Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و أما للأم فاحوال ثلاث السدس مع الولد أو ولد الابن و ان سفل أو مع الاثنين من الإخوة و الأخوات فصاعدا من أي جهة كان و ثلث الكل عند عدم هؤلاء المذكورين. آج ماں کے احوال ہم پڑھیں گے کہ مختلف حالتوں میں مرنے والے کی ماں کا وراثت میں کتنا حصہ ہوگا بھئی؟ تو کہتے ہیں و أما للأم فاحوال ثلاث اور باقی ماں جو ہے تو اس کے تین احوال ہیں، تین احوال بھئی لکھ دیجیے بھئی۔ نंबर ایک ہے ثلث کل، ثلث کل۔ نمبر دو ہے ثلث ما بقی، ثلث ما بقی بعد فرض أحد الزوجين، ثلث ما بقی بعد فرض أحد الزوجين بعد فرض أحد الزوجين اور تیسری حالت ہے سدس یعنی چھٹا حصہ۔ پہلی حالت کیا ہے؟ ثلث الکل، ثلث الکل یعنی جو کل مال بچا ہے اس کا کل مال، پہلے تین حقوق کے بعد کی بات چل رہی ہے بھئی۔ تجہیز و تکفین، ادائے دین اور نفاذ وصیت کے بعد اب جو مال بچا ہے اس سارے مال کا تیسرا حصہ ماں کو دیں گے، یہ ثلث کل ہوا۔ اور ایک صورت ہے کہ ما بقی کا ثلث ملے گا بعد فرض أحد الزوجين، میاں بیوی میں سے کسی ایک کا جو حصہ ہے اس کے حصہ نکال کر جو مال باقی بچے گا اس کا ثلث دیں گے بھئی۔ مرنے بیوی کا انتقال ہوا، خاوند زندہ ہے، یا خاوند کا انتقال ہوا بیوی زندہ ہے، تفصیل آگے آ رہی ہے، اس کا حصہ نکالنے کے بعد ما بقیہ جو مال بچ جائے گا اس کا ثلث دے دیں گے ماں کو بھئی۔ اور تیسری حالت کیا ہے؟ سدس دیں گے، چھٹا حصہ بھئی، دیکھیے بھئی۔ اب کتاب پر دیکھیے، السدس مع الولد أو ولد الابن، سدس ملے گا ماں کو کے لیے چھٹا حصہ ہوگا مع الولد کس کے ساتھ؟ میت کی اولاد کے ساتھ أو ولد الابن یا میت کے بیٹے کی اولاد، یہ نہیں میت کا بیٹا یا بیٹی ہو یا پوتا پوتی و ان سفل، اگرچہ نیچے تک ہی کیوں نہ ہو، پڑپوتا، پڑپوتی وغیرہ۔ جب یہ ہوں تو اس صورت میں ماں کو سدس یعنی چھٹا حصہ ملتا ہے اسی طرح أو مع الاثنين من الإخوة والأخوات، جب دو ہوں بھائیوں اور بہنوں میں سے فصاعدا یا زیادہ، بھئی بہنوں میں سے دو یا زیادہ ہوں من أي جهة كان، جس جہت سے بھی وہ دو ہوں بھئی۔ میت کا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، ان میں سے کوئی ہو، کوئی بھی ہو، اور یا بہن بھائیوں میں سے دو ہوں، چاہے دو بھئی ہوں، دو بہنیں ہوں، دو ہونے چاہیے اور جس جہت سے بھی ہوں، چاہے حقیقی ہوں، چاہے علاتی ہوں، چاہے اخیافی ہوں، تو یہاں بہت سی صورتیں بن گئیں، مثلاً دونوں حقیقی بھئی ہیں، دو حقیقی بھئی بھی ہیں، ماں کو کتنا ملے گا؟ سدس۔ یا دو حقیقی بہنیں ہیں، یا دو علاتی بھئی ہیں، یا دو علاتی بہنیں ہیں، یا دو اخیافی بھئی ہیں، یا دو اخیافی بہنیں ہیں، یا ایک حقیقی بھئی، ایک حقیقی بہن ہے، دو ہو گئے، یا ایک علاتی بھئی اور اس کی علاتی بہن، یا ایک اخیافی بھئی اور اس کی اخیافی بہن، یا یا مختلف قسم کے ہوں، بھئی ہے علاتی تو بہن ہے اخیافی، یا بہن ہے حقیقی تو بھئی ہے اخیافی، جو بھی صورت ہو جائے، جس قسم کے بھی بہن بھئی دو ہو جائیں، تو پھر اس صورت میں ماں کو کتنا ملے گا؟ سدس، تو دو بھئی بہن ہوں، جس جہت کے بھی ہوں، اس صورت میں بھی سدس ملے گا اور بیٹا، بیٹی میت کا یا پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، ان میں سے کوئی زندہ ہو تو پھر بھی کیا ملے گا؟ سدس ملے گا بھئی، سدس ملے گا۔ تو کہتے ہیں السدس مع الولد أو ولد الابن و ان سفل، اور سدس ملے گا میت کی اولاد یا بیٹے کی اور اس کے بیٹے کی اولاد کے ساتھ، اگرچہ نیچے تک خواہ مال إثنين من الإخوة والأخوات فصاعدا یا دو ہوں بھائیوں اور بہنوں میں سے یا زیادہ ہوں من أي جهة كان، جس جہت سے بھی ہوں وہ، و ثلث الكل عند عدم هؤلاء المذكورين، اور کل مال کا ثلث ملے گا جب یہ عند عدم هؤلاء المذكورين، یہ اوپر جو مذکور ہوئے، ان کی غیر موجودگی میں، ان کے نہ ہوتے وقت کیا ملے گا؟ ثلث کل، کل مال کا ثلث ملے گا بھئی۔ نیز ایک اور شرط بھی ہے کہ باپ کے میت کے باپ کے ساتھ أحد الزوجين بھی جمع نہ ہو، میت کے مرنے والا یا مرنے والی اس کے باپ کے ساتھ أحد الزوجين نہ ہو۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی بیوی زندہ ہے، اور بیوی بھی زندہ ہے اور مرنے والے کا باپ بھی زندہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، یا خاوند کا انتقال ہوا، پہلے کیا صورت بنائی تھی؟ بیوی کی۔ ہاں اب خاوند کا مثلاً انتقال ہوا اور اس کی بیوی زندہ ہے، اور ساتھ اس کا اس خاوند کا باپ بھی زندہ ہے بھئی، تو دیکھو باپ أحد الزوجين کے ساتھ آ گیا، جمع ہو گیا۔ یا بیوی کا انتقال ہوا تو باپ بھی زندہ اور خاوند بھی زندہ بھئی، تو دیکھو باپ کس کے ساتھ آ گیا؟ أحد الزوجين کے ساتھ آ گیا، یہ آخری حالت آنے والی ہے، اس لیے میں نے کہا کہ یہ صورت بھی نہ ہو، انہوں نے کیا کہا؟ یہ جو اوپر مذکور ہوئے، ان میں سے کوئی نہ ہو، یعنی میت کا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، ان میں سے کوئی نہ ہو، نیز میت کے دو بھئی بہنوں میں سے بھی نہ ہوں، اور نیز باپ ماں أحد الزوجين بھی نہ ہو، کیونکہ یہ آخری حالت آنے والی ہے بھئی، تو اس صورت میں ماں کو کل مال کا ثلث ملے گا، تیسرا حصہ، و ثلث ما بقی بعد فرض أحد الزوجين، اور ما بقیہ کا ثلث ملے گا بعد فرض أحد الزوجين، میاں بیوی میں سے ایک کے حصے کے بعد بھئی، میاں بیوی میں سے ایک کا حصہ دینے کے بعد جو باقی بچے گا، اس کا کیا دے دیں گے؟ اس کا ثلث دے دیں گے اس ما بقیہ کا ثلث، لیکن ساتھ اس کے کیا ضروری ہے؟ أحد الزوجين کے ساتھ اور کون زندہ ہونا چاہیے؟ میت کا باپ بھی زندہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ ما بقی بعد فرض أحد الزوجين اور ما بقیہ کا ثلث دیں گے بعد فرض أحد الزوجين، میاں بیوی میں سے ایک کسی کوئی ایک جو زندہ ہے، ایک تو ایک کا تو انتقال ہوا، بیوی کا انتقال ہوا تو کون زندہ ہو؟ خاوند، اور خاوند کا انتقال ہوا تو کون زندہ ہے؟ بیوی زندہ ہے، اور یہ جو مرنے والا تھا، اس کے ماں باپ بھی زندہ ہیں، کیا زندہ ہیں؟ ماں باپ، تو أحد الزوجين بھی زندہ اور ماں باپ بھی زندہ، اور ماں کے تو ہم احوال پڑھ رہے ہیں، باقی دو کون رہ گئے؟ باپ مع أحد الزوجين، تو جب بھی باپ مع أحد الزوجين ماں کے ساتھ آ جائے، تو ماں کو ثلث الکل نہیں دیتے، بلکہ ثلث ما بقی بعد فرض أحد الزوجين، وہ جو خاوند یا وہ جو بیوی زندہ ہے، مرنے والے کے مال میں سے پہلے اس کا حصہ نکالیں گے، اور پھر جو ما بقیہ مال بچے گا، اس کا کتنا؟ تیسرا حصہ وہ ماں کو دیں گے، تو یہ ثلث ما بقیہ ہوا، ثلث الکل نہ رہا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے و ثلث ما بقی بعد فرض أحد الزوجين اور میاں بیوی میں سے جو ایک ہے، اس کے حصے کے بعد جو ما بقیہ ہوگا، اس کا ثلث دیں گے، و ذلک فی مسألتين، اور یہ کتنے صورتوں میں ہوگا؟ دو مسئلے ہیں، صرف دو ہی صورتیں بنتی ہیں بھئی، زوج و ابوین و زوجة و ابوین۔ زوج و ابوین و زوجة و ابوین، ایک صورت یہ کہ خاوند زندہ ہے و ابوین اور ماں باپ زندہ ہیں۔ خاوند زندہ ہے اور ماں کے تو احوال پڑھ رہے ہیں، تو باقی کون رہ گئے؟ باپ مع أحد الزوجين، و زوجة و ابوین، اور دوسری صورت، پہلی میں تو خاوند زندہ تھا، دوسری میں بیوی زندہ ہے یعنی خاوند کا پہلی صورت میں بیوی کا انتقال ہوا تھا اور باپ ماں أحد الزوجين تھا ماں کے ساتھ، اور دوسری صورت میں زوجة و ابوین، کس کا انتقال ہوا؟ جی، بیوی کا شوہر کا انتقال ہوا اور بیوی جو ہے ماں احد بیوی بھی زندہ اور مرنے والے کے والدین بھی زندہ، اور ان میں سے کس کے احوال پڑھ رہے ہیں؟ ماں، تو ماں کے تو احوال پڑھ رہے ہیں، باقی کون رہ گئے؟ زوجہ اور اب تو دیکھو باپ مع أحد الزوجين آگیا، اور باپ مع أحد الزوجين آ جائے، تو پھر کیا کیا جاتا ہے؟ زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو ما بقیہ ہوتا ہے، اس کا ثلث ماں کو ملتا ہے بھئی، اور باپ جو ہوتا ہے وہ عصبہ بن جاتا ہے، کیونکہ اولاد وغیرہ نہیں، تو اولاد کوئی بیٹا پوتا وغیرہ تو ہے نہیں، وہ ورنہ عصبہ بنتے جب وہ نہیں ہے تو یہاں باپ کیا بن جائے گا؟ عصبہ، لہذا کیا کریں گے؟ بیوی یا خاوند کا حصہ دے دیں گے، جو باقی بچ جائے گا، اس کا ثلث کس کو دے دیں گے؟ ماں کو، اور جو باقی بچے گا وہ باپ عصبہ ہونے کی وجہ سے لے لے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ جی، اسی طرح میت بنائیے بھئی لمبی سی میت لکھیے بھئی، لمبی سی لکیر، تا بڑی لمبی کر دیں بھئی۔ آپ کے حاشیے وغیرہ میں بھی صورتیں دی ہوئی ہیں، اگر اس کو بھی دیکھ لیں، تو میت بنا لی بھئی؟ جی، اچھا، اور اب پہلی صورت میں کون کون زندہ ہیں؟ دو مسئلے ذکر کیے، کون کون سے؟ زوج اور ابوین زندہ ہیں، یعنی خاوند اور مرنے والے کے ماں باپ، تو یہ تین افراد ہیں، ان کو میت کے نیچے لکھنا ہے الگ الگ بھئی، اور یاد رکھیے زوج یا زوجہ میں سے کوئی زندہ ہو تو سب سے پہلے اس کو لکھتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو میت کے نیچے ساتھ ملا کر اس کے حاشیے میں دیکھ سکتے ہیں آپ بھئی طریقہ، میت کے ساتھ نیچے شروع کے حصے کے نیچے لکھ لیں، زوج، میت کے ساتھ بھئی، الگ نہیں لکھنا بھئی، یہ مسئلہ بنا رہے ہیں آپ، میم یا تا، تا لمبی سی لکھیے بھئی آپ، پوری لکیر پر، پھر یہ میم یا کے نیچے ساتھ ہی ملا کر زوج لکھیں بھئی، زوج۔ جی، اس طرح ٹھیک آپ نے لکھا بھئی، میم یا کے نیچے لکھ دیا زوج ملا کر، اس سے تھوڑا سا فاصلہ لے کر لکھ دیں، ام، ماں، ماں باپ زندہ ہیں نا، تو دوسرا لکھ لیں ام، یا ماں اردو میں لکھ دیں، ماں بھئی، اور تیسرا کون ہے؟ اب، لکھ دیں اب عربی میں یا باپ لکھ دیں، والد لکھ دیں، کچھ فاصلہ دے کر۔ لکھ لیا بھئی؟ تو بس یہ تین ہی، چونکہ تین ہی زندہ ہیں، تو جو جتنے زندہ ہوں، جگہ کے حساب سے اس نے قریب یا دور لکھ لیا کریں، تو میت کے نیچے بس یہی تین لفظ لکھنے ہیں، تو ایک شروع کے کنارے کے نیچے لکھ لیا، ایک درمیان میں لکھ لیا اور ایک آخر کنارے کے نیچے لکھ لیا بھئی۔ अच्छा, اب یا دیکھیے، مسئلہ زوج کو کتنا دینا ہے؟ بھئی اولاد مرنے یہ خاوند زندہ ہے معلوم ہوا بیوی کا انتقال ہوا ہے، اور خاوند کو کے کتنے احوال تھے؟ دو، ایک حالت میں کتنا دیتے ہیں؟ نصف اور دوسری حالت میں ربع، نصف کب دیتے ہیں خاوند کو جب مرنے والی کی کوئی اولاد نہ ہو، یہاں کوئی اولاد ہے؟ نہیں، تو خاوند کو کتنا ملے گا؟ نصف ملے گا۔ اچھا! اور ماں کو کتنا حصہ ملے گا؟ ماں بقایا کا ثلث۔ اچھا، اب مسئلہ بنائیے ذرا چھ سے بھئی چھ سے۔ چھ سے، چھ سے مسئلہ کیسے بنا؟ یہ آگے آئے گا آپ خود انشاءاللہ پھر صورتیں بنائیں گے۔ تو ابھی صرف چھ، یہ جو میم یا لکھا ہے نا جہاں سے شروع کیا، اس میم یا کے سر پر اوپر لکھ دیں چھ بھئی، واضح کر کے۔ یہ مسئلہ بنا ہے چھ سے۔ لکھ لیا بھئی؟ اب چھ میں سے کتنا خاوند کو دینا ہے؟ نصف دینا ہے۔ چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ تو تین زوج کے نیچے لکھ لیجیے۔ تین زوج کے نیچے لکھ لیجیے۔ تین زوج کو دے دیے، باقی کتنا بچا؟ تین۔ اس تین کا تیسرا حصہ ماں کو دینا ہے، تین کا تیسرا حصہ کتنا؟ ایک۔ تو ماں کے نیچے ایک لکھ دیجیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک۔ اور تین حصے، چھ میں سے تین حصے مل گئے خاوند کو، ایک حصہ ماں کو، کتنے ہو گئے؟ چار۔ اور مسئلہ کتنے سے بنا تھا؟ چھ سے۔ چھ سے چار تقسیم ہوگئے، کتنے رہ گئے؟ دو۔ وہ باپ عصبہ ہونے کی وجہ سے لے جائے گا، تو اب کے نیچے دو لکھ دیجیے۔ تو یہ مسئلہ آپ کا حل ہوا، اس طرح تقسیم ہو کے، ہوگا مال ان کے درمیان، بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مسئلہ چھ سے بنایا اور پھر نصف خاوند کو اور پھر ثلثِ ما بقایا ماں کو، اور پھر جو باقی بچ گیا وہ باپ کو عصبہ ہونے کی بنا پر۔ یہ تو پہلا تھا مسئلہ۔ دوسرا مسئلہ کیا ہے؟ زوجتیں و اباوین۔ خاوند کے بجائے کون زندہ ہے؟ زوجہ زندہ ہے۔ تو اب یہی مسئلہ الگ نیچے پھر بنائیے، اسی طرح میت لکھیے لمبی سی۔ میت بنائیے بھئی! اب باقی وہی چیزیں لکھیں، صرف زوج کی جگہ زوجہ لکھ دیں بھئی۔ میت کے شروع کے کنارے کے نیچے میم کے نیچے تقریباً کیا لکھیں؟ زوجہ درمیان میں نیچے کیا لکھیں؟ ام یا ماں لکھ لیں، اور آخری کنارے کے نیچے کیا لکھ لیں گے؟ اب، اب لکھ لیں، یا باپ لکھ دیں بھئی، یا والد لکھ لیں جی۔ اب بتائیے بھئی، بیوی کو کے کتنے احوال؟ دو احوال۔ کون کون سے؟ ربع اور ثمن۔ چوتھا حصہ اور آٹھواں۔ چوتھا حصہ کب ملتا ہے؟ جب مرنے والے کی، یعنی خاوند کی کوئی اولاد نہ ہو۔ کوئی اولاد ہے یہاں پر؟ نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا بیوی کو کتنا حصہ ملے گا؟ ربع ملے گا چوتھا حصہ۔ اور ماں کو کتنا حصہ ملنا ہے؟ ثلث ما بقایا، بعد فرض احد الزوجين۔ بھئی کیوں ثلث ما بقایا بعد فرض احد الزوجين کیوں ملے گا؟ یہ کیونکہ، ہاں! یہ تیسری حالت ہے ماں کی، جب وہ کس کے ساتھ آ جائے؟ باپ مع احد الزوجين اور یہاں پر بھی میت کا باپ بھی زندہ اور اس کی زوجہ بھی زندہ، تو اب مع احد الزوجين کے ساتھ ماں آ گئی، تو اب ثلث ما بقایا ملتا ہے۔ تو بیوی کو کتنا ملنا ہے؟ ربع۔ ماں کو ثلث ما بقایا اور باپ کو کتنا حصہ ملے گا؟ وہ عصبہ ہونے کی بنا پر کیا مال لے جائے گا۔ باپ کی تیسری حالت ہے یہاں پر بھئی، جس میں وہ کیا بنتا تھا؟ عصبہ۔ کب بنتا تھا عصبہ؟ جب میت کی نہ مذکر اولاد ہو اور نہ مؤنث۔ مذکر اولاد ہوتی تھی تو پھر باپ کو صرف کیا ملتا تھا؟ فرض مطلق ملتا تھا صرف فرض حصہ، کیونکہ نیچے مذکر اولاد وہ عصبہ بن جاتی تھی، باپ عصبہ نہیں بنتا تھا۔ اور اگر صرف بیٹی پوتی وغیرہ ہوتی، تو پھر فرض فرض حصہ بھی ملتا تھا اور چونکہ مذکر نیچے کوئی نہیں تو باپ عصبہ بھی بن جایا کرتا تھا، فرض مع تعصیب۔ اور اگر میت کی کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی تو باپ صرف کیا بنتا تھا؟ عصبہ۔ یہ وہ صورت ہے، باپ اسی لیے ان دونوں صورتوں میں عصبہ بن رہا ہے۔ بھئی! مسئلہ اب بنائیے چار سے بھئی، میم یا کے اوپر چار واضح کر کے لکھیں بھئی، میں میم یا کہہ رہا ہوں بھئی، آگے پیچھے کر کے نہ لکھنا۔ یعنی اس لفظ کے شروع میں ہونا چاہیے یہ چار بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چار یہاں لکھا، یہ چار کیا بتلا رہا ہے اس شروع میں لکھا ہوا چار، اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کہ مسئلہ چار سے ہم نے بنایا، یعنی مال کے کتنے حصے کرنے ہیں؟ چار حصے کرنے ہیں۔ اب اس چار میں سے کتنا حصہ بیوی کا؟ ربع، چوتھا حصہ۔ چار کا، چار کے چار حصے کرے ہیں تو ایک حصہ، چوتھا حصہ ہوگا، اس میں کتنے آئیں گے؟ ایک آئے گا۔ تو ایک ہوا بیوی کا حصہ، تو زوجہ کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ باقی کتنے رہ گئے؟ تین حصے، تین کا تیسرا حصہ ماں کو دینا ہے، تین کا ثلث کتنا ہوگا؟ ایک، تیسرا حصہ ایک، وہ ماں کے نیچے لکھ لیجیے۔ مسئلہ، مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ چار سے۔ بیوی کو کتنا دیا؟ ایک، ماں کو بھی ایک، تو ایک اور ایک کتنے ہوئے؟ دو۔ چار میں سے دو نکل گئے، کتنے رہ گئے؟ دو رہ گئے۔ وہ باپ عصبہ ہونے کی بنا پر لے جائے گا، تو باپ کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ باپ کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس طرح مسئلہ حل کیا جاتا ہے بھئی، علم میراث کے اندر بھئی۔ احوال یاد ہوں، دیکھیں، غور کریں، کون سی حالت ہے ہر ایک کی، اس کے مطابق حصہ طے کریں، اور پھر وہ مسئلہ بنائیں، لیکن کس عدد سے مسئلہ بنانا ہے، یہ آپ آگے اصول و ضوابط آ رہے ہیں، اس سے آپ کو پتہ چلے گا۔ اور اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے مال بھئی۔ اور میں نے بتایا، مسئلہ جب بھی بنانا ہے، زوج یا زوجہ کو ابتدا میں لکھنا ہے، اگر وہ زندہ ہیں۔ اگر وہ ہیں، تو پھر ان کو ابتدا میں شروع میں لکھیں اور باقی وارثوں کو ان کے بعد۔ بعد میں بھی زوج یا زوجہ کو آپ لکھ سکتے ہیں، مسئلہ تو وہی، صورت تو وہی بنے گی، نقشہ وہی بنے گا، لیکن اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا، دیکھنے والا کہے گا معلوم ہوا یہ علم میراث کو زیادہ نہیں جانتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ زوج یا زوجہ جب بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے، ان کو مقدم لکھا جاتا ہے بھئی۔ مقدم لکھا جاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ماں کے کتنے احوال ہوئے؟ تین احوال ہوئے۔ ایک صورت میں ثلث الکل ہے، اور ایک صورت میں ثلث ما بقایا بعد فرض احد الزوجين، اور تیسری حالت میں سدس۔ سدس کب ملے گا؟ جب میت کی اولاد یا اس کے بیٹے کی اولاد نیچے تک کوئی بھی ہو بھئی، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، تو ماں کو سدس ملے گا، چھٹا حصہ۔ اور اسی طرح اگر میت کے بھئی بہنوں میں سے کوئی سے دو زندہ ہوں، تو بھی ماں کو کتنا ملتا ہے؟ سدس ہی ملتا ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ اور اگر باپ کے ساتھ احد الزوجين ہوں، تو پھر ما بقایا کا ثلث ملتا ہے۔ (یعنی خاوند یا بیوی کو اس کا حصہ دے دیں گے اور ما بقایا کا ثلث ماں کو) لیکن یہاں کیا ضروری ہے؟ کہ احد الزوجين کے ساتھ کون زندہ ہو؟ باپ بھی زندہ ہو بھئی۔ اور تیسری کیا صورت تھی؟ جب ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، یعنی میت کی اولاد بھی نہیں، بھئی بہنوں میں سے بھی دو کوئی نہیں، اور باپ مع احد الزوجين بھی نہیں ہے، تو پھر میت، ماں کو کتنا حصہ ملے گا؟ ثلث الکل۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ ولو کان، ولو کان مکان الاب مکان الاب جد۔ اور اگر باپ کی جگہ دادا ہوا، فالام ثلث جمیع المال۔ تو ماں کے لیے کیا ہوگا؟ سارے مال کا ثلث ہوگا۔ بھئی یہی صورتیں، جس میں باپ مع احد الزوجين ہے، باپ کی جگہ کون آ گیا؟ جد آ گیا، جد صحیح بھئی۔ تو اب پہلے ہم نے کیا تھا؟ ثلث ما بقایا دیا تھا، لیکن اب طرفین فرما رہے ہیں کہ ثلث جمیع مال دیں گے۔ الا عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی، مگر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، فان لھا ثلث الباقی کہ ان کے نزدیک ماں کے لیے کیا ہوگا؟ اسی طرح ما بقایا کا ثلث ہوگا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ اسی طرح ہے، باپ آئے تو بھی ثلث ما بقایا، دادا ساتھ آ جائے تو بھی باپ کی جگہ دادا آ گیا۔ خاوند کا انتقال ہوا، اور باقی بچنے والے کون؟ بیوی اور دادا۔ یا بیوی کا انتقال ہوا، باقی بچنے والے کون؟ خاوند اور دادا۔ تو اس صورت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی طرح مسئلہ ہوگا، میاں یا بیوی کو اس کا حصہ دے دو اور ما بقایا کا ثلث کس کو دے دو؟ جیسے ابھی بیان ہوا جو آپ نے مسئلے نکالے بھئی، بعینہ اسی طرح رہے گا، کوئی تبدیلی نہیں۔ تو باپ ہو یا دادا کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے نزدیک۔ جب کہ طرفین فرماتے ہیں کہ اگر دادا آ جائے باپ کی جگہ پر، تو پھر اس صورت میں ثلث جمیع المال اس ماں کو دیا جائے گا، بھئی ما بقایا کا ثلث نہیں، بلکہ سارے مال کا ثلث۔ تو یہ دو اور صورتیں ذرا بنائیں آپ بھئی۔ اب باپ کی جگہ جد لکھیں بھئی۔ پہلی صورت، اسی طرح میت بنائیں، اور شروع میں لکھیں زوج، مرنے والی بیوی ہے، زندہ خاوند ہے، اور ام اور اب بھئی، اس خاوند، جو مرنے والا ہے، اس کی ماں اور اس کا باپ وہ بھی، ہاں! ماں اور جد بھئی، دادا وغیرہ کوئی جد صحیح زندہ ہے۔ اب طرفین کیا فرماتے ہیں؟ ماں کو ثلث جمیع المال دیں گے۔ چھ سے ذرا مسئلہ بنائیں، دیکھو بنتا ہے یا نہیں۔ چھ سے مسئلہ بنائیں۔ تو کون زندہ ہے پہلے؟ خاوند ہے، پہلے خاوند ہے۔ تو خاوند کو کتنا دیں گے؟ نصف دیں گے۔ تین حصے کس کو مل گئے؟ خاوند کو۔ اچھا۔ اب آگے کس کو دینا ہے؟ ماں کو، کتنا حصہ؟ باپ تو عصبہ بن چک، او دادا تو کیا ہے؟ عصبہ ہے، وہ ما بقایا لے گا۔ ماں کا کتنا حصہ؟ ثلث الکل، کل کتنا تھا؟ چھ۔ چھ کا ثلث کتنا؟ دو۔ تو ماں کو دو حصے ماں کے اس کو ملیں گے۔ اور باقی کتنا رہ گیا؟ تین مل گئے خاوند کو، دو مل گئے ماں کو، اور ایک حصہ کس کا رہ گیا؟ دادا کا، دیکھا بھئی یہ فرق آ گیا بھئی۔ دوسری صورت کریں بھئی۔ زوجہ اور اباوین کریں بھئی۔ میت، اس کے نیچے لکھیں زوجہ اور میت کی ام اور میت کا جد بھئی، جد۔ اچھا، اب مسئلہ بنا لیں بارہ سے بھئی۔ مسئلہ بنے گا کس سے؟ چار سے، چھ سے، بارہ سے، یہ ساری تفصیلیات آگے آنے والی ہیں بھئی، یہ حصے آپ کو آتے ہوں گے تو یہ خود بخود آپ فورا کر لیں گے بھئی۔ اچھا، تو یہاں بارہ سے حصے بنائیں۔ تو زوجہ کو کتنا ملتا ہے؟ ربع، چوتھا حصہ، اولاد نہیں ہے، تو بارہ کا چوتھا حصہ کتنا ہے؟ تین، تین حصے لکھ دیں زوجہ کے نیچے، اچھا، اس کے بعد ماں کو کتنا دیں گے؟ ثلث الکل، سارے مال کا ثلث، اور کل کتنا تھا؟ بارہ، بارہ کا ثلث تیسرا حصہ، چار، تو چار حصے مل جائیں گے ماں کو، اور باقی چار اور تین کتنے ہوئے؟ سات، باقی کتنے رہ گئے؟ پانچ، بارہ میں سے جو پانچ باقی بچ گئے، وہ مل جائیں گے دادا کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی سب کو؟ تو یہ معنی ہے، ولو کان مکان الاب جد، اور اگر باپ کی جگہ دادا ہوا، دادا میں ویسے بول رہا ہوں، جد صحیح کوئی بھی ہو سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جد صحیح کہ درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ جس طرف سے بھی ہو، باپ کی طرف سے بھی اگر اوپر کہیں عورت کا واسطہ بیچ میں آ گیا، تو وہ جد صحیح نہیں رہے گا بھئی۔ مثلاً باپ کی ماں کا باپ۔ درمیان میں کس کا واسطہ آ گیا؟ ماں کا واسطہ آ گیا، تو یہ جد صحیح نہ رہا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جد صحیح بس درمیان میں عورت کا یعنی ماں کا واسطہ کسی طرف سے بھی نہ آئے وہ جد صحیح ہے، جتنا بھی اوپر سلسلہ چلا جائے۔ اور اگر باپ کی جگہ جد آ جائے، یعنی جد صحیح، فالام ثلث جميع المال تو ماں کے لیے جمیع المال کا ثلث ہوگا، الا عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی، مگر امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک فان لھا ثلث الباقی، تو اس کے لیے کیا ہوگا؟ باقی مال کا ثلث ہوگا۔ فتوی بھئی طرفین ہی کے قول پر ہے۔ اچھا، چلیے، بس کر لیتے ہیں، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 15 of 92