Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، یہ ضابطہ بیان ہو چکا کہ اگر مسئلے کے اندر ثلثِ ما بقیہ آئے، تو اس کا لحاظ نہیں رکھنا بھئی۔ مسئلہ بناتے وقت بھئی، مسئلہ بناتے وقت اس کا لحاظ نہیں رکھنا تو اب چند مثالیں اس کے مطابق بھئی ہم کر لیتے ہیں۔ ماں کے احوال میں کچھ صورتیں آئیں تھیں، ماں کی ایک حالت تھی، جس میں ماں کو ثلثِ ما بقیہ ملتا تھا بھئی۔ وہ دو چار مثالیں ہم کر لیتے ہیں۔ لکھیے بھئی مثال نمبر کون سی ہے؟ مثال نمبر 105 میت بنائیے اسی طرح۔ میت بنا لی بھئی؟ جی۔ نیچے وارث لکھیے زوج زوج (یعنی خاوند) اور ام (یعنی ماں) اور اب (یعنی باپ) یہ وارث ہیں: زوج، اب، اور ام بھئی۔ مسئلہ لکھتے وقت بھئی ترتیب بھئی، عصبہ آخر میں لکھتے ہیں۔ عصبہ آخر میں لکھتے ہیں بھئی۔ تو زوج کے بعد ام لکھیے، اس کے بعد اب لکھیے بھئی۔ اب دیکھیے یہاں پر اولاد نہیں ہے، اولاد نہ ہو تو زوج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے۔ اور باپ کو کتنا ملے گا؟ باپ عصبہ بنے گا جب اولاد نہ ہو۔ اور ماں کو کتنا ملے گا؟ ثلثِ ما بقیہ ملے گا بھئی، ثلثِ ما بقیہ۔ اور ثلثِ ما بقیہ کا تو مسئلہ بنانے میں اعتبار نہیں کرنا، تو گویا ہمارے پاس صرف کون سا حصہ ہے اس وقت؟ نصف ہے۔ آپ نے پڑھا ایک ہی حصہ ہو تو اسی کے ہم نام عدد سے کیا کیا جاتا ہے؟ مسئلہ بناتے ہیں، تو نصف کا ہم نام تو کوئی نہیں، البتہ اس کا معین و مددگار عدد کون سا ہے؟ دو ہے، تو دو سے مسئلہ بنائیے بھئی۔ دو اوپر لکھیے۔ دو میں سے نصف زوج کو دیں گے، دو کا نصف کتنا؟ ایک۔ ایک زوج کے نیچے لکھ لیجیے۔ جی، اور اس کے بعد باقی کتنا بچا؟ ایک۔ تو ایک جو ہے اس کا ثلث (یعنی یہ ما بقیہ کا ثلث، یہ ماں کا حصہ ہے)، تو وہ کتنا بنے گا؟ 1 بٹا 3 بھئی، 1 بٹا 3 یہ ماں کا حصہ اور باقی باپ عصبہ ہونے کی وجہ سے لے لے گا، تو ایک میں سے 1 بٹا 3 نکالیں گے تو کتنا باقی بچے گا؟ 2 بٹا 3، یعنی 2 ثلث، تو باپ کے نیچے 2 بٹا 3 لکھ لیں بھئی۔ اب دیکھیے دو جگہ کسر آ رہی ہے، باپ کے حصے میں بھی 2 بٹا 3 ہے، اور ماں کے حصے میں بھی کسر ہے، 1 بٹا 3 ہے بھئی۔ تو اب کیا کریں گے؟ ہاں، نیچے جو ہے 2 بٹا 3 اور 1 بٹا 3 میں نیچے 3 ہے، تو اسی عدد سے سارے مسئلہ کو ضرب دے دیں گے، ان کے حصوں کو بھی ضرب دے دیں گے، تو مسئلہ کی تصحیح ہو جائے گی بھئی۔ ماں کا حصہ ہے 1 بٹا 3، اس کو 3 کے ساتھ ضرب دی تو کیا آیا؟ 1 آیا، تو ماں کا جو حصہ ہے 1 بٹا 3، اس کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ باپ کا حصہ ہے 2 بٹا 3، اس کو بھی 3 سے ضرب دی کسر کو ختم کرنے کے لیے تو کیا جواب آیا؟ 2، تو باپ کا جو حصہ ہے 2 بٹا 3، اس کے نیچے اب 2 لکھ لیں۔ اب 3 سے مسئلے کو بھی ضرب دیں گے، زوج کے حصے کو بھی ضرب دیں گے، اوپر مسئلہ بنایا تھا 2 سے، اس کو بھی 3 سے ضرب دی، کیا جواب آیا؟ 6، تو تصحیح کی طاق لکھیے، اس پر 6 لکھ لیجیے۔ زوج کا حصہ ہے 1، تو اس کو بھی 3 سے ضرب دی، تو 3 آیا، تو زوج کا جو ایک حصہ ہے، اس کے نیچے 3 لکھ لیجیے، یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 106۔ میت بنائیے اسی طرح۔ میت کے نیچے لکھیے زوجہ۔ آگے لکھیے ام (یعنی ماں)۔ اور تیسرے نمبر پر لکھیے اب (یعنی کہ باپ) بھئی، اردو میں لکھیں یا عربی میں، جس طرح آپ کو آسانی ہو۔ اب دیکھیے بھئی وارث صرف یہ تین ہیں، زوجہ ہے اور ام ہے اور اب ہے، زوجہ، اولاد تو ہے نہیں مرنے والے کی، تو اس صورت میں زوجہ کو کتنا ملتا ہے؟ ربع ملتا ہے۔ اور ماں کو کتنا ملے گا؟ کیونکہ زوجہ اور اب جمع ہیں، اور اس صورت میں ماں کو ثلثِ ما بقیہ ملتا ہے، جی، اور ثلثِ ما بقیہ کا تو مسئلہ بنانے میں اعتبار نہیں کرنا، اور باپ جو ہے وہ تو عصبہ ہے، تو ہمارے پاس صرف ایک ہی حصہ ہے، اور وہ کون سا؟ ربع، تو اسی کے ہم نام عدد (یعنی اربعہ سے، یعنی چار سے) مسئلہ بنائیں گے بھئی، چار سے مسئلہ بنائیے۔ چار کا چوتھا حصہ ہے (یعنی ربع دینا ہے زوجہ کو)، وہ کتنا ہوا؟ ایک. ما بقیہ کتنا بچا؟ تین. اس تین کا ثلث دینا ہے ماں کو۔ تین کا ثلث تیسرا حصہ کتنا؟ ایک؟ تو وہ ماں کا حصہ اور ما بقیہ وہ باپ عصبہ ہونے کی وجہ سے لے گا۔ تین میں سے ایک ماں کو دیا، تو باقی کتنے بچے؟ دو وہ باپ کا حصہ بھئی تو اب کے نیچے دو لکھ لیجیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، اس کے بعد ماں کے احوال میں یہ آپ نے پڑھا کہ اگر باپ کی جگہ دادا ہو، اگر باپ کی جگہ دادا ہو، تو ماں کو ثلثِ جمیع المال ملتا ہے بھئی۔ کیا ملتا ہے؟ ثلثِ جمیع المال ملتا ہے ہمارے نزدیک بھئی۔ تو اس کی بھی صورت بنا لیں بھئی۔ یہاں پہلے تو ہم نے ثلثِ ما بقیہ دیا تھا بھئی۔ اب مثال نمبر 107 لکھیے بھئی۔ میت بنائیے اسی طرح، اس کے نیچے زوج لکھیے۔ ام (یعنی ماں) اور آخر میں جد لکھیے بھئی، جد، دادا۔ اچھا، بھئی زوج ہے ایک وارث، ایک ماں ہے، ایک دادا ہے۔ اولاد نہ ہو تو زوج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے. اچھا، اور ماں کو دادا جب ساتھ ہو باپ کے بجائے تو ماں کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثِ الكل ملے گا، کیا ملے گا؟ ثلثِ الكل ملے گا بھئی، طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ اور دادا وہ عصبہ بنے گا، تو ہمارے پاس دو حصے آگئے، ایک نصف جو نوع اول میں سے ہے، اور ایک ثلث جو نوع نصف نوع اول میں سے، اور ثلث نوع ثانی میں سے، تو نوع نصف جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ، تو اس صورت میں مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بناتے ہیں، چھ سے بنائیے مسئلہ، چھ اوپر لکھیے، چھ کا نصف کتنا؟ تین. یہ زوج کو ملے گا، زوج کے نیچے تین لکھیے۔ چھ کا ثلث کتنا؟ دو ہے، تو ماں کا حصہ دو ہوا، ماں کے نیچے دو لکھیے بھئی۔ اچھا، چھ میں سے تین زوج کو ملے، دو ام کو مل گئے، تین اور دو پانچ، چھ میں سے پانچ نکل گئے، باقی کتنا بچا؟ ایک یہ ایک جد کا حصہ ہے بھئی، تو جد کے نیچے ایک لکھ لیجیے، یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 108۔ اسی طرح مسئلہ بنانا ہے لیکن اب زوج کی جگہ لکھیے زوجہ۔ میت کے نیچے زوج کے بجائے زوجہ لکھیے بھئی۔ زوجہ، ام اور جد، یہ تین وارث ہیں۔ زوجہ، ام اور جد۔ اچھا، زوجہ اولاد نہ ہو تو زوجہ کو کتنا ملتا ہے؟ ربع ملتا ہے۔ اچھا، اور ماں کو کتنا ملنا ہے؟ ثلثِ الكل ملنا ہے، اور دادا تو عصبہ ہے، تو نوع اول میں سے ربع آگیا اور وہ جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ، تو ربع جب نوع ثانی کے ساتھ جمع ہو، مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ بارہ سے۔ بارہ سے مسئلہ بنائیے۔ بارہ کا چوتھا حصہ بیوی کو دینا ہے، چوتھا حصہ کتنا بارہ کا؟ تین ہے بھئی۔ چار سے بارہ کو تقسیم کیجیے، تو تین آجائے گا، یہ زوجہ کا حصہ بھئی۔ تین لکھیے زوجہ کے نیچے، ماں کو کتنا حصہ دینا ہے؟ ثلث دینا ہے، تیسرا حصہ، تو بارہ کے تین حصے کریں، ایک میں کتنا آئے گا؟ چار، تو ماں کے نیچے چار لکھیے۔ اور تو زوجہ کو ملے تین، اور ماں کو ملے چار، تین اور چار سات، بارہ میں سے سات نکال دیے، کتنے آگئے؟ باقی بچے پانچ، پانچ یہ جد کا حصہ ہے، تو یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ یہ تو تھا مذہب طرفین کا۔ طرفین کا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر باپ کی جگہ دادا آئے تو ماں کو کیا ملتا ہے؟ ثلثِ ما بقیہ ہی ملتا ہے بھئی، کتنا ملتا ہے؟ ثلثِ ما بقیہ ہی ملتا ہے، جیسے باپ کے ہوتے ہوئے ثلثِ ما بقیہ ملتا تھا، تو دادا کے ہوتے ہوئے بھی کتنا ملے گا ان کے نزدیک؟ ثلثِ ما بقیہ ہی ملے گا، تو یہ مثال نمبر 105 اور 106 بھی عین یہی صورت بنے گی، کوئی فرق نہیں آئے گا، صرف باپ کی جگہ لفظ کاٹ کر کیا لکھتے ہیں لکھیں، جد لکھیں، باقی ساری یہی صورت بنے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح بھئی؟ وہاں بھی بھئی مثال نمبر 105 کے اندر بھی باپ کے ساتھ وہ پھر ماں کا حصہ کتنا بنا تھا؟ ثلثِ ما بقیہ۔ 106 میں بھی اسی طرح ثلثِ ما بقیہ۔ اچھی طرح بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 64 of 92