ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاھم من ثلث ما بقی بعد الدین۔
ثم تقضی دیونہ۔ پھر ادا کیے جائیں گے اس میت کے قرضے من جمیع ما بقی من مال من مالہ اس سارے مال میں سے اس کا جو باقی بچ گیا ہے، اس کا جو سارا مال باقی بچ گیا ہے، تجہیز و تکفین کے بعد اس میں سے کیا ادا کیے جائیں گے؟ قرضے ادا کیے جائیں گے۔
تو وارثوں میں اپ فورا مال تقسیم نہ کرنا شروع کر دیں بلکہ کفن دفن سے فارغ ہونے کے بعد اس کے قرضوں کے بارے میں معلوم کیا جائے گا اور ان قرضوں کو ادا کیا جائے گا، چاہے سارا مال ہی اس کے اندر کیوں نہ ختم ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو قرضے مقدم ہیں بھئی، قرضے مقدم ہیں۔
آج کل کسی کا انتقال ہوتا ہے، اس کے گھر والے صدقہ و خیرات تو اس کے لیے خوب کرتے ہیں، لیکن قرضوں کے بارے میں جاننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔ حالانکہ قرضوں کی ادائیگی نہایت ضروری ہے بھئی، نہایت ضروری ہے۔
समझ में आया؟ कुछ جہاد کے اندر شہید ہی کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی اس کے قرضے معاف نہیں بھئی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر کوئی قرض ہوتا تھا تو اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھاتے تھے۔ صحابہ سے فرماتے تم پڑھ لو، تو اسے اپنے نماز سے بھی محروم فرما دیتے۔
تو لہذا اولین فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ آپ کے ذمے کسی ان جب آپ کا انتقال ہو تو کسی انسان کا آپ کے ذمے کوئی مالی حق وغیرہ کم از کم باقی نہ ہو بھئی، ان کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔ اور گناہوں کو شاید اللہ اپنے فضل سے معاف فرما دیں، لیکن ان کی معافی جب تک صاحبِ حق معاف نہیں کرے گا یہ معاف نہیں ہوں گے۔
اچھا، پھر ان قرضوں کے بارے میں تفصیل یاد رکھیے۔
کہ دین ایک جو ہے دو قسم پر: ایک وہ جو حق اللہ ہے، اللہ کا حق اور ایک ہے حق العبد بھئی۔
اللہ کا حق بھئی، مثلاً میت کے ذمے زکوٰۃ باقی تھی بھئی، کچھ زکوٰۃ اس نے ابھی ادا نہیں کی تھی۔
یا اسی طرح روزوں کے فدیے وغیرہ اس کے ذمے باقی تھے، تو یہ حق اللہ ہے بھئی، حق اللہ۔ اور اس کے بارے میں یاد رکھیے کہ یہ وارثوں پر ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔ وارثوں پر ان کی ادائیگی ضروری نہیں، الا یہ کہ میت نے وصیت کی ہو کہ میرے ذمے اتنی زکوٰۃ باقی ہے وہ ادا کر دینا یا میرے ذمے اتنے روزے باقی ہیں ان کا فدیہ ادا کر دینا۔
تو اگر وصیت کی ہے، پھر تو ان کو ادا کرنا ضروری ہے وارثوں پر، لیکن پھر بھی ساروں کی ادائیگی ضروری نہیں، بلکہ اس کا حکم وصیت والا ہے اور وصیت ثلث مال میں دین کی ادائیگی کرنے کے بعد جو مال بچ جاتا ہے اس کا تیسرا حصہ۔
تو وصیت صرف اس ما بقی مال کے تیسرے حصے میں نافذ ہوتی ہے، الا یہ کہ وارث اجازت دے دیں۔
اگر وارثوں نے اجازت دے دی تھی تو چاہے سارے مال کو لگا دیں وصیت کے اندر، لیکن وارثوں کی اجازت کے بغیر وصیت کم از زیادہ سے زیادہ کتنے میں نافذ ہوگی؟ صرف ثلث میں۔ تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا ہے اس کے تیسرے حصے کے اندر بھئی۔
