وإن كانت في التركة كسور فابسط التركة والمسألة كلتيهما أي اجعلهما من جنس الكسر ثم قدم فيهما رسمنه. فصل في التخارج. من صالح على شيء من التركة فطرح سهامه من التصحيح ثم اقسم ما بقي من التركة على سهام الباقين كزوج وأم وعم فصالح الزوج على ما في ذمته من المهر وخرج من البين.
فتقسم باقي التركة بين الأم والعم أثلاثا بقدر سهامهما سهمان للأم وسهم للعم. اچھا بھئی کل ہم کون سی مثال کر رہے تھے؟ مثال نمبر پچھتر۔ مثال نمبر پچھتر ہم کر رہے تھے جس میں وارث جو تھے وہ تین بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا تھا۔
اور پھر ہم نے مسئلہ بنایا تھا پانچ سے جس میں سے تین حصے بیٹیوں کے اور دو حصے بیٹے کے تھے۔ اور ترکہ جو تھا وہ سوا چھ دینار تھا سوا چھ دینار۔
جی پھر میں نے بتایا کہ پہلے ہم فریقوں کے حصے نکال لیتے ہیں تو وہ اسی کے نیچے درج کر دیں گے لہذا یہیں پر مسئلے کے نیچے کچھ جگہ خالی چھوڑ دیں اور اس کے نیچے کیا لکھا تھا تصحیح ترکہ؟ تصحیح ترکہ یعنی کسر کو ہم نے ختم کرنا ہے تو ترکہ ہے چھ صحیح ایک بٹا چار یعنی سوا چھ۔
تو نیچے کیا ہے چار۔ اس چار سے اس کو ضرب دیں گے تو چھ صحیح ایک بٹا چار ضرب چار۔ پھر چھ صحیح ایک بٹا چار کو ہم نے کیا کیا؟ اس کو صرف بٹا کی طرف لے گئے چھ کو چار سے ضرب دی نیچے والے سے اور پھر اوپر والا ایک جمع کیا۔ تو چھ چوکے چوبیس اور ایک جمع کیا پچیس۔ پچیس بٹا چار ضرب چار۔
تو پھر چار چار سے کٹ گیا برابر ہے کتنے کے پچیس۔ یہ تصحیح ترکہ بھئی، پچیس۔ پھر جس کے ساتھ ہم نے ترکے کو ضرب دی تھی اسی کے ساتھ مسئلے کو بھی ضرب دیں گے۔ تو نیچے آپ نے لکھا تصحیح مسئلہ برابر ہے مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ پانچ سے اس کو بھی اسی چار سے ضرب دی پانچ ضرب چار برابر ہے بیس کے۔
اس کے بعد ہم نے ترکے اور مسئلے کے درمیان نسبت دیکھی۔ ترکہ ہو گیا پچیس، مسئلہ بن گیا بیس سے۔ بیس اور پچیس میں کون سی نسبت؟ توافق کی، دونوں پانچ سے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو بیس کو پانچ سے تقسیم کیا تو چار آیا۔ یہ مسئلے کا وفق آ گیا ہمارے پاس چار۔ اور ترکہ ہے پچیس اس کو بھی پانچ سے تقسیم کیا تو یہ ہمارے پاس پانچ جواب آیا۔
تو یہ پانچ جو ہے یہ ترکے کا وفق آ گیا ہمارے پاس۔ ترکے کا وفق پانچ اور مسئلے کا وفق چار۔ اس کے بعد ہم اب ہر فریق کا حصہ نکال رہے ہیں تین بیٹیوں کا یعنی اکٹھا حصہ نکالیں گے۔ جی تو نیچے کیا لکھا آپ نے؟ ترکے میں سے تین بیٹیوں کا حصہ برابر ہے کون سا ضابطہ لگے گا؟ فریق کے سہام ضرب وفق ترکہ بٹا وفق تصحیح بھئی۔
تو فریق کا حصہ ہے بیٹیوں کا ہے تین اور وفق ترکہ ہے پانچ۔ تین ضرب پانچ بٹا وفق تصحیح یعنی چار۔ تین ضرب پانچ بٹا چار۔ یہ برابر کتنے کے برابر ہوا؟ پندرہ بٹا چار کے بھئی پندرہ بٹا چار۔ پھر پندرہ کو چار سے تقسیم کیا تو کیا بن گیا آگے؟ تین صحیح تین بٹا چار۔
یعنی کہ تین صحیح تین بٹا چار کا کیا مطلب ہے؟ پونے چار۔ پونے چار بھئی پونے چار۔ تو یہ پونے چار دینار ہیں بھئی یہ بیٹیوں کا حصہ۔ اس کے بعد نیچے لکھیے بھئی ترکے میں سے بیٹے کا حصہ۔ ترکے میں سے بیٹے کا حصہ۔
