Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وإن كان في التركّة كسور فابسط التّركة والمألة كلتيهما. أي اجعلهما من جنس الكسر، ثمّ قدّم فيهما ما رسمنام. أچّھا بھائ! آج ھم یہ پڑھیں گے کہ اگر ترکے میں کبھی کسر ھو، پھر مسٔلہ کیسے حل کیا جائے گا؟ کس میں کسر ھہے؟ ترکے میں۔ بھائ! ترکے کی ایک معین، وہ مسٔلے ھم پڑھ رھے ھیں جس میں آپ کو ترکے کی معین مقدار بتا دی جاتی ھے کہ اتنا اتنا کل ترکہ ھے، ھہر وارث کو اس میں سے کتنا کتنا ملے گا؟ تو پھر آپ کو پہلے مسٔلہ بھی بنانا پڑتا ھے اور پھر ھہر وارث کا حصّہ بھی اس میں سے نکالنا پڑتا ھے۔ تو اگر اس حصّے کے اندر کسر ھو بھائ، کسر! مثلاً بھائ! ترکہ ساڑے سات دینار ھے، ساڑے سات دینار۔ یا مثلاً ترکہ سوا نو دینار ھے۔ یا مثلاً ترکہ پونے نو دینار ھے۔ دیکھو! کسر آ رھی ھے۔ یہ دینار پورے ھوتے تو وہ پچھلا طریقہ چل جاتا۔ لیکن اب کیا آ رھی ھے؟ کسر آ رہی ھے۔ تو پھر اس کو کیسے حل کریں گے بھائ! تو یاد رکھیے! آسان طریقہ ھے بھائ۔ سب سے پہلے ھم اس کسر کو ختم کریں گے۔ کیا کریں گے؟ کسر کو ختم کریں گے۔ مثلاً بھائ! مثلاً ساڑے سات ھے ہمارے پاس بھائ ترکہ۔ اس کو ھم نے تقسیم کرنا ھے، تو ساڑے سات اس کو کیا کریں گے؟ اس کو بڑھاتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کسر ختم ھو جائے۔ ساڑے سات کو دوگنا کریں ذرا۔ کتنا ھو گیا ساڑے سات اور ساڑے سات؟ پندرہ۔ دیکھو! دوگنا کرنے سے کسر ختم ھو گئ۔ تو جب اس کو دوگنا کیا ھے، تو اس کے ساتھ ساتھ جس سے مسٔلہ بنایا تھا، اس کو بھی دوگنا کر لیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا! یا دوسری مثال۔ مثلاً سوا نو دینار ھے ترکہ۔ اس میں اب ھم نے پہلے کسر کو ختم کرنا ھے۔ سوا نو اس کو دوگنا کریں۔ کتنا ھو گیا نو اور نو اٹھارہ اور ساڑے اٹھارہ۔ جی! ساڑے اٹھارہ۔ کتنا ھو گیا؟ ساڑے اٹھارہ۔ ابھی بھی کسر ختم نہیں۔ اچھا! پھر ایک اور سوا نو اس میں جمع کریں۔ پونے اٹھائیس ھو جائے گا بھائ۔ ابھی بھی کسر ختم نہیں۔ پھر ایک اور دفعہ بڑھائیں اس کو۔ کتنا ھو جائے گا؟ سنتیںس۔ اب آ کے کسر ختم ھو گئ۔ کتنی دفعہ بڑھایا؟ چار دفعہ۔ یعنی گویا کہ ھم نے اس کو چار سے ضرب دی ھے۔ تو لہٰذا جس سے مسٔلہ بنایا تھا یعنی تصحیح، اس کو بھی کس سے ضرب دے دیں گے؟ چار سے۔ اس کو چار دفعہ بڑھایا ھے، اس کو بھی چار دفعہ بڑھا دیں گے اور پھر باقی حساب اسی طرح ھوگا جیسے پہلے ھوا۔ یا مثلاً بھائ! ھمارے پاس مثلاً ترکہ ھے پونے نو۔ پونے نو۔ دینار، پونے نو دینار۔ کسر ختم کرنی ھے، اس کو ذرا دوگنا کریں۔ پونے نو کا کیا مطلب تھا؟ آٹھ سہی تین بٹا چار۔ اچھا! تو، تو آٹھ اور آٹھ تو سولہ ھو گئے اور تین پاو اور تین پاو کتنے ھو گئے؟ ڈیڑھ۔ تو سولہ اور ڈیڑھ کتنے؟ ساڑے سترہ۔ یہ ھم نے اس کو کیا کیا؟ دوگنا کیا۔ پھر کسر ابھی بھی نہیں ختم۔ پھر ایک اور اضافہ کرو اس میں۔ کتنا ھے ساڑے سترہ اور پونے نو۔ سترہ میں پہلے آٹھ پورے ملائیں بھائ۔ آٹھ ساڑے سترہ میں۔ ساڑے پچیس آٹھ اور پھر تین پاو ملائیں گے کس میں؟ ساڑے پچیس سوا چھبیس۔ کتنا ھو گیا؟ سوا چھبیس۔ سمجھ میں آ رہا ھے بھائ سب کو؟ سوا چھبیس ھو گیا بھائ۔ اچھا! ابھی بھی کسر ختم نہیں ھوئ۔ پھر اس میں پونے نو اور اضافہ کریں بھائ۔ کتنا ھُوا؟ پینتیس۔ کسر ختم ھو جائے گی۔ کتنی دفعہ بڑھایا ھم نے اس کو؟ جی؟ چار مرتبہ۔ گویا ھم نے اس کو چار سے ضرب دی تھی تو اس، لہٰذا تصحیح مسٔلہ کو بھی کیا کریں گے؟ چار سے ضرب دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ھے بھائ؟ تو بہرحال خلاصہ یہ کہ پہلے اس کسر کو ختم کریں گے اور جس طرح جب جتنے پہ کسر ختم ھوگی، اتنے ہی کے ساتھ تصحیح کو بھی ضرب دے دیں گے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھو۔ کہ جو کسر ھے اسی کے ساتھ ضرب دے دیں گے۔ مثلاً ساڑے سات تھا، ساڑے سات کو کیسے لکھتے ہیں؟ سات سہی ایک بٹا دو۔ اچھا! اس کو صرف بٹا میں لے جاؤ۔ نیچے والے سے ضرب دو اور اوپر والا جمع کرکے لکھ کیا بنے گا؟ پندرہ بٹا دو۔ پندرہ بٹا دو۔ نیچے کیا ھے؟ دو۔ دو سے اس کو ضرب دے دیں۔ جب دو سے ضرب دیں گے، دو دو سے کُٹ جائے گا بھائ، ایک اوپر ہے، دو ایک نیچے، تو دو دو سے کُٹ جائے گا اور کتنا ھو جائے گا؟ پندرہ۔ تو دو کو اس سے ضرب دی بھائ۔ لہٰذا تصحیح مسٔلہ اس کو بھی کس سے ضرب دے دیں گے؟ دو سے۔ یا دوسری مثال دیکھو بھائ! سوا نو ھے، سوا نو کیسے لکھتے ہیں؟ نو سہی ایک بٹا چار۔ تو اس کو بس جو نیچے ھے اس سے ضرب دے دیں گے، چار سے ضرب دے دیں گے۔ پہلے اس کو ذرا بٹے کی طرف لے کر جائیں۔ نو سہی ایک بٹا چار، نو کو پہلے چار سے ضرب دیں چھتیس اور اوپر والا ایک جمع کریں سنتیںس، سنتیںس بٹا چار، اس کو ضرب دی چار سے۔ تو چار چار کے ساتھ کُٹ جائے گا بھائ، تو کیا رھ جائے گا؟ سنتیںس۔ تو تصحیح مسٔلہ کو بھی کس سے ضرب دے دیں گے؟ چار ہی سے ضرب دے دیں گے، جس سے اس کو ضرب دی تھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ھے بھائ؟ جو نیچے والا عدد ھے، اسی سے اس کو ضرب دے دیں گے۔ تو نیچے والا عدد کُٹ جائے گا۔ حساب بھی یاد ھے یا بھول گئے بھائ؟ یاد ھے۔ جی؟ یاد ھے۔ کُٹ جائیں گے یہ سمجھ میں آ رہا ھے کہ نہیں کہ کس طرح کُٹیں گے؟ آ رہا ھے۔ کیونکہ جب چار سے ضرب دیں گے تو چار کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ چار بٹا ایک، گویا چار اوپر ھے اور ایک چار تو اس طرف نیچے تھا، تو دونوں ایک دوسرے سے کیا ہو جائیں گے؟ چار چار سے، الحمد للہ رب العالمین۔ چار چار سے پورا پورا تقسیم ہو جاتا ھے، نیچے بھی چار ھے، دوسری طرف اوپر بھی چار ھے، اس کو بھی چار سے تقسیم کیا، ایک سے تقسیم ہو جائے گا، اوپر والے کو بھی چار سے کیا وہ پورا پورا تقسیم ہو گیا بھائ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ھے بھائ؟ بس آسان لفظوں میں جو نیچے عدد ہو، اسی سے اس کو ضرب دے دیں گے بھائ اور تصحیح کو بھی اسی سے ضرب دیں گے بھائ۔ مثال لکھ لیجیے ایک، دو مثالیں اس کی کر لیں۔ انشاءاللہ پھر طریقہ اور واضح ہو جائے گا بھائ۔ کتنی مثال ھے بھائ یہ؟ جی؟ مثال نمبر چوہتر بھائ، مثال نمبر چوہتر۔ اسی طرح میت بنایئے بھائ۔ یاد رکھیے یہ میت بنانا اسی طرح ضروری نہیں ہوتا، اور ہم کہ اسی طرح، سیدھی لکیر بھی کھینچ دیں، وہ بھی کافی ھے بھائ، سمجھ میں آیا؟ سیدھی لکیر کھینچ دیں، وہ بھی کافی ھے بھائ۔ تو میت بھائ، لکھ لی بنا لی اسی طرح؟ اچھا! نیچے بھائ وارث لکھیے، زوج۔ آگے لکھیے! ام (یعنی ماں)، اس کے بعد لکھیے اب (یعنی باپ، اب) تو یہ تین وارث ہیں، زوج، ام اور اب۔ اچھا! اولاد نہ ہو تو زوج کو کتنا ملتا ھے؟ نصف ملتا ھے۔ اچھا! ماں کو کتنا ملے گا بھائ؟ جب باپ مع احد الزوجین ہو تو ماں کو کیا ملتا ھے؟ ثلث ما بقی۔ اچھا! اور باپ کو کیا ملے گا؟ وہ عصبہ بنے گا کیونکہ اولاد ھے ہی نہیں، نہ مذکر، نہ مؤنث، تو وہ عصبہ بنے گا۔ اچھا! زوج کو کتنا دینا ھے؟ نصف، اور ادھر آیا ثلث ما بقی، تو نصف اور ثلث جمع ہو گئے، تو مسٔلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے۔ چھ سے مسٔلہ بنائیے۔ چھ کا نصف ہے زوج کا حصہ، چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ زوج کے نیچے تین لکھیے بھائ! چھ زوج کو دے دیے، باقی کتنے بچے؟ تین، یہ ھے ما بقی، اس ما بقی کا ثلث دینا ھے ماں کو، ایک، تو ماں کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ باقی کتنے بچے؟ دو، وہ باپ کا حصہ، تو اب کے نیچے دو لکھ لیجیے بھائ۔ اچھا! ہاں! کل ترکہ ہم نے لکھا ہی نہیں، وہ بھی لکھ لیں بھائ، کل ترکہ ھے مثلاً ساڑے سات دینار، سات سہی ایک بٹا دو دینار۔ کل ترکہ سات سہی ایک بٹا دو دینار بھائ، میت پر بائیں طرف اوپر لکھ لیجیے۔ اب بھائ، نیچے کچھ جگہ خالی چھوڑ دیں، کیونکہ یہاں ایک ایک فرد ھے یہیں پر ہم ہر ایک کا حصہ جو نکلے گا وہ ان کے نیچے لکھ دیں گے بھائ بعد میں۔ ایک ڈیڑھ سطر چھوڑ کر نیچے لکھیے بھائ تصحیح ترکہ۔ تصحیح ترکہ برابر ھے، بھائ ترکے کی تصحیح کا کیا طریقہ تھا؟ ہم نے کسر کو ختم کرنا ھے۔ ساڑے سات کیسے لکھتے ہیں؟ سات سہی ایک بٹا دو، نیچے کیا ھے؟ دو، تو اسی سے ضرب دیں گے، تو لکھیے سات سہی ایک بٹا دو ضرب دو۔ سات سہی ایک بٹا دو ضرب دو، اب برابر کا نشان ڈالیے آگے بھائ، اب ہم اس کو بٹے کی طرف لے کر جائیں گے، پھر کاٹ۔ کاٹیں گے ان کو آپس میں۔ سات، صحیح ایک بٹا دو کو بٹے کی صورت میں لکھنا ہے۔ سات کو نیچے والے سے ضرب دی۔ کیا جواب آیا؟ سات دونی چودہ۔ اوپر والے ایک کو جمع کیا، پندرہ۔ تو نیچے والا اسی طرح لکھیں گے، پندرہ بٹا دو۔ آگے لکھیے، پندرہ بٹا دو ضرب دو۔ پندرہ بٹا دو ضرب دو۔ دو اکیلا ہے، اس کا کیا مطلب ہوتا ہے یہ؟ دو بٹا ایک ہے یعنی یہ اوپر ہے۔ تو ایک طرف ہے دو نیچے، دوسری طرف ہے دو اوپر، یہ دونوں کٹ جائیں گے۔ دو سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو دونوں دو جو ہیں ان کو کاٹ دیجیے اور ان کے ساتھ چھوٹا سا ایک ایک لکھ دیجیے بھئی۔ جی آگے برابر کی علامت ڈالیے، کیا رہ گیا صرف؟ پندرہ صرف رہ گیا بھئی، کسر ختم ہوئی۔ آگے لکھیے بس پندرہ بھئی۔ یہ دیکھیے تصحیح ترکہ۔ اچھا، اب تصحیح مسئلہ بھی کرنا ہے ہم نے بھئی۔ تو اس کے نیچے لکھیے تصحیح مسئلہ۔ تصحیح مسئلہ برابر ہے۔ بھئی مسئلہ کس سے بنایا؟ مخرج کیا ہے یہاں پر؟ چھ۔ اس کو بھی اسی عدد سے ضرب دیں گے جس سے ترکے کو ضرب دی تھی۔ ترکے کو کس سے ضرب دی؟ دو سے، تو یہاں چھ کو دو سے ضرب دیں، چھ ضرب دو برابر ہے بارہ۔ یہ ہے تصحیح مسئلہ، اب اس کو اسی طرح رکھنا ہے بھئی۔ اب وہی ضابطے لگیں گے بھئی۔ اگر فریق کا حصہ نکالنا ہے تو فریق والا ضابطہ لگانا۔ اگر ہر وارث کا حصہ نکالنا ہے تو وارث والا ضابطہ ہم لگائیں گے۔ لکھیے بھئی، زوج برابر ہے، ترکے میں سے زوج کا حصہ۔ ترکے میں سے اب مختصر مختصر بھئی، پہلے کی طرح تفصیل میں نہیں لکھواتا، آپ سمجھ چکے ہیں۔ ترکے میں سے زوج کا حصہ برابر ہے۔ بھئی ایک فرض کا حصہ نکال رہے ہیں، کیا ضابطہ لگتا تھا؟ ہاں پہلے نسبت تو دیکھ لیں۔ ضابطہ تو تب ہی لگے گا نا جب ترکے میں اور مسئلے کے اندر کیا دیکھ لیں؟ نسبت۔ مسئلہ کہ ترکہ کتنا ہے؟ بھئی ہم تصحیح کر چکے مطلب ترکے کی وہ بتائیں؟ پندرہ ہے ترکہ اور مسئلہ کس سے بنا؟ جو تصحیح کر چکے وہ بھئی، بارہ۔ تو پندرہ اور بارہ، یہ کسی ایک عدد سے دونوں تقسیم ہوتے ہیں؟ جی۔ کس سے؟ تین سے۔ تین سے بارہ کو تقسیم کیا کیا آئے گا؟ چار۔ یہ ہے مسئلے کا وفق بھئی، چار۔ اور پندرہ کو بھی تین سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ پانچ۔ یہ ہے تصحیح، وفق ترکہ، وفق ترکہ۔ یہ اب آپ یاد رکھیں بھئی۔ اچھا، اب ہم نے ترکے میں سے زوج کا حصہ نکالنا ہے، کیا ضابطہ لگے گا؟ وارث کے سہام ضرب وفق ترکہ بٹا وفق تصحیح، بس آسان سا مسئلہ ہے۔ تو، جی۔ وارث کا حصہ کتنا زوج کا؟ تین۔ تین ضرب وفق ترکہ کتنا؟ پانچ۔ تین ضرب پانچ بٹا وفق تصحیح، وفق تصحیح، تصحیح کیا ہے؟ چار۔ تین ضرب پانچ بٹا چار برابر ہے، کتنے کے برابر ہوا؟ پندرہ بٹا چار۔ پانچ تئے پندرہ، ہاں پندرہ بٹا چار بھئی۔ اس کو صحیح کی صورت میں لکھیے۔ تین صحیح تین بٹا چار۔ یہ زوج کا حصہ نکل آیا، تین صحیح تین بٹا چار دینار۔ آگے نیچے لکھیے، ترکے میں سے ماں کا حصہ برابر ہے، ماں کا حصے کتنے سہام بھئی؟ ایک۔ باقی اسی طرح آئے گا، ایک ضرب پانچ بٹا چار۔ ایک ضرب پانچ بٹا چار۔ یہ کتنے کے برابر ہوا؟ پانچ بٹا چار۔ پھر یہ اس کو تقسیم کیا کس کے برابر ہوا؟ ایک صحیح ایک بٹا چار۔ یہ ماں کا حصہ نکل آیا بھئی۔ جی۔ نیچے لکھیے ترکے میں سے باپ کا حصہ۔ ترکے میں سے باپ کا حصہ برابر ہے۔ بھئی باپ کے کتنے سہام ہیں؟ دو۔ جی۔ دو ہیں۔ تو دو کو اسی طرح باقی سے ضرب دو ضرب پانچ بٹا چار۔ دو ضرب پانچ بٹا چار۔ برابر ہے، دس بٹا چار۔ کیا یہیں کاٹ لیں یا آگے کاٹ لیں، ایک ہی بات ہے۔ برابر ہے دس بٹا چار۔ دس اور چار کسی ایک سے تقسیم ہوتے ہیں؟ دو سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ دس کو دو سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ پانچ۔ جی۔ پانچ آیا، دس کو کاٹیے اور اس کے ساتھ چھوٹا سا پانچ لکھ لیجیے۔ چار کو بھی دو سے تقسیم کیا کتنا جواب آیا؟ دو، تو چار کو کاٹیے اور اس کے ساتھ چھوٹا سا دو لکھ دیجیے۔ برابر ہے، کتنے کے برابر ہو گیا؟ پانچ بٹا دو۔ اب تقسیم کیجیے بھئی پانچ کو دو سے۔ تو یہ برابر ہوا دو صحیح ایک بٹا دو۔ دینار۔ معلوم ہوا باپ کا حصہ کتنا؟ ڈھائی دینار۔ کتنا؟ ڈھائی، دو صحیح ایک بٹا دو ہے نا، ڈھائی دینار۔ ماں کا حصہ کتنا؟ یعنی سوا دینار، ایک صحیح ایک بٹا چار کا مطلب ہے سوا دینار۔ اور خاوند کا حصہ کتنا؟ پونے چار، تین پورے اور پھر تین بٹا چار، یہ پونا ہے بھئی، تو یہ پونے چار دینار بھئی۔ اچھا پڑتال ہم نے کرنی ہے، اگر ویسے ہی کر لو تو اور زیادہ آسان ہے۔ پونے چار اور سوا ایک کتنا ہوتا ہے؟ پانچ۔ پانچ پورے ہوگئے، پونے چار اور سوا۔ کتنا ہوا؟ پانچ۔ پانچ اور پھر والد کا حصہ ڈھائی، کتنا ہوا؟ ساڑھے سات۔ معلوم ہوا ہمارا مسئلہ صحیح ہے۔ جی۔ آگے لکھیے مثال نمبر۔ کتنی؟ اس طریقے سے لکھیں گے تو، ہاں۔ ہر ہر، بھئی پہلے ہر وارث کے نیچے اس کے حصے لکھیں۔ زوج کے ہس نیچے لکھ لیں بھئی، تین صحیح تین بٹا چار دینار۔ تین صحیح تین بٹا چار دینار۔ ماں کے نیچے لکھ لیجیے بھئی ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔ اور اب کے نیچے لکھ لیجیے بھئی دو صحیح ایک بٹا دو دینار۔ اچھا بھئی، اب آئیے اگلی مثال، کون سی مثال؟ مثال نمبر پچھتر بھئی۔ اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ بنات ہیں تین بنات تین، اور ابن ایک ہی ہے، ایک بیٹا ہے۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ بس یہی وارث ہیں۔ ترکہ اوپر لکھیے بھئی بائیں طرف اوپر، چھ صحیح ایک بٹا چار دینار۔ چھ صحیح ایک بٹا چار دینار۔ چھ سے ایک بٹا چار کا کیا مطلب؟ سوا چھ دینار۔ تو تین بنات ہیں، ایک بیٹا ہے۔ اچھا یہاں بھی کچھ جگہ خالی چھوڑ دیجیے، ہم فریقوں کا حصہ پہلے نکال لیتے ہیں، تینوں بیٹیوں کا اکٹھا کتنا نکلے گا۔ پہلے اب ایک ڈیڑھ سطر چھوڑ دیں، نیچے لکھیں بھئی پہلے تصحیح ترکہ کر لیں، کسر ختم کریں۔ تصحیح ترکہ برابر ہے۔ اچھا، ہاں ابھی تو مسئلہ ہم نے بنایا ہی نہیں۔ اچھا دیکھیے بھئی بنات اور ابن ہے صرف بھئی، یہ آپس میں کیا بنتے ہیں جب یہ عصبہ ہو جائیں گے۔ اور جب عصبہ ہیں تو پھر ایک بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو۔ تو تین بیٹیاں اور بیٹا بھی دو کے برابر، تو تین اور دو، پانچ۔ تو پانچ میں مال تقسیم کرنا ہے، تو پانچ ہی سے مسئلہ بنا دیں گے بھئی۔ پانچ اوپر لکھیے، پانچ اوپر لکھیے بھئی۔ پانچ میں سے ایک ایک بیٹی کو ایک ایک ملے گا، تو تین بیٹیاں تو ان کا حصہ کتنا بن گیا؟ تین۔ تو بیٹیوں کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ اور بیٹے کا حصہ، دو، وہ بیٹے کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ لکھ لیا بھئی؟ اب تصحیح ترکہ نیچے، بھئی ایک ڈیڑھ سطر خالی چھوڑ دیں، یہاں ہم وہ ہر ایک کا حصہ لکھ دیں گے، ہر فریق کا حصہ لکھ دیں گے ہم یہاں۔ نیچے لکھیے تصحیح ترکہ۔ تصحیح ترکہ۔ برابر ہے، ترکہ کتنا ہے بھئی؟ چھ صحیح ایک بٹا چار۔ چھ صحیح ایک بٹا چار۔ نیچے کیا ہے؟ چار، تو اس چار سے ضرب دینی ہے، چھ صحیح ایک بٹا چار ضرب چار لکھیں۔ آگے برابر کی علامت ڈالیے بھئی۔ چھ صحیح ایک بٹا چار کو صرف بٹا کی طرف لے جائیں۔ چھ کو چار سے ضرب دی، چھ چوکے چوبیس، اور ایک اوپر والا جمع کیا پچیس، تو پچیس اوپر لکھا اور جو نیچے تھا اس کو اسی طرح رکھا۔ پچیس بٹا چار ضرب چار آ گیا۔ اب چار چار سے کٹ جائے گا، برابر ہے کتنے کے؟ پچیس رہ گیا آگے، برابر ہے پچیس بھئی۔ نیچے لکھیے تصحیح مسئلہ۔ ترکے کو چار سے ضرب دی ہے، مسئلے کو بھی چار سے ضرب دیں گے۔ مسئلہ کس سے بنایا؟ پانچ سے، پانچ ضرب چار برابر ہے بیس بھئی۔ برابر ہے بیس۔ بیس۔ اچھا، بھئی نسبت دیکھو ان میں کیا نسبت ہے؟ ترکے میں اور مسئلے کے اندر؟ پچیس اور بیس میں توافق ہے، کس سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ پانچ سے۔ پچیس کو پانچ سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ پانچ، یہ ہے ترکے کا وفق۔ اور بیس کو پانچ سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ چار، یہ ہے مسئلے کا وفق بھئی، تصحیح کا وفق۔ اب بھئی ہر فریق کا حصہ ہم نکالتے ہیں، تو لکھیے ترکے میں سے تین بنات کا حصہ۔ ترکے، تینوں کا اکٹھا ہم نکالیں گے پہلے۔ ترکے میں سے تین بنات کا حصہ برابر ہے۔ بنات کے سہام کتنے؟ جی؟ تین ضرب استاد آ گئے۔ اچھا، چلیے بس بھئی، باقی پھر کل کر لیں گے۔ جی، چلیے بس، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 55 of 92