فصل فی المررتد۔ إذا مات المرتد علی ارتدادہ او قتل او لحق بدار الحرب وحکم القاضی بلحاقہ فما اکتسبہ فی حال اسلامہ فھو لورثتہ المسلمین۔ وما اکتسبہ فی حال ردتہ یوضاع فی بیت المال عند ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی وعندہما الکسبان جمیعا لورثتہ لورثتہ المسلمین۔
فصل فی المررتد یہ فصل ہے مرتد کے بیان میں یعنی اس کی وراثت سے متعلقہ مباحث کے بیان میں۔ اذا مات المرتد یاد رکھیے مرتد ارتداد کے معنی ہوتے ہیں پھرنا۔ ارتد یرتد ارتداد کے معنی ہیں پھرنا، پلٹنا۔ تو مرتد جو پھر گیا ہو جو پلٹ گیا ہو۔ اور اصطلاح شریعت میں مرتد وہ ہے جو دین اسلام سے پلٹ گیا ہو یعنی دین اسلام کو جس نے چھوڑ دیا ہو۔ پہلے ایمان تھا اور پھر ایمان کو چھوڑ دیا کلمہ کفر کہا۔
إذا مات المرتد علی ارتدادہ جس وقت مرہر مرتد اپنے ارتداد پر او قتل یا اس کو قتل کر دیا جائے او لحق بدار الحرب یا وہ دار الحرب چلا جائے وحکم القاضی بلحاقہ اور فیصلہ کر دے قاضی اس کے جانے کا کہ وہ دار الحرب جا چکا ہے کفار سے جا ملا ہے جب یہ قاضی فیصلہ کر دے۔ تو یاد رکھیے یہ قاضی کا فیصلہ بھی موت کے حکم میں ہے بھئی۔ کس کے حکم میں؟ موت کے حکم میں۔
تو مرتد جب مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا دار الحرب چلا جائے اور قاضی اس کے جانے کا فیصلہ کر دے تو تینوں موت کی صورتیں آ گئیں دو میں موت ہے حقیقتا اور ایک میں موت ہے حکما۔ فما اکتسبہ فی حال اسلامہ پس اس نے جو کچھ کمایا ہو اپنے اسلام کی حالت میں فھو لورثتہ المسلمین تو وہ اس کے ان وارثوں کے لیے ہے جو مسلمان ہوں۔ وما اکتسبہ فی حال ردتہ اور جو اس نے کمایا ہو اپنے مرتد ہونے کی حالت میں یوضاع فی بیت المال وہ رکھ دیا جائے گا بیت المال میں یعنی بیت المال میں جمع کروا دیا جائے گا۔ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک۔
و عندھما اور صاحبین کے نزدیک الکسبان جمیعا لورثتہ المسلمینا صاحبین کے نزدیک اس کی دونوں کمائیاں جو ہیں وہ اس کے مسلمان وارثوں کے لیے ہوں گی۔ اس کی دونوں کمائیاں مسلمان وارثوں کے لیے ہوں گی۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرتد ہوا تو اس کی ملکیت اپنے مال سے زائل ہو گئی۔ مال اس کی ملک سے نکل گیا بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، مرتد ہونے سے اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئی بھئی، ملکیت زائل نہیں ہوئی۔
تو اس کی ملکیت زائل ہو گئی تو وہ اس کے اور قاضی نے فیصلہ کر دیا جب یا وہ مارا گیا تو وہ اسلام کی جتنی کمائی تھی اس کی، وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوگی۔ وارثوں کی طرف۔ اور جو اس نے کمائی کی ہے مرتد ہونے کی حالت میں۔ تو وہ اس کے وارث جو ہیں ان کو نہیں ملے گی بھئی کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر دین مختلف ہو تو پھر وہ شخص وارث اختلاف دین سے بھی کیا ہے یہ مانع ہے وارث بننے سے بھئی۔
