للجدة السدس، لأم كانت أو لأب، واحدة كانت أو أكثر، إذا كن ثابتات متحاذيات في الدرجة، ويسقطن كلهن بالأم والأبيات أيضا بالأب۔
جی، اج ہم جدہ کے احوال پڑھیں گے۔ جدہ کے احوال، بھئی۔
اس سلسلے میں کچھ باتیں یاد رکھیں۔ پھر اس کے بعد ہم عبارت کی طرف آئیں گے۔
جدہ کے اندر آپ نے پڑھا ہے کہ جدہ صحیحہ ہونی چاہیے، بھئی۔ جدہ کیا ہونی چاہیے؟ جدہ صحیحہ ہونی چاہیے، پھر سدس ملے گا، ورنہ نہیں۔ اور جدہ صحیحہ... تو جدہ فاسدہ نہ ہو۔
جدہ صحیحہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں جد فاسد کا واسطہ نہ ہو۔
یعنی نانا وغیرہ کا واسطہ نہ ہو۔ یعنی نانا، جسے ہم اردو میں کہتے ہیں، وہی نہیں مراد۔ یعنی اس میت اور اس کی اس جدہ کے درمیان کسی اور ماں اور اس کے باپ کا واسطہ نہ آئے، کسی بھی طرح سے۔
ماں اور اس کے باپ کا واسطہ... ماں، بھئی، کوئی بھی اوپر ہے، وہ ماں ہے نہ، بھئی؟ جدہ ہے، نانی، پرنانی وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب مائیں ہیں۔ تو اوپر کہیں بھی جا کر، مثلاً بھئی، ایک ساتویں پشت میں ایک جدہ ہے، صِرف سمجھانے کے لیے۔ اور درمیان میں... تو یہ ہے والد کی طرف سے۔ کس کی طرف سے؟ والد کی طرف سے۔
تو اب آپ کہیں، بھئی، درمیان میں نانا کا واسطہ نہیں آیا، تو یہ جدہ صحیحہ ہے؟ نہیں بھئی، والد کی طرف سے ہے یا والدہ کی طرف سے ہے، ساری آپ درمیان والی پشتوں کو دیکھیں۔ درمیان میں اگر کہیں اس جدہ اور میت کے درمیان کوئی عورت آ گئی، اور پھر اس عورت کے اوپر کس کا واسطہ آیا؟ عورت کے باپ کا واسطہ آیا، تو یہ کیا آ گیا درمیان میں؟ جدہ فاسدہ آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھو، یہ جدہ حالانکہ باپ کی طرف سے ہے، لیکن درمیان میں کیا آ گیا؟ ایک عورت کے والد کا واسطہ آ گیا۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سمجھ میں، بھئی؟
تو نانا بھی کیا تھا دراصل؟ ماں کا باپ تھا۔ تو عورت کا... عورت کے والد کا واسطہ تھا، لہٰذا نانا کی ماں، وہ وارثہ نہیں بن سکتی، جدہ فاسدہ۔ وہ کس میں چلی جائے گی؟ وہ ذوی الارحام میں چلی جائے گی، ذوی الفروض میں سے نہیں ہے، بھئی۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ درمیان میں کس کا واسطہ آ رہا ہے؟ جد فاسد کا، یعنی ایک عورت اور اس کے والد کا واسطہ بیچ میں آ رہا ہے۔ ماں جو ہے، ایک عورت ہے اور اس کا والد، جو میت کا نانا ہے، ان دو کا واسطہ بیچ میں آ رہا ہے، یعنی جد فاسد کا آ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو جس طرف بھی آپ چلے جائیں، جہاں بھی درمیان میں کوئی ایسی جدہ آ گئی جس سے اوپر اس کا والد بھی ہے، تو یہ کس کی طرح ہوا؟ نانا کی طرح۔ تو اس سے اوپر والی جو جدہ ہو گی، وہ کیا کہلائے گی؟ جدہ فاسدہ کہلائے گی، صحیحہ نہیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ میری کتاب میں تو ایک نقشہ بھی انہوں نے دیا ہوا ہے بڑا تفصیلی۔ آپ کی کتابوں میں ہے یا نہیں، بھئی؟ ہے؟ اچھا، اس کو ذرا دیکھ لیں ویسے، تاکہ جدہ صحیحہ اور فاسدہ کا فرق آپ کے لیے واضح ہو جائے، بھئی۔
