اچھا بھئی، گذشتہ سبق میں ہم نے تقسیم کا طریقہ شروع کیا تھا اور کچھ مثالیں حل کی تھیں، لیکن اس میں جس عدد سے ہم تقسیم کرتے تھے وہ ایک ہی ہندسے پر مشتمل ہوتا تھا، بعد میں دو کے ساتھ یا تین کے ساتھ تقسیم کیا، بعد میں چھ کے ساتھ، بعد میں نو کے ساتھ۔ ایک دو مثالیں بڑے عدد کی بھی مثلاً کر لیں۔ دیکھیے، یہ ایک مثال ہم حل کر لیتے ہیں۔ 17 ایک عدد ہے 17 اور دوسرا ہے 357، 357۔ ان کے درمیان یہ علامت ہے، اس علامت سے آپ کو پتہ چل گیا کہ کون سا عمل کرنا ہے؟ تقسیم کا عمل کرنا ہے، یعنی 17 سے تقسیم کرنا ہے 357 کو۔ تو دیکھیے، اس میں 17 کے اندر دو ہندسے ہیں بھئی۔ تو اب بڑے عدد سے بھی طریقہ سارا وہی ہے بھئی۔ سب سے پہلے جس کو تقسیم کرنا ہے، یعنی 357، اسے لکھیں۔ اس کے اوپر لکیر لگائیں اور بائیں کنارے کو ذرا نیچے لے آئیں اور باہر کی طرف اب 17 لکھیں، جس سے تقسیم کرنا ہے بھئی۔ میں نے کیا بتلایا تھا؟ کہ جسے تقسیم کرنا ہے اس میں سے سب سے پہلے ایک پہلے عدد کو پکڑیں جو بائیں طرف ہو۔ یہاں بائیں طرف 357 میں کیا ہے؟ تین ہے۔ لیکن تین 17 سے چھوٹا ہے، تو ساتھ والے ایک اور عدد کو ملا لیں گے۔ تین کے ساتھ کس کو ملایا؟ پانچ کو۔ کتنا بن گیا؟ 35 بن گیا۔ اب 35 کو 17 سے تقسیم کرنا ہے، وہی طریقہ کہ 17 کا پہاڑا پڑھیں، بڑے عدد آئیں گے، اگر پہاڑا نہیں آتا تو پھر وہی طریقہ ضرب کا عمل کرتے چلے جائیں، دو سے ضرب دیں، تین سے پھر اس کو ضرب دیں، چار سے ضرب دیں۔ تو جہاں آ کر اس کے برابر آ جائے یا اس سے کم رہے، اس سے اوپر نہیں جانا، اس کے برابر رہنا ہے یا اس سے کم۔ تو 17 ایکم 17، 17 دونی 34 اور 17 تिये 51۔ اب 51 تو 35 سے بڑا ہے، تو نیچے 17 دونی 34 یہیں تک رہیں گے ہم، تو دو اوپر ہم نے لکھا، 35 کے نیچے وہ 34 لکھ دیا۔ جی، 35 میں سے 34 کو نکالیں تو کتنا بچ گیا؟ ایک بچ گیا، دوسری طرف سے ایک عدد سات کو تھا اس کو اتار لیا، یہ 17 ہے۔ اب 17 کو کتنے سے ضرب دیں کہ 17 آئے؟ ایک سے، تو وہ ایک اوپر دو کے ساتھ لکھ لیا، 17 کے نیچے 17 لکھا اور یہ پورا تقسیم ہو گیا۔ معلوم ہوا 17 کو 21 سے ضرب دیں تو 357 آتا ہے۔ جب بھی تقسیم کریں، پھر اس کی پڑتال ضرب کے ذریعے کر لیا کیجیے بھئی، 17 کو کس سے کس سے تقسیم کیا؟ 17، اس کو ضرب دیا کریں، جب پورا تقسیم ہو جائے حاصلِ قسمت، یعنی 21 سے، تو 17 کو 21 سے ضرب دیں، اگر 357 آتا ہے، تو معلوم ہوا آپ کی تقسیم صحیح ہے۔ تو بڑے عددوں میں ہمیشہ تقسیم کے بعد کون سا عمل کر لیا کریں؟ ضرب والا بھی عمل کر لیا کریں، اگر وہی جس کو تقسیم کر رہے تھے، وہی جواب ہے، تو معلوم ہوا آپ کا عمل صحیح ہے۔ یہ ایک مثال، ایک اور مثال کر لیں۔ جی، اب ہمارے پاس یہ دو عدد ہیں بھئی، پہلا عدد ہے 125 اور دوسرا عدد ہے 29375، یعنی 29375، اس کو ہم نے تقسیم کس سے کرنا ہے؟ 