Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-022

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب مخارج الفروض۔ اعلم ان الفروض المذكورة في كتاب الله تعالى نوعان، الاول النصف والربع الثمن، والثاني الثلثان والثلث والسدس على التضعيف والتنصيف۔ جی، باب مخارج الفروض، یہ باب ہے فروض کے مخارج کے بیان میں بھئی۔ جو مقررہ حصے ہیں، ان کے نکالنے کے بیان میں کہ مقررہ حصے کس طرح نکالے جائیں گے، یعنی مسئلہ کس طرح بنایا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں اعلم، جان لے تو ان الفروض المذكورة في كتاب الله تعالى، وہ حصے جو مذکور ہیں اللہ کی کتاب کے اندر نوعان، وہ دو قسم پر ہیں۔ الاول، پہلی قسم جو ہے النصف والربع والثمن بھئی۔ نصف ہے، ربع ہے اور ثمن ہے بھئی۔ والثاني، اور دوسری قسم جو ہے الثلثان والثلث والسدس، وہ ثلثان، ثلث اور سدس ہیں على التضعيف والتنصيف، تضعیف اور تنصیف کے طریقے پر بھئی۔ یہ بات پہلے بھی گزر چکی، تضعیف کا معنیٰ ہے دگنا کرنا، تنصیف کا معنیٰ ہے آدھا کرنا۔ تو ان میں جو تعلق ہے، وہ تضعیف اور تنصیف والا ہے۔ یعنی سب سے چھوٹے کو دگنا کریں تو اس سے اوپر والا بن جائے گا، اس کو دگنا کریں تو اس سے اوپر والا۔ اور سب سے بڑے حصے کو آدھا کریں تو اس سے نیچے والا حصہ بن جائے گا اور اس کو آدھا کریں تو اس سے نیچے والا حصہ بن جائے گا۔ جیسے نصف، ربع اور ثمن۔ بھئی دیکھیے، مثلاً آٹھ ہو، آٹھ کا آدھا کیا ہے؟ چار۔ اور چار کو آدھا کریں تو کتنا بن گیا؟ دو۔ اور یہ دو آٹھ کا کیا ہے؟ ربع ہے، چوتھا حصہ ہے۔ اور اس دو کو بھی آدھا کریں تو کتنا رہ گیا؟ ایک۔ اور یہ ایک آٹھ کا کتنا حصہ ہے؟ ثمن ہے بھئی۔ تو نصف کو آدھا کیا تو ربع بن گیا، ربع کو آدھا کیا تو ثمن بن گیا۔ تو یہ دیکھو، یہ ہوئی تنصیف۔ اور اگر تضعیف دیکھیں، ثمن، آٹھواں حصہ ہے۔ اس کو دگنا کریں تو کتنا بن گیا؟ دو۔ اور دو آٹھ کا کیا ہے؟ ربع ہے۔ اور اس دو کو دگنا کریں تو کتنا بن گیا؟ چار۔ اور چار آٹھ کا نصف ہے۔ تو ثمن کو دگنا کیا تو ربع بن گیا اور ربع کو دگنا کیا تو نصف بن گیا۔ اسی طرح ثلثان، ثلث اور سدس ہیں۔ چھ کا سدس کیا ہے، چھٹا حصہ؟ ایک۔ اس ایک کو ذرا دگنا کریں، کیا بن گیا؟ دو۔ اور یہ دو چھ کا کتنا ہے؟ ثلث، یعنی تیسرا حصہ ہے بھئی۔ اور اس دو کو پھر دگنا کریں، چار، یہ چھ کا کیا ہے؟ ثلثان، دو تہائی ہے بھئی، دو ثلث ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے معنیٰ علی التضعیف والتنصيف بھئی۔ اچھا، اب بھئی مسائل شروع ہو رہے ہیں اور مسائل کے سلسلے میں یاد رکھیے بھئی۔ مسئلہ نکالنے کی کیا صورت تھی کہ میت کا لفظ لمبا کرکے لکھا جاتا ہے بھئی۔ میت کا لفظ، اور یاد رکھیے میت ہی لمبا کرکے لکھنا ضروری نہیں ہے، سیدھی ایک لکیر لگا دیں، یہ بھی کافی ہے بھئی۔ سیدھی لکیر لگا دیں، یہ بھی کافی ہے۔ پھر اس کے بعد یاد رکھنا، ذوی الفروض بھی آئیں گے، عصبات بھی آئیں گے۔ تو پہلے ذوی الفروض کو لکھا جاتا ہے اور آخر میں عصبات کو۔ ذوی الفروض کو پہلے لکھنا ہے اور عصبات کو بعد میں، آخر میں ہمیشہ لکھنا ہے، یہ طریقہ ہے۔ اور ذوی الفروض کے اندر زوج یا زوجہ میں سے کوئی آئے تو سب سے پہلے اس کو لکھنا ہے، بعد میں باقیوں کو لکھنا ہے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ سب سے پہلے زوج یا زوجہ میں سے کوئی ہو تو اسے لکھنا ہے۔ اب یاد رکھیے، یہاں چھ قسم کے حصے بیان ہوئے: نصف، ربع، ثمن اور ثلثان، ثلث اور سدس۔ سدس بھئی۔ ان کے ہم نام عدد بھئی۔ ان کے ہر ایک کے نام سے ان کے ہم نام عدد آپ کے ذہن میں آجاتا ہوگا۔ مثلاً ربع، ربع کا ہم نام کیا ہے؟ اربعہ، یعنی چار۔ اور تو ربع کا ہم نام ہوا اربعہ، یعنی چار۔ ثمن، ثمن کا ہم نام کیا ہے؟ ثمانیہ، یعنی آٹھ بھئی۔ اچھا، اور سدس کا ہم نام کیا ہے؟ سدس، ستہ، یعنی چھ بھئی، چھ۔ اور ثلث کا ہم نام، ثلاثہ۔ اسی طرح ثلث کا بھی ثلاثہ، یعنی تین بھئی، یہ ان کے ہم نام عدد ہیں۔ البتہ نصف، یہ ایک حصہ ایسا ہے جس کا ہم نام کوئی عدد نہیں ہے۔ تو یاد رکھیے، اس کے لیے جو عدد جو اس کے لیے معین ہو، مددگار ہوگا، وہ دو ہے بھئی۔ نصف کا معین و مددگار عدد کیا ہے؟ دو۔ اچھا، اب بتائیے ہر ایک کا مجھے، سدس کا معین و مددگار عدد کیا ہے؟ ستہ، یعنی چھ۔ ثلث اور ثلثان کا؟ ثلاثہ، یعنی تین۔ اچھا، ثمن کا؟ ثمانیہ، یعنی آٹھ۔ اور ربع کا؟ اربعہ، یعنی چار۔ اور نصف؟ اس کا کوئی ہم نام تو نہیں، لیکن اس کا معین و مددگار کس کو مانیں گے؟ دو کو بھئی، دو۔ اب ایک ضابطہ یاد رکھیے پہلے کہ جب کوئی مسئلہ بنانے لگیں اور فرض کریں وہاں پر ذوی الفروض میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ ذوی الفروض جو بارہ افراد ذکر ہوئے، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، صرف عصبات ہوں۔ اور عصبات بھی ایک ہی درجے کے ہیں۔ ایک ہی درجے کے ہیں۔ تو پھر اس کے لیے مسئلہ انہی کے عدد رؤوس سے بنائیں گے۔ یعنی جتنے افراد ہوں گے، اسی سے مسئلہ بن جائے گا۔ جب کون ہوں بھئی صرف؟ صرف عصبات ہوں اور ایک ہی قسم، ایک ہی درجے کے ہوں، ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو تو پھر اس صورت میں مسئلہ کس سے بنے گا؟ انہی کی تعداد سے۔ جتنے وہ ہوں گے، اسی سے مسئلہ بن جائے گا بھئی۔ جتنی تعداد ہوگی، جتنے عدد رؤوس ہوں گے، جتنے افراد ہوں گے، اسی سے مسئلہ بن جائے گا۔ مثلاً بھئی، لکھیے بھئی اب، مثال اول، مثال اول یا مثال نمبر ایک۔ مثال نمبر ایک، اب یاد رکھنا، آج کے بعد جتنی بھی مثالیں چلیں گی، اسی ترتیب سے چلیں گی اب آگے۔ ایک نمبر یہ آگئی، آگے دو، تین، چار، پانچ، چھ، اسی ترتیب سے آپ نے نمبر لگاتے جانے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کل پھر جہاں آج ختم کریں گے، کل اسی سے اگلی مثالیں شروع ہوں گی، دوبارہ ایک سے نہیں آپ نے شروع کرنا بھئی۔ تو یہ مثال نمبر ایک لکھ لیں بھئی۔ اسی طرح میت لکھیں بھئی لمبا سا۔ ایک شخص کا مثلاً انتقال ہوا ہے اور اس کے، ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے تین بیٹے ہیں، بس بھئی، اور کوئی بھی نہیں ہے۔ ذوی الفروض میں سے بھی کوئی نہیں، عصبات میں سے بھی، باقی اگر عصبات ہوں بھی تو بیٹے، جب سب سے قریبی عصبہ موجود ہیں تو وہ محروم ہی ہوں گے۔ تو تین بیٹے ہیں صرف بھئی۔ تو اب تین بیٹے ہیں تو مسئلہ بھی کس سے، کس سے بنے گا؟ تین ہی سے بنا لیں گے۔ تو اس میت کے نیچے لکھیں بھئی، بیٹے ہیں، الگ الگ لکھ لیں۔ ابن، پھر کچھ فاصلے پر دوسرا ابن، پھر کچھ فاصلے پر تیسرا ابن۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ابن، تین ابن لکھ لیے؟ اور تین ہیں تو تین سے ہی مسئلہ بنے گا۔ اور لہٰذا جو میت لفظ آپ نے لمبا سا لکھا ہے، اس کے یہ میم، یا ہے، اس کے پاس اوپر اس کے ساتھ جو ہے، تین لکھ لیں۔ مسئلہ تین سے بننا ہے تو اس کے اوپر تین لکھ لیں بھئی۔ لکھ لیا تین بھئی؟ جی، تو صرف اسی طرح تین لکھ لیں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ اور بعض علماء باقاعدہ لفظ مسئلہ لکھ دیتے ہیں یہاں، مسئلہ، اور پھر اس کے اوپر کیا لکھتے ہیں؟ تین۔ تو آپ صرف تین لکھ لیں یا یہاں پر لفظ مسئلہ لکھ کر اس کے اوپر کیا کر لیں؟ تین لکھ لیں۔ اور تین میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ ملنا ہے، ظاہر سی بات ہے۔ تو ہر بیٹے کے نیچے ایک، ایک، ایک لکھ دیں بھئی۔ جی، یہ مسئلہ حل ہوا بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ صرف عصبات ہیں، ایک ہی درجے کے ہیں تو ان کی جتنی تعداد ہے، اسی سے مسئلہ بنا لیں گے۔ ذوی الفروض میں سے کوئی ہے ہی نہیں۔ مثال نمبر دو، مثال نمبر دو۔ بھئی، ایک شخص ہے، اس کا انتقال ہوا اور اس کے صرف پانچ بھئی ہیں اور کوئی بھی نہیں۔ پانچ بھئی ہیں۔ اسی طرح میت لکھیے بھئی۔ میت، اور اس کے نیچے پانچ بھئی ہیں تو الگ الگ لکھ لیجیے۔ اخ، پانچ مرتبہ اخ لکھیں بھئی۔ اخ، اخ۔ پانچ اخ لکھ لیے بھئی؟ اور تو یہ ایک ہی قسم کے عصبات ہیں۔ مسئلہ کتنے سے بنے گا؟ پانچ سے بنے گا۔ تو وہاں میم یا جو کے اوپر لکھ لیں بھئی، میت کے شروع میں پانچ یا مسئلہ لکھ کر اس کے اوپر لکھ لیں، پانچ۔ اور ہر اخ کے نیچے ایک ایک لکھ دیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ مثال نمبر تین۔ مثال نمبر تین۔ بھئی، ایک شخص ہے، اس کا انتقال ہوا اور تین بیٹیاں ہیں اس کی اور چار بیٹے ہیں بھئی۔ تین بیٹیاں اور چار بیٹے۔ تو اسی طرح میت لکھیں لمبا سا۔ میت لکھ لیا بھئی؟ چار بیٹے، چار ابن لکھیں الگ الگ، ابن، ابن، ابن بھئی۔ اور اس کے ساتھ تین مرتبہ لکھ لیں الگ الگ بنت، بنت، بنت۔ لکھ لیا بھئی؟ اب مسئلہ کس سے بنے گا بھئی؟ ذوی الفروض میں سے کوئی نہیں ہے، بیٹی بھی بیٹے کی وجہ سے کیا بن چکی؟ عصبہ بن چکی۔ تو یاد رکھیے، جب بہنیں، بھئی کے ساتھ جہاں بھی عصبہ بن رہی ہوں، وہاں تقسیم ہم کس طرح کرتے تھے؟ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ، کہ مذکر کے لیے دو مونث کا حصہ ہے۔ تو یہ جو ہر مذکر آیا، ہر بھئی، بیٹا آیا، یہ دو بیٹیوں کے برابر ہے بھئی۔ کتنے کے برابر ہے؟ دو بیٹیوں کے برابر۔ تو چار بھئی کتنی بیٹیوں کے برابر ہوئے؟ اٹھ۔ اور باقی کتنی بیٹیاں ہیں؟ تین۔ تو اٹھ اور تین گیارہ، معلوم ہوا گیارہ سے مسئلہ بنے گا بھئی۔ گیارہ سے مسئلہ بنے گا۔ گیارہ لکھیں اوپر بھئی میت کے اوپر، اور پھر نیچے مال کس طرح دیں گے ہر بیٹے کے نیچے؟ دو دو لکھتے جائیں اور بیٹی کے نیچے ایک ایک بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ تھا پہلا ضابطہ بھئی کہ اگر ذوی الفروض میں سے کوئی بھی نہ ہو، صرف عصبات ایک ہی درجے کے ہوں، تو جتنے ان کی تعداد ہوگی اسی سے مسئلہ بن جائے گا۔ دوسرا قانون یاد رکھیے کہ اگر ذوی الفروض میں سے صرف ایک آئے، صرف ایک آئے، تو اس کا جو حصہ ہے، اسی کے عدد سے مسئلہ بنائیں گے۔ تو اس کا جو حصہ ہے، اسی کے عدد سے مسئلہ بنے گا بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، اسی کے عدد۔ بھئی، وارث آئے ہیں، کئی وارث ہیں، لیکن ذوی الفروض کتنے ہیں؟ ایک ہی فرد ہے صرف۔ تو جب ایک ہی فرد ہے تو اس کا ایک ہی حصہ ہوگا، لازمی بات ہے، یا وہ ثمن ہوگا، یا سدس ہوگا، یا ربع ہوگا، یا نصف ہوگا۔ تو بہرحال، جو بھی حصہ ہوگا، اسی کے عدد سے کیا کیا جائے گا؟ مسئلہ۔ اب اگر اس کا حصہ ثمن ہے، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ اٹھ سے، ثطانیہ سے۔ اگر اس کا حصہ سدس ہے، تو سدس کا عدد کیا ہے؟ ستہ، یعنی چھ، تو چھ سے مسئلہ بنے گا۔ اگر اس کا حصہ ربع ہے، تو مسئلہ چار سے بنے گا۔ اور اگر اس کا حصہ نصف ہے، تو مسئلہ دو سے بنے گا۔ جی، آگے لکھیں، مثال نمبر چار۔ مثال نمبر چار۔ اسی طرح میت لکھیں۔ میت لکھیں۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کا، ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس کا صرف خاوند اور ایک بیٹا ہے۔ خاوند اور ایک بیٹا۔ تو میت کے نیچے لکھیں زوجٌ، اور دوسری طرف لکھیں ابنٌ۔ پہلے ذوی الفروض کو لکھتے ہیں، بعد میں عصبات کو۔ بیٹا عصبہ ہے، اس کو بعد میں لکھیں گے بھئی، زوجٌ اور ابنٌ۔ اچھا، کتنے ذوی الفروض، بیٹا تو عصبہ ہے، ذوی الفروض میں سے صرف کون ہے؟ خاوند ہے صرف۔ اور خاوند کو اولاد کی موجودگی میں کتنا ملتا ہے؟ ربع۔ تو ربع، اور ربع کا عدد کیا ہے؟ چار، مسئلہ چار سے بنے گا۔ اوپر لکھیں چار۔ چار میں سے خاوند کو کتنا دینا ہے؟ ربع، چوتھا حصہ، ایک۔ تو خاوند کے نیچے ایک لکھیں، اور باقی سارا بیٹا لے گیا، وہ کتنا ہے؟ تین، تو بیٹے کے نیچے تین لکھ لیں بھئی۔ مسئلہ حل ہو گیا؟ جی۔ آگے مثال نمبر، مثال نمبر پانچ بھئی۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اس کے وارثوں میں صرف ایک بیٹی ہے اور ایک چچا ہے۔ بیٹی اور چچا۔ اسی طرح لکھیں میت، اور اس کے شروع میں لکھیں نیچے بنتٌ، اور آگے لکھیں عمٌ، عمٌ، چچا بھئی۔ اچھا، جی، اب بتائیے، ذوی الفروض میں سے صرف کون ہے؟ بیٹی، اور بیٹی اکیلی ہو اس کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے، اور نصف کا معین عدد کیا ہے؟ دو، مسئلہ دو سے بنے گا بھئی۔ تو اوپر دو لکھیں، اور دو میں سے کتنا بیٹی کو دینا ہے؟ آدھا دینا ہے نا، تو دو کا آدھا ایک۔ ایک دے دیا بیٹی کو، اور باقی سارا چچا کا عصبہ ہونے کی وجہ سے۔ اور باقی کتنا بچا؟ ایک ہی، تو چچا کے نیچے، عم کے نیچے بھی ایک لکھ لیں بھئی۔ جی، کتنی مثالیں ہو گئیں؟ پانچ۔ اگلی مثال لکھیے بھئی، مثال نمبر چھ۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے وارثوں میں صرف اس کی بیوی اور ایک بیٹا ہیں۔ بیوی اور ایک بیٹا۔ تو میت لکھیں، اس کے شروع میں نیچے لکھیں زوجہ، اور آگے لکھیں ابنٌ۔ اچھا، بیوی کو کتنا ملتا ہے اگر اولاد ہو تو؟ ویسے تو ربع ہے، لیکن اولاد ہو تو ثمن۔ تو یہاں اولاد ہے، بیٹا ہے، تو اور ثمن کا عدد کیا ہے ہم نام عدد؟ اٹھ اس کا ہم نام عدد ہے، تو اٹھ ہی سے مسئلہ بنے گا بھئی۔ اوپر لکھ لیں میت کے اوپر اٹھ، اور اٹھ میں سے بیوی کو کتنا دینا ہے؟ ایک، یعنی اٹھواں حصہ۔ بیوی کے نیچے لکھ لیں ایک، اور باقی کتنے رہ گئے؟ سات، وہ بیٹے کے نیچے لکھ لیں بھئی۔ مسئلہ حل ہو گیا بھئی؟ جی۔ کتنی مثالیں ہوئیں؟ چھ۔ اگلی مثال لکھیے بھئی، مثال نمبر سات۔ اسی طرح میت بنائیں۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے اس کا ایک بیٹا اور والد زندہ ہیں۔ ایک بیٹا اور والد۔ کس کو پہلے لکھیں گے؟ پہلے ذوی الفروض کو لکھتے ہیں، تو بیٹا عصبہ بن جاتا ہے اور والد اب صرف کیا ہے؟ ذوی الفروض، پہلی حالت ہے اس کی بھئی، فرض مطلق والی۔ تو پہلے اب لکھیں میت کے نیچے اور پھر آگے ابن لکھیں۔ اچھا، اب باپ کو اولاد کی موجودگی میں، بیٹے کی موجودگی میں کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے چھٹا حصہ، اور سدس کا ہم نام عدد کیا ہے؟ ستہ، یعنی چھ، تو چھ سے مسئلہ بنے گا بھئی۔ چھ اوپر میت کے لکھیں، چھ میں سے کتنا دینا ہے باپ کو؟ ایک، یعنی چھٹا حصہ ایک اب کے نیچے لکھ دیں، اور باقی پانچ کس کے نیچے؟ ابن، بیٹے کے نیچے لکھ لیں بھئی۔ کتنی مثالیں ہو گئیں؟ سات مثالیں ہو گئیں بھئی۔ جی، اب دیکھیے ذرا کتاب پر۔ "فَإِذَا جَاءَتْ فِي الْمَسَائِلِ مِنْ هَذِهِ الْفُرُوضِ أُحَادُ أُحَادُ"، جب آ جائیں مسائل کے اندر ان حصوں میں سے احاد احاد، ایک ایک بھئی۔ احاد بھئی، احاد کا معنیٰ ہے ایک ایک بھئی، یہ آگے احاد اسی کی تاکید ہے۔ کیونکہ احاد کا اپنا کیا معنیٰ ہے؟ ایک نہیں، ایک ایک بھئی۔ ثلاث، رباع، کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ ثلاثہ کا معنیٰ تین تین، دو مرتبہ کہنا ہے بھئی۔ تو احاد کا معنیٰ ہوا ایک ایک، یہ آگے احاد اسی کی تاکید بھئی۔ جب ان میں سے ایک ایک آ جائے، یعنی صرف ذوی الفروض میں سے ایک حصہ آ جائے، "فَمَخْرَجُ كُلِّ فَرْضٍ"، تو ہر حصے کا مخرج، یعنی جس سے وہ حصہ نکالا جائے گا، "سَمِيُّهُ"، کیا ہوگا؟ سَمی۔ کہتے ہیں ہم نام کو بھئی، سَمیٌّ کس کو کہتے ہیں؟ ہم نام کو کہتے ہیں۔ تو ہر حصے کا مخرج، مخرج جس سے وہ حصہ نکلے گا، "فَمَخْرَجُ كُلِّ فَرْضٍ"، تو ہر حصے کا مخرج جو ہے، "سَمِيُّهُ"، اس کا ہم نام ہے، ہم نام ہے۔ یعنی ثلث کا ثلاثہ، سدس کا ستہ، ثمن کا ثمانیہ، وہی بات جو میں بیان کر چکا ہوں۔ "إِلَّا النِّصْفَ"، سوائے نصف کے، "وَهُوَ مِنَ اثْنَيْنِ"، وہ کس سے ہوگا؟ دو سے ہوگا، اس کا معین عدد دو ہے۔ "كَالرُّبُعِ مِنْ أَرْبَعَةٍ"، جیسے کہ ربع کس سے ہے؟ اربعہ سے ہے، یعنی اربعہ اس کا ہم نام ہے۔ "وَالثُّمُنِ مِنْ ثَمَانِيَةٍ"، اور ثمن جو ہے ثمانیہ سے ہے، یعنی ثمانیہ اس کا ہم نام ہے۔ "وَالثُّلُثِ مِنْ ثَلَاثَةٍ"، اور ثلث کس سے ہے؟ ثلاثہ سے ہے، تو ثلاثہ اس کا ہم نام ہوا۔ چلیے، بس کرتے ہیں۔ بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
92 approved lectures · 22 of 92