تو وہ اب بیت المال میں جمع کروا دی جائے گی۔
تو جو اسلام میں کمائی کی ہے وہ تو اس کے وارثوں کو ملے گی، جو مرتد ہونے کے بعد پیسے کمائے ہیں وہ وارثوں کو نہیں ملیں گے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ساری کمائی جو ہے اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گی۔
بھئی یہ کیسے کچھ کمائی تو اس نے حالت ارتداد میں کی ہے، وہ کیسے اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گی؟ کہتے ہیں اس کی نسبت مرتد ہونے سے کچھ دیر پہلے کی طرف کر دی جائے گی۔ کہ سارا مال گویا اسی وقت موجود تھا مرتد ہونے سے چند لمحے پہلے۔
اس کی طرف نسبت کر دی جائے گی اور چنانچہ اس طرح وہ اس کے مسلمان وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
امام صاحب جواب میں فرماتے ہیں کہ مرتد ہونے سے پہلے جو کمائی کی، ٹھیک ہے اس کی نسبت تو کی جا سکتی ہے اس وقت کی طرف مرتد ہونے سے چند لمحے پہلے تک۔ وہ جو پہلے کا مال تھا اس کی نسبت تو اس وقت کی طرف کی جا سکتی ہے لیکن جو مرتد ہونے کے بعد مال کمایا ہے، اس کی نسبت تو اس کی طرف کی ہی نہیں جا سکتی۔
اور فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ اب بیت المال موجود نہیں ہے بھئی، تو وہ سارا مال اس کے وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ و عند شافعی رحمۃ اللہ تعالی اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک الکسبان جمیعا یوضعان فی بیت المال کہ اس کی دونوں کمائیاں جو ہیں وہ رکھی جائیں گی بیت المال میں وارثوں کو کچھ نہیں ملے گا، بیت المال میں جمع کروایا جائے گا۔ وما اکتسبہ بعد اللحوق بدار الحرب فھو فیء بالاجماع یاد رکھیے جو شخص جو ہے یہ مرتد ہو گیا مرتد ہوتے ہی یہ حربی بن گیا بھئی۔
کس کی طرح بن گیا؟ حربی۔ بھئی وہ کافر جو دار الكفر میں رہتا ہے جس کے ساتھ کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہے حالت جنگ میں ہے جس کے ساتھ وہ ہے وہاں کا رہنے والا کیا کہلاتا ہے؟ حربی کہلاتا ہے۔
اور ایک وہ کافر جو ہمارے دار الاسلام میں رہتا ہو جزیہ دیتا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ اسے ذمی کہتے ہیں۔ اور وہاں سے کوئی امان طلب کرکے کوئی حربی دار الاسلام آتا ہے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ مستامن کہا جاتا ہے۔
جی۔ آگے مال فی کا ذکر آ رہا ہے بھئی۔ یاد رکھیے ایک ہے مال غنیمت ایک ہے مال فی بھئی۔ مال غنیمت وہ ہے جو لڑائی کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہو اور مال فی وہ ہے جو بغیر لڑائی کے ہی حاصل ہو جائے کفار سے بھئی، وہ مال فی ہے۔
وما اکتسبہ بعد اللحوق بدار الحرب فھو فیء بالاجماع اور وہ جو اس نے کمایا ہو دار الحرب چلے جانے کے بعد تو وہ مال فی ہے بالاجماع۔ وکسب المرت وہ اس پر مال فی کے احکام جاری ہوں گے۔ وکسب المرتدۃ جمیعا لورثتہ المسلمین بلا خلاف بین اصحابنا اور مرتدہ کی کمائی جو ہے ساری کی ساری چاہے اسلام میں ہو یا اسلام کے بعد کی، ساری کمائی لورثتہ المسلمینا وہ اس کے مسلمان وارثوں کے لیے ہے بلا خلاف بین اصحابنا بغیر کسی اختلاف کے ہمارے فقہاء کے درمیان۔
