قال علمائنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة مرتبة الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقطير ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله.
اچھا بھئی یاد رکھیے ترکہ سے متعلق چار حقوق ہیں ترتیب وار۔ ترکہ سے متعلق چار حقوق ہیں ترتیب وار۔ نمبر ایک تجهیز و تکفین تجهیز و تکفین یعنی میت کے کفن دفن کا بندوبست۔ اور اس کے بعد
ادائے دین ہے من جميع ما بقي کفن دفن کے بعد جو مال بچ جائے اس میں سے اگر میت پر کوئی قرضے وغیرہ ہیں تو ان کو ادا کیا جائے گا۔ نمبر تین نفاذ وصیت پھر ہوگا ما بقي کے ثلث میں قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کے ثلث یعنی تیسرے حصے کی تخت میں وصیت نافذ کی جائے گی اگر اس نے کوئی وصیت وغیرہ کی ہے۔
اور پھر اس کے بعد جو مال باقی بچے گا وہ وارثوں کے اندر تقسیم ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کتنے حقوق متعلق ہیں میت کے ترکے سے؟ چار حقوق ہیں۔ سب سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ کفن دفن جی تجهیز و تکفین ہے اور اس کے بعد اس پر قرضے وغیرہ ہیں وہ ادا کیے جائیں گے۔
اور تیسرے نمبر پر پھر جو مال باقی بچ جائے گا اس کے تیسرے حصے کے اندر اگر اس نے کوئی وصیت وغیرہ کی ہے مثلاً کہ میرا یہ اتنا مال فلاں مدرسے میں دے دیا جائے تو وہ جتنا مال باقی بچا ہے اس کے صرف تیسرے حصے تک وصیت نافذ ہوگی اور باقی کا حصہ سارا مال کس کے پاس چلا جائے گا؟
وارثوں کے پاس جو باقی بچ جائے گا اور ان میں سے تقسیم ہوگا جیسے کہ تفصیل اگے آجائے گی بھئی۔ لیکن یاد رکھیے آپ نے ترکے کی تعریف کیا پڑھی تھی؟ کہ وہ مال جسے میت چھوڑے اور اس کے ساتھ اس میں کسی غیر کا حق نہ ہو۔
تو اول تو کچھ چیزیں تو ہو سکتا ہے ایسی ہوں کہ میت ان کی مالک ہی نہ ہو تو وہ ترکے میں شمار نہیں مثلاً کسی نے امانت رکھوائی تھی تو یہ میت تو اس چیزوں کی مالک ہی نہیں تھی اس کو ترکے میں شمار نہیں کرنا بھئی یا کسی سے استعمال کے لیے کوئی چیز لی تھی۔
تو یہ میت ان چیزوں کی مالک ہی نہیں ہے یہ ترکے میں سے نہیں۔ اسی طرح کسی چیز کے ساتھ کسی غیر کا حق وابستہ ہوتا ہے تو وہ بھی ترکے میں شمار نہیں ہوگی بھئی۔ غیر کا حق وابستہ ہو تو وہ بھی ترکے میں شمار نہیں
مثلاً یہ جو مرنے والا ہے اس نے کسی سے قرض لیا تھا اور قرض کے بدلے اپنی گاڑی اس کے پاس بطور رہن کے رکھوا دی۔ اپنی گاڑی گروی رکھوا دی۔ اب اس شخص کا انتقال ہوا اور اور کوئی مال اس نے نہیں چھوڑا۔
یا فرض کریں انتقال کے وقت ہی اس کے گھر کو اگ لگ گئی جو سارا سامان وغیرہ گھر کا جل گیا اور یعنی اس کے پاس اس گاڑی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ تو یاد رکھیے اب تجهیز و تکفین کی طرف ہم پہلے نہیں جائیں گے کہ عین گاڑی کے ساتھ اس شخص کا حق وابستہ ہے۔
