Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-010

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 119
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا خاص کی دوسری مثال گزری تھی، اللہ کا یہ قول: "قد علمنا ما فرضنا عليهم في ازواجهم" تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو کہ ہم نے مقرر کیا ہے ان خاوندوں پر "في ازواجهم" ان کی بیویوں کے بارے میں بھئی، بیویوں کے بارے میں۔ میں نے بتلایا تھا ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے اس مسئلے میں، مہر کے مسئلے میں۔ احناف کے نزدیک جو ہے مہر 10 درہم سے کم نہیں ہو سکتا۔ کم سے کم مہر کتنا ہو گا؟ 10 درہم۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مہر میں جو جس پر بھی میاں بیوی راضی ہو جائیں وہ مہر ہے، چاہے وہ قلیل ہو جتنا بھی، ایک چاول، ایک گندم کی مٹھی ہی کیوں نہ ہو یا جتنا بھی کثیر ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بھئی جانبِ زیادت میں تو اتفاق ہے سب کا کہ کوئی حد نہیں، چاہے اپ 1 کروڑ رکھیں، چاہے 10 کروڑ رکھیں مہر، لیکن جانبِ قلت کے اندر مولانا، ہمارے نزدیک کم سے کم کتنا ہو گا؟ 10 درہم بھئی، 10 درہم۔ دلیل ہماری "فرضنا" ہے بھئی، "فرضنا" جو ہم نے مقرر کیا بھئی۔ اس میں مقرر کرنے کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ اللہ نے اپنی طرف نسبت کی: ہم نے مقرر کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا کوئی مہر کی مقدار مقرر ہے من جانب اللہ بھئی۔ اب وہ جانبِ زیادت میں تو بالاتفاق نہیں ہے، جانبِ قلت میں ہو گی پھر۔ اب جانبِ قلت میں کتنی ہے، یہ تو ذکر نہیں ہوا قرآن میں اور بھی ہم نے تلاش کیا، قرآن میں نہیں ملا بھئی۔ تو یہ آیت مجمل ہے، کیا ہے؟ جس کی مراد معلوم نہ ہو۔ اب اس سے کیا مراد ہے، کتنا وہ ہے وہ؟ تو مجمل کے آیت کے لیے بیان چاہیے مولانا۔ اب وہ بیان ہمیں قرآن میں نہیں ملا ہم نے تلاش کیا۔ پھر ہم حدیث کی طرف گئے تو حدیث میں ہمیں اس کا بیان مل گیا مولانا۔ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں: "لا مهر لاقل من عشرة دراهم" 10 درہم سے کم مہر نہیں ہے بھئی۔ معلوم ہوا تو یہ کم سے کم مہر کی مقدار کتنی ہے؟ 10 درہم، 10 درہم۔ جب تو یہ ہم نے ہماری دلیل کیا ہے مولانا؟ "فرضنا"، اور "فرضنا" کیا ہے؟ خاص کتاب اللہ کا، اور کتاب اللہ کے خاص پر عمل کرنا واجب ہے مولانا۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس نکاح عقدِ نکاح کو قیاس کرتے ہیں عقودِ مالیہ پر۔ اور جو مال والے عقد کیے جاتے ہیں، مثال کے طور پر بیع ہے، تو یہ بھی ایک عقد ہے تو یہ بھی عقدِ مالی کی طرح ہوا، اور عقدِ مالی کے اندر کیا ہوتا ہے مولانا؟ ایک کی جانب سے عوض ہے تو دوسرے کی طرف سے ثمن ہے بھئی۔ اور پھر اس میں جتنے پر بھی وہ راضی ہو جائیں، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں، 100 والی چیز 500 میں بیچے یا 100 اس پر دونوں راضی ہو جائیں یا 100 والی چیز 1 روپے میں، اس پر دونوں راضی ہو جائیں بھئی، دونوں کی اپنی رضامندی پر موقوف ہے یہ۔ تو اسی طرح کہتے ہیں نکاح بھی ایک عقدِ مالی ہے، کیونکہ اس کے اندر عورت اپنا بضع حوالے کرتی ہے اور مرد اس کے مقابلے میں مہر ادا کرتا ہے، تو یہ جتنے پر بھی وہ راضی ہو جائیں، وہ مہر ہو جائے گا مولانا مقرر۔ تو انہوں نے کس پر قیاس کیا اس کو؟ عقدِ مالی پر بھئی۔ لہذا زوجین کی رائے تعیین کے سلسلے میں معتبر ہو گی، جو بھی مہر مقرر کر دیں۔ ہم کہتے ہیں یہ تو آپ نے قیاس کیا، اور ہم تو آپ کی دلیل ہے قیاس، اور ہماری دلیل ہے مولانا کتاب اللہ کا خاص۔ اور قیاس خاص کے مقابلے میں آ جائے تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ خاص کو، خاص کو ترجیح دی جائے گی۔ بلکہ قیاس تو ہمارا ہم جو قیاس کرتے ہیں ہمارا، تو ہمارا قیاس جو ہے وہ بھی مؤید ہے، ہمارا مؤید ہے۔ ہم اس کو قیاس کرتے ہیں سرقہ پر بھئی۔ سرقہ، چوری کوئی شخص کر لے تو کم از کم کتنے درہم ہوں تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ 10 درہم، 10 سے کم ہوں تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، 10 سے اوپر ہوں یا 10 ہوں تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ معلوم ہوا ایک انسانی عضو کی کم سے کم قیمت کتنی ہے؟ 10 درہم۔ اور یہاں پر بھی مولانا تو نکاح بھی اسی طرح ہے، تو اس میں بھی کم سے کم کتنی قیمت ہو گی بھئی؟ 10 درہم ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مہر کم سے کم 10 درہم۔ اس پر کئی مسائل متفرع ہوئے تھے مولانا۔ ایک مس تو ہم ایک مسئلہ یہ متفرع ہوا کہ نفل عبادت کے لیے خلوت اختیار کرنا، ایک آدمی نکاح ہی نہیں کرتا، کہتا ہے میں اکیلا رہوں گا تاکہ میں نفل عبادات زیادہ کر سکوں، ورنہ تو بیوی بچوں کی مصروفیات ہوں گی، ان کی ضروریات پوری کرنا پڑیں گی اور چیزیں ہوں گی، تو پھر نفل عبادت میں زیادہ نہیں کر سکوں گا بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں یہ افضل ہے، اس لیے کہ نکاح کیا ہے؟ ایک عقد ہے، مباح چیز ہے، اور نفل تو عبادت ہے اور عبادت کیا ہوتی ہے مباح چیز سے؟ افضل ہوتی ہے، ثواب ہے اس کا۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ نکاح جو ہے یہ تو سنت ہے حضور کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "النكاح من سنتي" نکاح میری سنت میں سے ہے۔ دوسری حدیث میں آتا ہے: "فمن رغب عن سنتي فليس مني" جس نے میری سنت سے اعراض کیا "فليس مني" وہ مجھ سے نہیں، میرے ساتھ اس کا تعلق نہیں۔ ثابت ہوا مولانا ان حدیث سے ثابت ہوا کیا نکاح من سنتی کہ نکاح کیا ہے؟ سنت ہے۔ اور وہ جو عبادت آپ کہہ رہے ہیں تخلّی کس کے لیے کر رہے ہیں؟ نفل کے لیے۔ اور ایک طرف ہے نفل، ایک طرف ہے سنت مولانا، تو کیا چیز افضل ہوئی؟ سنت، سنت نفل عبادت سے افضل ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک یہ اختلاف متفرع ہوا۔ دوسرا وہ کہتے ہیں چونکہ یہ عقدِ مالی ہے، تو عقدِ مالی کو جیسے توڑنا چاہیں آپس میں وہ توڑ سکتے ہیں، جس طریقے سے بھی بھئی باطل کرنا چاہیں۔ اسی طرح نکاح کے اندر بھی خاوند کو اجازت ہے جیسے اس کو توڑنا چاہے، جیسے تین طلاقیں دینا چاہے، دے سکتا ہے۔ چاہے تو ایک ایک طہر میں دے دے تفریق کر دے بھئی طلاقوں کی، تقسیم کر دے ہر طہر میں ایک ایک جدا جدا، اور چاہے تو ایک ہی طہر میں کیا کرے؟ تین طلاقیں دے دے بھئی، ایک آج دے دی، ایک دو چار دن بعد دے دی، ایک پھر دو چار دن بعد دے دی ایک ہی طہر میں، تو چاہے جمع کرے چاہے تفریق کرے طلاقوں میں، اس کے لیے جائز ہے مولانا۔ جمع سے کیا مراد ہے؟ ایک طہر میں جمع کرنا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، اس کا یہ عبادت ہے اور اس کے لیے مسنون بات توڑنے کے لیے اس کے مسنون طریقہ موجود ہے، تو اب مسنون طریقے پر عمل کیا جائے گا کہ ایک طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو، اس میں ایک طلاق دے دے اور پھر آگے دو تین پھر عدت گزرنے دے عورت کی مولانا، تو خود بخود جب عدت پوری ہو گی تو وہ بائنہ ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس یا تین طہروں میں ایک ایک طلاق دے دے، یہ مسنون طریقہ ہے اور اس کے خلاف کرتا ہے مثلاً ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دیتا ہے، چاہے وقفے وقفے سے دیتا ہے، تو یہ بدعت ہے مولانا، گناہ ہے مولانا، آدمی گنہگار ہو گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ گنہگار ہو گا۔ اور گنہگار ہو گا۔ اسی طرح وہ فرماتے ہیں تین اکٹھی دینا چاہے تو تینوں اکٹھی بھی دے سکتا ہے، تیسرا مسئلہ یہ۔ کیونکہ یہ عقد ہے عقدِ مالی کی طرح ہے، عقدِ مالی ہے اور اس میں مرضی ہوتی ہے طرفین کی، توڑنا جیسے اکٹ ایک دم توڑ دیں بھئی باطل کر دیں۔ کہتے ہیں نہیں، تین اکٹھی دینا، ایک ہی وقت میں تین دینا، میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں، یہ بھی کیا ہے؟ بدعت ہے مولانا، مسنون طریقے کے خلاف، لہذا اس میں بھی گنہگار ہو گا۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں یہ عقدِ مالی ہے اور جیسے عقدِ مالی کو فسخ کر دیا جاتا ہے کبھی دونوں آپس میں رضامند ہو کر بیع کو کیا کر لیتے ہیں بائع اور مشتری؟ فسخ کر لیتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی یہ فسخ ہو سکتا ہے کس کے ذریعے؟ خلع کے ذریعے، خلع کر لیں گے تو نکاح فسخ ہو جائے گا گویا کہ ہوا ہی نہیں مولانا، ہوا ہی نہیں۔ اور ہم کہتے ہیں نہیں، یہ عبادت ہے، سنت ہے مولانا اور عبادت فسخ کو عبادت فسخ کو قبول نہیں کرتی مولانا، عبادت ہے یہ فسخ نہیں کر سکتی۔ تو خلع اگر کر بھی لے گا تو وہ بھی پھر کس کے حکم میں ہے؟ طلاقِ بائن کے حکم میں ہے بھئی۔ آج تیسری مثال پڑھیں گے کتاب اللہ کے خاص کی۔ "وكذلك قوله تعالى حتى تنكح زوجا غيره خاص في وجود النكاح من المرأة فلا يترك العمل به بما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام ايما امرأة نكحت نفسها بغير اذن وليها فنكاحها باطل باطل باطل" یاد رکھیے احناف اور شوافع کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی۔ اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے یا اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے بھئی۔ عورت کیا ہے؟ اپنے نکاح خود کر سکتی ہے، عورت جب عاقلہ بالغہ ہو تو وہ اپنا نکاح کرے بشرطیکہ کفو کے اندر ہو، برابر والوں میں ہو، لڑکا بھی کیا ہو؟ برابر کا ہو ہر اعتبار سے، تو پھر کیا کیا کیا ہے؟ نکاح نکاح ہو جائے گا بھئی عورت کی عبارت سے بھئی، کیونکہ عاقلہ ہے بالغہ ہے بھئی، عاقلہ ہے اور بالغہ ہے۔ ہمارے نزدیک وہ اپنا نکاح خود کر سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کفو میں ہو مولانا، برابر کے لوگوں میں ہو، برابر کے لوگوں میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ برابر کے خاندان میں ہو۔ کفو میں اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، اگر برابر کا خاندان نہیں تو پھر نکاح نہیں، جی چھوٹا بھئی وہ لڑکی ہے کسی بڑے خاندان والی مولانا، معزز شمار ہوتا ہے یہ خاندان، اور لڑکا ہے کسی عام معمولی خاندان کا جو معزز شمار زیادہ معزز نہیں شمار ہوتا عام سا ہے، تو یہ غیر کفو ہوا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ غیر کفو ہوا۔ لیکن یاد رکھو اگر لڑکا عالم ہو، کیا ہو؟ وہ سب کا کفو ہے۔ سمجھ میں آیا؟ وہ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتا ہو وہ کفو ہے مولانا سب کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لو آپ کو خوشخبری سنا دی۔ اچھا بھئی، تو کیا بات ہو رہی تھی؟ کہ لڑکی عاقلہ بالغہ باکرہ ہو، وہ اپنی مرضی سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو ہمارے نزدیک کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی؟ کر سکتی ہے، بشرطیکہ کس میں ہو نکاح؟ کفو میں ہو مولانا، برابر کے خاندان میں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کہ عورت کی عبارت سے نکاح ہوتا ہی نہیں بھئی، وہ عورت نکاح کرے اس کے کلام سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "أيما امرأة نكحت نفسها" جس عورت نے بھی "نكحت نفسها" نکاح کیا اپنا اپنے نفس کا، اپنی ذات کا "بغير اذن وليها" اپنے ولی کی اجازت کے بغیر، اپنے ولی کی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر "فنكاحها باطل باطل باطل" تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ تو ان کا مذہب کیا ہوا بھئی؟ کہ عورت کی عبارت سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، اور دلیل یہ حدیث ہے جس میں حضور فرماتے ہیں جس عورت نے بھی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہم ہماری دلیل جو ہے اللہ کا یہ قول ہے: "حتى تنكح زوجا غيره" پوری آیت کس طرح ہے؟ "فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره" بھئی آپ مسئلہ جانتے ہیں کہ کوئی شخص اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو وہ واپس اس بیوی سے نکاح نہیں کر سکتا بغیر حلالہ شرعی کے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی ایک طلاق دی ہے بائن تو پھر تو نکاح کر سکتا ہے، دوسری بائن دے دی پھر بھی نکاح کر سکتا ہے، لیکن جب تین دے دیں تو تین طلاقوں کی اسے اجازت تھی ختم ہو گئی، اب وہ دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو نکاح نہیں کر سکتا، اس کے لیے حلالہ شرعی کرنا پڑے گا بھئی، کہ کسی اور شخص سے کیا کرے وہ؟ نکاح کرے اور پھر وہ شخص اس کے ساتھ صحبت کرے اور پھر وہ اسے طلاق دے، پھر پہلا خاوند کیا کر سکتا ہے اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جب ایک شخص نے تین طلاقیں اپنی بیوی کو دے دیں تو بغیر حلالہ شرعی کے وہ بیوی اس کے لیے حلال نہیں، اس سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا، یہ ہمارے نزدیک بھئی۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ "فان طلقها" پس خاوند نے اگر طلاق دے دی اسے یعنی اپنی بیوی کو، یاد رکھیے تیسری طلاق مراد ہے، کیا مراد ہے؟ تیسری، تیسری طلاق دے دی "فلا تحل له من بعد" تو یہ عورت حلال نہیں ہے اس خاوند کے لیے "من بعد" اس کے بعد "حتى تنكح" یہاں تک کہ وہ عورت نکاح کر لے "زوجا" کسی خاوند کے ساتھ "غيره" جو پہلے سے غیر ہو، پہلے کے علاوہ، یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے کیا کر لے؟ نکاح کر لےے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے، ترجمہ بھئی آیت کا؟ کہ کوئی اگر اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دے یا تین طلاقیں دے دے تو وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں "حتى تنكح زوجا غيره" یہاں تک کہ وہ عورت نکاح کر لے کسی ایسے خاوند سے "غيره" جو پہلے سے پہلے کے غیر ہو، پہلے کے علاوہ ہو، پھر وہ اس کے ساتھ صحبت بھی کرے، پھر اس کے بعد کیا کرے؟ طلاق دے، اب کیا ہو سکتا ہے پہلے خاوند سے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی بھئی، وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو ہماری دلیل یہ "تنكح" ہے بھئی، "تنكح"۔ "تنكح" صیغہ پر غور کریں ذرا آپ بھئی، کون سا صیغہ ہے؟ واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ، یہاں کیا ترجمہ ہے "تنكح" کا بھئی؟ وہ نکاح کرے، کون وہ بھئی؟ وہ عورت، کون؟ وہ عورت نکاح کرے بھئی، تو یہ کتاب "تنكح" خاص ہے بھئی اور اس کے اندر نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے بھئی کہ وہ عورت اپنا نکاح کرے، معلوم ہوا عورت نکاح کر سکتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا عورت اپنا نکاح کر سکتی ہے خود بھئی، عورت اپنا نکاح، کیونکہ "تنكح" نکاح کی نسبت کس کی طرف ہوئی ہے؟ "تنكح" کا فاعل کون؟ "هي" ضمیر ہے مولانا جو عورت کو راجع ہے۔ تو عورت، اور یہ خاص ہے مولانا اور کتاب اللہ کے خاص پر کیا جبکہ شوافع کا اور مالکِیہ کا مذہب کیا تھا بھئی؟ کہ عورت کی عبارت سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، جبکہ ہمارے نزدیک عورت کی عبارت سے نکاح ہو جایا کرتا ہے۔ اور دلیل ان کی دلیل کیا تھی؟ حدیث تھی، اور ہماری دلیل یہ آیت ہے جس کے اندر "تنکح" کا لفظ آیا اور "تنکح" کیا ہے؟ خاص ہے، اس کے اندر نکاح کی نسبت کس کی جانب کی گئی ہے؟ عورت کی جانب۔ وہ عورت نکاح کر سکتی ہے تو معلوم ہوا نکاح عورتوں کی عبارت سے منعقد ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت کے اندر نکاح کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ عورت کی طرف کی گئی ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ دلیل میں حدیثِ خبرِ واحد ہے، حدیث وہ پیش کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ حضور نے فرمایا: "ایما امرأة" جس کسی عورت نے بھی "نکحت" اس نے نکاح کیا "نفسہا" اپنی ذات کا، اپنے نفس کا "بغیر إذن ولیہا" اپنے ولی کی اجازت کے بغیر "فنکاحہا باطل باطل باطل" تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ وہ یہ حدیث ذکر کرتے ہیں مولانا۔ یہ ان کی دلیل ہے۔ ہم جواب میں کہتے ہیں مولانا۔ جوابِ اول مولانا۔ ہم کہتے ہیں ہماری دلیل خاص ہے کتاب اللہ کا، "تنکح"۔ اور خاص پر عمل کرنا واجب ہے، واجب۔ معلوم ہوا عورت اپنا نکاح کر سکتی ہے۔ تو ان کی دلیل ہے خبرِ واحد اور ہماری دلیل کیا ہے؟ کتاب اللہ کا خاص۔ اور خاص کے مقابلے میں خبرِ واحد آ جائے تو دونوں میں جمع و تطبیق کی کوشش کی جائے گی، کوئی ایسی صورت نکالی جائے گی کہ خاص میں بھی کوئی تبدیلی نہ آئے اور حدیث پر بھی کیا ہو جائے؟ عمل ہو جائے، دونوں پر عمل ہو جائے، لیکن یہاں پر ممکن نہیں تو لہٰذا کس کو ترجیح دی جائے گی؟ خاص کو ترجیح دی جائے گی، اس پر عمل کرنا واجب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ جب خاص اور خبرِ واحد میں مقابلہ آ جائے اور جمع کی کوئی صورت نہ ہو جیسے یہاں جمع کی کوئی صورت نہیں بھئی، وہاں سے ثبوت ہو رہا ہے، یہاں سے نفی ہو رہی ہے تو جمع کی کوئی صورت ہی نہیں، تو اب کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا اور حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا مولانا، سمجھ میں آیا؟ حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ پہلا جواب دیتے ہیں ہم۔ نیز بھئی، ہم جواب دیتے ہیں بھئی شوافع کو کہ بھئی یہ حدیث تو آپ کے بھی خلاف ہے بھئی، آپ کے بھی خلاف ہے۔ آپ کے بھی خلاف ہے۔ کیسے خلاف ہے؟ آپ نے دلیل میں ذکر کی کہ دیکھو بھئی عورت کی عبارت سے نکاح منعقد ہوتا ہی نہیں، حالانکہ حدیث سے تو یہ پتہ چل رہا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر کرے تو نکاح باطل ہے، معلوم ہوا ولی کی اجازت سے کرے گی تو اس کا اپنا نکاح کیا ہو جائے گا؟ منعقد ہو جائے گا، لیکن آپ کا مذہب تو یہ ہے کہ عورت کی عبارت سے بالکل نکاح منعقد ہوگا ہی نہیں، چاہے ولی اجازت ہی کیوں نہ دے دے۔ عورت کے کلام سے نکاح منعقد ہی نہیں، چاہے ولی اجازت ہی کیوں نہ دے دے، یہ تو آپ کے مذہب کے بھی خلاف ہو گئی بھئی، آپ کے نزدیک تو عورت کے ہوتا ہی نہیں بھئی۔ اور حدیث سے تو کیا معلوم ہو رہا ہے؟ کہ بغیر اجازت کے ولی کے کرے تو نکاح نہیں ہوگا، معلوم ہوا ولی کی اجازت سے کرے تو پھر ہو جائے گا۔ یہ ہم جواب دیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حدیث تو آپ کہہ رہے ہیں ہمارے خلاف ہے، یہ حدیث تو خود آپ کے بھی خلاف ہے۔ نیز ایک اور جواب بھی سنو، یاد رکھو۔ علمِ حدیث میں ایک ضابطہ پڑھیں گے بھئی کہ جب راوی، اس حدیث کو روایت کرنے والا جو ہے، جب راوی کا اپنا عمل حدیث کے خلاف ہو تو وہ اس حدیث کے مؤول یا منسوخ ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ جب روایت کرنے والے کا اپنا عمل کیا ہو بھئی؟ حدیث کے خلاف ہو تو یہ اس حدیث کے مؤول یا منسوخ ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ مؤول کا معنیٰ کوئی تاویل کرتے ہیں، ظاہر مراد نہیں ہے، ظاہر نہیں مراد، کوئی تاویل کرتے ہیں۔ تو مؤول ہوا جس میں تاویل کی جائے۔ حدیث کا کیا اصول آیا؟ کہ جب روایت کرنے والے راوی کا اپنا عمل حدیث کے خلاف ہو، ایک وہ حدیث روایت بھی ہو رہی ہے اس سے، لیکن اس کا عمل جب دیکھتے ہیں تو وہ اسی حدیث کے خلاف ہے، معلوم ہوا یہ حدیث اس کے نزدیک کیا ہے؟ اس میں کوئی تاویل ہے مولانا، تاویل کی گئی ہے اس حدیث میں۔ یا یہ حدیث منسوخ ہے بھئی، پہلے تو یہ حکم تھا، بعد میں یہ کیا ہوا؟ دوسری احادیث کے ذریعے منسوخ ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے اسلام میں شروع میں کئی چیزوں کی اجازت تھی، پھر آہستہ آہستہ کیا کر دی گئی؟ اجازت ختم کر دی گئی، تو شروع میں یہ تھا، پھر اس بعد میں اور احادیث کے ذریعے یہ کیا ہوا حکم؟ منسوخ ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیا ضابطہ ذکر ہوا کہ جب راوی کا اپنا عمل حدیث کے خلاف ہو تو یہ اس حدیث کے مؤول، مؤول کا کیا معنیٰ؟ تاویل کی گئی ہے، اس کا ظاہری معنیٰ مراد نہیں، یا یہ منسوخ ہے۔ کوئی اور حدیث آئی ہے جو اس کے لیے ناسخ ہے یا آیت ہے۔ تو اور یہ احادیث روایت کی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے۔ تو وہ راویہ ہیں اس حدیث کی بھئی، اور ان کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف ہے بھئی۔ وہ روایت کر رہی ہیں بھئی، اور ان کا اپنا عمل کیا ہے اس حدیث کے خلاف؟ تو یہ حدیث روایت کرنے والی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور حدیث میں آیا ہے کہ بغیر ولی کی اجازت کے نکاح نہیں ہو سکتا عورت کا بھئی، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ولیوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرواتی تھیں، ولیوں کو پوچھتی بھی نہ تھیں بھئی۔ معلوم ہوا ولی کی اجازت ضروری نہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی بھتیجی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، جو کہ بیٹی ہیں حضرت عبدالرحمن ابن ابی بکر کی بھئی، حضرت ابو بکر صدیق کے بیٹے تھے عبدالرحمن جو حضرت عائشہ کے بھئی ہوئے، ان کی بیٹی کیا نام ہے؟ حضرت حفصہ بھئی، ان کا نکاح کروایا۔ خود نکاح کروایا اور یہ عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں گئے ہوئے تھے، تشریف لے گئے تھے، انہوں نے ادھر نکاح کروا دیا۔ تو ولی تو باپ تھا بھئی، باپ تو حاضر نہیں تھا۔ تو بغیر ولی کی اجازت کے ہوا یا ولی کی اجازت سے ہوا بھئی؟ بغیر اجازت کے ہوا۔ اور عورت کی عبارت سے ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ عورت کی عبارت سے ہو رہا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کا اپنا عمل کیا ہے اس حدیث کے خلاف ہے، اس حدیث کے خلاف ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہ حدیث مؤول ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نزدیک یا منسوخ ہے، حدیث تو انہوں نے بیان کر دی لیکن ان کے نزدیک یہ حدیث مؤول ہے یا منسوخ ہے، اسی لیے ان کا عمل کیا ہے اس حدیث کے خلاف ہے، ورنہ راوی صحابی ہو، کبھی حدیث کے خلاف نہیں کر سکتا۔ اگر وہ بعد میں آئے، انہوں نے ناراضگی کا بھی اظہار کیا، لیکن نکاح کو برقرار، اسی طرح نکاح برقرار تھا وہاں۔ تو دیکھو، ولی کو پوچھا بھی نہیں حضرت عائشہ نے، ولی والد تھے مولانا، ان کے والد جو تھے وہ ولی تھے، لیکن ان کو پوچھا بھی نہیں، اپنی بھتیجی کا خود ہی نکاح کروا دیا۔ معلوم، اب روایت تو حضرت عائشہ یہ فرما رہی ہیں کہ جس کسی نے بھی نکاح اپنے ولی کی اجازت کے... تو یہ نکاح بھی کون سا تھا؟ ولی کی اجازت سے تھا یا بغیر اجازت کے؟ بغیر اجازت کے تھا۔ تو راوی کا اپنا عمل اپنی حدیث کے کیا ہوا؟ خلاف، اور اصولِ حدیث ہے جب راوی کا اپنا عمل حدیث کے خلاف ہو تو کیا ہوتی ہے حدیث؟ معلوم ہوا وہ حدیث کو یا تو منسوخ سمجھتی تھیں یا یہ حدیث مؤول ہے، اس میں کوئی تاویل کی جائے گی مولانا، تاویل کر سمجھتی ہیں۔ ظاہر پر نہیں ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ورنہ تو پھر نکاح ہی نہیں ہونا چاہیے تھا ولی کی اجازت کے بغیر۔ سنو بھئی اب، "وكذلك قوله تعالى حتى تنكح زوجا غيره خاص في وجود النكاح من المرأة" اور اسی طرح اللہ کا یہ قول "حتى تنكح زوجا غيره" یہ خاص ہے "في وجود" یعنی "في ثبوت"، وجود کس معنیٰ میں؟ ثبوت، وجود ثبوت کا ایک معنیٰ۔ "في وجود النكاح من المرأة" نکاح کے ثبوت میں کس کی طرف سے؟ عورت کی طرف سے، یعنی عورت کی طرف سے بھی نکاح کیا ہے؟ ثابت ہو جاتا ہے، اس میں یہ خاص ہے مولانا۔ "فلا يترك العمل به" پس اس پر عمل کرنے کو ترک نہیں کیا جائے گا بـ... بسبب اس حدیث کے "روي عن النبي عليه السلام" جو حضور علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے، وہ کیا ہے؟ "أيما امرأة نكحت نفسها بغير إذن وليها فنكاحها باطل باطل باطل" جس کسی عورت نے بھی اپنے نفس کا، اپنے ذات کا نکاح کروایا، نکاح کیا بغیر اپنے ولی کی اجازت کے، پس اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ اب یہ اختلاف آیا تو مولانا اس پر کئی اختلافی مسائل متفرع ہوتے ہیں۔ "ويتفرع منه الخلاف في حل الوطء" اور اسی پر متفرع ہوگا مولانا، اختلاف وطی کے حلال ہونے میں، وطی کے حلال ہونے میں۔ بھئی دیکھو، ہمارے نزدیک نکاح ہو... اگر عورت نے اپنا نکاح خود کر لیا عاقلہ بالغہ باکرہ نے کفو کے اندر، تو نکاح ہوا یا نہیں ہوا؟ ہو گیا، جب نکاح ہو گیا تو اس کے ساتھ خاوند کے لیے وطی کرنا بھی حلال۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح ہوا ہی نہیں، جب نکاح نہیں ہوا تو خاوند کے لیے ازدواجی تعلقات قائم رکھنا بھی جائز نہیں ہے، جائز نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اسی پر متفرع... یہ پہلا مسئلہ، اسی پر متفرع ہوا "الخلاف في حل الوطء" وطی... اختلاف کس چیز میں؟ وطی کے حلال ہونے میں جو اختلاف ہے وہ اسی پر متفرع ہوا۔ اسی طرح "ولزوم المهر" یہ اس کا عطف "حل" پر ہے مولانا، "الخلاف في لزوم المهر"، لزومِ مہر کے لازم ہونے میں جو اختلاف ہے وہ اسی پر متفرع ہوا۔ بھئی ہمارے نزدیک نکاح ہو گیا، جب نکاح ہو گیا تو خاوند پر کیا لازم ہوا؟ مہر، اور ان کے نزدیک نکاح نہیں ہوا تو خاوند پر مہر بھی لازم نہیں ہوا۔ اور اسی پر متفرع ہوا "الخلاف في النفقة" کس کے اندر مولانا؟ نفقہ میں بھی، خاوند... جب نکاح ہو گیا تو بیوی بن گئی، اب نان و نفقہ کس کے ذمہ؟ خاوند کے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح نہیں تو نفقہ بھی خاوند کے ذمہ نہیں ہے۔ "والسكنى" رہائش میں بھی جو اختلاف آیا مولانا، وہ بھی اسی پر متفرع ہوا، ہمارے نزدیک نکاح ہو گیا تو لہٰذا اب خاوند کے ذمہ ہے کہ بیوی کو کیا فراہم کرے؟ رہائش، اور ان کے نزدیک نکاح ہی نہیں ہوا سِرے سے، خاوند بھی نہیں ہے تو رہائش کا مہیا کرنا بھی اس کے ذمہ نہیں ہے مولانا۔ "ووقوع الطلاق" طلاق کا واقع ہونے کا جو میں اختلاف ہے وہ بھی اسی پر متفرع ہوا بھئی، وہ بھی اسی پر متفرع ہوا۔ ہمارے نزدیک نکاح ہو چکا، اب خاوند طلاق دینا چاہے تو طلاق دے، طلاق واقع ہو جائے گی۔ ان کے نزدیک نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کہاں سے واقع ہوگی بھئی؟ تو وقوعِ طلاق میں جو اختلاف ہے وہ بھی اسی پر متفرع ہوا. "والنكاح بعد المطلقات الثلاث" اور اسی طرح نکاح ہے تین طلاقوں کے بعد۔ وہ نکاح جو تین طلاقوں کے بعد ہو، اس میں جو اختلاف ہے وہ بھی اسی پر متفرع ہوا مولانا، سمجھ میں آیا؟ بھئی دیکھو، اب ہمارے نزدیک نکاح ہو گیا، جب نکاح ہو گیا تو بیوی کو اب خاوند تین طلاقیں دے دیتا ہے مولانا، تین طلاقیں دینے کے بعد کون سی حرمت... حرمتِ مغلظہ آ گئی مولانا، تو اب اس کے لیے آیت میں کس طرح آیا ہے؟ اگر کسی... "فإن طلقها" اگر خاوند نے تیسری طلاق بھی دے دی "فلا تحل له" تو اس کے لیے عورت حلال نہیں "حتى تنكح زوجا غيره" یہاں تک کہ وہ دوسرے خاوند کے ساتھ کیا کر لے؟ نکاح کر لے، اسی طرح ہے نا آیت میں؟ دوسرے سے نکاح کر لے، تو تین طلاقوں کے بعد پھر پہلے خاوند کے پاس نہیں جا سکتی جب تک کہ درمیان میں ایک اور خاوند نہ ہو مولانا، پہلے کے لیے حلال نہیں مولانا۔ تو ہمارے نزدیک نکاح ہو چکا ہے، اب خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، پھر نکاح کرنا چاہتا ہے تو ہمارے نزدیک بغیر حلالہ شرعی کے نکاح نہیں کر سکتا، نکاح نہیں کر سکتا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اس نے تین طلاقیں دیں تو نکاح تو ہوا ہی نہیں تھا، جب نکاح نہیں ہوا تو تین طلاقیں بھی نہیں ہوئیں، جب تین طلاقیں نہیں ہوئیں اب وہ پھر اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کر لے بھئی، پہلے بھی اجنبیہ تھی، اب بھی اجنبیہ ہے، نکاح کر لے اس سے۔ اب دوبارہ درمیان میں کسی اور خاوند کے آنے کی ضرورت نہیں، مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو "النكاح في المطلقات الثلاث" وہی خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہی خاوند دوبارہ، تو ہمارے نزدیک کر سکتا ہے بغیر حلالہ شرعی کے؟ نہیں، قران میں آیا "حتى تنكح زوجا غيره" اس کے علاوہ کسی خاوند سے کیا کر لے؟ اور ان کے نزدیک بھئی نکاح ہی نہیں تھا، نکاح ہی نہیں تھا تو تین طلاقیں نہیں، جب تین طلاقیں نہیں ہیں، بیوی بنی نہیں ہے، اجنبیہ عورت ہے، پہلے بھی اجنبیہ تھی، ابھی بھی اجنبیہ ہے، اب اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کر لے بھئی، حلال ہے یا درمیان میں نکاح کرنے کی کسی اور سے ضرورت نہیں، یہ اختلاف بھی اسی پر متفرع ہوتا ہے۔ "على ما ذهب إليه قدماء أصحابه" بناء پر اس کے جس کی طرف گئے ہیں "قدماء أصحابه" یعنی "أصحاب الشافعي رحمه الله تعالى"، امام شافعی رحمہ اللہ کے قدیم اصحاب بھئی، یعنی قدیم فقہاء، یعنی متقدمین شوافع جو ہیں جس کی طرف گئے ہیں، متقدمین شوافع کہتے ہیں ہو جائے گا فوراً، کسی درمیان میں کسی اور خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ متاخرین شوافع وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ بعد میں ان کے زمانوں میں آنے والے شوافع کیا ہیں؟ ہمارے ساتھ ہیں، وہ کہتے ہیں نہیں کہ کیا کرے؟ کسی اور خاوند سے نکاح کرنا پڑے گا، پھر وہ طلاق دے دے، پھر یہ اس پہلے کے ساتھ کر سکتی ہے۔ کیوں؟ ہمارے ساتھ کیوں ہیں؟ کہتے ہیں بھئی مسئلہ ہے نکاح کا، سمجھ میں آیا؟ نکاح کا مسئلہ ہے، اور مسئلے میں اختلاف آ گیا، اختلاف آ گیا۔ ہم کہتے ہیں نکاح ہو چکا تھا، لہٰذا اب تین طلاقیں دی ہیں تو وہ قرآن کے مطابق اب کیا کرنا پڑے گا؟ کسی اور خاوند سے بھی نکاح، اور شوافع ہمارے کہتے ہیں ہمارے متقدمین کا یہ قول ہے کہ نکاح ہی نہیں ہوا تو دوبارہ کر لے، تو اشتباہ آیا یا نہیں آیا؟ دو قول آ گئے مولانا، پتہ نہیں کون حق پر ہے، کون حق پر؟ تو اشتباہ آ گیا مولانا، اور یہ مقام بڑا نازک، ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے، حلال اس اگر وہ نکاح پہلے والا ہو چکا تھا، شوافع تو کیا کہتے ہیں وہ پہلا نکاح نہیں ہوا، اگر ہوا ہو، ہو سکتا ہے، حق تو اللہ جانتے ہیں کہ ہوا ہے یا نہیں ہوا، ہماری اپنی دلیل ہے، ان کی... اگر ہو چکا ہو پھر تو قرآن میں واضح آ رہا ہے کہ پہلے خاوند کے پاس دوبارہ نہیں جا سکتی جب تک کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کر لے بھئی۔ بخلاف ان کے کہ وہ متاخرین کس کے ساتھ ہیں میں نے بتایا؟ ہمارے ساتھ ہیں مولانا۔ سب کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جی۔ اچھی طرح؟ جی۔ اکھوشا! تو دیکھو تین مثالیں۔ پہلی کے اندر انہوں نے نو اختلافات، نو مسائل متفرع کیے تھے۔ دوسری مثال میں کتنے آئے؟ چار آئے۔ اور آج کتنے مسائل نکالے اس اختلاف پر بھئی؟ جی؟ في حل الوطء ایک، لزوم مهر دو، نفقة تین، سکنیٰ چار، وقوع طلاق پانچ، اور نکاح بعد الطلاقات الثلاث چھ مسائل متفرع ہوئے اس اختلاف پر۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ چلیں مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 10 of 123