بیٹے کا حصہ کتنا ہے؟ دو۔ تو دو باقی اسی طرح ساتھ آئے گا دو ضرب پانچ بٹا چار۔ دو ضرب پانچ بٹا چار۔ یہ کتنے کے برابر ہوا؟ دس بٹا چار۔ جی یہ اب دونوں کسی سے تقسیم ہو جاتے ہیں بھئی؟ دو سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں دس بھی اور چار بھی تو چار کو دو سے تقسیم کیا جواب کیا آیا؟ دو۔
تو چار کو کاٹ کر دو لکھ لیں۔ دس کو بھی دو سے تقسیم کیجیے کیا جواب آیا؟ پانچ۔ تو دس کاٹ کر اس کے ساتھ چھوٹا سا پانچ لکھ لیجیے۔ جی تو یہ برابر کتنے کے ہوگیا؟ ہاں پہلے پانچ بٹا دو آگیا۔ کیا آگیا ہمارے پاس؟ پانچ بٹا دو۔ اب اوپر بڑا عدد ہے تو ہم صحیح کی صورت میں بھی لکھ سکتے ہیں تو لکھیے تقسیم کیجیے پانچ کو دو سے کیا جواب آیا؟ دو صحیح ایک بٹا دو۔
دو صحیح ایک بٹا دو۔ دو صحیح ایک بٹا دو۔ اچھا۔ اب پڑتال کریں گے آگے لیکن اگر یہیں زبان دیکھ لیں ہو سکتا ہے یہیں پر آسانی سے حل ہو جائے بھئی۔ بھئی بیٹیوں کا حصہ کتنا؟ پونے چار۔ اور بیٹے کا حصہ کتنا؟ دو صحیح ایک بٹا دو کا کیا مطلب؟ ڈھائی۔
تو پونے چار اور ڈھائی۔ پونے چار میں پہلے تو یہ ڈھائی کا آدھا ملائیں کتنا بن گیا؟ سوا چار۔ پونے چار میں آدھا ملایا تو کتنا ہوا؟ سوا چار۔ اب اس میں وہ دو بھی جمع کر دیں کتنا ہوگیا؟ سوا چھ۔ دیکھو یہی سوا چھ ہی ترکہ تھا ہم معلوم ہوا ہمارا مسئلہ صحیح ہے بھئی پڑتال الگ اب کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
اچھا۔ تو لہذا اب یہ اوپر ان کے نیچے ان کے حصے لکھ دیجیے بھئی۔ بیٹیوں کے سہام ہیں تین اس کے نیچے لکھیے تین صحیح تین بٹا چار دینار۔ تین صحیح تین بٹا چار دینار۔
بیٹے کے حصے ہیں دو۔ اور ترکے میں سے کتنا حصہ آیا؟ دو صحیح ایک بٹا دو تو اس دو کے نیچے دو صحیح ایک بٹا دو دینار لکھ لیجیے بھئی دینار۔ اب اسی مسئلے میں ہم ہر ہر وارث کا حصہ بھی نکال لیتے ہیں بھئی ہر وارث کا حصہ۔
بھئی بیٹا تو ایک ہے اس کا تو حصہ وہی رہے گا۔ وہ ایک ہی ڈھائی کے ڈھائی دینار لے جائے گا۔ ہاں بیٹیوں کو ہم نے پونے چار دینار دیے ہیں بھئی۔ اب ایک ایک بیٹی کا کتنا ہوگا؟ اس کے لیے نیچے پھر لکھ لیجیے بھئی۔ ترکے میں سے ہر بیٹی کا حصہ۔
ترکے میں سے ہر بیٹی کا حصہ۔ برابر ہے ضابطہ کیا لگے گا؟ وارث کے سہام ضرب وفق ترکہ بٹا وفق تصحیح۔ پہلے فریق کے سہام تھے نا اب کیا آئے گا؟ وارث کے سہام۔ یعنی اس تو بیٹی کے ایک بیٹی کے کتنے اس میں تین بیٹی ہیں ان کے تین سہام ہیں۔ تو ایک بیٹی کے کتنے سہام ہوئے؟ ایک ہو گیا لازمی بات ہے۔
تو یہاں کیا لکھیں گے؟ ایک ضرب پانچ بٹا چار۔ یہ کتنے کے برابر ہوا؟ یہ برابر ہوا پانچ بٹا چار کے۔ اب پانچ کو چار سے تقسیم کریں کیا آئے گا آگے؟ ایک صحیح ایک بٹا چار۔ ایک صحیح ایک بٹا یہ ایک بیٹی کا حصہ نکل آیا ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔
ایک صحیح ایک بٹا چار دینار کا کیا معنی؟ سوا ایک۔ اچھا۔ تو اب تصحیح بھی دیکھ لیں۔ تینوں کا کتنا حصہ ہونا چاہیے؟ اوپر نکال چکے پونے چار۔ تو ذرا یہاں بھی دیکھ لیں ویسے زبانی جمع کر لیں سوا ایک اور سوا ایک کتنا ہو گیا؟ ڈھائی۔ پھر اس میں سوا ایک اور جمع کیا؟ پونے چار معلوم ہوا ہمارا مسئلہ صحیح ہے بھئی۔
