Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-032

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آپ لوگوں کو جمع کا طریقہ آ گیا اچھی طرح؟ جی منفی کرنے کا طریقہ بھی آ گیا؟ جی اور ضرب دینے کا سب کو؟ جی جی آج ہم تقسیم کا طریقہ پڑھیں گے۔ سب سے پہلے تقسیم کی علامت یاد رکھیے۔ تقسیم کی یہ علامت ہے چھوٹی سی لکیر ہو، اس کے اوپر بھی ایک نقطہ لگا ہو اور نیچے بھی ایک نقطہ لگا ہو بھئی۔ یہ کس چیز کی علامت ہے؟ تقسیم کی۔ تقسیم کی علامت ہے۔ یہ علامت جہاں بھی دو عددوں کے درمیان آ جائے تو معلوم ہو، آپ سمجھ جائیں کہ ایک عدد کو دوسرے عدد سے تقسیم کرنا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی اور اس میں پھر یہ یاد رکھیں کہ عموماً جو ہے عام آج کل کی کتابوں کے اندر جو عدد بائیں طرف ہوتا ہے اس کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے اور جو عدد اس نشان کے دائیں طرف ہو اس کو کیا جاتا ہے؟ تقسیم کیا جاتا ہے۔ یعنی دائیں طرف والے عدد کو تقسیم کرنا ہے جو درمیان میں نشان ہوگا یہ تقسیم کی علامت ہوگی، دو عدد ہیں، ان کے درمیان یہ تقسیم کی علامت ہے تو جو بائیں جو دائیں طرف والا عدد ہو اس کو کیا جاتا ہے؟ تقسیم کیا جاتا ہے، کس سے تقسیم کیا جاتا ہے جو بائیں طرف والا عدد ہوتا ہے۔ تو سب سے پہلے ہم چھوٹے عدد سے شروع کرتے ہیں۔ مثلاً ہمارے پاس یہ دو عدد ہیں، ایک تین ہے بائیں طرف اور درمیان میں وہ تقسیم کی علامت ہے اور دوسری طرف چھ ہے۔ تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ کہ چھ کو تقسیم کرنا ہے کیونکہ چھ کس طرف ہے؟ دائیں طرف ہے۔ اور کس کے ذریعے تقسیم کرنا ہے؟ تین کے ذریعے تقسیم کرنا ہے کیونکہ تین بائیں طرف ہے بھئی۔ اب تقسیم کس طرح کرتے ہیں؟ دیکھیے، جس کو تقسیم کرنا ہے، کسے ہم نے یہاں تقسیم کرنا ہے؟ چھ۔ سب سے پہلے اس کو لکھیں، مثلاً یہ میں نے چھ لکھا، پھر اس کے اوپر ایک لکیر لگا لیں گے۔ ذرا لمبی سی جو اس کے دائیں طرف بھی کچھ دور تک چلی جائے، بائیں طرف بھی دور تک چلی جائے، پھر اس لکیر کو یہ جو اس کا بایاں کنارہ ہے اس کو نیچے کی طرف تھوڑا موڑ کر لے آئیں گے تاکہ کچھ جگہ سی بن جائے اور اس کے تو اس لکیر کے نیچے کیا آ گیا؟ چھ اور وہ جو بائیں طرف جگہ بن گئی اس طرف باہر کی طرف وہ عدد لکھ دیں گے جس سے تقسیم کرنا ہے۔ تو مثلاً یہاں ہم نے تین لکھ دیا کیونکہ ہم نے کس سے تقسیم کرنا ہے؟ تین سے۔ اب تقسیم کرنا ہے چھ کو اور تقسیم کرنا ہے تین سے، تو یہ جو باہر ہے جس سے تقسیم کرنا ہے اس کا پہاڑا پڑھیں گے یہاں تک کہ وہ عدد آ جائے جس کو تقسیم کرنا ہے۔ تو تین کا پہاڑا پڑھیں گے، تین ایکم تین، تین دونی چھ۔ تو دیکھیں دو پر ہی ہم چھ تک پہنچ گئے۔ تو تین کو کتنے سے ضرب دیں کہ چھ آئے گا؟ دو سے۔ تو وہ جو جس سے ضرب دینی ہے وہ اس لکیر کے اوپر اب لکھ دیں گے۔ لکیر کے نیچے تو وہ عدد ہے جس کو تقسیم کر رہے ہیں اور اوپر جس سے ضرب دی ہم نے تین کو تو وہ دو اوپر آ جائے گا اور تین کو جب دو سے ضرب دی تو کیا آیا تھا؟ چھ۔ تو اس چھ یہ جو ہم نے نیچے لکھا ہوا تھا لکیر کے نیچے، اس کے نیچے اب پھر وہ چھ لکھ لیں گے جو ضرب دینے سے آیا بھئی۔ تین کو دو سے ضرب دی تو چھ آیا۔ اب اس کے دونوں کے نیچے لکیر کھینچیں گے دونوں کے نیچے اور اوپر والے عدد سے نیچے والے عدد کو منفی کریں گے۔ اوپر بھی چھ، نیچے بھی چھ۔ تو چھ میں سے چھ کو نکالا کیا بچا؟ صفر، کچھ بھی نہیں بچا۔ تو یہ علامت نیچے کاٹے کی ڈال دیں گے کہ معلوم ہوا پورا پورا تقسیم ہو گیا۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی۔ جی، تو یہ چھ تھا، یہ پورا پورا تین سے تقسیم ہو گیا تو جواب یہ دو جواب آیا بھئی، یہ حاصلِ قسمت کہلاتا ہے، یہ جواب آ گیا۔ جی، اب دوسری مثال دیکھ لیں۔ مثلاً بھئی اب ہمارے پاس دو عدد ہیں، ایک ہے تین، درمیان میں یہ علامت ہے تقسیم والی اور دوسری طرف ہمارے پاس 54 ہے، پانچ چار۔ تو یہ دو عدد ہیں ہمارے پاس۔ تو بائیں طرف ہے تین اور دائیں طرف ہے 54۔ اس سے آپ کو پتہ چل گیا، کس کو کس سے تقسیم کرنا ہے؟ 54 کو تقسیم کرنا ہے تین سے بھئی۔ اب اسی طرح 54 لکھیں۔ 54 کے اوپر ایک لکیر کھینچیں اور پھر اس کے بائیں کنارے کو نیچے کی طرف ذرا موڑ دیں، الگ جگہ بن جائے اور اس کے باہر پھر وہ عدد لکھیں جس سے تقسیم کرنا ہے، یہاں ہم نے تین لکھ لیا کیونکہ تین سے تقسیم کرنا ہے۔ اب یاد رکھیے، یہ نیچے ہمارے پاس کیا لکھا ہوا ہے جس کو تقسیم کرنا ہے؟ 54 ہے۔ تو 54 یہ یہاں کبھی دو عدد ہوں گے، 54 ہوں گے، مثلاً کبھی تین عدد ہوں گے، کبھی چار ہوں گے، کبھی پانچ ہوں گے۔ تو یہ نہیں کہ اب آپ مسلسل تین کا پہاڑا پڑھتے چلے جائیں اور وہاں تک پہنچنے کی کوشش کریں، وہ تو بڑا مشکل کام ہے، تو صرف ایک عدد پہلے کو پکڑیں گے۔ اور کون سا عدد؟ جو بائیں طرف ہو۔ بھئی 54، پانچ اور چار ان میں سے بائیں طرف کیا ہے؟ پانچ۔ اس میں سے پانچ بائیں طرف ہے تو صرف پہلے اس تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اس عدد کے ذریعے جس سے ہم تقسیم کر رہے ہیں یعنی تین کے ذریعے، تو تین کا پہاڑا پڑھیں یہاں تک کہ پانچ آ جائے بھئی۔ تین ایکم تین، تین دونی چھ۔ تو چھ تو پانچ سے اوپر چلے گئے ہم بھئی۔ تو یا تو پانچ کے برابر آنا ہے یا اس سے نیچے ہی رہنا ہے، اوپر نہیں جانا بھئی۔ تو اب نیچے کون سے کہاں تک ہے؟ تین ایکم تین بس، تین دونی کریں تو وہ چھ اوپر چلا جاتا ہے، تو لہٰذا ہم تین ایکم تین تک ہی رہیں گے۔ تو تین کو کتنے سے ضرب دی؟ ایک سے تو کیا آیا؟ تین۔ تو ضرب دی تھی ایک سے تو وہ ایک اوپر لکیر کے اوپر لکھ لیں گے اور تین کو جب ایک سے ضرب دی کیا آیا؟ تین آیا، تو اس تین کو اب اس پانچ کے نیچے لکھ لیں گے۔ تین بھئی۔ پھر اسی طرح اس تین کے نیچے ایک لکیر لگائی تو پانچ کے نیچے ہے تین، اب پانچ میں سے تین کو منفی کریں، کتنا بچا؟ دو، نیچے بچ گیا بھئی۔ دو، دو نیچے بچ گیا، اب ساتھ جو پانچ کے ساتھ دوسرا عدد کیا تھا؟ چار۔ اب اس چار کو بھی نیچے اتار لیں گے۔ ایک ایک ہر قدم پر یعنی ایک ایک عدد کو نیچے اتارتے جائیں گے۔ زیادہ عدد ہوں، سب کو اکٹھا نہیں اتارنا بلکہ ایک ایک اور۔ تو اوپر ایک چار عدد تھا اس کو بھی ہم نے نیچے اتار لیا بھئی۔ نیچے دو بچ گیا تھا اس کے ساتھ چار لکھا، کیا بن گیا یہ؟ 24۔ تو اب 24 بن گیا، اب تین کا پہاڑا پڑھیں یہاں تک کہ 24 آ جائے، تین ایکم تین، تین دونی چھ، تین تین نو، تین چوکے 12، تین پنجے 15، تین چھکے 18، تین ستے 21 اور تین اٹھے 24 بھئی دیکھو۔ تین کا پہاڑا آٹھ تک پڑھا تو 24 آ گیا، تو لہٰذا اوپر وہ جو جواب کیا لکھا تھا؟ ایک پہلے جس سے ضرب دی تھی، اس ایک کے ساتھ اب آٹھ لکھ دیں گے۔ اور تین کو آٹھ سے ضرب دی تھی کیا آیا تھا؟ 24۔ تو نیچے وہ جو 24 لکھا تھا اس کے نیچے اب 24 لکھ دیں گے، اکائی کے نیچے اکائی اور دہائی کے نیچے دہائی بھئی۔ پھر ان کے نیچے لکیر لگائیں گے اور منفی کریں گے لیکن یہاں 24 سے 24 نکالا تو نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ نیچے وہ نشان لگا دیں گے اور تو یہ تین 54 کو تین سے تقسیم کیا، پورا پورا ختم ہو گیا، تقسیم ہو گیا اور حاصلِ قسمت کیا آیا لکیر کے اوپر؟ 18 بھئی، یہ ہے جواب بھئی۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ 18 جواب آیا بھئی۔ اگلی مثال کریں۔ مثلاً چھ ہے ایک طرف، چھ سے ہم نے تقسیم کرنا ہے 54 کو بھئی۔ چھ سے کس کو تقسیم کرنا ہے؟ 54 کو۔ تو اسی طرح 54 لکھا۔ 54 کے اوپر لکیر لگائی، بائیں طرف وہ خانہ بنایا، اس خانے کے باہر چھ لکھا جس سے ہم تقسیم کر رہے ہیں۔ تو چھ باہر آ گیا، 54 لکیر کے اندر آ گیا۔ اب چھ پہلا عدد صرف پکڑیں گے بھئی، 54 میں سے پانچ چار میں سے پہلا عدد بائیں طرف کیا ہے؟ پانچ۔ تو پانچ تو چھ سے چھوٹا ہے، جب چھوٹا ہے تو اب ساتھ والے عدد کو بھی ملائیں گے۔ تو 54 ہو گیا پورا، ساتھ والا عدد بھی ملا دیا۔ اب چھ کا پہاڑا پڑھیں یہاں تک کہ 54 تک ہم پہنچ جائیں یا اس سے نیچے رہیں، اوپر نہیں جانا بھئی۔ چھ ایکم چھ، چھ کتنے پر آئے گا 54؟ نو۔ چھ کو نو سے ضرب دیں، چھ نم 54۔ تو نو سے ضرب دیں تو 54 آئے گا، تو نو اس لکیر کے اوپر لکھ لیں گے۔ اور نیچے 54 کے نیچے 54 لکھ لیں گے جو ضرب دینے سے آیا اور نیچے منفی کرنا ہے اوپر والے 54 سے نیچے والے 54 کو، تو نیچے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ تو دیکھیے پورا پورا تقسیم ہو گیا۔ تو حاصلِ قسمت کیا آیا؟ نو، یہ حاصلِ قسمت ہے بھئی، یہ جواب ہے۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ اگلی مثال لکھیے بھئی، دیکھیے دو اور پھر اس کے بعد یہ تقسیم کی علامت ہے اور اس کے آگے 614، چھ ایک چار۔ جی تو ہمارے پاس یہاں دو عدد ہیں، ایک طرف دو ہے، دوسری طرف 614 ہے اور درمیان میں تقسیم کی علامت ہے، تو اس سے آپ کو فورا پتہ چل گیا کہ کس کو تقسیم کرنا ہے؟ 614 کو کیونکہ وہ دائیں طرف ہے اور تقسیم کس سے کرنا ہے؟ دو سے کیونکہ وہ بائیں طرف ہے بھئی۔ تو اب اسی طرح جس کو تقسیم کرنا ہے یعنی 614 اس کو لکھا چھ ایک چار۔ اوپر اسی طرح لکیر لگائی، بائیں کنارے پر خانہ بنا دیا اور اس خانے کے باہر کس سے تقسیم کرنا ہے؟ دو سے، وہ دو لکھ لیں گے۔ دو۔ اب لکیر کے نیچے کیا آیا؟ 614۔ اس میں سے بائیں طرف پہلا عدد کیا ہے؟ چھ ہے۔ تو دو کا پہاڑا پڑھیں یہاں تک کہ چھ آ جائے، دو ایکم دو، دو دونی چار اور دو تیہ چھ۔ تو دیکھیے تین سے ضرب دینے سے چھ آیا، تو اوپر لکیر کے اوپر تین لکھ لیں گے۔ چھ کے نیچے چھ لکھا اور چھ میں سے چھ نکالا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ تو اب اس کے ساتھ والے عدد میں سے ایک عدد اتاریں گے بھئی۔ ایک عدد۔ ایک ایک اتاریں گے بھئی، ایک ایک عدد اتاریں گے ساتھ نیچے، تو اب نیچے ہم نے صرف چھ کے ساتھ والا ایک عدد اتار لیا تو نیچے کیا آیا؟ ایک۔ اب دو سے تقسیم کرنا ہے ایک کو، اور ایک تو ہے دو سے چھوٹا۔ اب ہمیں دوسرا عدد بھی اتارنا پڑے گا لیکن ایک وقت میں ایک ہی عدد اتارنے کی اجازت ہوتی ہے، دوسرا عدد اتارنے کی اجازت نہیں۔ اگر دوسرا عدد بھی آپ کو اتارنا ہے تو پھر لکیر کے اوپر ایک صفر لگا دیں گے۔ تو وہ جو تین تھا اس کے ساتھ ایک صفر لگا دیا اور دوسرے عدد چار کو بھی اتار لیا، طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہ شروع میں جب آپ تقسیم کر رہے ہیں، مثلاً دو سے آپ نے پہلے کس کو تقسیم کیا؟ چھ کو۔ اگر چھ پورا چھ دو سے چھوٹا ہوتا تو پھر ساتھ والے عدد کو بھی ہم ملا جاتے۔ وہاں پر دو، تین، جتنے بھی عدد ساتھ ملانے کی ضرورت پیش آئے وہ ملا لیں گے اور وہاں ملا لیں گے اور اوپر صفر بھی نہیں آئے گا، لیکن اس کے بعد جوں جوں نیچے جائیں گے وہاں ایک وقت میں ایک ہی عدد اتارنے کی اجازت ہے، دوسرا عدد اتاریں گے تو صفر بڑھانا پڑے گا۔ تیسرا عدد بھی اتارنا پڑے تو پھر ایک اور صفر بڑھانا پڑے گا، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہاں پر بھی نیچے ایک اتارا تھا ہم نے پہلے، ایک تو دو سے تقسیم نہیں ہو سکتا تو ہمیں دوسرا عدد چار بھی اتارنا پڑا، تو اس کے لیے ہم نے اوپر ایک صفر تین کے ساتھ لگا دیا۔ تین کے ساتھ دائیں طرف صفر آ گیا، تو اب نیچے 14 آ گیا، اب دو کا پہاڑا پڑھیے کہ 14 آ جائے یا اس سے نیچے، اس سے اوپر نہیں جانا۔ دو ساڑھے چودہ۔ تو دو کو سات سے ضرب دینے سے چودہ آتا ہے، تو اوپر وہ تین کے ساتھ صفر لکھا تھا، اس کے ساتھ کیا لکھنے ہیں؟ سات لکھنے ہیں بھئی۔ تو نیچے یہ چودہ آگیا اور یہ ختم ہوا، پورا پورا تقسیم ہو گیا، تو اوپر کیا آیا؟ تین صفر سات، تین سو سات۔ یہ ہے جواب حاصلِ قسمت بھئی۔ یہ ہے حاصلِ قسمت بھئی۔ اگلی مثال دیکھیں۔ یہ ہمارے پاس دو عدد ہیں، پانچ چھ ایک عدد اور دوسری طرف ہے پندرہ سو نوے، ایک پانچ نو صفر۔ ایک پانچ نو صفر کو ہم نے تقسیم کرنا ہے پانچ سے۔ تو پہلے جس کو تقسیم کرنا ہے وہ عدد لکھا، ایک پانچ نو صفر، اور اسکو اب ہم تقسیم کریں گے، اس کے اوپر ہم نے لکیر لگائی، بائیں طرف وہ خانہ بنایا، اس کے باہر پانچ لکھا، تو لکیر کے نیچے آگیا پندرہ سو نوے، پانچ سے تقسیم کریں گے۔ سب سے پہلے ایک عدد بائیں طرف والا پکڑیں، نیچے جو ہیں، بائیں طرف کون سا عدد ہے؟ ایک ہے۔ اور ایک تو پانچ سے تقسیم نہیں ہو سکتا تو ساتھ والے عدد کو بھی اس کے ساتھ ملا لیں۔ کتنا ہوا؟ پندرہ۔ اب پانچ کا پہاڑا پڑھیں کہ پندرہ آ جائے۔ پانچ تیہ پندرہ، تو اوپر تین لکھا، پندرہ کے نیچے پندرہ لکھ دیا۔ نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ پندرہ میں سے پندرہ نکالا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا، تو ساتھ والے عدد نو کو ہم نے اتار لیا نیچے، جب وہ عدد نیچے آگیا، اب اس نو کو پانچ سے تقسیم کرنا ہے۔ پانچ اکم پانچ، پانچ دونی دس۔ تو دو سے ضرب دیں تو نو سے اوپر بات چلی جاتی ہے، ہم نے اوپر نہیں جانا یا اس کے برابر رہنا ہے یا اس سے کم رہنا ہے۔ تو پانچ کو ایک سے ضرب دیں تو پانچ آتا ہے، تو اوپر جو تین جواب آیا تھا، اس کے ساتھ ایک لکھ لیں۔ اور نو کے نیچے کیا لکھیں؟ پانچ اکم پانچ آیا، پانچ لکھ دیا۔ نیچے کتنا بچا؟ چار نیچے بچ گیا، نو میں سے پانچ نکالے۔ اب اوپر سے اگلا عدد اتارا، وہ کیا ہے؟ صفر، یہ کیا بن گیا؟ چالیس۔ اب پانچ کے ذریعے اسکو چالیس کو تقسیم کریں، پانچ اٹھے چالیس، پانچ کو آٹھ سے ضرب دیں تو چالیس آتا ہے، تو آٹھ اوپر وہ تین ایک کے ساتھ آٹھ بھی لکھ لیں۔ چالیس کے نیچے پانچ کو آٹھ سے ضرب دی پورا چالیس آیا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا، پورا تقسیم ہو گیا، تو یہ تین سو اٹھارہ یہ جواب آگیا، یہ حاصلِ قسمت ہے۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی۔ اگلی مثال بھئی۔ دو عدد ہیں ہمارے پاس، بائیں طرف ہے صرف نو، اور دوسری طرف ہے دو نو تین سات چھ، دو نو تین سات چھ یعنی انتیس ہزار تین سو چھہتر۔ اس کو ہم نے تقسیم کتنے سے کرنا ہے؟ نو سے تقسیم کرنا ہے۔ تو اسی طرح جس عدد کو تقسیم کرنا ہے یعنی انتیس ہزار تین سو چھہتر کو لکھا۔ جی اس کے اوپر لکیر لگائی، بائیں طرف وہ خانہ بنایا اور اس کے اوپر جس سے تقسیم کرنا ہے یعنی نو، وہ لکھ لیا۔ اب انتیس ہزار تین سو چھہتر، ان میں بائیں طرف عدد کون سا ہے؟ دو۔ تو نو سے تقسیم کرنا ہے دو کو، لیکن دو تو نو سے چھوٹا ہے، تو سات والے عدد کو بھی ملا لیں گے، انتیس ہو گیا، اب نو کا پہاڑا پڑھیے کہ انتیس آ جائے یا اس سے کم رہیں، اوپر نہیں جانا۔ نو تیہ ستائیس ہے اور نو چوک چھتیس، چھتیس میں ہم اس سے اوپر چلے جاتے ہیں، اوپر تو نہیں جانا، کم ہی رکھنا ہے، تو نو تیہ ستائیس جو ہے، یہاں اوپر اب تین لکھ لیں گے۔ اور لکیر کے اوپر، اور اس کے نیچے کیا لکھ لیں گے انتیس کے نیچے؟ ستائیس۔ جی، انتیس میں سے ستائیس نکالے، کتنے رہ گئے نیچے؟ دو رہ گئے بھئی۔ اب اوپر سے ایک عدد ہم نے اگلا عدد اتار لیا، وہ کیا ہے؟ تین۔ اب نیچے تئیس آگیا، اب نو کا پہاڑا نو دونی اٹھارہ، نو تیہ ستائیس، تو تین سے ضرب دیں تو اس سے اوپر چلی جاتی ہے بات، تو دہی سے ضرب دیں گے، نو دونی اٹھارہ، تو دو اوپر تین کے ساتھ لکھ لیں گے، اور تئیس کے نیچے کیا لکھ لیں گے؟ اٹھارہ۔ تئیس میں سے اٹھارہ نکالا کتنے رہ گئے؟ پانچ نیچے رہ گئے۔ اب اگلا عدد ہم نے اوپر سے نیچے اتارا، تین کے ساتھ اوپر کیا تھا؟ سات، وہ سات پانچ کے ساتھ آگیا، یہ ستاون آگیا نیچے، اب نو پنجے پینتالیس، نو چھکے چون اور نو ستے تریسٹھ، تو تریسٹھ تو بات اوپر چلی گئی، ستاون کے برابر یا اس سے نیچے ہم نے رہنا ہے، اور وہ کتنے میں آئے گا؟ چھ کے، چھ کے ساتھ نو کو چھ سے ضرب دیں اگر، تو لہٰذا اوپر جو تین اور دو تھا، اس کے ساتھ ساتھ چھ بھی لکھ لیں گے۔ اور کتنا آیا؟ نو چھکے چون۔ تو ستاون کے نیچے چون لکھ دیا، اور ستاون میں سے چون کو نکالا کتنے رہ گئے؟ تین رہ گئے۔ اب اوپر سے اگلا عدد اتاریں گے، وہ کیا ہے؟ چھ، تو چھ بھی تین کے ساتھ لکھ دیا، یہ چھتیس ہو گیا۔ اب نو کو کتنے سے ضرب دیں کہ چھتیس آ جائے؟ چار سے، نو چوک چھتیس، تو چار اوپر جواب کے ساتھ لکھ دیں گے۔ اور چھتیس کے نیچے چھتیس لکھا، نیچے لکیر لگائی، ختم ہو گیا، کچھ بھی نہیں بچا۔ تو یہ اوپر حاصلِ قسمت آگیا، تین دو چھ چار یعنی تین ہزار دو سو چونسٹھ، یہ جواب آیا۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی۔ اگلی مثال۔ اگلی مثال ہمارے پاس دو عدد ہیں، ایک عدد ہے بائیں طرف چھ، درمیان میں علامت ہے تقسیم کی، اور دوسری طرف ہے دو ایک صفر صفر چھ، دو ایک صفر صفر چھ یعنی اکیس ہزار چھ۔ اس کو ہم نے تقسیم کرنا ہے کتنے کے ساتھ؟ چھ کے ساتھ۔ تو جسے تقسیم کرنا ہے پہلے وہ لکھیں، دو ایک صفر صفر چھ۔ اور اس کے اوپر لکیر لگائیں، بائیں طرف وہ خانہ بنائیں، اور تقسیم کس سے کرنا ہے؟ چھ سے، وہ چھ باہر لکھ دیں۔ اب پہلا عدد اکیس ہزار چھ میں سے پہلا عدد ہے دو، تو یہ دو تو چھ سے چھوٹا ہے، لہٰذا سات والا عدد بھی ملا دیں گے، کیا بن گیا؟ اکیس، بھئی اکیس بن گیا۔ اب چھ کا پہاڑا پڑھیں کہ اکیس کے برابر یا اس سے کم رہیں، چھ اکم چھ، چھ دونی بارہ، چھ تیہ اٹھارہ اور چھ چوکے چوبیس، چوبیس تو اس سے اوپر چلا جاتا ہے، لہٰذا تین تک ہی رکھیں، چھ تیہ اٹھارہ۔ اوپر تین لکھا لکیر کے، اور اکیس کے نیچے اٹھارہ لکھ دیا۔ جی، اکیس میں سے اٹھارہ نکالیں کتنے رہ گئے؟ تین رہ گئے۔ اب اوپر سے اگلا عدد اتار لیا، اور وہ ہے صفر، یہ کیا بن گیا؟ تیس، بھئی۔ اب چھ کا پہاڑا پڑھیں کہ تیس آ جائے یا اس سے کم رہے، چھ پنجے تیس، بھئی، تو اوپر تین کے ساتھ پانچ لکھیں، اور تیس کے نیچے تیس لکھیں، یہ پورا پورا تقسیم ہو گیا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ اب اگلا عدد اوپر سے اتاریں گے بھئی۔ اگلا عدد کیا تھا؟ صفر، ہم نے صفر نیچے اتار لیا۔ لیکن صفر چھوٹا ہے چھ سے، تو اب ہمیں اگلا عدد بھی اتارنا پڑے گا، تو کیا کریں گے؟ اوپر ایک صفر لگا دیں گے۔ شاباش۔ اگلا عدد چھ اتارا، اور اوپر پانچ کے ساتھ ایک صفر لگا دیا۔ اور میں نے بتایا تھا، تو اب یہ نیچے آپ کے پاس ہے صفر چھ، صفر چھ کا کیا معنی؟ چھ ہے، کیونکہ بائیں طرف صفر ہوں، تو ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ جی، تو اب نیچے گویا کہ صرف چھ ہے ہمارے پاس، اور چھ کو، چھ کا پہاڑا پڑھیں کہ چھ آ جائے بھئی۔ چھ اکم چھ، چھ یعنی ایک سے ہی ضرب دینے سے چھ آئے گا، تو اوپر ایک لکھا، چھ کے نیچے چھ لکھا، اور یہ پورا تقسیم ہو گیا، یہ ہمارے پاس اوپر جواب آگیا تین پانچ صفر ایک، یعنی تین ہزار پانچ سو ایک۔ ایک اور مثال، آخری مثال کر لیں۔ اچھا بھئی، یہ ہمارے پاس دو عدد ہیں، پہلا عدد جو بائیں طرف ہے وہ ہے تین، اور دائیں طرف ہے ہمارے پاس ایک پانچ صفر صفر ایک تین آٹھ نو تین بھئی۔ تو یہ عدد ہے ہمارے پاس جس میں نو ہندسے ہیں، یہ کتنا بنے گا بھئی؟ پندرہ کروڑ۔ پندرہ کروڑ تیرہ ہزار آٹھ سو ترانوے، اس کو ہم نے تقسیم کرنا ہے کس کے ساتھ؟ تین کے ساتھ، بھئی۔ دیکھیے اسی طرح پہلے یہ عدد لکھ لیجیے جس کو تقسیم کرنا ہے، پندرہ کروڑ تیرہ ہزار آٹھ سو ترانوے، اس کے اوپر لکیر لگائی، بائیں طرف وہ خانہ بنایا، تین لکھا جس سے ہم نے تقسیم کرنا ہے۔ جی، اب سب سے پندرہ کروڑ تیرہ ہزار آٹھ سو ترانوے میں سے بائیں طرف پہلا عدد کیا ہے؟ ایک۔ ایک تو تین سے چھوٹا ہے، وہ پورا تقسیم نہیں ہو سکتا تو ساتھ والے عدد کو بھی ملا لیں گے، تو کتنا بن گیا؟ پندرہ، اب تین کا پہاڑا پڑھیے کہ پندرہ آ جائے بھئی۔ تین پنجے پندرہ، اوپر پانچ لکھا، پندرہ کے نیچے پندرہ لکھ لیا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ اب اگلا عدد اوپر سے اتارا، صفر۔ صفر تو تین سے چھوٹا ہے، وہ تقسیم نہیں ہو سکتا، تو اس سے اگلا عدد ہمیں اتارنا پڑے گا، لیکن پھر کیا کریں گے؟ ہاں، تو اوپر بھی پھر ایک صفر لگائیں گے۔ اگلا عدد کو نیچے اتارا وہ بھی صفر ہے بھئی، اب بھی تقسیم نہیں ہو سکتا، صفر ہی ہے نیچے، تو اس سے اگلے عدد کو اتاریں گے۔ اس سے اگلا عدد کیا ہے؟ ایک، اس کو اتاریں گے لیکن کیا کرنا پڑے گا؟ اوپر ایک اور صفر لگائیں گے۔ اور نیچے اگلا عدد ایک اتار لیا۔ ابھی بھی یہ عدد چھوٹا ہے تین سے بھئی۔ ایک ہے ہمارے پاس صِف۔ صرف، تو پھر اب ہمیں مجبورا ایک اور عدد اتارنا پڑے گا، جب ایک اور عدد اتاریں گے تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ اوپر ایک اور صفر لگائیں گے۔ تو یہ اب ہمارے پاس نیچے آگیا تیرہ، بھئی، کیا آیا؟ تیرہ۔ اب تین کا پہاڑا پڑھیں کہ تیرہ آئے یا اس سے کم رہے، اوپر نہیں جانا۔ تین چوکے بارہ، تو اور تین پینے پندرہ، پانچ سے ضرب دیں پھر تو بات اوپر چلی جاتی ہے، لہٰذا صرف کہاں تک رہیں گے؟ چار تک، تین چوکے بارہ، تو اوپر جو ہے چار لکھیں گے۔ صفر کے ساتھ چار بھی آگیا، اور تیرہ کے نیچے کیا لکھ لیں گے؟ بارہ۔ بچتے تیرہ میں سے بارہ نکالے کیا رہ گیا؟ ایک رہ گیا۔ اگلے عدد کو ساتھ اتاریں، آٹھ ہے، آٹھ کو ساتھ لکھ دیا۔ جی، نیچے اب اٹھارہ آگیا، اب تین کو پہاڑا پڑھیں کہ اٹھارہ آ جائے، تین چھکے اٹھارہ، اوپر چھ لکھا، اٹھارہ کے نیچے اٹھارہ لکھا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ اگلے عدد کو نیچے اتاریں، اگلا عدد کیا ہے؟ نو، نو کو نیچے اتارا، اب تین کا پہاڑا پڑھیں کہ یہ عدد اس کے برابر پہنچ جائیں یا اس سے کم رہیں، تین تیہ نو، تو اوپر ہم تین لکھ لیں گے، اور نو کے نیچے نو لکھا، نیچے کچھ بھی نہیں بچا۔ اگلا عدد اتارا اوپر سے، تین ہے بھئی، اگلا عدد تین آگیا۔ اب تین کا پہاڑا پڑھیں کہ تین آ جائے، تین اکم تین بھئی، تو اوپر ایک لکھا، تین کے نیچے تین لکھا، تو یہ اب پورا تقسیم ہو گیا، ختم ہو گیا۔ تو یہ ہمارے پاس اوپر جواب آگیا حاصلِ قسمت، پانچ صفر صفر صفر چار چھ تین ایک، یعنی کتنا ہے یہ؟ پانچ کروڑ چار ہزار چھ سو اکتیس یہ ہمارے پاس جواب آیا حاصلِ قسمت بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی، اچھی طرح؟ یہ وہ ساری مثالیں تھیں جو پورا پورا تقسیم ہو جاتی ہیں بھئی۔ باوقات پوری تقسیم نہیں ہوتی، نیچے کچھ نہ کچھ بچ جاتا ہے۔ وہ آگے انشاءاللہ کریں گے وہ مثالیں بھی بھئی۔ بس جس سے بھی تقسیم کرنا ہے، اس کا پہاڑا پڑھنا پڑے گا ہم کو۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو میں نے آسان آسان مثالیں حل کروائیں، جس سے تقسیم کر رہے تھے، وہ کبھی تین تھا، کبھی چھ تھا، کبھی دو تھا، کبھی پانچ تھا، کبھی نو تھا، تو کبھی تقسیم جس سے کر رہے ہیں وہ دو ہندسے ہوتے ہیں، کبھی تین ہندسے ہوتے ہیں، کبھی چار، وہ بھی کافی ہندسے بن جاتے ہیں، تو طریقہ پھر بھی وہی ہے، وہاں آپ ضربیں دے دے کر دیکھتے جائیں کہ اگلے عدد کے برابر پہنچ جائے یا اس سے کم رہے، اوپر نہ جائے بات بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا وللمرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 32 of 92