یعنی ہمارے تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ مرتدہ کی ساری کمائی جو ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کو ملے گی۔
و اما المرتد یاد رکھیے جو مرتد ہے مرتد جو اسلام کو چھوڑ دے۔ آپ نے کیا حکم پڑھا ہے اس کا؟ تین دن مہلت دی جائے گی۔
یاد رکھیے کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اولا امام اس پر اسلام کو پیش کرے گا۔ کیا کرے؟ اسلام پیش کرے کہ اسلام لے آؤ پھر اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ لیکن یہ اسلام پیش کرنا بھی مستحب ہے، واجب نہیں۔
لیکن مستحب یہ ہے کہ اسلام پیش کرے۔ اور اسلام پیش کرے اور اگر وہ کوئی اس کے شبہات وغیرہ ہیں، ان کو دور کیا جائے بھئی۔ اور اگر وہ مہلت مانگے کہ میں غور کرتا ہوں تو تین دن کی مہلت دے دے بھئی۔
اور اگر وہ مہلت نہیں مانگتا تو مہلت دینا ضروری نہیں، شلفور ہی اسے قتل کر سکتا ہے امام بھئی۔ لیکن اگر وہ مہلت مانگے تو تین دن کی مہلت دے سکتا ہے کہ غور و فکر کر لو اور پھر اسلام میں لوٹ آؤ، نہیں تو اس وقت تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔
اور میں نے بتایا کہ مرتد حربی کے حکم میں ہو گیا، وہ جن سے ہماری جنگ ہے، لڑائی ہے، لہذا اور یہ چونکہ مرد ہے، یہ ان کا معاون بن سکتا ہے، اس لیے اس کو جینے کا حق نہیں دیا جائے گا بھئی۔
لہذا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ عورت اگر وہ مرتدہ ہوئی، وہ تو کمزور ہے، وہ جنگ میں ان کے ان کی معاون نہیں بن سکتی، اس لیے اس کو قتل نہیں کریں گے بلکہ اسے جیل میں رکھا جائے گا اس وقت تک جب تک کہ وہ رجوع نہ کر لے یا وہیں پر پھر مر جائے۔
وہ کہتے ہیں و اما المرتد فلا یرث من احد لا من مسلم ولا من مرتد مثلہ اور باقی مرتد جو ہے پس وہ وارث نہیں بنے گا کسی ایک سے بھی، نہ تو کسی مسلمان سے اور نہ کسی اپنے جیسے مرتد سے۔ وکذالک المرتدۃ اور اسی طرح مرتدہ عورت ہے یہ کہ وہ بھی کسی سے کسی کی وارث نہیں بنے گی۔ الا اذا ارتدی اھل ناحیۃ باجماعھم فحینئذ یتورثون مگر جس وقت مرتد ہو جائیں کسی بستی والے سارے کے سارے فحینئذ یتورثون تو اس وقت وہ وارث بنیں گے بھئی۔ سارے بستی والے ہی کیا ہو جائیں؟ مرتد ہو جائیں پھر وہ وارث بنیں گے ایک دوسرے کے اور پھر اس بستی کے ساتھ اگر دار الاسلام میں ہے تو ان کے ساتھ جنگ بھی جائز ہو گئی بھئی کیونکہ سارے کیا ہو گئے؟ مرتد ہو گئے۔
فصل فی الاسیر یہ فصل ہے اسیر یعنی قیدی کے بیان میں بھئی۔ قیدی کی میراث کے احکام حکم۔ یاد رکھیے یہاں وہ قیدی مراد ہے جسے دار الحرب والے دار الاسلام سے قید کر کے لے جائیں بھئی۔ کون سا قیدی مراد ہے؟ دار الحرب والے دار الاسلام سے ایک مسلمان کو قیدی بنا کر لے گئے، پکڑ کر لے گئے، اب اس کے میراث کے احکام بیان کر رہے ہیں بھئی۔
