Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-005

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 112
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مولانا وضع کے اعتبار سے لفظ کی میں نے بتلایا تھا چار قسمیں ہیں: خاص، عام، مشترک، مؤول بھئی۔ خاص اور عام کی فصل ہم نے شروع کی تھی، صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ خاص ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے یا ایک معلوم ذات کے لیے علی الانفراد، انفرادی طور پر۔ یعنی وہ لفظ وضع ہو ایک اکیلے معنی کے لیے۔ انفرادی طور پر یعنی اکیلا۔ اکیلے معنی کے لیے وضع ہو یا اکیلی ذات کے لیے وضع ہو۔ معنی کا مطلب میں نے بتلایا تھا، اس سے مراد کیا ہے؟ صفت ہے، جو قائم بالغیر ہوتی ہے، غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے اور اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہوتی ہے، خود قائم نہیں رہ سکتی بغیر کسی کے۔ اور جب کہ تو وہ جیسے مولانا سفیدی ہے، سیاہی ہے، علم ہے، جہل ہے وغیرہ۔ اور مسمیٰ سے معلوم مراد کیا ہے؟ ذات ہے اور شخص ہے مولانا۔ ذات اور شخص۔ تو اس کو وضع کیا گیا ہو ذاتِ معلوم کے لیے یا شخصِ معلوم کے لیے۔ یا شخصِ معلوم کے لیے مولانا۔ تو مسمیٰ شامل ہے شخص کو بھی اور عین کو، ذات کو بھی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھو جیسے زید ہیں مولانا، زید کو کس کے لیے وضع کیا گیا؟ ایک شخصِ معلوم کے لیے، اکیلے شخصِ معلوم کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ مسمائے معلوم، یعنی شخصِ معلوم ہے، شخصِ معلوم۔ یا عینِ معلوم ہوگی مولانا، عین کا کیا معنی ہے؟ ذات۔ وہ ذات معلوم ہوگی، جیسے انسان مولانا۔ انسان کی ذات کیا ہے؟ معلوم ہے۔ انسان کی ذات کیا ہے؟ معلوم ہے بھئی۔ اور پھر یاد رکھو مولانا، خاص کی تین قسمیں ہیں، خاص تین قسم پر ہے مولانا: نمبر ایک الفرد الخاص، الفرد الخاص، الجنس الخاص، اور النوع الخاص، النوع الخاص۔ خاص فرد جیسے زید ہے مولانا، اور خاص جنس جیسے انسان، اور خاص نوع، خاص جنس جیسے انسان اور خاص نوع جیسے رجل مولانا، مرد، مرد یا عورت، یا عورت۔ تو دیکھو، زید فردِ خاص ہے مولانا۔ ایک معلوم شخص ہے۔ تو اس کے لیے اس لفظ کو وضع کیا گیا ہے، تو یہ لفظِ زید کیا ہوا مولانا؟ الفرد الخاص، فردِ خاص۔ اور پھر مولانا دوسری قسم کیا ہے؟ جنس الخاص۔ خاص جنس ہو مولانا، جیسے انسان بھئی، انسان کی جنس کیا ہے؟ خاص ہے، معلوم ہے بھئی۔ یاد رکھو مولانا، ایک ہے منطقی جنس۔ منطقی جنس اور ہے اور ایک ہے اصولی جنس مولانا، اصولِ فقہ والے یعنی جس سے بحث کرتے ہیں۔ اصولِ فقہ میں جسے جنس کہتے ہیں، وہ الگ ہے مولانا، اور منطق میں جسے جنس کہتے ہیں وہ الگ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ مناطقہ بحث کرتے ہیں حقیقت و ماہیت سے، اور اصولی بحث کرتے ہیں اغراض و مقاصد سے۔ اصولی بحث کرتے ہیں اغراض و مقاصد، اصولِ فقہ میں بحث کی جاتی ہے اغراض و مقاصد سے، اور منطق میں بحث کی جاتی ہے ماہیت سے۔ تو منطق میں جنس کی تعریف آپ نے کیا پڑھی تھی مولانا؟ "هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"۔ منطق میں جنس کی کیا تعریف پڑھی آپ نے بھئی؟ "هو كلي مقول" لکھیے بھئی، یہ تعریف بھی آپ نے سنانی ہے بھئی۔ "هو كلي مقول على كثيرين، هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"۔ یعنی منطق میں جنس وہ ایسی کلی کا نام ہے جو ایسے کثیر افراد پر بولی جائے، جو ایسے کثیر افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، جیسے حیوان ہے مولانا، حیوان۔ تو دیکھا، تو حیوان دیکھو کس کس پر بولا جاتا ہے مولانا؟ انسان بھی اس میں شامل ہے، اور دیگر جانور بھی اس میں، اور ہر ایک کی حقیقت کیا ہے؟ الگ الگ ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ سمجھ میں آیا؟ گھوڑا ہے، گھوڑے کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ صاہل ہے۔ گدھا ہے، گدھے کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناہق ہے بھئی۔ تو دیکھو، منطق میں کلی کس کو کہتے ہیں؟ جنس کسے کہتے ہیں؟ جس کے افراد کی حقیقتیں کیا ہوں مولانا؟ مختلف ہوں بھئی۔ یعنی مختلف حقیقتوں والے افراد پر بولی جائے بھئی۔ اور اصولِ فقہ میں تعریف ہوگی جنس کی، اصولِ فقہ میں: "هو كلي مقول على كثيرين، هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض، مختلفين بالأغراض"۔ اب ادھر دیکھو بھئی، ہر چیز میں لکھوا نہیں سکتا، وقت تھوڑا ہے۔ تو دیکھو مولانا، منطق اصولِ فقہ منطق میں کیا تھا؟ "كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"، اور اصولِ فقہ میں کیا ہے؟ "مختلفين بالأغراض"، ان کے اغراض و مقاصد مختلف ہوں، وہ کلی ہے جو ایسے کثیر افراد پر بولی جائے جن کے اغراض و مقاصد کیا ہوں؟ مختلف ہوں مولانا، مختلف ہوں بھئی۔ جیسے انسان مولانا، جیسے کیا ہے؟ انسان۔ اب انسان دیکھو منطق میں تو نوع ہے مولانا، کیونکہ اس کے سارے افراد کی حقیقت ایک ہے۔ سارے افراد کی حقیقت سب کیا ہیں مولانا؟ حیوانِ ناطق ہیں۔ لیکن اصولِ فقہ میں آکر اب یہ جنس ہے مولانا، نوع نہیں۔ اس لیے کہ اصولی بحث کرتا ہے اغراض و مقاصد سے اور یہاں پر اس کے افراد کے اغراض و مقاصد ایک نہیں۔ انسان کے افراد کیا ہیں؟ مرد بھی ہے اور عورت بھی ہے۔ مرد کے اغراض و مقاصد اور ہیں اس کی تخلیق کے، اور عورت کے کیا ہیں؟ اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اور ہیں، اور ہیں۔ مرد کیا بنے گا؟ امام بنے گا، امام بن سکتا ہے، حدود و قصاص کے مثلاً کے معاملے میں کیا بن سکتا ہے؟ گواہ بن سکتا ہے، جمعہ وغیرہ قائم کرے گا، جب کہ عورت کیا کرتی ہے؟ عورت کا مقصد کیا ہے؟ مرد کے لیے فراش بنے، اس کے لیے اولاد کو جنم دے اور گھر کے امور کو سنبھالے بھئی۔ تو عورت کے اپنے مقاصد اغراض و مقاصد ہیں اور مرد کے اپنے اغراض و مقاصد ہیں۔ تو دونوں کے اغراض و مقاصد کیا ہوئے مولانا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ سمجھ میں آئی بات سب کو؟ اور نوع کی تعریف آپ نے منطق میں کیا پڑھی تھی بھئی؟ "هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالحقائق"۔ جنس تو کیا تھی مولانا؟ "مختلفين بالحقائق"، اور نوع کیا ہے؟ متفقین کی، تو لہٰذا انسان یہ کیا ہوا مولانا؟ منطقی اعتبار سے نوع، کیونکہ انسان کے جتنے بھی افراد ہیں، مرد ہے یا عورت ہے، ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ متفق، ایک ہے مولانا، حیوانِ ناطق۔ اب اسی تعریف کو ذرا اصولِ فقہ کے لحاظ سے کریں گے تو کیا کہیں گے؟ "هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالأغراض"۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ "متفقين بالأغراض"، وہ ایسی کلی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کے اغراض و مقاصد کیا ہوں؟ ایک ہوں۔ جیسے رجل، رجل نوع ہے مولانا اصولی اعتبار سے، یا جیسے امرأة، کیونکہ رجل کے اپنے اغراض و مقاصد ہیں مولانا اور عورت کے اپنے اغراض و مقاصد ہیں۔ تو ہر ایک کی تخلیق، مرد کی تخلیق سے کیا مقاصد ہیں مولانا؟ امام بنے، حدود و قصاص میں کیا بنے؟ گواہ بنے، جمعہ قائم کرنے والا ہو، عیدین قائم کرنے والا ہو مولانا، یہ وغیرہ وغیرہ بھئی۔ جب کہ عورت کی تخلیق کے کیا مقاصد ہیں؟ کہ مرد کے لیے کیا بنے؟ فراش بنے اور اس کے لیے بچوں کو جنم دے اور اس کے گھر کے اندر کے معاملات کو سنبھالے بھئی، وغیرہ وغیرہ بھئی، یہ چند۔ تو دونوں کی تخلیق کے مقاصد اغراض الگ الگ ہیں، تو لہٰذا یہ کیا ہوئے؟ رجل ایک نوع ہوئی اور امرأة ایک نوع ہوئی۔ ہاں، رجل کے سارے افراد کی اغراض متفق ہیں، جتنے بھی رجل ہیں، سب کی یہی غرض ہے تخلیق کی، اور امرأة کے سارے افراد کی تخلیق کا یہی مقصد ہے، تو وہ کیا ہیں؟ متفق ہیں۔ تو رجل ایک نوع ہوئی الگ اور امرأة ایک نوع۔ تعریف سب کو سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟ تو دیکھیے کتاب پر مولانا۔ بھئی، یہ جو تعریف آرہی ہے خاص کی، یہ آپ کو عربی میں یاد ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں: "الخاص لفظ وضع لمعنى معلوم أو لمسمى معلوم على الانفراد" بھئی، ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کس کے لیے؟ ایک معنیِ معلوم کے لیے، اور معنیٰ سے کیا مراد ہے؟ صفت، اور یا وضع ہو کس کے لیے؟ ایک مسمائے معلوم، مسمیٰ سے کیا مراد ہے؟ شخص، شخص بھی ساتھ ملائیں۔ شخص اور شخص اور ذات، شخص کو بھی شامل ہے اور ذات کو بھی مولانا۔ "على الانفراد" انفرادی طور پر یعنی اکیلی، اکیلے ایک شخص کے لیے وضع ہو، جیسے اکیلا ایک شخص کیا ہے مولانا؟ جیسے زید، اور یا اکیلی ایک ذات کے لیے وضع ہو مولانا، اکیلی ایک ذات، جیسے انسان اور رجل، انسان اور رجل۔ تو یہ کس کے تحت آجائیں گے؟ مسمائے معلوم کے تحت مولانا۔ تو مسمیٰ میں دو چیزیں آگئیں مولانا، شخصِ معلوم بھی آگیا اور عینِ معلوم یعنی ذاتِ معلوم بھی آگئیں، دونوں بھئی۔ "کقولنا" جیسے کہ ہمارا کہنا "في تخصيص الفرد" فرد کی تخصیص کے اندر "زيد"۔ تو یہ کس کی مثال ہے مولانا؟ فردِ خاص۔ "وفی تخصيص النوع رجل" اور تخصیصِ نوع کے اندر ہمارا کہنا رجل کہنا، "وفی تخصيص الجنس انسان" اور جنس کی تخصیص میں کیا کہنا؟ انسان کہنا۔ تو دیکھا، نوع رجل ہے اور انسان کیا ہے؟ جنس ہے بھئی، جنس ہے۔ "والعام كل لفظ ينتظم جمعا من الأفراد"۔ تو بھئی، یاد رکھو یہ جو رجل اور انسان ذکر ہوئے بھئی، آپ کہیں گے رجل کے تو بہت افراد ہیں، اور آپ نے کیا کہا تھا؟ جی؟ اس کے افراد نہیں ہوں گے، خاص میں افراد، علی الانفراد کہا ہے یا نہیں کہا بھئی؟ تو اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، رجل کے تو بڑے افراد ہیں، انسان کے بھی بڑے افراد ہیں۔ تو بھئی، یہ افراد کی طرف نظر کرتے ہوئے نہیں، قطع نظر افراد کے، صرف انسان کی ذات مولانا۔ انسان کی ذات گھوڑے سے الگ ہے یا نہیں مولانا؟ گدھے سے بھی، گائے سے بھی، اچھا۔ تو ہر ایک معلوم ذات ہے مولانا، افراد، قطع نظر افراد سے، یوں کہو اس کے مفہوم بھئی، کس اعتبار سے؟ مفہوم کے اعتبار سے، مفہوم کے اعتبار سے۔ رجل کے افراد کی طرف جائیں گے تو پھر تو یہ خاص نہیں رہے گا، کیونکہ افراد تو اس کے کیا ہیں؟ زیادہ ہیں بھئی، افراد زیادہ ہیں۔ یہ بات یاد رہے گی بھئی؟ تو یہ کس اعتبار سے ہیں مولانا، رجل اور انسان خاص ہیں؟ افراد کے اعتبار سے یا مفہوم کے اعتبار سے؟ مفہوم کے اعتبار سے۔ اور آ خاص سے خارج ہیں۔ تو عام وہ ہے، اسی لیے میں نے آپ کو کہا تھا کہ جنس اور نوع اس میں افراد نہیں مراد۔ اگر افراد مراد لیں گے، پھر تو خاص یہ نہیں رہے گا۔ لیکن یہاں پر کہ وہ مشتمل ہو افراد کے مجموعے پر یعنی اس کے افراد ہوں، اس کے افراد ہوں۔ پھر یہ افراد کے مجموعے کو شامل ہوگا یا تو لفظوں کے اعتبار سے یا معنی کے اعتبار سے بھئی۔ لفظوں کے اعتبار سے جیسے مسلمون اور مشرکون بھئی، وغیرہ۔ بھئی، مسلم کس کو کہتے ہیں؟ اور مس تو یہ مفرد ہے۔ اور اس کی ذرا جمع بناؤ بھئی مسلمون۔ اور مسلمون کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوگا؟ تین۔ تین سے کم پہ اطلاق ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ مشتمل ہے افراد کے مجموعے کو، افراد کے مجموعے کو۔ تو یہ مولانا مشتمل ہوگا، شامل ہوگا افراد کے مجموعے کو، إما لفظاً، یہ جو شمول ہے یا تو لفظاً ہوگا كقولنا مسلمون جیسے ہمارا کہنا مسلمون ومشركون، تو یہ لفظوں کے اعتبار سے مولانا مجموعے پر بولے جاتے ہیں، مفرد پر نہیں بولے جاتے۔ وإما معنى، یا کیا ہوگا مولانا؟ معناً معنی کے اعتبار سے شمول ہوگا، مجموعے پر اس کا اطلاق ہوگا كقولنا من وما، جیسے من اور ما، من اور ما۔ من اور ما مولانا، یہ جمع نہیں لفظوں کے اعتبار سے۔ لفظوں کے تو اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ لیکن یہ کس پر بولے جاتے ہیں؟ افراد کے مجموعے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ من اور ما۔ من کس کے لیے آتا ہے؟ ذوی العقول کے لیے۔ اور ما کس کے لیے آتا ہے؟ غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے بھئی۔ چلیے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی سب کو؟ جی۔ خاص کی بات ہوئی، خاص کے بارے میں بتایا۔ وہ لفظ ہے جس کو معنیِ معلوم یعنی وصفِ معلوم کے لیے وضع کیا گیا ہو یا مسمائے معلوم کے لیے۔ اور مسمیٰ میں کتنی چیزیں آگئیں مولانا؟ دو چیزیں: شخصِ معلوم بھی آگیا اور ذاتِ معلوم۔ شخصِ معلوم کی مثال جیسے زید، اور ذاتِ معلوم جیسے انسان کی ذات معلوم ہے، اس کا مفہوم معلوم ہے۔ اور جیسے رجل ہیں مولانا، رجل کی بھی کیا ہے؟ ذات معلوم ہے، مفہوم آپ کو معلوم ہے۔ کس کو کہتے ہیں؟ بنی نوع انسان کا وہ فرد جو مولانا کہاں تک بالغ ہو جائے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ رجل کہلاتا ہے۔ تو پھر میں نے بتلایا اس کی کتنی قسمیں ہیں بھئی؟ تین قسمیں: فردِ خاص، جنسِ خاص اور نوعِ خاص۔ فردِ خاص کی مثال جیسے زید ہے مولانا۔ جنسِ خاص کی مثال انسان، اور نوعِ خاص کی مثال رجل ہے مولانا۔ اور میں نے پھر آپ کو بتایا ایک منطقی جنس ہے، ایک اصولی جنس ہے۔ منطق میں چونکہ بحث ہوتی ہے حقیقت سے، تو لہٰذا منطقی الگ تعریف کرے گا۔ اور اصولِ فقہ میں بحث ہوتی ہے کس سے؟ اغراض و مقاصد سے، لہٰذا وہ الگ تعریف کرے گا۔ منطق میں جنس کی کیا تعریف پڑھی تھی؟ هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقيقة۔ ایسے کثیر وہ کلی جو ایسے کثیر افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں آپس میں مختلف ہوں، جیسے مولانا حیوان ہے۔ حیوان میں انسان بھی داخل ہے اور جانور بھی داخل ہیں اور حقیقتیں سب کی کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ جبکہ اصولی چونکہ اغراض و مقاصد سے، تو وہ بالحقائق کے بجائے کیا کہے گا؟ بالأغراض۔ هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض، جن کے اغراض مختلف ہوں مولانا۔ لہٰذا انسان کے دو افراد ہیں: رجل اور امرأة۔ رجل کے اغراض الگ، امرأة کے اغراض الگ، تو لہٰذا انسان کیا ہوا مولانا؟ اس کے افراد کے غرض ایک ہی ہے یا الگ الگ ہے؟ مختلف ہے، تو یہ کیا جنس ہوئی مولانا اصولِ فقہ میں۔ اور منطق میں نوع کی تعریف کیا کرتے تھے؟ هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالحقيقة۔ ویسی کلی جو ایسے کثیر افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو۔ اور اصولی کیا کہتا ہے؟ جن کی حقیقت ایک نہ ہو، جن کے اغراض کیا ہوں؟ ایک ہوں۔ لہٰذا انسان، انسان میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں لیکن حقیقت دونوں کی کیا ہے؟ دونوں کی حقیقت انسان اور عورت کی حقیقت کی بات کر رہا ہوں، غرض کی بات نہیں کر رہا۔ حقیقت ایک، لہٰذا منطقی کے نزدیک یہ کیا ہے؟ نوع، کیا ہے؟ نوع۔ اور لیکن اصولی کے نزدیک یہ انسان کیا ہوا؟ جنس ہوا۔ ہاں رجل اور امرأة، رجل کیا ہوا منطقی، اصولی کے نزدیک؟ نوع، کیونکہ اس کے تمام افراد کے غرض کیا ہیں؟ ایک ہیں۔ اور امرأة بھی کیا ہے؟ نوع، کیونکہ اس کے بھی تمام افراد کے غرض کیا ہیں؟ تخلیق، ایک ہے مولانا۔ پھر اس کے بعد عام کی بات آئی۔ بھئی خاص میں تو تھا افراد نہ ہوں، اور عام میں کیا ہوگا مولانا؟ افراد ہوں گے۔ افراد کی طرف دیکھا جائے گا، افراد کی طرف نظر کی جائے گی۔ اور پھر وہ لفظ جو ہے افراد کو شامل ہوگا لفظوں کے اعتبار سے یا معنی کے اعتبار سے۔ جیسے مسلمون، اس کا اطلاق تین سے کم پر ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو اس کے ہمیشہ افراد کم از کم تین ہوں گے۔ اسی طرح من اور ما، یہ بھی کس کے لیے ہے مولانا؟ افراد کے مجموعے پر بولے جاتے ہیں مولانا۔ اور من کس کے لیے آتا ہے؟ اور ما کس کے لیے آتا ہے؟ چلیے مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 5 of 123