Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 130
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں مولانا آپ نے پڑھا کہ ادلہ شرعیہ چار ہیں بھئی۔ اول، قرآن۔ ثانی، حدیث۔ ثالث، اجماع۔ اور رابع، قیاس ہے مولانا۔ وجہ حصر اس کی یہ ہے، وجہ حصر مولانا۔ چار میں کیوں بند کیا ادلہ، چار ہی کیوں ہیں بھئی؟ وجہ حصر یہ ہے کہ وہ دلیل شرعی، کہ وہ دلیل شرعی یا وحی ہوگی یا اجتہاد مولانا۔ یا وحی ہوگی یا اجتہاد مولانا۔ اگر وحی ہے تو پھر وہ متلو ہوگی یا غیر متلو۔ متلو میم، تا دو نقطوں والی مولانا، لام، واؤ، متلو۔ متلو وہ جس کی تلاوت کی جائے۔ تو وہ وحی کیا ہوگی؟ یا متلو ہوگی یا غیر متلو بھئی۔ اگر متلو ہے تو وہ قرآن ہے اور اگر غیر متلو ہے تو وہ حدیث ہے۔ قرآن کیا ہے؟ اس کی کیا کی جاتی ہے مولانا؟ تلاوت کی جاتی ہے۔ تو وہ وحی متلو ہوگی یا غیر متلو، اگر متلو ہے تو وہ قرآن ہے اور اگر غیر متلو تو وہ حدیث ہے۔ اور اگر وہ اجتہاد ہے، وہ دلیل شرعی کیا ہے؟ اجتہاد ہے، تو پھر وہ اجتہاد ہوگا تمام مجتہدین کا یا بعض مجتہدین کا، یا بعض مجتہدین کا۔ اگر وہ اجتہاد ہو تمام مجتہدین کا تو وہ اجماع ہے، تو وہ اجماع ہے۔ اور اگر اجتہاد ہے بعض مجتہدین کا تو وہ قیاس ہے۔ تو وہ قیاس ہے۔ وجہ حصر سمجھ میں آئی بھئی؟ دلیل شرعی بھئی یا وحی سے ہوگی یا اجتہاد، یعنی غیر وحی سے۔ اگر وحی ہے تو پھر وہ متلو ہوگی، تلاوت کی جاتی ہے یا تلاوت نہیں کی جاتی۔ تو اگر تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کیا ہے؟ قرآن ہے اس کی تلاوت، اور اگر غیر متلو ہے تو وہ حدیث ہے، وہ بھی وحی ہے لیکن غیر متلو ہے، تلاوت نہیں کی جاتی۔ اور پھر اگر وہ وحی نہیں ہے مولانا دلیل شرعی بلکہ کیا ہے؟ غیر وحی ہے، تو پھر یقیناً اجتہاد ہوگا اور اجتہاد پھر مولانا تمام، یا تو تمام مجتہدین کا ہوگا، تمام کی رائے اس مسئلے میں وہی ہوگی تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ اجماع کہلائے گا۔ اور اگر بعض کی رائے ہے، بعض کی رائے دوسری ہے تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ قیاس کہلائے گا۔ یہ ہے وجہ حصر مولانا۔ اسی لیے چار میں بند کیا، ادلہ شرعیہ کی چار ہی قسمیں ہیں۔ تو سب سے پہلے "البحث الأول في كتاب الله تعالى"، بحث اول کس کے بارے میں ہے؟ کتاب اللہ کے بارے میں ہے مولانا، قرآن جو ہے۔ تو یاد رکھو مولانا قرآن الفاظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ قرآن الفاظ اور معنی دونوں کا نام ہے، اور لفظ اور معنی میں پانچ قسم کے تعلقات ہیں۔ لفظ اور معنی میں، قرآن لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے مولانا، نظم اور معنی دونوں کا نام ہے۔ قرآن کے لیے ویسے نظم کا لفظ کہتے ہیں ادب کے لیے، ادب کے لیے، سمجھ میں آیا؟ قرآن کے جو الفاظ ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ نظم کہتے ہیں، ادب کے طور پر۔ لیکن چونکہ ابھی آپ نے یہ اصطلاح پڑھی نہیں، تو اس لیے میں نے لفظ ہی بولا وہاں۔ تو قرآن کس کا نام ہے؟ لفظ اور معنی کا، یا یوں کہو نظم اور معنی کا نام ہے۔ اور لفظ اور یہ لفظ اور معنی میں پانچ قسم کے تعلقات ہیں، پانچ تعلق ہیں مولانا۔ اول وضع، کہ یہ لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے؟ اول وضع، کہ یہ لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے؟ دوم استعمال، دوم استعمال، کہ یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ کہ یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ تیسرا اور چوتھا تعلق ظهور اور خفا کا ہے۔ تیسرا اور چوتھا تعلق ظهور اور خفا کا ہے، ظهور اور خفا کا ہے۔ کہ کوئی معنی کسی لفظ سے کتنا ظاہر اور یا کتنا خفی ہے۔ کہ کوئی معنی کسی لفظ سے کتنا ظاہر یا کتنا خفی ہے۔ اور پانچواں تعلق دلالت کا ہے، اور پانچواں تعلق دلالت کا ہے، کہ یہ لفظ کس معنی پر دلالت کر رہا ہے؟ کہ یہ لفظ کس معنی پر دلالت کر رہا ہے؟ تو یہ پانچ قسمیں سمجھ میں آئیں بھئی آپ کو؟ لفظ، قرآن کس چیز کا نام ہے؟ لفظ اور معنی، یعنی نظم اور معنی، اور لفظ اور معنی میں کتنے تعلق ہیں؟ پانچ۔ اول کیا ہے؟ وضع۔ دوم کیا ہے؟ استعمال۔ سوم، چہارم کیا ہے؟ ظهور اور خفا، تیسرا ہے ظهور، چوتھا کیا ہے؟ خفا، اور پانچواں؟ دلالت۔ تو وضع، اب کہ مولانا اس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ استعمال، کہ کس معنی میں، وضع تو اس معنی کے لیے، استعمال کس معنی میں ہو رہا ہے؟ پھر ظهور ہے کہ یہ معنی اس لفظ سے کتنا ظاہر ہے، یا خفا ہے کہ یہ معنی جو ہے اس لفظ سے کتنا خفی ہے مولانا۔ اور پھر پانچویں قسم کیا ہے؟ دلالت، کہ یہ لفظ اس معنی پر دلالت کر رہا ہے یا دلالت نہیں کر رہا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ پانچ قسمیں ہوئیں۔ پھر ہر قسم کے اعتبار سے چار چار قسمیں ہیں مولانا۔ پھر ہر ایک کے اعتبار سے چار چار قسمیں ہیں۔ پھر ہر ایک کے اعتبار سے چار چار قسمیں ہیں، چار چار قسمیں ہیں۔ تو کل کتنی اقسام ہوئیں بھئی؟ حساب 20 سے اوپر، 10 سے اوپر چلا گیا ہے بھئی۔ پانچ ہیں، ہر ایک کی چار چار ہوں، کتنے بن گئے؟ 20، تو کل 20 قسمیں ہوئیں بھئی، تو کل 20 قسمیں ہوئیں بھئی۔ تو وضع کے اعتبار سے لفظ کی چار قسمیں ہیں۔ وضع کے اعتبار سے لفظ کی چار قسمیں ہیں: خاص، خاص، عام، عام، مشترک، مشترک، اور مؤول، مؤول۔ میم، واؤ لکھیں، میم، واؤ اور واؤ پر ہمزہ ڈالیں اور پھر ایک اور واؤ آگے لکھیں۔ میم، واؤ، واؤ پر ہمزہ اور پھر ایک اور واؤ مشدد لکھیں، اس پر شد لکھیں اور لام مولانا۔ لکھ لیا بھئی؟ مؤول۔ تو وضع کے اعتبار سے کتنی قسمیں ہوئیں؟ چار قسمیں ہوئیں: خاص، عام، مشترک اور مؤول مولانا۔ تو سب سے پہلے خاص کو ذکر کریں گے، دیکھیے مولانا: "فصل في الخاص والعام، فالخاص لفظ وضع لمعنى معلوم أو لمسمى معلوم على الانفرادی"، فصل ہے خاص کے بارے میں اور عام کے بارے میں، تو خاص ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو "لمعنى معلوم"، ایک معنی معلوم کے لیے "أو لمسمى معلوم"، یا ایک مسمائے معلوم کے لیے "على الانفرادي"، انفرادی طور پر، انفرادی طور پر۔ یعنی وہ معنی معلوم اور مسمائے معلوم منفرد ہو مولانا، یعنی اکیلا ہو، اکیلا۔ یہاں دو لفظ آئے، ایک مولانا معنیٰ اور ایک مسمى۔ معنیٰ سے مراد ہے وصف، معنیٰ سے مراد کیا ہے؟ وصف ہے، وصف ہے، وصف ہے۔ وصف کسے کہتے ہیں مولانا؟ جو خود قائم نہ رہ سکے مولانا، جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج، غیر کے ساتھ پایا جائے مولانا، جو اپنے وجود میں کس کا محتاج ہو؟ غیر کا محتاج ہو مولانا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں زید بڑا بہادر ہے بھئی، اب بہادری ایک وصف ہے بھئی، اور یہ بہادری خارج میں اکیلی آپ مجھے دکھا سکتے ہیں بھئی؟ کہیں بہادری مجھے دکھاؤ ذرا بھئی۔ بھئی اس کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے، یہ ہمیشہ کیا ہوگی؟ کسی نہ کسی ذات کے ساتھ قائم رہے گی مولانا، یہ وصف کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگا، مثلاً یہ اب کس میں پائی جا رہی ہے؟ زید میں، زید نہیں ہے تو پھر وہ بہادری بھی نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح مولانا سفیدی ہے، سیاہی ہے، علم ہے، جہل ہے، یہ بھی سارے کیا ہیں؟ اوصاف، یہ بھی اپنے وجود میں کس کے محتاج ہیں؟ غیر کے محتاج ہیں، غیر کے ساتھ قائم ہوں گے، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے علیحدہ بھئی۔ علم کا کوئی الگ وجود ہے؟ نہیں، الگ نہیں۔ جہل بھی اسی طرح ہے مولانا، کسی شخص میں علم ہوگا اس کے ساتھ قائم ہوگا، کسی شخص کے اندر جہل ہوگا مولانا۔ اسی طرح سفیدی اور سیاہی ہے، سفیدی کا بھی اپنا الگ کوئی وجود نہیں، ہمیشہ کسی چیز کے ساتھ قائم ہوگی، جیسے اس وقت کس کے ساتھ قائم ہے آپ دیکھ رہے ہیں؟ دیوار کے ساتھ بھئی، سیاہی بھی اسی طرح۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا بھئی، سفیدی تو الگ قائم ہم نے دیکھی ہے بھئی۔ بازار سے پینٹ کا ڈبہ لاتے ہیں، اس میں صرف سفیدی ہوتی ہے، ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ ارے نہیں بھئی، وہ پانی، وہ کیمیکل ساتھ نہیں ہے اس کے بھئی؟ اس کے بغیر ہو سکتی ہے وہ؟ نہیں ہو سکتی مولانا، خالص سفیدی ہو مولانا، اس کا اپنا کوئی، یہ جب بھی قائم ہوگی کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگی۔ کپڑے سیاہ ہیں مولانا، اب یہ کپڑے نہ ہوتے تو اس سیاہی کا اپنا علیحدہ کوئی وجود نہ تھا مولانا۔ چونا ہے مولانا، آپ کہیں گے چونا تو سفیدی ہی سفیدی ہے، بھئی وہ بھی الگ اس کا کوئی وجود نہیں ہے، وہ مٹی ہے ایک جو جس کے اندر بالکل سرایت کر چکی ہے سفیدی، اس کے ہر ہر جز میں سفیدی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا مولانا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو، تو معنیٰ سے کیا مراد ہے مولانا؟ وصف، اور وصف کس کو کہتے ہیں؟ جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج، جو اکیلا خود قائم نہ رہ سکے، اور اس کے مقابلے میں ایک ہوتی ہے عین، ذات مولانا، جس کا اپنا ایک وجود ہوتا ہے، جیسے زید ہے مولانا، زید کا اپنا ایک وجود ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ جیسے آپ کی عینک ہے مولانا، عینک کا ایک اپنا وجود ہے، آپ کا قلم ہے، اس قلم کا اپنا ایک وجود ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں خاص ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معنی معلوم کے لیے یا ایک مسمائے، ایک وصف معلوم کے لیے یا ایک ذات معلوم کے لیے، مسمى سے کیا مراد ہے؟ ذات، ایک ذات معلوم کے لیے مولانا۔ تو چیزیں دو ہی قسم پر ہیں مولانا، کچھ کا اپنا وجود ہوگا علیحدہ قائم رہ سکتی ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہیں، تو دونوں آ گئے بھئی۔ "على الانفرادي"، یعنی اکیلی ہوں وہ، وہ مسمائے معلوم بھی کیا ہو؟ اکیلا ہو، اور وہ وصف معلوم بھی کیا ہو؟ اکیلا ہو، یعنی اس کے ساتھ اور افراد نہ ہوں مولانا، اور افراد نہ ہوں، اکیلا ہو۔ نے پر ہوتا ہے؟ تین پر۔ تو کم از کم تین افراد ہوں تو پھر آپ اس کو کیا کہیں گے؟ تو امراض افراد ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کو خارج کر دیا اس کے ذریعے، جب انہوں نے "على الانفراد" کی قید لگائی تو اس کو کیا کر دیا؟ خارج کر دیا۔ یعنی اس کے افراد نہیں ہونے چاہئیں۔ مرض ایک، ٹھیک ہے، اس کے افراد نہیں، لیکن امراض کے تو کیا ہیں؟ افراد ہیں۔ وہ کیا ہوا اس تعریف سے؟ خارج ہوا۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 4 of 123