بھئی، زید ہے سب سے نیچے۔ اس سے ایک جانب اوپر کی طرف ام ہے، زید کی ماں۔ ماں سے پھر اوپر ایک طرف باپ ہے، بھئی۔
اب اس باپ سے اوپر جو جدہ ہے، اس کے ساتھ کیا لکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا زید کی ماں، ام کی طرف چلے گئے۔ ام سے اب پھر ام کے اب کی طرف چلے جائیں، ام کا اب جو ہے۔ اس کی طرف چلے گئے؟ اس اب کے اوپر ایک اب جدہ لکھی ہوئی ہے، ایک جد ہے اور ایک جدہ۔ اس جدہ کے ساتھ کیا لکھا ہے؟ "ف"، کیونکہ درمیان میں کس کا واسطہ آیا؟ نانا کا واسطہ آ گیا۔
اچھا، اس ام سے آپ اب کی طرف گئے تھے؟ اب کی طرف نہ جائیں، ام کی طرف ہی چلے جائیں۔ اس کے ساتھ کیا لکھا ہے؟ جدہ صحیحہ۔ اس ام کی... ام کے اب کی طرف چلے جائیں، یہ جدہ صحیحہ کے اب کی طرف۔ اس اب کے اوپر جو ماں ہے، یعنی جدہ، اس کے ساتھ دیکھیے کیا لکھا ہوا ہے؟ "ف" لکھی ہوئی ہے، یہ بھی فاسد، کیونکہ درمیان میں ایک عورت کے والد کا واسطہ آ گیا۔
اب اسی طرح آپ، بھئی، زید کے اب کی طرف چلے جائیں، زید کے اب کی طرف۔ وہاں اب سے پھر اوپر اب کی طرف چلے جائیں، یہ جدہ صحیحہ ہے۔ اس اب سے کس طرف چلے جائیں؟ اس کے اب کی ام کی طرف، ماں کی طرف چلے گئے، بھئی۔ یہ بھی کیا ہے؟ جدہ صحیحہ۔
اچھا، اس ام کے باپ کی طرف چلے جائیں، باپ کی طرف، یہ جد فاسد ہے، کیونکہ درمیان میں کیا آ گئی؟ ماں ایک آ گئی، جدہ آ گئی۔ اب دیکھیے، اس جد فاسد کی ماں اوپر دی ہوئی ہے۔ اس کا کیا لکھا ہے؟ جدہ ہے، کون سی ہے؟ فاسدہ۔ کیوں فاسدہ ہے، حالانکہ یہ تو اب کی طرف سے آئے ہیں ہم، لیکن درمیان میں کیا آیا؟ ایک عورت، یعنی ایک ماں کے والد کا واسطہ آیا۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا پہلی شرط، پہلی بات جو ہے اس کے اندر، ضروری ہے کہ جدہ کون سی ہونی چاہیے؟ صحیحہ ہونی چاہیے، بھئی۔
دوسری بات یاد رکھیے، کہ اگر دو تین جدات آ جائیں اکٹھی، تو پھر ان کا ایک دوسرے کے برابر ہونا ضروری ہے، بھئی۔ ایک چوتھی پشت میں ہے، تو دوسری کو بھی کس میں ہونا چاہیے؟ چوتھی۔ دو تین جدات مختلف جہت سے اکٹھی ہو گئیں اور کوئی بھی نہیں ہے، مثلاً ان کا حصہ بن رہا ہے، تو ان سب کو سدس دیں گے۔ ان سب میں تقسیم ہو گا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ساری کیا ہونی چاہئیں؟ برابر درجے کی ہونی چاہئیں، یعنی میت کے اور ان کے درمیان برابر واسطے ہونے چاہئیں۔ ایک کے میت سے تین واسطے ہیں، دوسری کے چار واسطے ہیں، تو پھر تین والی کو دیں گے، چار والی دور چلی گئی، اسے نہیں دیں گے، بھئی۔ اور اگر دونوں طرف سے تین تین واسطے ہیں، تو پھر دونوں کو کیا کریں گے؟ دے دیں گے، دونوں میں سدس تقسیم کر لیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ آگے خود تفصیل آ جائے گی، بھئی۔ یہ لکھتے جائیے بس۔