تو یہ جو حق اللہ ہے یعنی یہ زکوٰۃ اس کے ذمے باقی ہے یا روزوں کے فدیے ہیں، یا اس پر حج اس پر واجب ہوا تھا لیکن وہ حج کو نہیں گیا تھا، اس نے اب وصیت کر دی کہ میری طرف سے کیا کر دینا؟ حج۔ تو بغیر وصیت کے وارث پر کچھ بھی لازم نہیں۔
جو حق اللہ اس کے ذمے باقی ہے، وارث پر وہ لازم، ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔
ہاں، کر دے اپنی طرف سے تو اچھی بات ہے، ادا کر دے وارث، لیکن اگر اس نے وصیت نہیں کی تو وارث پر لازم نہیں۔ اگر اس نے وصیت کی ہے تو پھر کتنے کے اندر کیا جائے گا نافذ؟ ثلث کے اندر۔ بھئی ثلث جو باقی بچ گیا ہے۔
تو یہ تھا حق اللہ بھئی اور ایک ہے حق العبد بندے کا حق۔ لوگوں کے اس نے پیسے دینے ہیں قرضے بھئی۔
تو اس میں تفصیل یاد رکھیے کہ یہ جو دین العبد ہے، یہ دو قسم پر ہے۔ ایک دینِ صحت اور ایک دینِ مرض بھئی۔
ایک دینِ صحت ہے اور ایک دینِ مرض۔
بھئی صحت جب انسان تندرست ہے تو اسے اپنے مال کے اندر پورا پورا اختیار ہے۔ جہاں خرچ کرنا چاہتا ہے، جیسے خرچ کرنا چاہتا ہے، چاہے سارا مال کسی کو دینا چاہتا ہے، کوئی اس کو نہیں پوچھ سکتا۔
لیکن جب موت کا وقت قریب آیا، انسان ایسے مرض میں گرفتار ہوا کہ اب سب کو پتہ چل گیا کہ اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں، تو یہ مرض الموت کہلاتا ہے بھئی۔ مرض الموت کہلاتا ہے۔
اور مرض الموت کے اندر اب وارثوں کا حق بھی مال کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ وارثوں کا حق بھی مال سے متعلق ہو گیا۔
تو اب ان کی بھی رعایت رکھنا پڑے گی بھئی، اب وہ سارا مال کسی کو دینا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، اب اجازت نہیں۔ اب موت قریب آ چکی، اب وارثوں کا بھی اس مال کے ساتھ حق متعلق ہو گیا۔
صحت میں سارا مال جس کو مرضی دے دے، کوئی نہیں پوچھ سکتا، اور مرض الموت میں سارا مال کسی کو نہیں دے سکتا بھئی، اب وارثوں کا بھی حق آ گیا۔
تو وارثوں کا حق کب متعلق ہوگا؟ مرض الموت میں۔ اور مرض الموت کسے کہیں گے؟ ہاں۔
بھئی ایک لمبی بیماری ایک انسان کو لگی، ایک سال تک رہی ایک سال تک اور اسی میں اس کا انتقال ہوا، تو کیا اس سارے کو مرض الموت کہیں گے؟
نہیں، اس سارے کو مرض الموت نہیں کہیں گے۔ بھئی بیماری میں کچھ نہ کچھ انسان چلتا پھرتا، اٹھتا بیٹھتا، تھوڑا بہت کام کرتا ہے، لیکن آخری دنوں میں جب اس کی حالت بگڑ گئی، وہ بستر سے لگ گیا، اب پتہ چل گیا، تو یہ آخری وہ ایام جن میں بیماری شدید ہو گئی، یہ مرض الموت شمار ہوگا، باقی مرض الموت شمار نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ باقی مرض الموت شمار نہیں۔
مرض الموت کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا بھئی، جب اس شخص کا انتقال ہو جائے، کوئی شخص شدید بیمار ہوا، چارپائی سے لگ گیا، بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو یہ مرض الموت ہے، لیکن ایسے قطعی طور پر ابھی طے نہیں۔ اگر اس میں انتقال ہو گیا تو پھر ہم کیا کہیں گے اس کو؟ یہ مرض الموت موت تھا مرض الموت تھا اور اس کے اندر جو اس نے اقرار کیا وہ دینِ مرض ہے بھئی۔
