Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-063

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعلم ان زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ لا یجعل الاخت لاب وام او لاب صاحب فرض مع الجد الا فی المسئلہ الاکدریہ۔ وہی زوج و ام و جد و اخت لاب وام او لاب۔ اعلم جان لے تو ان زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ لا یجعل الاخت لاب وام او لاب صاحب فرض مع الجد الا فی المسئلہ الاکدریہ۔ بھئی گزشتہ اسباب میں اور مثالوں وغیرہ سے اس بات کی وضاحت ہو گئی کہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں حقیقی بہن اور علاتی بہن کو دادا کے ساتھ عاصبہ بناتے ہیں۔ کیا بناتے ہیں؟ عاصبہ بناتے ہیں۔ اور صرف ایک مسئلے کے اندر وہ حقیقی یا علاتی بہن کو صاحب فرض بناتے ہیں یعنی ذوی الفروض میں سے بناتے ہیں۔ کس میں سے بناتے ہیں؟ عاصبہ تو وہ ہے نا جو مابقہ مال کو لے لے تو وہ باقی مسائل کے اندر اس کو عاصبہ بناتے ہیں لیکن ایک مسئلے کے اندر اس کو ذوی الفروض میں سے بناتے ہیں یعنی اس کا باقاعدہ جو حصہ بنتا ہے وہ اس کو دیتے ہیں بھئی ایک مسئلے کے اندر۔ اور وہ مسئلہ اکدریہ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ مسئلہ اکدریہ کہلاتا ہے۔ جی۔ تو کہتے ہیں اعلم جان لے تو ان زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ لا یجعل الاخت لاب وام او لاب صاحب فرض مع الجد کہ جان لے تو کہ یہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں وہ نہیں بناتے حقیقی بہن کو یا علاتی بہن کو صاحب فرض صاحب فرض ہے یعنی ذوی الفروض میں سے نہیں بناتے مع الجد دادا کے ساتھ الا فی المسئلہ الاکدریہ مگر مسئلہ اکدریہ میں۔ تو اس میں وہ دادا کے ساتھ اس کو صاحب فرض بناتے ہیں یعنی ذوی الفروض میں سے اس کا باقاعدہ حصہ اس کو نکالتے ہیں۔ وہی مسئلہ اکدریہ کیا ہے بھئی کیا صورت ہے اس کی کہتے ہیں وہی زوج و ام و جد و اخت لاب وام او لاب کہ خاوند اور خاوند ہو اور ماں اور دادا اور اخت لاب وام اور حقیقی بہن ہو او لاب ای اخت لاب یہ یا کیا ہو علاتی بہن ہو جی صورت بنائیے بھئی۔ مثال نمبر کون سی ہے؟ مثال نمبر 102۔ مثال نمبر 102۔ اوپر لکھ لیجیے مسئلہ اکدریہ۔ مسئلہ اکدریہ۔ نیچے اب وہ میت بنائیے۔ اور جو کتاب میں وارث دیے ہیں وہ اسی ترتیب سے لکھیے اس کے نیچے سب سے پہلے لکھیے زوج۔ دوسرے نمبر پر ام۔ تیسرے نمبر پر جد۔ اور چوتھے نمبر پر اخت۔ اخت۔ چاہے اس کے ساتھ عینی کی قید لگا دیں چاہے لیابن کی قید لگا دیں۔ تو اخت عینی ہو یا علاتی۔ اس صرف اس صورت میں وہ اس کو ذوی الفروض میں سے بناتے ہیں بھئی دیکھیے۔ بھئی اولاد ہے میت کی کہ نہیں ہے؟ نہیں ہے۔ نہیں ہے تو خاوند کو کتنا ملے گا؟ نصف۔ अच्छा ма ہے اولاد یا دو بہن بھائیوں میں سے نہ ہو تو ماں کو کتنا ملتا ہے؟ ثالث یہ نوع ثانی سے آ گیا۔ جد کو کتنا ملے گا؟ جی۔ سدس۔ اچھا۔ اور اخت بہن کو کتنا ملے گا؟ جب ایک ہو تو اسے نصف ملتا ہے تو یہاں اس کو ذوی الفروض میں سے بنایا اس کا حصہ دیں گے۔ تو دیکھیے نوع اول میں سے کیا آیا؟ صرف نصف آیا اور نوع ثانی سے سدس بھی آیا اور سدس بھی آیا تو نصف جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ سے مسئلہ بنایا۔ چھ میں سے نصف کتنا ہے؟ تین۔ یہ ہے زوج کا حصہ۔ زوج کے نیچے تین لکھیے۔ اچھا۔ ماں کا حصہ کتنا؟ سدس۔ چھ کا سدس کتنا؟ دو۔ تو ماں کے نیچے دو لکھیے۔ دادا کا حصہ کتنا ہے؟ سدس۔ تو چھ کا سدس ایک ہے۔ جد کے نیچے ایک لکھیے۔ اخت کا حصہ کتنا؟ نصف ہے۔ چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ تو اخت کے نیچے تین لکھیے۔ اب دیکھیے زوج کو ملے تین ماں کو ملے دو حصے تین اور دو پانچ، ایک حصہ ملا جد کو پانچ اور ایک چھ، تین حصے ملے اخت کو چھ اور تین کتنے ہو گئے؟ نو۔ مسئلہ بنایا تھا چھ سے اور حصے ہو گئے نو۔ اب کیا کریں گے؟ عول ہوگا۔ عول ہوگا نو تک بھئی۔ تو چھ کے ساتھ اب آگے عین لکھیے عول والا اور اس پر نو لکھ لیجیے۔ بھئی۔ اب۔ یاد رکھیے۔ یہ تو ہم نے اخت کو حصہ دیا ذوی الفروض کے طور پر۔ لیکن یہاں مقاسمہ بہتر ہے جد کے لیے۔ کیا بہتر ہے؟ مقاسمہ۔ مقاسمہ کی کیا صورت ہوتی تھی؟ جد کو بھئی فرض کیا جائے بھئی بہنوں کے ساتھ۔ تو لہٰذا یہاں بھی جد کو بہن کے ساتھ کیا فرض کر لیں گے؟ بھئی فرض کریں گے۔ تو۔ لہٰذا جو مال ان دونوں کو ملا کس کو؟ جد کو اور بہن کو۔ اس کو آپس میں پھر تقسیم کریں گے۔ کس طریقے پر للذکر مثل حظ الانثیین یعنی دونوں کا مال جمع کر لیں گے جتنا مال ہو جائے گا اس کے تین حصے کریں گے دو حصے کس کا حق؟ دادا کا حق اور ایک حصہ کس کا حق؟ بہن کا۔ بھئی دیکھیے ہم نے حصے نکالے۔ سدس کے اندر دادا کا کتنا حصہ نکلا؟ ایک اور بہن کا کتنا نکلا؟ تین۔ لیکن ہم جب مقاسمہ کریں گے دیکھنا دادا کا حصہ بڑھ جاتا ہے۔ تو لہٰذا اب ان کے حصے ہم جمع کریں گے اور پھر ان دونوں کے درمیان للذکر مثل حظ الانثیین کے طریقے پر تقسیم کریں گے۔ لہٰذا یہ جو دادا کے نیچے ایک لکھا اور اخت کے نیچے تین لکھا یہ ایک اور تین کے نیچے لکیر کھینچ کر ان کو ملا دیجیے۔ ایک کے نیچے سے لکیر شروع کریں تین کے نیچے تک بھئی۔ ایک اور تین کتنے ہو گئے؟ چار۔ نیچے چار لکھ لیجیے۔ یہ چار ہو گئے۔ ایک حصہ ہے دادا کا اور تین بہن کے ان کو ہم نے جمع کر دیا۔ اچھا۔ اب ہم نے ان کو تقسیم کس طرح کرنا ہے؟ مقاسمہ کرنا ہے اور للذکر مثل حظ الانثیین۔ تو لہٰذا دادا ہوا دو بہنوں کے برابر اور ایک بہن بھی ہے تو کل کتنے ہو گئے؟ تین۔ تو گویا عدد رؤوس ہے تین اور حصے کتنے ہیں؟ چار۔ تو تین اور چار پر پورا تقسیم نہیں ہوتا تو لہٰذا اب کیا کریں گے؟ ان تین عدد رؤوس یعنی تین اور حصے یعنی چار اس میں نسبت دیکھیں گے۔ کون سی نسبت ہے؟ تباین کی۔ جب تباین کی نسبت ہو تو پھر کیا کرتے ہیں؟ اسی عدد رؤوس ہی کو کیا کر دیتے ہیں؟ اصل مسئلہ میں ضرب دے دیں گے۔ تو لہٰذا تین کو اصل مسئلہ یعنی نو میں ضرب دی کیا جواب آیا نو تیہ 27 بھئی تو آگے تسی کی نو کے آگے تسی کی تا لکھیے اور اس پر 27 لکھ لیجیے۔ بھئی۔ نیچے سب کے حصوں کو بھی تین سے اب ضرب دیں گے۔ زوج کا حصہ ہے تین اس کو تین سے ضرب دی تین تیہ نو۔ تین کے نیچے نو لکھ لیجیے۔ بھئی۔ اچھا۔ ام کا حصہ ہے دو اس کو بھی تین سے ضرب دی۔ دو تیہ چھ۔ دو کے نیچے چھ لکھ لیجیے۔ جد اور اخت کا حصہ کتنا تھا؟ چار۔ اس کو بھی تین سے ضرب دی چار تیہ 12۔ اس کے نیچے 12 لکھ لیجیے۔ بھئی۔ چار کے نیچے 12۔ اچھا بھئی اب ہم نے تقسیم کس میں کرنا ہے؟ جد میں اور اخت میں ان کو کل کتنا حصہ ملا؟ 12۔ 12 میں سے دادا کو بہن سے دگنا دینا ہے تو 12 کے کل گویا تین حصے کر لیں گے۔ 12 کو تین سے تقسیم کریں کیا جواب آیا؟ چار۔ تو چار دینا ہے صرف بہن کو۔ اور دگنا اس کا یعنی اٹھ کس کو دینا ہے؟ دادا کو تو اب دادا کے نیچے اٹھ لکھ لیجیے اور بہن کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اب مقاسمہ کی صورت میں دادا کو کتنا ملا؟ آٹھ۔ کتنے میں سے؟ 27 میں سے۔ اور۔ مقاس سدس الکل کی صورت میں کتنا مل رہا تھا؟ جی۔ ایک تھا نا لیکن پھر ہم نے اس کو کس سے ضرب دی؟ سارے مسئلہ کو کس سے ضرب دی؟ تین سے تو وہ ایک بھی گویا۔ کیا بن گیا؟ تین۔ تو گویا اگر سدس کر سے مسئلہ بناتے تو دادا کو 27 میں سے کتنا ملتا؟ تین ملتا اور مقاسمہ کی صورت میں 27 میں سے کتنا مل رہا ہے؟ آٹھ مل رہا ہے۔ صورت واضح ہو گئی سب پر بھئی؟ تو دیکھیے یہ صورت ہے بھئی۔ تو مقاسمہ بہتر ہے یا سدس جمیع المال بہتر ہے؟ مقاسمہ بہتر ہے۔ اچھا سدس ما بقیہ میں کیا بن ملتا دادا کو؟ سدس ما بقیہ کیا مانا؟ مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ چھ۔ چھ میں سے تین کس کو دیے؟ زوج کو دو کس کو دیے؟ ماں کو باقی کتنا بچا؟ ایک۔ ایک کا سدس دادا کو ملتا وہ تو ایک سے بھی نیچے چلا جاتا بھئی تو وہ تو بہت تھوڑا ہوتا بھئی۔ سدس ما بقیہ بھئی۔ تو سدس ما بقیہ میں بھی بہت تھوڑا ملتا اور سدس جمیع المال کی صورت میں بھی تھوڑا مل رہا ہے۔ ہاں مقاسمہ کی صورت میں کیا ہے؟ زیادہ مل رہا ہے۔ بھئی یہ ہے مسئلہ اکدریہ بھئی۔ صورت اچھی طرح واضح ہو گئی بھئی؟ یہی دیکھیے اب کتاب میں بیان کر رہے ہیں فلزوج النصف تو خاوند کے لیے کتنا ہوگا؟ نصف ہوگا وللأم الثلث اور ماں کے لیے سدس ہوگا وللجد السدس اور جد کے لیے سدس بھئی یہ وہ جو ہم مسئلہ بنا رہے ہیں بھئی وہی بیان کر رہے ہیں وللأخت النصف اور بہن کے لیے نصف ہوگا ثم یضم الجد نصیبہ الی نصیب الاخت پھر ملا دے گا دادا اپنے حصے کو بہن کے حصے کے ساتھ فیقسّمان للذكر مثل حظ الانثیین پھر تقسیم کیا جائے گا ان دو حصوں کو یہ جو ملا دیے گئے کس طریقے پر للذكر مثل حظ الانثیین کے مذکر کے لیے۔ دو مؤنث کے مثل حصہ ہوگا۔ لأن المقا مخاصمۃ خیر للجد تو اس لیے کیونکہ مخاصمہ وہ دادا کے لیے بہتر ہے اس صورت میں، اصلھا من ستۃ تو اس مسئلہ کی اصل کس سے ہوگی، اصل میں کس سے بنے گا، چھ سے، وئول الی تسعۃ اور پھر اس کا عول ہوگا کہاں تک؟ نو تک جیسے آپ دیکھ رہے ہیں چھ سے بنایا اور نو تک عول ہوا۔ وتصح من سبع وعشرین اور تصحیح ہوگی اس مسئلہ کی کس سے ستائیس سے۔ وسمیت اکدریۃ اور اس مسئلہ کو مسئلہ اکدریہ کہتے ہیں لانھا واقعۃ امرأۃ من بنی اکدر۔ اس لیے کیونکہ یہ واقعہ ہے بنی اکدر کی ایک عورت کا۔ بنی اکدر میں سے بنی اکدر ایک قبیلہ ہے اس کی عورت کا یہ واقعہ ہے۔ جی تو اس وجہ سے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا گیا؟ مسئلہ اکدریہ رکھ دیا گیا۔ اس وجہ سے وقال بعضھم اور بعض کہتے ہیں سمیت اکدریۃ اس مسئلے کو اکدریہ کہتے ہیں اس کا نام رکھا گیا لانھا کدرت علی زید ابن ثابت مذهبہ۔ اس لیے کیونکہ اس نے مقدر کردیا حضرت زید ابن ثابت پر ان کے مذہب کو۔ کیا کردیا؟ مختلف وجوہات ذکر کرتے ہیں بس یہ مسئلہ مسئلہ اکدریہ کے نام سے مشہور ہے اور اس کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ بہن کو بھی ذوی الفروض میں سے شمار کیا جاتا ہے، اس کا حصہ ذوی الفروض کے طور پر نکالا جاتا ہے۔ باقی آپ نے پچھلی مثالوں میں دیکھا کہیں بھی بھئی بہنوں کا حصہ، بہنوں کا حصہ کہیں بھی ذوی الفروض کے طور پر نہیں نکالا گیا۔ تو اس نے حضرت زید ابن ثابت کے مذہب کو ان پر کیا کردیا؟ مقدر کردیا۔ یعنی مشکل کردیا یا پریشانی کا باعث بنا دیا۔ یا بعضوں نے کہا اس کو اکدریہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ دادا نے بہن پر اس کے حصے کو مقدر کردیا۔ کیا کردیا؟ مقدر کردیا۔ پہلے دیکھو اس کو کتنا مل رہا تھا؟ نصف مل رہا تھا اور پھر مخاصمہ میں اس کا حصہ بڑا تھوڑا ہو گیا بھئی۔ پھر اس کو شروع میں تین، دادا سے تین گنا زیادہ مل رہا تھا اور پھر بعد میں دادا کو اس سے دگنا ملا۔ তো یہ مسئلہ اکدریہ کہلاتا ہے اور بھی بہت سی وجوہات علماء نے ذکر کیں کہ اس کو مسئلہ اکدریہ کیوں کہتے ہیں؟ ولو کان مکان الاخت أخ أو اختانی فلا عول ولا اکدریۃ اور اگر ہو بہن کی جگہ پر بھئی أو اختانی یا دو بہنیں ہوں، فلا عول তো پھر عول بھی نہیں ہوگا ولا اکدریۃ اور پھر یہ مسئلہ اکدریہ بھی نہیں ہے۔ مسئلہ اکدریہ صرف اسی صورت میں کہلاتا ہے یہ والا جب اس کے اندر ایک بہن ہو۔ اگر اس بہن کی جگہ بھئی آجائے تو بھی اس میں عول بھی نہیں ہوگا اور یہ مسئلہ اکدریہ بھی نہیں کہلائے گا۔ اور یا ایک بہن کی جگہ دو بہنیں آجائیں تو اس صورت میں بھی یہ مسئلہ اکدریہ نہیں کہلائے گا۔ یہ صورتیں بھی کرلیجیے۔ مثال نمبر کون سی ہے؟ 103 مثال نمبر 103۔ اچھا اس کے نیچے لکھ لیجیے سدس کی صورت میں سدس کی صورت میں۔ اچھا اسی طرح میت بنائیے باقی وارث وہی رکھیں صرف اخت کی جگہ بھئی کو لے آئیں اخن کو۔ تو وارث کون کون ہوئے؟ زوج، ام، جد، اور اخن یہ چار وارث ہیں۔ صورت اسی طرح بنے گی زوج کو کتنا ملتا ہے اولاد نہ ہو تو نصف، ماں کو کتنا ملتا ہے سدس، جد کو کتنا ملے گا؟ یہ سدس والی صورت کر رہے ہیں تو سدس ملے گا۔ سدس اچھا۔ نوع اول میں سے کیا آیا؟ نصف، اور نوع ثانی میں سے کیا آیا؟ سدس بھی اور سدس بھی۔ تو نصف جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ مسئلہ کس سے بنے گا؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ میں سے نصف یعنی تین، زوج کا حصہ، زوج کے نیچے تین لکھیے۔ چھ کا سدس یعنی دو، یہ ام کا حصہ، ماں کے نیچے دو لکھیے۔ اور چھ کا سدس یعنی ایک یہ دادا کا حصہ، دادا کے نیچے ایک لکھیے۔ اور بھئی تو عصبہ ہے۔ تو تین زوج کو ملے، دو ماں کو، تین اور دو پانچ، اور ایک دادا کو، پانچ اور ایک چھ، تو چھ یہاں تقسیم ہوگیا۔ کچھ بچا بھئی چھ میں سے چھ نکلے؟ کچھ بھی نہیں بچا۔ تو بھئی محروم ہوگا بھئی اس کے نیچے محروم اخ کے نیچے محروم لکھ لیجیے یا میم لکھ لیجیے۔ یہ ہے سدس کی صورت۔ اچھا، اگر مخاصمہ ہوتا پھر کیا کرتے؟ گئے تین زوج کو ملے، دو ماں کو، تین اور دو پانچ، چھ میں سے کتنے بچ گئے؟ ایک، تو دادا کو ہم نے کیا فرض کیا ہے؟ بھئی تو جو مال باقی بچا، بھئی عصبہ ہیں تو اس کو آپس میں تقسیم کرتے۔ کتنا بچا باقی؟ ایک، وہ ایک کو جب دونوں تقسیم کرتے تو کتنا کتنا آتا؟ آدھا آدھا ملتا، تو اس سے دیکھو سدس کی صورت میں ایک مل رہا ہے چھ میں سے اور اس صورت میں چھ میں سے آدھا ملنا تھا، تو وہ کم ہوتا اس لیے وہ صورت اختیار نہیں کی۔ اور سدس ما بقیہ والی صورت بھی یہیں پر دیکھ لیں۔ بھئی زوج کو تین دیے، ام کو دو دیے، تین اور دو پانچ، چھ میں سے پانچ نکل گئے، کتنا رہ گیا؟ ایک، ایک ہے ما بقیہ، دادا کو ہم نے کیا کہا؟ سدس ما بقیہ دیتے ہیں۔ کون جو صورت افضل ہو وہ اختیار کی جاتی ہے، تو سدس ما بقیہ کی صورت میں ایک بچا ہے، ایک کا سدس دادا کو ملتا تو دو سدس کس کو مل جاتے؟ بھئی کو۔ تو دیکھو اس میں تو اور بھی کم ہو گیا اس سے مخاصمہ میں تو آدھا مل رہا تھا، اس میں تو سدس مل رہا ہے، تیسرا حصہ مل رہا ہے ایک کا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس لیے یہ سدس کی صورت اختیار کی گئی۔ اچھا، اگلی صورت بھی لکھ لیں بھئی۔ اگلی صورت میں بھی کونسی مثال ہے؟ مثال نمبر 104۔ اسی طرح میت بنائیے، اس کے نیچے لکھیے زوج، ام یعنی ماں، جد اور اخن کی جگہ اب اختانی لے آئیں، دو بہنیں، دو بہنیں اختانی۔ اچھا بھئی، زوج کو کتنا ملتا ہے؟ اولاد نہ ہو تو نصف، اچھا ام کو، یہاں کتنا ملے گا؟ یہاں سدس ملے گا کیونکہ اولاد ہو تب بھی ماں کو سدس ملتا ہے اور بھئی بہنوں میں سے دو آجائیں تو ماں کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ تو یہاں ماں کو سدس ملے گا۔ جد کو اچھا ہاں، اس کے اوپر بھی لکھ لیں بھئی، سدس جمیع المال کی صورت بھئی۔ سدس جمیع المال کی صورت تو یہاں جد کو بھی کتنا ملے گا؟ سدس اچھا اختانی بہنیں ان کو کتنا ملے گا؟ ان کو کتنا ملے گا بھئی؟ الثلثان کہاں سے؟ ابھی آپ کو بتایا ہے کہ دادا کے ساتھ جب بہنیں جمع ہوجائیں تو ان کو عصبہ بنایا کرتے ہیں۔ ایک مسئلہ اکدریہ میں ذوی الفروض میں بنانا، ذوی الفروض شمار کرنا ہے، تو ان کو کیا بنانا ہے؟ عصبہ یعنی ما بقیہ لیں گی۔ اچھا بھئی، تقسیم کیجیے بھئی، دیکھیے نوع اول میں سے کیا آیا؟ نصف اور نوع ثانی میں سے سدس وغیرہ جو بھی آئے، تو نوع اول کا نصف نوع ثانی کے ساتھ جمع ہوگیا، مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ کا نصف دینا ہے زوج کو، چھ کا نصف کتنا؟ تین، زوج کے نیچے تین لکھیے۔ چھ میں سے سدس دینا ہے، چھٹا حصہ ماں کو، چھ کا سدس کتنا؟ ایک، تو ام کے نیچے ایک لکھیے۔ سدس ہی دینا ہے دادا کو، تو دادا کے نیچے بھی ایک لکھیے۔ تو تین مل گئے خاوند کو، ایک حصہ ماں کا، ایک حصہ دادا کا، تین کے ساتھ ایک حصہ ماں کا ملایا چار، ایک حصہ دادا کا ملایا پانچ۔ چھ میں سے پانچ تو تقسیم ہوگئے، کتنا رہ گیا؟ ایک۔ تو یہ ایک بہنوں کا حصہ وہ عصبہ ہونے کی بنا پر بما بقیہ لے گئیں۔ تو بہنوں کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے باقی تو ٹھیک ہے، کسر کہیں نہیں آ رہی لیکن بہنیں ہیں دو اور حصہ ملا ایک، تو کسر آ رہی ہے۔ تو یہاں بہنوں پر کسر آ رہی ہے تو عدد رؤوس ہے دو، حصہ ہے ایک، عدد رؤوس اور حصے میں کون سی نسبت؟ تبایین کی، تو لہذا اس صورت میں عدد رؤوس کو اصل مسئلہ سے ضرب دیں گے۔ دو کو ضرب دیجیے چھ سے بھئی۔ 12 آیا، تو چھ کے آگے تصحیح کی طاء لکھیے اور اس پر بارہ لکھ لیجیے۔ اور نیچے سب کے حصوں کو بھی دو سے ضرب دیں گے۔ زوج کا حصہ ہے تین، دو سے ضرب دی تو چھ ہوا، تین کے نیچے چھ لکھیے۔ ام کا حصہ ہے ایک، اس کو دو سے ضرب دی دو آیا، ایک کے نیچے دو لکھیے۔ دادا کے حصہ جو ایک ہے، اس کے نیچے بھی دو لکھیے۔ بہنوں کا حصہ ایک ہے، اس کے نیچے بھی دو لکھیے۔ سب کو دو سے ہم نے ضرب دی ہے۔ اب دیکھیے تصحیح ہو گئی مسئلہ کی بھئی۔ تصحیح ہو گئی۔ یہ دیکھیے بھئی، تسدس کی صورت میں دادا کو چھ میں سے ایک ملا یا یوں کہیں بارہ میں سے دو ملے بھئی، دو ملے یہ صورت یہاں بہتر ہے دادا کے لیے اس لیے اس کو ہم نے ذکر کیا۔ اچھا سدس ما بقیہ میں کتنا ملتا؟ بھئی تین خاوند کو مل جاتے چھ میں سے ایک کس کو مل جاتا؟ ماں کو، تین اور ایک چار، چار چھ میں سے نکلے کتنے رہ گئے؟ دو، دو کا سدس یعنی ایک سے کم ہو گیا یا نہیں؟ پہلے تو چھ میں سے ایک مل رہا ہے، پھر وہ ایک سے بھی کم ہو جاتا بھئی کیونکہ دو کا سدس ہے، دو کا سدس، دو کے تین حصے کریں تو وہ ایک سے ایک حصہ کم ہو جائے گا۔ اچھا، تو لہذا یہ صورت سدس ما بقیہ والی صورت دادا کے لیے بہتر نہیں۔ اسی طرح تیسری کونسی صورت ہے؟ مخاصمہ والی۔ اچھا، مخاصمہ بھی کرکے دیکھ لیں۔ تین زوج کو ملتے، ایک ماں کو، تین اور ایک چار، باقی کتنے رہ گئے؟ دو۔ یہ دو کو تقسیم کرنا ہے دادا اور دو بہنوں میں۔ تو دادا کتنے کے برابر؟ دو بہنوں کے اور دو بہنیں بھی ہیں چار، تو عدد رؤوس کتنا؟ چار۔ اچھا، اور حصے کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ تو دادا کو کتنا ملتا؟ اس صورت میں بھی ایک ملتا۔ تو مخاصمہ کی صورت میں بھی دادا کو کتنا مل رہا ہے؟ ایک ہی مل رہا ہے اور سدس کی صورت میں بھی کتنا ملا؟ ایک ہی ملا، تو دونوں صورتوں میں برابر مل رہا ہے تو کوئی بھی صورت اختیار کرلی جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ তো دیکھیے یہ جو آخری دو صورتیں کیں، جن میں دادا کے ساتھ بہن کے بجائے بھئی آگیا یا دو بہنیں آگئیں، ان دونوں صورتوں میں عول بھی نہیں ہوا اور اس مسئلہ کو مسئلہ اکدریہ بھی اب نہیں کہیں گے بھئی۔ جی، تو یہ معنی ہے مصنف کے قول کا فلاول ولو کان مکان الاخت أخ أو اختانی اور اگر بہن کی جگہ بھئی ہو او اختانی یا دو بہنیں ہوں فلاول ولا اکدریۃ تو پھر نہ عول ہوگا اور نہ مسئلہ یہ مسئلہ اکدریہ ہوگا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 63 of 92