پہلی شرط کہ جدہ کیا ہونی چاہیے؟ صحیحہ۔ دوسری بات کیا لکھی کہ یہ سب آپس میں کیا ہونی چاہئیں؟ برابر ہونی چاہئیں۔
تیسری بات، بھئی۔ یاد رکھیے، واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوتا ہے۔ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ، یعنی واسطے والا، وہ محروم ہوتا ہے۔ یہ قانون آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں، کہ جب واسطہ ہو، تو ذو الواسطہ کو کچھ نہیں ملے گا۔ مثلاً بیٹے کے ساتھ پوتا آ جائے، تو بیٹا ہے واسطہ اور پوتا ہے ذو الواسطہ۔ تو بیٹے کو ملے گا، پوتے کو کچھ نہیں ملے گا، ذو الواسطہ محروم ہو گا۔ اور اسی طرح باپ اور دادا دونوں ہوں، تو باپ جب واسطہ موجود ہے، تو دادا کو کچھ نہیں ملے گا، بھئی۔ تو یہ ضابطہ ہے، قانون ہے کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوتا ہے۔ ہاں، اولاد ام، یعنی اخیافی بھئی بہن، اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے ساتھ رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ اخیافی بھئی بہنوں سے رشتہ ماں کے واسطے سے ہے، تو ان کو ماں کے ہوتے ہوئے پھر بھی وہ وارث بنیں گے، بھئی۔ اب یہاں واسطہ ہے بیچ میں، لیکن پھر بھی ذو الواسطہ محروم نہیں ہو رہا۔ تو اولاد ام اس ضابطے سے مستثنیٰ ہے۔
کتنی باتیں ہو گئیں؟ تین۔
چوتھی بات یاد رکھیے، جس طرح واسطہ کی موجودگی حرمان کا سبب ہے، اسی طرح اتحاد سبب بھی حرمان کا باعث بنتا ہے۔ یعنی سبب متحد ہو۔ مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا اور کوئی بھی نہیں زندہ، ماں ہے اور دادی ہے۔ ماں ہے اور دادی۔ اب آپ بتائیے، ماں واسطہ بن رہی ہے دادی کے درمیان، بھئی؟ نہیں، اس کے ساتھ تو وہاں واسطہ کیا تھا؟ دادی کے ساتھ کس کے ذریعے رشتہ جڑتا ہے مرنے والے کا؟ باپ کے ذریعے۔ تو یہاں تو ماں ہے، باپ ہے ہی نہیں۔ تو واسطہ نہیں، لیکن پھر بھی یہ ماں اس دادی کو محروم کر دے گی، کیونکہ سبب متحد ہے دونوں کا، بھئی، وارث بننے کا سبب۔ دونوں وارثہ بن رہی تھیں کس وجہ سے؟ ماں ہونے کی وجہ سے۔ دادی بھی کیا ہے؟ ماں ہے، اور یہ بھی ماں ہے۔ تو لہٰذا ماں ہونے کے اعتبار سے دونوں میں اتحاد ہے، وہ بھی وارث کس وجہ سے بن رہی ہے کہ ماں ہے، چاہے اوپر کی نسل میں جا کر ماں بن رہی ہے۔ تو لہٰذا جب قریب والی ہے، تو اتحاد سبب کی وجہ سے جب یہ وارث بن گئی، تو اب کسی اور، کوئی اور ماں ہونے کی وجہ سے وارثہ نہیں بنے گی، بھئی۔ ماں ہونے کی وجہ سے جب ایک وارثہ بن گئی، تو دوسری ماں ہونے کی وجہ سے وارثہ نہیں بنے گی، بھئی۔
یا اور مثال بنا لیں۔ مرنے والے کی نانی زندہ ہے، اور باپ کی طرف سے پردادی زندہ ہے۔ نانی اور پردادی۔ تو یہاں پر بھی نانی کو...
