ثم عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی ما أصاب کل فریق یقسم علی أبدان فروعہم مع اعتبار عدد الجہات فی الفروع۔ وعند محمد رحمہ اللہ تعالی یقسم المال علی أول أول بطن اختلف مع اعتبار عدد الفروع والجہات فی الاصول کما فی الصنف الاول۔
ذوی الارحام میں سے چوتھی قسم ہم پڑھ رہے تھے یعنی پھوپی، اخیافی چچا، خالہ اور ماموں وغیرہ اور ان کی جو اولاد ہے تو اب یہ ان کی اولاد کا ذکر چل رہا ہے اور بتلایا تھا آخر میں کل گزشتہ سبق کے آخر میں آیا تھا کہ اگر یہ جو اولاد ہیں برابر درجے کی ہوں تو پھر ان میں سے جس کو قوت قرابت ہوگی اسے ترجیح ہوگی۔ لیکن اگر یہ دونوں جہت کے ہیں یعنی کچھ ماں کی طرف کے ذوی الارحام ہیں اور کچھ والد کی طرف کے ذوی الارحام ہیں برابر درجے کے، پھر قوت قرابت کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ دونوں کو مال ملے گا۔ البتہ جو باپ کی جانب ہیں ان کو باپ کا حصہ یعنی دو تہائی دیا جائے گا اور جو ماں کی طرف ہیں ان کو ماں کا حصہ یعنی ایک تہائی مال ملے گا بھئی اور پھر اس کو وہ آپس میں تقسیم کر لیں گے اگر وہ کئی افراد ہوئے۔ یرحمک اللہ۔ اگر وہ کئی افراد ہوئے تو پھر کیا کر لیں گے اس کو آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ اب کس طرح تقسیم کریں گے وہ بیان کرنے لگے ہیں۔
ثم عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی پھر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ما أصاب کل فریق وہ جو پہنچے ہر فریق کو یعنی جو حصہ ملے ہر فریق کو یقسم علی أبدان فروعہم وہ تقسیم کیا جائے گا ان کے فروع کے بدنوں پر ان کے فروع کے بدنوں کو دیکھا جائے گا یعنی جتنے افراد ہوں گے اس اعتبار سے ان میں مال تقسیم کیا جائے گا۔ مع اعتبار عدد الجہات فی الفروع ساتھ اعتبار کرتے ہوئے عدد جہات کا بھی فروع میں یعنی اس میں فروع کے ابدان کو بھی ان کے بدنوں کو بھی دیکھا جائے گا کہ کتنے افراد ہیں اور جہت کو بھی دیکھا جائے گا۔ جہت کو بھی۔
تو اس طرح صورت ہوگی بھئی یہ مثال لکھ لیجیے آگے آپ کے حاشیے میں بھی دی ہوگی۔ یہیں پر آپ حل کر لیں بھئی۔
مثال نمبر 119 بھئی۔ مثال نمبر 119۔ مثال نمبر 119۔ میت بنائیے بھئی۔ اوپر لکھ لیجیے بھئی عند ابی یوسف رحمہ اللہ۔ مثال نمبر 119 کے آگے لکھ لیں عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی۔
میت بنا لی بھئی؟ اب یاد رکھیے اس کے نیچے چھ نام لکھنے ہیں چھ افراد ہیں۔ عمۃ لأب، عمۃ لأب یعنی علاتی پھوپی۔ عمۃ لأب۔ پھر ایک اور لکھیں عمۃ لأب۔ عمۃ لأب۔ پھر تیسرے نمبر پر لکھیں عم لٔاب۔ عم لٔاب۔ علاتی چچا۔ اس سے آگے چوتھے نمبر پر لکھیں خالۃ لأب۔ خالۃ لأب۔ یعنی علاتی خالہ۔ اس سے آگے لکھیے بھئی خالۃ لأب۔ خالۃ لأب ایک مرتبہ پھر لکھیں۔ دو ہوگئیں بھئی خالۃ لأب۔ اور پھر چھٹے نمبر پر ہے خال لأب۔ خال لأب یعنی علاتی ماموں بھئی۔