125 سے تقسیم کرنا ہے، 125 میں سے تین ہندسے آگئے، ایک، دو اور پانچ، تو اس میں بھی تقسیم کا عمل بالکل اسی طرح ہوگا، جس عدد کو تقسیم کرنا ہے اسے پہلے لکھیں 29375، اس کے اوپر لکیر کھینچی، بائیں کنارے کو نیچے لے آئے اور باہر کی طرف 125 لکھ دیا۔ جی، اب 125 کے ساتھ تقسیم کرنا ہے 29375 کو، سب سے پہلے ایک ہندسے کو پکڑا بائیں طرف والے، 29375 میں بائیں طرف کیا ہے؟ دو، 125 سے دو کو تقسیم کرتے ہیں، لیکن دو تو بہت چھوٹا ہے، اس کے ساتھ ایک اور عدد کو ملا لیا، کیا بن گیا؟ 29، ابھی بھی یہ 125 سے چھوٹا ہے، تو پھر ایک تیسرا عدد ساتھ ملا لیا، یہ 293 ہوا بھئی، اب اس کو 125 سے تقسیم کرنا ہے، تو اسی طرح ضرب دیں بھئی، 125 کو دو سے ضرب دیں کتنا آئے گا؟ 250، تین سے ضرب دیں تو 375 آئے گا، تو وہ 293 سے بات بڑھ گئی بھئی، معلوم ہوا دو سے ہی اوپر ہی ہم رکیں گے بھئی، تو 125 کو دو سے ضرب دیں، اوپر دو لکھا، 293 کے نیچے کیا لکھا؟ 250 لکھا۔ جی، اب 293 میں سے 250 نکالیں، کتنے بچ گئے؟ جی، 43 بچ گئے، چار تین، اب اوپر سے ایک عدد اتار لیا، اگلا عدد کیا تھا؟ سات، تو یہ نیچے آ گیا 437، اب 125 کا پہاڑا، 125 دونی 250، 125 تिये 375 اور 125 چوک کے 500، کتنا؟ 500، تو 500 تو 437 سے اوپر چلا گیا، تو چار ہی سے ضرب دیں، 125 تین سے، 125 تिये 375، تو وہ دو کے ساتھ اوپر بائیں طرف تین لکھا، اور نیچے 431 کے نیچے 375 لکھ دیا۔ جی، اب 437 میں سے 375 نکالیں، تو کتنا رہ جاتا ہے؟ جی 62 باقی بچ جائے گا بھئی، نیچے 62 بچ گیا، اب اوپر سے اگلا آخری عدد یعنی پانچ اس کو بھی اتار لیا، کیا بن گیا؟ 625، اب 125 کا پہاڑا پڑھیں بھئی، اس کو ضرب دیں، جی پانچ سے، ہاں 125 کو پانچ سے ضرب دیں گے، تو پورا 625 آ جائے گا، تو 625 کے نیچے 625 لکھا، اوپر پانچ لکھ دیا، تو یہ ختم پورا پورا حل ہو گیا۔ معلوم ہوا 125 کو اوپر جواب کیا آیا؟ 235، یہ حاصلِ قسمت، معلوم ہوا 125 کو 235 سے ضرب دیں گے، تو کیا آنا چاہیے جواب؟ 29375، یہ آپ کو ضرب دے کر دیکھ سکتے ہیں بھئی۔ طریقہ سب کو سمجھ آ گیا بھئی؟ جی۔ بھئی جمع کا طریقہ بھی آپ نے سیکھ لیا، منفی کرنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا، ضرب دینے کا طریقہ بھی سیکھ لیا اور تقسیم کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔ یہ تو عام عدد تھے، صحیح عدد، بعض اوقات عدد کے اندر کسر واقع ہوتی ہے۔ کسر یعنی ٹوٹن واقع ہوتی ہے، اور پورا پورا عدد نہیں ہوتا، عربی میں اسے کسر کہتے ہیں اور اردو میں اسے بٹا یا بٹے کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ مثلاً بھئی پاؤ ہے، پون ہے پونا، سوا، ڈیڑھ، پونے دو، سوا دو، ڈھائی، پونے تین، دیکھو پورا عدد کوئی بھی نہیں ہے، دو ہے تو پورا عدد، لیکن اگر دو سے سوا دو کہا تو یہ دو پورا نہیں اور تین بھی نہیں ہے، تو معلوم ہوا کسر واقع ہو رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو مثلاً دیکھیے پاؤ جو ہے پاؤ، اس کو کس طرح لکھیں گے؟ ایک اوپر لکھیں گے، اس کے نیچے چھوٹی سی لکیر لگائیں گے، اس کے نیچے چار بھئی، اور اس کو پڑھیں گے کیسے؟ اوپر والے عدد سے شروع کریں گے، ایک بٹا چار، ایک بٹا چار پڑھیں گے۔ جی تو یہ کسر واقع ہو رہی ہے، پاؤ کا مطلب کیا ہے؟ چوتھا حصہ، چوتھا حصہ، تو نیچے بھی چار لکھا بھئی، معلوم ہوا چیز کے چار حصے کریں، تو اوپر کیا ہے؟ ایک، معلوم ہوا چار حصے کریں، ان جیسا ایک حصہ مراد ہے، ایک چیز کے کتنے حصے کریں؟ چار حصے کریں، ان میں سے ان جیسا ایک حصہ مراد ہے، آدھے کو دیکھیے کیسے لکھیں گے؟ ایک بٹا دو، ایک بٹا دو، اوپر کیا ہے؟ ایک، نیچے کیا ہے؟ دو، معلوم ہوا ایک چیز کے دو حصے کریں برابر، تو ان دو میں سے ان جیسا ایک حصہ بھئی، ایک حصہ۔ اچھا، مثلاً پون، پون بھئی پونا، مثلاً وہ کیسے ہوگا؟ تین پاؤ جیسے کہہ لیں، تین بٹا چار، تین پاؤ ہیں نا اس میں، تو نیچے والے عدد، یعنی اس نیچے اوپر تین ہے، نیچے چار ہے، کسی چیز کے چار حصے کریں، تو ان جو ایک حصہ بنے گا، اس جیسے کتنے حصے ہوں؟ تین حصے ہوں بھئی، یہ ہے تین پاؤ یا پونا بھئی۔ اچھا، سوا کو کیسے لکھیں گے؟ سوا کو بھئی، دیکھو میں لفظ جو بول رہا ہوں ان پہ آپ کی توجہ ہوگی تو آپ کو بات سمجھ میں آئے گی، میں نے پاؤ کو لکھا تھا ایک بٹا چار، کیا مطلب تھا؟ کسی چیز کے چار حصے کرو، ان اس تو جو حصہ بنے گا، اس جیسا ایک حصہ، اوپر کیا ہے؟ ایک، اس جیسا ایک حصہ، یہ ہے پاؤ، اس جیسے تین حصے، اس جیسے تین حصے ہوں، کسی چیز کو دیکھو تین بٹا چار کو، یہ کیا ہے؟ تین پاؤ، یعنی پونا، تو کسی چیز، نیچے ہے چار، چار کا کیا معنی؟ کسی چیز کے کتنے حصے کر لو؟ چار حصے کر لو، تو جو ایک حصہ بنے گا، اس جیسے اوپر کیا ہے؟ تین، اس جیسے کتنے حصے؟ تین حصے، یہ معنی ہے تین بٹا چار کا۔ اب سوا لکھنا ہے آپ نے سوا، تو اس کو لکھیں گے پانچ بٹا چار، کیسے؟ چار نیچے ہے کیا معنی؟ ایک چیز کے چار حصے کرو، تو جو ایک بنے گا وہ کیا ہے؟ وہ پاؤ ہے نا، چار سے تقسیم کریں گے کیا بنے گا؟ پاؤ، اس پاؤ جیسے اوپر کیا ہے؟ پانچ، اس جیسے پانچ حصے ہوں، یعنی پانچ پاؤ ہوں بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ ہے سوا بھئی، پانچ بٹا چار، پانچ بٹا چار۔ تو اس میں یاد رکھیے، پانچ بٹا چار حساب کے اندر اس کا معنی یہ ہے کہ اوپر والا عدد جو ہے، اس کو تقسیم کرنا ہے اور نیچے والے عدد سے اس کو تقسیم کریں گے، نیچے والے عدد سے کس کو تقسیم کیا جاتا ہے؟ اوپر والے عدد کو، تو مثلاً یہاں ہے پانچ بٹا چار، تو پانچ چونکہ پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا اس لیے اس کو بٹا کی صورت میں لکھ دیا جاتا ہے، یا بعض اوقات اشاریہ کی صورت میں لکھ دیا جاتا ہے، لیکن اشاریہ کی طرف ہمیں جانے کی ابھی ضرورت نہیں ہے، صرف یہ بٹے والی صورتیں ہی آپ اچھی طرح سمجھ لیں، تو پانچ بٹا چار کا کیا معنی کہ پانچ کو کس سے تقسیم کریں گے؟ چار سے، اچھا، تین بٹا چار ہے تو کیا معنی؟ تین کو کس سے تقسیم کریں گے؟ چار سے، تو بات اشاریہ کی طرف چلی جائے گی، پورا تقسیم نہیں ہوتا، اس سے چھوٹا عدد ہے۔ اب یہاں برابر کی علامت یاد رکھیں بھئی۔ برابر کی جو علامت ہے، یہ دو متوازی لکیریں ایک دوسرے کے ساتھ اوپر نیچے جو ہوں، ایک لکیر دائیں سے بائیں چھوٹی سی، اس کے ساتھ ہی نیچے ایک اور لکیر دائیں سے بائیں، اس کو حساب میں کیا کہا پڑھا جاتا ہے؟ برابر ہے بھئی، برابر، یہ برابر کی علامت ہے، تو دو عددوں کے درمیان جب یہ علامت ہو، تو اس کا مطلب ہوتا ہے دائیں طرف والا برابر ہے کس کے؟ بائیں طرف والے عدد کے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس کو برابر پڑھتے ہیں حساب میں۔ اب دیکھیے مثلاً بھئی، ہمارے پاس یہ عدد ہے ایک تین، اور اس کے ساتھ نو کا عدد ہے، اور درمیان میں یہ تقسیم والی علامت ہے۔ تین سے یا معلوم ہوا تین سے تقسیم کرنا ہے کس کو؟ نو کو تقسیم کرنا ہے۔ تو یہ دیکھو دو عدد ہیں، ایک ہے تین، درمیان میں تقسیم کی علامت اور دوسرا عدد کیا ہے نو، کیا معنی اس کا؟ کہ نو کو تقسیم کرنا ہے کس سے؟ تین کے ساتھ تقسیم کرنا ہے۔ اب اس کے ساتھ دیکھیے، میں نے آپ کو بتایا، بٹا کی صورت میں کس کو کس کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے؟ اوپر والے عدد کو نیچے والے عدد کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے، لہذا یہی جو تین تقسیم نو ہے، اس کو آپ اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں، نو کو اوپر لکھیں اور نیچے تین لکھیں، نو بٹا تین بھئی، اور درمیان میں برابر کی علامت ڈال دیں، تو تین تقسیم نو یہ برابر ہے نو بٹا تین کے، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، دونوں عبارتوں کا دونوں حساب کی صورت کا، دونوں طرف جو ہندسے آئے ہیں، ان کا ایک ہی معنی ہے، ایک طرف ہے تین اور تقسیم کی علامت اور نو، معنی کیا ہے؟ نو کو تقسیم کرنا ہے تین سے، دوسری طرف ہم نے لکھ دیا نو اوپر،
9/3 نو اوپر ہے اور تین نیچے اس کا بھی کیا معنی ہے نو کو تقسیم کرنا ہے تین کے ساتھ بھئی اچھا اب دیکھیے بھئی تین سے نو پورا تقسیم ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا پورا تقسیم ہو جاتا ہے کس طرح تین تیا نو تو معلوم ہوا ایک کے تین جو ہے یہ بھی کٹ جائے گا اور نو بھی تین کے پہاڑے سے نیچے کیا ہے تین
تو یہ تین تین کے پہاڑے تین ایکم تین معلوم ہوا تین کے یہ دونوں عدد تقسیم ہو رہے ہیں نیچے والا بھی اور اوپر والا بھی تو جب بھی بٹا کی صورت میں کوئی عدد ہو اگر وہ نیچے والے عدد سے اوپر والا تقسیم ہو رہا ہو تو تقسیم وہیں پر کر دیتے ہیں تاکہ حساب کا عمل مختصر ہو جائے عدد چھوٹے بن جائیں