اور اگر شدید بیمار ہوا، ہل بھی نہیں سکتا اور اس میں اس نے اقرار کر لیا اور پھر ٹھیک ہو گیا اس مرض سے، تو اب یہ جو اقرار تھا وہ دینِ صحت میں سے ہے کیونکہ یہ مرض الموت تھا ہی نہیں، اس میں تو اس کا انتقال ہی نہیں ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مرض الموت کا پتہ مرنے کے بعد ہی چلے گا بھئی، چاہے کوئی کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو جائے اور پھر تندرست ہو جائے تو وہ مرض الموت نہیں ہے بھئی۔
تو اب بات چل رہی ہے قرضوں کی بھئی۔
بات چل رہی ہے قرضوں کی۔ یاد رکھیے۔
جو دینِ صحت ہے یعنی صحت کی حالت میں جن قرضوں کا وہ اقرار کر لے یا ان قرضوں پر کوئی گواہ موجود ہیں،
یا اور لوگوں کو معلوم ہیں
یہ ہے دینِ صحت بھئی۔
وہ قرضے جن پر کیا موجود ہیں؟ گواہ موجود ہیں یا لوگوں کو علم ہے،
یا صحت کی حالت میں وہ کسی کے لیے اقرار کرتا ہے، گواہ تو کوئی نہیں، لیکن اس نے اقرار کیا کہ میں نے زید کا مثلاً ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔
تو یہ دینِ صحت ہے مانانا۔
اور یہ مقدم ہیں دینِ مرض پر بھئی۔
یہ مقدم ہیں کس پر؟ دینِ مرض پر مقدم ہیں۔
اور ایک وہ قرضے جن کا اقرار وہ مرض الموت میں کرتا ہے،
مرض الموت میں کہتا ہے، مثلاً میں نے زید کے لیے
میں نے زید کے ایک لاکھ روپے دینے ہیں۔
کوئی گواہ نہیں، کسی کو علم نہیں، لیکن اس نے کیا کیا؟ اقرار کیا۔
تو یہ روپے اس پر لازم ہو گئے بھئی، لیکن یہ اقرار اس نے کس حالت میں کیا؟ مرض الموت میں، لہذا اقرارِ صحت اور دینِ صحت سے اس کا درجہ کم ہوگا، تو پہلے دینِ صحت وغیرہ جو ہیں، ان کو ادا کیا جائے گا اور پھر اگر مال بچ جاتا ہے، تو پھر ان قرضوں کو ادا کریں گے۔
وصیت کی طرف ابھی بھی نہیں جانا بھئی، ابھی دین میں ہی ہم چل رہے ہیں، تجہیز و تکفین کر دی، اس کے بعد کیا کر رہے ہیں؟ قرضے ادا کر رہے ہیں، تو سب سے پہلے کون سے قرضے ادا کریں گے؟ دینِ صحت۔ دینِ صحت کون سے ہیں جن کو جن پر کوئی گواہ وغیرہ موجود ہیں یا اس نے صحت کی حالت میں ان کا اقرار کیا اور مرض کی حالت میں جن کا اس نے اقرار کیا وہ دینِ مرض۔ تو دینِ صحت کی ادائیگی کے بعد مال بچ جاتا ہے، تو اب اس کی ادائیگی کریں گے؟ دینِ مرض کی، وصیت یعنی تیسری چیز کی طرف ابھی بھی ہم نے نہیں جانا بھئی۔
ہاں, مرض الموت میں
اس نے مال کا اقرار کیا
اور اس پر گواہ بھی موجود تھے،
گواہوں نے بھی کہا ہاں، ہمیں بھی پتہ ہے اس دین کے بارے میں پہلے سے بھئی، پہلے سے اس پر گواہ بھی موجود
