Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-079

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل فی الصنف الثانی اولہم بالمراث اقربہم الی المیت من ای جھۃ کان وعند الاستواء فمن کان یدلی بوارث فھو اولی کا اب ام الام اولی من اب اب الام عند ابی سحل الفرایضی و ابی فضل الخصاف و علی ابن عیسی البصری فصل فی الصنف الثانی یہ فصل ہے بھئی قسم ثانی کے اندر بھئی ذوی الارحام میں بھی آپ نے پڑھا تھا عصبات کی طرح چار قسمیں ہیں چار درجے ہیں۔ سب سے پہلی قسم مکمل ہوئی بھئی اس کے اندر جو میت کے فروع تھے وہ داخل تھے بھئی۔ اور دوسری قسم کے اندر جو میت کے اصول ہیں بھئی اصول جو عصبات اور ذوی الفروض میں سے نہیں ہے وہ ذوی الارحام میں ہیں۔ جی تو اس میں آپ کو بتلا رہے ہیں پہلا ضابطہ اولہم بالمراثی کہ ان میں سے زیادہ لائق میراث کے اقربہم الی المیت جو زیادہ قریب ہے میت کے من ای جھۃ کان جس جہت سے بھی ہو۔ جس طرف سے بھی ہو جو زیادہ قریب ہے وہ زیادہ حقدار ہے چاہے ماں کی طرف سے چاہے باپ کی طرف سے جو زیادہ قریب ہے۔ وعند الاستواء فمن کان یدلی بوارث فھو اولی اور اگر درجے میں برابر ہوں بھئی ایک کے درمیان بھی مثلاً تین یا چار پشتیں آ رہی ہیں دوسرے میں بھی اتنی ہی پشتیں ہیں تو درجے میں قرب و بُعد میں دونوں برابر ہیں تو پھر کہتے ہیں فمن وعند الاستواء برابری کے وقت فمن کان یدلی بوارث پس وہ جو منسوب ہے بوارث کسی وارث کے ذریعے فھو اولی وہ اولی ہے وہ زیادہ لائق ہے۔ بھئی دیکھیے کا اب ام الام ماں کی ماں کا باپ کون ہوا؟ ماں کا نانا بھئی یا یوں کہیں میت کی نانی کا باپ میت کی نانی کا باپ یہ اولی ہے من اب اب الام کس سے؟ نانا کے باپ سے نانی کا باپ یہ اولی ہے نانا کے باپ سے نانی کا باپ یہ کیوں اولی ہے؟ جی ہاں شاباش نانی کس میں سے ہے؟ نانی جدہ صحیحہ ہے یا جدہ فاسدہ ہے؟ جدہ صحیحہ درمیان میں نانا کا رشتہ آئے گا پھر جدہ فاسدہ بنے گی تو یہ ذوی الفروض میں سے ہے نانی۔ اور دوسری طرف نانا کا باپ ہے اور نانا کس میں سے ہے؟ وہ تو جد فاسد ہے بھئی تو وہ ذوی الارحام میں سے ہے بھئی تو وارث نہیں ہے یعنی عصبہ بھی نہیں اور ذوی الفروض میں سے بھی نہیں۔ تو دیکھو اب کا اب ام الام یہاں بھی جر میت کے اور وارث کے درمیان دو دو واسطے ہیں۔ نانی اور میت کی ماں اور اس کی میت کی نانی۔ دوسری طرف بھی دو واسطے ہیں بھئی۔ ابو اب الام ماں کے باپ کا باپ تو ماں اور باپ ماں اور اس کا باپ یہ دو واسطے ہیں یہاں پر اور دوسری طرف کون ہیں؟ ماں اور اس کی ماں۔ ایک طرف بھی دو واسطے دوسری طرف بھی دو واسطے۔ لیکن اولی کون ان میں سے؟ پہلے والا کیوں اولی؟ کیونکہ وہ وارث کے ذریعے منسوب ہو رہا ہے میت کی طرف بھئی۔ عند ابی سھل الفرایضی عند ابی سھل الفرایضی الفرایضی یعنی علم میراث والے جو علم میراث کے ماہر ہو اسے فرایضی کہتے ہیں۔ عند ابی سھل الفرایضی کے نزدیک بھئی ابی سھل آج کی کتابوں میں بھی ابی سھل ہے؟ سہیل ہے۔ ہاں ابی سہیل ہونا چاہیے میری کتاب میں ابھی سحل ہے بھئی ابھی سہیل۔ عند ابی سہیل الفرایضی ابی سہیل فرایضی کے نزدیک وہ ان کے نزدیک بھئی جو وارث کے ذریعے منسوب ہے وہ اولی ہے کس کے مقابلے میں جو وارث کے ذریعے منسوب نہیں ہے۔ و ابی فضل الخصافی اور ابی فضل الخصاف کے نزدیک بھی و علی ابن عیسی البصری اور علی ابن عیسی بصری جو ہیں ان کے نزدیک بھی۔ ولا تفضیل لہ عند ابی سلیمان الجرجانی اور کوئی فضیلت نہیں اس کو ابی سلیمان جرجانی کے نزدیک و ابی علی البستی اور ابی علی بستی کے نزدیک بھئی۔ ان کے نزدیک ایک جو اجداد میں سے یا جدات میں سے ایک وارث کے واسطے سے منسوب ہے ایک بغیر وارث کے کہ یہ کہتے ہیں نہیں بھئی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ دونوں برابر حقدار ہیں۔ چاہے وارث کے واسطے سے منسوب ہو چاہے غیر وارث کے واسطے سے وجہ اس کی یہ وہ کہتے ہیں کہ پھر اس طرح تو اصل کو آپ تابع کے تابع کر دیتے ہیں۔ اصل کو کس کے تابع کرنا لازم آئے گا؟ بھئی اب ہم اوپر کی طرف جا رہے ہیں نا اصول میں تو آپ نے کیا کہا یہ جو اوپر والا یہ بھی اوپر ہے یہ دو دوسرا یہ بھی وارث اوپر ہے میت کی نسبت درمیان میں دیکھو اگر درمیان والے وارث ہیں تو جس کے وارث کے ذریعے جو منسوب ہے وہ اولی ہے کس کے مقابلے میں؟ جس کے درمیان میں وارث تو یہ تو ہوئے اصول اور جو ان کے درمیان والے ہیں وہ کیا ہیں ان کے فروع تو آپ اصول کو فروع کے تابع کر رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ فروع کو اصول کے تابع ہونا چاہیے لہٰذا تو یہ کہتے ہیں کوئی فضیلت نہیں بھئی اس صورت میں اور یہی قول اصح ہے مولانا و ان استوت منازلھم اور اگر ان کے درجے برابر ہوں جدات یا اجداد جو ہیں ان کے درجے برابر ہوں، یعنی قبل و بعد میں ایک تیسرے درجے پر ہے تو دوسرا بھی تیسرے درجے میں ہو۔ ولیس فیہم من یدلی بوارتھن اور ان میں کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو وارث کے ذریعے سے منسوب ہو رہا ہے۔ او کان کلہم یدلون بوارتھن یا یہ سب کے سب کسی وارث کے واسطے سے من یا تو کوئی بھی وارث کے واسطے سے منسوب نہیں یا سب کے سب وارث کے واسطے سے ایک وارث کے ذریعے منسوب ہیں، ایک ہی وارث۔ واتفق صفۃ من یدلون بہم اور متفق ہے صفت بھی ان کی جن کے ذریعے یہ منسوب ہیں۔ بھئی جن کے ذریعے یہ جدات یا اجداد میت کی طرف منسوب ہیں ان کی صفت بھی متفق ہے۔ یعنی درمیان میں سب کے مذکر کا واسطہ یا سب کے مؤنث کا واسطہ۔ جو بھی صورت بنتی ہے بہرحال ذکورت اور انوثت میں فرق نہیں۔ ایک میں جس طرح کا واسطہ ہے، دوسری میں بھی اسی طرح کا واسطہ۔ یہ معنی واتفق صفۃ من یدلون بہم یعنی متفق ہو صفت ان کی جن کے ذریعے یہ منسوب ہیں۔ واتحدت واتحدت قرابتہم اور متحد ہو ان کی قرابت بھی ان کی قرابت بھی کیا ہو؟ رشتہ داری بھی؟ کیا معنی؟ اگر ایک باپ کی طرف سے ہے تو دوسرا بھی باپ ہی کی طرف سے یا ایک ماں کی طرف سے ہے تو دوسرا بھی ماں کی طرف سے ہے فل قسمۃ حینئذ علی ابدانھم تو تقسیم اس وقت ان کے ابدان پر ہوگی بھئی۔ کس پر ہوگی؟ یعنی وہی ضابطہ رہے گا، چلے گا بھئی۔ للذکر مثل حظ الانثیین بھئی۔ مذکر کو مؤنث سے دوگنا دیں گے بھئی، ان کے بدنوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ وان اختلاف صفۃ من یدلون بہم اور اگر مختلف ہو صفت ان کی جن کے ذریعے یہ منسوب ہیں۔ بھئی درمیان میں بھئی جدات اور اجداد کا ذکر چل رہا ہے ان کے اور میت کے درمیان میں جو واسطے ہیں اگر ان کی صفت الگ ہو۔ کوئی مذکر ہے تو کوئی مؤنث، جیسے قسم اول میں آیا تھا بھئی۔ وہ آپ نے نقشہ بنایا تھا چھٹی پشت میں۔ بیٹیاں تھیں؟ جزاک اللہ۔ درمیان میں جو واسطے تھے وہ کیا تھے؟ کہیں مذکر اور کہیں مؤنث۔ تو ایک جیسے نہیں تھے تو یہاں بھی اسی طرح اگر ہو، درمیان میں جو واسطے ہیں ان کی صفت ایک نہ ہو، کوئی مذکر ہے تو کوئی مؤنث ہے۔ تو کہتے ہیں وان اختلاف صفۃ من یدلون بہم اگر مختلف ہو صفت بھئی، یعنی ذکورت اور انوثت ان کی جن کے ذریعے سے یہ منسوب ہیں تو یقسم المال یقسم پڑھیں یا یقسم بھئی یاد رکھیں، یقسم یا یقسم دونوں کا ایک معنی ہے بھئی۔ مجرد سے پڑھ لیں تو بھی یہی معنی باب تفعیل سے پڑھیں تو بھی یہی معنی تقسیم کرنا۔ یقسم المال علی اول بطن اختلاف تو تقسیم کیا جائے گا مال پہلے بطن اس پہلے ایسے بطن پر جو مختلف ہو جائے، جس میں اختلاف آ جائے۔ بھئی جیسے وہاں بیٹیوں والی صورت ذہن میں ہے بھئی؟ جی۔ وہ جو نقشہ تھا کہاں مال ہم تقسیم کرنا شروع کرتے تھے؟ جہاں پہلا اختلاف آتا تھا، ایک طرف والے مذکر ہیں تو دوسری طرف والے مؤنث۔ یہاں بھی بعینہ وہی صورت ہوگی کہ تقسیم کیا جائے گا مال پہلے اس بطن پر جس میں اختلاف ہو۔ کما فی الصنف الاول جیسے کہ پہلی قسم میں تھا وان اختلاف قرابتہم اور اگر ان کی قرابت مختلف ہو فثلثان قرابت الاب تو دو ثلث ہوں گے باپ کی قرابت کے والوں کے لیے۔ باپ کی قرابت کے لیے دو ثلث ہوں گے یعنی جن باپ کے ذریعے جن کا رشتہ ہے میت کے ساتھ۔ وھو نصیب الاب اور وہ باپ کا حصہ ہے۔ وثلث قرابت الام اور تیسرا حصہ ماں کی قرابت کا ہوگا وھو نصیب الام اور وہ کس کا حصہ ہے؟ بھئی کچھ اجداد اور جدات باپ کی طرف سے ہیں اور کچھ ماں کی طرف سے تو پھر بتلایا کہ ماں کی طرف والوں کو ماں کا حصہ ملے گا اور باپ کی طرف والوں کو باپ کا حصہ ملے گا۔ جی، کتنا حصہ ہوگا باپ کا اور ماں کا؟ بھئی ایک آدمی کا انتقال ہوا اس کے صرف ماں باپ زندہ ہیں، کیسے تقسیم کریں گے آپ مال؟ ماں کو ثلث ملے گا کیونکہ اولاد بھی نہیں ہے اور بہن بھائیوں میں سے بھی کوئی نہیں اور باپ کے ساتھ احد الزوجین بھی نہیں، تو لہذا اس صورت میں ماں کو ثلث الکل ملتا ہے، تیسرا حصہ ماں کا اور باپ کو عصوبۃ۔ آہستہ! شاباش! شاباش! تو باپ کو دگنا ملا ہے ماں سے، لیکن یہاں یہ نہ کہنا للذکر مثل حظ الانثیین یہ ضابطہ یہاں جاری نہیں ہوا۔ صورت ویسی ہی بن گئی، لیکن یہ ضابطہ نہیں لگا، باپ کو دو حصے ملے عصبہ ہونے کی وجہ سے اور ماں کو ایک حصہ ثلث ملا اس کا بھئی۔ تو کہتے ہیں جو باپ کی طرف کے رشتے دار ہوں گے ان کو باپ والا حصہ دینا اور جو ماں کی طرف سے رشتے دار ہیں اوپر وہ ان کو ماں والا حصہ دینا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے وان اختلاف قرابتہم اگر ان کی قرابت مختلف ہو فثلثان قرابت الاب تو دو ثلث جو ہیں باپ کی قرابت کے لیے ہیں وھو نصیب الاب وہ باپ کا حصہ ہے وثلث قرابت الام اور تین جو ہیں ثلث جو ہے وہ ماں کے قرابت کے لیے ہے وھو نصیب الام اور وہ ماں کا حصہ ہے ثم ما أصاب لکل فریق اور پھر وہ جو پہنچے ہر فریق کو کچھ فریق ماں کی طرف سے اور کچھ باپ کی طرف سے تو پھر جو ہر فریق کو پہنچے یقسم بینہم تو وہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا کما لو اتحدت قرابتہم جیسے کہ اگر ان کی قرابت متحد ہوتی اب جیسے ان کی قرابت متحد ہونے کی صورت میں تقسیم کرتے تھے اب پھر وہی تقسیم کریں گے للذکر مثل حظ الانثیین کے طریقے پر بھئی۔ کے طریقے پر پھر ان میں تقسیم کر دیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ رحمہ اللہ تعالی حقیقت الکلام
92 approved lectures · 79 of 92