کوئی شیش کی جاتی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا عدد باقی رہے اور بڑے عدد نہ رہیں تو دیکھیے یہاں نیچے ہے تین تین کا پہاڑا کہاں تک پڑھیں کہ تین ا جائے گا تین کا پہاڑا ایک تک ہی پڑھیں تو تین اجاتا ہے لہذا نیچے والے تین کو کاٹ دیں یوں اس پر نشان لگائیں اور کہاں تک پہاڑا پڑھا تھا تین کا ایک تک اس کے ساتھ چھوٹا سا ایک لکھ لیں تاکہ یاد رہے
تو تین ایکم تین اور نو کب ائے گا تین کا پہاڑا کہاں تک پڑھیں تین تک پڑھیں تین تیا نو تو اوپر والے نو کو بھی کاٹ دیں اور اس کے ساتھ چھوٹا سا تین لکھ لیں بھئی یاد رکھنے کے لیے اب
اوپر کیا ایا تین نیچے کیا رہ گیا ایک تو آگے برابر کا نشان ڈالیں
اور تین بٹا ایک لکھ دیں
تین بٹا ایک اوپر تین ہے اور نیچے ایک ہے
تینوں ہنسوں کو تینوں طرف جو حساب کی سورتیں ہیں ہنسوں کی شکلیں وہ سب اپس میں برابر ہیں تین کو تقسیم کریں نو کو تقسیم کریں تین سے تب
اس کا بھی یہی معنی نو بٹا تین ہو اس کا بھی وہی معنی ہے جو تین بٹا ایک کا ہے یہاں تک بات سمجھ میں آگئی پھر یاد رکھیے یہ تین اوپر ہے اور نیچے ایک ہے یہ جو نیچے ایک ہے ایک کے ساتھ تقسیم کیا جارہا ہے یعنی تین کو اور اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا ایک سے جس کو بھی تقسیم کریں وہی چیز عدد حاصل رہتی ہے بھئی
تو لہذا یہ نیچے ایک کو پھر نہیں لکھا جاتا اس کو صرف پھر کس صورت میں لکھ لیتے ہیں صرف تین بھئی
تو نیچے ایک نہیں لکھا جاتا بھئی
تو یہ سارے بھئی ایک طرف ہے تین سے تقسیم کر رہے ہیں نو کو دوسری طرف ہے نو بٹا تین اس سے درمیان میں برابر کا نشان ہے پھر آگے تین بٹا ایک ہے پھر آگے برابر کا نشان ہے تین یہ ساری ایک چیز ہے بھئی
کسی ایک جز کو بھی پکڑ لیں دوسرے جز کے وہ برابر ہیں بھئی دونوں صورت سب کو سمجھ میں آرہی ہے تو معلوم ہوا نیچے جب ایک آئے اس کو نہیں لکھا جاتا بھئی نیچے نہیں لکھا جاتا
یہاں سے ایک اور بات کا آپ کو پتہ چل گیا آپ کے پاس کوئی عدد ہو مثلا آپ کے پاس پچیس ہے
پچیس عدد ہے
پچیس کا کیا معنی معلوم ہوا اس کے نیچے ایک ہے لیکن اس ایک کے ہونے سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے ہم نے اس کو لکھا بھی تو معلوم ہوا پچیس برابر ہے کس کے پچیس بٹا ایک کے
ایک سے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے آپ لکھیں چاہے نہ لکھیں لیکن عموما جب اس سے فرق نہیں پڑتا تو اس کو لکھا بھی نہیں جاتا ایک اور عدد ہے مثلا آپ کے پاس تین ہزار سات سو
پچاس بھئی
تین ہزار سات سو پچاس کا کیا معنی
یہ معلوم ہوا برابر ہے کس کے تین ہزار سات سو
پچاس بٹا ایک بھئی ایک ہے اس کے نیچے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہذا اس کو لکھا بھی نہیں جاتا بھئی یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی
اب دیکھیے ایک اور مثال کر لیں
مسا ہمارے پاس یہ دو ہنسے ہیں ایک طرف ہے پانچ درمیان میں تقسیم کی علامت اور دوسری طرف ہے پندرہ اس کا کیا معنی کہ پندرہ کو تقسیم کرنا ہے کس سے پانچ کے ساتھ جی اب آپ حل کیجئے برابر ہے برابر کا نشان ڈالا آگے کیا لکھیں گے