ہم نے کہا تھا وہ مال جس کے ساتھ غیر کا حق وابستہ نہ ہو اور اس کے ساتھ تو وہ جس کے پاس گروی رکھوائی ہے اس کا حق وابستہ ہے لہٰذا تجهیز و تکفین کو یہاں مقدم نہیں کریں گے۔ بلکہ پہلے اس گاڑی کو بیچ کر اس شخص کا دین ادا کیا جائے گا اور پھر کچھ مال باقی بچتا ہے تو وہ ترکہ شمار ہوگا۔
تو یہ ترکہ شمار ہی نہیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی ترکہ شمار ہی نہیں ہے یہ بھئی کیونکہ ترکے کے اندر ہم نے قید لگا دی تھی صافین خاليًا عن حق الغير بھئی۔ اسی طرح ایک آدمی ہے اس نے کسی سے کوئی چیز خریدی۔ اور آپ نے پڑھا ہے بیع کرتے ہی انسان مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔
ایجاب و قبول کرتے ہی انسان مبیع کا مالک بن جاتا ہے آپ کے پاس قلم ہے میں نے کہا یہ قلم میں نے آپ سے سو روپے میں خرید لیا آپ نے کہا مجھے منظور ہے بس والا قلم آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے لیکن مالک اس کا میں بن چکا ہوں۔
समझ में आया भाई हां अब आप यह नहीं कर सकता कि मैं आपसे زبردستی وہ قلم لے لوں پہلے مجھے پیسے ادا کرنے پڑیں گے پھر آپ قلم دیں گے لہٰذا آپ کا اگرچہ مالک میں ہوں لیکن آپ کا حق ہے کہ آپ وہ قلم میرے حوالے نہ کریں اور کہیں جب تک پیسے نہیں دیں گے میں قلم آپ کے حوالے نہیں کروں گا۔ تو قلم ہے تو میرا لیکن اس کے ساتھ آپ کا حق وابستہ ہے تو اسی طرح ایک شخص نے ایک چیز خریدی اور اس کی بیع کر لی۔
لیکن ابھی اس چیز پر اس نے قبضہ نہیں کیا اور اس کو اس بیچنے والے نے اپنے پاس روک کر رکھا ہے کس مقصد کے لیے؟ پیسے وصول کرنے کے لیے اور ادھر اس شخص کا انتقال ہو گیا اور اس کا اور کوئی مال نہیں ہے تو اب یہ جو چیز اس نے خریدی ہے مالک اس کا یہی ہے لیکن اس کے ساتھ غیر کا حق وابستہ ہے تو یہ ترکے میں شمار نہیں۔
تو لہٰذا اب یہاں تجهیز و تکفین کو مقدم نہیں کریں گے بلکہ پہلے اس چیز کو بیچ کر اس شخص کے کو ثمن کی ادائیگی کی جائے گی اور پھر جو مال باقی بچتا ہے وہ ترکہ شمار ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی وہ ترکہ شمار ہوگا۔
اسی طرح اسی طرح حکومت کی طرف سے پینشن وغیرہ ملتی ہے بھئی یاد رکھیے یہ میت کے انتقال پر کچھ رقم ملتی ہے یہ تو اسی میت کا مال ہے جو جمع ہو رہا تھا حکومت کے پاس۔ لہٰذا یہ تو ترکہ شمار ہوگا اور سب آپس میں تقسیم کریں گے۔ لیکن اس کے بعد ماہانہ حکومت کچھ نہ کچھ دیتی رہتی ہے۔
یاد رکھیے یہ حکومت کی طرف سے ویسے مدد اور انعام کے طور پر کچھ پیسے ہیں یہ میت کے نہیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی وہ جو جمع تھے وہ تو حکومت نے دے دیے ایک ہی وقت میں اسی وقت وہ وارث آپس میں تقسیم کر لیں گے وہ ترکہ ہے ترتیب کے مطابق بھئی اسی طرح تجهیز و تکفین ادائے دین وصیت اور اس کے بعد تقسیم ہوگی۔