ملے گا۔ تو یہاں بے شک وہ قانون بھی آیا قریب بعید کی بھی صورت بن گئی۔ تو نانی بھی پردادی کو محروم کر دیں گی، اگرچہ وہ واسطہ نہیں۔ کیونکہ اتحاد کس اعتبار سے ہے؟ اتحادِ سبب ہے مولانا۔ دونوں وارثہ بننے کا سبب کیا ہے دونوں میں؟ ماں کا ہونا۔ تو جب قریب والی ہے، جب اتحادِ سبب ہے، تو دور والی کو وہ کیا کر دے گی؟ محروم کر دے گی بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی اچھی طرح؟ کتنی باتیں ہو گئیں؟ چار ہو گئیں بھئی۔
پانچویں بات لکھیے بھئی۔ قریب والی... قریب والی بعید والی کو ساقط کر دے گی۔ جدات... کئی جدات ہوں، تو قریب والی بعید والی کو ساقط کر دے گی۔ قریب والی بعید والی کو ساقط کر دے گی۔ یہ مثال جیسے ابھی آپ نے بنائی بھئی۔ ایک طرف ہے نانی، اور دوسری طرف ہے پردادی۔ تو یہ پردادی نانی کے برابر میں ہے یا اس سے اوپر ہے؟ نانی کے برابر میں کون ہے؟ دادی ہے۔ تو پردادی تو اس سے ایک پشت اوپر ہے۔ تو لہٰذا جب نانی وارثہ بنے گی، تو پردادی کو کیا کر دے گی؟ وہ اس کو ساقط کر دے گی، محروم کر دے گی بھئی۔
تو قریب والی بعید والی کو کیا کر دیتی ہے؟ ساقط۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ قریب والی وارثہ... اس کا وارثہ ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ چاہے وہ خود بھی محروم ہو رہی ہو، پھر بھی دور والی کو محروم کر دے گی۔ پھر بھی کیا کر دے گی دور والی کو؟ محروم کر دے گی۔ مثلاً دیکھیے، ایک شخص کا انتقال ہوا، اور اس کی پرنانی زندہ ہے، باپ زندہ ہے، اور دادی زندہ ہے۔ ایک شخص کا انتقال ہوا، کون کون زندہ؟ پرنانی اور باپ اور دادی۔ دادی... چلیں دادی کو ابھی نہ رکھیں۔ دادی کے بغیر، دادی کے بغیر اگر پرنانی باپ کے ساتھ آئے اور درمیان میں نانی بھی نہیں، ماں بھی نہیں وغیرہ، تو پھر وہ وارثہ بن جاتی ہے۔ باپ سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ باپ کا درمیان میں واسطہ نہیں ہے۔ اتحادِ سبب بھی نہیں ہے۔
وہ پرنانی وارثہ بن رہی ہے کس وجہ سے؟ ماں ہونے کی وجہ سے۔ اور باپ وارث بن رہا ہے کس وجہ سے؟ باپ ہونے کی وجہ سے۔ تو اتحادِ سبب بھی نہیں ہے اور نیز باپ واسطہ بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ تو ماں کی طرف سے ہے، باپ کی طرف سے نہیں ہے۔ تو لہٰذا باپ کے ہوتے ہوئے پرنانی وارثہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر باپ کے ساتھ دادی بھی زندہ ہوئی، دادی بھی... تو اب دادی ہے قریب والی، اور پرنانی ہے... دادی کے برابر میں کون ہے؟ نانی ہے۔ تو یہ تو اس سے بھی اوپر ہے پرنانی۔ تو یہاں پشتیں بڑھ گئیں بھئی۔ تو لہٰذا قریب والی بعید والی کو کیا کر دیتی ہے؟ ساقط کر دیتی ہے، چاہے خود وارثہ بنے یا وارثہ نہ بنے۔ اب یہاں دادی وارثہ خود نہیں بن رہی۔