جی اب ہر بیٹی کے نیچے اس کا حصہ لکھنا ہے تو دوبارہ اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ بیٹیاں اب الگ الگ ہم لکھیں گے۔ میت بنائیے۔
اس کے نیچے تینوں بیٹیاں الگ الگ لکھیں اور ایک بیٹا بنت۔ بنت۔ بنت اور ابن۔ تین بیٹیاں الگ الگ ہو گئیں بھئی۔ اچھا۔
مسئلہ ہم کس سے مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ پانچ وہ بھی اوپر لکھیے۔ کل ترکہ کتنا تھا؟ سوا چھ دینار وہ بھی بائیں طرف اوپر لکھیے بھئی۔ اچھا پانچ میں سے بیٹے کا حصہ کتنا تھا؟ پانچ مسئلہ جو بنا رہے تھے ہم۔ دو۔ دو سہام ہیں بیٹے کے اس کے نیچے دو لکھیے۔
اور تین سہام تھے اوپر تینوں بیٹیوں کے تو ایک بیٹی کا کتنا ہوگا؟ ایک تو ہر بیٹی کے نیچے ایک ایک ایک لکھ لیجیے۔ بھئی۔ یہ ان کے سہام۔ اب جو ہم حصہ نکالا وہ ان کے نیچے لکھیں گے۔ ایک بیٹی کا کتنا حصہ نکالا؟ ایک صحیح ایک بٹا چار۔ تو بیٹی کے نیچے جو ایک لکھا تھا اسی کے نیچے اب لکھ لیں ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔
ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔ دوسری کے نیچے بھی اسی طرح ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔ تیسری کے نیچے بھی ایک صحیح ایک بٹا چار دینار۔ اور بیٹے کے نیچے دو سہام ہیں اس کے نیچے حصہ لکھیں دو صحیح ایک بٹا دو دینار بھئی۔
تو دیکھو ہر بیٹی کو سوا دینار اور بیٹے کو دگنا یعنی ڈھائی دینار بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں اگیا اچھی طرح؟ کہ اگر ترکے کے اندر کسر ہو تو پہلے کسر کو ختم کریں گے اور کسر کو ختم کرنے کا کیا طریقہ کہ جو نیچے والا عدد ہے یعنی جو کسر ہے اسی کے ساتھ اس کو اس عدد کے ساتھ اس کو ضرب دیں گے اور پھر جو مسئلہ کی تصحیح کی ہے جس سے مسئلہ بنایا ہے آپ نے۔ تصحیح کرنے کے بعد آخر میں جو عدد ہے اوپر اس کو بھی اسی عدد سے کیا کریں گے؟ ضرب دیں گے جس سے آپ نے کل ترکے کو ضرب دی ہے۔
جی تو دیکھیے اب کتاب پر یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وإن كانت في التركة كسور اور اگر ترکے کے اندر کسریں ہوں فابسط التركة والمسألة كلتيهما تو پھیلا دیجیے یعنی بڑھا دیجیے۔ ترکے اور مسئلہ دونوں کو بھئی۔ دونوں کو کیا کر دیں؟ بڑھا دیں ہم نے بڑھایا یعنی بھئی ضربیں دیں تو بڑھ گیا بھئی۔
تو دونوں کو کیا کریں؟ بلکہ ان کو بڑھا دیں یعنی آئجعلہما من جنس الكسر یعنی کہ ان کو کسر کی جنس میں سے بنا دیں یعنی جس طرح اس کو جتنا بڑھایا ہے جس سے ضرب دی جس سے کسر ختم ہوئی اس میں بھی اس مسئلے کو بھی اسی سے ضرب دے کر تو دونوں کو ایک ہی جنس سے کر دیں گے یعنی ایک ہی اسی عدد سے دونوں کو ضرب دے دی۔ ثم قدم فيهما رسمنه پھر آگے کیجیے اس کے اندر ما وہ جو رسمنہ جو ہم نے لکھ دیا۔
یعنی باقی پھر اسی طرح ضابطہ لگا کر حصے نکال لیجیے۔ بھئی۔ پہلے کیا کیجیے کسرا کسر جو ہے جس ترکہ ہے اور تصحیح ان دونوں کو کیا کیا ہم نے؟ بڑھا دیا اور پھر باقی حساب اسی طرح ہوا جیسا کہ پہلے مسئلوں میں بیان ہوا تھا کہ ایک ایک وارث کا حصہ کس طرح نکالیں گے اور ایک ایک فریق کا کس طرح نکالیں گے۔
طریقہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی آگے دیکھیے بھئی۔ فصل في التخارج یہ فصل ہے تخارج کے بارے میں۔ تخارج یہ ہے بھئی۔ بعض اوقات کوئی وارثوں میں سے کوئی وارث کسی مال کی متعین مقدار لے کر اپنے حصے سے دستبردار ہو جاتا ہے بھئی۔
مثلاً چار بیٹے ہیں صرف وارث فرض کریں۔ اور ایک بیٹا کیا کہتا ہے؟ بھئی ترکے میں سے میرا کتنا حصہ بنے گا؟ وہ تو زیادہ ہی کچھ بنے گا۔ یوں کرو مجھے فلاں مکان مجھے دے دو باقی ترکہ تم آپس میں تقسیم کرتے رہو۔
تو دیکھو وہ ایک مکان لے کر کیا کیا اس نے اپنے حصے سے دستبردار ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آگ گئی؟ تو وارث کوئی معین چیز یا معین مقدار کا ایک ایک یا دو وارث کوئی معین چیز یا معین حصہ لے کر اپنے حصے سے دستبردار ہو جاتے ہیں کہ باقی مال تم آپس میں تقسیم کرتے رہو مجھے یہ دے دو بس۔
اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخارج کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تو اس صورت میں مسئلہ کیسے بنے گا؟ اگر کوئی وارث کچھ لے کر اپنے حصے کو چھوڑ دے۔ تو آسان صورت ہے بھئی۔
اولاً ہم اسی طرح مسئلہ بنائیں گے جیسے مسئلہ بناتے تھے یہ جو دستبردار ہونے والا وارث ہے اس کو بھی بیچ میں لکھیں گے۔ مسئلہ جب بن جائے گا پھر اس وارث کے نیچے ہم لکھ دیں گے کہ اس نے صلح کر لی ہے یہ الگ ہو گیا ہے۔
اور مسئلہ جو بنایا تھا ہم نے اس میں سے اس وارث کے جتنے سہام تھے وہ منقیٰ کر دیں گے نکال دیں گے۔ باقی مسئلہ اسی طرح رہے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ مثلاً چار بیٹے تھے تو مسئلہ کس سے بننا تھا؟ چار سے ہی مسئلہ بننا تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو چار سے ہی مسئلہ بننا تھا۔
اور چار میں سے ایک ہم نے اوپر مسئلہ بنا لیا چار سے۔ ایک بیٹا کیا ہوا ایک مکان لے کر اپنے حصے سے دستبردار ہو گیا تو اب ہر بیٹے کا چار میں سے کتنا حصہ تھا؟ ایک۔ تو یہ ایک نکل گیا تو چار اوپر جو تھا اس سے ایک ہم نے نکال دیں گے اور آگے تا لکھ کر تین لکھ دیں گے کہ تین سے مسئلہ بن گیا اور تین بیٹوں کو کل باقی جو جائیداد ہے اس کے تین حصے کرو اور ایک ایک بیٹے کو ایک ایک حصہ دے دو۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ جو آسان بہت آسان بات ہے جو دستبردار ہونے والا ہے اس کے سہام اوپر تصحیح میں سے کیا کر دیں گے؟ نکال دیں گے اور باقی مسئلہ اسی طرح رہے گا کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اس کے اندر۔ دیکھیے بھئی کتاب پر من صالح علی شيء من التركة جس نے صلح کر لی کسی چیز پر ترکے میں سے فطرہام من التصحيح تو گھٹا دیجیے اس کے حصے