لیکن اس کے بعد جو حکومت پیسے ماہانہ دیتی ہے وہ اس میں وارث آپس میں جھگڑتے ہیں کہ جی آپس میں تقسیم کریں نہیں بھئی یہ ترکہ نہیں ہے یہ حکومت کی طرف سے ویسے مدد کے طور پر ہیں اور لہٰذا حکومت جس کو مستحق سمجھتی ہے جس کا نام لکھ لیتی ہے اور جسے دیتی ہے وہی اس کا شرعاً مستحق ہوگا باقی وارث اس میں جھگڑا نہیں کر سکتے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اچھا تو کتنے حقوق متعلق ہیں بھئی ترکے سے؟ چار ہیں۔ سب سے پہلے تجهیز و تکفین بھئی کریں گے۔ اس کے بعد ادائے دین بھئی۔ پھر اس کے بعد وصیت اگر اس نے کوئی کی ہے اور اس کے بعد
باقی مال جو ہے وہ وارثوں کے اندر تقسیم کیا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ تقسیم کیا جائے گا۔
جی تو سب سے پہلے کفن دفن تجهیز و تکفین بھئی۔ تجهیز و تکفین اس کے بارے میں دیکھیے بھئی کتاب پر قال علمائ ہمارے علماء ہمارے فقہاء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں تتعلق بتركة الميت کہ متعلق ہوتے ہیں میت کے ترکے کے ساتھ حقوق اربعۃ مرتبۃ چار حقوق بھئی مرتبت ترتیب وار۔ ترتیب میں نے آپ کو بتلا دی بھئی۔
اسی ترتیب کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوتے ہیں۔ الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه جی۔ الأول يبدأ اول مبتدأ ہے اور يبدأ بتكفينه وتجهيزه یہ خبر آ رہی ہے بھئی۔ اس پر پھر شارحین حضرات اعتراض کرتے ہیں
کہ یہ خبر جملہ ہے يبدأ بتكفينه وتجهيزه یہ کیا ہے؟ جملہ ہے اور جملے کو جب کسی چیز سے جڑا جائے تو ربط کا ہونا اور عائد کا ہونا ضروری ہے لیکن یہاں پر کوئی ربط نہیں کوئی عائد نہیں۔ اور پھر جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ
ہے تو جملہ لیکن یہ مفرد کے حکم میں ہے۔ يبدأ بتكفينه وتجهيزه أي الابتداء بتكفينه پہلا حق کیا ہے کہ ابتدا کس سے ہوگی؟ کفن اور تجہیز سے ابتدا ہوگی۔
تو يبدأ فعل بمعنی ابتدا مصدر کے معنے میں مفرد ہوا تو معنی کے اعتبار سے یہ مفرد ہے لہٰذا یہاں پر کسی عائد کی کہتے ہیں ضرورت نہیں بھئی۔ تو الاول پہلا یہ کہ يبدأ بتكفينه وتجهيزه کہ ابتدا کی جائے گی اس کی کفن اور تجہیز سے
تکفن تو کفن وغیرہ دینا اور تجہیز بھئی۔ تجہیز کہتے ہیں ہو جميع ما يحتاج إليه الميت حتى القبر۔ التجهيز هو جميع ما يحتاج إليه الميت
هو جميع ما يحتاج إليه الميت حتى القبر وہ سب چیزیں ہیں جن کی میت کو حاجت ہوتی ہے قبر تک۔ قبر تک جن چیزوں کی بھی ضرورت ہے وہ سب کس کے اندر آ گئی؟ تجہیز کے اندر بھئی۔
تو یہاں کفن کے مقابلے میں تجہیز آئے تو تجہیز میں کففن بھی شامل تھی تو تجهیز کے پھر یہ مراد لے لیں گے بھئی کففن کے علاوہ باقی جو چیزیں ہیں وہ تجہیز میں آ گئیں مثلاً غسل دینے والے کی اجرت قبر کھودنے والے کی اجرت
قبر کھودنے والے کی اسی طرح اگر ضرورت پڑی اور آپ قبر وغیرہ قبرستان میں جگہ نہیں ملتی قبر کے لیے جگہ خریدنے کی