جس کو جس سے تقسیم کرنا ہے اس کو کہاں لکھتے ہیں نیچے لکھتے ہیں اور دوسرے کو اوپر تو اوپر لکھیں گے پندرہ اور اس کے نیچے پانچ پندرہ بٹا پانچ بھئی
تو یہ دونوں برابر ہیں جی آگے اس کو حل کریں گے کس طرح
مختصر کرنے کی کوشش کریں گے پانچ کے سے دونوں عدد تقسیم ہو جاتے ہیں پانچ بھی اور پندرہ بھی پانچ کو کتنے سے ضرب دیں گے کہ پانچ آئے گا بھئی ایک سے تو نیچے والے پانچ کو کاٹا اور اس کے ساتھ ایک لکھ دیا اور پانچ کا پہاڑا کہاں تک پڑھیں کہ پندرہ آئے گا بھئی تین تک پانچ تیا پندرہ تو اوپر والے پندرہ کو کاٹا اور اس کے ساتھ تین لکھ دیا تو یہ برابر ہوا کتنے کے آگے
تین بٹا ایک
اور تین بٹا ایک یہ کس کے برابر ہے تین کے برابر ہے نیچے ایک لکھنے کی ضرورت نہیں بھئی طریقہ سب کو سمجھ میں آرہا ہے بھئی
بھئی میں بٹا کی صورت میں پونے دو لکھنا چاہتا ہوں کس طرح لکھوں گا
صحیح کی طرف کیوں جاتے ہو صرف بٹا کی صورت میں ہاں وہ جو میں نے ضابطہ بتایا
معلوم ہو پونے دو میں کتنے پاؤ ہوتے ہیں سات پاؤ ہوتے ہیں تو کیا لکھیں گے سات بٹا چار سات بٹا چار کیا معنی تھا اس کا نیچے چار تھا یعنی ایک چیز کے چار حصے کرو جب چار کرو گے تو ایک میں کتنا آئے گا
پاؤ ایک کتنا بنے گا پاؤ بنے گا اور کتنے پاؤ ہونے چاہیے اوپر سات پاؤ تو اوپر سات ہے سات بٹا چار بھئی
اچھا یہ تو وہ مثالیں تھیں بھئی جہاں پورا پورا تقسیم ہو رہا تھا نو بٹا تین نو تین سے پورا پورا تقسیم ہو جاتا
پندرہ بٹا پانچ پندرہ پانچ سے پورا پورا تقسیم ہو جاتا تھا
لیکن بٹا کی صورت میں تب لکھتے ہیں عموما جب وہ پورا تقسیم نہ ہو یہ آپ کو سمجھانے کے لیے اور حل کروانے کے لیے آپ سے یہ مثالیں میں نے لکھی بھئی اب مثلا ہمارے پاس ایک بٹا کی صورت
عدد ہے
چار
تقسیم
اور آگے دس بھئی اس کا کیا مطلب ہے کہ دس کو کس سے تقسیم کرنا ہے چار سے جی تو آگے برابر کا اسی طرح نشان ڈالیں گے کس کے برابر ہے کیسے لکھیں گے بٹا کی صورت میں دس اوپر آئے گا جس کو تقسیم کرنا ہے وہ اوپر اور جس سے تقسیم کرنا ہے وہ نیچے تو یہ بن گیا دس بٹا چار
اب دیکھیے یہاں پر اوپر والا عدد نیچے والے عدد سے پورا تقسیم نہیں ہو رہا چار ایکم چار چار دو اٹھ چار تیا بارہ تو پورا تقسیم نہیں ہو رہا
اس صورت میں
اگر نیچے والے عدد سے اوپر والا عدد پورا تقسیم نہیں ہو رہا تو پھر کوئی اور عدد پکڑتے ہیں بھئی جس سے دونوں تقسیم ہو رہے ہوں
دونوں کیا ہو رہے ہوں تقسیم ہو رہے ہوں تو یہاں کوئی ایسا عدد ہے آپ کے ذہن میں جس سے دونوں تقسیم ہو جائیں دو شاباش دو سے دو دو سے چار بھی تقسیم ہو جاتا ہے دو دو نی چار اور دو سے دس بھی تقسیم ہو جاتا ہے دو پنجے دس تو نیچے اب وہی دو کے پہاڑا کہاں تک پڑھیں کہ چار آئے بھئی دو تک تو لہذا نیچے والے چار کو کاٹا اور اس کے ساتھ کیا لکھیں گے دو لکھیں گے دو تک پہاڑا پڑھا
