Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
والرابع أن تكون الأعداد متباينة لا يوافق بعضها بعضاً، فالحكم فيها أن يضرب أحد الأعداد في جميع الثاني، ثم ما بلغ في جميع الثالث، ثم ما بلغ في جميع الرابع، ثم ما اجتمعت في اصل المسألة، كامرأتين وست جدات وعشر بنات وسبعة أعمام۔ کل ان چار قوانین میں سے تیسرا قانون ہم پڑھ رہے تھے، جن میں عددِ رؤوس کی عددِ رؤوس کے ساتھ نسبت کو دیکھا جاتا ہے۔ کون سی مثال کر رہے تھے کل ہم؟ مثال نمبر 43۔ مثال نمبر 43، جس کے اندر زوجات چار تھیں، بنات 18 تھیں، اور جدات 15 تھیں، اعمام چھ تھے بھئی۔ اور 24 سے مسئلہ بنایا تھا۔ زوجات کو تین دیا، بنات کو 16، جدات کو چار اور اعمام کو ایک بھئی۔ اعمام کو ایک دیا۔ اب دیکھیے بھئی، ان کی سب سے پہلے میں نے بتلایا تھا عددِ رؤوس کی سہام کے ساتھ نسبتیں دیکھتے ہوئے، عددِ رؤوس کو الگ لکھ لیں بھئی۔ الگ الگ لکھ لیا کریں، اس سے غلطی کا امکان نہیں رہے گا۔ سب سے پہلے زوجات جو ہیں، ان کو دیکھا، عددِ رؤوس ہے چار اور حصے ہیں تین۔ چار اور تین میں کون سی نسبت ہے؟ تباین کی، تو چار کو ایک طرف لکھ لیجیے۔ یہ پہلا عددِ رؤوس ہمارے پاس آیا۔ دوسرا دیکھا، بنات ہیں 18 اور حصے ملے 16۔ ان کے درمیان کون سی نسبت؟ توافق کی۔ کون سے عدد سے، بڑے سے بڑے عدد سے یہ دونوں تقسیم ہو جائیں گے بھئی؟ دو سے۔ تو دو سے عددِ رؤوس 18 کو تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ نو۔ نو، چار کے ساتھ اب نو بھی لکھ لیجیے۔ یہ دوسرا عددِ رؤوس ہمارے پاس آیا۔ اس کے بعد جدات ہیں 15 اور حصے ملے ان کو چار۔ 15 اور چار میں کون سی نسبت ہے؟ تباین کی نسبت ہے، تو 15 کو بھی اسی طرح لکھ لیجیے۔ چار ہے عددِ رؤوس، دوسرا ہے نو، تیسرا کیا آ گیا؟ 15۔ اور اعمام ہیں چھ اور ان کو حصہ ملا ایک۔ تو یہاں بھی اسی طرح چھ کو بھی ساتھ عددِ رؤوس میں لکھ لیجیے بھئی۔ کیا کیا عددِ رؤوس ہمارے پاس آئے؟ چار، نو، 15 اور چھ۔ اب نسبتیں دیکھیے عددِ رؤوس کے درمیان بھئی۔ مثلاً سب سے... کوئی سے دو عددِ رؤوس پکڑیں بھئی۔ ترتیب ان میں ضروری نہیں بھئی، بس یہ چار عددِ رؤوس ہیں، ان سب کی آپس میں نسبتیں دیکھنی ہیں۔ مثلاً ہم پہلے دیکھتے ہیں چار اور چھ کو بھئی۔ چار، نو، 15 اور چھ ہیں نا، تو اس میں سے کس کو دیکھ لیں؟ چار اور چھ۔ چار اور چھ میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ تو لہٰذا ایک عدد کو پورا رکھیں اور دوسرے کا وفق نکالیں۔ کس سے دونوں تقسیم ہوتے ہیں؟ دو سے۔ تو دو سے چار کو تقسیم کر دیا، کیا جواب آیا؟ دو۔ اس دو کو اگلے کے پورے عدد میں، یعنی چھ میں ضرب دے دی۔ چھ دونی 12، 12 آ گیا۔ آگے 12 کے ساتھ دوسرا کس کو دیکھیں؟ مثلاً نو کو دیکھ لیں۔ نو اور 12 میں کون سی نسبت ہے؟ توافق کی۔ اور کس عدد کے ذریعے، بڑے سے بڑے عدد سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ تین کے ذریعے۔ تو ایک، یعنی 12 کو اسی طرح رکھیں اور دوسرے کا وفق نکالیں۔ تین سے نو کو تقسیم کیا، کیا آیا؟ تین آیا، تو 12 کو تین سے ضرب دے دی۔ 12 تیا 36۔ اب 36 کی آخری عددِ رؤوس کیا بچ گیا؟ 15۔ 36 کی 15 سے نسبت دیکھیں، کون سی نسبت ہے؟ توافق کی۔ یہ دونوں کس سے تقسیم ہو جاتے ہیں؟ تین بڑا سے بڑا عدد ہے جس کے لیے یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو ایک کو اسی طرح رکھیں، کوئی بھی ایک، مثلاً 36 کو اسی طرح رکھیں اور 15 کو تین سے تقسیم کر دیں۔ 15 کو تین سے تقسیم کیا، کیا آیا؟ پانچ۔ تو 36 کو پانچ سے ضرب دیجیے ذرا بھئی۔ کیا آئے گا جواب؟ 180 بھئی۔ یہ آ گیا حاصلِ ضرب۔ اب اس 180 کے ساتھ اصلِ مسئلہ یعنی 24 کو ضرب دیجیے بھئی۔ 180 ضرب 24 بھئی، جلدی جلدی حل کیجیے۔ 4320 تصحیح ہو گئی مسئلہ کی بھئی۔ آگے تا لکھیے تصحیح کی تا اور اس پر لکھیے چار، تین، دو، صفر، 4320۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، 24 کو کس سے ضرب دی تھی؟ 180۔ اسی کے ساتھ نیچے حصوں کو بھی ضرب دینی ہے۔ زوجات کے حصے ہیں تین، اس کو بھی 180 سے ضرب دیجیے۔ 540، تین کے نیچے لکھ لیجیے 540۔ بنات کے حصے ہیں 16، 16 کو بھی 180 سے ضرب دیجیے۔ 2880 بھئی، دو، آٹھ، آٹھ، صفر۔ یہ لکھ لیجیے 16 کے نیچے بھئی۔ دو، آٹھ، آٹھ، صفر۔ جدات کے حصے تھے چار، اس کو بھی 180 سے ضرب دیجیے۔ 720، چار کے نیچے 720 لکھ لیجیے بھئی۔ آگے چچوں کا حصہ ہے ایک، اس کو بھی 180 سے ضرب دی تو 180 ہی جواب آیا، تو ایک کے نیچے 180 لکھ لیجیے۔ تو یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، اب کسر ختم ہوئی بھئی۔ زوجات کتنی ہیں؟ چار۔ حصے کتنے مل گئے؟ 540۔ چار سے ذرا 540 کو تقسیم کیجیے بھئی۔ 135، یہ ایک زوجہ کا حصہ ہے۔ دیکھو کسر ختم ہو گئی۔ بنات ہیں 18، ان کو 2880 ملا، اس کو ذرا 18 سے تقسیم کیجیے۔ 160 بھئی، تو دیکھو کسر ختم ہوئی۔ ایک ایک بیٹی کو 160 حصہ مل جائے گا۔ اس کے بعد جدات ہیں 15، ان کا حصہ ہے 720۔ اس کو 720 کو ذرا 15 سے تقسیم کیجیے۔ 48، جی 48۔ ایک ایک جدہ کو 48 مل جائے گا حصہ، کسر ختم ہو گئی۔ چچا ہیں چھ، ان کو ملا 180۔ چھ سے 180 کو تقسیم کیجیے۔ 30، تو دیکھو ایک ایک چچا کو 30 30 حصہ مل گیا، کسر یہاں بھی ختم ہو گئی اور مسئلہ درست ہے بھئی، تصحیح ہو گئی اس کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 44۔ مثال نمبر 44، میت اسی طرح بنائیے۔ زوجات ہیں چار۔ جدات ہیں نو۔ اعمام چچا جو ہیں، وہ ہیں چھ، اعمام چھ۔ بھئی زوجات بھئی، اولاد نہ ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ربع ملتا ہے، تو ربع نوعِ اول میں سے آیا۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس، یہ نوعِ ثانی میں سے آیا۔ اور چچا جو ہیں، ان کو وہ عصبہ بنیں گے، ما بقیہ ان کو دیں گے۔ تو صرف ربع اور سدس ہے۔ ربع ہے نوعِ اول میں سے، سدس ہے نوعِ ثانی میں سے۔ تو نوعِ اول کا ربع جب نوعِ ثانی کے ساتھ آ جائے، مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 12 سے، 12 سے مسئلہ بنائیے۔ 12 میں سے چوتھا ربع حصہ جو ہے، وہ دینا ہے زوجات کو۔ 12 کا ربع کتنا؟ تین، زوجات کے نیچے تین لکھیے۔ جدات کو سدس دینا ہے، چھٹا حصہ۔ 12 کا چھٹا حصہ کتنا؟ دو، جدات کے نیچے دو لکھیے۔ زوجات کو ملا تین، جدات کو ملا دو، تین اور دو پانچ۔ 12 میں سے پانچ نکالے، باقی کتنے بچ گئے؟ سات، تو چچاؤں کو سات مل جائے گا، ان کے نیچے سات لکھیے بھئی۔ اب دیکھیے، زوجات چار ہیں، حصے ملے تین، کسر آ رہی ہے۔ جدات ہیں نو، حصے ملے دو، یہاں بھی کسر آ رہی ہے۔ چچا ہیں چھ، حصے ملے سات، یہاں بھی کسر آ رہی ہے۔ اب عددِ رؤوس پہلے الگ لکھیں گے بھئی۔ پہلے زوجات ہیں چار، حصے ملے تین۔ چار اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین کی، چار پہلا عددِ رؤوس اسی طرح لکھ لیجیے ایک طرف بھئی۔ جدات ہیں نو، حصے ملے دو۔ کون سی نسبت نو اور دو میں؟ تباین، تو نو کو بھی لکھ لیجیے، یہ دوسرا عددِ رؤوس ہے۔ تیسرا چچا ہیں چھ اور حصے ملے سات بھئی۔ ان میں بھی کون سی نسبت؟ تباین کی، تو چھ کو اسی طرح لکھ لیجیے۔ یہ تین عددِ رؤوس آ گئے ہمارے پاس: چار، نو اور چھ۔ اب ان میں نسبتیں دیکھتے ہیں۔ پہلے کس میں دیکھ لیں؟ چار اور چھ میں۔ چار اور چھ میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ کون سے بڑے سے بڑے عدد سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو سے۔ تو ایک کو اسی طرح رکھ لیجیے، چار کو مثلاً اسی طرح رکھا اور چھ کو دو سے تقسیم کر دیا۔ کیا جواب آیا؟ تین۔ تو چار کو تین سے ضرب دے دی بھئی۔ ایک کو پورا عدد اور دوسرے کا وفق، ان کو آپس میں ضرب دی۔ چار تیا 12۔ 12 اور اب اگلے عددِ رؤوس نو۔ 12 اور نو میں نسبت دیکھیں، کون سی نسبت؟ توافق کی۔ کون سے بڑے سے بڑے عدد سے دونوں تقسیم ہوتے ہیں؟ تین سے۔ تو 12، ایک عدد کو اسی طرح رکھیں، دوسرے کا صرف وفق نکال لیں۔ نو کو تین سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ تین آیا۔ تو 12 کو اب اس وفق سے ضرب دے دیں۔ 