موجود ہیں۔ تو یاد رکھو، یہ دینِ مرض نہیں، یہ دینِ صحت ہے بھئی، جس پر گواہ موجود ہیں بھئی۔ جو دینِ صحت میں شمار ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور وارث کے لیے اقرار کرتا ہے، وہ لغو ہے باطل ہے مولانا۔ ایک شخص نے اس کا وارث بننا ہے، اسے وراثت میں سے حصہ ملے گا۔ بقا اگر مال ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس کو بھی باقاعدہ حصہ ملتا۔ مال ہے تو اسے ملے گا۔ اگر مال تھوڑا ہے، تو وہ تو قرضوں میں ختم ہو جائے گا، لیکن اگر زیادہ ہوتا تو وہ وارث بنتا اور اس کو باقاعدہ حصہ ملता۔ اس قسم کے وارث کے لیے اگر اقرار کر لیتا ہے، تو یہ اقرار باطل ہے مولانا، درست نہیں۔ شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ہاں! اگر اس پر گواہ موجود ہیں، اس نے کہا: "مثلاً اس کا وارث زید ہے اور اس نے کہا میں نے زید کو ایک لاکھ روپیہ دینا ہے،" اور اس پر گواہ بھی تین چار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہاں! ہمیں علم ہے بھئی۔ ہمارے سامنے یہ بات ہوئی تھی، اس نے زید سے ایک لاکھ روپیہ لیا تھا، تو گواہ موجود ہیں،" تو اس کا حکم وہ دینِ صحت والا ہے بھئی۔ یہ پہلی قسم میں داخل ہو جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو سب سے پہلے کون سے دیون ادا کریں گے؟ دینِ صحت۔ اور اس کے بعد دینِ مرض کی ادائیگی ہوگی۔ جی۔ اس کے بعد پھر ہم وصیت کی طرف جائیں گے، اور پھر چوتھے نمبر پر اگر مال بچتا ہے، تو وارثوں میں تقسیم ہوگا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دینِ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ قرضے سے اپنے آپ کو جس قدر بچا لے، بچائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قرض اور عموماً आजकल اس میں بے انتہا غفلت ہے بھئی۔ قرض کی ادائیگی کی کوئی فکر ہی نہیں کرتا۔ قرض لے لیتا ہے جیسے بھئی مفت کا مال مل گیا اور اسے اڑا دیا اور پھر ادائیگی کی فکر بھی نہیں ہوتی۔ ایک تو یہ ہے کہ ادائیگی کی فکر ہو تو اللہ اسباب نصیب فرما دیتے ہیں۔ ادائیگی کی فکر ہی نہیں ہوتی۔ دوسرا شخص وہ مجبور ہے، وہ بار بار آتا ہے، لیکن یہ اس کو اس کے پیسے ہونے کے باوجود مال ہونے کے باوجود اسے ادائیگی نہیں کرتا بھئی۔
اور دینِ اللہ کا جو دین ہے، حق اللہ جو ہے، اس کا میں نے بتلایا اس کا حکم اگر وصیت کی ہے تو وارثوں پر ضروری، لیکن کتنے مال میں سے؟ ثلث میں سے۔ اور اگر وصیت نہیں کی، تو وارثوں پر لازم بھی نہیں بھئی، وہ اس کا معاملہ آخرت میں ہوگا۔ اور ہاں وارث اگر بغیر وصیت کی اپنی طرف سے دے دیتے ہیں اور ان کو دے دینا چاہیے، تو اس سے میت کی تکلیف میں کمی ا جائے گی یا ختم ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "ثم تُقضى ديونه"۔ پھر اس کے قرضے جو ہیں، وہ ادا کیے جائیں گے "من جميع ما بقي من ماله" اس سارے میں سے جو باقی بچ گیا ہے، اس کے مال میں سے۔ "ثم تنفذ وصايا" پھر نافذ کیا جائے گا اس میت کی وصیتوں کو "من ثلث ما بقي بعد الدين" ثلث تہائی میں سے وہ جو باز تیسرے حصے میں سے وہ جو باقی بچ گیا ہے دین کے بعد، دین کی ادائیگی کے بعد جو مال باقی بچ گیا ہے، اس کے تیسرے حصے میں سے وصیت نافذ ہوگی بھئی۔ یہ اس وقت ہے، یہ عام حالت میں ہے تیسرے حصے میں جو مال بچا ہے اس کے تیسرے حصے میں، لیکن اگر وارث اجازت دے دیں، تو پھر پورے مال میں بھی کیا کر سکتے ہیں وصیت کو؟ تو یہاں مانع دراصل کیا ہے؟ وہ وارث ہیں کہ ان کا حق چونکہ ضائع ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے پابندی لگا دی کہ تیسرے حصے سے زیادہ وصیت نہ کرے، لیکن اگر وارث راضی ہیں، تو مانع ختم ہوا۔ لہذا اب کر سکتے ہیں بھئی وہ نافذ کر سکتے ہیں۔