اوپر والے دس کو کاٹیں گے اور اس کے ساتھ کیا لکھیں گے پانچ لکھیں گے یعنی دو پنجے دس تو پانچ اوپر لکھ دیا
تو اب آگے برابر کا نشان ڈال کر اب اس پانچ کو بڑا کر کے اوپر لکھیں اور وہ جو دو نیچے لکھا تھا چھوٹا سا وہ بھی پورا تو یہ کیا بن گیا پانچ بٹا دو بن گیا بھئی پانچ بٹا دو
اچھا
بھئی اگر اوپر والا عدد چھوٹا ہو
نیچے والے سے
جیسے ابھی پاؤ میں گزرا تھا پاؤ کے کس طرح تھا بٹا کی صورت میں ایک بٹا چار
وہاں تو اور جب اوپر والا عدد نیچے والے عدد سے چھوٹا ہو تو پھر آگے صحیح عدد تک ہم نہیں جا سکتے بات فورا اعشاریہ کی طرف جائے گی
لیکن اگر اوپر والا عدد بڑا ہو نیچے والے عدد سے جیسے یہاں پر پانچ
ہے اوپر اور نیچے دو ہے تو پانچ دو سے بڑا ہے تو اس میں مزید کچھ تصحیح ہو سکتی ہے
آپ تقسیم کریں اس کو بھئی
جب اوپر والا عدد بڑا ہو
اسی طرح پانچ کو نیچے لکھا دو کے ساتھ اس کو تقسیم کیا بھئی
کیسے ائے گا کیا دو دونی چار تو دو اوپر لکھا اور پانچ کے نیچے چار لکھا اب پانچ میں سے چار نکالا نیچے کیا بچ گیا ایک بھئی تو دیکھیے
تقسیم کس سے کیا تھا اب دیکھیے وہ پانچ بٹا دو جو تھا اسی کے آگے برابر کا نشان ڈالیں
جی
جو نیچے تھا اس کو اسی طرح نیچے لکھیں نیچے کیا تھا
دو
نیچے دو کو تو اسی طرح لکھنا ہے
اور پانچ کو ہم نے تقسیم کیا ہے
تو باقی کیا بچا تھا بھئی ایک جو باقی بچا تھا وہ اوپر لکھ لیتے ہیں
اور حاصل قسمت کیا آیا تھا اوپر
دو
وہ دو جو ایک بٹا دو آپ نے لکھا ہے یہ ایک اور دو کے درمیان جو لکیر ہے اس کے ساتھ ملا کر بائیں طرف وہ جو حاصل قسمت ہے وہ لکھ دیں گے اور حاصل قسمت کیا تھا یہاں پر
دو تھا تو دو یہاں ساتھ لکھ دیا بھئی
صورت سمجھ میں آرہی ہے سب کو بھئی
اس عدد کو ہم نے اس کے
بائیں طرف ساتھ لکھ دیا اور اس کو پڑھتے کیسے ہیں بھئی دو صحیح ایک بٹا دو دو صحیح
ایک بٹا دو بھئی دو صحیح ایک بٹا دو طریقہ سمجھ میں آیا بھئی ایک اور مثال مثلا کر لیں بھئی
سات بٹا دو ہمارے پاس ایک عدد ہے
سات اوپر اور دو نیچے
جی سات بٹا دو کا کیا معنی کہ سات کو کس سے تقسیم کرنا ہے دو سے اب اوپر والا عدد بڑا ہے یا چھوٹا ہے نیچے والے سے اوپر والا عدد بڑا ہے تو آپ تقسیم کیجئے اسی طرح
سات کو اندر رکھیں
اور دو سے اس کو تقسیم کریں دو تیا چھ
تو چھ سات کے نیچے لکھا باقی کیا سات میں سے چھ نکالا کیا بچ گیا
ایک بچ گیا بھئی تو حاصل قسمت اوپر ہے تین اور باقی بچا ہے ایک اور تقسیم کس سے کیا دو کے ساتھ
تو اب وہ سات بٹا دو کے ساتھ برابر کا نشان لگائیں
اور
جو نیچے ہے اس کو اسی طرح نیچے لکھ لیں گے نیچے کیا تھا
دو تو دو کو اسی طرح لکھ دیا اچھا
جو باقی بچا اس کو اوپر لکھنا ہے وہ کیا ہے
ایک سو ایک اوپر لکھ لیں گے
اور حاصل قسمت کیا ہے
تین
وہ تین یہ جو ایک بٹا دو کے درمیان لکیر ہے اس کے ساتھ ملا کر
بائیں طرف لکھ دیں گے اس طرح لکھنا ہے بھئی