12 تیا 36 آ گیا بھئی۔ یہ حاصلِ ضرب ہے۔ اس کو اب اصلِ مسئلہ، یعنی 12 میں ضرب دیجیے بھئی۔ 432 بھئی، تو تا آگے لکھیے چار، تین، دو، 432۔ تصحیح ہو گئی مسئلہ کی۔ کس سے ضرب دی 12 کو؟ 36 سے۔ نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ زوجات کے حصے ہیں تین، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ کیا جواب آیا؟ 108، تین کے نیچے 108 لکھیے۔ جدات کے حصے ہیں دو، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 72، دو کے نیچے 72 لکھ لیجیے۔ چچاؤں کا حصہ ہے سات، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 252، سات کے نیچے 252 لکھ لیجیے بھئی۔ تو یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب دیکھیے، زوجات ہیں چار اور حصے ملے 108۔ ایک ایک زوجہ کو کتنا حصہ ملے گا؟ چار سے 108 کو تقسیم کر دیجیے۔ کتنا؟ 27 آ گیا بھئی۔ ایک ایک زوجہ کو کتنا حصہ؟ 27، کسر ختم ہو گئی۔ جدات ہیں نو، کل حصے ملے 72۔ ایک جدہ کو کتنا ملے گا؟ 72 کو نو سے تقسیم کر دیجیے۔ آٹھ، تو ایک ایک جدہ کو آٹھ حصہ ملا، دیکھو کسر ختم ہو گئی۔ چچا ہیں چھ، ان کو حصے ملے 252۔ 252 کو چھ سے تقسیم کریں تو ایک چچا کا حصہ نکل آئے گا۔ 42 بھئی، تو ایک ایک چچا کو 42 حصہ ملا، دیکھو کسر ختم ہو گئی۔ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 45۔ مثال نمبر 45، اسی طرح میت بنائیے۔ زوجات ہیں چار۔ اخوات ہیں نو۔ اخوات نو بہنیں بھئی، اخواتِ عینی کر دیں، جو بھی کر دیں، اخواتِ عینی بھئی۔ نو حصے، نو ہے بھئی، عددِ رؤوس کتنا ہے؟ نو۔ اور جدات ہیں 12۔ جدات ہیں 12۔ جی زوجات کو، جب اولاد نہ ہو، کتنا حصہ ملتا ہے؟ ربع، یہ ہے نوعِ اول میں سے آ گیا۔ اخوات کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان، یہ نوعِ ثانی میں سے ہے۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس، یعنی چھٹا حصہ، یہ بھی نوعِ ثانی میں سے ہے۔ تو نوعِ اول میں سے صرف ربع آیا، اور جب وہ نوعِ ثانی کے ساتھ ربع آ جائے، مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 12 سے۔ جی 12 سے مسئلہ بنائیے۔ 12 سے مسئلہ بنایا۔ 12 میں سے ربع کتنا بنتا ہے؟ چوتھا حصہ۔ 3۔ زوجات کو 3 دے دیں گے بھئی، 3 ان کے نیچے لکھیں۔ حقیقی جو بہنیں ہیں، ان کو دو ثلث دینے ہیں۔ 12 کا ثلث کتنا؟ تیسرا حصہ۔ 4 ہے، تو دو ثلث کتنا؟ 8۔ تو اخوات کے نیچے 8 لکھیے۔ جدات کو کتنا دیں گے؟ سدس۔ 12 کا سدس کتنا ہے؟ 2۔ تو جدات کے نیچے 2 لکھ لیجیے بھئی۔ اب ان کو ذرا جمع کریں۔ زوجات کو ملا 3، اخواتِ عینی کو ملا 8۔ 3 اور 8، 11۔ 11 اور جدات کو 2 ملا۔ 11 اور 2، 13۔ تو دیکھو، مسئلہ بنایا تھا 12 سے اور حصے بن گئے 13۔ تو اب کیا کریں گے؟ عول ہوگا 13 تک بھئی۔ تو 12 کے آگے ع لکھئے اور اس پر 13 لکھ لیجیے۔ اب ذرا عددِ رؤوس کی حصوں سے نسبتیں دیکھتے ہوئے ہم ان کو الگ کرتے ہیں۔ زوجات ہیں 4، حصے ملے 3۔ 4 اور 3 میں کون سی نسبت؟ مباینت کی۔ تو 4 کو اسی طرح ایک طرف لکھ لیجیے، یہ پہلا عددِ رؤوس ہے۔ دوسرا اخوات ہیں 9، حصے ملے 8۔ 9 اور 8 میں کون سی نسبت؟ مباینت کی ہے۔ تو یہ دوسرا عددِ رؤوس بھی اسی طرح 9 کا 9 لکھ لیجیے۔ جدات ہیں 12 اور حصے کتنے ملے؟ 2۔ تو یہ ان میں کون سی نسبت ہے؟ تداخل۔ پھر کیا کریں گے؟ 12 اور 2 میں کون سی نسبت ہے؟ اس میں نسبت ہے تداخل کی، یاد رکھیے۔ لیکن یہاں پر جب اپ عددِ رؤوس کی نسبت دیکھیں کس کے ساتھ؟ سہام کے ساتھ۔ 12 کیا ہے؟ عددِ رؤوس، اور 2 کیا ہے؟ سہام۔ تو جب عددِ رؤوس کی سہام کے ساتھ جب نسبت دیکھیں، تو یاد رکھیے یہاں تداخل کو بھی توافق ہی سمجھیں۔ تداخل کو بھی کیا سمجھیں؟ توافق ہی سمجھیں۔ تو عددِ رؤوس ہے 12 اور حصے ہیں 2۔ کسی ایک عدد سے یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ جی، کس کے ذریعے؟ 2 کے ذریعے ہی بھئی۔ تو لہٰذا اب جو عددِ رؤوس ہے اس 12، اس کو 2 سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ 6۔ تو یہ 6 عددِ رؤوس ہمارے پاس تیسرا آ گیا۔ تو کون کون سے عددِ رؤوس ہوئے؟ 4، 9 اور 6۔ 4، 9 اور 6 بھئی۔ اب 4 اور 9 کے اندر نسبت دیکھی۔ کون سی نسبت؟ مباینت کی۔ تو ان کو آپس میں ضرب دی بھئی۔ 4 نَم 36 بھئی۔ 36 حاصلِ ضرب آیا۔ اب اس 36 کی نسبت اگلے عددِ رؤوس یعنی 6 کے ساتھ دیکھی۔ ان میں کون سی نسبت ہے؟ تداخل کی۔ اور تداخل کی صورت میں پھر ہم کیا کرتے تھے؟ بڑے عدد کو لے لیتے تھے، چھوٹا اسی کے اندر داخل ہے۔ تو 36، اب اس 36 سے ہی ہم ضرب دیں گے عول یعنی 13 کو بھئی، 13 کو۔ تو 36 کو 13 سے ضرب دی، کیا جواب آیا؟ کتنا آیا؟ ہاں، شاباش، 468۔ تو اس عول کے آگے عِندَ التَّصْحِیْح لکھیے اور اس پر 4 6 8 لکھ لیجیے۔ جی، تو عول کو کتنے سے ضرب دی؟ 36 سے۔ اسی 36 سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ زوجات کے حصے ہیں 3، اس کو ضرب دی 36 سے، کیا جواب آیا؟ 108۔ 3 کے نیچے 108 لکھیے۔ اخوات کے حصے ہیں 8، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے ذرا۔ 288۔ 8 کے نیچے 288 لکھ لیجیے۔ جدات کے حصے ہیں 2، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 72۔ 2 کے نیچے 72 لکھ لیجیے بھئی۔ اب دیکھیے مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، کسر ختم ہو گئی۔ یہ 108 کو ذرا 4 سے تقسیم کیجیے، کیا جواب آئے گا؟ 