لیکن پھر بھی پرنانی کو کیا کر دے گی؟ محروم کر دے گی۔ قریب والی بعید والی کو محروم کر دے گی، چاہے خود وارثہ بنے یا نہ بنے۔ دادی کیوں نہیں بن رہی وارثہ؟ باپ کی وجہ سے، کیونکہ واسطہ جب موجود ہے تو ذو الواسطہ کو کچھ نہیں ملے گا بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ جی آگے... اسی طرح دیکھیں بھئی، جیسے باپ کے ہوتے ہوئے بھئی بہن محروم ہو جاتے ہیں بھئی۔ باپ عصبہ بن گیا نہ، تو پھر میت کے بھئی بہن کیا ہو جاتے ہیں؟ محروم ہوتے ہیں۔
لیکن محروم ہونے کے باوجود اگر باپ کے ساتھ بھئی بہن ہیں اور میت کی ماں بھی ہے، تو وہ ماں کا حصہ ثلث سے کم کر کے سدس کر دیتے ہیں۔ مرنے والے کا باپ زندہ ہو، تو بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا بھئی۔ پڑھ چکے یا نہیں پڑھ چکے آپ بھئی؟ باپ، بیٹا وغیرہ کوئی بھی ہو، تو بھئی بہنوں کو... مرنے والے کے بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ تو باپ جب آ گیا، تو اب بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا، وہ محروم بن گئے۔
اور ماں کی ایک حالت آپ نے پڑھی تھی۔ پہلی حالت کیا پڑھی تھی کتاب میں؟ چھٹا حصہ ملتا تھا، کب؟ جب میت کی اولاد بیٹا بیٹی وغیرہ میں سے، یا بھئی بہنوں میں سے کوئی دو زندہ ہوں، تو پھر ماں کو کتنا ملتا ہے؟ چھٹا حصہ۔ باقی تھا ثلث کل یا ثلث ما بقیہ، لیکن بھئی بہن آ گئے تو انہوں نے حصہ کم کر کے کتنا کر دیا؟ سدس کر دیا۔ تو یہ بھئی بہن ماں کا حصہ سدس کر دیں گے، چاہے خود باپ کے آنے کی وجہ سے محروم ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں۔ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے دو بھئی بہن ہیں، اور باپ بھی زندہ ہے۔ جب باپ زندہ ہے تو اب بھئی بہن کیا ہو گئے؟ محروم ہو گئے۔
اور ساتھ ماں بھی زندہ ہے۔ اب بھئی بہن خود ہیں تو محروم، لیکن یہ کیا کر دیں گے؟ ماں کے حصے کو ثلث سے کم کر کے سدس کر دیں گے۔ تو خلاصہ بحث یہ، کہ جو وارث دوسرے کے لیے رکاوٹ بنتا ہے، آگے تفصیل آنے والی ہے، اس کو حاجب کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ حاجب، جو دوسرے کے حصے میں کمی کر دیتا ہے یا اسے محروم کر دیتا ہے، اسے حاجب کہتے ہیں، جیسے ابھی آپ نے پڑھا۔ قریب والی دادی دور والی دادی کو کیا کر دے گی؟ محروم، یہ اس کے لیے حاجب بن گئی بھئی۔ تو حاجب جو ہے، ضروری نہیں کہ اس کو حصہ ملے، بلکہ جو خود محجوب ہے وہ بھی دوسرے کے لیے کیا بن سکتا ہے؟ حاجب بن سکتا ہے، خلاصہ بحث یہ ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟
اسی طرح ایک اور بات یاد رکھیں۔ ایک جدہ ہے، اس کے ساتھ مرنے والے کا ایک ہی طرف سے رشتہ جڑ رہا ہے۔ اور ایک دوسری جدہ ہے، اس کے ساتھ مرنے والے کا دو جہت سے رشتہ ہے۔ ایک جدہ کے ساتھ کتنی جہتوں سے رشتہ؟ ایک، اور دوسری سے؟ دو جہتوں سے۔ تو اب یہ دونوں مثلاً وارثہ بن رہی تھیں، تو ان کے اندر مال کس طرح تقسیم ہو گا؟ آگے کتاب میں بھی آنے والا ہے۔ امام... امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جہتوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ جس کے لیے ایک جہت ہے اس کو کم مال ملے گا، اور جس کے ساتھ دو جہتوں سے رشتہ ہے اس کو اس سے دگنا ملے گا۔ اگر تین جہتوں سے ہے تو اسے تین گنا ملے گا۔
یعنی وہ چھٹا حصہ ان میں پھر کس طرح تقسیم کرنا ہے، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ایک سے ایک جہت سے ہے، دوسری سے دو جہتوں سے ہے، اور کل کتنی جہتیں ہو گئیں؟ تین۔ تو تین حصے کر دو۔ ایک جہت والی کو ایک حصہ دے دو اور دو جہت والی کو دو حصے دے دو۔ وہ کہتے ہیں جہتوں کا خیال رکھنا پڑے گا جس طرح طریق واسطوں سے رشتہ ہے درمیان میں۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ابدان کا لحاظ رکھنا پڑے گا بھئی، جتنے شخص ہیں بھئی۔ تو دادیاں دو ہیں، تو دو حصے کریں گے بھئی۔ جہتوں کا خیال نہیں رکھیں گے، اور شیخین کے ہی قول پر فتویٰ ہے بھئی۔
جی دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ "للجدۃ السدس" جدہ کے لیے سدس چھٹا حصہ ہے، "لام کانت او لاب" ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے ہو، "واحدۃ کانت او اکثر" ایک ہو یا ایک سے زیادہ، ان کو چھٹا حصہ ہی ملے گا، اگر ایک سے زیادہ ہیں تو اسی کو آپس میں تقسیم کریں گی۔ "اذا کن ثابتات" جبکہ وہ ثابت ہوں، یعنی صحیح ہوں، جدہ صحیحہ ہوں، فاسدہ نہ ہوں۔ "متخاذیات" اور برابر ہوں "فی الدرجۃ" کس کے اندر؟ درجے میں برابر ہوں، ایک اوپر والی اور ایک نیچے والی نہ ہو، ایک قریب والی ایک دور والی نہ ہو۔
"ویسقطن کلهن بالام" اور ساری جدہ جو ہیں وہ ساقط ہو جاتی ہیں ماں کی وجہ سے۔ یاد رکھیے، ماں جب آ گئی میت کے، تو پھر ساری جدات ساقط ہو جائیں گی۔ کس وجہ سے؟ وجہ کیا؟ وجہ کیا؟ باپ کی طرف سے جو ہیں وہ بھی محروم ہو رہی ہیں۔ اتحادِ سبب کی وجہ سے۔ تو ماں سب دادیوں کو ساقط کر دیتی ہے، چاہے اپنی طرف سے ہوں، چاہے باپ کی طرف سے ہوں، سب کو کیا کر دے گی؟ یہی بات کر رہے ہیں "ویسقطن کلهن بالام" وہ سب کی سب دادیاں ساقط ہو جائیں گی ماں کی وجہ سے۔ "والابویات ایضا بالاب" اور جو باپ والی کی طرف سے ہیں، وہ باپ کی وجہ سے بھی ساقط ہوں گی۔
