بسم الله الرحمن الرحيم.
الحمد لله الذي أعلى منزلة المؤمنين،
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے الذی أعلى منزلة المؤمنين، جس نے بلند کیا مومنین کے درجے کو۔ اعلیٰ، یعلیٰ، اعلاء کے معنی ہیں بلند کرنا۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے بلند کیا مومنین کے درجے کو بکریم خطابہ۔ بکریم خطابہ میں کریم مضاف ہے، خطاب مضاف الیہ ہے بھئی۔ یہ دراصل صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف بھئی۔ عربی میں کبھی کبھار کیا کرتے ہیں؟ صفت کی اضافت کر دیتے ہیں کس کی طرف؟ موصوف کی طرف۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ تو اصل میں یوں ہے عبارت: بخطابہ الكريم۔ بخطابہ الكريم۔ کریم کے ہم معنی ہم معزز کے کریں گے بھئی۔ جس نے مومنین کے درجے کو بڑھایا بخطابہ الكريم اپنے معزز خطاب کے ساتھ بھئی۔ اپنے معزز خطاب کے ساتھ۔
سمجھ میں آیا؟ غیر کو مخاطب کرتے ہوئے جو کلام اس سے کیا جائے، وہ خطاب کہلاتا ہے بھئی۔ وہ خطاب کہلاتا ہے۔ تو اپنے معزز خطاب کے ساتھ اس نے مومنین کے درجے کو بلند کیا۔ اور وہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وأنتم الأعلون۔ وأنتم الأعلون إن كنتم إن كنتم مؤمنين۔ اور تم ہی بلند درجے والے ہو، بلند ہو گے، تم ہی بلند۔ تو دیکھیے معزز خطاب مومنین کے ساتھ عزت کے ساتھ، مولانا سمجھ میں آیا؟ ان کو کیا اللہ نے فرمایا کہ تم کیا ہو گے؟ تم ہی بلند ہو گے، تم ہی غالب ہو گے، اعلیٰ ہو گے۔
جبکہ کفار کے ساتھ یہ عزت والا کلام نہیں بلکہ ان کو تو کیا کہا گیا ہے؟ قل يا أيها الكافرون، کہہ دو اے کافرو بھئی۔ تو کافر کے ساتھ ان کو خطاب کیا گیا، کافر کس کو کہتے ہیں؟ انکار کرنے والا، ناشکری کرنے والا۔ تو یہ ان کی مزید ذلت کی گئی کہ ان کو برے طریقے سے مخاطب کیا گیا۔ تو اللہ نے مومنین کے ساتھ اچھے طریقے سے خطاب فرما کر ان کے درجے کو کیا کیا؟ بلند کیا۔
ورفع درجة العالمين، عالمین بھئی، عالم کی جمع۔ ضارب کی جمع کیا آئے گی؟ ضاربون۔ عالم کی جمع عالمون۔ تو یہ حالت جری میں ہے، مولانا مضاف الیہ ہے۔ اور بلند کیا درجة العالمين علماء کے درجے کو بمعاني كتابہ۔ یہاں معانی سے پہلے مضاف محذوف ہے مولانا، أي بفهم معاني كتابہ، أي بفهم معاني كتابہ، اپنی کتاب کے معانی سمجھنے کے ساتھ۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی، مشکل تو نہیں ہے؟ آسان ترجمہ ہے۔ اور بلند کیا علماء کے درجے کو اپنی کتاب کے معانی سمجھنے کے ساتھ، یعنی کیونکہ عام مومنین مولانا قرآن کے معانی کو نہیں سمجھتے، البتہ علماء کیا ہیں؟ قرآن کے معانی کو سمجھتے ہیں اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے بھئی علماء کو جو حاصل ہے۔ تو بلند کیا علماء کے درجے کو اپنی کتاب کے معانی سمجھنے کے ساتھ بھئی۔ کتابہ، یہ ہا ضمیر راجع ہے لفظ اللہ کو بھئی، ذات باری تعالیٰ کو۔
وخص المستنبطين، اور خاص کیا مستنبطین، استنباط کرنے والے، کرنے والوں کو منہم ان میں سے، ان علماء میں سے۔ استنباط کہتے ہیں مولانا قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے مسئلہ نکالنا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استنباط کہتے ہیں بھئی۔ مستنبطین، مجتہدین مراد ہیں مولانا مجتہدین۔ مجتہد کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جو قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے مسائل نکالتا ہے۔