میں سے طرح طرحو کا معنی ہے دور کرنا، حکم کرنا، یا منفی کرنا، ف طرح سہامہ من تصحیح تو نکال لیجئے اس کے حصے تصحیح میں سے یا کم کر دیجئے اس کے حصے تصحیح میں سے جو بھی ترجمہ اپ کرنا چاہیں۔ تصحیح میں سے اس کے حصے نکال لیجئے ثم اقسم ما بقیہ من الترکت علی سہام الباقین پھر تقسیم کیجیے وہ جو باقی ہے ترکے میں سے اس کو تقسیم کیجیے علی سہام الباقین باقیوں کے حصوں پر اس کو اسی طرح تقسیم کر دیجیے کزوج و ام و عم جیسے کہ خاوند ہو، ماں ہو اور چچا یہ وارث ہوں۔ فصالح الزوج علی علی ما فی ذمتہ من المہر تو صلح کر لی خاوند نے رحمکم اللہ۔ فصالح الزوج تو صلح کر لی خاوند نے علی ما فی ذمتہ من المہر اس پر وہ جو اس کے ذمے میں ہے مہر میں سے و خرج من البین اور بیچ میں سے نکل گیا۔ جی صورت بنائیے بھئی آگے، مثال نمبر چھتر بھئی۔ مثال نمبر چھتر اوپر تخارج لکھ لیجیے بھئی اوپر تخارج لکھ لیں نیچے مثال نمبر چھتر اسی طرح میت بنائیے اور یہ جو کتاب میں وارث ذکر ہوئے یہ لکھ دیں بھئی زوج أم اور عم زوج أم اور عم اچھا بھئی اولاد نہ ہو تو خاوند کو کتنا حصہ ملتا ہے؟ نصف اچھا اور ماں کو کتنا ملتا ہے؟ بھئی اولاد ہو تو ماں کو سدس ملتا ہے، بہن بھائیوں میں سے کوئی دو ہوں کوئی بھی دو ہوں تو بھی سدس ملتا ہے اور باپ مع احد الزوجین ہو تو ثلث ما بقی اور باقی صورتوں میں کتنا ملتا ہے؟ ثلث ملتا ہے ثلث تو ماں کا حصہ ہوا ثلث، خاوند کا حصہ نصف، ماں کا حصہ ثلث اور چچا تو عصبہ ہے تو ہمارے پاس ایک حصہ آیا نصف، دوسرا آیا ثلث نصف ہے نوع اول میں سے اور ثلث ہے نوع ثانی میں سے تو نصف جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ چھ سے، چھ سے مسئلہ بنائیے بھئی اوپر چھ لکھیے چھ میں سے نصف کتنا وہ خاوند کو دینا ہے؟ تین، تو زوج کے نیچے تین لکھیے چھ کا ثلث تیسرا حصہ کتنا؟ دو، تو ماں کے نیچے دو لکھ لیجیے خاوند کو تین حصے دیے، ماں کو دو حصے، تین اور دو پانچ چھ میں سے پانچ نکالے کتنے رہ گئے؟ ایک، یہ چچا کا حصہ ہے بھئی، چچا کے نیچے ایک لکھیے اچھا خاوند کے نیچے کیا لکھا؟ تین اب اس کے نیچے لکھ لیجیے چھوٹا سا صالح علی مہر صالح علی مہر اور یہ جو صالح علی مہر لکھا اس کو ڈبے میں بند کریں لیکن اوپر کی طرف سے کھلا رہے باقی تین طرف سے اس کے لکیر کھینچ دیں بھئی ڈبہ سا اس کے گرد بنا دیں بس اوپر والا منہ اس کا کھلا رہے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ آ گیا بھئی خاوند نے صلح کر لی مہر پر اب دیکھیے خاوند کے کتنے حصے تھے؟ تین تو چھ میں سے تین نکال دیں گے کتنا رہ گیا؟ تین، تو تین سے مسئلہ بنے گا اب دکھنا کیسے اوپر ذرا وضاحت ہو جائے بھئی چھ اوپر لکھا تھا آپ نے چھ سے تھوڑا سا فاصلہ کر کے چھوٹا سا تخارج لکھ لیجیے۔ تاکہ دیکھنے والے کو دیکھتے ہی پتہ چل جائے کہ کیا ہوا ہے بھئی۔ تخارج پھر اس سے تھوڑا سا آگے مسئلہ بھئی چھ میں سے خاوند کا حصہ کتنا تھا؟ تین، وہ نکل گئے کتنا رہ گیا؟ تین، تو آگے وہ تصحیح کی تا لکھ کر تین لکھ دیجیے اوپر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بس اب مسئلہ تین سے بنے گا بھئی کل مال کے تین حصے کر دیں گے جو باقی مال ہے اور اس میں سے دو ماں کو دے دیں گے اور ایک کس کو دے دیں گے؟ چچا کو دے دیں گے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر دوبارہ بھئی فصالح الزوج علی ما فی ذمتہ من المہر پس صلح کر لی خاوند نے وہ جو اس کے ذمے ہے مہر میں سے و خرج من البین اور بیچ میں سے نکل گیا فتکسیر بقی ترکت بین الأم والعم اثلاسا تو تقسیم کیا جائے گا باقی کا ترکہ ماں اور چچا کے درمیان اثلاسا کتنے حصے کر کے؟ کتنے سے مسئلہ ہم نے بنایا اب؟ تین سے تو تین حصے کر کے بقدر سہامہما ان حصوں کے بقدر سهمان للأم و سہم للعم دو حصے ماں کے اور ایک حصہ چچا کا اور ہم نے بھی یہی صورت بنائی بھئی، دو حصے ماں کے ہیں اور ایک حصہ چچا کا ہے۔ اور اور زوجۃ و اربعة بنینا یہ دوسری صورت آ گئی یہ اوپر اسی کا زوج و أم و عم وہاں اس پر عطف ہے بھئی۔ جی اگلی مثال لکھ لیجیے بھئی۔ مثال نمبر ستتر بھئی مثال نمبر ستتر میت بنائیے وارث لکھنے ہیں بھئی دیکھیے طریقے سے لکھنا یہ آگے آپ کو بتائیں گے ایک بیٹے نے صلح کر لی کسی چیز پر۔ بیٹے کتنے ہیں؟ ایک بیوی ہے اور چار بیٹے ہیں تو بیٹوں کو اب یہاں الگ الگ لکھنا بھئی۔ میت کے نیچے زوجہ لکھیں اور ابن چار مرتبہ الگ الگ لکھیں۔ ابن ابن ابن اور ابن چار الگ الگ لکھ لیجیے۔ اچھا اولاد موجود ہو تو زوجہ کو کتنا ملتا ہے؟ ثمون ملتا ہے آٹھواں حصہ اور بیٹوں کو وہ عصبہ ہیں تو بس ایک ہی حصہ آیا اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنا دیں ثمون کا ہم نام عدد کیا ہے؟ ثمانیہ یعنی آٹھ، آٹھ اوپر لکھیے آٹھ میں سے ایک حصہ یعنی آٹھواں وہ بیوی کو دینا ہے، ایک زوجہ کے نیچے لکھیے۔ اور بیٹوں کے نیچے لکیر کھینچ دیں چاروں کے نیچے ایک سیدھی لکیر اور اس کے نیچے سات لکھ دیں اس کا یعنی سات ان ساروں کا چاروں کا حصہ ہے۔ اچھا بھئی دیکھیے زوجہ تو ایک ہے اس کو ایک حصہ ملا یہاں تو کسر نہیں آ رہی لیکن بیٹے چار ہیں اور حصے کتنے ملے؟ سات یہاں کسر آ رہی ہے تو پہلے اب ہم اسی طرح کسر کو ختم کریں گے بھئی کسر کو ختم کریں گے اچھا عدد رؤوس کتنا؟ بیٹے کتنے ہیں؟ چار اور حصے کتنے ملے؟ سات، چار اور سات میں کون سی نسبت؟ تباین کی ہے تو بس یہی چار یہ اسی سے یہ عدد رؤوس ہے اسی سے ہم اصل مسئلہ کو ضرب دے دیں گے۔ اصل مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ آٹھ سے تو اس کو چار سے ضرب دی کیا آ گیا؟ آٹھ چوکے بتیس بھئی، تو آٹھ کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر بتیس لکھ لیجیے۔ بتیس لکھ لیجیے۔ نیچے اب ہر ایک کے حصے کو بھی چار سے ضرب دیں زوجہ کا ایک حصہ اس کو چار سے ضرب دی چار آ گیا تو ایک کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ بیٹوں کے نیچے اب ذرا ترتیب سے لکھنا بھئی۔ بھئی بیٹوں کا حصہ کتنا؟ سات، اس کو بھی چار سے ضرب دی کیا آیا؟ اٹھائیس اٹھائیس میں سے ہر ہر بیٹے کا کتنا ہوگا؟ تو چاہے اس سات کے نیچے پہلے اٹھائیس لکھ لیں یا ہر بیٹے کے نیچے کر کے ذرا ہر ایک کا حصہ لکھ دو، سات، سات، سات اور سات بھئی۔ ہر بیٹے کی سیدھی میں نیچے ہی اس کے لکھ دو سات، سات، سات اور سات بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بیوی کا کتنا حصہ؟ چار، اور ہر بیٹے کا کتنا حصہ؟ سات، مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب ایک بیٹا ہے جس نے صلح کی ہے تو پہلے جو بیٹا ہے اسی کے نیچے لکھ دیجیے مثلا صالح علی شئ صالح علی شئ سات کے نیچے لکھیں بھئی صالح علی شئ اور پھر اس کے نیچے اسی طرح وہ ڈبہ سا بنا لیجیے اوپر کی طرف سے بند نہیں کرنا تین طرف سے اس کی لکیر صالح علی شئ کے تین طرف کھینچ دیجیے بھئی دائیں، بائیں اور نیچے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا یہ ایک بیٹے نے صلح کر لی۔ جب یہ ایک بیچ میں سے نکل گیا تو مسئلہ ہم اس کا حصہ کتنا؟ سات وہ بیچ میں سے نکل گئے تو مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ بتیس، بتیس میں سے اب سات نکال دیں گے تو مسئلہ کس سے بن جائے گا؟ پچیس سے بس تو بتیس کے آگے پہلے چھوٹا سا لکھیں تخارج تخارج اور پھر اس کے آگے بتیس سے تھوڑا سا فاصلہ رکھنا ہے پتہ لگے یہ الگ بیچ میں وضاحت کے لیے ہم لکھ رہے ہیں پھر اس کے آگے تا پھر دوبارہ تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر پچیس لکھ لیجیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان سی صورت ہے جو درمیان سے نکلے بس اس کے حصے نکال دینا اور باقی اسی طرح مسئلہ رہے گا تو اب زوجہ کو چار حصے ملیں گے پچیس میں سے اور تین بیٹے ہیں ان کو سات سات مل جائیں گے، سات تیا اکیس، اکیس اور زوجہ کے چار کتنے ہو گئے پچیس، پچیس سے مسئلہ بن گیا بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر اور زوجۃ و اربعۃ بنینا یا زوجہ اور چار بیٹے ہوں فصالح احد البنین علی شئ پس صلح کر لی بیٹوں میں سے ایک نے کسی چیز پر و خرج من البین اور بیچ میں سے نکل گیا فتقسم باقیم ترکت علی خمس و عشرون سحما تو تقسیم کیا جائے گا باقی ترکہ پچیس سہام پر ہم نے بھی کتنے سے مسئلہ بنایا پچیس سے للمرأة اربعۃ اسمن عورت بیوی کے لیے جو ہیں چار سہم ہوں گے ہم نے بھی بیوی کے کتنے حصے نکالے چار ولکل ابن سبعت اور ہر بیٹے کے سات ہوں گے اور ہم نے بھی مسئلے میں ہر بیٹے کے سات حصے نکالے بھئی۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی زوجہ نے یا زوجہ نے جو صلح کی ہوتی ہے اس کی ماں کیر نہیں نہیں ترکے ہی میں سے نا ترکے میں وہ مکان بھی داخل تھا میںہی کی بات میںہی کی بات تھی نا بھئی ہاں مہر کی بات شاباش انہوں نے سوال کیا کہتے ہیں خاوند نے مہر پر صلح کی ہے جو اس کے ذمے تھا تو یہ ترکے سے الگ مال پر اس نے صلح کی نہیں بھئی یہ مال تقسیم ہو رہا ہے بیوی کا اور مہر جو ہے آپ جانتے ہیں خاوند کے ذمے بیوی کا قرض ہے اس کو دینا ہے تو وہ بیوی کا مال ہوا اور بیوی کا انتقال ہوا تو اس کا جتنا مال ہے وہ کیا بن جاتا ہے؟ ترکہ تو وہ مہر بھی کیا بن گیا؟ وہ ترکہ ہے بھئی وہ خاوند سے وصول کیا جائے گا اور پھر وارثوں کے اندر باقی مال کے ساتھ ملا کر ہر ایک کو اس کے حصے کے بقدر ان میں تقسیم کر دیا جائے گا بھئی صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی تو یہ جو مہر ہوتا ہے یہ بھی وہ بیوی کا پھر ترک اس کے ترکے میں داخل ہوتا ہے بھئی۔ اور دو زیادہ ہوگا جی مہر ترکے سے زیادہ ہوگا کس سے؟ ترکے سے مہر زیادہ ہوگا۔ بھئی باقی وارث جو ہیں صلح کر رہے ہیں اگر مہر زیادہ ہے ترکہ بڑا چھوٹا سا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور اس نے کچھ چھوڑا ہی نہیں بیوی کے پاس کچھ تھا ہی نہیں لیکن مہر اس کا ہے مثلا خاوند نے پانچ لاکھ روپے دینے ہیں مہر اتنا رکھا تھا تو بھئی پھر بات چل رہی ہے باقی وارث صلح کر رہے ہیں اس کے ساتھ۔ باقی وارث پھر ایسے کون صلح کرے گا؟ وہ تو خاوند کو نہیں اجازت دیں گے کہ تم یہ پانچ کے پانچ لاکھ تم رکھو یہ باقی ترکہ بیس ہزار ہم آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں نہیں نہیں وہ اس طرح صلح کریں گے ہی نہیں۔ صلح ہوتی عموما کم مال پر ہے بھئی باقی آرام سے مان جاتے ہیں کہ ہاں بھئی حصہ تو اس کا زیادہ بن جائے گا چلو یہ تھوڑی سی چیز ہے یہ بیچ میں سے نکل جائے گا بھئی۔ جس مال کی صلح کی ہے اس کو تو ہم نے مہر میں لے لیا جی اس کے جو حصے بچے اس کو تو ہم نے اس میں سے نہیں لیا نا کس کا؟ اس کو تو ہم نے تقسیم نہیں کیا کون سا مال؟ ایک بیٹے کو ساتھ ملا جی سات کے بدلے اس کو کوئی چیز ملی جی تو جو اس کے سات حصے اس کو تو ہمیں نہیں چڑھا وہ کہاں جائے گا؟ وہ ختم وہ ان کا حساب ہی نہیں نا اس کو ہم نے سات حصے کل مال میں سے دینے تھے لیکن وہ خود ہی اپنا حصہ اس نے حصہ چھوڑ دیا کہتا ہے بس یہ حصہ بھئی دیکھو جس بیٹے نے ایک مکان لیا اس مکان نے بھی سب میں تقسیم ہونا تھا یا نہیں ہونا تھا؟ سمجھ میں آیا؟ تو اس مکان میں سے جب یہ اس میں سے باقیوں کا حصہ ختم اور باقی ترکے میں سے بیٹے کا حصہ ختم بھئی صلح ہو گئی وہ مال لے لیا۔ ہم نے اس مکان سمیت ساروں کے بتیس حصے کرنے تھے اور پھر ان میں تقسیم کرنا تھا بھئی سمجھ میں آیا؟ وہ پھر چیزوں کو سیمتیں وغیرہ لگا کر حساب کیا جاتا ہے کہ اتنا حصہ ہر ایک کا بن رہا ہے تو وہ اپنا حصہ اس نے خود ہی چھوڑ دیا وہ مکان لے لیا الگ ہو گیا بھئی الگ ہو گیا اب باقی چیزوں میں اب اس کا حصہ نہ رہا وہ ان کو آپس میں خود تقسیم کر لیں گے جتنا ہر ایک کا حصہ بنتا ہے۔ ساری میت یہ دیون میں شامل نہیں ہو گا؟ جی؟ مہر دیون میں ہے نا دیون اسی کا مال ہے جس کا شخص کا آپ نے میرا قرض دینا ہے تو وہ میرا مال شمار ہوگا بھئی سمجھ میں آیا؟ تو وہ بیوی کا مال ہے اس کے ترکے میں شمار ہوگا مہر جو ہے اسی طرح اسی طرح یہ کوئی کسی کو خطا قتل کر دے تو دیت وصول کی جاتی ہے یہ دیت بھی جو ہے اس مرنے والے کے ترکے میں شمار ہوتی ہے اور یہ وارثوں میں پھر ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوتی ہے بھئی۔ استاد جی اس میں ترتیب سے پہلے دیون کی ادائیگی کی جاتی ہے اس کے بعد ترکہ تقسیم کیا جاتا ہے، ترتیب نہیں نہیں ترتیب نہیں ختم ہوگی وہ دیون جوں جوں وصول ہوتے جائیں گے ہر ایک کا برابر تقسیم کرتے جائیں گے بھئی آپس میں سمجھ میں آیا؟ دیون جوں جوں وصول ہوتے جائیں گے وہ پھر اسی حساب سے سارے آپس میں تقسیم کرتے چلے جائیں گے۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ھذا والامر اللہ اعلم بحقیقت الکلام