ماں کی وجہ سے بھی ساقط ہو رہی ہیں دونوں طرف والی، اور باپ کی طرف سے صرف کون سی جانب والی ساقط ہوں گی؟ جو باپ کی جانب ہیں۔ کس وجہ سے؟ واسطے کی وجہ سے۔ "وکذلک بالجد" اور اسی طرح دادیاں ساقط ہو جائیں گی کس کی وجہ سے؟ دادا کی وجہ سے بھی۔ "الا ام الاب" مگر باپ کی ماں، یہ ساقط نہیں ہوگی، یعنی دادی۔ دادا بھی سب اوپر والیوں کو ساقط کرے گا، لیکن باپ کی ماں ساقط نہیں ہوگی "وان علت" اگرچہ اوپر ہی کیوں نہ ہو۔
باپ کب ساقط کرتا تھا؟ باپ کب ساقط کرتا تھا دادیوں نانیوں کو؟ جب وہ واسطہ بن رہا ہو۔ تو باپ اپنے اسی پشت میں اوپر جتنی آئیں گی اس باپ کے اوپر، ان سب کو ساقط کرے گا، کیونکہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ کیا ہوتا ہے؟ اسی طرح دادا میں ہے۔ دادا بھی جو جن کے لیے دادا واسطہ بن رہا تھا، ان سب اوپر والیوں کو دادا کیا کر دے گا؟ ساقط کر دے گا۔ لیکن باپ کی ماں، یعنی دادا کی بیوی کہہ لیں، وہ کیا ہے؟ ساقط نہیں، کیوں؟ ہاں شاباش، اس کے لیے دادا واسطہ نہیں بن رہا بھئی۔ اس کے لیے تو باپ واسطہ بن رہا ہے، دادا واسطہ نہیں بن رہا۔
اسی لیے یہ دادی بھی نہیں ساقط، اور اس دادی کے اوپر جو دادیاں ہیں وہ بھی ساقط نہیں، کیونکہ درمیان میں دادا کا واسطہ نہیں ہے۔ یہ معنی ہے "الا ام الاب وان علت" مگر باپ کی ماں، اگرچہ اوپر تک ہو، "فانها ترث مع الجد" "جدۃ" تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ "جدۃ" نہیں "جد" ہونا چاہیے۔ "فانها ترث مع الجد" اس لیے کیونکہ یہ باپ کی ماں جو ہے، یہ وارثہ بنے گی جد (دادا) کے ساتھ۔ "لانها لیست من قبله" اس لیے کیونکہ یہ اس کی جانب سے دادی وغیرہ نہیں، یعنی اس کا واسطہ بیچ میں نہیں ہے۔
"والقربی من ای جهت کانت" اور قریب والی جس جہت سے بھی ہو "تحجب البعدی" جو جس جہت سے بھی ہو، وہ کیا کرے گی؟ روک دے گی دور والی کو۔ قریب والی جس جہت سے بھی ہو، وہ روک دے گی دور والی کو "من ای جهت کانت" جس جہت سے بھی وہ ہو۔ دور والی جس جہت سے بھی ہو، قریب والی دور والی کو کیا کر دے گی؟ روک دے گی۔ ایک باپ کی جانب سے ہے تیسری نسل میں جا کر دادی، اور ماں کی طرف سے ایک ہے ساتویں نسل میں آ کر دادی۔ یہ دو زندہ ہیں۔
تو قریب والی یہ باپ والی ہوئی، اور یہ اس دور والی کو ساقط کر دے گی۔ کیوں ساقط کرے گی؟ یہ تو واسطہ بیچ میں نہیں بن رہی؟ اتحادِ سبب کی وجہ سے ساقط کر دے گی۔ جی "من ای جهت کانت" کہ قریب والی جس جہت سے بھی ہو وہ حاجب بن جائے گی، وہ روک دے گی دور والی کو، وہ بھی جس جہت سے ہو دور والی۔ "وارثۃ کانت القربی او محجوبۃ" اور یہ قریب والی جو ہے، وارثہ ہو یا محجوبہ ہو، یعنی اس کو خود بھی محروم ہو رہی ہے پھر بھی یہ حاجب بن جائے گی، رکاوٹ بن جائے گی۔ چلیے بس کریں بھئی۔ بس هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