اور جس شخص کا کوئی وارث نہیں ہے بھئی کوئی وارث وغیرہ نہیں ہے، تو اس کے لیے پھر سارے مال کی وصیت بھی وہ کر سکتا ہے بھئی۔
اور وصیت کی مثلاً یہ زید کو میرے مرنے کے بعد میرے مال میں سے ایک لاکھ دے دینا یا فلاں مدرسے میں ایک لاکھ دے دینا، تو یہ وصیت ہے۔ اور وصیت سے انسان زندگی میں رجوع بھی کر سکتا ہے۔ جب چاہے کیا کر سکتا ہے؟ اپنی وصیت سے رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے صراحتاً رجوع ہونا ضروری ہے یا کوئی ایسا عمل کر دے جس سے رجوع کا پتہ چلے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف نفس انکار سے رجوع نہیں ہوگا۔ کسی نے کہا: "اپنے یہ وصیت کی ہے،" اس نے کہا: "نہیں میں نے ایسی وصیت نہیں کی۔" تو انکار کر رہا ہے، تو یہ رجوع نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہاں خود کہہ دے: "میں نے یہ وصیت جو کی تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں، اس کو فسخ کرتا ہوں، منسوخ کرتا ہوں،" تو یا آپ نے کسی عمل کے ذریعے مثلاً کہا تھا یہ زمین مدرسے کو دے دی جائے میرے انتقال کے بعد، لیکن پھر خود ہی اپنی زندگی میں اس میں اپنا گھر وغیرہ تعمیر کر لیا، تو یہ بھی کیا ہے؟ عمل کے ذریعے اس نے بتلا دیا کہ اس نے وصیت سے کیا کر لیا ہے؟ رجوع کر لیا ہے بھئی، رجوع کر لیا ہے۔
اچھا، یاد رکھیے! ابتداِ اسلام میں وصیت فرض تھی کہ مرنے والا وصیت کرے اپنے مال کے بارے میں کہ اس کے وارثوں میں کس طرح اسے تقسیم کیا جائے بھئی، یہ ابتداِ اسلام میں فرض تھی، لیکن پھر یہ حکم منسوخ ہوا اور اللہ نے خود وارثوں کے حصے مقرر فرما دیے، تو اب لہذا اب وارثوں کے لیے کہ فلاں کو اتنا مال دیا جائے اس طرح کی وصیت کرنا درست نہیں اور نہ شرعاً اس کا کوئی اعتبار ہے بھئی، نہ شرعاً۔ کیونکہ اب اللہ نے حصے خود مقرر فرما دیے ہیں بھئی۔
اور میں نے بتایا، اور کہ یاد رکھیں! وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے بھئی۔ ایک شخص جو کہ وارث بن رہا ہے، اس کے لیے وصیت جائز نہیں بھئی، اس کا تو حصہ پہلے ہی مقرر ہے، اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اس کو وہ حصہ ملے گا، پھر اپنی طرف سے کیا کرنا؟ وصیت کرنا کہ اسے اور بھی مال مل جائے، یہ جائز نہیں۔ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔ ہاں! میں نے بتایا، اگر کسی شخص کا کوئی وارث نہ ہو اور اسی طرح اس پر کوئی قرض وغیرہ بھی نہ ہو، تو وہ کیا کر سکتا ہے اپنے سارے مال کی وصیت کر سکتا ہے بھئی۔
