Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی کتاب پر دیکھیے بھئی۔ دو سبب ہم پڑھ چکے۔ دو موانع ہم پڑھ چکے بھئی کہ پہلا غلامی اور دوسرا قتل، یعنی قتل مورث بھئی۔ تیسرا معنی ہے اختلاف الدینین۔ دو دینوں کا اختلاف بھئی۔ یعنی وارث کا الگ دین ہو اور مورث کا الگ دین ہو تو پھر وارث نہیں بنیں گے۔ ایک کا مال دوسرے کو نہیں ملے گا بھئی۔ لیکن یاد رکھیے اختلاف دین سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان ہو اور دوسرا کافر ہو بھئی۔ ایک مسلمان ہو اور دوسرا کافر ہو۔ مثلاً مرنے والا مسلمان اور جو بیٹا ہے وہ مسلمان نہیں ہے تو اس صورت میں اسے وراثت نہیں ملے گی بھئی۔ یا مرنے والا تو کافر ہے لیکن اس کا بیٹا مسلمان ہو چکا، تو اب یہ اختلاف دین ہے، لہذا یہ اس کا وارث نہیں بنے گا۔ ہاں، البتہ کافر ہوں دونوں پھر ایک دوسرے کے وارث بنیں گے چاہے ان کا دین الگ الگ ہی کیوں نہ ہو، ایک عیسائی ہے دوسرا یہودی ہے، یہ ایک ہندو اور ایک عیسائی ہے وغیرہ بھئی، پھر ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی، کیونکہ الکفر ملۃ واحدۃ، کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اختلاف دین سے کیا مراد ہے کہ ایک ان میں سے مسلمان اور دوسرا کافر اور اگر دونوں کافر ہوں چاہے پھر چاہے دین ان کے الگ الگ ہی کیوں نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ اسی طرح کوئی مرتد ہو جائے بھئی۔ تو ارتداد سے بھی اہلیتِ ارث ختم ہو جاتی ہے۔ مرتد کسی کا وارث نہیں بن سکتا بھئی۔ اسے مطلقا وارث بننے کی اہلیت ختم ہوئی بھئی۔ کسی کا وارث نہیں بن سکتا، نہ کسی مسلمان کا اور نہ کسی کافر کا بھئی، مرتد ہوئی مکمل۔ اور مرتد یاد رکھیے اس کا حکم آپ نے پڑھا ہے کہ مرتد اگر مرد ہے تو پھر اس صورت میں اس کو قید میں ڈالا جائے گا۔ تین دن کی مہلت ہے، تین دن اس کو قید کے اندر وعظ و نصیحت کی جائے گی، اس کے اشکالات کو علماء دور کریں گے اور سمجھائیں گے، اگر وہ پھر لوٹ آتا ہے اسلام کی طرف، تو پھر ٹھیک ہے اسے چھوڑ دیا جائے گا، ورنہ پھر اسے قتل کر دیا جائے گا بھئی۔ اور یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ قتل کر دیا، اب اس کی وراثت، تو یاد رکھیے کہ مرتد نے جو حالت اسلام کے اندر جو اس کا مال تھا، جو کچھ اس نے کمایا تھا، وہ اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گا۔ اور جو حالتِ کفر میں مال کمایا ہے، وہ اس کے مسلمان وارثوں کو نہیں ملے گا، وہ بیت المال کے اندر جمع ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ مرتد نے حالتِ اسلام میں جو کمایا ہے، وہ اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گا، جو حالتِ کفر میں کمایا ہے وہ مسلمان وارثوں کو نہیں ملے گا، وہ بیت المال میں جمع کروایا جائے گا۔ اور تو ایک صورت تو یہ کہ اس کو قتل کر دیا گیا، یہ مر گیا، یا مر گیا۔ اور اسی طرح مرتد اگر بھاگ کر دارالحرب چلا گیا، اور ورثا قاضی کے پاس چلے گئے کہ اس طرح وہ مرتد ہوا اور بھاگ گیا، اور قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ یہ دارالحرب جا چکا، یہ فیصلہ کر دیا، تو یاد رکھیے دار- اس قاضی کے یہ فیصلہ اس کے لیے اسی طرح ہے جیسے وہ مر گیا ہو بھئی، تو یہ موتِ حکمی کیا ہے، موتِ حکمی کی طرح یہ قضا ہے بھئی۔ تو حکماً اسے کیا شمار کریں گے وہ مر چکا ہے تو اب اس کا مال جو ہے اس کے وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ تو یہ موتِ حکمی ہے قاضی کا جو فیصلہ ہے، اس کے دارالحرب چلے جانے کا کہ یہ بھاگ کر دارالحرب جا چکا قاضی لکھ دیتا ہے، بس یہ لکھتے ہی یہ گویا کہ اس پر، کی موت ہو گئی حکماً، حکماً حقیقتاً تو وہ نہیں مرا۔ زندہ ہے، لیکن یہ کیا ہے موتِ حکمی، اب اس کے جو اس نے حالتِ اسلام میں مال کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ اور عورت اگر مرتد ہو تو آپ نے پڑھا ہے کہ عورت کو قتل نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے قید میں ڈالا جاتا ہے، وہ اس وقت تک قید میں رہے گی جب تک وہ کفر کو چھوڑ کر پھر اسلام میں نہ آجائے۔ تو اگر مرتد ہونے والی عورت ہے تو پھر اس صورت میں اس کا وہ مر گئی یا دارالحرب چلی گئی، تو اس کا جو مال ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گا، چاہے حالتِ اسلام میں وہ مال تھا اس کے پاس، چاہے کچھ مال حالتِ کفر میں حاصل ہوا، سارا کا سارا کس کو مل جائے گا اس کے مسلمان وارثوں کو بھئی۔ تو مرد ہو مرتد ہونے والا تو حالتِ کفر میں جو کمایا وہ کہاں داخل ہوگا؟ بیت المال۔ اور عورت ہو تو پھر بیت المال میں نہیں بلکہ سارا کا سارا کس کو ملے گا؟ وارثوں کو ملے گا۔ واختلاف الدینین اور دینوں کا اختلاف، واختلاف الدارین اور دو داروں کا اختلاف یعنی دو ملک اور سلطنتوں کا اختلاف۔ بھئی اگر وارث اور مورث الگ الگ ملک میں رہتے ہوں الگ الگ ملک میں رہتے ہوں، اور ان ملکوں کا آپس میں کوئی معاہدہ صلح وغیرہ نہ ہو، بلکہ وہ اکثر آپس میں بر سرِ پیکار رہتے ہوں، حالتِ جنگ میں رہتے ہوں بھئی، تو یاد رکھیے اس صورت میں، تو بر سرِ او حالتِ جنگ میں رہتے ہوں، اکثر ان میں جنگیں رہتی ہیں، ان میں کوئی تعلق وغیرہ نہیں ہے، تو پھر اس صورت کے اندر ایک ایک ملک میں ہے، دوسرا دوسرے ملک میں ہے، تو وارث محروم ہوگا بھئی۔ ان دو ملکوں میں آپس میں جنگیں ہیں۔ لیکن یاد رکھیے یہ اختلاف دارین، یہ مانع ہے صرف کفار کے لیے۔ کس کے لیے مانع ہے؟ بھئی باپ اور بیٹا دونوں عیسائی ہیں، بیٹا ہے مثلاً ایک ملک میں اور باپ ہے دوسرے ملک میں تو دونوں کافر ہیں، اور اب اختلاف دار کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کی وراثت سے محروم۔ لیکن اگر مسلمان ہوں، پھر اختلاف دار مانع نہیں بھئی دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی۔ تو اختلاف دار مانع ہے صرف کس کے حق میں؟ کفار کے حق میں مسلمانوں کے حق میں نہیں اور میں نے بتایا کہ دو دار ایسے ہوں کہ ان میں وہ حالتِ جنگ میں رہتے ہوں، اکثر ان میں جنگیں ہوتی رہتی ہیں، ان میں آپس میں کسی قسم کا کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہے بھئی، معاہدہ نہیں ہے۔ اور آج کل تو تقریباً تمام ممالک میں معاہدے وغیرہ موجود ہوتے ہیں، سفیر موجود ہوتے ہیں ایک دوسرے ممالک ایک ملک کا ایک میں دوسرے میں دوسرا دوسرے کا، تو لہذا اب پھر مانعِ میراث یہاں نہیں آئے گا، اگر آپس میں معاہدہ ہے، تعلق ہے، جنگیں نہیں ہیں ان کی آپس میں، تو پھر پھر کفار کے حق میں بھی یہ مانع نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مانع نہیں ہے۔ معاہدہ ہے آپس میں، صلح ہے، تعلق ہے۔ سمجھ میں آیا؟ سفیر ایک دوسرے ایک ملک کا ایک میں ہوتا ہے اور اس ملک کا اس ملک میں سفیر ہوتا ہے، آپس میں تعلق ہوتا ہے، لوگ آتے جاتے ہیں، اور میں جو صورت ذکر کر رہا ہوں کہ وہ اس طرح آپس میں جنگیں رہتی ہیں، دشمنی ہے آپس میں زبردست قسم کی، کوئی تعلق وغیرہ نہیں ہے بھئی، اور یہ صرف میں نے بتایا کفار کے حق میں ہے، مسلمانوں کے حق میں نہیں، اگر ایک مسلمان دارُ الاسلام میں ہے، اور دوسرا وہ دارُ الحرب کے اندر رہتا ہے، تو پھر بھی ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی، وارث بنیں گے۔ تو کہتے ہیں دیکھیے کتاب پر بھئی، واختلافُ الدارین اور دو داروں کا اختلاف، اماً حقیقتاً، پھر یہ اختلاف یا تو حقیقتاً ہوگا، کل حربی والذمی جیسے کہ حربی اور ذمی، حربی کسے کہتے ہیں؟ جو دارُ الحرب میں رہتا ہے، اور ذمی کسے کہتے ہیں؟ جو دارُ الاسلام میں رہتا ہے اور جزیہ دیتا ہے، تو دیکھیے اب ایک حربی ہے دارُ الحرب میں رہتا ہے اور ایک دارُ الاسلام میں رہتا ہے، تو یہاں پر اختلافِ دار حقیقتاً ہے بھئی، حقیقتاً دونوں کا دار الگ الگ ہے، ایک کا دارُ الحرب اور ایک کا دارُ الاسلام، او حکماً یا کبھی یہ اختلافِ دارین جو ہے حکماً ہوتا ہے، کل مستأمن والذمی جیسے مستأمن اور ذمی، مستأمن کسے کہتے ہیں؟ وہ حربی جو امان لے کر آپ کے ملک میں آیا دارُ الاسلام کے اندر آیا تو یہ مستأمن کہلاتا ہے اور تو اب ایک شخص باپ جو ہے دارُ الحرب کا رہنے والا اور بیٹا دارُ الاسلام میں رہنے والا ذمی ہے، تو دارُ الحرب سے باپ آیا امان لے کر دارُ الاسلام کے اندر تو اب یہ ایک بیٹا کیا ہے ذمی اور باپ کیا ہوا؟ مستأمن اب حقیقتاً تو دونوں دار تو حقیقت کے اندر دونوں کا ایک ہی ہے، دونوں کہاں پر موجود ہیں؟ دارُ الاسلام میں، لیکن حکماً دار الگ الگ ہیں مولانا، اب بھی یہی سمجھا جائے گا ایک الگ ملک میں ہے دوسرا، اس لیے کیونکہ مستأمن کو آپ جانتے ہیں کہ اس کو مستقل یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس نے پھر بالاخر لوٹ جانا ہے اپنے ملک بھئی۔ تو کہتے ہیں اور حکماً یہ اختلافِ دار حکماً ہوگا، کل مستأمن والذمی جیسے کہ مستأمن اور ذمی، أو الحربیین من دارین، یا جیسے دو حربی ہوں دو داروں سے، دو حربی ہیں بھئی، ایک ایک دارُ الحرب میں رہتا ہے، دوسرا دوسرے دارُ الحرب میں رہتا ہے، تو ان میں بھی اختلافِ دار حقیقتاً ہے، حقیقتاً ہی دونوں کا دار الگ الگ ہے، دو حربی ہیں ایک ایک دارُ الحرب میں رہتا ہے، دوسرا دوسرے میں، تو دونوں کا دار حقیقتاً ہی کیا ہے؟ الگ الگ ہے، تو یہ مثال ہے اس اختلافِ دار کی جو حقیقتاً ہو، لہذا اس عبارت کو مصنف کو کل حربی والذمی کے بعد ذکر کرنا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا، ورنہ شبہ پڑتا ہے کہ شاید یہ کل مستأمن والذمی کی طرح ہے اور ان میں حکماً دار مختلف ہے، حالانکہ ایسا نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں أو الحربیین من دارین مختلفین، یا دو حربی ہوں دو مختلف داروں سے، والدّارُ انّما تختلِف باختلافِ المنعۃ والملک، اور دار جو ہے وہ مختلف ہوتا ہے لشکر کے اور بادشاہ کے مختلف ہونے سے، ہر ایک کا لشکر الگ ہو اور بادشاہ الگ ہو، تو یہ الگ دار ہے، للقطاعِ العصمۃ فیما بینہم، وبوجہ عصمت کے منقطع ہو جانے کے ان کے درمیان بھئی، عصمت یعنی حفاظت، حفاظت کیا ہو جاتی ہے؟ منقطع ہو جاتی ہے، بھئی ایک مملکت والے ہیں تو وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں، دوسری مملکت والے اپنے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں، تو جب یہ شخص اپنے ملک سے نکلا دوسرے کے ملک میں چلا گیا تو اب یہاں پر اس کی عصمت نہ رہی، اس کی حفاظت نہ رہی، اب یہ دوسرے ملک میں ہے، تو یہ معنی للقطاعِ العصمۃ فیما بینہم بوجہ ان میں عصمت کے منقطع ہو جانے کے، عصمت کے منقطع، جی، تو یہ تھا اختلافِ دینین اور اختلافِ دارین بھئی۔ تو اختلافِ دین صرف کس کے اندر معتبر ہے؟ جو مسلمان اور کافر ہوں بھئی، اگر دونوں کافر ہیں، الگ الگ دین بھی ہوں، پھر بھی ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، لہذا کوئی شخص کسی عیسائی عورت سے نکاح کر لیتا ہے کوئی مسلمان بھئی۔ اور تو اس صورت میں یہ میاں بیوی ہیں، لیکن اگر ان میں سے کوئی مرتا ہے، تو ایک مسلمان ہے، کافر ہے، لہذا ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ اسلامی قاضی کے پاس ان کا مقدمہ آئے، اسلامی عدالت میں ان کا مقدمہ آئے، اسی طرح اختلافِ دار جو ہے اس کی وجہ سے بھی کفار اور یہ مؤثر ہے صرف کفار کے بارے میں یہ مانع، تو اگر کفار ایک شخص ایک دار کا رہنے والا ہے، دوسرے دار کا رہنے والا ہے، اور ان میں آپس میں کوئی معاہدہ اور تعلق نہیں ہے اور جنگیں ہوتی رہتی ہیں، دشمنی ہے آپس میں، تو پھر اس صورت میں یہ ورا- یہ مانع بنے گا اختلافِ دار، اور ایک کافر وارث نہیں بن سکے گا دوسرے کافر کا۔ لیکن یہ جب ہے مولانا، کہ جب یہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں لے کر آئیں، تو قاضی یہ فیصلہ کرے گا، قاضی یہ فیصلہ کرے گا کہ بھئی آپ لوگوں کا دار الگ الگ ہے، آپ اس کے وارث نہیں بن سکتے، آپ کو اس کے مال میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ لیکن اب کون اسلامی عدالت میں آتا ہے، نہ وہ آتے ہیں اور نہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں بھئی۔ تو موانع کل کتنے ہوئے؟ چار چار ہو گئے، نمبر ایک غلامی، نمبر دو قتلِ مورث، اور قتلِ مورث مانع بنے گا بشرطیکہ اس قتل سے کیا آتا ہو؟ قصاص یا کفارہ، قصاص یا کفارہ، قصاص یا کفارہ ہو اس قتل کے اندر، اس قسم کا قتل پایا گیا اور وارث نے مورث کو قتل کیا ہے تو پھر مانع بنے گا ورنہ مانع نہیں بنے گا بھئی۔ اور اختلافِ دین اور اختلافِ دار، جو آج آپ نے پڑھ لیا ہے بھئی، چلیے بس بھئی، واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
92 approved lectures · 9 of 92