27۔ تو ایک ایک زوجہ کا حصہ 27 بن گیا پورا پورا، کسر ختم ہوئی۔ اخوات تھیں 9، حصے آئے 288۔ اس کو ذرا 9 سے تقسیم کیجیے۔ 32۔ تو ایک ایک اخت کو 32 حصہ مل جائے گا، دیکھو کسر ختم ہو گئی۔ جدات ہیں 12 اور حصے ملے 72۔ 12 سے 72 کو ذرا تقسیم کیجیے۔ 6۔ تو دیکھو ایک ایک جدہ کا حصہ 6 ہوا، کسر ختم ہو گئی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ جہاں عددِ رؤوس کی سہام کے ساتھ جب نسبتیں دیکھ رہے ہوں، تو وہاں تداخل بھی کس کی طرح ہے؟ توافق ہی کی طرح ہے۔ تو وہاں بھی وفق ہی عددِ رؤوس میں لکھنا بھئی، وفق۔ اگلا قانون دیکھیے بھئی کتاب پر۔ چوتھا قانون، آخری یعنی ساتواں قانون بن گیا بھئی۔ وَالرَّابِعُ، اور چوتھا قانون یہ ہے: أَنْ تَكُوْنَ الْأَعْدَادُ مُتَبَايِنَةً، کہ وہ اعداد کیا ہوں؟ وہ جو عددِ رؤوس کے اعداد ہیں، وہ آپس میں مباین ہوں۔ لَا يُوَافِقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، موافق نہیں ہے ان میں سے بعض بعض کے ساتھ، یعنی وہ ایک دوسرے کے ساتھ ان میں آپس میں توافق کی نسبت نہیں ہے۔ فَالْحُكْمُ فِيْهَا، تو حکم اس کے اندر یہ ہے: أَنْ يُضْرَبَ أَحَدُ الْأَعْدَادِ فِي جَمِيْعِ الثَّانِيْ، کہ ضرب دیا جائے گا اعداد میں سے ایک کو مباینت ہے نا؟ تو اعداد میں سے ایک کو ضرب دے دیں گے فِي جَمِيْعِ الثَّانِيْ دوسرے کے سارے میں۔ ثُمَّ مَا بَلَغَ فِي جَمِيْعِ الثَّالِثِ، پھر جو حاصلِ ضرب آئے اس کو تیسرے عدد کے پورے میں ضرب دے دیں گے۔ ثُمَّ مَا بَلَغَ فِي جَمِيْعِ الرَّابِعِ، پھر جو حاصلِ ضرب آئے اس کو چوتھے کے پورے میں ضرب دے دیں گے۔ ثُمَّ مَا اجْتَمَعَ، پھر وہ جو جمع ہو جائے، یعنی جو جواب آ جائے حاصلِ ضرب، فِي أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ، اس کو کس میں ضرب دے دیں گے؟ اصلِ مسئلہ میں بھئی۔ قانون سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ جب عددِ رؤوس میں آپس میں کیا ہو؟ مباینت ہو۔ تو پھر ایک پورے عدد کو دوسرے پورے عدد کے ساتھ ضرب دیں گے۔ توافق کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ ایک کا وفق نکالتے تھے اور دوسرے کو پورا رکھتے تھے۔ تو پورے کو وفق کے ساتھ ضرب دیتے تھے، لیکن یہاں مباینت ہے۔ تو مباینت کی صورت میں ایک پورے عدد کو دوسرے کے دوسرے پورے عدد سے ضرب دیں گے۔ پھر اگلے عدد کے ساتھ نسبت دیکھی، وہاں بھی مباینت، تو پھر پورے کو پورے کے ساتھ ضرب دے دیں گے۔ پھر جو حاصلِ ضرب آئے گا اس کی تیسرے کے ساتھ دیکھیں گے۔ کون سی نسبت ہے؟ مباینت نکلے تو پھر پورے کو پورے کے ساتھ ضرب دے دیں گے بھئی۔ كَمَارَأَتَيْنِ وَسِتِّ جَدَّاتٍ وَعَشْرِ بَنَاتٍ وَسَبْعَةِ أَعْمَامٍ، جیسے دو عورتیں، دو بیویاں ہیں، چھ جدات ہیں، 10 بیٹیاں ہیں اور سات چچا ہیں بھئی۔ لکھیے صورتِ مسئلہ آگے بھئی۔ یہ کون سی مثال ہے؟ مثال نمبر 46 بھئی۔ اسی طرح میت لکھیے۔ زوجات ہیں دو بھئی۔ زوجات دو۔ جدات کتنی کہیں انہوں نے؟ چھ۔ جدات چھ۔ بنات ہیں 10 بھئی۔ اور چچا کتنے؟ سات، اعمام سات۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا۔ زوجات کو اولاد ہو تو کتنا زوجات کو، اولاد ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ثمن۔ یہ نوعِ اول میں سے آیا۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ بنات کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان۔ اور چچا کو؟ وہ عصبات ہیں۔ تو نوعِ اول میں سے ثمن آیا، اور نوعِ ثانی میں سے ثلثان اور سدس آیا۔ تو ثمن جب بھی نوعِ ثانی کے ساتھ آ جائے، مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ 24 سے۔ 24 سے مسئلہ بنائیے بھئی۔ 24 کا آٹھواں حصہ ہم نے زوجات کو دینا ہے، 24 کو 8 سے تقسیم کیجیے۔ 3 آیا، تو 3 یہ ثمن ہے، یہ زوجات کے نیچے لکھ لیجیے۔ زوجات کو 3 مل گیا۔ جدات کو چھٹا حصہ دینا ہے، 24 کو 6 سے تقسیم کیجیے۔ 4، جدات کے نیچے 4 لکھ لیجیے بھئی۔ بنات کو ہم نے دو ثلث دینے ہیں۔ 24 کا تیسرا حصہ کیا ہوگا؟ 8۔ اور دو ثلث پھر کیا ہو جائیں گے؟ 16۔ بنات کے نیچے 16 لکھ لیجیے۔ اب ذرا زوجات کو کتنا دیا؟ 3۔ جدات کو کتنا؟ 4۔ 3 اور 4، 7۔ بیٹیوں کو کتنا دیا؟ 16۔ 16 اور 7، 23۔ تو 24 میں سے 23 حصے تقسیم ہو گئے، باقی کتنا بچا؟ 1۔ وہ 1 چچاؤں کو مل جائے گا، ان کے نیچے 1 لکھ لیجیے۔ اب بھئی عددِ رؤوس میں آپس میں نسبت ہم نے دیکھنی ہے، ان کو پہلے ذرا الگ لکھنا ہے۔ زوجات کتنی؟ دو۔ حصے کتنے؟ 3۔ کون سی نسبت دو اور 3 میں؟ مباینت کی۔ تو اس کو اسی طرح دو ایک طرف لکھ لیجیے بھئی۔ اچھا، جدات ہیں چھ، حصے ملے 4۔ 4 اور چھ میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ کون سے بڑے عدد سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو سے۔ تو دو سے اس عددِ رؤوس یعنی چھ کو تقسیم کیجیے، کیا جواب آیا؟ 3۔ یہ 3، یہ دوسرا عددِ رؤوس ہے بھئی، دو کے ساتھ 3 لکھ لیں۔ بنات کتنی ہیں؟ 10۔ حصے کتنے ملے؟ 16۔ کون سی نسبت 10 اور 16 میں؟ توافق کی۔ کون سے بڑے سے بڑے عدد سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو سے۔ تو دو سے 10 کو تقسیم کیجیے، کیا جواب آیا؟ 5۔ تو یہ 5، یہ تیسرا عددِ رؤوس ہے بھئی، یہ وفق رکھیں گے اس کی جگہ۔ کون کون سے عددِ رؤوس آئے؟ دو، 3 اور 5۔ چچا ہیں سات اور ان کو حصہ ملا 1، تو اس کو اسی طرح لکھ دیں گے۔ تو کتنے عددِ رؤوس کیا کیا آئے؟ دو، 3، 5 اور 7۔ أچھا، دو اور 3 میں اب عددِ رؤوس میں نسبتیں دیکھیں۔ دو اور 3 میں کون سی نسبت؟ مباینت کی۔ ان کو اب پورے عدد کو پورے عدد میں ضرب دے دیں گے۔ دو کو 3 میں ضرب دی، 6۔ اگلا عددِ رؤوس کیا ہے؟ 5۔ 6 اور 5 میں کون سی نسبت؟ مباینت کی۔ تو پورے عدد کو پورے میں ضرب دے دیں گے۔ 6 کو 5 میں ضرب دی، کیا جواب آیا؟ 30 آ گیا۔ 30 کی آگے سات کے ساتھ نسبت دیکھی بھئی۔ 30 اور سات میں کون سی نسبت ہے؟ مباینت ہے۔ تو 30 کو اسی طرح پورے سات میں ضرب دے دیں گے، کیا آیا؟ 210 آ گیا۔ اب 210 کو اوپر اصلِ مسئلہ میں ضرب دے دیجیے 24 کے اندر بھئی۔ 24 ضربے 210۔ کیا جواب آیا؟ 5040۔ شاباش بھئی، آگے ت لکھیے۔ 5040 لکھیے بھئی۔ 5 0 4 0۔ 5 0 4 0۔ یہ 5040۔ أچھا، کتنے سے ضرب دی 24 کو؟ 210 سے۔ اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں۔ زوجات کے حصے ہیں 3، اس کو 210 سے ضرب دیجیے۔ 630 بھئی۔ تو 3 کے نیچے 630 لکھ لیجیے۔ اچھا، جدات کا کو کتنا ملا تھا؟ 4۔ اس کو بھی 210 سے ضرب دیجیے۔ 840۔ 4 کے نیچے 840 لکھ لیجیے۔ بنات کا حصہ ہے 16، اس کو بھی 210 سے ضرب دیجیے۔ 3360۔ یہ لکھ لیجیے 16 کے نیچے بھئی۔ 3 3 6 0۔ 3360۔ چچاؤں کا حصہ ہے 1، اس کو بھی 210 سے ضرب دی تو 210 ہی آیا۔ تو 1 کے نیچے 210 لکھ لیجیے۔ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ اب دیکھیے، زوجات ہیں دو، حصے کتنے ملے؟ 630۔ 630 کو دو سے تقسیم کریں تو ایک زوجہ کا حصہ نکل آئے گا بھئی۔ کتنا؟ 315۔ تو ایک ایک زوجہ کو 315 حصہ ملے گا، دیکھو کسر ختم ہو چکی۔ جدات ہیں چھ، ان کو حصے ملے 840۔ اس کو چھ سے تقسیم کریں تو ایک ایک جدہ کا حصہ نکل آئے گا۔ 140 آیا۔ 840 کو چھ سے تقسیم کیا تو 140 جواب آیا۔ یہ ایک ایک جدہ کا حصہ۔ بنات ہیں 10 اور حصے ملے 3360۔ اس کو 10 سے تقسیم کیجیے بھئی۔ 336۔ تو دیکھو، ایک ایک بیٹی کو 336 حصہ مل جائے گا، کسر ختم ہو چکی۔ چچا ہیں سات، ان کو حصے ملے 210۔ اس کو سات سے تقسیم کیجیے۔ 30۔ تو دیکھو، ایک ایک چچا کو 30 حصہ مل جائے گا، کسر ختم ہوئی بھئی۔ اگلی مثال لکھیے۔ مثال نمبر 47۔ زوجات ہیں 4، میت اسی طرح بنائیے۔ نیچے لکھیے زوجات ہیں 4۔ جدات ہیں 3۔ اور اعمام، چچا جو ہیں وہ ہیں 5۔ جی، اولاد نہیں ہے، زوجات کو کتنا ملے گا؟ ربع۔ نوعِ اول میں سے آیا۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ چچاؤں کو کیا ملے گا؟ وہ عصبہ ہیں۔ تو ربع آ گیا سدس کے ساتھ جو نوعِ ثانی میں سے ہے۔ تو کس سے مسئلہ بنائیں گے؟ 12 سے۔ 12 سے مسئلہ بنائیے بھئی۔
92 approved lectures · 45 of 92