کہتے ہیں حکم الاسیر کا حکم سائر المسلمین فی المیراث قیدی کا حکم کا حکم سائر المسلمین تمام مسلمانوں کے حکم کی طرح ہے فی المیراث میراث میں یعنی یہاں بھی اسی طرح میراث جاری ہوگی جس طرح باقی جگہ آپ پڑھ چکے۔ مال لم یفارق دینہ جب تک وہ اپنے دین سے جدا نہ ہو جائے۔ جب تک وہ جس دین کو نہیں چھوڑتا، اسلام پر ہی ہے تو اس کے وہی احکام ہیں جو باقی آپ پڑھ چکے۔ فین فارق دینہ فھو حکم المرتد اور اگر وہ اپنے دین سے جدا ہو جائے، دین کو چھوڑ دے تو اس کا حکم مرتد والا حکم ہے۔ فأن لم تعلم ردتہ ولا حیاتہ ولا موتہ فھو حکم المفقود پس اگر معلوم نہ ہو اس کا مرتد ہونا اور نہ اس کا زندہ ہونا اور نہ مردہ ہونا تو اس کا حکم مفقود والا حکم ہے، گمشدہ غائب شخص کا حکم ہے۔
بھئی دشمن حربی ایک مسلمان کو قید کر کے لے گئے، تو وہی احکام جاری ہوں گے جو عام مسلمانوں کی میراث کے احکام آپ پڑھ چکے تفصیل کے ساتھ۔ لیکن اگر وہاں وہ دین سے پھر گیا تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ مرتد والا۔ اور اگر اس کا پتہ ہی نہیں دشمن لے گئے پتہ ہی نہیں چلا کہ گیا کدھر؟ نہ زندگی کا پتہ نہ موت کا نہ کسی اور بات کا، تو پھر وہی مفقود والے احکام یہاں بھی لاگو ہوں گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
کل انشاء اللہ پھر کتاب ختم کر لیں گے۔ انشاء اللہ تعالی۔
اچھا بھئی آپ کے سوال ساتھ کے ہیں نے لکھا ہے کہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ کا کوئی واقعہ سنائیں۔
حضرت شیخ رحمۃ اللہ بھئی قسم کی شخصیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کی شخصیت کیسی تھی؟ ان کا علمی مقام تو اپنی جگہ اور حسن و جمال کا کیا عالم تھا، اس سے اندازہ لگائیں کہ کئی تلامذہ آ کر بتلاتے ہیں کہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ سے یہاں حضرت شیخ رحمۃ اللہ کی زیارت سے پہلے ہم اساتذہ سے واقعات سنتے تھے، کتابوں میں پڑھتے تھے کہ اس طرح امام غزالی رحمۃ اللہ تھے، ان کا ایسا ایسا ان کو اللہ نے علم دیا تھا، اس طرح ان کا جلال تھا۔ یا اسی طرح امام رازی رحمۃ اللہ تھے یا اسی طرح امام بخاری رحمۃ اللہ تھے، بڑے بڑے جو ائمہ ہیں ان کے نام ان کے علم اور ان کے جلال کے واقعات سنتے تھے۔
لیکن اور سوچتے تھے پتا نہیں یہ کیسے لوگ ہوں گے، کس طرح کے ہوں گے۔ لیکن یہاں آتے اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ کی جب زیارت کی تو دل کو تسلی ہو گئی، دل نے خود بخود گواہی دی کہ وہ یقیناً اس طرح کے ہوں گے۔
مطلب یہ صرف ان کو دیکھنے سے ہی ایک عجیب سا تاثر پڑتا تھا انسان پر کہ اسے لفظوں میں نہیں بیان کیا جا سکتا۔ ان کے ایک دو علمی نکات بیان کر دیتا ہوں۔ بھئی آج کل تو کتابیں چھاپنا بڑا آسان ہو گیا، اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ کی کتابیں تخلیقی نوعیت کی ہیں بھئی، جن میں آپ اپنی طرف سے دلائل ذکر فرماتے، اپنی طرف سے جوابات ذکر فرماتے.
