Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-092

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 28
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل فی الغرقة والحرق والهدم. اذا مات جماعة ولا يدرى أيهم مات أولا جعلوا كأنهم ماتوا معا. فمال كل واحد منهم لورثته الأحياء ولا يرث بعض الأموات من بعض هذا هو المختار. وقال علي وابن مسعود رضي الله تعالى عنهما يرث بعضهم من بعض إلا فيما ورث كل واحد منهم من صاحبه. فصل فی الغرقة والحرق والهدم. غرقة جمع ہے غریق کی. غریق کہتے ہیں پانی میں ڈوبنے والا. خرقة جمع ہے حریق کی. اور حریق کہتے ہیں آگ میں جو جل جائے اس کو. والھدما ہدما جمع ہے ہدیم کی. اور ہدیم اسے کہتے ہیں جس پر کوئی چھت یا دیوار وغیرہ گری اور اس کے نیچے آ کر نیچے آ گیا تو وہ ہدیم ہے بھئی. تو یہ سب فاعل کی جمع ہیں بھئی، غریق، حریق، ہدیم. اور فاعل بمعنی مفعول کے ہیں بھئی. اس فصل میں یہ بیان کریں گے، اس سے پہلے تو آپ نے پڑھا کہ ایک شخص ہلاک ہو تو اس کے جو وارث زندہ ہیں ان سب میں مال تقسیم ہوگا. اب اگر کئی افراد اکٹھے کسی جگہ ڈوب گئے یا جل گئے یا چھت یا دیوار کے نیچے آ گئے. اب پتہ ہی نہیں کہ کون پہلے مرا ہے. باپ اور بیٹا اکٹھے اس کے اندر مرے ہیں. اگر باپ پہلے مرا ہے تو بیٹا اس کا وارث بنے گا. اور باپ وارث نہیں بنے گا پھر بیٹے کا کیونکہ باپ اس سے پہلے مرا ہے. اور اگر بیٹا پہلے مرا ہے تو پھر باپ اس کا وارث بنے گا لیکن بیٹا اس کا وارث نہیں بنے گا اس کے مال کا کیونکہ وہ اس سے پہلے مرا ہے. لیکن یہاں صورت وہ ہے کہ جہاں پر علم ہی نہیں ہے کہ کون پہلے مرا ان میں سے. دیوار گری ان پر سب مرے اب پتہ نہیں کون پہلے مرا، تعیین ہی نہیں ہو سکتی، یا ڈوبے ہیں یا جل گئے ہیں. تو بتلائیں گے آپ کو کہ اس صورت میں یوں سمجھا جائے گا کہ گویا یہ اکٹھے مرے ہیں. اور جب اکٹھے مرے ہیں تو پھر ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں بنیں گے. ہاں ان کے جو باقی ورثاء ہیں ان کو مال دے دیا جائے گا. یہ خود ایک دوسرے کے وارث یا جیسے دو بھئی ہیں وہ اکٹھے مرے ہیں تو یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے ہاں باقی جو ورثاء جو جو بنتے ہیں ان کا مال ان کو دے دیا جائے گا. صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں اذا مات جماعة جم مر جائے کوئی جماعت ولا یدرى أيهم مات أولا اور یہ جانا نہ جائے، یہ معلوم نہ ہو کہ کون ان میں سے پہلے مرا ہے. جعلوا کانھم ماتوا معا تو ان کو اسی طرح قرار دیا جائے گا گویا کہ وہ اکٹھے مرے ہیں. فمال كل واحد منهم لورثته الأحياء تو ان میں سے ہر ایک کا مال جو ہے اس کے زندہ وارثوں کے لیے ہوگا. ولا يرث بعض الأموات من بعض اور بعض میتیں جو ہیں وہ بعض کی وارث نہیں یعنی ایک دوسرے کی وارث نہیں بنیں گی بھئی وہ جو مرنے والے ہیں. ھذا ھو المختار یہی مختار قول ہے. وقال علی وابن مسعود رضی اللہ تعالى عنھما جبکہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں يرث بعضھم عن بعض کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی. باپ اور بیٹا اکٹھے مرے ہیں باپ بیٹے کا وارث بنے گا یوں سمجھا جائے گا باپ پہلے مرا ہے اور بیٹا اس کے تو بیٹا اس کا وارث بنے گا. پھر باپ بیٹے کا وارث بنے گا یوں سمجھا جائے گا باپ بیٹا پہلے مرا ہے اور باپ بعد تو دونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے اور جو جو حصہ بنتا ہے وہ اس کے مورث کے مال میں سے وارث کے مال کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی. تو وہ فرماتے ہیں يرث بعضھم عن بعض وارث بنیں گے وہ ایک دوسرے کے الا فيما ورث كل واحد منهم من صاحبه مگر اس مقدار کے اندر کہ وارث ہوا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے اس مقدار میں وارث نہیں بنیں گے. جس مقدار میں جس مقدار کو ایک دوسرے سے لے رہا ہے اس میں دوسرا وارث نہیں بنے گا بھئی. مثلا دیکھیے ایک جگہ چھت تلے آ کر باپ بیٹا ہلاک ہو گئے. باپ کا کل مال ہے 120 دینار. بیٹے کا مال بھی فرض کریں ہے 120 دینار. اور وارث کیا کیا چھوڑے؟ باپ یہ ہل... باپ جو ہے اس کا ایک یہ بیٹا تھا جو ساتھ ہی انتقال ہوا جس کا اور ایک بھئی ہے اس کا جو زندہ ہے بھئی یعنی دوسرا بیٹا اس کا زندہ ہے. اور بیٹا جس کا انتقال ہوا اس حادثے میں اس کے ورثاء میں کون کون بنتے تھے؟ ایک والد بنتے تھے اور اس کا ایک بیٹا ہے بھئی. تو گویا باپ نے بھی ایک زندہ بیٹا چھوڑا بیٹے نے بھی ایک زندہ بیٹا چھوڑا. تو ہمارے نزدیک تقسیم آسان ہے. ہم یوں سمجھیں گے دونوں کا اکٹھے انتقال ہوا لہذا باپ اس بیٹے کا وارث نہیں اور یہ بیٹا اپنے باپ کا وارث نہیں. تو پھر باپ کا وارث صرف ایک ہی بیٹا رہ گیا اور ایک پوتا رہ گیا اور بیٹے کے ہوتے ہوئے تو پوتے کو مال نہیں ملتا لہذا سارا مال کس کا ہو جائے گا؟ دوسرے بیٹے کا ہو جائے گا. اور بیٹا جس کا انتقال ہوا اس کا ایک بھئی ہے اور ایک بیٹا ہے بھئی. اور بیٹے کے ہوتے ہوئے بھئی کو کچھ نہیں ملتا تو سارا مال کس کو مل جائے گا؟ تو باپ کا سارا مال دوسرے بیٹے کا اور بیٹے کا مال اپنے بیٹے کا. صورت سمجھ میں آگئی؟ ہمارے نزدیک یہ تقسیم ہے مختار قول یہ ہے. جبکہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی. یعنی بیٹے کو باپ کے مال اس بیٹے کو بھی باپ کے مال میں سے حصہ ملے گا اور باپ کو بھی اس بیٹے کے مال میں سے حصہ. اب اگر اس بیٹے کو وارث بنائیں تو کتنے بیٹے وارث ہوئے؟ دو بیٹے وارث ہو گئے باپ کے. اور مال کتنا ہے؟ 120 تو 60 اس بیٹے کا اور 60 اس بیٹے کا اور یہ 60 آگے پھر اس کی اولاد کی طرف منتقل ہو جائے گا. کس کی طرف؟ یہ گویا بیٹے کا ہی مال سمجھا جائے، یہ اس کو ملا ہے نا تو یہ اسی کے مال میں داخل ہو جائے گا اسی میں شامل ہو جائے گا. یہ گویا وہ اپنے بیٹے کے لیے چھوڑ کر مرا ہے. 120 اس کے اپنے تھے 60 کس کے مل گئے؟ باپ کے بھی مل گئے. وہ سارے بیٹے کی طرف. اور ہاں بیٹے کو کتنا ملا باپ کے مال میں سے؟ 60 ملا. اور باپ کو بیٹے کے مال میں سے کتنا ملے گا؟ بیٹے کا انتقال ہوا ایک اس کا بیٹا ہے، ایک اس کا باپ ہے، ایک اس کا بھئی ہے. باپ کے ہوتے ہوئے بھئی تو وارث نہیں بنے گا تو صرف ایک بیٹا رہ گیا ایک باپ رہ گیا. کیسے ملے گا؟ بیٹا کیا ہوگا؟ عصبہ باپ کو کیا ملے گا؟ سدس ملے گا. سدس کتنا 120 کا؟ 20 دینار. یہ 20 دینار باپ کے مال میں سے داخل ہو جائیں گے اور پھر یہ اس کے باقی ورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گا یعنی اس بھئی کی طرف بھئی. تو دیکھا دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوئے. لیکن اس مقدار میں وارث نہیں ہوں گے جو اپنے ساتھ والی سے پائی ہے اس نے میراث. آخری سطر کا ترجمہ کر رہا ہوں بھئی. الا فيما ورث كل واحد منهم من صاحبه مگر وہ جو وارث ہوا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے. اب دیکھیے ابھی میں نے بتایا وہ مقدار جس میں اپنے ساتھی سے وارث بنا ہے اس کے اندر وہ وارث نہیں بنے گا خود بھئی. باپ کے مال میں سے یہ جو بیٹا صاف انتقال ہوا یہ وارث بنے گا یا نہیں ان کے نزدیک؟ بنے گا. اس کو باپ کے مال میں سے کتنا ملتا ہے؟ 60 ملتا ہے. تو اس کا مال اپنا کتنا تھا؟ 120 اور باپ کی طرف سے بھی 60 مل گیا تو اب یہ 120 جمع 60 کتنے ہو گئے؟ 