لہذا تقسیمِ ترکہ کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ تقسیمِ ترکہ کے لیے جب اللہ نے حصے مقرر کر دیے، تو اپنی طرف سے کیا کرتا ہے؟ وصیتیں کرتا ہے، یہ درست نہیں بھئی۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ بھئی ہم نے تو سنا ہے، علماء نے ہمیں بتلایا، اساتذہ نے بتلایا کہ وصیت کرنی چاہیے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ کسی مسلمان پر دو راتیں بھی ایسی نہیں گزرنی چاہیے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو، لکھی ہوئی نہ ہو۔ کہ جواب یہ: وہ تقسیمِ ترکہ کی وصیت مراد نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ تقسیمِ ترکہ کی وصیت مراد نہیں ہے۔ وہ وصیت اور امور کے اندر ہے، اور وہ کبھی واجب ہوتی ہے، اور کبھی مکروہ حرام وغیرہ بھئی۔ واجب وہ وصیت! مثلاً کسی کا آپ نے حق دینا ہے، کسی کی امانت آپ کے پاس پڑی ہے، یا کسی کا آپ نے قرض دینا ہے اور کوئی گواہ وغیرہ اس شخص کے پاس نہیں ہے، تو اگر آپ کا انتقال ہو جائے، تو اس بیچارے کی حق تلفی ہوگی۔ وارث مانیں گے ہی نہیں کوئی ثبوت ہی نہیں ہے، کوئی گواہ ہی نہیں ہے، تو لہذا اس صورت میں اگر کسی کے حق تلفی ہونے کا خدشہ ہے، اس کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے، تو اس صورت میں وصیت کرنا واجب ہے، لکھ کر رکھ لے انسان کہ میں نے فلاں کے اتنے پیسے دینے ہیں یا فلاں کے اتنے پیسے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وصیت واجب ہے اور بعض اوقات وصیت اسی طرح یہ وصیت مستحب ہے کہ انسان وصیت کرے کہ میرے انتقال کے بعد مجھے مسنون طریقے سے کفن دیا جائے اور غیر شرعی امور سے اجتناب کیا جائے، رونے پیٹنے سے اجتناب کیا جائے اور غیر شرعی رسموں سے کو اختیار نہ کیا جائے، تو یہ مستحب ہے بھئی۔
اور کبھی وصیت مکروہ اور حرام ہوتی ہے۔ مکروہ اور حرام وہ وصیت ہے جس میں خلافِ سنت کام کی وصیت کرتا ہے یا خلافِ شریعت کام کی وصیت کرتا ہے، خلافِ سنت یا خلافِ شریعت کام کی وصیت کرتا ہے کوئی، تو یہ وصیت مولانا مکروہ ہے۔ حرام کام کی کر رہا ہے تو یہ وصیت حرام ہے بھئی، حرام ہے۔
اچھا بھئی، اب کتاب پر دیکھیے! "ثم تُقضى ديونه" پھر نافذ کی جائیں گی اس میت کی وصیتیں "من ثلث ما بقي بعد الدين"۔ ما بقي کے ثلث میں، دین کی ادائیگی کے بعد، "ثم يقسَم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة" پھر تقسیم کیا جائے گا باقی کا مال اس کے ان وارثوں کے درمیان جو ثابت ہیں کتاب اللہ کے ذریعے اور سنت کے ذریعے اور اجماعِ اور اجماعِ امت کے ذریعے جو وارث ثابت ہیں، تو ان کے درمیان پھر باقی مال کو تقسیم کیا جائے گا۔ جی۔ تو خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ ترکے میں سے تجہیز و تکفین کریں گے، اور پھر اس کے بعد اس کے ذمہ اگر کوئی قرضے ہیں، تو وہ قرضے ادا کیے جائیں گے، اور اگر پھر مال بچ جاتا ہے، تو وہ باقی مال جو بچا ہے، اس کے ثلث میں اس کی وصیتیں نافذ کی جائیں گی اگر اس نے کی ہیں، اور پھر سب سے آخر میں جو مال بچے گا وہ اس کے وارثوں کے اندر تقسیم ہوگا اسی طریقے پر جیسے کہ بیان کیا، جیسے کہ قرآن میں، احادیث میں اور اجماعِ امت سے جیسے ثابت ہے۔ چلیے! بس بھئی، ہذا اول مرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