تو یہ چھ نام لکھ لیے بھئی۔ عمۃ لأب اس کے بعد پھر تھا عمۃ لأب اس کے بعد تھا عم لٔاب۔ اس کے بعد دو مرتبہ ہے خالۃ لأب۔ اور پھر آخر میں ہے خال لٔاب۔ اچھا۔ اب عمۃ لأب کے نیچے لکھیں بنت۔ بنت۔ بنت۔ اور اس کے نیچے لکھیں ابنانی۔ ابنانی۔ یرحمک اللہ۔
अच्छा۔ عمۃ لأب کے نیچے لکھیں ابن۔ اگلے اگلی عمہ جو دوسرے نمبر پر ہے اس کے نیچے لکھیں ابن۔ آگے عم لٔاب جو ہے اس کے نیچے لکھیے بنت۔ عم لٔاب جو ہے اس کے نیچے لکھیے بنت۔ اب ان دونوں یہ جو آیا نا ابن اور بنت ان کے نیچے درمیان میں لکھیں بنتانی۔ یہ ان دونوں کی اولاد ہیں۔ ان کے نیچے درمیان میں لکھیں بنتانی اور پھر دونوں سے لکیر ملا دیں، جوڑ دیں تاکہ پتہ چلے یہ دونوں کی اولاد ہیں بنتانی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی کس طرح بنانی ہے؟ عمۃ لأب جو دوسرے نمبر پر ہے اس کے نیچے ہے ابن اور آگے تھا عم لٔاب اس کے نیچے ہے بنت۔ اور پھر یہ جو ابن اور بنت دوسرے پشت میں آئے ان کے نیچے درمیان میں لکھنا ہے بنتانی یہ اس ابن اور بنت کی اولاد ہے دو بیٹیاں۔ اور دونوں کے ساتھ لکیر کے ذریعے جوڑ دیں اس بنتانی کو ابن کے ساتھ بھی اور بنت کے ساتھ بھی۔ آگے آئیے بھئی۔ آگے ہے خالۃ لأب جو پہلے نمبر پر، اس کے نیچے لکھیے بنت۔ بنت۔ اس بنت کے نیچے لکھیں بنتانی۔ بنتانی۔ اس سے آگے جو دوسرے نمبر پر خالۃ لأب ہے اس کے نیچے لکھیے ابن۔ ابن۔ اور خال لٔاب کے نیچے لکھیے بنت۔ خال لٔاب کے نیچے لکھیے بنت۔ پھر یہ جو ابن اور بنت آیا اس کے نیچے درمیان میں لکھیے ابنانی۔ ابنانی۔ یہ یہ اس ابن اور بنت کی اولاد ہے تو دونوں کے ساتھ لکیر کے ذریعے جوڑ دیں بھئی۔ صورت بنا لی؟
تو دیکھیے یہ پہلی جو علاتی پھوپی تھی اس کے دو نواسے ہیں بھئی نیچے اور اس سے آگے جو علاتی پھوپی اور علاتی چچا ان کے نیچے علاتی پھوپی کی دو پوتیاں ہیں اور یہی دو پوتیاں دراصل علاتی چچا کی نواسیاں ہیں بھئی۔ اس سے آگے بنایا تھا خالۃ لأب اس کے نیچے دیکھیے اس کی دو نواسیاں ہیں۔ اور آگے جو خالۃ لأب اور خال لٔاب آیا تھا علاتی خالہ اور علاتی ماموں تو یہ جو علاتی خالہ ہے اس کے دو پوتے ہیں اور یہی جو ہیں یہ جو دو پوتے یہ علاتی ماموں کے نواسے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
अच्छा۔ بھئی اگر صرف پہلی پشت ہو عمۃ لأب، عمۃ لأب، عم لٔاب یہ زندہ ہوں تو مال کس طرح تقسیم ہوگا؟ جی؟ ہاں۔ شاباش! یہ عم لٔاب یہ عصبہ ہے یہ سارا مال لے جائے گا باقی تو سارے کیا ہیں ذوی الارحام ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ اچھا اگر دوسری نسل ہو پھر کس طرح تقسیم ہوگی بھئی؟