آج کل عموماً کتابیں آپ اٹھائیں گے تو وہاں صرف آپ کو نقل ملے گی، دیگر ائمہ سے، علماء سے جوابات وغیرہ نقل کیے جاتے ہیں کہ فلاں اا، امام نے اس مسئلے کا یہ یہ جواب دیا، فلاں نے یہ یہ جواب دیا۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ ان کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے بھی جوابات دیتے تھے اور وہی جوابات سب سے زیادہ تسلی بخش ہوتے تھے۔
اتنی تسلی ہو جاتی کہ ا، اتنی تسلی کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو حدیث کہا جاتا ہے، اس کو حدیث کیوں کہتے ہیں؟ علماء نے اس کی مختلف وجوہ تسمیہ ذکر کی ہیں۔
مختلف کتابوں کے اندر تقریباً اس کی پانچ چھ وجوہ تسمیہ ملتی ہیں بھئی، پانچ چھ۔ پانچ چھ۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ درسِ ترمذی میں طلباء کو تقریباً دس وجوہ تسمیہ لکھواتے تھے، جن میں سے تقریباً نصف ان کی اپنی تھیں بھئی۔
ان میں سے ایک بیان کر دیتا ہوں، ایسی عجیب وجہ تسمیہ حدیث کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے۔ فرماتے تھے کہ یہ حدیث یہ علم بالغلبہ ہے۔ یہ علم بال غلبہ ہے، علم بالغلبہ اس کو کہتے ہیں کہ لفظ ایسا ہے جو کثیرین پر صادق آتا ہو.
لیکن بعد میں کسی خاص عضل کی وجہ سے، ا، خاص فضل اور شرف کی وجہ سے کسی ایک فرد کے ساتھ وہ خاص ہو جائے بھئی۔ تو اسے کیا کہتے ہیں؟ علم بالغلبہ۔ علم بالغلبہ۔ افراد تو بہت تھے لیکن پھر ایک فرد کے ساتھ خاص ہو جائے وہ۔
تو کی، فرماتے تھے یہ علم بالغلبہ ہے حدیث۔ حدیث عربی زبان میں بات کو کہتے ہیں۔ میں کوئی بات کروں وہ بھی حدیث ہے، آپ کوئی بات کریں وہ بھی حدیث ہے، سب باتیں۔
لیکن پھر بعد میں یہ حدیث کا لفظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ساتھ خاص ہو گیا، ان کے بلند مقام کی وجہ سے۔ ان کے بلند مقام کی وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اتنے اونچے مقام والی ہیں کہ ان کے سامنے کوئی اور بات بات کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے، بات ہے تو صرف یہ ہے بھئی.
جیسے کہ مدینہ بھئی۔ مدینہ عربی میں ہر شہر کو کہتے ہیں، لیکن بعد میں ایک خاص، مدینہ تو نبی کے ساتھ کہ یہ وہ شہر ہے کہ اس کے سامنے اور کوئی شہر شہر کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔
اور جیسے ابن عباس، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ بیٹے تھے لیکن جب بھی ابن عباس کہا جائے تو مراد عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہوتے ہیں۔
کہ ان کا مقام اتنا اونچا ہے کہ باقی بیٹوں کے، کے سب میں سے صرف یہی ابن عباس کہلانے کے لائق ہیں۔ یہ جیسے البیت کا لفظ۔ بیت عربی میں مطلق کمرے کو کہتے ہیں، لیکن جب البیت کہا جائے تو مراد بیت اللہ ہوتا ہے۔
کہ اس کا مقام اتنا اونچا ہے کہ اس کے سامنے اور کوئی بیت، بیت کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے بھئی۔ تو فرماتے تھے یہ حدیث علم بالغلبہ ہے۔
اسی طرح ان کی ایک کتاب ہے فتحالعلیم بحل الإشكال العظيم في حديث كما صليت على إبراهيم.
