Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
تو میت کے ترکے سے کتنے حقوق متعلق ہوتے ہیں؟ چار۔ سب سے پہلے تجہیز و تکفین کریں گے، اس کے بعد دیون ادا کیے جائیں گے، بھئی۔ اور میں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا، بھئی، کہ اگر اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اگر کسی حق اللہ کسی شخص کے ذمے باقی ہو، اس نے زکات دینی ہے، اس کے ذمے باقی ہے، یا روزوں کا فدیہ اس کے ذمے باقی ہے، تو پھر اس صورت میں اس کا انتقال ہو جائے تو وارثوں کے ذمے وہ لازم نہیں، الا یہ کہ اس نے وصیت کی ہو، بھئی۔ اور وصیت کی ہو تو پھر اس کا اعتبار کیا جائے گا، لیکن یہ پھر دین میں سے نہیں ہوگا، اس کا اعتبار وصیت میں کیا جائے گا، تو یہ تیسرے نمبر پر چلا جائے گا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں پھر اس کے بعد۔ تو دوسرے نمبر پر دیون کو ادا کریں گے، تیسرے نمبر پر وصیت کو نافذ کریں گے، اور جو مال باقی بچا ہو، اور زیادہ سے زیادہ کتنے کی وصیت جائز ہے؟ ثلث کی۔ مانع کیا ہے؟ وارثوں کا حق۔ لہذا اگر وہ کہیں ہماری طرف سے اجازت ہے، پھر تو سارے مال کی وصیت بھی درست ہو جائے گی اور اس پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اور پھر چوتھے نمبر پر وارثوں کے درمیان وبقیہ مال کو تقسیم کیا جائے گا۔ تو آج یہ جو چوتھا حق ہے ترکے سے متعلق اس کی تفصیل ہم پڑھیں گے، بھئی۔ اس کی تفصیل پڑھیں گے۔ یاد رکھیے، تجہیز و تکفین اور قرضوں کو ادا کرنے کے بعد اور ثلث میں وصیت کو نافذ کرنے کے بعد جو مال باقی بچے گا، وہ وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور یہ وارث یا جن کو مال دیا جائے گا، یہ دس قسم پر ہیں، بھئی، ان کے نام لکھ لیجیے تاکہ یاد رہیں، بھئی۔ دس قسم پر ہیں۔ نمبر ایک: ذوی الفروض۔ نمبر ایک: ذوی الفروض۔ نمبر دو: عصبات نسبی۔ عصبات نسبی۔ نمبر تین: عصبہ سببی۔ عصبہ سببی۔ نمبر چار: عصبہ سببی کے عصبات۔ عصبہ سببی کے عصبات۔ اولاً نسبی، ثانیاً سببی۔ ابھی تشریح آئے گی آگے، بس فی الحال نام لکھنے ہیں۔ چوتھے نمبر پر عصبہ سببی کے عصبات، اولاً نسبی، ثانیاً سببی۔ ثانیاً سببی، بھئی۔ نمبر پانچ: نسبی ذوی الفروض پر، نسبی ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے بقدر رد۔ ان کے حصوں کے بقدر رد۔ نمبر چھ: نمبر چھ: ذوی الارحام۔ ذوی الارحام۔ نمبر سات: مولاے موالات۔ مولاے موالات۔ نمبر آٹھ: مقر لہو، مقر لہو، مقر لہو بالنصب علی الغیر۔ مقر لہو بالنصب علی الغیر۔ نمبر نو: موصی لہو ص کے ساتھ ہے، بھئی۔ ص اور یا۔ موصی لہو بجمیع المال۔ بجمیع المال۔ اور نمبر دس: بیت المال۔ بیت المال۔ لکھ لیے، بھئی؟ یہ دس قسم ہوئے وارث، اور ان کو ترتیب سے دیں گے، بھئی۔ سب سے پہلے ذوی ذوی الفروض ہیں، بھئی۔ ذوی الفروض۔ اور ذوی الفروض، بھئی، ان کو جن کے حصے مقرر ہیں، کتاب اللہ، سنت رسول اور اجماع میں، بھئی۔ اجماع سے ثابت ہیں۔ ذوی الفروض وہ وارث ہیں جن کے باقاعدہ حصے مقرر ہیں۔ فرض حصے کو کہتے ہیں۔ ذوی الفروض کا کیا معنی ہوا؟ حصوں والے۔ حصوں والے۔ تو ان کے باقاعدہ حصے مقرر ہیں، اور وہ حصے ثابت ہوں گے کتاب اللہ کے ذریعے یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے یا اجماع امت کے ذریعے۔ اجماع امت کے ذریعے۔ تو ان کے ان سے اگر مال بچے گا، تو پھر اس کے بعد ہم کس کو دیں گے دوسرے نمبر پر؟ عصبات کو۔ اور اگر یہی مال ختم ہو گیا، تو عصبات کو اور باقیوں کو کچھ نہیں ملے گا، بھئی۔ یہی مال اگر پورا تقسیم ہو گیا، تو عصبات کو کچھ نہیں ملے گا۔ اور مقررہ حصے چھ ہیں، بھئی، چھ۔ مقررہ حصے چھ ہیں، بھئی: نصف، نصف، یعنی آدھا۔ ربو، ربو، یعنی چوتھا حصہ۔ ثمن، ثا کے ساتھ، یعنی آٹھواں حصہ۔ پہلا کیا ہے؟ آدھا حصہ، یعنی نصف۔ دوسرا، ربو۔ تیسرا، ثمن، یعنی آٹھواں حصہ۔ ثلثان، بھئی، ثلثان۔ ثا کے ساتھ، دونوں جگہ ث آئے گی۔ ثلثان۔ دو تہائی جس کو کہتے ہیں، بھئی۔ تو پورے مال کے دو حصے کر دے، تین حصے کر دیں، تو تین میں سے دو، یہ کیا کہلاتے ہیں؟ ثلثان، دو تہائی، بھئی۔ چوتھا حصہ ہے ثلث، بھئی۔ ثلث۔ پانچواں، پانچواں حصہ ہے ثلث، یعنی تیسرا حصہ، تہائی۔ اور چھٹا حصہ ہے سدس، سین ہے دونوں جگہ، بھئی، سدس، یعنی چھٹا حصہ۔ تو مقررہ حصے یہی ہیں، مولانا، چھ، بھئی۔ بعض کے لیے شریعت نے ربو مقرر کیا ہے، بعض کے لیے نصف، بعض کے لیے ثمن، بعض کے لیے ثلثان، بعض کے لیے ثلث اور بعض کے لیے سدس، بھئی، یہ چھ حصے ہیں۔ اور ذوی الفروض جن کے باقاعدہ حصے مقرر ہیں شریعت کے اندر، وہ بارہ افراد ہیں۔ جن کے شریعت میں باقاعدہ حصے مقرر ہیں، وہ بارہ افراد ہیں: چار مرد اور آٹھ عورتیں۔ چار مرد اور آٹھ عورتیں چار مرد یہ ہیں، بھئی۔ نمبر ایک: شوہر۔ نمبر ایک: شوہر۔ نمبر دو: باپ۔ نمبر دو: باپ۔ نمبر تین: دادا نمبر چار: اخیافی بھئی۔ اخیافی بھئی۔ بھئی, دو لفظ آئیں گے آگے: اخیافی اور علاتی جگہ جگہ استعمال ہوں گے۔ ابھی سے سمجھ لیجیے: بھئی اخیافی کہتے ہیں ماں شریک کو۔ ماں شریک۔ اخیافی بھئی: ماں شریک بھئی۔ اور علاتی بھئی: باپ شریک بھئی۔ باپ شریک بھئی۔ اخیافی بھئی وہ ہیں جن کے ماں ایک ہی ہو اور والد الگ الگ ہوں، بھئی۔ ایک عورت ہے، اس نے ایک شخص کے ساتھ نکاح کیا، اس سے اس کا ایک بیٹا ہوا اور پھر اس خاوند کا انتقال ہوا یا اس نے طلاق دے دی اور پھر اس عورت نے ایک اور شخص سے نکاح کیا، اس سے اس کا دوسرا بیٹا ہوا تو دیکھو، یہ جو دو بیٹے ہیں، ان کی ماں ایک ہی ہے لیکن والد الگ الگ ہیں، یہ کیا کہلائیں گے آپس میں؟ اخیافی بھئی۔ اخیافی بھئی۔ اور اگر باپ شریک ہوں تو یہ علاتی بھئی کہلاتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص نے دو شادیاں کیں، ایک بیوی سے ایک بیٹا، دوسری بیوی سے دوسرا بیٹا تو یہ دونوں جو آپس میں بھئی ہیں، ان کا ان کے والد ایک ہی ہیں، البتہ مائیں الگ الگ ہیں تو یہ آپس میں کو- کون سے بھئی ہیں؟ علاتی بھئی ہیں، بھئی، علاتی بھئی۔ اور اگر ماں باپ دونوں ایک ہی ہوں تو پھر انہیں حقیقی بھئی یا حقیقی بہن کے ساتھ تعبیر کریں گے، بھئی۔ ہاں۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو اسی طرح آگے اخیافی بہن کبھی ذکر آئے گا، علاتی بہن کبھی ذکر آئے گا، اخیافی کا لفظ آتے ہی آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیا ہیں؟ ماں شریک۔ اور علاتی کا لفظ آتے ہی باپ شریک۔ تو چار مرد یہ ہیں اور آٹھ عورتیں یہ ہیں اور آٹھ عورتیں یہ ہیں نمبر ایک: بیوی۔ نمبر ایک: بیوی۔ نمبر دو: بیٹی۔ نمبر دو: بیٹی۔ نمبر تین: پوتی۔ نمبر تین: پوتی۔ نمبر چار: حقیقی بہن۔ حقیقی بہن۔ حقیقی بہن سمجھ میں آیا، بھئی؟ کیا معنی حقیقی بہن؟ ماں باپ شریک۔ ماں باپ شریک دونوں طرف سے، بھئی، ایک ہی ہیں دونوں کے ماں باپ۔ جی۔ آگے نمبر پانچ۔ نمبر پانچ: علاتی بہن۔ علاتی بہن۔ نمبر چھ: اخیافی بہن۔ نمبر چھ: اخیافی بہن۔ نمبر سات: ماں۔ ماں، والدہ۔ اور نمبر آٹھ: جدہ۔ نمبر آٹھ، جدہ یعنی دادی، نانی وغیرہ۔ یعنی دادی، نانی وغیرہ۔ تو ذوی الفروض بھئی کتنے ہوئے؟ بارہ افراد ہیں جن میں سے چار مرد ہیں اور آٹھ عورتیں ہیں بھئی۔ مردوں میں کون کون ہیں؟ نمبر ایک شوہر ہے، نمبر دو باپ ہے، نمبر تین دادا، نمبر چار اخیافی بھئی۔ اور عورتوں میں آٹھ عورتیں ہیں، نمبر ایک بیوی، نمبر دو بیٹی، نمبر تین پوتی، نمبر چار حقیقی بہن، نمبر پانچ علاتی بہن، نمبر چھ اخیافی بہن، نمبر سات ماں، اور نمبر آٹھ جدہ ہے۔ جدہ سے کیا مراد ہے؟ دادی، نانی وغیرہ بھئی، دادی، نانی۔ اردو میں ماں کی جو ماں ہے اس کے لیے الگ لفظ ہے نانی، اور باپ کی جو ماں ہے اس کے لیے الگ لفظ ہے دادی، لیکن عربی میں دونوں کے لیے ایک ہی لفظ جدہ استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو ان میں سے دیکھیے بارہ افراد میں سے یہ سب آپس میں رشتہ دار ہیں، لیکن یہ پھر ان میں غور کریں تو دراصل یہ دو قسم پر ہیں، کچھ ذوی الفروض نسبی ہیں، کچھ سببی ہیں۔ کچھ ذوی الفروض نسبی ہیں اور کچھ سببی ہیں۔ سببی صرف دو ہیں ذوی الفروض سببی، زوجین بھئی، میاں بیوی۔ باقی سب ذوی الفروض نسبی ہیں، نسبی رشتہ ہے ان میں۔ تو ذوی الفروض سببی کون کون ہیں؟ زوجین، میاں بیوی بھئی، اور باقی سب کیا ہیں ذوی الفروض نسبی بھئی، نسبی۔ تو سب سے پہلے مال جو باقی بچا وصیت کے بعد چوتھے نمبر پر، تو سب سے پہلے کس کو دیا جائے گا؟ ذوی الفروض کو۔ اگر سارا مال یہیں ختم ہو گیا تو بعد والوں کو کچھ نہیں ملے گا، اور اگر کچھ مال بچ گیا تو پھر کس کو دیں گے؟ عصباتِ نسبی کو دیں گے بھئی، عصباتِ نسبی۔ عصبہ عصبات عصبہ وہ شخص ہے، جو ذوی الفروض سے، جو ذوی الفروض سے باقی بچ جانے والے سارے مال کو لے لے، جو ذوی الفروض سے باقی بچنے والے سارے مال کو لے لے، اور اگر اکیلا ہو، اور اگر اکیلا ہو، تو سارے مال کا وارث بن جائے، سارے مال کا وارث بن جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عصبہ بھئی۔ عصبہ یہ پھر دو قسم پر ہے، عصبہ نسبی اور ایک عصبہ سببی۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے بھئی، عصبہ نسبی جس کے ساتھ نسب کا رشتہ ہو بھئی، نسب کا رشتہ۔ اور تو یہ اگر تو، لہذا سب سے پہلے کس کو مال دیں گے؟ ذوی الفروض کو دیں گے، اور پھر اگر مال ختم ہوا تو یہیں پر بات رک جائے گی، ورنہ اگر کچھ مال بچ گیا یا ذوی الفروض میں سے کوئی ہے ہی نہیں، تو پھر کس کو مال دیں گے؟ عصباتِ نسبی کو بھئی، اور عصبہ جی۔ اور پھر اگر یہ عصباتِ نسبی میں سے کوئی نہ ہوا، پھر کس کو دیں گے؟ عصبہ سببی کو دیں گے بھئی، عصبہ سببی کو، اور عصبہ کہتے کس کو ہیں؟ وہ شخص ہے جو ذوی الفروض سے باقی بچنے والے سارے مال کو لے لے، اور اگر ذوی الفروض نہیں ہیں تو پھر سارے مال کو حاصل کر لے بھئی۔ اور عصبہ سببی جو ہے وہ ہے، وہ معتقِ میت ہے بھئی۔ عصبہ سببی معتقِ میت کو کہتے ہیں۔ بھئی مثلاً جو مرنے والا ہے، میت، وہ اگر کسی زمانے میں غلام تھا، اور پھر اس کو کسی شخص نے آزاد کر دیا، تو یہ آزاد کرنے والا اس کا معتق ہے، کیا ہے؟ معتق ہے، اور یہ اس کا عصبہ سببی ہے، عصبہ سببی۔ لہذا یہ جو شخص ہے جو پہلے غلام تھا، اس کا جب انتقال ہوا، تو اگر اس کے ذوی الفروض میں سے لوگ موجود ہیں، تو پھر ان کو دیں گے مال، اگر ذوی الفروض میں سے کوئی نہیں تو پھر کس کو دیں گے؟ عصباتِ نسبی کو دیں گے، اور اگر عصباتِ نسبی میں سے بھی کوئی نہیں ہے، تو پھر کس کو دے دیں گے مال؟ عصبہ سببی کو۔ عصبہ سببی کون ہے؟ وہ جس نے اس کو آزاد کیا تھا، سارا مال اس کو مل جائے گا، اور اسے ولا کہتے ہیں، آپ پڑھ چکے ہیں فقہ کی کتابوں میں بھئی۔ کیا کہتے ہیں اسے؟ ولا کہتے ہیں۔ بھئی ذوی الفروض کی تفصیل بھی گزر گئی۔ عصبات کی، عصبہ نسبی کی تفصیل بھی گزر گئی۔ اور عصبہ سببی ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، یعنی تیسری قسم بھئی۔ لیکن یہ جو اوپر آپ نے تعریف لکھی، عصبہ کی کیا تعریف لکھی؟ ذوی الفروض سے جو مال باقی بچے اس کو لے لیں یا اگر ذوی الفروض نہیں تو پھر سارے ہی مال کو لے لیں، یہ کیا ہے؟ عصبہ۔ لیکن یاد رکھیے یہ تعریف ہے عصبہ بنفسہِ کی، یہ تعریف کس کی ہے؟ عصبہ بنفسہِ کی۔ عصبہ بنفسہِ کی۔ تو اس میں داخل ہیں عصبہ نسبی بھی اور عصبہ سببی بھی۔ یہ دونوں عصبہ بنفسہِ میں داخل ہیں بھئی۔ دوسری قسم کیا تھی؟ عصبہ نسبی۔ تیسری کیا ہے؟ عصبہ سببی۔ یہ دونوں کس میں داخل ہیں؟ عصبہ بنفسہِ بھئی۔ اس کے علاوہ بھی دو قسمیں آپ آگے پڑھیں گے، عصبہ بغيرہِ اور عصبہ مع غيرہِ۔ عصبہ بغيرہِ اور عصبہ مع غيرہِ تو یہ ان کی بات نہیں ہو رہی، وہ ان کا یہ حکم نہیں کہ وہ سارے مال کو لے لیں بھئی۔ تو یہ کس کی بات ہوئی ہے عصبہ بنفسہِ کی۔ اچھا، تیسری قسم ہم پڑھ رہے تھے عصبہ سببی، جو عصبہ سببی کون ہے؟ معتقِ میت بھئی۔ اب عصبہ سببی کا بھی پہلے انتقال ہو چکا۔ عصبہ بھئی یہ میت مرنے والا کسی زمانے میں غلام تھا، اس کو ایک شخص نے آزاد کیا تھا، تو ہم نے اس غلام جو پہلے تھا، اس کا اب انتقال ہوا، اس کا ذوی الفروض میں سے کوئی نہیں، عصباتِ نسبی میں سے کوئی نہیں، تو اب ہم نے کس کو دینا تھا مال؟ عصبہ سببی یعنی اس کا جو معتق ہے، لیکن عصبہ سببی کا بھی انتقال ہو چکا، تو اب ہم چوتھی قسم کی طرف چلے جائیں گے، عصبہ سببی کے عصبات۔ عصبہ سببی اس معتق کے عصبات کو مال ملے گا بھئی، آزاد کرنے والے کے عصبات کو، اور پھر اس میں ترتیب ہے۔ چوتھی قسم ہم پڑھ رہے ہیں بھئی۔ کیا تفصیل ہے؟ پہلے کن کو دیں گے؟ بھئی معتق تو خود انتقال کر چکا، اب کس کو دینا ہے مال؟ اس کے عصبات کو، اور عصبات دو قسم پر ہیں ابھی آپ نے پڑھا عصباتِ نسبی اور عصباتِ سببی۔ تو پہلے اس کے نسبی عصبات میں سے کوئی ہے تو ان کو دے دیں گے مال، اور نسبی میں سے کوئی نہیں تو پھر کس کو دے دیں گے؟ سببی، کیا معنی؟ اس کا اگر آگے کوئی معتق تھا تو اس کو دے دیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اس کو دیں گے۔ اور یاد رکھیے یہ جو چوتھی قسم ہے جس میں ہم نے کس کو مال دینا ہے؟ عصبہ سببی کے عصبات کو، اولاً کن کو؟ نسبی، ثانیاً سببی، اس میں صرف مردوں کو مال ملے گا، عورتوں کا حصہ نہیں بھئی۔ جو مرد ہوں گے عصباتِ نسبی یا عصباتِ سببی میں سے، صرف مردوں کو حصہ ملے گا، عورتوں کو نہیں بھئی۔ اس لیے کہ حدیث میں آپ پڑھ چکے ہوں گے بعض کتابوں میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیس للنساء من الولا، عورتوں کے لیے ولا نہیں ہے، الا ما أعتقنا یا أعتق من أعتقنا۔ مگر یہ کہ جس کو انہوں نے آزاد کیا ہو یا جن کے آزاد کردہ نے کسی کو آگے آزاد کیا ہو بھئی۔ جی، لیس للنساء من الولا الا ما أعتقنا أو أعتق من أعتقنا۔ اچھا بھئی، یہ چوتھی قسم ہوئی۔ پانچویں قسم کیا ہے؟ نسبی ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے بقدر رد۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص کا انتقال ہوا، تجہیز و تکفین بھی ہم نے کر لی، قرضے بھی ادا کر دیے، وصیتیں بھی نافذ کر دیں، اس کے بعد مال باقی جو بچا، اب ہم وارثوں کو دینے لگے ہیں، سب سے پہلے کس کو دیں گے؟ ذوی الفروض کو۔ ذوی اس کے بعد کس کو سب سے پہلے کس کو دیں گے؟ ذوی الفروض کو دیں گے بھئی، اور ذوی الفروض سے اگر مال بچ جائے یا ذوی الفروض میں سے کوئی ہے ہی نہیں تو کس کو دے دیں گے؟ عصباتِ نسبی کو بھی دے دیں گے۔ اگر عصباتِ نسبی ہوئے تو مال یہیں ختم ہو جائے گا آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں، اور اگر ان میں سے کوئی نہیں تو پھر عصباتِ سببی کو دیں گے۔ عصباتِ سببی وہ اس کا بھی انتقال ہو چکا ہے یا ہے ہی نہیں تو پھر کس کی طرف تیس چوتھی قسم اس کے جو آگے عصبات ہیں ان کو دیں گے، اگر ان میں سے بھی کوئی نہ ہو تو پھر دوبارہ نسبی ذوی الفروض جو ہیں ان پر پھر مال لوٹا دیں گے، جسے اصطلاح میں رد کہتے ہیں بھئی۔ تو نسبی ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے بقدر رد ہوگا۔ ان کے اسی تناسب سے ان کو مال دیا جائے گا بھئی۔ مثلاً، کل مال کے ہم نے دس حصے کیے تھے، ایک کو تین حصے ملے، ایک کو دو حصے ملے، ایک کو پانچ حصے مل گئے، فرض کریں کوئی صورت، تو پھر جو اب جو مال باقی بچ گیا، اب جو مال باقی بچ گیا ہے، تو وہ بھی اسی تناسب سے اس کے بھی اسی طرح دس حصے کر کے ان میں پھر کیا کر دیں گے؟ تقسیم، اسی تناسب سے نسبی ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے بقدر رد ہوگا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 6 of 92