180 اور باپ بھی اس کا وارث بنے گا. اب اس بیٹے کا بعد میں انتقال ہوا تو باپ وارث بنے گا یا نہیں ان کے نزدیک؟ بنے گا. تو بیٹے کا مال 120 ہی شمار کرنا، 180 نہ شمار کرنا جو باپ کی طرف سے ملا ہے ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ 120 کا سدس دینا ہے باپ کو جو اصل اصل تھا بیٹے کا وہ جو باپ کی طرف سے 60 آئے ہیں ان کو ساتھ نہ ملانا ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ باپ کو کتنا دینا ہے؟ سدس دینا ہے تو گویا 120 کا بھی سدس دینا پڑے گا اور سا کل کا سدس دیتے ہیں نا تو یہ یوں کہہ لیں 180 کا سدس دینا پڑے گا باپ کو یا یوں کہیں 120 کا بھی سدس اور 60 کا بھی سدس تو 60 کا بھی سدس والد کو ملے گا تو 60 کے اندر تو والد مورث تھا. کیا تھا؟ مورث تھا اور اسی میں آپ نے اس کو کیا بنا دیا؟ وارث بھی بنا دیا تو ایک ہی مال کے اندر وارث اور مورث کا جمع ہونا لازم آئے گا ایک ہی شخص ہو اور یہ تو ہو نہیں سکتا بھئی. اس لیے صرف وہ اصل مال کے اندر باپ سدس لے گا جو اس کی طرف سے بیٹے کو کیا ہے اس کے اندر سدس نہیں لے گا. صورت سمجھ میں آگئی؟ اور باپ کے مال یہ تو بیٹے کے مال کے اندر پھر اصل کے اندر باپ وارث بنے گا. اور بیٹا بیٹا باپ کی طرف سے کتنا مال اس کو مل رہا تھا؟ ہاں دوسری صورت کریں نا. ہاں باپ کو بیٹے کی طرف سے کتنا ملے گا؟ 20 اور باپ کا اپنا مال کتنا؟ 120 اور 20 کتنے ہو گئے؟ 140 تو بیٹے نے بھی اب باپ کا وارث بننا ہے تو بیٹے کو باپ کے اصل مال کے اندر وارث بنائیں گے. ایک بھئی ہے اور ایک یہ خود ہے تو 60، 60 دونوں میں تقسیم ہوں گے. یہ جو 20 اس کی طرف سے ملا ہے اس کے اندر نصف اس کو نہیں ملے گا بھئی ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ وارث اور مورث ایک ہی شخص جو ہے وارث بھی بن جائے گا اسی مال میں اور مورث بھی جو درست. صورت سب کو سمجھ آگئی بھئی؟ تو بس آسان لفظوں میں یوں کہیں دونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے لیکن اصل مال کے اندر بنیں گے اپنے اپنے اصل مال میں بنیں گے جو اس کو وراثت کے طور پر ملے گا دوسرے سے اس کے اندر وارث نہیں بنیں گے بھئی. جی یہ معنی ہے الا فی. يرث بعضھم عن بعض وارث ہوں گے وہ ایک دوسرے کے الا فيما ورث كل واحد منهم من صاحبه مگر اس مقدار میں کہ جس میں وارث ہوا ہے ہر ایک اپنے ساتھی سے والله أعلم بالصواب وإليه المرجع والمآب. چلیے آئیے بھیا اب دعا کر لیں گے۔ دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھیں جب بھی دعا کریں شروع میں اللہ کی حمد انی چاہیے الحمدللہ انسان پڑھے بھئی اور پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہو۔ اور دعا کے آخر میں بھی آمین اور درود ہو اس سے دعا قبولیت سے قریب تر ہو جاتی ہے۔ الحمدللہ رب العالمین اللہم صلی علی سیدنا۔ اے اللہ! ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس مجلس میں ہم جتنی بھی دعائیں مانگیں اللہ! سب کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعا کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! جن سے آپ کی محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے پیغمبر بھی محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے فرشتے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! انسان بھی جن سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! تمام حیوانات بھی جن سے اور پرندے بھی جن سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! کوئی شخص کسی گناہ سے آپ کی توفیق کے بغیر نہیں بچ سکتا۔ اے اللہ! ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! کوئی شخص کسی نیکی کو آپ کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ یا ارحم الراحمین کہہ لے تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو اس کے مانگنے والے کو جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے مانگنے والے مانگ ارحم الراحمین تمہاری طرف متوجہ ہیں۔ آپ سب بھی تین مرتبہ کہہ لیجیے یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا عزیز یا غفار، یا عزیز یا غفار یا ستار۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اندھا زندگی میں گناہوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے بھی ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہماری نشست و برخواست میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے چلنے پھرنے میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہمیں کامل طریقے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں سنتوں کی کامل محبت بٹھا دے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں شرک و بدعت و گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! انہیں دنیا میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! انہیں آخرت میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! ہم نے اس مجلس میں آپ کی دین کی ایک کتاب ختم کی ہے۔ اے اللہ! اس کتاب کی برکت سے، اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ! ہم سب کی تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہم سب کی تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! جس جس گھر میں کوئی تکلیف پریشانی ہے، اے اللہ! ان تمام تر تکلیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! سب کو گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارا بھی خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم جتنے حاضرین ہیں سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم ان سب تمام زندگی میں خوب وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی خوب وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کی نفرت کامل نفرت ہمارے دلوں میں جما دے۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! آپ فرماتے ہیں کہ جب سے یہ کائنات بنی ہے اور میں اپنے خزانے لٹا رہا ہوں میرے خزانوں کے اندر مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئی۔ اے وہ عظیم ذات! اے وہ عظیم خزانوں والے! اے اللہ! ہماری تو یہ چھوٹی سی جماعت ہے۔ اے اللہ! ہم یہاں کسی دنیوی مقصد کے لیے جمع نہیں ہوئے۔ اے اللہ! آپ کے دین کو سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اے اللہ! ہم سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ حدیث میں آتا ہے، اللہ فرماتے ہیں اگر تمام انس و جن جمع ہو جائیں اور ہر ایک مجھ سے اپنی اپنی مرادیں مانگیں اور میں ہر ایک کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں تو بھی میرے خزانوں کے اندر ذرہ بھر کمی نہیں آئے گی۔ اے اللہ! ہماری جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہمارے اے اللہ! مجاہدین کی بھی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام پر ان کو غالب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کے مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے۔ اے اللہ! اے اللہ! جو دشمن کی قید میں ہیں مجاہدین ان کی رہائی کے لیے غیب سے اللہ اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کے گھر والوں کو اطمینان اور سکون نصیب فرمائیے۔ اے اللہ! ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس زمانے میں مسلمان بڑی تکلیف میں ہیں۔ اے اللہ! ہر شخص، ہر شخص مسلمانوں کو تکلیف دینے کے درپے ہے۔ اے اللہ! ہم سب کو پھر دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ! ہم سب میں اتحاد پیدا فرما دے۔ اے اللہ! ہم میں ہمت اور قوت پیدا فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں کامل طریقے سے دین پر چلنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں اس سے محروم نہ فرما۔ اے اللہ! تمام زندگی دین پر لگا رہنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تمام تکلیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اور اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اور انتقال ہو چکا، اے اللہ! اے اللہ! ان سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے اہل و عیال جو باقی ہیں ان کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور شیخ رحمت اللہ کے لیے بھی خصوصاً دعا فرمائیے۔ اے اللہ! ان کے کروڑوں درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے کروڑوں درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح اتباعِ سنت کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح علم نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفی رحمہ اللہ، حضرت مولانا نور محمود صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا نور الاسلام رحمہ اللہ اور مولانا عبدالرحمن رحمہ اللہ اور مولانا نصیر خان میرے استاد رحمہ اللہ اور قاضی حامد اللہ خان رحمہ اللہ اور جو جو بھی جن علماء کا انتقال ہوا ہے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کے کروڑوں درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے جن کے والدین زندہ، اے اللہ! ان کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر قادر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ہمیں والدین کی خدمت کرکے، اے اللہ! جنت کا مستحق بننے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی نافرمانی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ان طلباء میں سے بھی بہت سے طلباء بہت سے حاضرین جو دعاوں کے لیے کہنا چاہتے ہوں گے لیکن کہہ نہ سکے، اے اللہ! اور جو کہہ چکے، اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کی غیب سے مدد فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میرے لیے بھی اپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے، اے اللہ! ان کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کے راستاموں میں کچھ رکاوٹیں تکلیفیں ہیں، اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان کو خیر و برکت کا باعث بنا۔ اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹ اور تکلیف سے حفاظت فرما۔ اور خصوصاً حضرت شیخ رحمہ اللہ کی جو تصانیف وغیرہ ہیں، اے اللہ! ان کے لیے غیب سے اسباب نصیب فرما دیجیے، اے اللہ! قیامت تک ان کتابوں کا اور جو مسودات باقی ہیں ان کی طاعت کے لیے اللہ اسباب نصیب فرما دیجیے اور قیامت تک اے اللہ! اس سلسلے کو جاری و ساری رکھیے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو مجھ سے دور کر دے اور جو شخص تین دفعہ جنت کو مانگتا ہے، جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو میرے اندر لے آ۔ اے اللہ! ہم جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
92 approved lectures · 92 of 92
⏮ First ◀ Previous
Current dars-092