نماز میں جو ہم درود شریف پڑھتے ہیں، درود ابراہیمی جس کے اندر کما صليت على إبراهيم کے الفاظ آتے ہیں بھئی۔ کہ اے اللہ آپ رحمت نازل فرمائیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر جس طرح آپ نے رحمت نازل فرمائی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر۔
تو کاف آیا تھا۔ کما صليت۔ اور کاف تشبیہ کے لیے ہوتا ہے۔ اور کاف کے بعد مشبہ بہ ذکر ہوتا ہے۔
زید كالأصد، زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، تو زید ہوا مشبہ، اسد ہوا مشبہ بہ۔ اور یاد رکھیے جو مشبہ بہ ہوتا ہے، وہ اعلیٰ ہوتا ہے مشبہ سے وجہ تشبیہ۔
مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے مشبہ سے بھئی۔ تو یہاں پر بھی اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام حضور علیہ السلام سے اعلیٰ ہے، اونچا ہے بھئی۔
یہ اعتراض ہوتا ہے اور بہت سے غیر مسلم مناظروں کے اندر یہ اعتراض کرتے تھے مسلمانوں پر کہ یہ درود تو تم خود پڑھتے ہو اور مسلمہ ضابطہ ہے کہ مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا تم جو کہتے ہو کہ حضور علیہ السلام کا درجہ سب سے اعلیٰ یہ بات اس طرح نہیں ہے بلکہ سب سے اونچا درجہ کس کا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا۔
تو یہ اشکال ہوتا ہے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ نے فتحالعلیم میں اس کے تقریباً 190 جوابات دیے بھئی۔
جامعہ اظہر کے شیخ اکبر جامعہ ایک مرتبہ یہاں تشریف لائے اور فتحالعلیم کو دیکھا تو بڑے حیران ہوئے اور فرمانے لگے کہ اولاد آدم میں ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی ایک مسئلے کے اتنے جوابات ہو سکتے ہیں۔
وارث رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جب میں یہ تصنیف کر رہا تھا اور بڑی محنت کرتا رہا، تقریباً چالیس جوابات میں نے لکھ لیے۔ چالیس جوابات لکھے تو پھر انتہا درجے کی محنت کے بعد تو سوچا کہ بس شاید اب جوابات مکمل ہو گئے ہیں، چنانچہ ارادہ کیا کہ کتاب مکمل ہو گئی ہے تو تو اسے بس کیا جائے۔
تو خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ خواب میں آیا اور فرمایا اس مسئلے کا یہ بھی جواب ہے، اس مسئلے کا یہ بھی جواب ہے، دو تین جوابات انہوں نے مجھے بتلا دیے، چنانچہ میں بیدار ہوا تو وہ جوابات جلدی سے لکھے اور اور یہ ان، یہ بھی فرمایا تھا انہوں نے کہ اور بھی بہت جوابات ہیں، کہتے ہیں پھر میں نے اس پر پھر محنت شروع کر دی اور چالیس سے بڑھ کر جوابات تقریباً 190 تک پھر پہنچ گئے بھئی۔
درسِ ترمذی میں ایک مرتبہ ذکر کیا بھئی۔ طلباء بتلاتے ہیں کہ سال کے اختتام پر ایک مرتبہ فرمانے لگے بھئی تمہارا یہ حدیث شریف کا سال ہے یہ وفات کے سے کچھ سال پہلے ہی کی بات ہے تو درسِ ترمذی میں طلباء سے فرمانے لگے کہ تمہارا درسِ حدیث کا سال ہے، دن رات احادیث پڑھتے رہتے ہو، سال ختم ہونے کے قریب ہے، کس کس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ہے اس سال۔
طلباء نے جواب نہیں دیا تو فرمانے لگے کہ یہ حدیث کا سال ہے، دن رات احادیث پڑھتے ہو، اگر اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں ہوگی تو پھر کس وقت ہوگی؟
اور پھر عجیب جملہ آگے فرمایا، فرمانے لگے کہ مجھے دورہ حدیث شریف کے سال سے لے کر آج تک بلا ناغہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔
غالباً یہ سن 91 یا 92 کے سال میں یہ فرمایا اور اس جماعت میں شریک طلباء نے بتلایا کہ ہمارے سال میں یہ فرمایا تھا۔
