! یاد رکھو، اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے، چوری کر لیتا ہے اور پھر پتہ چل گیا تو اب چور کا تو دس درہم سے زائد چوری تھی تو کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا، ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور وہ جو مال اس نے چرایا تھا وہ؟ کہتے ہیں: بھئی! اس کی تین صورتیں بنتی ہیں، تین صورتیں۔ ایک صورت یہ کہ مال ابھی بھی اس کے پاس پڑا ہے۔ ایک صورت یہ کہ مال ضائع ہو گیا۔ یہ لے کر جا رہا تھا، اس سے بھی راستے میں دریا میں گر گیا یا کچھ ہوا، ہلاک ہو گیا مولانا، اس نے خود نہیں ہلاک کیا۔ کیا ہوا؟ وہ مال ہلاک۔ تیسری صورت ہے استہلاک، ایک ہے ہلاک یعنی خود ہلاک ہونا، اور ایک ہے استہلاک یعنی ہلاک کرنا۔ اس نے اس کو ہلاک کر دیا یعنی خرچ کر دیا اس کو یا کیا کر دیا مولانا۔ اس مال کو اس نے خود ختم کیا مولانا۔ تو تین صورتیں بنیں: یا مال ہو گا، یا ہلاک ہو جائے گا، یا تو اس میں ہلاک پایا جائے گا یا استہلاک۔ ہلاک کس کو کہتے ہیں؟ خود ہلاک ہوا مولانا، اور استہلاک؟ جان بوجھ کر، عمداً ارادے کے ساتھ اس کو ہلاک، چاہے ارادے سے، چاہے جلایا، چاہے اس کو خرچ کیا، جو بھی کیا ہلاک خود کیا۔ اب مسئلہ یہ، ایک شخص نے چوری کی، چوری کا پتہ چل گیا اور وہ مال مسروقہ جو تھا وہ ہلاک ہوا مولانا، کیا ہوا؟ ہلاک ہوا، ضائع ہو چکا ہے، تو اب کیا کیا جائے گا؟ احناف کے نزدیک صرف اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور بس۔ اس مال کا ضمان اس سے نہیں لیا جائے گا بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور اس سے مال کا ضمان بھی لیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ ہلاک کی صورت میں کیا ہے؟ صرف ہاتھ کاٹا جائے گا، مال کا ضمان نہیں ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور مال کا ضمان بھی لیا جائے گا بھئی، ضمان بھی۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں غصب پر۔ غصب کے اندر جیسے مولانا! کوئی شخص کسی کی چیز زبردستی اٹھا کر لے گیا مولانا مثلاً، غصب کر لی کسی کی چیز، اور اب وہ اس کے پاس ہلاک ہو گئی، کیا ہوئی؟ استہلاک کی بات نہیں، ہلاک کی بات چل رہی ہے، اس کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی، تو اس کو سزا کے ساتھ ساتھ مال کا ضمان بھی دینا پڑے گا بھئی۔ تو غصب میں مال ہلاک بھی ہو جائے پھر بھی کیا دینا پڑتا ہے؟ ضمان۔ تو کیونکہ اس نے بغیر اجازت کے مال لیا تھا، تو یہاں پر بھی چوری کے اندر بھی تو اس نے کیا کیا ہے؟ مال چرایا ہے اور مال ہلاک ہو گیا، اور یہ صورت کس کی جیسی بن گئی؟ غصب جیسی بن گئی، اور غصب کے اندر کیا تھا؟ مال ہلاک بھی ہو جائے تو کیا آیا کرتا تھا؟ ضمان، تو یہاں بھی کیا آ جائے گا؟ ضمان۔ تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ قیاس کرتے ہیں۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ ہم دلیل میں کتاب اللہ کا عام ذکر کرتے ہیں مولانا، کتاب اللہ کے، قرآن میں کس طرح آتا ہے؟ السارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما جزاء بما كسبا۔ اسی طرح ہے آیت بھئی؟ جی۔ کوئی اور حافظ بیٹھا ہے، کچھ اور پڑھ رہا تھا وہ۔ اسی طرح نہیں ہے؟ السارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما جزاء بما كسبا۔ جی! تو خاص کی تعریف، اس کا حکم اور اس کی کچھ مثالیں گزر گئیں بھئی۔ اب عام کی بات بتلائیں گے آپ کو۔ بھئی، عام کی تعریف آپ نے پڑھی تھی کہ العام كل لفظ يلتظم جمعا من الافراد، کہ عام وہ ہر ایسا لفظ ہے جو شامل ہو افراد کے مجموعے کو، افراد کے مجموعے پر بولا جائے بھئی۔ اور یہ شمول یا تو لفظوں کے اعتبار سے ہو گا یا معنیٰ کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے کیا تھا؟ مسلمون اور مشركون، کہ ان کا اطلاق کم سے کم کتنے پر ہو گا؟ تین پر ہو گا۔ اور یا معنیٰ، جیسے من اور ما۔ من ذوی العقول کے لیے ہے اور ما غیر ذوی العقول کے لیے ہے، اور کثیرین پر بولے جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ عام ہے بھئی۔ اب یاد رکھو مولانا! عام دو قسم پر ہے۔ ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام دو قسم پر ہے: ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام مخصوص البعض وہ عام ہے کہ باعتبار وضع کے، کہ باعتبار وضع کے جن جن افراد پر بولا جاتا ہے، باعتبار وضع کے جن جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے بعض افراد کی تخصیص کر دی جائے، ان میں سے بعض افراد کی تخصیص کر دی جائے، یعنی بعض افراد کو اس میں سے نکال دیا جائے، بعض افراد کو اس کے حکم سے کیا کر دیا جائے؟ نکال دیا جائے۔ لکھ لیا بھئی؟ تو عام مخصوص البعض کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ عام ہے جو باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے بعض افراد کی کیا کر دی جائے؟ تخصیص کر دی جائے، یعنی ان کو اس میں سے نکال دیا، ان کا حکم الگ کر دیا جائے بھئی۔ جیسے مولانا! اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: احل اللہ البيع۔ اللہ نے حلال کر دیا ہے بیع کو۔ اب یہ تمام اقسام بیع کو شامل ہے بھئی۔ ہر قسم کی بیع کیا ہے؟ حلال، ہر قسم کی بیع حلال۔ لیکن پھر بعض انواع کی تخصیص کر دی گئی بھئی۔ بس بھئی اشارات لکھو، سارے نہ لکھو بھئی سب، وقت تھوڑا ہے۔ چند ایک لکھیں، اشارات لکھ کے بس سارے۔ جی! تو اللہ نے کیا فرمایا مولانا؟ احل اللہ البيع، کہ اللہ نے بیع کو کیا قرار دیا ہے؟ حلال قرار دیا ہے۔ اب ہر نوع بیع کیا ہوئی؟ حلال۔ تو لیکن پھر اس میں سے بعض افراد کو نکال دیا گیا، ان کی تخصیص کر دی گئی، اور آگے کس طرح ہے مولانا؟ وحرم الربوا۔ ربوا یعنی سود والی بیع کو کیا کر دیا گیا، سود کو؟ حرام کر دیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پہلے تھا بیع کا لفظ مولانا البيع کا، وہ تمام افراد بیع، جن پر وہ سب اس میں داخل تھیں مولانا۔ باعتبار وضع کے وہ سارے اس میں، تمام بیوع اس میں داخل ہوئیں مولانا۔ لیکن پھر ان میں سے بعض کی کیا کر دی گئی؟ تخصیص کر دی گئی، یعنی ان کو اس حکم سے نکال دیا گیا اور وہ کون سی بیع ہے؟ جس میں کیا ہو؟ ربوا ہو مولانا، کیا ہو؟ ربوا ہو مولانا۔ تو یہ عام مخصوص البعض کی مثال ہے، سمجھ میں آئی بھئی سب کو بات؟ اور ایک عام غیر مخصوص البعض ہے مولانا، وہ عام ہوتا ہے اسی تعریف کے مطابق دیکھیں مولانا، وہ عام ہوتا ہے کہ لفظ باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، وہ عام ہوتا ہے کہ لفظ باعتبار وضع کے جن افراد پر بولا جاتا ہے، ان میں سے کسی کی تخصیص نہ کی جائے، کسی کو ان سے خارج نہ کیا جائے بھئی، نہ کیا جائے۔ جیسے مولانا! قرآن میں کس طرح آتا ہے؟ ان اللہ بكل شيء عليم۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ تو دیکھو! اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اب اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں، کوئی ایسی چیزیں اس میں سے نکالی نہیں گئیں کہ جن کو اللہ نہ جانتے ہوں، تمام چیزوں کو اللہ جاننے والے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر چیز کو۔ یا اسی طرح دوسری مثال ہے: فسجد الملائكۃ۔ سجدہ کیا تمام فرشتوں نے، اب الملائكۃ شامل ہے تمام فرشتوں کو اور کسی کی تخصیص نہیں کی گئی، آگے بتلا دیا گیا: كلهم، سب کے سب نے سجدہ کیا بھئی۔ کسی کی تخصیص نہیں کہ باقیوں نے کیا اور فلانہ فلانہ فرشتے نے سجدہ نہیں کیا، نہیں مولانا! کوئی تخصیص نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے آپ سب کو بھئی؟ آسان مثال یوں سمجھو، مثلاً میں کہتا ہوں: درجہ ثالثہ کے ہر ہر طالب علم کو سو سو روپیہ مثلاً دیا جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہر طالب علم کو دیا جائے۔ اب درجہ ثالثہ کے طلباء، یہ کیا ہے مولانا؟ عام ہے، تمام طلباء کو شامل ہے۔ اور اس میں کسی کی تخصیص بھی نہیں، لیکن اگر میں کہتا ہوں تمام طلباء کو دیا جائے لیکن زید اور عمر اور بکر کو نہ دیا جائے، تو میں نے کیا کر دی ان کی؟ تخصیص کر دی، اس حکم سے کچھ کو نکال دیا مولانا۔ تو اگر تخصیص نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ عام غیر مخصوص البعض، اور اگر تخصیص کی ہے تو یہ کیا بن گیا؟ عام مخصوص البعض بن گیا۔ سب کو مثال سمجھ میں آ گئی؟ اب ان کا حکم یاد رکھو! جو عام غیر مخصوص البعض ہے مولانا، عام غیر مخصوص البعض، وہ خاص کی طرح ہے، قطعی ہے مولانا، قطعی ہے۔ اس پر عمل کیا جائے گا مولانا، عمل کرنا واجب ہے۔ اس پر عمل کرنا واجب ہے مولانا، اور اگر اس کے مقابلے وہی خاص والا حکم، اگر اس کے مقابلے میں خبر واحد اور قیاس آ جائے تو کیا کیا جائے گا؟ جمع و تطبیق کی کوشش کی جائے گی۔ اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے گا؟ عام پر عمل کیا جائے گا اور قیاس اور خبر واحد کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہمارے نزدیک کہ عام غیر مخصوص البعض کس کی طرح ہے؟ خاص کی طرح۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عام غیر مخصوص البعض ظنی ہے مولانا، کیا ہے؟ ظنی ہے، قطعی نہیں ہے۔ جبکہ عام مخصوص البعض ہمارے نزدیک ظنی ہے، عام مخصوص البعض ہمارے نزدیک ظنی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سرے سے دلیل ہی نہیں بھئی، سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا مولانا۔ لکھ لیا بھئی حکم؟ ہمارے نزدیک عام غیر مخصوص البعض کا کیا حکم ہے؟ قطعی ہے، خاص کی طرح اس پر عمل کیا جائے گا، اس کے مقابلے میں خبر واحد اور قیاس آ جائے تو اس کو جمع و تطبیق کی کوشش کریں گے ورنہ چھوڑ دیں گے اور کس پر عمل کریں گے؟ عام پر عمل کریں گے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ظنی ہے، ظنی ہے، قطعی نہیں ہے۔ اور ظنی ہے، کس طرح ظنی ہے بھئی؟ بھئی! اس کے کہتے ہیں یہ کثیرین پر بولا جا رہا ہے اور عام میں کبھی کبھار کیا کر لی جاتی ہے؟ تخصیص کر لی جاتی ہے، کی جاتی ہے یا نہیں تخصیص کبھی؟ بعض افراد کو نکال دیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی ظن ہے، امکان ہے مولانا کہ اس کے، کہ افراد، ہر ہر فرد میں احتمال ہے کہ شاید اس کی تخصیص ہو جائے، شاید اس کی تخصیص ہو جائے، کوئی ایسی دلیل قائم ہو جائے۔ کوئی شرعی دلیل قائم ہو جائے جس کی وجہ سے اس فرد کی کیا کر دی جائے؟ تخصیص کر دی جائے۔ تو ہر فرد میں تخصیص کا احتمال آ گیا، آیا یا نہیں آیا مولانا؟ ہر فرد میں تخصیص۔ مثلاً میں نے کہا: بھئی! درجہ ثالثہ والے ہر طالب علم کو سو سو روپیہ دیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آپ تخصیص کی تو نہیں گئی لیکن تخصیص کا احتمال تو ہے، شاید کسی کی، زید کی يا بکر کی يا عمر کی یا خالد کی یا فلانہ جو جو بھی افراد ہیں، کہ اس کی بھی تخصیص کا امکان، ہو سکتا ہے اس کو اس کی تخصیص کر دی جائے نکال دیا جائے، ہو سکتا ہے اس کی بھی تخصیص کر دی جائے، کسی کی کوئی دلیل قائم ہو جائے اور یہ بھی اس حکم سے نکالا جائے، تو امکان تو ہے۔ تو چنانچہ یہ قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ظنی بن گیا۔ اور جبکہ مخصوص البعض کا کیا حکم بتلایا ہمارے نزدیک؟ ظنی ہے، اور ان کے نزدیک یہ سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا بھئی، دلیل نہیں بن سکتا۔ دیکھیے! واما العام فنوعان، اور عام جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ عام خص عنه البعض، ایک عام وہ ہے جس سے تخصیص کی جائے بعض کی، یعنی میں نے کیا لکھوایا اس کا نام؟ مخصوص البعض۔ وعام لم يخص عنه شيء، اور ایک وہ عام ہے جس سے کسی چیز کی تخصیص نہ کی جائے۔ فالعام الذي لم يخص عنه شيء، پس وہ عام جس سے کسی چیز کی تخصیص نہ کی جائے، فهو بمنزلة الخاص، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ خاص کے درجے میں ہے۔ بھئی، کس چیز میں؟ کہتے ہیں: في حق لزوم العمل به، اس پر عمل کے واجب ہونے میں، اس پر عمل کے لازم ہونے میں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ لزوم کا کیا معنیٰ؟ وجوب۔ یعنی اس پر عمل کرنا لازم ہے، جیسے خاص پر عمل کرنا لازم اور واجب تھا، اس میں بھی عمل کرنا لازم اور واجب ہے۔ لا محالة، قطعی طور پر۔ چنانچہ اب اس پر، اسی بنا پر کہتے ہیں، ایک مثال ذکر کرتے ہیں۔ اچھا! بھئی! یاد رکھو، اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے، چوری کر لیتا ہے اور پھر پتہ چل گیا تو اب چور کا تو دس درہم سے زائد چوری تھی تو کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا، ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور وہ جو مال اس نے چرایا تھا وہ؟ کہتے ہیں: بھئی! اس کی تین صورتیں بنتی ہیں، تین صورتیں۔ ایک صورت یہ کہ مال ابھی بھی اس کے پاس پڑا ہے۔ ایک صورت یہ کہ مال ضائع ہو گیا۔ یہ لے کر جا رہا تھا، اس سے بھی راستے میں دریا میں گر گیا یا کچھ ہوا، ہلاک ہو گیا مولانا، اس نے خود نہیں ہلاک کیا۔ کیا ہوا؟ وہ مال ہلاک۔ تیسری صورت ہے استہلاک، ایک ہے ہلاک یعنی خود ہلاک ہونا، اور ایک ہے استہلاک یعنی ہلاک کرنا۔ اس نے اس کو ہلاک کر دیا یعنی خرچ کر دیا اس کو یا کیا کر دیا مولانا۔ اس مال کو اس نے خود ختم کیا مولانا۔ تو تین صورتیں بنیں: یا مال ہو گا، یا ہلاک ہو جائے گا، یا تو اس میں ہلاک پایا جائے گا یا استہلاک۔ ہلاک کس کو کہتے ہیں؟ خود ہلاک ہوا مولانا، اور استہلاک؟ جان بوجھ کر، عمداً ارادے کے ساتھ اس کو ہلاک، چاہے ارادے سے، چاہے جلایا، چاہے اس کو خرچ کیا، جو بھی کیا ہلاک خود کیا۔ اب مسئلہ یہ، ایک شخص نے چوری کی، چوری کا پتہ چل گیا اور وہ مال مسروقہ جو تھا وہ ہلاک ہوا مولانا، کیا ہوا؟ ہلاک ہوا، ضائع ہو چکا ہے، تو اب کیا کیا جائے گا؟ احناف کے نزدیک صرف اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور بس۔ اس مال کا ضمان اس سے نہیں لیا جائے گا بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور اس سے مال کا ضمان بھی لیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ ہلاک کی صورت میں کیا ہے؟ صرف ہاتھ کاٹا جائے گا، مال کا ضمان نہیں ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور مال کا ضمان بھی لیا جائے گا بھئی، ضمان بھی۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں غصب پر۔ غصب کے اندر جیسے مولانا! کوئی شخص کسی کی چیز زبردستی اٹھا کر لے گیا مولانا مثلاً، غصب کر لی کسی کی چیز، اور اب وہ اس کے پاس ہلاک ہو گئی، کیا ہوئی؟ استہلاک کی بات نہیں، ہلاک کی بات چل رہی ہے، اس کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی، تو اس کو سزا کے ساتھ ساتھ مال کا ضمان بھی دینا پڑے گا بھئی۔ تو غصب میں مال ہلاک بھی ہو جائے پھر بھی کیا دینا پڑتا ہے؟ ضمان۔ تو کیونکہ اس نے بغیر اجازت کے مال لیا تھا، تو یہاں پر بھی چوری کے اندر بھی تو اس نے کیا کیا ہے؟ مال چرایا ہے اور مال ہلاک ہو گیا، اور یہ صورت کس کی جیسی بن گئی؟ غصب جیسی بن گئی، اور غصب کے اندر کیا تھا؟ مال ہلاک بھی ہو جائے تو کیا آیا کرتا تھا؟ ضمان، تو یہاں بھی کیا آ جائے گا؟ ضمان۔ تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ قیاس کرتے ہیں۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ ہم دلیل میں کتاب اللہ کا عام ذکر کرتے ہیں مولانا، کتاب اللہ کے، قرآن میں کس طرح آتا ہے؟ السارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما جزاء بما كسبا۔ اسی طرح ہے آیت بھئی؟ جی۔ کوئی اور حافظ بیٹھا ہے، کچھ اور پڑھ رہا تھا وہ۔ اسی طرح نہیں ہے؟ السارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما جزاء بما كسبا۔ اس سارے کا بدلہ کیا ہو جائے گا؟ ہاتھ کاٹنا۔ اس سارے جرم کا کیا بدلہ ہو جائے گا؟ ہاتھ کاٹنا۔ اور اگر ہم امام شافعی رحمہ اللہ کا قول لے لیں تو پھر اس صورت میں بدلہ کیا بنے گا؟ ہاتھ کاٹنا اور اس کے ساتھ ساتھ ضمان، کیا آ جائے گا اس کے ساتھ؟ ضمان بھی آ جائے گا۔ تو بدلہ قرآن میں ذکر ہوا کیا؟ ہاتھ کاٹنا، اور کہ یہ بدلہ ہے اس سارے کا جو انہوں نے جرم کیا ہے۔ اس سارے کا کیا بدلہ ہے؟ کہ ان کا ہاتھ کاٹ دو۔ اور اگر امام شافعی رحمہ اللہ کا قول لیں تو اس سارے کا بدلہ صرف ہاتھ کاٹنا ہے یا ہاتھ کاٹنا اور ضمان دونوں ہیں بھئی؟ ہاتھ کاٹنا اور ضمان دونوں ہو گئے۔ تو قرآن میں تو آیا تھا کہ جو کچھ انہوں نے جرم کیا ہے، اس کی جزا ہاتھ کاٹنا ہے، ہاتھ کاٹنا۔ یعنی مجموعۂ سزا کیا ہے؟ ہاتھ کاٹنا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق، مجموعۂ سزا ہاتھ کاٹنا اور ضمان ہے، تو یہ تو ہاتھ کاٹنا جزو ہو گیا۔ ہاتھ کاٹنا سزا کا جزو ہوا یا پوری سزا ہوئی؟ ان کے نزدیک ہوئی، پوری سزا تو کیا ہے؟ ہاتھ بھی کاٹا جائے اور ضمان بھی۔ تو قرآن میں تو آیا اس پورے کی سزا کیا ہے؟ ہاتھ کاٹنا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول لیا جائے تو اس پورے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں بلکہ اس ہاتھ کے ساتھ ساتھ ضمان بھی، تو پوری سزا ان کے نزدیک کیا ہوئی؟ ہاتھ کا بھی کاٹنا اور ضمان کا بھی آنا، تو اس صورت میں ہاتھ کا کاٹنا پوری سزا ہوئی یا سزا کا جزو ہوا؟ سزا کا جزو ہوا، اور حالانکہ قرآن نے کیا ذکر کیا ہے؟ جو کچھ انہوں نے کیا ہے، اس کی سزا صرف کیا ہے؟ ہاتھ کاٹنا۔ تو امام عام سے دلیل بناتے ہیں مولانا، اور اگر امام شافعی تو اور امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل میں قیاس ذکر کی، تو عام کے مقابلے میں قیاس آ گیا، جمع و تطبیق کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا قیاس کو ترک کیا جائے گا اور کتاب اللہ کے عام پر عمل کیا جائے گا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی! وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم نے کہا ہے: اذا قطعت يد السارق، جب کاٹ دیا جائے چوری کرنے والے کا ہاتھ، بعد ما هلك المسروق عنده، بعد اس کے کہ جب ہلاک ہو جائے المسروق، چوری شدہ مال عنده، اس کے، مسروق چیز اس کے پاس ہلاک ہو جائے، لا يجب عليه الضمان، تو اس پر ضمان واجب نہیں، لان القطع جزاء جميع ما اكتسبه السارق، اس لیے کہ ہاتھ کا کاٹنا، یہ بدلہ ہے اس سارے کا ما اكتسبه السارق، جو چور نے کیا ہے۔ جو چور نے کیا ہے، اس سارے کا بدلہ ہے۔ فان كلمة ما عامة، پس بے شک کلمۂ "ما" عام ہے، کیونکہ کلمۂ "ما" عام ہے، يتناول جميع ما وجد من السارق، اور یہ شامل ہے اس سارے کام کو جو پایا گیا ہے چور کی طرف سے۔ یہ شامل ہے اس سارے جرم کو شامل ہے جو کس کی طرف سے پایا گیا ہے؟ چور کی طرف سے پایا گیا ہے، تو وہ صرف ہاتھ کاٹنا ہے۔ وبتقدير ايجاب الضمان، اور ضمان واجب کرنے کی تقدیر پر، ضمان واجب کرنے کی، یعنی اگر ایجابِ ضمان کو بھی فرض کر لیا جائے، يكون الجزاء هو المجموع، جزا کیا بن جائے گی؟ جزا کیا بن جائے گی؟ بھئی! اگر ہم ایجابِ ضمان کو بھی فرض کر لیں کہ ایجابِ ضمان بھی ہو گا ساتھ، تو پھر سزا کیا بن گئی؟ دو چیزیں بن گئیں یا ایک بن گئی؟ ہاں، تو سزا مجموعہ بن گئی، یعنی ہاتھ کا کاٹنا بھی اور ضمان بھی، ولا يترك العمل به بالقياس على الغصب، اور اس عام پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ غصب پر۔ قیاس کرتے ہوئے غصب پر۔ چلیے مولانا! هذا هو المرام، یہ آگے دلیل بھی تھی، لیکن چلو، یہ پھر کل دیکھ لیں گے۔ هذا هو المرام، واللہ اعلم بالصواب، ۔
123 approved lectures · 11 of 123