کہ
وہ یہ کہ یہ تین آدھا لکیر سے اوپر جا رہا ہو اور آدھا نیچے یعنی اس لکیر کو اگر بڑھا دیں تو وہ تین کو درمیان سے قطع کرے بھئی اور اس کو پڑھیں گے کیسے
تین صحیح ایک بٹا دو تین صحیح ایک بٹا دو
یعنی
ایک بٹا دو تو کس کہتے تھے
آدھے کو تو تین صحیح ایک بٹا دو کا کیا معنی تین پورے اور ایک آدھا یعنی ساڑھے تین تو ساڑھے تین اس طرح لکھتے ہیں بھئی ساڑھے تین اور نیس سات بٹا دو کا بھی کیا معنی ہے
اس کا معنی بھی ساڑھے تین ہے کیونکہ
نیچے والے عدد نیچے ہے دو کسی چیز کے دو حصے کریں تو ایک حصہ کیا ہوگا
کسی چیز کے دو حصے کریں تو ایک حصہ کتنا بنے گا
وہ اس کا آدھا ہوا تو یہ آدھا سات دفعہ کریں
ساڑھے تین بن گیا بھئی سمجھ میں آیا تو یہ ہے سات بٹا دو جو ہے یہ ساڑھے تین ہے بھئی اور
اوپر جو تھا پانچ بٹا دو یہ کتنا ہے
دو صحیح ایک بٹا دو یعنی کہ دو پورے اور ایک آدھا ڈھائی بھئی صورت سب کو سمجھ میں آگئی بھئی
تو جب بھی اوپر بڑا عدد ہو
اس کو تقسیم کریں گے آگے اور اس کو صحیح کی صورت میں پھر لکھ دیں گے تو یہاں ہم نے لکھا اس کو وہ تین صحیح ایک بٹا دو بن گیا
ایک اور مثال کر لیجیے
یہ ہمارے پاس دو عدد ہیں ایک طرف ہے پانچ
اور اس کے ساتھ دوسری طرف ہے تیرہ درمیان میں تقسیم کی علامت معلوم ہوا پانچ سے کس کو تقسیم کرنا ہے تیرہ کو سات اب برابر کی علامت لگا دی
اب جی بٹا کی صورت میں کیسے لکھیں گے
ہاں جس کو تقسیم کرنا ہے وہ اوپر اور جس سے تقسیم کرنا ہے وہ نیچے تو کیا ہوگا تیرہ بٹا پانچ
تیرہ بٹا پانچ
جی اب ہم صحیح کی صورت میں اس کو لکھ سکتے ہیں یا نہیں لکھ سکتے
جی
آگے تقسیم بھئی اوپر والا عدد بڑا ہو تو پھر آگے صحیح کی صورت میں ہم لکھتے ہیں یہاں اوپر والا عدد بڑا ہے یا نیچے والا بڑا ہے
اوپر والا عدد بڑا ہے تیرہ ہے تو لہذا آگے تصحیح کی صورت کریں گے کس طرح تیرہ کو ذرا پانچ سے تقسیم کریں اسی طرح بھئی تیرہ کو اندر رکھیں پانچ سے تقسیم کیا پانچ دونی
دس بھئی
تیرہ میں سے دس نکالے کتنا بچ گیا
تین بھئی تو اب آگے وہ
وہ جو تیرہ بٹا پانچ تھا اس کے ساتھ برابر کے نشان ڈالیں
اور آگے جو نیچے تھا اس کو اسی طرح نیچے لکھیں نیچے کیا تھا
پانچ نیچے پانچ لکھا جی باقی کیا بچا تھا
تین باقی بچا تھا اوپر لکھ دیا تین
اور حاصل قسمت اوپر کیا تھا
دو تو وہ دو اس لکیر کے ساتھ لکھ دیں گے بھئی
تو یہ کیا بن گیا دو صحیح تین بٹا پانچ بھئی
طریقہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی
جی چلیے بس بھئی اللہ اعلم بحقیقت الكلام
بھئی حساب کچھ سمجھ میں بھی آرہا ہے کسی کو فائدہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا فائدہ بھئی
کچھ طلبہ کو تو آتا ہی ہوگا پوری طرح اچھی طرح
ہاں کچھ کو نہیں آتا ہوگا وہ توجہ سے سیکھتے رہیں بھئی انشاءاللہ ساری ضروری اور بنیادی باتیں آجایں گی اس کے اندر بھئی
چلیے بس بھئی اللہ اعلم بحقیقت الكلام