Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب الرد، الرد ضد العول، ما فضل عن فرض ذوي الفروض ولا مستحق له يرد على ذوي الفروض بقدر حقوقهم إلا الزوجين، وهو قول عامة الصحابة رضي الله تعالى عنهم وبه أخذ أصحابنا رحمهم الله تعالى. أچھا بھئی، آج ہم رد کا باب پڑھیں گے۔ بھئی، اس سے پہلے آپ پڑھ چکے کہ بعض اوقات حصے زیادہ ہو جاتے ہیں اور مخرج تنگ ہو جاتا ہے (یعنی جس عدد سے مسئلہ بنایا تھا، وہ ہے چھوٹا اور حصے ہو جاتے تھے زیادہ تو وہاں ہم کیا کرتے تھے؟ عول کرتے تھے بھئی، عول) تو رد جو ہے، یہ اس کی ضد ہے بھئی، کاعکس۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مخرج بڑا ہوتا ہے اور حصے کم ہو جاتے ہیں بھئی، اور کوئی عصبہ بھی نہیں، جو باقی مال کو لے سکے بھئی۔ یہاں کیا ہوگا؟ رد کے اندر مخرج بڑا ہوگا اور حصے تھوڑے سے ہوں گے تو کچھ حصے باقی بچ جائیں گے بھئی، اور کوئی ان حصوں کو لینے والا بھی نہیں، لینے والا بھی نہیں۔ تو پھر اس صورت میں یہ حصے نسبی ذوی الفروض پر واپس انہی میں ان پر لوٹائے جائیں گے، انہی میں تقسیم کیے جائیں گے۔ انہی پر واپس تقسیم کر دیں گے۔ اپ نے ترتیب پڑھی تھی شروع میں کہ سب سے پہلے میت کے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے ترکے میں سے، اس کے بعد اس کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، پھر ثلث مال میں اس کی وصیت نافذ کی جاتی ہے اگر اس نے کی ہو اور پھر باقی ترکہ ذوی الفروض میں تقسیم کرتے ہیں جن کے حصے مقرر ہیں۔ ان سے کچھ بچے تو عصبہ نسبی کو دیتے ہیں، اگر عصبہ نسبی نہ ہو تو پھر کس کو دیتے تھے؟ عصبہ سببی کو دیتے تھے۔ اگر عصبہ سببی وہ بھی نہیں ہے یعنی معتق بھی نہیں ہے تو پھر اس کے جو عصبات ہوتے تھے، اولاً نسبی، ثانیاً سببی ان کو دیتے تھے۔ اگر وہ بھی نہ ہوتے، پھر آپ نے پڑھی تھی، پڑھا تھا کہ اس کے بعد جو ہیں وہ حصے نسبی ذوی الفروض پر ان کا رد ہوتا ہے۔ ترتیب ذہن میں آئی بھئی؟ تو نسبی ذوی الفروض پر رد ہوتا ہے، مابقی مال پھر انہی پر لوٹا کر انہی میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس میں قید تھی کہ نسبی ذوی الفروض ہوں، ذوی الفروض جن کے حصے مقرر ہیں اور یہ دو قسم پر ہیں بھئی، ذوی الفروض۔ کچھ نسبی ہیں جن سے نسب والا رشتہ ہے اور کچھ سببی ہیں بھئی اور سببی صرف دو ہیں بھئی: زوج اور زوجہ، بھئی، میاں بیوی۔ تو ان کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ سبب والا ہے، عقد کی وجہ سے، نسب والا نہیں۔ تو یہ جو رد ہوتا ہے، یہ صرف نسبی ذوی الفروض پر ہوتا ہے اور زوج اور زوجہ پر نہیں ہوتا رد بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ তো لہذا یہاں آگے وہ تعبیر کریں گے زوج اور زوجہ جو ہیں، ان کو وہ تعبیر کریں گے من لا يرد عليه۔ کس کے ساتھ تعبیر کریں گے؟ من لا يرد عليه، جن پر رد نہیں کیا جاتا، یہ اس سے کون مراد ہوں گے؟ زوج اور زوجہ اور باقی جو ذوی الفروض ہیں ان کو تعبیر کریں گے من يرد عليه، جس پر کیا جائے؟ رد کیا جائے بھئی۔ رد کیا جائے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا کہ رد کہاں پر ہوگا؟ جہاں حصے کچھ حصے بچ جائیں تو پھر ان کو اور کوئی عصبہ نہ ہو تو پھر انہی وارثوں پر اس کو کیا جائے گا؟ دوبارہ انہی میں تقسیم کیا جائے گا اور زوج اور زوجہ پر تقسیم نہیں ہوں گے۔ ان کے علاوہ باقی جو نسبی ہیں ان پر تقسیم ہوں گے۔ بھئی، یہ ہے رد تو یہ عول کی ضد ہے بھئی۔ تو دیکھیے اب کتاب پر، باب الرد، الرد ضد العول، ما فضل عن فرض ذوي الفروض ولا مستحق له يرد على ذوي الفروض بقدر حقوقهم، ما فضل عن فرض ذوي الفروض، جو بچ جائے ذوی الفروض کے حصوں میں سے، ذوی الفروض کے حصے میں سے ولا مستحق له، اور کوئی اس کا مستحق بھی نہ ہو (یعنی عصبات میں سے بھی کوئی نہ ہو) تو يرد على ذوي الفروض، تو اس کو رد کیا جائے گا، اس کو لوٹایا جائے گا ذوی الفروض پر ہی بقدر حقوقهم، ان کے حقوق کے بخدر۔ بھाई، پہلے ہم نے ذوی الفروض کے حصے نکالے (یعنی اس سے پہلے)؟ نکالے۔ تو جس کو زیادہ ملا ہے، رد میں بھی اس کو زیادہ ملے گا، جس کو کم ملا تھا، رد میں بھی اس کو کم ملے گا اسی اعتبار سے۔ یہ معنی ہے بقدر حقوقهم، ان کے حقوق کے ب قدر تو اس کو رد کیا جائے گا ذوی الفروض پر، ان کے حصوں کے بقدر، إلا الزوجين سوائے کس کے؟ زوجین (یعنی میاں بیوی) کے، ان پر رد نہیں کیا جائے گا۔ وهو قول عامة الصحابة رضي الله تعالى عنهم، اور یہ قول ہے اکثر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا وبه أخذ أصحابنا رحمهم الله تعالى، اور اسی کو لیا ہے ہمارے اصحاب (یعنی ہمارے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی) نے، انہوں نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ وقال زيد بن ثابت رضي الله تعالى الفاضل لبيت المال، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جو زائد ہے، جو بچ جائے، جو بچ جائے لبيت المال وہ کس کا ہے؟ وہ بیت المال کا ہے۔ وبه أخذ مالك والشافعي رحمهما الله تعالى، اور اسی کو لیا ہے امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے، یعنی انہوں نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ثم مسائل الباب على أقسام أربعة، پھر اس باب (یعنی رد کے باب) کے مسائل وہ چار قسم پر ہیں، کتنے قسم پر؟ چار قسم پر ہیں چار، یعنی یوں کہیں چار قوانین ہیں اس کے، کتنے قوانین ہیں؟ چار، بھئی۔ بھئی، یاد رکھیے چار قوانین آئیں گے۔ چار میں سے پہلے تو قوانین میں من لا يرد عليه نہیں ہوں گے۔ وارثوں میں وہ ہیں ہی نہیں بھئی۔ کون نہیں ہے؟ من لا يرد عليه (یعنی زوج یا زوجہ میں سے کوئی ہے ہی نہیں) پھر کیسے صورت ہوگی، یہ پہلے دو قوانین میں آپ کو بتائیں گے۔ اور دوسرے دو قوانین میں بتائیں گے کہ اگر من لا يرد عليه وہ بھی ساتھ آگئے اور من يرد عليه وہ تو ہیں ہی، تو پھر اس صورت میں کس طرح مال تقسیم کیا جائے گا، رد کس طرح ہوگا بھئی۔ تو پہلے دو کے اندر لا يرد عليه موجود نہیں، صرف من يرد عليه موجود ہوں گے۔ جیسے دیکھیے بھئی تو کہتے ہیں یہ مسائل باب کے چار قسم پر ہیں، أحدها، ایک قسم یہ، أن يكون في المسئلة جنس واحد ممن يرد عليه، کہ مسئلہ کے اندر ایک ہی جنس ہو ممن ان میں سے يرد عليه جن پر کیا جاتا ہو رد کیا جاتا ہو، ایک ہی جنس ہو بھئی، ایک ہی جنس! یا صرف بیٹیاں ہیں یا صرف بہنیں ہیں یا صرف جدات ہیں وغیرہ بھئی، ایک ہی جنس ہے۔ اور یہ کیا ہیں؟ من يرد عليه یہ نسبی ذوی الفروض ہیں نا! اور خاوند اور بیوی میں سے کوئی بھی ساتھ نہیں، تو صرف ایک نوع ہے اور ایک ہی جنس کے افراد ہیں اور من يرد عليه ان کے ساتھ موجود نہیں۔ تو اس صورت میں کیا کریں گے؟ اس صورت میں سب سے آسان ہے، کہتے ہیں فاجعل المسئلة من رؤوسهم जी، کیا تھا؟ دوبارہ دیکھیں! ایک ان میں سے یہ ہے أن يكون في المسئلة جنس واحد من ممن يرد عليه، کہ مسئلہ کے اندر ایک ہی جنس ہو ممن يرد عليه، من من يرد عليه میں سے عند عدم من لا يرد عليه، جس وقت کہ من لا يرد عليه نہ ہوں، فاجعل المسئلة من رؤوسهم، تو بس مسئلہ، بس مسئلہ بنا دیجیے ان کے عدد رؤوس سے ہی! یہ جتنے وارث ہیں ان کے عدد رؤوس سے ہی کیا کر لیجیے؟ مسئلہ بنا لیجیے۔ كما لو ترك بنتين أو أختين أو جدتين، جیسے کہ چھوڑا مرنے والے نے دو بیٹیوں کو یا دو بہنوں کو یا دو جدات کو چھوڑا بھئی۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی اس صورت میں مسئلہ بنائیے جلدی جلدی! اوپر لکھ لیجیے باب الرد تاکہ یاد رہے۔ جی آگے مثال کون سی ہے؟ مثال نمبر 78، بھئی۔ میت بنائیے، اس کے نیچے دو بیٹیاں، الگ الگ لکھ لیجیے۔ بنت اور پھر ایک بنت، دو بیٹیاں ہیں بس۔ اب دیکھیے بھئی بیٹیاں ہیں اور آپ میت کو دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں تو ان کو کتنا مال دیتے ہیں؟ ثلثان۔ ثلثان، ثلثان ہم مثلاً تین سے مسئلہ بنائیں، تو دو ان کو مل جائیں گے دونوں بہنوں کو۔ ابھی بنائیں نہیں، میں ابھی سمجھا رہا ہوں۔ اگر ہم تین سے مسئلہ بنائیں، ثلثان ملنا ہے، ایک ہی حصے والے ہیں، لازمی بات ہے مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ اسی کے نام عدد سے تو ہم ثلاثہ سے مسئلہ اگر بنائیں گے تو ایک دو تو مل جائیں گے ان بیٹیوں کو (یعنی ایک ایک بیٹی کو ایک، دوسری بیٹی کو)، ایک حصہ پھر بھی بچ گیا۔ اب کوئی عصبہ بھی نہیں اس کو جو لے سکے، تو اس ایک کو پھر انہی پر رد کیا جائے گا اور پہلے دونوں کو کتنا کتنا ملا تھا؟ ایک ایک یعنی برابر ملا تھا، تو یہ ایک بھی ان میں برابر ہی تقسیم ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ گویا کل مال ہی ان دو میں تقسیم ہو گیا، لہذا بنا، مسئلہ ہی کس سے بنا دو؟ دو سے مسئلہ بنا دو بھئی، آسان سی! دیکھو اس میں جنس واحد ہے، ایک ہی جنس ہے، دونوں بیٹیاں ہی ہیں اور یہ من يرد عليه کے قبیل سے ہیں جبکہ من لا يرد عليه (زوج یا زوجہ میں سے کوئی ہے)؟ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، تو انہوں نے بتایا تھا کہ فاجعل المسئلة من رؤوسهم کہ مسئلہ کس سے بنا دو ان کے عدد رؤوس سے بھئی۔ جی، تو اوپر دو لکھ لیجیے اور اس سے مسئلہ بنا کر ایک ایک بیٹی کے نیچے لکھ لیجیے، ایک دوسری بیٹی کے نیچے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، اگلی مثال بھی لکھ لیجیے۔ مثال نمبر 79، سات نو۔ میت اسی طرح بنائیے، اب کتاب میں صورت یہ ہے، دو بہنیں ہوں، اسی طرح اخت، اخت الگ الگ لکھ لیجیے بھئی۔ یہاں بھی دیکھیے من يرد عليه ہے اور من لا يرد عليه نہیں ہے اور یہ ایک ہی جنس کی ہیں، دونوں بہنیں ہیں تو لہذا مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ دو سے ہی مسئلہ بنا لیں گے، ایک کے نیچے بھی ایک لکھ لیجیے، دوسری کے نیچے بھی ایک، سارا مال انہی میں تقسیم ہو گیا بھئی۔ ورنہ تو اصل میں تو ان کو کتنا ملنا تھا؟ ثلثان ملنا تھا اور ایک ثلث باقی بچ گیا تھا، لیکن کوئی عصبہ ہے ہی نہیں جو اس کو لے تو لہذا وہ بھی انہی میں تقسیم ہوا اور دونوں کو پہلے ایک ایک ملا تھا تو اب بھی وہ ایک ان میں برابر برابر تقسیم ہو جائے گا۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ اگلی مثال بھی لکھ لیجیے۔ میت بنائیے اور وہ کتاب میں جدتیں دیا ہوا ہے تو دو جدہ الگ الگ لکھ لیجیے۔ جدہ الگ، یہاں بھی اسی طرح جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس سدس۔ اور معلوم ہوا ان کو سدس ملے گا اور وہ ان میں برابر تقسیم ہو جائے گا آدھا آدھا، باقی کتنے حصے بچ گئے؟ پانچ حصے بچ گئے بھئی۔ پانچ حصے بچ گئے؟ اب وہ پانچ لینے والا کوئی ہے ہی نہیں تو وہ ان میں انہی پر رد ہوگا، ان میں تقسیم ہوگا اور پہلے ان میں سے ایک کو زیادہ ملا تھا اور ایک کو کم ملا تھا یا برابر برابر؟ جب برابر پہلے ملا تھا، اب اس کو بھی برابر ہی دے دو، بس اس میں سے بھی آدھا ایک لے لے گی، آدھا دوسرا تو گویا کل مال ہی ان دونوں آپس میں تقسیم کر لیا، تو دو سے یہاں بھی مسئلہ بنے گا، ایک کے نیچے ایک لکھ لیجیے، دوسری کے نیچے بھی ایک لکھ لیجیے۔ یہ کون سی مثال تھی؟ مثال نمبر یہ 80 تھی بھئی۔ اگلی مثال لکھیے بھئی، مثال نمبر 81، بھئی۔ مثال نمبر 81۔ اب بھئی اسی طرح میت بنائیے۔ اب تین بہنیں ہیں بھئی، الگ الگ تین بہنیں لکھ لیجیے: اخت، اخت اور اخت۔ اچھا دیکھیے بھئی! مسئلہ دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو مسئلہ کس سے بناتے تھے؟ ثلثان سے اور وہ ثلثان ان تینوں میں کیا ہوتا تھا؟ برابر برابر تقسیم ہوتا تھا، ایک حصہ بچ رہا ہے تو وہ ایک بھی انہی پر رد ہوگا، کیونکہ کوئی عصبہ نہیں ہے اور وہ بھی ان میں برابر تقسیم ہو جائے گا، تو گویا سارا مال ہی یہ لے گئیں اور تین حصے کر لیے برابر بھئی، تو مسئلہ تین سے بنا لیجیے۔ تو اوپر اس کے میت کے اوپر تین لکھیے اور ان کے نیچے ایک ایک ایک لکھ لیجیے بھئی۔ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 82، بھئی۔ مثال نمبر 82۔ اسی طرح میت بنائیے، اب چار بیٹیاں لکھ لیجیے الگ الگ بھئی! بنت، بنت، بنت اور بنت، چار بیٹیاں۔ یہاں بھی دیکھیے مسئلہ جب دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں، تو کتنا دیتے ہیں ان کو؟ ثلثان دیتے ہیں، ایک ثلث بچ رہا ہے، کوئی عصبہ نہیں جو اس کو لے سکے، تو وہ بھی انہی میں برابر تقسیم ہو جائے گا، کیونکہ ہر ایک سب کو بہنوں کو آپس میں برابر برابر مال تقسیم ہو رہا ہے، تو لہذا گویا کل مال کے ہی چار حصے کر دیں گے، تو اوپر چار لکھیے اور ہر بہن کے نیچے ایک، ہر بیٹی کے نیچے ایک ایک لکھ لیجیے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ دیکھو ایک ہی جنس ہے، ایک ہی نوع کے وارث ہیں ہاں سارے۔ دیکھیے دوبارہ قانون کو دیکھ لیجیے۔ أحدها ان میں سے ایک یہ ہے أن يكون في المسئلة جنس واحد ممن يرد عليه، کہ مسئلہ کے اندر ایک ہی جنس ہو ان میں سے جن پر رد کیا جاتا ہے عند عدم من لا يرد عليه، جس وقت کہ من لا يرد عليه نہ ہوں فاجعل المسئلة من رؤوسهم، تو بنا لیجیے مسئلہ انہی کے عدد رؤوس سے بھئی! كما لو ترك بنتين أو أو أو أختين أو جدتين، جیسے کہ چھوڑا کسی شخص نے دو بیٹیوں کو یا دو بہنوں کو یا دو جدات کو فاجعل المسئلة من اثنين، تو بنا لیجیے مسئلہ دو سے، یہ پہلا قانون تھا رد کا۔ والثانی، دوسرا قانون بھئی! جی، والثانی دوسری یہ قسم یہ ہے کہ اذا اجتمع في المسئلة جنسان، کہ جب جمع ہو جائیں مسئلہ کے اندر دو جنسیں، او ثلاثۃ اجناس، یا کتنی جمع ہو جائیں؟ تین جنسیں جمع ہو جائیں، تین مختلف قسم کے وارث ہیں ممن يرد عليه، کس میں سے؟ من يرد عليه میں سے عند عدم من لا يرد عليه، جس وقت کہ من لا يرد عليه (یعنی زوجین میں سے) کوئی نہ ہو، فاجعل المسئلة من سهامهم، تو پھر بنا لیجیے مسئلہ ان کے سہام سے بھئی! کس سے بنا لیجیے؟ سہام سے۔ یاد رکھیے اس صورت میں مسئلہ کبھی دو سے بنے گا، کبھی تین سے کبھی چار سے مسئلہ بنے گا اور کبھی پانچ سے مسئلہ بنے گا ان کے سِہام سے ہی ہم نے مسئلہ بنانا ہے۔ کس سے بنانا ہے؟ سِہام ہی سے مسئلہ بنانا ہے بھئی۔ جی۔ مثال لکھیے۔ کون سی مثال آ گئی؟ جی؟ चौराسی चौरासी چوراسی۔ جی، مثال نمبر تراسی بھئی۔ اسی طرح میت بنائیے۔ میت بنا لی بھئی۔ وارث ہیں بھئی ایک ہے جدہ جدہ اور ایک ہے اخت لِامٍ اخت لِامٍ یعنی اخیافی بہن۔ آپ چاہے اردو میں لکھنا چاہیں، اردو میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ جدہ اور اخت لِامٍ یعنی اخیافی بہن بھئی۔ اب دیکھیے جدہ کو کتنا ملتا ہے؟ سُدس، چھٹا حصہ۔ اخیافی بہن کو بھی کتنا ملتا ہے؟ وہ ایک ہو تو پھر سُدس ہی ملتا ہے بھئی۔ تو دیکھیے سُدس دونوں طرف سُدس ہی ہیں، یعنی ایک ہی قسم کا حصہ آیا تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے۔ چھ سے بنائیے مسئلہ۔ چھ اوپر لکھیے۔ چھ میں سے ایک سُدس دیں گے جدہ کو۔ جدہ کے نیچے بھی ایک لکھیے اور اخت لِامٍ کے نیچے بھی ایک لکھیے۔ اب کتنے حصے بچ گئے؟ چھ میں سے ایک، دو تو دے دیے ان دونوں کو اور چار بچ گئے اور ان کو کوئی لینے والا نہیں، کوئی عصبہ نہیں تو انہی پر رد ہوگا اور ان دونوں کو برابر برابر ملا ہے تو مال بھی کیا ہوگا؟ باقی مال بھی ان میں برابر کا تقسیم ہو جائے گا تو اب معلوم ہوا مسئلہ کس سے بنے گا؟ دو سے بنے گا سیدھی سی بات ہے۔ لیکن اب طریقہ یاد رکھیں، یہ اب رد کی علامت لکھنی ہے بھئی۔ پتہ لگے کہ رد ہوا ہے۔ کس طرح پہلے سمجھ لیں لکھیں نہیں۔ یہ چھ سے آگے ہی تھوڑا جیسے پہلے لکھتے تھے چھ سے آگے کر کے تھوڑا اوپر۔ آپ نے لکھنا ہے لف بھئی۔ کس طرح لکھنا ہے لف؟ لام اور ف لام اور ف اور ف کا نقطہ نہیں ڈالنا اور ف کا آخری کنارہ اوپر نہ اٹھائیں بس اس کو سیدھا ہی لے جائیں اور پھر جو عدد اس پر لکھیں گے اس کو ذرا الگ کر کے لکھنا وہ ف کی وجہ سے شبہ تاکہ نہ پڑے کہ یہ صفر اس کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ ذرا واضح کر کے بھئی۔ لام لف بھئی۔ یہ رد کی علامت ہے، یہ لف نہیں ہے، یہ آپ کو لکھوانے کے لیے میں نے کہا یہ لف ہے، یہ بس صرف وہ فرق کرنے کے لیے یہ علامت دیکھتے ہی آپ سمجھ جائیں۔ بس پہلے کیا تھی؟ تصحیح ہوتی تھی، صرف تا لکھتے تھے۔ عول کے لیے کیا لکھتے تھے؟ ع لکھتے تھے تو یہ ایک علامت بس تھوڑی سی مختلف کر کے بنا دی گئی تاکہ دیکھتے ہی پتہ چل جائے کہ یہ رد کی علامت ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ جی۔ اور اس پر کیا لکھا آپ نے؟ اس پر دو لکھیں کیونکہ مسئلہ دو سے اب بن گیا۔ یہ چھ الگ لکھا ہے آگے علامت رد کی ہے معلوم ہوا مسئلہ چھ سے بنایا تھا اور پھر رد ہوا کس کی طرف؟ دو کی طرف یعنی کل مال کے بس دو حصے کیے آدھا جدہ کو دے دیا اور آدھا اخت لِامٍ کو دے دیا بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتلایا کہ طریقہ کیا ہے رد کا مسئلہ حل کرنے کا؟ کہ میت کے اوپر وہ عدد لکھیں جس سے مسئلہ بنایا مثلاً چھ سے مسئلہ بنایا تو وہ میت کے اوپر لکھا اور پھر مثلاً اس کا رد ہوا دو کی طرف تو اس کے آگے رد کی علامت لکھیں اور اس پر دو لکھیں بھئی۔ ایک طریقہ یہ ہے دوسرا طریقہ اگر آپ کرنا چاہیں کہ مثلاً چھ سے مسئلہ بنایا اسی کے آگے چھوٹا سا رد لکھ لیں اور پھر آگے تصحیح کی تا لکھ کر اوپر جس عدد کی طرف رد ہوا ہے وہ لکھ لیں بھئی۔ چھ سے مسئلہ بنایا اور رد کس کی طرف ہوا تھا؟ دو کی طرف تو کس طرح لکھیں گے؟ چھ لکھا، اس کے آگے چھوٹا سا رد لکھ لیں اور اس کے آگے تصحیح کی تا لکھیں اور اس پر دو لکھ لیں بھئی۔ تو جو طریقہ آپ اختیار کرنا چاہیں ایک صورت میں وہ علامت ڈال دیں اور دوسری صورت میں کیا ہے؟ باقاعدہ رد ہی لکھ دیں اور بات واضح ہو جائے گی تو جس طرح بھی آپ کو آسان لگے آپ لکھ سکتے ہیں۔ اور سب سے قیمتی بات جو یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ آپ کو پتہ کس طرح چلے گا کہ یہ رد کا مسئلہ ہے یا دوسرا ہے، رد کے قانون؟ تو آسان سی بات ہے بھئی، آپ پہلے مسئلہ بنا لیں جیسے پہلے بناتے تھے عام مسئلہ اور پھر نیچے جو حصے دیے ان کو جمع کریں، اگر وہ حصے مخرج سے کم پڑ جائیں، معلوم ہوا ابھی بھی کچھ حصے بچ رہے ہیں چاہے ایک بچ رہا ہے چاہے دو حصے بچ رہے ہیں چاہے تین حصے بچ رہے ہیں، جب آپ نے مسئلہ بنایا، حصے بچ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ رد ہوگا۔ کیا ہوگا؟ رد ہوگا۔ جب رد ہوگا تو اب اس کے بعد پھر آپ رد کے قوانین دیکھیں کہ کون سا قانون یہاں پر لگے گا؟ من یُرد علیہ والا قانون لگے گا یا من لا یُرد علیہ والا قانون لگے گا؟ یعنی پہلے دو میں سے لگے گا جس میں صرف من یُرد علیہ ہیں یا بعد والے دو لگیں گے جس میں من لا یُرد علیہ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ تو پہچانیں گے کس سے آپ بھئی رد کے مسئلے کو؟ کہ عام طریقے کے مطابق پہلے مسئلہ بنا لیا کریں، جب دیکھیں کہ حصے بچ رہے ہیں اور کوئی لینے والا نہیں ہے تو پتہ چل گیا کہ کون سا قانون لگے گا؟ رد والا۔ پھر دوبارہ نئے سرے سے اگر مسئلہ بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو دوبارہ نئے سرے سے لکھیں، اب رد کے قانون لگاتے ہوئے مسئلے کو حل کریں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ کتنی مثال تھی؟ चौराسی۔ آگے لکھیے مثال نمبر चौराسی۔ مثال نمبر चौराسی۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ میت بنائیے اسی طرح۔ अच्छा नीचे लिखिए اخ لِامٍ اخ لِامٍ یعنی اخیافی بھئی ہے یہ۔ اس سے آگے لکھیے اخت لِامٍ اخت لِامٍ یعنی اخیافی بہن اور آگے تیسرے وارث ہے اُمّن بھئی ماں۔ अच्छा اخیافی بھئی بہن ائے ان کو کتنا ملتا ہے جب دو یا زیادہ ہوں؟ ایک کو تو سُدس ملتا ہے، دو یا زیادہ ہوں تو ثلث ملتا ہے تو ان دونوں کے نیچے ایک لکیر کھینچیے ہاں اچھا ابھی تو ہم مسئلہ کس سے بنانا ہے وہ نکال رہے ہیں۔ تو ان کو کتنا ملنا ہے؟ ثلث اور ماں کو کتنا ملے گا؟ بھئی آپ نے پڑھا تھا میت کی اولاد ہو تو ماں کو سُدس ملتا ہے، میت کے بھئی بہنوں میں سے کوئی دو کسی جہت سے آ جائیں تب بھی ماں کو کتنا ملتا ہے؟ سُدس ہی ملتا ہے تو ماں کو سُدس ملے گا تو لہٰذا دو حصے آئے بھئی، ایک ثلث، ایک سُدس۔ اور تو اس صورت میں ان میں چھوٹا ایک یہ ایک ہی نوع کے ہیں ثلث بھی اور سُدس بھی تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ جو چھوٹا والا ہو سُدس اور سُدس کا ہم نام عدد کون سا ہے؟ ستّہ یعنی چھ، چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ سے اوپر مسئلہ بنائیں۔ اخ لِامٍ اور اخت لِامٍ کے نیچے لکیر کھینچ دی بھئی؟ ہاں، ان کے نیچے اب دو لکھیے بھئی۔ ثلث چھ کا ثلث دو ان کو ہم نے دیا۔ اور ماں کو سُدس دیا تو چھ میں سے سُدس ایک ہے ام کے نیچے ایک لکھ لیجئے بھئی۔ اب پھر یوں کیجیے بھئی یہ اخیافی بھئی بہنوں کو دو دیے تو ایک ایک کا کتنا حصہ ہوا؟ ایک ایک۔ تو وہ اخ لِامٍ کے نیچے اب ذرا نچلی لائن میں، اخ لِامٍ کے نیچے ایک کر دیں اور اخت لِامٍ کے نیچے ایک کر دیں یہ دونوں کا الگ معلوم ہوا ہر ایک کا حصہ سُدس ہے گویا کہ۔ अच्छा तो بہرحال مسئلہ کس سے بنایا؟ چھ سے اور چھ سے۔ اور مال سب کو برابر مل رہا ہے۔ ماں کا ایک حصہ ہے تو اخت لِامٍ کا بھی ایک حصہ ہے اور اخ لِامٍ کا بھی ایک حصہ ہے اور کوئی عصبہ نہیں جو مال کو لے تین حصے ابھی تک بچے ہوئے ہیں تو وہ تین بھی انہی پر رد ہوں گے اور انہی میں تقسیم ہو جائیں گے تو لہٰذا اب انہی کے سِہام سے مسئلہ بن جائے گا کتنے سِہام ہیں ان کے جمع کرو؟ تینوں کا ایک ایک ہے تو تین ہو گئے تو لہٰذا چھ کے آگے ذرا اوپر رد کی علامت بنائیے اور اس پر تین لکھ لیجیے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، یہ کون سی مثال تھی؟ चौराسی۔ مثال نمبر پچاسی بھئی۔ مثال نمبر پچاسی۔ اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ وارث یہاں صرف دو ہیں بنت یعنی بیٹی اور اُمّن یعنی ماں۔ بنت اور اُمّ۔ अच्छा बेटी ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ ایک بیٹی ہو نصف ملتا ہے اور ماں کو اولاد ہو تو کتنا ملتا ہے؟ سُدس۔ تو نصف جمع ہوا سُدس یعنی نوع ثانی کے ساتھ اس صورت میں مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ میں سے نصف بیٹی کا حصہ، چھ کا نصف کتنا؟ تین تو بیٹی کے نیچے تین لکھیے۔ چھ کا سُدس یعنی ایک وہ ماں کا حصہ تو اُمّن کے نیچے ایک لکھ لیجیے بھئی۔ اب دیکھیے بیٹی کے تین حصے، ماں کا ایک حصہ۔ کتنے حصے باقی بچ گئے چھ میں سے؟ دو۔ دو حصے باقی ہیں تو کوئی عصبہ اس کو لینے والا نہیں، وہ انہی پر رد ہوگا انہی میں تقسیم ہو جائیں گے اور وہ بھی اسی طرح تقسیم کرنا ہے بیٹی کے ماں کے مقابلے میں تین گنا حصہ دینا ہے۔ تو لہٰذا انہی کے سِہام سے مسئلہ بنا لیں گے بھئی، انہی کے سِہام سے۔ بیٹی کے تین اور ماں کا ایک حصہ کل کتنے ہو گئے؟ چار تو بس چھ کے آگے وہ رد کی علامت لکھیے اور چار لکھ لیجیے بھئی یعنی کل مال کے چار حصے کر دیں گے، ماں کو ایک حصہ تو بیٹیوں کو تین حصے بھئی دیکھیے بیٹیوں کو تین گنا مل رہا ہے بھئی ماں سے۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر چھیاسی۔ چھیاسی؟ جی، مثال نمبر چھیاسی۔ جی، لکھیے بنتَانِ وارث جو ہیں بنتَانِ دو بیٹیاں ہیں اور اُمّن ماں ہے۔ بیٹیاں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ جی؟ ثلثان۔ اور اولاد کی صورت میں ماں کو کتنا ملتا ہے؟ سُدس۔ ایک ملتا ہے تو سُدس اور ثلثان جمع ہوئے ایک ہی نوع کے ہیں تو جو چھوٹا ہو اس سے مسئلہ بناتے ہیں، چھوٹا ان میں سے کیا؟ سُدس چھوٹا ہے، اس کے ہم نام عدد کیا ہے؟ ستّہ یعنی چھ۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ میں سے دو ثلث بیٹیوں کا حصہ ہے۔ بیٹیوں کے نیچے لکھ لیں بھئی، چھ میں سے دو ثلث کتنا ہوگا؟ چار۔ بیٹیوں کے نیچے چار لکھیے۔ ایک سُدس ہے ماں کا حصہ یعنی ایک۔ تو چار بیٹیوں کو دیا، ایک ماں کو دیا، پانچ ہو گئے چھ میں سے پانچ گئے ایک رہ گیا یہ ایک حصہ لینے والا کوئی نہیں تو لہٰذا اب رد ہوگا تو انہی کے سِہام سے کیا کر لیں گے؟ مسئلہ بنا لیں گے بھئی۔ کل کتنے سِہام ہو گئے بیٹیوں کے چار اور ماں کا ایک؟ پانچ تو بس آگے وہ رد کی علامت لکھیے اور پانچ اس پر لکھ لیجیے بھئی، یہ پانچ سے مسئلہ بن گیا۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر ستاسی بھئی۔ مثال نمبر ستاسی۔ لکھیے بھئی، بنتٌ بنتٌ آگے لکھیے بنتُ الابن یعنی پوتی بنتُ الابن پوتی اور آگے لکھیے اُمّن ماں۔ یہ تین وارث ہیں بھئی۔ अच्छा بیٹی اکیلی ہو تو کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ ایک بیٹی کے ساتھ پوتی آ جائے اس کو سُدس ملتا ہے۔ اور ماں کو بھی کتنا ملے گا؟ اولاد موجود ہے؟ سُدس ملے گا۔ تو گویا نصف اور سُدس اکٹھے ہو گئے نصف ہے نوع اول کا سُدس ہے نوع ثانی کا تو نصف نوع ثانی کے ساتھ جمع ہو جائے، مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ میں سے نصف دیجیے بنتِ عینی کو۔ کتنا ہے چھ کا نصف؟ تین، بنتِ عینی کے نیچے تین لکھیے۔ چھ کا سُدس ماں کا حصہ، سُدس کتنا؟ دو۔ ماں کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ بھئی اور ایک حصہ باقی بچ گیا ابھی بھی تین بنتِ عینی کو ملے، دو اُمّن کو ملے، تین اور دو پانچ، ایک حصہ لینے والا کوئی نہیں تو یہاں پھر رد ہوگا اور تین اور دو کتنے حصے ہیں؟ پانچ تو پانچ سے مسئلہ بن جائے گا۔ رد کی علامت لکھیے اور اس پر پانچ لکھ لیجیے۔ بھئی۔ مثال نمبر نواسی۔ مثال نمبر نواسی آٹھ نو۔ جی، اسی طرح لکھیے اختِ عینی میت بنائیے نیچے لکھیے اختِ عینی۔ یعنی حقیقی بہن اور آگے لکھیے اخت لِامٍ اخت لِامٍ رحمۃ اللہ اخت لِامٍ یعنی اخیافی بہن اور یہ دو ہیں بھئی، ان کے ساتھ دو لکھ لیجیے بھئی یہ دو ہیں۔ اب دیکھیے حقیقی بہن ہو اس کو کتنا ملتا ہے؟ نصف اور اخیافی بھئی بہن دو یا زیادہ ہو جائیں تو پھر کتنا ملتا ہے؟ ثلث ملتا ہے۔ تو نصف ثلث یعنی نوع ثانی کے ساتھ جمع ہو گیا نصف بھئی، تو لہٰذا مسئلہ کس سے بنے گا؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ نصف کس کو دے دیں گے؟ اختِ عینی کو۔ چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ اختِ عینی کے نیچے تین لکھیے بھئی۔ اور سُدس دیں گے اختِ لِامٍ کو تو چھ کا سُدس کتنا؟ دو۔ دو ان کے نیچے لکھ لیجیے۔ بھئی۔ اور ایک حصہ باقی بچ گیا ابھی بھی تین اختِ عینی کو ملے، دو اُمّن کو ملے، تین اور دو پانچ۔ ایک حصہ لینے والا کوئی نہیں وہ انہی پر رد ہوگا۔ تو انہی کے عدد جو حصے ہیں ان سے مسئلہ بنا لیں۔ تین اور دو پانچ۔ تو پانچ آگے چھ کے اوپر رد کی علامت بنائیے آگے اور پانچ سے مسئلہ بنا لیجیے بھئی۔ پانچ سے کیا کریں؟ مسئلہ بنا لیجیے۔ بھئی۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جی۔ دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ دوسری صورت کہتے ہیں والثانی اذا اجتمع فی المسألة جنسانی جب مسئلہ کے اندر دو جنسیں جمع ہو جائیں اور ثلاثۃ اجناس یا کتنی جنسیں جمع ہو جائیں؟ تین جنسیں جمع ہو جائیں من ممن یُرد علیہ کس میں سے؟ من مّن یُرد علیہ میں سے عند عدم من لا یُرد علیہ جس وقت کہ من لا یُرد علیہ موجود نہ ہو فاجعل المسألة من سِہامہم تو بنا لیجیے مسئلہ انہی کے سِہام سے۔ عنی من اثنین اذا کان فی المسألة سُدسان یعنی دو سے بنا لیجیے جب مسئلہ کے اندر کتنے ہوں؟ دو سُدس ہوں۔ او من ثلاثۃ یا ثلاثہ سے بنائیے اذا کان فیہا سُلس و سُدس جب مسئلہ میں کیا ہو؟ سُلس اور سُدس ہو او من یہ سب وہ مثالیں آپ غور کر لیجیے گا بھئی ان میں اسی طرح تھا۔ او من اربعۃ یا مسئلہ کس سے بنا لیجیے؟ چار سے اذا کان فیہا نصف و سُدس جب اس مسئلہ میں نصف اور سُدس ہو۔ او من خمسۃ یا پانچ سے مسئلہ بنا لیجیے اذا کان فیہا ثلثان و سُدس جب ثلثان اور سُدس ہو۔ او نصف و سُدسان یا مسئلہ میں نصف اور دو سُدس ہوں۔ او نصف و ثلث یا مسئلہ میں ایک نصف اور ایک ثلث ہو۔ بھئی بات سب کو سمجھ بھی آئی کہ نہیں بھئی؟ مسئلے کے اندر یہی چیزیں جمع تھیں اور انہی سے دو، تین، چار اور کبھی پانچ سے مسئلہ بنتا ہے ان صورتوں میں۔ چلیے بس بہرحال واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 57 of 92