Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-084

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و عند محمد رحمہ اللہ تعالی یقسم المال علی اول بطن اختلاف مع اعتبار عدد الفروع والجهات فی الاصول. ذوی الارحام کی صنف رابع میں سے ان کی اولاد کا ذکر چل رہا ہے۔ گذشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ کس طرح تقسیم فرماتے ہیں بھئی کہ وہ فروع کے اندر ان کے فروع کے ابدان کا بھی اعتبار کرتے ہیں اور جہات کا بھی اعتبار کرتے ہیں۔ یعنی اگر دو جہت سے ہے وہ تو ان کو دگنا شمار کیا جائے گا بھئی اور اس کے مطابق تقسیم ہوگی۔ اور اس کی مثال گذشتہ سبق میں ہم نے حل کی تھی۔ آج امام محمد رحمہ اللہ کس طرح تقسیم فرماتے ہیں اس کا ذکر آ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں و عند محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یقسم المال مال تقسیم کیا جائے گا علی اول بطن اختلاف اول بطن جہاں پر اختلاف واقع ہو۔ بھئی امام محمد رحمہ اللہ کا جو طریقہ پہلے بیان ہو چکا وہی کہ جہاں اصول کے اندر اولاً اختلاف آتا ہے ذکورۃ اور انوثت میں اصول میں سے بعض مذکر ہوں اور بعض مؤنث ہوں تو جہاں اولاً یہ اختلاف آئے کچھ اصول مذکر ہیں کچھ مؤنث ہے تو وہیں سے وہ مال کی تقسیم کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مال کو تقسیم کیا جائے گا علی اول بطن اختلاف پہلے اس بطن پر جہاں پر اختلاف واقع ہو یعنی مذکر مؤنث ہونے کا مع اعتبار عدد الفروع والجهات فی الاصول ساتھ اعتبار کرتے ہوئے عدد فروع کا اور جہات کا فی الاصول کس میں اصول میں۔ تو فروع کے عدد کا بھی اعتبار کرتے ہیں اور جہات کا بھی اعتبار کرتے ہیں اصول میں۔ بھئی اصول کے اندر ہی جب وہ مال تقسیم کرتے ہیں تو ان کے جتنے فروع ہوتے ہیں اصول کو بھی اتنا ہی مان لیتے ہیں سن وہ اوپر جہاں مال تقسیم کر رہے ہیں اس کے نیچے آخر میں دو اولادیں ہیں تو اس اس کو ایک کے بجائے کیا شمار کرتے ہیں وہ؟ دو شمار کرتے ہیں اصول ہی کو دو شمار کر لیتے ہیں عدد فروع کے مطابق بھئی۔ کما فی الصنف الاول اول کا لفظ ہے آپ کی بھئی کتابوں میں؟ ہاں کما فی الصنف الاول یہاں اول کا لفظ ہونا چاہیے بھئی جیسے کہ صنف اول کے اندر تھا ذوی الارحام کی پہلی قسم کے اندر جس طرح مال تقسیم ہوتا تھا بعینہٖ اسی طریقے کے مطابق یہاں بھی وہ تقسیم کرتے ہیں بھئی۔ وہی مثال اب دوبارہ ہم کر لیتے ہیں جو ہم نے گذشتہ سبق میں کی تھی اب امام محمد رحمہ اللہ کے طریقے کے مطابق کریں گے بھئی۔ وہی نقشہ بنائیے لیکن جس تھوڑا سا فرق کرنا ہے تو جیسے میں بتاؤں اس طرح بناتے جائیے بھئی۔ سب سے پہلے اوپر لکھ لیجیے عند محمد رحمہ اللہ تعالی۔ جی اس کے بعد نیچے میت بنائیے اور میت کے نیچے جیسے گذشتہ سبق میں جو جو وارث تھے وہی دوبارہ بنا لیں بھئی۔ پہلی پشت میں سارے وارث نہ لکھیں ابھی صرف پہلی پشت آپ نے لکھنی ہے بھئی۔ پہلی پشت میں دو علاتی پھوپھیاں تھیں اور ایک علاتی چچا تھا، دو علاتی خالائیں تھیں اور ایک علاتی ماموں تھا، یہ چھ افراد تو بنا لیں اسی طرح بھئی۔ عمت لابین ایک یہ، پھر دوبارہ عمت لابین، پھر اس کے بعد تھا عم لابین، اس کے بعد چوتھے نمبر پر خالۃ لابین، پانچویں نمبر پر پھر خالۃ لابین، اور چھٹے نمبر پر خال لابین۔ بنا لیا بھئی؟ یہ پہلی پشت چھ افراد ہیں اس میں بھئی۔ اب اس کے نیچے دو سطریں چھوڑ کر دوسری پشت لکھیں بھئی۔ پہلی عمت لاب جو ہے اس کے نیچے لکھیں بنت، بنت۔ دوسرے عمت لاب جو ہے اس کے نیچے لکھیں ابن، ابن۔ اور پھر تیسرے نمبر پر عم لابین جو ہے اس کے نیچے لکھیے بنت، بنت۔ چوتھے نمبر پر خالۃ لاب جو ہے اس کے نیچے بھی بنت لکھیے بھئی۔ پانچویں نمبر پر جو خالۃ لاب ہے اس کے نیچے ابن لکھیے بھئی۔ اور چھٹے نمبر پر خال لابین جو ہے اس کے نیچے بھی بنت لکھیے بھئی۔ یہ دوسری پشت بنا لی بھئی؟ اچھا، اب تیسری پشت بھی اسی طرح وہ بھی دو یا تین سطریں چھوڑ کر لکھیں بھئی۔ تو سب سے پہلے عمت لابین تھا پہلے نمبر پر اس کے نیچے تیسری پشت آ گئی ابنانی، ابنانی۔ آگے جو عمت لاب اور عم لاب ہیں دوسرے اور تیسرے نمبر پر، انہی کی تیسری پشت جو ہے بنتانی دو بیٹیاں ہیں ان کو اکٹھا لکھنا ہے بنتانی لکھنا ہے بھئی۔ بھئی یہ دوسرے نمبر پر جو عمت لاب ہے اور عم تیسرے نمبر پر جو عم لاب ہے، ان کے نیچے اولاد کی اولاد ہے بھئی۔ یعنی ان کے جو ابن اور بنت ہیں دونوں کی یہ دو بیٹیاں ہیں بھئی۔ تو ابن اور بنت جو آ رہا ہے دوسرے اور تیسرے نمبر پر دوسری پشت میں اس سے لکیر کھینچ کر ملا دیں ان کو پتہ لگے یہ ان دونوں کی بیٹیاں ہیں دو بھئی۔ ملا دیا بھئی؟ آگے اس سے چوتھے نمبر پر جو خالۃ لاب تھا اس کے نیچے تیسری پشت میں لکھیے بنتانی، بنتانی۔ اور آگے جو پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں خالۃ لاب اور خال لابین، ان کے نیچے ابن اور بنت لکھا تھا دوسری پشت میں تیسری پشت میں ان دونوں کی اولاد ہے بھئی ابنانی۔ ابنانی۔ ان کے نیچے درمیان میں لکھنا ہے اور دونوں سے لکیریں ملا دیں ان کی طرف بھئی۔ یہ ابن اور بنت کے ابنانی دو بیٹے ہیں بھئی۔ صورت بنا لی؟ اچھا۔ اب امام محمد رحمہ اللہ کا طریقہ ہے تقسیم شروع ہوگی پہلی پشت سے ہی بھئی۔ پہلی پشت سے۔ اور طریقہ تقسیم کیا تھا دیکھیے پہلی پشت میں مذکر اور مؤنث آ رہے ہیں بھئی۔ کچھ پھوپھیاں ہیں تو ایک علاتی پھوپھیوں کے ساتھ علاتی چچا ہے۔ اور دوسری طرف علاتی خالاؤں کے ساتھ علاتی ماموں بھی ہے یہیں پر تذکر و تانیث میں اختلاف آ گیا تو یہیں پر تقسیم شروع ہوگی اور عدد فروع کا بھی اس میں اعتبار کیا جاتا ہے بھئی عدد فروع کا بھی۔ اور مال کی تقسیم کس طرح کرتے تھے بھئی باپ کی جانب والوں کو کتنا دیتے تھے؟ دو ثلث اور ماں کی جانب والوں کو؟ ایک ثلث دیتے تھے تو لہذا مسئلہ کتنے سے بنے گا؟ ثلث ہی آ رہا ہے نا صرف تو تین سے مسئلہ بنے گا اوپر تین لکھ لیجیے بھئی۔ تین لکھیے۔ اب تین نیچے دیں گے کس طرح؟ ایک چچا ہے بھئی، عم لابین اس پر نظر رکھیں۔ عم لابین کے نیچے اولاد کتنی ہے تیسری پشت میں؟ بنتانی دو بیٹیاں ہیں تو یہ علاتی چچا بھی کتنے شمار کریں گے؟ دو شمار کریں گے یوں سمجھا جائے گا دو علاتی چچا ہیں۔ अच्छा، اور پہلی عمت لابین اس کی کتنے اولاد ہے سب سے نیچے؟ پہلے نمبر پر جو عمت لابین ہے ابن اس کی فروع بھی دو ہیں تو یہ عمت لاب بھی کتنی شمار ہوگی؟ دو پھوپھیاں شمار ہوں گی یہ والی۔ دوسرے نمبر پر جو عمت لاب آیا اس کے بھی آخر میں کتنی اولاد ہے نیچے؟ سب سے آخر میں دو اولادیں ہیں تو یہ دوسرے نمبر والی عمت لاب بھی کتنی شمار ہوں گی؟ دو شمار ہوں گی بھئی دو۔ تو دو اور دو پھوپھیاں کتنی ہوگئیں؟ چار۔ اور علاتی چچا کتنے ہوئے؟ دو۔ دو ہوئے۔ اور مال ان کو کل کتنا ملا ہے؟ تین میں سے کتنا ملا ہے؟ دو ملا ہے۔ अच्छा، اب ایک طرف ہیں دو علاتی چچا، دوسری طرف ہیں چار علاتی پھوپھیاں۔ اور مال ان میں کس طرح تقسیم کرتے تھے؟ للذکر مثل حظ الانثیین کے طریقے پر۔ یعنی یوں سمجھیں کہ پہلے نمبر پر جو عمت لاب ہے یہ کتنی ہیں؟ دو تو گویا یہ ایک علاتی چچا کے برابر ہے۔ اور دوسرے نمبر پر جو عمت لاب ہے یہ بھی دراصل کتنی ہیں؟ دو تو یہ کس کے برابر؟ ایک علاتی چچا کے برابر۔ تو یہ دو علاتی چچا ہو گئے اور آگے عم لابین یہ بھی کتنے ہیں؟ دو ہیں تو گویا کل کتنے علاتی چچا ہیں؟ چار سمجھیں بھئی۔ अच्छा, چار میں سے اب دیکھیے عم لابین یہ ایک طرف اور مؤنث جو ایک جیسے ہوتے تھے تذکر و تانیث میں ان کی جماعت بنا دیا کرتے تھے۔ تو ایک طرف بھی گویا دو علاتی چچا ہیں، دوسری طرف بھی دو علاتی چچا ہیں مال ان کو کتنا ملا ہے تین میں سے؟ دو تو کس طرح تقسیم ہوگا؟ ایک طرف بھی دو علاتی چچا دوسری طرف بھی گویا دو علاتی چچا تو کس طرح تقسیم ہوگا؟ دونوں طرف برابر ہے نا تو برابر مال دو میں سے دونوں کو کتنا ملے گا؟ ایک ایک۔ تو یعنی پھوپھیوں کو بھی ایک ملے گا اور علاتی چچا کو بھی ایک تو پھوپھیوں کے نیچے لکیر لگائیں دونوں کے نیچے اور اس کے نیچے ایک لکھیں۔ اور ایک لکھ لیں عم لابین کے نیچے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ان کو دو ملا اور وہ ان میں اس طرح تقسیم ہو گیا۔ آگے ہے بھئی خالۃ لابین اور پہلے نمبر پر جو خالۃ لابین ہے اس کے نیچے کتنی اولاد ہے؟ بنتانی تو اس خالۃ لاب کو کیا شمار کریں گے؟ دو علاتی خالائیں ہیں گویا۔ اگلی خالۃ لاب جو ہے اس کے بھی آخر میں کتنی اولاد ہے؟ دو تو اس کو بھی کتنا شمار کریں گے؟ دو۔ گویا یہ چار خالائیں ہو گئیں۔ اور آگے خال لابین جو آخر میں آیا اس کی کتنی اولاد ہے؟ اس کی بھی دو اولاد ہے سب سے نیچے تو اس کو بھی دو شمار کریں گے۔ تو ایک طرف ہوئے دو ماموں اور دوسری طرف کتنی ہیں؟ چار خالائیں اور چار خالائیں یہ بھی کس کی طرح ہیں؟ دو ماموں کی طرح کیونکہ دو خالائیں ایک ماموں کے برابر ہیں۔ تو گویا ایک طرف بھی دو ماموں، دوسری طرف بھی دو ماموں تو ان میں مال آدھا آدھا تقسیم ہونا ہے اور ان کو کتنا ملا ہے کل؟ ایک ملا ہے تو کتنا کتنا ملے گا دونوں کو؟ آدھا آدھا ملے گا تو خالۃ لاب اور خالۃ لاب ان دونوں کے نیچے لکیر کھینچیں دونوں خالاؤں کے نیچے اور اس کے نیچے آدھا لکھیں۔ آدھا کس طرح لکھتے ہیں؟ ایک بٹا دو بھئی یہ ان کا حصہ ہو گیا اور خال لاب کے نیچے بھی لکھ لیں ایک بٹا دو بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب کسر آ رہی ہے کسر کو ختم کرنا ہے ایک بٹا دو ہے۔ اس کو کیسے ختم کریں گے؟ کس سے ضرب دیں؟ میں نے بتایا تھا جو نیچے والا عدد ہو اسی سے ضرب دے دیتے ہیں تو دو سے ضرب دی۔ تو سب سے پہلے اصل مسئلہ کو دو سے ضرب دیں۔ اصل مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ تین تین کو دو سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ چھ تو تین کے آگے تصیح کی تا لکھیں اور اس پر چھ لکھ لیں۔ اس کے بعد بھئی دونوں پھوپھیوں کو کتنا حصہ ملا تھا؟ ایک اس ایک کو بھی دو سے ضرب دی۔ کیا جواب آیا؟ دو۔ ایک کے نیچے دو لکھ لیں۔ علاتی چچا کو بھی ایک ملا تھا اس کو بھی دو سے ضرب دی تو دو جواب آیا اس کے نیچے بھی دو لکھیں۔ خالاؤں کو ایک بٹا دو ملا تھا اس کو دو سے ضرب دی تو نیچے والا دو اوپر والے دو سے کٹ جائے گا کیا رہ جائے گا؟ ایک تو ایک بٹا دو کے نیچے ایک لکھ لیں بھئی۔ اور ماموں کو بھی ایک بٹا دو ملا تھا اب یہاں بھی اسی طرح ہوگا تو ایک بٹا دو کے نیچے ایک لکھ لیں بھئی۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ اب آئیے دوسری پشت میں۔ بھئی نیچے دونوں پھوپھیوں کی اولاد کتنی ہے؟ دوسری پشت میں۔ دونوں پھوپھیوں کو کتنا ملا ہے اوپر؟ دو ملا ہے۔ نیچے ان کی دوسری پشت میں کیا ہے؟ بنت ان اور ابن ان کے نیچے بھی لکیر کھینچ کے اور اس کے نیچے وہ دو لکھ لیں یہ ان دونوں کو ملا ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ آگے ہے علاتی چچا کے نیچے ایک بیٹی ہے اوپر علاتی چچا کو کتنا ملا تھا؟ دو وہ یہی علاتی یہ اس کی بیٹی کو مل جائے گا تو بیٹی کے نیچے دو لکھیں۔ بھئی۔ اچھا، اس کے بعد آئیے ماں کی جانب یعنی خالہ کی طرف بھئی۔ دونوں خالاؤں کو کتنا ملا ہے اوپر؟ ایک تو ان کے نیچے جو بنت اور ابن ہیں ان کے نیچے لکیر کھینچیے اور اس کے نیچے ایک لکھ لیجیے بھئی یہ ایک ان کو ملا ہے۔ اور ماموں کو کتنا ملا بھئی؟ ایک تو اس کے نیچے ایک ہی بیٹی ہے اس کے نیچے ایک لکھ لیں بھئی۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب آئیے بھئی پھوپھیوں والی جانب بھئی۔ پھوپھی کے نیچے دوسری پشت پہ اب صرف نظر رکھنی ہے۔ بیٹی ہے پہلے نمبر پر اس بیٹی کے نیچے اولاد کتنی؟ دو تو گویا یہ کتنی بیٹیاں ہیں؟ یہ دو بیٹیاں ہیں اس وقت اور ساتھ اس کے تھا بیٹا اس بیٹے کے نیچے کتنی اولاد؟ دو تو اس یہ بھی گویا کتنے بیٹے ہیں؟ دو تو دو بیٹے ہوئے اور ساتھ دو بیٹیاں ہیں یہ دوسری پشت میں دو بیٹے ہوئے اور دو فروع عدد کہاں سے لیں گے یہ؟ فروع سے لیں گے تو دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور دو بیٹیاں کس کے برابر ہوتی ہیں؟ ایک بیٹے کے تو گویا کل کتنے بیٹے ہیں یہاں پر؟ تین بیٹے ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ بیٹوں سے بھی ہم بیٹیاں بنا لیں تو دو بیٹیاں پہلے ہیں اور دو بیٹے کتنی بیٹیوں کے برابر؟ چار، دو اور چار کتنے ہو جائیں گے؟ چھ، چھ بیٹیاں بنا لیں ایک صورت یہ ہے لیکن حساب کو مختصر کرنے کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ بیٹیوں کو بیٹا بنا لیتے ہیں۔ تو یہاں گویا اس دوسری پشت میں پھوپھیوں کے نیچے کتنے ہیں؟ تین بیٹے ہیں۔ کتنے ہیں؟ اور حصہ کتنا مل رہا ہے ان کو؟ دو۔ تو عدد رؤوس گویا ہوا تین اور حصہ مل رہا ہے دو۔ تو کسر آرہی ہے بھئی تو یہاں ذرا درمیان میں جو لکیر کھینچی تھی نا اس پر چھوٹا سا لکھ لیں عدد رؤوس تین۔ عدد رؤوس تین۔ یہ آپ کو تاکہ یاد رہے بھئی۔ عدد رؤوس تین۔ اچھا آگے آئیے علاتی چچا کے نیچے دوسری پشت میں ایک بیٹی ہے لیکن اس بیٹی کی آگے نیچے اولاد کتنی ہے تیسری پشت میں؟ دو۔ تو گویا یہ دو بیٹیاں ہیں یہ دوسری پشت میں گویا کہ دو بیٹیاں ہیں۔ تو عدد رؤوس ہے یہاں دو بیٹیاں اور حصہ کتنا مل رہا ہے؟ دو۔ ٹھیک ہے۔ اچھا آگے آئیے بھئی خالہ کی جانب میں اس کے نیچے دوسری پشت میں خال پہلی خالہ کے نیچے ایک بیٹی ہے اس بیٹی کے نیچے فروع کتنی؟ دو۔ تو یہ بھی گویا کتنی ہیں؟ یہ دو بیٹیاں ہیں یہ دوسری پشت میں اور ابن جو آرہا ہے دوسری خالہ کے نیچے اس کے نیچے بھی دو فروع ہیں تو گویا یہ کتنے بیٹے ہیں؟ دو بیٹے ہیں۔ تو دو بیٹیاں ہیں اور دو بیٹے ہیں دوسری پشت میں خالاؤں کے نیچے یرحم اللہ دو بیٹیاں ہیں اور دو بیٹے تو یہاں بھی کیا کر لیں؟ بیٹیوں کو کیا بنا لیں؟ بیٹا تو کل کتنے بیٹے ہیں گویا؟ تین اور مال کتنا مل رہا ہے؟ ایک تو یہاں بھی اوپر ذرا درمیان میں لکھیں لکیر پر عدد رؤوس تین۔ عدد رؤوس تین۔ لکھ لیا بھئی؟ اس سے آگے آئیے بھئی۔ ماموں کے نیچے ایک بیٹی ہے لیکن اس بیٹی کی فروع کتنی ہیں؟ دو تو یہ بیٹیاں کتنی شمار کریں گے؟ دو تو گویا دو بیٹیاں اور حصہ کتنا مل رہا ہے؟ ایک مل رہا ہے تو یہاں بھی لکھ لیں چھوٹا سا عدد فروع دو او عدد رؤوس دو۔ عدد رؤوس دو۔ علاتی چچا کے نیچے جو بیٹیاں تھیں دوسری پشت میں وہ بھی دراصل کتنی ہیں؟ بیٹی لکھا تو ایک ہے لیکن فروع کے اعتبار سے وہ بھی دو ہیں تو وہاں بھی لکھ لیں بھئی عدد فروع دو۔ عدد رؤوس بھئی۔ عدد رؤوس دو۔ لکھ لیا بھئی؟ یہاں تک سب نے لکھ لیا؟ بات سمجھ بھی آ رہی ہے سب کو؟ اب دیکھیے بھئی کسریں آرہی ہیں جہاں جہاں کسریں آرہی ہیں تو ہم نے تصحیح کرنی ہے مسئلہ کی۔ سب سے پہلے علاتی پھوپھیوں کے نیچے ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا وہاں عدد رؤوس کیا نکلا؟ تین اور حصے کتنے ملے؟ دو۔ دو اور تین میں کون سی نسبت ہے؟ تبائن کی جب تبائن ہو تو عدد رؤوس کو پورا لکھ لیتے ہیں تو ایک طرف لکھ لیں بھئی تین یہ پہلا عدد رؤوس آیا ہمارے پاس۔ تین اس کے بعد علاتی چچا کے نیچے آئے بھئی وہاں عدد رؤوس کتنا؟ دو اور حصے بھی کتنے ملے؟ دو۔ یہاں کسر نہیں آرہی اس کو چھوڑ دیں۔ اس سے آگے چلیں۔ علاتی خالاؤں کے نیچے عدد رؤوس کتنا؟ تین اور حصے کتنے ملے؟ ایک۔ تین اور ایک میں کون سی نسبت؟ تبائن کی تو یہ دوسرا عدد رؤوس ہمارے پاس آگیا۔ پہلا عدد رؤوس کیا آیا تھا؟ تین۔ دوسرا بھی کیا آیا؟ تین۔ اس سے آگے علاتی ماموں کے نیچے آئے یہاں عدد رؤوس کتنا؟ دو ہے اور حصے کتنے؟ ایک تو یہاں بھی تبائن والی نسبت ہے تو یہاں پورے عدد رؤوس کو لکھ لیں گے بھئی یہ تیسرا عدد رؤوس آیا دو۔ کیا کیا عدد رؤوس آئے؟ تین تین اور دو اب ان عدد رؤوس میں آپس میں نسبتیں دیکھیں گے۔ تین اور تین میں کون سی نسبت؟ تماسفل۔ تماسفل۔ اور تماسفل کی صورت میں کیا کرتے ہیں؟ ایک کو لے لیتے ہیں ایک کو چھوڑ دیتے ہیں ایک تین کو ہم نے لے لیا۔ پھر اس تین کی اگلے عدد رؤوس دو کے ساتھ نسبت دیکھی کون سی نسبت؟ تبائن تبائن کی صورت میں دونوں کو پورا ہی رکھتے ہیں اور پھر ان کو اب آپس میں ضرب دے دیں گے۔ تین کو دو سے ضرب دی کیا آیا؟ چھ چھ آگیا مضروب بھئی۔ اب اس کو اوپر والے سارے مسئلے سے ضرب دیں گے۔ اوپر تصحیح کہاں تک پہنچی تھی؟ چھ۔ اس چھ کو چھ سے ضرب دی کیا آیا؟ چھتیس تو چھ کے آگے پھر تصحیح کی علامت لکھیے اور اس پر چھتیس لکھ لیجیے۔ لکھ لیا بھئی؟ اب یہ جو نیچے ہیں بھئی ہر ایک کے حصے کو بھی چھ سے ضرب دیں گے۔ یہ علاتی پھوپھیوں کے نیچے بیٹے اور بیٹی کا حصہ کتنا تھا؟ دو۔ اس دو کو چھ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ بارہ۔ تو دو کے نیچے بارہ لکھیں بھئی۔ علاتی چچا کے نیچے بیٹی تھی اس کو کتنا حصہ ملا تھا؟ دو۔ اس کو بھی چھ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ بارہ۔ تو دو کے نیچے بارہ لکھ لیں۔ اس کے بعد دونوں خالاؤں کے نیچے جو بیٹا اور بیٹی تھے ان کو کتنا حصہ ملا تھا؟ ایک۔ اس ایک کو بھی چھ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ چھ تو ایک کے نیچے چھ لکھ لیں۔ اس کے بعد علاتی ماموں کے نیچے بیٹی تھی اس کو حصہ کتنا ملا؟ ایک۔ اس ایک کو بھی چھ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ چھ تو اس ایک کے نیچے چھ لکھ لیجیے بھئی۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ اب ہر ایک کا حصہ الگ کرتے جائیں یہیں پر بھئی۔ بھئی علاتی پھوپھیوں کے نیچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے۔ اور حصہ کتنا ملا ان کو؟ بارہ۔ بارہ میں سے اب دیکھیے بیٹی کا حصہ بیٹی کے نیچے لکھ لیں گے بیٹے کا حصہ بیٹے کے نیچے بیٹیاں کتنی شمار کریں گے؟ دو بیٹیاں۔ کتنی؟ دو بیٹیاں۔ یا یوں کہیں وہی ایک بیٹا ہے۔ تو ایک طرف ایک بیٹا ہے دوسری طرف دو بیٹے ہیں۔ تو بارہ کے تین حصے کر لیں بھئی۔ ایک حصے میں کتنا آئے گا؟ چار یہ بیٹی کے نیچے لکھیں بھئی۔ اس سے اگلی سطر میں لکھنا ہے بھئی اس سے اوپر والی سطر میں کیا تھا؟ بنت اور ابن کے نیچے پہلی سطر میں دو لکھا اس کے نیچے آپ نے بارہ لکھا ہے اس بارہ سے اب ذرا نیچے لکھنا ہے تاکہ پتہ چلے یہ نیچے کی طرف ہم عمل کرتے جا رہے ہیں۔ بیٹی کے نیچے لکھیں چار بیٹے کے نیچے لکھ دیں آٹھ بھئی۔ یہ ایک بیٹا دراصل کتنے ہیں بیٹے ہیں؟ دو۔ اور اور ایک بیٹی دراصل کتنی بیٹیاں ہیں؟ دو۔ تو اس کو ایک بیٹے جتنا حصہ دیا اور اس کو دو بیٹے جتنا حصہ دیا تو ایک کو چار ملا دوسرے کو آٹھ۔ اچھا آگے بیٹیاں اس میں تو وہ اسی طرح بارہ رہے گا وہاں الگ کرنے کی ضرورت ضرورت ہی نہیں وہ الگ ہی ہے۔ اس سے آگے بھئی خالاؤں کے نیچے بھی اسی طرح ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ کل حصہ ملا ہے چھ۔ چھ میں سے یہ ایک بیٹی دراصل کتنی بیٹیاں ہیں؟ دو اور یہ کس کے برابر؟ ایک بیٹے کے برابر۔ تو ایک طرف ہوا ایک بیٹا دوسری طرف ہے دو بیٹے تو چھ کے بھی تین حصے کر دیں ایک طرف ایک حصہ کر دیں دوسری طرف دو حصے بیٹی کے نیچے لکھیں دو اور بیٹے کے نیچے لکھیں چار۔ لکھ لیا بھئی یہاں تک؟ اب یہ ان کے نیچے وارثوں کی طرف منتقل کریں گے بھئی جو ان کے فروع ہیں۔ سب سے پہلے علاتی پھوپھی کے نیچے جو بیٹی ہے اس کو کتنا ملا ہے؟ چار وہی چار نیچے ابنانی کو دے دیں گے۔ ان کے نیچے چار آگیا۔ اس کے بعد بھئی، اللہ دوسری علاتی پھوپھی کے نیچے ہے بیٹا اس کو کتنا ملا؟ آٹھ۔ تو آٹھ اور تو نیچے بنتانی کے نیچے آٹھ لکھ لیں بھئی۔ یہ ملا بیٹے کی طرف سے۔ دوسری طرف علاتی چچا جو ہے اس کی بیٹی کو کتنا ملا ہے؟ بارہ۔ یہ بھی انہی دو بیٹیوں کو مل جائے گا۔ تو آٹھ کے ساتھ جمع بارہ لکھ لیں۔ آٹھ جمع بارہ برابر ہے بیس تو برابر ہے بیس لکھ لیں ساتھ بھئی یہ بیس ان کو مل گیا۔ اچھا اس کے بعد خالاؤں کی طرف آئیں۔ پہلی خالہ کے نیچے جو بیٹی ہے اس کو کتنا ملا تھا؟ دو۔ وہی دو اس کے نیچے جو دو بیٹیاں ہیں ان کو مل جائے گا۔ تو بنتانی کے نیچے دو لکھ لیں بھئی۔ اس کے بعد آگے ہے دوسری خالہ کے نیچے ایک بیٹا ہے اور اس کو کتنا ملا ہے؟ چار۔ وہی چار نیچے اس کے جو فروع ہیں ابنانی ان کی طرف منتقل ہوگا تو ابنانی کے نیچے چار لکھیں۔ یہ بیٹے کی طرف سے آیا۔ دوسری طرف علاتی ماموں جو ہے اس کی نیچے بیٹی کو کتنا حصہ ملا تھا؟ چھ وہی نیچے ابنانی کو مل جائے گا۔ تو چار جمع چھ بھئی۔ برابر ہے دس بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تیسری پشت میں جو پہلے ابنان ہیں دو بیٹے ان کو مل گیا چار۔ دوسرے نمبر پر جو آگے بیٹیاں آئیں دو ان کو ملا بیس۔ پھر تیسرے نمبر پر جو بیٹیاں آئیں دو ان کو ملا دو۔ اور پھر چوتھے نمبر پر جو دو بیٹے آئے ان کو کتنا ملا؟ دس ملا بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو اس طرح تقسیم ہوگی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ اب دیکھیے دوبارہ عبارت بھئی۔ وعن محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک و اقسم المال علی اول بطن اختلاف کہ مال تقسیم کیا جائے گا پہلے اس بطن پر جس میں اختلاف آئے۔ مع اعتبار عدد الفروع والجهات فی الاصول ساتھ اعتبار کرتے ہوئے عدد فروع کا اور جہات کا اصول میں۔ كما فی الصنف الاول جیسے کس میں تھا؟ صنف اول میں۔ پہلی قسم میں یعنی ذوی الارحام کی پہلی قسم میں جس طرح تقسیم ہوئی تھی بعینہ اسی طرح ہے بھئی۔ ثم ينتقل هذا الحكم الى جہة عمومة عمومي ابويه و خؤولتهما پھر یہ حکم منتقل ہوگا الی جہة عمومة ابوھی میت کے والدین کے چچاؤں کی طرف بھئی۔ و خؤولتهما اور ان کے جو ماموں ہیں ان والدین کے ان کے چچاؤں اور ماموں کی طرف۔ عمومت کہتے ہیں باپ کی طرف کے سے رشتہ دار ہونا۔ خؤولت کہتے ہیں ماں کی طرف سے رشتہ دار ہونا بھئی۔ یوں کہیں الی جہة عمومة ابوھی پھر یہ حکم منتقل ہوگا میت کے والدین کے ددیال کی طرف بھئی۔ میت کے والدین کے ددیال کی طرف منتقل ہوگا و خؤولتهما اور میت کے والدین کے ننھیال کی طرف بھئی۔ میت کے والدین کے ننھیال کی طرف منتقل ہوگا ثم الی اولادھم پھر ان کی اولاد کی طرف بھئی۔ بھئی جیسے عصبات میں آپ نے پڑھا تھا۔ عصبات میں سب سے پہلے درجے پر کون تھے؟ میت کی اولاد۔ دوسرے درجے پر کون تھی؟ میت کے اصول۔ تیسرے نمبر پر کون تھے؟ جو میت کے برابر میں ہیں یعنی اس کے والد کی طرف منسوب ہیں بھئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ پھر اس چوتھے نمبر پر کون تھے؟ جو اس اس کے چچا ہیں بھئی۔ تیسرے نمبر پر تھے جز اب اور پھر چوتھے پر جز جد۔ اور جز جد میں بھی کوئی نہ ہو تو اس سے اوپر والے کے جز کی طرف چلے جاتے تھے پھر اس سے اوپر والے کے جز اور ان کی اولاد کی طرف چلے جاتے تھے۔ بعینہ یہاں وہی ترتیب ہے۔ سب سے پہلے ذوی الارحام میں کون تھے؟ جو میت کے فروع تھے ان میں سے۔ پھر اس کے بعد جو میت کے اصول میں سے تھے پھر تیسرے نمبر پر کون تھے؟ جو میت کے برابر ہیں یعنی اس کے اس کے باپ ماں باپ جو ہیں ان کے ان کے جو جز ہیں۔ سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ نہیں بھئی؟ ماں باپ کے جز یعنی جو میت کے برابر میں ہیں اس کے بھئی بہن وغیرہ اور ان کے نیچے اولاد بھئی۔ ان میں سے دیکھتے تھے ذوی الارحام کو۔ چوتھے نمبر پر کس کو دیکھا؟ دادا کے جو اجزاء ہیں یعنی میت کے چچا، پھوپھی، ماموں وغیرہ دادا نانی کی بھئی جو ہیں۔ اب اگر اور پھر ان کی اولاد کو۔ اگر ان میں سے کوئی نہ ہوا پھر پھر ان کے جو اوپر اصول ہیں بھئی دادا دادی کے اوپر جو اصول ہیں۔ اور نانا نانی کے اوپر جو اصول ہیں ان کے اجزاء بھئی۔ یعنی یہ تو تھے کون تیسری چوتھی سنث میں؟ میت کے ماموں چچا وغیرہ۔ چوتھی قسم میں میت کے ماموں اور چچا وغیرہ۔ اور ان کی اولاد۔ اگر ان میں سے کوئی نہ ہوا تو میت کے والد اور والدہ کے چچا اور ماموں اور خالہ وغیرہ اور ان کی جو اولاد۔ بھئی دیکھیے دوبارہ سمجھو ادھر توجہ کرو۔ ذوی الارحام کی چوتھی قسم سے پڑھ رہے ہیں چوتھی قسم میں جو میت کے دادا، دادی، نانا، نانی کے اجزاء کون کون تھے یہ؟ پھوپی پھوپھیاں آگئیں اس میں، چچا جو ہیں اور خالہ اور ماموں اور ان کی اولاد یہ کون تھے؟ کس کی کس کے اجزاء تھے یہ؟ دادا، دادی، نانا اور نانی۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر اس سے اوپر والوں کے اجزاء کی طرف چلے جائیں گے۔ اوپر والے کون؟ دادا دادی کے ماں باپ اور نانا نانی کے ماں باپ ان کے جو اجزاء ہیں اور پھر ان کی جو آگے اولاد۔ دادا دادی اور نانا نانی کے جو اصول ہیں یعنی ان کے جو ماں باپ ہیں دادی کے بھی جو ماں باپ ہیں دادا کے بھی ماں باپ پھر نانا کے جو ماں باپ ہیں اور نانی کے جو ماں باپ ان کے جو اجزاء ہیں اور آگے ان کی جو اولاد ہے اس کی طرف حکم منتقل ہوگا۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہ ہوا تو پھر یہ جو دادا دادی کے اوپر دادا دادی اور نانا نانی ہیں۔ اور اسی طرح نانا نانی کے اوپر جو ہیں دادا دادی اور نانا نانی ہیں ان کے اجزاء اور پھر ان کی اولاد کی طرف حکم منتقل ہوگا صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ تو اس طرح تقسیم ہوگی یہی بات بیان کر رہے ہیں ثم ينتقل هذا الحكم الى جہة عمومتی ابوے ابوہی پھر یہ حکم منتقل ہو جائے گا میت کے والدین کے والدین کے ددیال کی طرف و خؤولتهما اور میت کے والدین کے والدین کے ننھیال کی طرف ثم الی اولادھم پھر ان کی اولاد کی طرف۔ کما فی العصبات جیسے کس کے اندر تھا؟ عصبات کے اندر تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اگر یہ چچا پھوپھی وغیرہ اور ان کی اولاد میں سے نہ ہو کوئی تو اس سے اوپر والی پشت کی طرف ہم منتقل ہوں گے پھر اس سے اوپر والی پشت کی طرف منتقل ہوں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 84 of 92