تو کفن دیا جائے گا اور آگے فرما رہے ہیں من غیر تبذیر ولا تقطیر بغیر کسی تبذیر کہتے ہیں اسراف کو بھئی۔ حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ زیادہ خرچ کرنا۔ اور تقطیر کہتے ہیں کمی کرنا۔ بخل کرنا۔
کہ ابتدا کی جائے گی اس کی کفن اور تجہیز سے من غیر تبذیر ولا تقطیر بغیر اسراف اور بخل کے۔ بغیر اسراف اور بغیر کمی کے۔
یعنی مرد کو جو کفن دیا جاتا ہے مسنون کفن تین کپڑے ہیں اور ازار، لفافہ اور قمیض اور عورت کا مسنون کفن پانچ کپڑوں میں ہے ازار، لفافہ، قمیض اور خرقه اور خمار۔
تو یہ جو مرد کے تین کپڑے مسنون ہیں اس سے زیادہ دے دینا کپڑے چار پانچ کپڑے یہ تبذیر میں داخل ہو جائے گا اور تین سے کم کر دینا یہ کس کے اندر داخل ہو جائے گا؟ تقطیر میں۔ تو نہ زیادتی ہو اور نہ کمی ہو بلکہ مسنون طریقے سے۔
اور عورت کیونکہ کے لیے اسی طرح پانچ کپڑے ہیں تو پانچ سے زیادہ زیادتی یہ تبذیر ہے اور اس سے کم کرنا یہ تقطیر ہے بھئی۔ یہ تو تعداد کپڑوں کی تعداد میں تبذیر اور تقطیر ہے۔ اسی طرح قیمت کے اندر بھی کہتے ہیں متوسط درجے کا کفن جس قسم کا لباس وہ زندگی میں استعمال کرتا تھا۔
عام جو لباس جس قیمت کے عموما وہ استعمال کیا کرتا تھا اسی قیمت کا کپڑا ہو اگر اس سے ادنی درجے کا کپڑا دیا تو یہ تقطیر کر دی بھئی کمی کر دی بخل کیا۔ اور اگر اس سے مہنگا قیمتی کپڑا لگایا تو یہ کس کے اندر داخل ہو جائے گا؟ اسراف۔ تو لہذا عدد ثیاب کے اعتبار سے بھی تبذیر اور تقطیر نہ ہو اور قیمت ثیاب کے اعتبار سے بھی تبذیر اور تقطیر نہ ہو۔
کفن کی بات آئی بھئی۔ کفن کی بھی تفصیل آپ کو بتلا دوں۔ کفن کا طریقہ آپ نے پڑھا تو ہوگا۔ ذہن میں کچھ ہے یا نہیں ہے بھئی؟
بھئی دیکھیے مرد کے کفن جو ہے وہ تین کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک کو کہتے ہیں ازار، ایک کو کہتے ہیں قمیض اور ایک ہے لفافہ۔
ازار جو ہے ازار ایک کپڑا ہوتا ہے جو میت کے سر سے لے کر قدموں تک سارے کو ڈھانپ لے۔ یہ کیا ہے؟ ازار۔
قمیض جو ہے یہ میت کی گردن سے لے کر اتنے کے قدموں تک ڈھانپ لے۔ تو میت کے مثلاً قد گردن سے لے کر قدموں تک فرض کریں ڈیڑھ گز لمبائی ہے میت کی۔ تو یہ کپڑا اس سے دگنا ہوگا یہ قمیض۔
تو دگنا کم از کم تھوڑا سا معمولی زائد تاکہ قدموں کو ڈھانپ لے بھئی اور اس پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً میت قدموں تک کتنا قد ہوا اس کا گردن سے؟ ڈیڑھ۔ گردن سے اور یہ کتنا ہوگا پھر قمیض کتنی لمبی ہوگی؟ تین۔ پھر اس کو درمیان سے موڑ لیں گے۔
درمیان سے موڑنے کے بعد جہاں سے موڑا ہے وہاں درمیان سے تھوڑا سا کاٹ دیں گے جہاں سے میت کا سر گزارا جائے گا بھئی اور ایک حصہ میت کے نیچے آ جائے گا اور ایک حصہ میت کے اوپر آ جائے گا۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے قمیض بھئی۔
