Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 35
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بی، ہم تصحیح کی مثالیں حل کر رہے تھے۔ کتنی مثالیں ہوئیں؟ 57 ہو چکی ہیں، بھئی۔ اگلی مثال لکھیے، بھئی۔ مثال نمبر 58۔ مثال نمبر 58۔ اسی طرح میت بنائیے، بھئی۔ زوجات چار ہیں۔ زوجات چار، جدات 15، بنات 18، اعمام یعنی چچا چھ۔ چچا چھ ہیں۔ بھئی، زوجات کو جب اولاد ہو تو کتنا دیتے ہیں؟ ثمن۔ بیٹیاں ہیں تو ثمن دیں گے۔ یرحمک اللہ۔ جدات کو سدس دیا جاتا ہے۔ تو، اور بنات دو یا زیادہ ہوں تو ثلثان۔ تو سدس اور ثلثان نوع ثانی میں سے ہیں اور ثمن جو زوجات کا حصہ ہے وہ نوع اول سے۔ ثمن جب بھی نوع ثانی کے ساتھ جمع ہو جائے تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ 24 سے۔ تو 24 سے مسئلہ بنائیے، اوپر لکھیے 24۔ 24 کا اٹھواں حصہ دینا ہے زوجات کو، اس کو 24 کو اٹھ سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ تین۔ تو تین یہ زوجات کا حصہ، زوجات کے نیچے تین لکھیے، بھئی۔ 24 میں سے سدس یعنی چھٹا حصہ جدات کو دینا ہے، 24 کو چھ سے تقسیم کیجیے۔ چار۔ تو جدات کا حصہ چار ہوا، جدات کے نیچے چار لکھیے۔ بیٹیوں کا حصہ دو ثلث ہے۔ تو 24 کے تین حصے کریں، تین سے تقسیم کریں، کیا جواب آیا؟ اٹھ۔ یہ ایک ثلث ہے، اٹھ۔ دو ثلث دینے ہیں ہم نے، یعنی 16۔ بیٹیوں کے نیچے 16 لکھ دیجیے۔ تو زوجات کا حصہ ہوا تین، جدات کا ہوا چار۔ تین اور چار، سات۔ اور 16 بیٹیوں کا حصہ۔ سات اور 16، 23 ہو گیا۔ کل کتنے ہیں؟ 24۔ 24 میں سے 23 نکالے، ایک رہ گیا، تو یہ چچاؤں کا حصہ ایک ہوا۔ الحمد للہ۔ یرحمک اللہ۔ اب دیکھیے، بھئی، عدد رؤوس ہم ذرا الگ الگ لکھتے ہیں، کسر کہاں آ رہی ہے؟ زوجات چار ہیں، حصے ہیں تین، یہاں بھی کسر۔ جدات 15، حصے چار، یہاں بھی کسر۔ بنات 18، حصے 16، یہاں بھی کسر۔ چچا چھ، حصہ ایک، یہاں بھی کسر۔ تو چاروں جگہ کسر ہے، تو ان سب کے عدد رؤوس اب ہم الگ لکھیں گے، بھئی۔ زوجات چار ہیں، حصے ملے تین۔ چار اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین کی، تو چار کو اسی طرح لکھ لیں گے، یہ پہلا عدد رؤوس۔ جدات ہیں 15، حصے ملے چار۔ 15 اور چار میں کون سی نسبت؟ تباین، تو لہٰذا یہ 15 بھی اسی طرح ہم لکھ لیں گے، یہ دوسرا عدد رؤوس ہے۔ بنات ہیں 18 اور حصے ہیں 16۔ ان میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ کس بڑے سے بڑے عدد سے یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو کے ذریعے، بھئی۔ تو دو کے ذریعے عدد رؤوس 18 کو تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ نو۔ یہ تیسرا عدد رؤوس آ گیا، بھئی، نو۔ اور چچا ہیں چھ، حصہ ایک، تو یہاں چھ اسی طرح لکھ لیں گے۔ تو ہمارے پاس چار عدد رؤوس آ گئے، بھئی: چار، 15، نو اور چھ۔ اب ان میں آپس میں نسبتیں دیکھیے، بھئی۔ سب سے پہلے کس کو دیکھ لیں؟ چھوٹوں کو دیکھ لیں، بھئی، چار اور چھ۔ چار اور چھ میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ تو ایک کے پورا، ایک کو پورا رکھیں اور دوسرے کا وفق نکال لیں۔ کس سے یہ دونوں تقسیم ہوتے ہیں؟ دو سے۔ تو ایک یعنی چھ کو دو سے تقسیم کرا، تین آ گیا۔ اور دوسرے چار کو اسی طرح پورا رکھا۔ چار تیا 12۔ 12 اور اگلا عدد رؤوس 15 کو دیکھ لیں۔ 12 اور 15 میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ تو ایک کو پورا رکھیں، ایک کا وفق نکال لیں، بھئی۔ 15 کو پورا رکھیں، کس سے، یہ دونوں تقسیم کس سے ہوتے ہیں؟ تین سے۔ 15 کو پورا رکھیں اور 12 کو تین سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ چار۔ تو 15 کو چار سے ضرب دے دی، 15 چوکے 60، بھئی۔ اس کے بعد اگلا عدد رؤوس کیا ہے؟ نو۔ نو اور 60 میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ یہ دونوں تین کے ذریعے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو 60 کو اسی طرح رکھیں اور نو کو تین سے تقسیم کر دیں، کیا جواب آیا؟ تین۔ تو 60 کو اس تین سے ضرب دے دیں، کیا آیا؟ 180۔ یہ آ گیا مضروب ہمارے پاس۔ اس 180 سے اب اصل مسئلہ یعنی 24 کو ضرب دے دیں گے۔ 180 کو ذرا 24 سے ضرب دیجیے، بھئی۔ 4320۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، بھئی۔ تا لکھیے اور اس پر 4320 لکھیے، بھئی۔ جی، مضروب کیا تھا؟ 180۔ اسی سے اب نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ زوجات کے حصے ہیں تین، اس تین کو 180 سے ضرب دی، کیا جواب آیا؟ 540۔ تو تین کے نیچے 540 لکھیے۔ جدات کے حصے چار ہیں، ان کو بھی 180 سے ضرب دیجیے، کیا جواب آیا؟ 720۔ چار کے نیچے 720 لکھ لیجیے۔ بنات کے حصے ہیں 16، اس کو بھی 180 سے ضرب دیجیے۔ 2880۔ تو بنات کے حصے 16 جو ہیں، 16 کے نیچے لکھ لیجیے 2880۔ چچاؤں کا حصہ ہے ایک، اس کو 180 سے ضرب دی تو 180 ہی آیا، تو ایک کے نیچے لکھ لیجیے 180، بھئی۔ تو یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب دیکھیے، بھئی، زوجات کتنی؟ چار۔ حصے کتنے ملے؟ 540۔ ایک ایک زوجہ کا کتنا حصہ ہوگا، کیا کریں گے؟ عدد رؤوس سے ان حصوں کو تقسیم کر دیں گے، یعنی 540 کو چار سے تقسیم کیجیے۔ 135۔ یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ نکل آیا۔ جدات ہیں 15 اور حصے ملے 720۔ 720 کو اب 15 سے تقسیم کیجیے۔ 48۔ ہاں، تو ایک ایک جدہ کا حصہ 48 نکل آیا۔ بنات ہیں 18 اور حصے ملے 2880۔ تو 2880 کو 18 سے تقسیم کیجیے۔ 160۔ تو ایک ایک بیٹی کا حصہ 160 ہوا۔ چچا ہیں چھ، حصے ملے 180۔ تو 180 کو چھ سے تقسیم کیجیے۔ 30۔ تو ایک ایک چچا کا حصہ 30 ہوا۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، پورا حل ہو گیا، بھئی۔ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 59۔ مثال نمبر 59۔ اسی طرح میت بنائیے۔ زوجات ہیں چار، بنات ہیں 35، بھئی۔ بنات ہیں 35۔ جدات ہیں نو، بھئی۔ جدات نو۔ اعمام یعنی چچا جو ہیں 63 ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ویسے ہی مشق کرنا مقصد ہے، بھئی۔ تو چچا کتنے ہیں؟ 63 ہیں، بھئی۔ کوئی بہت ہی بڑی فیملی ہے، بھئی۔ اچھا، زوجات اولاد ہو تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثمن۔ بنات کو کتنا ملتا ہے؟ دو یا زیادہ ہوں تو ثلثان۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ اور چچاؤں کو؟ وہ عصبہ ہیں۔ تو نوع اول میں سے ثمن آیا اور باقی نوع ثانی کے ہیں۔ ثمن جب جمع ہو جائے نوع ثانی سے یہ ساتھ تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ 24 سے۔ تو 24 سے مسئلہ بنائیے، بھئی۔ 24 میں سے اٹھواں حصہ دینا ہے زوجات کو۔ 24 کا اٹھواں حصہ کتنا ہوگا؟ اٹھ سے تقسیم کریں 24 کو۔ تین آیا، زوجات کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ بنات کو دو ثلث دینے ہیں۔ تو ایک ثلث پہلے نکالیں 24 کا، تین سے تقسیم کریں 24 کو، کیا جواب آیا؟ اٹھ۔ یہ ایک ثلث ہے۔ دو ثلث دینے ہیں، تو 16۔ بنات کے نیچے 16 لکھ لیجیے۔ جدات کو چھٹا حصہ دینا ہے، تو چھ سے 24 کو تقسیم کیجیے۔ کیا جواب آیا؟ چار۔ جدات کے نیچے چار لکھیے۔ اب دیکھیے، زوجات کو ملا تین، بیٹیوں کو ملا 16۔ 16 اور تین، 19۔ اور جدات کو ملا چار، تو 19 اور چار، 23۔ 24 میں سے 23 حصے ان سب کو مل گئے۔ باقی کتنا بچا؟ ایک۔ وہ چچاؤں کو مل گیا، تو ان کے نیچے ایک لکھیے، بھئی۔ اچھا، اب بھئی، عدد رؤوس ذرا ہم الگ نکالتے ہیں۔ دیکھیے، زوجات ہیں چار، حصے ملے تین۔ یہاں کسر آ رہی ہے، تو تین اور چار میں کون سی نسبت؟ تباین کی، لہٰذا چار پورا لکھ لیں، یہ پہلا عدد رؤوس آیا ہمارے پاس۔ بنات ہیں 35، حصے ملے 16۔ ان میں کون سی نسبت؟ یہاں تباین کی نسبت ہے، تو یہاں بھی 35 پورا لکھ لیں گے، یہ دوسرا عدد رؤوس آیا۔ جدات ہیں نو، حصے ملے چار۔ یہاں بھی کسر آ رہی ہے، تو نو اور چار میں کون سی نسبت؟ تباین کی، تو یہاں نو پورا لکھ لیں گے، یہ تیسرا عدد رؤوس ہے۔ چچا ہیں 63، حصہ ملا ایک۔ تو یہاں بھی کسر آ رہی ہے، تو یہاں بھی 63 پورا لکھ لیں گے، یہ چوتھا عدد رؤوس آ گیا۔ تو کتنے عدد رؤوس آئے ہمارے پاس؟ چار۔ پہلا ہے چار، دوسرا 35، تیسرا نو، چوتھا 63۔ اب کوئی سے دو میں نسبت دیکھیے۔ پہلے چھوٹوں میں دیکھ لیجیے، پھر بڑوں کی طرف جاتے ہیں۔ پہلے چار اور نو۔ چار اور نو میں کون سی نسبت؟ تباین کی۔ تو ان کو آپس میں ضرب دے دیں گے۔ چار نم، چار نم 36، بھئی۔ اب اگلے کے ساتھ دیکھیے۔ 36 اور 35 میں کون سی نسبت ہے؟ یہاں بھی تباین ہے۔ تو 36 کو 35 سے ضرب دے دیجیے۔ 1260۔ اب 1260 اور 63 میں نسبت دیکھیے، بھئی۔ تداخل ہے؟ 1260 کو آپ پہلے سب سے پہلے تو اسی سے تقسیم کریں، 63 سے تقسیم کریں، اگر ہو جاتا ہے تو تداخل کی نسبت ہوگی۔ پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے؟ معلوم ہوا 63 اور 1260 میں تداخل کی نسبت ہے۔ پھر کیا کرتے ہیں یہاں پر؟ بڑے عدد کو لے لیتے ہیں بس۔ تو 1260 یہ ہوا مضروب۔ اس کے ساتھ اصل مسئلہ یعنی 24 کو ضرب دیجیے۔ 30240، یعنی 3، 0، 2، 4، 0۔ 3، 0، 2، 4، 0۔ یہ تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر لکھیے، بھئی: 3، 0، 2، 4، 0، 30240۔ اور جو مضروب تھا، اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں۔ کیا مضروب تھا؟ 1260۔ تو 1260 کو زوجات کے حصے ہیں تین، تین میں 1260 کو ضرب دیجیے۔ 3780۔ یہ زوجات کا جو حصہ ہے تین، اس کے نیچے لکھیے، بھئی، 3780۔ بنات کے حصے ہیں 16، اس کو بھی 1260 سے ضرب دیجیے۔ 20160۔ تو 16 کے نیچے لکھیے 20160، 2، 0، 1، 6، 0۔ جدات کے حصے ہیں چار، اس کو بھی ذرا 1260 سے ضرب دیجیے۔ 5040۔ تو چار کے نیچے 5040 لکھیے، 5، 0، 4، 0۔ چچاؤں کا حصہ ہے ایک، اس کو بھی 1260 سے ضرب دیجیے، تو 1260 ہی آیا۔ تو ایک کے نیچے لکھ لیجیے، بھئی، 1260۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اچھا، زوجات میں سے، زوجات چار ہیں، ان کو 3780 ملا ہے۔ ایک ایک زوجہ کا حصہ نکالنے کے لیے اس کو کس سے تقسیم کریں گے؟ عدد رؤوس یعنی چار سے۔ تو چار سے 3780 کو تقسیم کیجیے۔ 945۔ یہ تو ایک ایک زوجہ کا حصہ ہوا 945۔ بنات ہیں 35، حصے ملے 20160۔ اس کو 35 سے تقسیم کیجیے، بھئی، 20160 کو۔ 576۔ تو یہ ایک ایک بیٹی کا حصہ ہوا۔ جدات ہیں نو، حصے ملے 5040۔ اس 5040 کو نو سے تقسیم کیجیے تو ایک ایک جدہ کا حصہ نکل آئے گا۔ 560۔ یہ ایک ایک جدہ کا حصہ ہے۔ اعمام ہیں 63 اور حصے ملے 1260۔ 1260 کو 63 سے تقسیم کیجیے۔ 20۔ تو یہ ایک ایک چچا کا حصہ نکل آیا 20، بھئی۔ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 60۔ مثال نمبر 60۔ زوجات ہیں دو۔ جدات ہیں پانچ۔ جدات پانچ۔ آگے لکھیے، اب۔ باپ، بھئی۔ اب۔ اور ایک ہی آگے لکھیے، بھئی ہے، اخ، بھئی۔ اخ۔ زوجات دو، جدات پانچ، اب یعنی باپ ہے اور ایک بھئی ہے، بھئی۔ زوجات، بھئی، جب اولاد نہ ہو، ان کو کتنا حصہ ملتا ہے؟ ربع۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ اچھا، اور باپ، بھئی، باپ کی کون سی حالت ہے یہ؟ یہ تیسری حالت ہے۔ عصبہ محض بنے گا، کیونکہ اولاد کوئی بھی نہیں ہے، تو اب یہ صرف عصبہ بنے گا، بھئی، نہ بیٹے ہیں نہ بیٹیاں ہیں۔ تو لہٰذا، تو دیکھیے، نوع اول میں سے کیا آیا؟ ربع۔ نوع ثانی میں سے کیا آیا؟ ہاں بھئی بھی تو رہ گیا۔ بھئی بھئی، اس کا وہ کیا بنے گا؟ جی؟ بتائیے بھئی، پتہ چلے گا اب بھئی۔ جی؟ کیوں؟ شاباش بھئی، بھئی محروم ہوگا کیونکہ اس نے کیا بننا تھا؟ عصبہ۔ اور جب درمیان کا واسطہ موجود ہے، تو ذوالواسطہ ساقط ہو جاتا ہے۔ بھئی کے ساتھ رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ باپ کے واسطے سے ہے، تو باپ جب خود موجود ہے تو بھئی کیا ہوگا؟ محروم۔ تو بھئی کے نیچے 'م' لکھ لیجیے بھئی محروم، یہ 'م' محروم کی علامت بھئی۔ اچھا، تو زوجات کو ملے کو ربع مل رہا ہے اور یہ نوع اول میں سے ہے، جدات کو سدس اور باپ ہے عصبہ۔ تو ربع آگیا سدس یعنی نوع ثانی کے ساتھ، تو ربع جب نوع ثانی کے ساتھ آئے مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ جی؟ 12 سے، 12 سے مسئلہ بنائیے۔ 12 کا چوتھا حصہ کتنا بنتا ہے؟ 3، 3 یہ زوجات کا حصہ ہوا ان کے نیچے 3 لکھیے۔ 12 کا چھٹا حصہ کتنا ہوتا ہے؟ 2، جدات کے نیچے 2 لکھیے یہ ان کا سدس ہو گیا۔ تو زوجات کو دیے 3، جدات کو دیے 2، 3 اور 2 پانچ۔ 12 میں سے پانچ نکل گئے کتنے رہ گئے؟ سات، تو باپ کا حصہ ہوا سات بھئی، باپ کے نیچے سات لکھیے بھئی۔ اب دیکھیے کسر کہاں کہاں آ رہی ہے؟ زوجات ہیں 2 حصے ملے 3 یہاں بھی کسر، جدات ہیں 5 حصے ملے 2 یہاں بھی کسر، باپ تو ایک ہی فرد ہے سات حصے مل گئے پورے وہاں کوئی کسر نہیں۔ جی، تو اب یہ صرف دو جگہ کسر ہے ان کو اب ہم نے ختم کرنا ہے۔ تو 2 زوجات ہیں 2 حصے 3، 2 اور 3 میں کون سی نسبت؟ تباین، تو عدد رؤوس 2 لکھ لیجیے الگ۔ جدات ہیں 5 حصے ملے 2، 5 اور 2 میں کون سی نسبت؟ تباین، تو یہاں بھی 5 کو پورا لکھ لیں، تو دو عدد رؤوس آ گئے ہمارے پاس 2 اور 5۔ ان میں کون سی نسبت؟ تباین، ان کو آپس میں ضرب دے دیں گے 5 دونی 10۔ یہ 10 مضروب آ گیا بھئی۔ اب اس 10 کو اوپر جس سے مسئلہ بنایا تھا یعنی 12 اس کے ساتھ ضرب دیں گے، کیا آیا؟ 120، تو 12 کے آگے تصحیح کی 'ت' لکھیے اور اس پر 120 لکھ لیجیے بھئی۔ مضروب کتنا ہے؟ 10، اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے، زوجات کے حصے ہیں 3 اس کو ضرب دی 10 سے، 10 3 10 تیا 30 بھئی، 3 کے نیچے 30 لکھیے۔ جدات کے حصے 2 ہیں اس کو بھی 10 سے ضرب دی 20 بنا، 2 کے نیچے 20 لکھیے۔ باپ کے حصے ہیں 7، 7 کو بھی 10 سے ضرب دی کتنا آیا؟ 70، 7 کے نیچے 70 لکھ لیجیے۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب ایک ایک کا کتنا حصہ؟ زوجات ہیں 2 حصے ملے 3 بھئی، حصے ملے 30 بھئی۔ تو کتنا ایک ایک زوجہ کا حصہ؟ 30 کو 2 سے تقسیم کیا 15، یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ۔ جدات 5 ہیں حصے ملے 20، تو کیا کریں گے؟ اس 20 کو عدد رؤوس یعنی 5 سے تقسیم کیا، تو کتنا آیا جواب؟ 4، یہ ایک ایک جدہ کا حصہ ہوا۔ اور وہ باپ کے تو سارے 70 حصے وہ ایک اکیلا فرد ہے۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 61 بھئی۔ مثال نمبر 61، اسی طرح میت بنائیے۔ زوجات ہیں 3 بھئی، زوجات ہیں 3۔ بنات ہیں 9، بنات ہیں 9۔ اعمام یعنی چچا ہیں 27، 27۔ جی، بیٹیاں موجود ہیں، جب اولاد موجود ہو تو زوجات کو کتنا دیتے ہیں؟ ثمن اٹھواں حصہ، یہ نوع اول میں سے۔ بیٹیوں کو کتنا؟ ثلثان، یہ نوع ثانی میں سے، اور چچا تو عصبہ بنیں گے۔ تو ثمن آیا نوع ثانی کے ساتھ، مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ ثمن آیا نوع ثانی کے ساتھ، 24 سے مسئلہ بنے گا جی، اوپر 24 لکھیے۔ 24 کا اٹھواں حصہ کتنا؟ 8 سے تقسیم کیا تو 3 آیا، یہ ثمن ہے۔ زوجات کے نیچے 3 لکھیے بھئی۔ بنات کو دو ثلث دینے ہیں، تو 24 کا ثلث تیسرا حصہ کتنا ہوا؟ 8، اور دو ثلث 16، تو بنات کے نیچے 16 لکھیے۔ زوجات کو حصے دیے 3 اور بنات کو دیے 16، 16 اور 3 کتنے ہو گئے؟ 19، 24 میں سے 19 نکال دیے کتنے رہ گئے؟ 5، تو یہ چچاؤں کا حصہ ہوا اعمام کے نیچے 5 لکھیے۔ اب دیکھیے کسر کہاں کہاں آ رہی ہے؟ زوجات ہیں 3 حصے بھی کتنے ملے؟ 3، یہاں کسر ہے؟ یہاں کسر نہیں اس کو چھوڑ دیں، بنات ہیں 9 حصے ملے 16 یہاں بھی کسر، چچا ہیں 27 حصے ملے 5 یہاں بھی کسر، دو جگہ کسر آ رہی ہے بس۔ اب دیکھیے بنات ہیں 9 حصے ملے 16، 9 اور 16 میں کون سی نسبت؟ تباین ہے، تو 9 کو پورا لکھ لیں ایک طرف، یہ پہلا عدد رؤوس ہمارے پاس آیا۔ اعمام ہیں 27 حصے ملے 5، 27 اور 5 میں کون سی نسبت؟ تباین، تو 27 کو بھی پورا لکھ لیجیے یہ دوسرا عدد رؤوس ہے۔ تو دو عدد رؤوس آ گئے ہمارے پاس، ایک 9 اور ایک 27۔ 9 اور 27 میں اب نسبت دیکھیں کون سی نسبت؟ جی؟ تداخل ہے، 27 9 سے پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے، تو اس تداخل کی صورت میں کیا کرتے ہیں؟ صرف بڑے عدد کو لے لیتے ہیں، تو 27 کو ہم نے لے لیا، یہ ہے مضروب بھئی۔ اس کے ساتھ اب اصل مسئلہ یعنی 24 کو ضرب دیجیے 27 سے بھئی۔ 648 بھئی، تو 24 کے ساتھ آگے تصحیح کی 'ت' لکھیے اور اس پر 648 لکھ لیجیے۔ مضروب کیا تھا؟ 27، اسی سے نیچے زوجات کے حصے ہیں 3 اس کو بھی ضرب دیجیے بھئی، 27 تیا 81، 3 کے نیچے 81 لکھ لیجیے بھئی۔ بنات کے حصے ہیں 16، اس کو بھی 27 سے ضرب دیجیے۔ 432، 16 کے نیچے 432 لکھ لیجیے۔ چچاؤں کے حصے ہیں 5، اس کو بھی 27 سے ضرب دیجیے۔ 135 بھئی، تو 5 کے نیچے 135 لکھ لیجیے۔ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب ایک ایک کا حصہ بھی نکالنا ہے بھئی، زوجات ہیں 3 حصے ملے 81، ایک ایک زوجہ کا حصہ کیسے نکالیں گے؟ 81 کو عدد رؤوس یعنی 3 سے تقسیم کیجیے بھئی، 27، ایک ایک زوجہ کا حصہ 27 نکل آیا۔ بنات ہیں 9 حصے ملے 432، تو 432 کو 9 سے تقسیم کیجیے۔ 48، 48 یہ ایک ایک بیٹی کا حصہ آ گیا بھئی 48۔ چچا ہیں 27 حصے ملے 135، اس کو 135 کو 27 سے تقسیم کیجیے۔ 5، تو ایک ایک چچا کا حصہ 5 ہوا، دیکھو ہر جگہ کسر ختم ہو چکی۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 62۔ مثال نمبر 62، میت بنائیے، نیچے لکھیے بنات 40 بھئی، بنات 40، اور آگے لکھیے اعمام چچا 80 بھئی، چچا ہیں 80 بس بھئی۔ اچھا بھئی، بنات کو کتنا دیتے ہیں؟ دو یا زیادہ ہوں تو ثلثان، اور چچا کو؟ وہ عصبہ ہیں، تو صرف ثلثان ایک ہی حصہ آیا، تو اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بناتے ہیں، ثلثان کا ہم نام کیا ہے؟ ثلاثہ یعنی 3، 3 سے مسئلہ بنائیے۔ 3 میں سے دو ثلث دینے ہیں بیٹیوں کو، 3 کا دو ثلث کتنا؟ 2، تو بیٹیوں کے نیچے 2 لکھیے۔ 3 میں سے 2 نکل گئے کتنا رہ گیا؟ 1، تو چچاؤں کے نیچے 1 لکھیے یہ ان کا حصہ ہوا۔ اب دیکھیے بنات ہیں 40 حصے ملے 2 کسر آ رہی ہے، چچا ہیں 80 حصہ ملا 1 یہاں بھی کسر، اب ہم عدد رؤوس نکالتے ہیں۔ جی، بنات 40 حصے ملے 2، 40 اور 2 میں کون سی نسبت؟ تداخل، لیکن تداخل بھی یہاں کس کی طرح؟ توافق کی طرح، دونوں 2 کے ذریعے تقسیم ہو جاتے ہیں، تو 40 کو 2 سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ 20، تو یہ پہلا عدد رؤوس ہے بھئی 20۔ جی، اور چچا ہیں 80 حصہ ملا 1، تو یہاں 80 کو اسی طرح لکھ لیں گے یہ دوسرا عدد رؤوس ہے۔ کیا کیا عدد رؤوس آئے؟ 20 اور 80، 20 اور 80 میں کون سی نسبت؟ تداخل، یہاں پھر کیا کرتے ہیں؟ بڑے عدد یعنی 80 کو لے لیتے ہیں، تو یہی مضروب ہوا، اس سے اصل مسئلہ یعنی 3 سے 3 کو اس سے ضرب دیجیے 80 کے ساتھ بھئی۔ 240، 3 کے آگے تصحیح کی 'ت' لکھیے اور اس پر 240 لکھ لیجیے۔ مضروب کتنا ہے؟ 80، اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے، بنات کے حصے ہیں 2 اس کو 80 سے ضرب دیجیے۔ 160، 2 کے نیچے 160 لکھیے۔ چچاؤں کا حصہ ہے 1 اس کو بھی 80 سے ضرب دی تو 80 ہی آیا، تو 1 کے نیچے 80 لکھ لیجیے۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب بھئی بنات ہیں 40 حصے ملے 160، تو ایک ایک بیٹی کا کتنا حصہ ہوگا کیا کریں گے؟ 160 کو عدد رؤوس یعنی 40 سے کیا کریں گے؟ تقسیم، تو جواب کیا آیا؟ 4، تو یہ ایک ایک بیٹی کا حصہ ہوا 4 بھئی۔ چچا ہیں 80 حصے ملے 80، ہر ایک چچا کا کتنا حصہ؟ ایک ایک ہو گیا بھئی۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 63۔ مثال نمبر 63، اسی طرح میت بنائیے، زوجات ہیں بھئی 4، زوجات 4۔ اخوات عینی یعنی حقیقی بہنیں ہیں 15، حقیقی بہنیں ہیں 15۔ اخیافی بہنیں یعنی اخوات لام یہ ہیں 17۔ یرحمک اللہ۔ اخوات لام یعنی اخیافی بہنیں کتنی ہیں؟ 17۔ آگے علاتی بہن بھئی یعنی اخوات لاب، اخوات لاب، چاہے اردو میں لکھ لیں عربی میں لکھ لیں اخوات لاب چاہے اردو میں لکھ لیں علاتی بہنیں، وہ ہیں 2 بھئی 2 علاتی بہنیں۔ اچھا بھئی، زوجات ہیں 4 اولاد کوئی نہیں، تو کتنا ملتا ہے ان کو؟ ربع ملتا ہے ربع بھئی، یہ نوع اول میں سے آیا۔ حقیقی بہنیں ہیں تو دو یا زیادہ ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان، یہ نوع ثانی میں سے آیا۔ اخیافی بہنیں بھئی دو یا زیادہ ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ ایک ہو تو سدس ملتا ہے دو یا زیادہ ہوں تو ثلث، یہ بھی نوع ثانی میں سے۔ اخیافی بہنیں۔ علاتی بہن بھئی، جی؟ کیوں؟ شاباش شاباش بھئی، علاتی بہنیں محروم ہوں گی کیونکہ حقیقی بہنیں موجود ہیں بھئی۔ تو علاتی بہنوں کے نیچے 'م' لکھ لیجیے محروم کی علامت بھئی۔ اچھا بھئی زوجات کا حصہ کتنا تھا؟ ربع، اور وہ نوع ثانی کے ساتھ آ گیا، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ 12 سے، 12 سے مسئلہ بنائیے اوپر 12 لکھیے۔ 12 کا چوتھا حصہ کتنا ہے؟ 3، یہ ہے زوجات کا حصہ، زوجات کے نیچے 3 لکھیے۔ اچھا، دو ثلث دینا ہے حقیقی بہنوں کو، 12 کا ثلث کتنا؟ 4، اور 4 کو دوگنا کریں دو ثلث 8، تو حقیقی بہنوں کے نیچے 8 لکھ لیجیے یہ ان کا حصہ۔ 12 کا ثلث تیسرا حصہ کتنا؟ 4، یہ اخیافی بہنوں کے نیچے لکھ لیجیے 4۔ دیکھیے بھئی زوجات کو حصہ کتنا ملا؟ 3، حقیقی بہنوں کو کتنا ملا؟ 8، 8 اور 3 11، 11 اور اخیافی بہنوں کو کتنا ملا؟ 4، 11 اور 4 15۔ مسئلہ بنایا تھا 12 سے اور حصے بن گئے 15، تو کیا کریں گے؟ عول کریں گے، عول ہوگا، تو 12 کے آگے عول کی 'ع' لکھیے اور اس پر 15 لکھ لیجیے بھئی، 15 تک عول ہو گیا۔ اب بھئی کہاں کہاں کسر آ رہی ہے؟ زوجات ہیں 4 حصے ملے 3 یہاں بھی کسر، اخوات عینی 15 ہے حصے ملے 8 یہاں بھی کسر، اخوات لاب جو ہیں وہ 17 ہے حصے ملے 4 یہاں بھی کسر، تینوں جگہ کسر ہے۔ اب عدد رؤوس ہم نکالتے ہیں۔ زوجات ہیں 4 حصے ملے 3، 4 اور 3 میں کون سی نسبت؟ تباین، کی 4 کو لکھ لیجیے الگ یہ پہلا عدد رؤوس۔ اخوات عینی ہیں 15 حصے ملے 8، 15 اور 8 میں کون سی نسبت؟ تباین، یہاں بھی 15 بھی پورا لکھ لیجیے یہ دوسرا عدد رؤوس آ گیا۔ اخیافی بہنیں ہیں 17 حصے ملے 4، 17 اور 4 میں بھی کون سی نسبت؟ تباین، تو لہذا 17 تیسرا عدد رؤوس ہے اس کو بھی لکھ لیجیے بھئی۔ اب ہمارے پاس تین عدد رؤوس آ گئے بھئی 4، 15 اور 17۔ 4 اور 15 میں کون سی نسبت؟ تباین، لہذا ان کو آپس میں ضرب دی 15 چوکے 60۔ 60 اور آگے اگلا عدد رؤوس 17 ہے اس میں بھی کون سی نسبت؟ تباین، تو ان کو بھی آپس میں ضرب دے دیں گے 60 کو 17 سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 1020 بھئی، یہ آ گیا ہمارے پاس مضروب 1020 یعنی 1 0 2 0۔ اس 1020 کو اب مسئلہ کس سے بنایا عول کہاں تک ہوا؟ 15، اس 15 کے ساتھ اب اس کو ضرب دے دیں گے بھئی۔ 15300، تو آگے 'ت' تصحیح کی 'ت' لکھیے اور اس پر 15300 لکھ لیجیے، 1 5 3 0 0، 15300۔ مضروب کیا ہے بھئی؟ 1020، اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے، زوجات کے حصے ہیں 3 اس کو 1020 سے ضرب دیجیے بھئی۔ 3060 یعنی 3 0 6 0، یہ لکھ لیجیے 3 کے نیچے 3060۔ اخوات عینی کا حصہ ہے 8 اس کو بھی 1020 سے ضرب دیجیے۔ 8160، تو 8 کے نیچے 8160 لکھیے۔ اخیافی بہنوں کے حصے ہیں 4 اس کو بھی 1020 سے ضرب دیجیے۔ 4080، تو 4 کے نیچے 4080 لکھیے بھئی یعنی 4 0 8 0۔ جی، یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب بھئی ہر ایک کا حصہ بھی نکال لیں، زوجات ہیں 4 حصے ملے 3060، 3060 کو ذرا 4 سے تقسیم کیجیے۔ 765، یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ۔ اخوات عینی 15 ہیں ان کو حصے ملے 8160، تو 8160 کو ذرا 15 سے تقسیم کیجیے ایک ایک بہن کا حصہ نکل آئے گا۔ 544، یہ ایک ایک بہن کا حصہ۔ اخیافی بہنیں ہیں 17 اور حصے کتنے ملے؟ 4080، تو اس کو 4080 کو 17 سے تقسیم کیجیے۔ 240، یہ ایک ایک اخیافی بہن کا حصہ نکل آیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
92 approved lectures · 49 of 92