دوسری نسل، دوسری پشت جو ذکر ہو رہی ہے درمیان میں، اگر یہ زندہ ہو، یہ سارے، تو پھر مال کس طرح تقسیم ہوگا؟
جی؟
ہاں دو حصے باپ کی طرف والوں کے اور ایک حصہ ماں کی طرف۔ پھر باپ کی طرف والوں میں دیکھیے قرابت سب کی برابر ہے۔ جب قرابت برابر ہو، تو اس کے بعد کس کو دیکھا جاتا ہے؟
عصبہ۔ قوت قرابت میں برابر ہیں، تو پھر عصبہ کی اولاد کو دیا جاتا ہے۔ اور ان میں سے کون سی عصبہ کی اولاد ہے؟
ہم تین۔
ہاں، لاتی چچا کی بیٹی، صرف اس کو مل جائے گا سارا مال۔ جبکہ دوسری طرف،
دوسری طرف تینوں میں کیا ہوگا مال تقسیم ہوگا بھئی وہ جو ایک حصہ ان کو ملا تھا وہ ان میں تینوں میں تقسیم ہوگا۔ بہرحال ہم نے جو اس وقت صورت بنائی، یہ تیسری پشت جو ہے، یہ زندہ ہے، اب ان میں مال کو تقسیم کرنا ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے طریقے پر بھئی۔
بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی طرح باپ کی جہت والوں کو کتنا مال دے دیتے ہیں؟ دو ثلث۔ اور ماں کی جانب والوں کو ایک ثلث۔ لہذا یہ جو تیسری پشت میں ابنانی اور بنتانی ہیں پہلے۔
ابنانی اور بنتانی ان کو کتنا حصہ ملے گا؟ دو ثلث۔ اور آگے جو بنتانی اور ابنانی ہیں تیسری پشت میں ان کو کتنا ملے گا؟ ایک ثلث۔
تو لہذا بنائیے مسئلہ، اوپر تین لکھیں۔
اوپر تین لکھیں اس سے مسئلہ بنا اور نیچے جو پہلے ابنانی اور بنتانی ہیں ان کے نیچے لکیر کھینچ کر ان کو ملائیں
اور اس کے نیچے دو لکھ لیں۔ دو تہائی ان کو مل گیا تین میں سے۔
اور آگے بنتانی اور ابنانی جو ہیں ان کے نیچے لکیر کھینچیے ان اور اس لکیر کے نیچے درمیان میں ایک لکھیں بھئی، یہ ایک تہائی ان کو مل گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
جی۔
اب دیکھیے، اب یہ مال ان میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ہم، لیکن دیکھیے کسر آ رہی ہے۔
پہلے کون ہے بھئی باپ کی جانب میں؟
تیسری پشت میں ابنانی، دو بیٹے ہیں۔ بنتانی اور دو بیٹیاں ہیں۔ دو بیٹیاں۔
لیکن یہ دو بیٹیاں یہاں پر جہت کا بھی خیال رکھنا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ یہ دو جانب سے ہیں دو بیٹیاں، تو یہ چار شمار ہوں گے۔ کتنی شمار ہوں گی؟
چار شمار ہوں گے۔
اور چار بیٹیاں کتنے بیٹوں کے برابر ہوتی ہیں؟
کتنے بیٹوں کے برابر؟ دو بیٹوں کے برابر، گویا یہاں دو بیٹے ہیں۔
اور دوسری طرف بھی کتنے تھے؟
بھئی پہلے پہلے، سب سے شروع میں نیچے وہ بھی دو بیٹے ہیں اور یہ جو بنتانی تھیں یہ بھی دراصل کس کے برابر ہو گئیں؟ دو بیٹوں کے برابر تو گویا کل کتنے بیٹے ہیں یہاں پر؟ چار بیٹے ہیں اور مال کتنا مل رہا ہے ان کو؟ دو۔ تو یہاں لکیر کے اوپر درمیان میں لکھ لیں چھوٹا سا عددِ رؤوس چار ہے۔