اور لفافہ نام سے ہی ظاہر ہے جس میں لپیٹا جاتا ہے سب سے اوپر کا کپڑا جو جس میں میت کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور پھر اوپر کی طرف بھی گرا لگائی جاتی ہے اور نیچے کی طرف بھی تو سب سے پہلے جو ہے میت کو قمیض پہنائی جائے
اور پھر اس کے بعد اس کے اوپر ازار آ جائے گا اور پھر لپیٹتے ہوئے بھی لپیٹتے ہوئے بھی یہ خیال رکھیں کہ بائیں جانِب کپڑے کے اوپر آنی چاہیے تو پہلے دائیں جانب دائیں جانب والا کپڑا اوپر ہونا چاہیے پہلے بائیں طرف سے لپیٹ دیں گے میت کے اوپر اور پھر دائیں طرف سے اس کے اوپر لپیٹ دیں گے اور سب سے اوپر وہ لفافہ آ جائے گا
اور جس میں پھر پوری طرح لپیٹ دیا گیا اور اس کے اوپر کے سرے کو بھی پھر کسی پٹی وغیرہ سے گرا دے دیتے ہیں اور نیچے والے کنارے کو بھی پٹی وغیرہ سے گرا دے دیتے ہیں اور اگر کھلنے کا خطرہ ہو تو درمیان میں بھی کسی پٹی وغیرہ سے باندھ دیتے ہیں گرا لگا دیتے ہیں۔ یہ تو تھا مرد کا کفن بھئی۔
اور عورت کا کفن وہ پانچ کپڑے ہیں بھئی۔ تین تو یہی ہیں لفافہ جو سب سے اوپر آئے گا، ایک قمیض ہے اور ایک ازار ہے سر سے لے کر قدموں تک۔
اس کے علاوہ دو کپڑے زائد ہیں عورت کے کفن میں۔ ایک ہے خمار۔ خمار اوڑھنی۔ یہ تقریبا ڈیڑھ گز کے برابر کپڑا جو میت کے سر پہ ڈالا جاتا ہے اور پھر میت جو عورت کے بال جو ہیں اس کے دو حصے کر دیے جاتے ہیں بھئی ایک حصے آدھے ایک طرف اور آدھے دوسری طرف تو سر سے نیچے جب دائیں طرف کپڑا آ رہا ہے اس میں دائیں طرف والے بال لپیٹ دیے اور بائیں طرف جو ہے وہ اس میں بائیں طرف والے بال لپیٹ دیے اور پھر ان بالوں کو عورت کے سینے پر ڈال دیا جاتا ہے بھئی تو یہ ہے خمار۔
اور ایک ہے خرقه۔ خرقه جو سینے سے لے کر کم از کم رانوں تک ہو گئی یہ کیا ہے؟ خرقه۔ تو اس کو سب سے پہلے کیا کیا جاتا ہے؟ یہ خرقه یہ عورت کو اس میں لپیٹا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا خرقه جسے سینہ بند بھی کہہ لیں تو اس میں لپیٹا گیا پھر اس کے بعد قمیض آ جائے گی اوپر اس کے اوپر بھئی پھر اس کے اوپر وہ خمار آ جائے گا وہ سر پر ڈال کر آگے بال اس کے سینے پر آ جائیں گے اور پھر اس کے اوپر ازار آ جائے گا بھئی اور سب سے اوپر لفافہ بھئی۔
بات سمجھ میں بات سمجھ بھی آئی کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ ہاں، یہ ہیں پانچ کپڑے مسنون بھئی۔ جی اور اس میں پھر یہ یاد رکھیے کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوا اور وہ اگر بیوی ہے اور خاوند زندہ ہے تو یہ کفن دفن جو ہے اس کا خرچہ بیوی کے مال میں سے نہیں ہوگا بلکہ خاوند کے مال میں سے لیا جائے گا یہ خاوند کے ذمے ہے۔
جیسے زندگی میں اس کی ضروریات پورا کرنا خاوند کے ذمے تھا اسی طرح موت کے بعد اسے ان چیزوں کی ضرورت ہے تو ان کو پورا کرنا بھی کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے ہے بھئی۔ ہاں، اس کے ذمے ہے یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، عورت کا اپنے ہی مال میں سے اس کی تجہیز و تکفین کی جائے گی کیونکہ رشتہ زوجیت موت سے منقطع ہو چکا ہے لیکن فتوی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے بھئی۔