اور خاص کیا مجتہدین کو ان علماء میں سے بمزيد الإصابة۔ مزید مولانا مصدر میمی ہے بھئی، مصدر میمی۔ الإصابة کا معنی درستگی مولانا، درستگی۔ یہ بھی مولانا صفت کی اضافت ہے موصوف کی طرف۔ مزید صفت اور الإصابة موصوف ہے، أي بالإصابة الزائدة بالإصابة الزائدة بھئی۔ تو زائد درستگی، خاص کیا مجتہدین کو ان علماء میں سے زائد درستگی کے ساتھ بھئی۔ ایک عام عالم ہے، ایک مجتہد ہے مولانا، دین میں زیادہ پختگی کس کو حاصل ہوگی؟ مجتہد کو حاصل ہوگی۔ تو خاص کیا ان علماء میں سے مجتہدین کو زائد درستگی کے ساتھ وثوابہ، یہ ہا ضمیر راجع ہے پھر لفظ اللہ کو، اسم جلالہ کو، ذات باری تعالیٰ کو۔ ثواب کا عطف ہو رہا ہے الإصابة پر، أي بمزيد ثوابہ، اپنے زائد ثواب کے ساتھ۔ مستنبطین کو اللہ نے کیا کیا؟ خاص کیا اپنے زائد ثواب کے ساتھ بھئی۔
مجتہد کو زیادہ ثواب ملتا ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: المجتهد يخطئ ويصيب۔ المجتهد يخطئ، مجتہد خطا بھی کرتا ہے ويصيب اور درستگی بھی یعنی حق کو بھی پہنچتا ہے۔ إذا أصاب فله أجران، جب وہ درستگی تک، حق تک پہنچتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں۔ وإذا أخطأ فله أجر واحد، اور جب وہ غلطی کرتا ہے تو اس کو ایک اجر دیا جاتا ہے بھئی۔ دیکھو ایک مسئلہ ہے، معلوم نہیں ہے، مجتہد قرآن اور حدیث میں غور و فکر کر کے وہ مسئلہ نکالتا ہے۔ اب اسی مسئلے کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یوں کرنا ہے، قرآن میں یوں ہے، حدیث میں یوں آیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ خود غور و فکر کرتے ہیں اور وہ اور احادیثوں اور آیات سے نکالتے ہیں مسئلہ کہ نہیں، یوں کرنا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یوں کرنا ہے، اور امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں: یوں بھئی۔ تو تین، چار قول ہو جاتے ہیں مولانا، ہر ایک کی اپنی رائے اور ہر ایک کی دلیل کیا ہے مولانا؟ قرآن اور حدیث، قرآن اور حدیث ہی سے مسئلہ نکالا۔ لیکن انہوں نے دوسرے طریقے سے نکالا، انہوں نے دوسرے، تو ایک ہی مسئلے میں چار رائے آ گئیں چار مجتہدین کی۔ اب لازمی بات ہے ان میں سے حق ایک ہوگا۔ لیکن کون حق ہے؟ یہ صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا بھئی۔ تو جو حق کو پہنچا ہوگا، اس کو دگنا اجر ملے گا اس کا مولانا۔ اور جنہوں نے غلطی بھی کی مولانا، لیکن انہوں نے غلطی کیا جان بوجھ کر کی؟ انہوں نے اپنی پوری صلاحیت صرف کر دی مولانا۔ تو لہٰذا اب ان کو بھی، غلطی تو کی، لیکن اللہ کیا دیں گے؟ ایک اپنے فضل سے ایک اجر پھر بھی عطا فرمائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں، لیکن جو حق کو پہنچے گا، اس کو کتنے اجر ملیں گے؟ دو اجر ملیں گے۔
اور خاص کیا مجتہدین کو منہم ان علماء میں سے بمزيد الإصابة زائد درستگی کے ساتھ وثوابہ اور اپنے زائد ثواب کے ساتھ۔ یہاں تک سب کو معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو دیکھیے مولانا! مصنف رحمہ اللہ نے تین فعل ذکر کیے، تینوں عطف بھئی۔ دیکھو، أعلى منزلة یہ صلہ ہے الذی موصول کا، کیونکہ موصول کس کو چاہتا ہے؟ صلے کو چاہتا ہے۔ ورفع اس کا عطف ہو رہا ہے أعلى پر، لہٰذا یہ بھی کیا بن جائے گا؟ موصول کا صلہ۔ اسی طرح وخص اس کا عطف بھی کس پر؟ أعلى پر ہو رہا ہے، تو یہ بھی کیا بن جائے گا؟ صلہ۔ تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے مومنین کے درجے کو بلند کیا اپنے معزز خطاب کے ساتھ، اور وہ اللہ جس نے بلند کیا علماء کے درجے کو اپنے کتاب کے معانی سمجھنے کے ساتھ، کے سبب سے۔ اور وہ اللہ جس نے خاص کیا مجتہدین کو ان میں سے زائد درستگی اور اپنے زائد ثواب کے ساتھ بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصنف نے یہاں تین صلے ذکر کیے، پہلے صلے کے اندر أعلى لے کر آئے فعل، دوسرے صلے کے اندر جو معطوف اول ہے اس کے اندر رفع لے کر آئے، تیسرے میں مولانا دوسرے معطوف کے اندر خص لے کر آئے بھئی۔ تو دیکھیے، آپ مجھے بتائیے، آپ سب پڑھ چکے ہیں أعلى بھئی، یہ ہفت اقسام میں کیا ہے بھئی؟ ناقص ہے، شاباش بھئی! ناقصِ یائی ہے یا واوی ہے؟ علا يعلو علواً، علو ہے مولانا، علو سے ہے، علو کا معنی بلند ہونا۔ تو یہ واوی ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ واوی ہے۔
اور رفع، یہ ہفت اقسام میں کیا ہے؟ صحیح ہے۔ اور خص، یہ ہفت اقسام میں کیا ہے؟ مضاعف ہے، شاباش بھئی! تو دیکھیے مومنین کے لیے فعل ناقص لائے، علماء کے لیے فعل صحیح لائے، اور مجتہدین کے لیے فعل مضاعف لائے۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مومنین کا درجہ علماء، غیر علماء سے ناقص ہے بھئی۔ تو اس کے ان کے لیے کیا لے کر آئے؟ فعل ناقص، کیونکہ مولانا وہ قرآن کے معانی کو نہیں سمجھتے۔ تو معلوم ہوا ان میں جہل آ گیا مولانا، جہل کا وصف پایا گیا تو وہ ناقص ہوئے۔ اور علماء جو ہیں، وہ جہل سے محفوظ ہیں، وہ صحیح ہیں مولانا، کیا ہیں؟ صحیح۔ ان کے لیے فعل صحیح لائے۔ اور مجتہدین کے لیے چونکہ ان کا درجہ عام علماء سے بڑھ کر ہے اور ان کو خطا بھی ہو، ان کا اگر حق تک پہنچ جائیں تو کتنے ثواب ہیں؟ دو۔ تو ان کے لیے مضاعف لے کر آئے بھئی، کیونکہ مضاعف کیا؟ دگنا کیا ہوا بر۔ سمجھ میں آیا بھئی یہ نقطہ؟ جی، آئیے عبارت لے کر آئے بھئی۔
والصلاة على النبي وأصحابه، اور رحمت نازل ہو على النبي، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر، وأصحابه اور ان کے صحابہ پر۔ صحابی وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو اور ایمان پر ہی اس کی وفات ہوئی ہو مولانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نظر دیکھ لے گا مولانا، اتنا رتبہ بڑھ گیا، اتنا درجہ بڑھ گیا کہ اب ساری دنیا کے بعد کے اولیاء اس کے مقام اور مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے بھئی، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لمحے کی صحبت کا فائدہ ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو رحمت نازل ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وأصحابه اور ان کے صحابہ پر بھئی۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ مولانا، ہمیں تمام صحابہ سے ہمیں اور آپ کو کیا ہے؟ محبت ہے بھئی، محبت، بے انتہا محبت ہے بھئی۔ صحابہ ہی نے تو ہم تک دین پہنچایا بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سیکھا، جو کچھ سنا، اسے بعینہٖ اسی طرح ہم تک پہنچا دیا بھئی۔
والسلام على أبي حنيفة وأحبابه، اور سلامتی ہو مولانا ابو حنیفہ پر وأحبابه اور ان کے جو احباب ہیں مولانا۔ احباب سے مراد کون ہیں؟ ان کے تلامذہ اور شیوخ سارے مراد ہیں، وہ سب ان کے کیا ہیں؟ احباب ہیں، ان کے اساتذہ بھی اور ان کے تلامذہ بھی۔ تو سلامتی نازل ہو ابو حنیفہ اور ان کے احباب پر بھئی۔