بھئی بیٹوں کو اگر بیٹیاں شمار کریں تو ہر بیٹا دو بیٹیوں کے برابر اور بیٹیوں کو بیٹا شمار کریں تو دو بیٹیاں کس کے برابر؟ ایک۔ تو حساب کو مختصر کرنے کے لیے ہم نے بیٹیوں کو کیا بنا دیا؟ بیٹا فی الحال بنا دیا تاکہ حساب مختصر رہے بھئی تو عددِ رؤوس کتنا آیا؟ چار اور حصہ کتنا ملا؟ دو۔ اب آئیے ماں کی جانب والے جو ہیں یہاں کیا ہیں؟ دو بیٹیاں ہیں
یہ ایک لاتی خالہ کی طرف سے۔ اور دوسری طرف کیا ہیں؟ دو بیٹے ہیں لیکن وہ دو جہت سے ہیں، تو کتنے شمار ہوں گے؟ چار بیٹے تو اس طرف ہوئے چار بیٹے اور ساتھ کیتی تھیں دو بیٹیاں وہ دو بیٹیاں کتنے بیٹوں کے برابر؟ ایک۔ تو چار بیٹے اور ایک پھر بیٹا کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ گویا یہاں عددِ رؤوس پانچ ہو گیا بھئی۔
درمیان میں لکھ لیں بھئی! عددِ رؤوس پانچ بھئی چھوٹا سا اور حصہ کتنا ملا ہے؟ ایک بھئی۔
اب
پہلی اس اس کی طرف آئیے باپ کی جانب جو ہیں عددِ رؤوس ہے چار
اور حصہ ملا ہے دو، کسر آ رہی ہے، تو اب کیا کریں گے؟
نسبت دیکھیں گے عددِ رؤوس کی حصے کے ساتھ کیا نسبت ہے؟
عددِ رؤوس ہے چار، حصہ ملا ہے دو، چار اور دو میں کون سی نسبت؟
جی؟ تداخل لیکن تداخل بھی کس کی طرح ہے یہاں؟ توافق کی طرح تو
دونوں کس سے تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو سے تو چار کو دو سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ دو، یہ پہلا عددِ رؤوس آیا اس کو ایک طرف لکھ لیں گے بھئی۔
अच्छा
اگلے ماں کی جانب میں دیکھا تو عددِ رؤوس ہے پانچ اور حصے ملے ایک، پانچ اور ایک میں کون سی نسبت؟ تبائن تو لہذا اس عددِ رؤوس کو اسی طرح رکھیں گے، تو یہ دوسرا عددِ رؤوس آ گیا پانچ، پہلا کیا تھا؟ دو، دوسرا کیا آیا؟ پانچ۔
اب ان دونوں کی آپس میں نسبت دیکھیں دو اور پانچ میں تبائن ہے، تو اس کو پورے کو پورے کے ساتھ ضرب دے دیں گے پانچ دونی دس۔ اور پھر اس دس کو پورے مسئلے کے ساتھ ضرب دے دیں گے۔
سب سے پہلے اوپر تین جو جس سے مسئلہ بنایا تھا اس سے دس کو ضرب دی
تو کیا جواب آیا؟ تیس۔ تو تین کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر تیس لکھ لیجئے۔
اور اس پر تیس لکھیں۔ نیچے بھئی۔
کتنا حصہ ملا تھا باپ کی جانب والوں کو؟ دو، اس کو بھی دس سے ضرب دی کتنا بن گیا؟ بیس۔ تو دو کے نیچے بیس لکھ لیجئے بھئی۔
دو کے نیچے بیس بھئی۔ اور ماں کی جانب والوں کو حصہ ایک ملا تھا اس کو بھی دس سے ضرب دی تو دس جواب آیا، تو ایک کے نیچے دس لکھ لیں۔
