Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-071

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی کل ہم کون سی مثال کر رہے تھے؟ کل ہم مثال نمبر 112 کر رہے تھے اور یہ میت کی تیسری مثال ہے بھئی۔ کہاں تک پہنچے ہم؟ میتِ ثانی۔ دیکھیے پہلی میت جو ہے زید اس کا انتقال ہوا اس نے ایک زوجہ ہند چھوڑی، ایک بیٹا خالد، ایک بیٹا بکر، ایک بیٹا ولید اور بیٹی سلمہ چھوڑی۔ اور پھر ہم نے مسئلہ بنایا کس سے؟ آٹھ سے۔ آٹھ میں سے ایک بیوی کو دو دو سب بیٹوں کو اور ایک حصہ بیٹی کو ملا۔ اس کے بعد کس کا انتقال ہوا؟ بکر کا۔ اور بکر تو دوسری میت آپ نے بنائی درمیان میں بکر لکھا، آگے ما فی الید کتنا تھا؟ دو۔ دو لکھا ما فی الید اور اوپر جو بکر کا نام اور حصہ تھا اس کے گرد ڈبہ بنا لیا۔ اور بکر کے وارث کون کون ہیں؟ ایک بھئی ہے اور ایک بہن۔ بھئی ہے ولید اور بہن ہے سلمہ۔ جبکہ دوسرا بھئی خالد اس کو ذکر نہیں کیا اور ہند ہند کو بھی ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ وہ خالد ہند کا بیٹا ہے بھئی۔ اور ان کی والدہ معلوم ہوا وہ اس کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے بھئی۔ تو لہذا بکر کے صرف دو وارث ہوئے ولید اور سلمہ۔ اب یہ دونوں ان دونوں میں مال کس طرح تقسیم کریں گے؟ یہ تو عصبہ ہیں بھئی۔ تو لہذا للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق بھئی کو بہن سے دگنا ملتا ہے۔ یعنی بھئی دو بہنوں کے برابر ہوا تو دو بہنوں کے برابر بھئی اور ایک بہن خود ہے۔ گویا تین بہنیں ہیں۔ تو اسے عددِ رؤوس گویا تین ہے اسی سے مسئلہ بنائیں گے۔ بھئی اوپر تین لکھیے۔ تین میں سے دو حصے ولید کو ملیں گے اور ایک حصہ سلمہ کو بھئی۔ ولید کے نیچے دو لکھیے، سلمہ کے نیچے ایک بھئی۔ اب دیکھیے بھئی یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ ما فی الید ہے یہاں میتِ ثانی میں دو اور مسئلہ بنا تین سے۔ دو اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین۔ تو پھر کیا کریں گے؟ پورے پورے عدد کو ضربیں دیں گے۔ تین جو جس تصحیح ہے مسئلہ ہے اس کو دیں گے اوپر والے میتِ اول کی تصحیح میں بھی ضرب دیں گے اور ان کے سہام میں بھی ضرب دیں گے۔ جبکہ ما فی الید کو نیچے سلمہ اور ولید کے حصوں کے ساتھ ضرب دیں گے۔ تو پہلے تصحیح مسئلہ کو اوپر ضرب دیں۔ تصحیح مسئلہ کتنا تھا اوپر؟ آٹھ۔ تو اس تین کو اس آٹھ سے ضرب دی کیا آیا؟ 24۔ تو آٹھ کے آگے تصحیح دال لکھیے اور اس پر 24 لکھیے۔ نیچے ان کے جو حصے ملے ہیں جن جن کو ان کو بھی ضربیں دیں گے۔ بیوی کا حصہ ایک ہے اس کو بھی تین سے ضرب دی تین آیا۔ تو ایک کے نیچے تین لکھیے بھئی۔ خالد کا حصہ دو ہے اس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین دونی چھ۔ دو کے نیچے چھ لکھ لیجیے۔ بھئی۔ ولید کا حصہ دو ہے اس کو بھی تین سے ضرب دی تو چھ آیا۔ تو دو کے نیچے چھ لکھیے۔ بہن کا حصہ ایک ہے اس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین آیا۔ ایک کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ بھئی۔ یہ اوپر ضربوں کا عمل مکمل ہوا۔ اب ما فی الید جو ہے دو۔ اس کو نیچے ولید کا جو حصہ ہے دو اس کے ساتھ بھی ضرب دیں گے اور بہن کے حصے سے بھی۔ ولید کے حصے دو کو دو سے ضرب دی چار آیا تو دو کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ بھئی۔ بہن کا حصہ ایک ہے اس کو بھی ما فی الید دو میں ضرب دی تو دو ہو گیا۔ ایک کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ بھئی۔ یہاں تک کر لیا بھئی؟ اب آگے تیسری میت بنائیے بھئی۔ تیسری میت بنائیے۔ یاد رکھیے اب یہ تیسری میت یہ انتقال ہوا ہے ولید کا۔ ولید لکھیے بھئی اس میت تیسری میت کے درمیان میں۔ اوپر جہاں جہاں ولید کا نام آیا سب جگہ اس کے گرد ڈبہ بنا دیں۔ میتِ اول میں بھی وہ آیا، میتِ ثانی میں بھی آیا، دونوں جگہ اس کے گرد ڈبہ بنا دیں۔ بھئی میتِ اول میں ولید کو کتنا ملا تھا؟ چھ۔ اور میتِ ثانی میں کتنا ملا؟ چار۔ چھ اور چار کتنے ہو گئے؟ دس۔ تو ولید کے ما فی الید دس ہے۔ تو میتِ ثالث کے بائیں کنارے پر لکھیں ما فی الید دس بھئی۔ اچھا اس کے وارث بھئی۔ وارث اس کی ہیں چار بیٹیاں اور ایک بہن۔ چار بیٹیاں اور ایک بہن الگ الگ لکھ لیجیے۔ بھئی۔ چار مرتبہ بنت لکھیے۔ اور ایک مرتبہ اخت لکھیے بھئی۔ اخت بہن۔ پہلی بیٹی کے نیچے نام لکھ لیجیے حمیدہ۔ دوسری بیٹی کے نیچے نام لکھیے سعیدہ۔ تیسری کے نیچے نام لکھ لیجیے مجیدہ۔ اور چوتھی بیٹی کے نیچے نام لکھ لیجیے صالحہ۔ اور بہن کے نیچے نام لکھ لیجیے سلمہ۔ اب دیکھیے بھئی کیا کریں گے؟ بیٹیاں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ جی؟ ان کو ثلثان ملتا ہے۔ اور بہن جو ہے وہ۔ ہاں وہ بیٹیوں کے ساتھ ائے تو اس کو عصبہ بناتے ہیں۔ حدیث ائی تھی بھئی آپ نے پڑھا تھا۔ تو لہذا حصے کتنے آئے بھئی؟ ایک ہی حصہ آیا ثلثان بھئی۔ بہن تو عصبہ بن گئی تو اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنائیں گے۔ ثلثان کا ہم نام عدد کیا؟ ثلاثہ یعنی تین۔ تین سے مسئلہ بنائیے۔ تین اوپر لکھیں۔ اور تین میں سے دو کل کتنا ہوگا؟ دو ہوگا۔ دو۔ یہ بہنوں کا حصہ ہے۔ تو بہنوں کے نیچے ایک لکیر کھینچئیے۔ چاروں کے نیچے اور اس کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ چاروں کے نیچے ایک لکیر کھینچ کر سب کو ملائیں اور دو لکھ لیں۔ دو ان کو مل گئے، باقی کتنا بچا؟ ایک۔ وہ ایک بہن کے نیچے لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے کسر آ رہی ہے۔ بہنیں ہیں چار اور حصہ ملا دو، تو پھر کیا کرتے تھے؟ عدد رؤوس اور حصے میں نسبت دیکھتے تھے۔ عدد رؤوس کتنا؟ چار ہے۔ چار بہنیں ہیں اور حصہ کتنا؟ دو۔ چار اور دو میں کون سی نسبت؟ تداخل۔ لیکن تداخل بھی یہاں کس کی طرح؟ توافق کی طرح۔ تو گویا اب عدد رؤوس کے وقت کو اوپر تصحیح مسئلہ میں ضرب دیں گے بھئی۔ تو چار کا وقت کیا نکلا؟ دو اور چار دونوں دو سے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو چار کو بھی دو سے تقسیم کیا، دو نکل آیا۔ یہ چار کا وقت ہے۔ اس دو کو اوپر تین سے ضرب دی، کیا آیا؟ چھ۔ تو تین کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر چھ لکھ لیجیے۔ بھئی۔ اور یہ کس سے ضرب دی؟ دو سے۔ نیچے سب کے حصوں کو بھی دو سے ضرب دیں گے۔ بہنوں کا حصہ تھا دو۔ اس کو دو سے ضرب دی، کتنا آیا؟ چار۔ تو دو کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ بہن کا حصہ ایک تھا، اس کو بھی دو سے ضرب دی، تو دو آیا۔ ایک کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ اب بھئی چار بہنیں ہیں، ان کا یہ چار ہے۔ اب ہر ایک کا الگ الگ کر دیں اس سے نیچے ہر ایک کے نیچے ایک ایک لکھ دیں۔ یہ چار ہم نے ان میں تقسیم کر دیے۔ سب کے نیچے ایک ایک لکھ لیا بھئی؟ اچھا اب دیکھیے بھئی، میت ثالث میں تصحیح مسئلہ ہے چھ اور مافی الید ہے دس۔ چھ اور دس میں کون سی نسبت؟ توافق کی ہے۔ کس کس ذریعے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو کے ذریعے۔ تو تصحیح مسئلہ، یعنی چھ کا وقت نکالیں، دو سے تقسیم کریں، کتنا آیا؟ تین۔ اس تین کے ذریعے میت اول کی تصحیح مسئلہ کو بھی ضرب دیں گے اور میت اول اور ثانی دونوں کے سہام کو بھی ضرب دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ میت اول کے تصحیح مسئلہ کو بھی ضرب دینی ہے اس وقت سے اور دونوں میتوں کے سہام کو بھی۔ تو سب سے پہلے تین کے ذریعے ضرب دیں بھئی۔ تصحیح مسئلہ کیا تھا میت اول میں؟ چوبیس۔ چوبیس کو تین سے ضرب دیجیے، بہتر۔ تو چوبیس کے آگے پھر تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر بہتر لکھ لیجیے۔ زوجہ کا حصہ کتنا تھا اوپر؟ تین۔ تین کو تین سے ضرب دی، کیا آیا؟ نو۔ تو تین کے نیچے نو لکھیے۔ بیٹے کا، خالد کا کتنا حصہ؟ چھ۔ چھ کو بھی تین سے ضرب دی، کتنا آیا؟ اٹھارہ۔ چھ کے نیچے اٹھارہ لکھیے۔ بکر اور ولید کا انتقال ہو چکا۔ سلمہ کا حصہ ہے تین۔ اس کو بھی تین سے ضرب دی، کتنا آیا؟ نو۔ تین کے آگے نیچے نو لکھیے۔ بکر کے دوسری میت میں، میں نے بتایا تھا تصحیح مسئلہ کو ضرب نہیں دینی۔ ہاں نیچے سہام کو اسی طرح ضرب دیں گے۔ تو ولید کا حصہ کتنا؟ ولید کا انتقال ہو چکا، صرف بہن ہے۔ اس کا کتنا حصہ؟ دو۔ اس کو بھی تین سے ضرب دی بھئی۔ چھ، تو دو کے نیچے چھ لکھیے۔ اوپر ضربوں کا عمل مکمل ہوا۔ اب مافی الید کے وقت کو نیچے والے سہام میں ضرب دینی ہے۔ مافی الید کتنا؟ دس۔ اس کا وقت کتنا؟ دو سے تقسیم کیا نا دونوں کو، تو پانچ آیا۔ پانچ سے نیچے سب کے سہام کو ضرب دیں۔ بہنوں کا حصہ ایک ایک ہے۔ اس ایک کو پانچ سے ضرب دی، تو پانچ آیا۔ تو سب بہنوں کے نیچے جو ایک حصہ لکھا ہے اس کے نیچے پانچ پانچ لکھ لیجیے۔ بیٹیاں۔ ہاں بیٹیاں۔ بیٹیوں کو ایک ایک ملا ہے، تو ان کے سب کو ایک کو پانچ سے ضرب دی، تو پانچ آیا۔ سب کے نیچے پانچ پانچ لکھ لیں بھئی۔ اور بہن کا حصہ ہے دو، اس کو پانچ سے ضرب دی، کتنا آیا؟ دس۔ تو دو کے نیچے دس لکھیے۔ جی مسئلہ مکمل ہوا۔ اب نیچے الاحیاء لکھیے بھئی۔ الاحیاء بھئی۔ اسی طرح لمبا سا لکھیں۔ اچھا۔ بھئی زندہ کون کون ہیں وہ لکھیں ذرا اوپر۔ سب سے پہلے کون ہے؟ ہند، وہ زندہ ہے لکھیے بھئی ہند۔ اس کے بعد کون زندہ ہے؟ خالد، وہ بھی لکھیے۔ اور کون زندہ ہے؟ سلمہ وہ بھی لکھ لیجیے۔ میت ثانی میں ولید کا انتقال ہو چکا۔ سلمہ ہے لیکن وہ ہم لکھ چکے۔ آگے میت ثالث میں حمیدہ، سعیدہ، مجیدہ، صالحہ، یہ بھی لکھ لیجیے۔ سلمہ ہم لکھ چکے ہیں بھئی۔ کتنے زندہ ہیں؟ سات زندہ ہیں بھئی، سات۔ اچھا بھئی ہند کو ایک ہی جگہ حصہ ملا یا دو تین جگہ؟ ایک ہی جگہ، نو ہے۔ تو ہند کے نیچے نو لکھیے۔ خالد کو دو تین جگہ نہیں ملا ہے ایک جگہ بھئی؟ ایک ہی جگہ اٹھارہ ملا ہے۔ خالد کے نیچے اٹھارہ لکھیے۔ سلمہ کو کتنی جگہ ملا؟ تینوں جگہ۔ تینوں جگہ میت اول میں بھی، میت ثانی میں بھی، میت ثالث میں بھی۔ میت اول میں ملا نو، میت ثانی میں ملا چھ۔ نو اور چھ پندرہ اور میت ثالث میں ملا دس۔ پندرہ اور دس، پچیس۔ سلمہ کے نیچے پچیس لکھیے۔ باقی حمیدہ، سعیدہ، ان کو تو صرف میت ثالث میں ملا ہے تو ان سب کے نیچے حمیدہ، سعیدہ، مجیدہ، صالحہ سب کے نیچے پانچ پانچ لکھ لیجیے۔ اب ان سب کو ذرا جمع کریں یہ جو حصے ہیں بھئی۔ کتنا؟ بہتر۔ تو الاحیاء کے اوپر لکھیے المبلغ درمیان میں، المبلغ اور بہتر لکھیے۔ اور میت اول کی آخری تصحیح بھی کیا ہے؟ بہتر۔ معلوم ہوا ہمارا مسئلہ صحیح ہے۔ کل مال کے کتنے حصے کر دیں گے؟ بہتر حصے کر دیں گے اور یہ جو نیچے زندہ ہیں ان کے نیچے جو جو حصے لکھے ہیں ہر ایک کو اتنے اتنے حصے دے دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح بھئی؟ چلیے بھئی۔ یہ مناسخہ کا باپ مکمل ہوا۔ نصاب بھی یہیں تک ہے۔ نصاب بھی ہمارا پورا ہو گیا، لیکن ہم انشاءاللہ تا اختتام جائیں گے، انشاءاللہ۔ چلیے بھئی۔ ھذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
92 approved lectures · 71 of 92