یاد رکھو مولانا! صلوٰۃ و سلام جمہور کے نزدیک صلوٰۃ اور سلام یہ انبیاء کے ساتھ بولے جائیں گے، ان کے لیے اس کی دعا کی جائے گی، غیر انبیاء کے لیے مستقلاً اس کو استعمال کرنا جائز نہیں جمہور کے نزدیک۔ لہٰذا آپ یہ نہیں کہہ سکتے: والصلاة على مثلاً والصلاة على أبي بكر، حضرت ابو بکر صدیق کے لیے صرف مستقلاً صلوٰۃ لائے مولانا، یہ جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔ اسی طرح سلام بھی مولانا خاص ہے انبیاء کے ساتھ، یہ بھی غیر نبی کے ساتھ اس کو استعمال کرنا درست نہیں، جائز نہیں۔ جائز، ہاں تبعاً کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ حضور کے نام کو پہلے ذکر کر کے ان کے ساتھ اور جس کو مرضی ذکر کر دیں۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں: والصلاة على محمد وأبي بكر وعمر وعلي وعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ تو اب الصلاۃ کا لفظ آپ، کیونکہ اب مستقلاً ہوا یا تبعاً ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے؟ تبعاً ہوا بھئی، اصل تو حضور علیہ السلام پر اور حضور علیہ السلام کے ساتھ پھر باقی اسماء کو بھی ہم نے کیا کر دیا؟ ذکر کر دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہاں پر آپ دیکھیں مصنف رحمہ اللہ نے والسلام على أبي حنيفة وأحبابه، سلام کو، سلامتی کو مستقلاً ذکر کر دیا ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لیے۔ دیکھ رہے ہیں یا نہیں آپ بھئی؟ تو جمہور کے مسلک کے مطابق یہ جائز نہیں مولانا۔ لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ صلوٰۃ و سلام جو ہیں، غیر نبی کے لیے بھی استعمال کرنا جائز ہیں، بعض علماء یہ فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا مصنف کا بھی یہی مسلک تھا، اسی لیے انہوں نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لیے کیا ذکر کیا؟ سلام ذکر کیا۔ جی۔
وبعد، أي بعد الحمد والصلاة، حمد و صلاۃ کے بعد فإنه، فإن أصول الفقه أربعة، پس یقیناً فقہ کے ادلہ، اصول جمع ہے اصل کی بمعنی دلیل کے، ادلہ۔ تو پس یقیناً فقہ کے ادلہ، فقہ کی دلیلیں أربعة چار ہیں: نمبر ایک كتاب الله تعالى، اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے، وسنة رسوله، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، سنن احادیث ہیں مولانا، سنت سے کیا مراد ہے؟
احادیث کا نام ہے، سنت بھی کہتے ہیں حدیث کو، وإجماع الأمة، اور تیسری اجماعِ امت ہے مولانا، والقياس، اور چوتھی دلیل کیا ہے فقہ کی؟ قیاس ہے۔
فلا بد من البحث، پس ضروری ہے بحث کرنا فی کل واحد من هذه الاقسام، ان میں اقسام میں سے ہر ایک کے اندر۔ لیعلم، تاکہ جان لیا جائے بذلک، اس کے ذریعے۔ کس چیز کو جان لیا جائے؟ طریق تخریج الاحکام، احکام کو نکالنے کا طریقہ۔
فقہ کے ادلہ چار ہیں مولانا: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ لہٰذا مصنف فرماتے ہیں، ان چاروں کے اندر بحث ضروری ہے تاکہ طریقہ سیکھا جائے کس طرح قرآن اور حدیث، قرآن و حدیث وغیرہ یہ دلیل بنتے ہیں کسی مسئلے کے لیے اور کیسے ان کو بنایا جاتا ہے اور کیسے ان سے مسئلے کو نکالا جاتا ہے۔ تو ہر ایک کے بارے میں ہم بحث کریں گے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آگے اب بحثیں شروع کریں گے۔ سب سے پہلے کتاب اللہ کے بارے میں بحث ہو گی، بڑی طویل بحث بھئی! کتاب کا اکثر حصہ اسی پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد مولانا حدیث کے بارے میں بحث کریں گے، مختصر سی۔ اس کے بعد اجماع کے بارے میں، اور پھر آخر میں ذرا لمبا حصہ کچھ قیاس کا بھی ہے۔ تو ان چاروں سے بحث کریں گے، آپ دیکھیں گے کس طرح جو مسئلے اب تک آپ نے قدوری وغیرہ میں پڑھے ہیں، وہ کس طرح نکال رہے ہیں مجتہدین نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اور ان سے۔
چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