تو عورت کے کفن دفن کا خرچہ کس میں سے کس کس کے ذمے ہو گیا؟ شوہر کے ذمے اور اگر کوئی شخص مفلس ہے اس کے پاس مال ہی کچھ نہیں۔ پھر اب کیا کیا جائے کفن دفن؟ تو کہتے ہیں بھئی اس کے جو وارث ہیں ان پر ہے۔
اگر اس شخص نے مال چھوڑا ہوتا تو جو جو اس کے وارث بنتے اور پھر جس کو زیادہ ملتا کسی کو کم ملتا تو کفن دفن کا خرچہ بھی اسی طرح ان وارثوں پر آ جائے گا اور جس کو زیادہ مال ملتا تو اس پر یہاں پر بھی زیادہ مال اسے دینا پڑے گا جسے کم ملتا اس پر اسی کے بقادر کم مال آئے گا وہ اور اگر کوئی بھی نہیں ان میں سے یا وہ بھی مفلس ہیں کچھ نہیں تو پھر اس کے بعد جو وہ اہل محلہ ہیں اور شہر والے اور جو پاس پاس رہنے والے ہیں جن کو اطلاع ہوئی ہے ان کے ذمے ہے کہ وہ جمع کرکے اس کے کفن دفن کا بندوبست کریں۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح انتقال پر بھئی انتقال پر عموماً اس کے میت کے مال میں سے خوب صدقات و خیرات کیے جاتے ہیں۔
حالانکہ بعض اوقات اس کی نابالغ اولاد ہوتی ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، صدقات و خیرات سے اس کو بڑا اجر و ثواب ملے گا اور لیکن بہرحال اگر ماں بھی سے پیچھے وہ مال کو خرچ کرتی ہے اپنے خاوند کے لیے تو یہ بھی اس کے لیے درست نہیں ہے کیونکہ یہ مال بچوں کا حق ہے اور وہ نابالغ ہیں ابھی تو اگرچہ یہ ان کی ماں ہے لیکن ان کے مال کو اس طرح خرچ کرنے کی کا اختیار اس کو نہیں ہے بھئی۔
اور اسی طرح اگر کفن دفن کے لیے میں نے بتایا الگ زمین خریدنے کی ضرورت پڑ گئی یا وارثوں نے ارادہ کر لیا کہ الگ جگہ خرید کر وہاں اس کو دفناتے ہیں তো کوئی وارث اس سے منع نہیں کر سکتا بھئی، مانع نہیں بن سکتا۔
کوئی جن کے دیون ہیں بھئی، قرضے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے تو قرضوں میں کمی آ جائے گی نہیں بھئی! کوئی مانع نہیں بن سکتا بلکہ کیا کریں گے؟ اس کے لیے الگ زمین خرید کر اس کے قبر کے برابر اس کو یہ خریدنا جائز ہے مانع نہیں ہو سکتا اس سے۔
جی تو کہتے ہیں الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه کہ اول یہ کہ ابتدا کی جائے گی اس کی تکفین اور تجہیز سے من غیر تبذیر ولا تقطیر بغیر اسراف اور بغیر بخل کے ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقی من مالہ۔
ديون ادا کیے جائیں گے اس سارے مال میں سے جو باقی بچ گیا ہو اس کے مال میں سے جو باقی بچ گیا کفن دفن کے بعد اس میں سے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ چلیے بس کریں وقت ہو گیا بھئی ہذا و المراۃ واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