अच्छा यह तो था मजमुआ। बाप की जानिब वालों को बीस मिल गया और मां की जानिब वालों को दस। अब इसको उनके अफराद में भी تقسیم کرنا ہے۔
کس طرح؟
بھئی باپ کی جانب پہلے دیکھتے ہیں، کتنا حصہ ملا ہے؟ بیس۔ اچھا اور افراد کتنے ہیں اوپر؟
اب عددِ رؤوس کو چھوڑیں، اب افراد کو دیکھیں۔ ایک طرف ہیں دو بیٹے، دوسری طرف کیا ہیں؟ چار بیٹے اور وہ بھی کس کی طرح ہیں؟ دو بیٹوں کی طرح ہی ہیں تو گویا ایک طرف بھی دو بیٹے، دوسری طرف بھی تو دو بیٹے تو مال گویا آدھا آدھا تقسیم ہو جائے گا۔
تو
اس سے جو آپ نے جو بیس لکھا نا، اس سے نچلی سطر میں بیٹوں کی سیدھ میں نیچے دس لکھ لیں، بیس کا آدھا دس، اور دس جو ہے وہ بیٹیوں کی سیدھ میں ان کے نیچے لکھ لیں بھئی۔
دس حصہ ہو گیا دو بیٹوں کا اور دس حصہ ہو گیا دو بیٹیوں کا بھئی جو در جو کس کے درجے میں ہیں؟ چار بیٹیوں کے درجے میں ہیں۔
دوسری طرف اب آئیے ماں کی جانب میں، کل حصہ کتنا ملا ہے؟ دس۔ اور
دس ایک طرف ہیں دو بیٹیاں
اور دو بیٹیاں یعنی ایک بیٹے کے درجے میں اور دوسری طرف چار بیٹے
تو چار بیٹے کس کے درجے میں ہیں؟ آٹھ بیٹیوں کے درجے میں اور دوسری طرف ہیں دو بیٹیاں، آٹھ اور دو دس تو گویا ہر بیٹی کو دس میں سے ایک ایک حصہ پورا پورا ملے گا، تو بیٹے دو بیٹیوں کو کتنا ملے گا دس میں سے؟ دو تو بیٹیوں کے نیچے لکھ لیں دو۔
نیچے بھئی جو دس لکھا تھا نا آپ نے اس دس سے نچلی سطر میں بیٹیوں کی سیدھ میں دو لکھ لیں۔
اور
دو ان کو دے دیا دس میں سے تو باقی کتنا بچا؟ آٹھ، وہ جو بیٹے ہیں ان کی سیدھ میں ان کے نیچے لکھ لیں آٹھ بھئی۔
تو یہ صورت ہوئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کہ ان کے نزدیک
اولاً تقسیم کیا ہوگی؟ باپ کی جانب والوں کو دگنا ملے گا اور ماں کی جانب والوں کو ایک وہ ایک ثلث ملے گا اور پھر اس کے بعد نیچے فروح میں ان کے ابدان کو بھی یعنی افراد کو بھی دیکھنا ہے اور جہت کو بھی دیکھنا ہے۔
چنانچہ وہ جو دو بیٹیاں تھیں وہ دو جہت سے تھیں تو ان کو چار شمار کیا باپ کی جانب۔ اور ماں کی جانب دو بیٹے جو تھے وہ دو جہت سے تھے تو ان کو کیا شمار کیا؟ چار شمار کیا اور اس طرح پھر یہ تقسیم ہوئی بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
تو یہی بات انہوں نے کتاب میں بھی بیان کی ثم عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی ما صاب کل فریق یقسم علی ابدان فروهم مع اعتبار عدد الجهات فی الفروع
پھر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ جو ملے ہر فریق کو وہ تقسیم کیا جائے گا ان کے فروح کے ابدان پر مع اعتبار عددِ جہات فی الفروع ساتھ اعتبار کرتے ہوئے عددِ جہات کا بھی فروح میں۔
چلیے بس بھئی، باقی پھر کریں گے۔ هذا والله أعلم بحقيقة الكلام