بھئی اسی سے اندازہ لگائیے وہ ایک خواب جو میں نے کتابوں کے شروع میں درج کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ تھے تو وہاں پر سب گھر والے بھی ساتھ تھے تو مولانا سید احمد خان صاحب رحمہ اللہ جو تبلیغی جماعت کے امیر تھے، انہوں نے دعوت کی حضرت کی، آپ دعوت پر گئے، وہاں ایک شخص آیا اور اس نے حضرت کو دیکھا، تو فورا پاس آ کر بیٹھ گیا اور معافی طلب کرنے لگا کہ حضرت مجھے معاف فرما دیں۔ فرمانے لگے کہ میں تمہیں جانتا ہی نہیں میں کس بات کی معافی مانگ رہے ہو؟ کہنے لگا بس آپ معاف فرما دیں۔ پھر فرمایا بھئی میں جانتا ہی نہیں کس بات کی آپ معاف، کس بات کی معاف فرما دوں؟
تو وہ کہنے لگا کہ پہلے آپ معاف فرما دیں، پھر میں بتلاؤں گا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا اچھا بھئی میں نے آپ کو معاف کیا۔ تو کہنے لگا کہ میں مدینہ منورہ ہی کا رہائشی ہوں اور یہاں میں اپنے ساتھیوں سے آپ کے علم و فضل اور تقویٰ کی باتیں سنا کرتا تھا، لیکن آپ کی زیارت نہیں کی تھی، دل میں بڑی تمنا تھی کہ کسی طرح آپ کی زیارت کروں۔
اور ہمیشہ ساتھیوں سے کہتا رہتا تھا, لیکن آپ مدینہ منورہ تشریف لاتے چند دن کے لیے پتہ ہی نہیں چلتا تھا، پتہ لگتا تو آپ واپس جا چکے ہوتے۔ یہ چند دن دو تین دن پہلے کی بات ہے آپ مسجد نبوی کے اندر نوافل کے اندر مشغول تھے تو میرے ساتھی نے آپ کو دیکھ لیا اور فورا مجھے کہنے لگا کہ بھئی تم مولانا موسی صاحب کے بارے میں پوچھتے رہتے ہو، یہ سامنے کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
تو میرے ذہن، اس سے پہلے میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا اور میرے ذہن میں تصور تھا کہ پھٹے پرانے کپڑے ہوں گے، دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوگا، ملنگ سے آدمی ہوں گے۔
والد صاحب سادہ لباس سفید کرتا اور یہ ا جبہ پہنتے تقریباً نصف پنڈلی کے لگ بھگ ہوتا، اسی طرح شلوار بھی آپ کی ٹخنوں سے کوئی بالشت بھر اونچی ہوتی تھی اور پھر سفید پگڑی اور پگڑی کے اوپر عربی انداز میں سفید ہی رومال ڈال لیتے، پھر اللہ نے قد بھی اچھا دیا، حسن و جمال بھی تھا، وہ اتنا ججتا تھا ان پر کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تو سادہ سا لباس ہوتا تھا لیکن ان پر ججتا بہت زیادہ تھا تو چنانچہ وہ کہتا ہے اس لباس میں اس نے دیکھا تو ان پر اتنا جج رہا تھا اس نے کہا کہ یہ تو کیسا لباس انہوں نے اتنا زبردست پہنا ہوا ہے، حالانکہ عام سا لباس تھا سادہ۔
تو میرے دل میں بدگمانی پیدا ہو گئی اور میں آپ سے ملے بغیر ہی واپس آ گیا تھا۔ کہا زبان سے بھی کچھ نہیں کہا بھئی۔
رات کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے غضب کی حالت میں غصے میں دیکھ کر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں میں ڈر گیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا ہوا؟
فرمایا کہ تم میرے موسی کے بارے میں بدگمانی کرتے ہو، فوراً مدینے سے نکل جاؤ۔ میں نے معافی کی درخواست کی بار بار تو فرمانے لگے کہ اگر وہ معاف کر دیں تو ٹھیک ہے ورنہ تمہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں۔
تو کہتے ہیں اس دن سے میں آپ کو تلاش کر رہا تھا آج آپ ملے ہیں تو آپ سے معافی کے لیے حاضر ہو گیا۔
اندازہ تو لگائیے بھئی! اس شخص نے زبان سے بھی کچھ نہیں کہا، کوئی تکلیف بھی نہیں دی۔
صرف دل میں بدگمانی آئی اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی سخت ناراضگی کا اسے سامنا کرنا پڑا۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا عند اللہ اور اللہ کے نزدیک اور اللہ کے پیغمبر کے نزدیک کیا مقام تھا، کتنا تعلق تھا۔
اللہ دعا کرو اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کے علوم میں سے ہم سب کو اللہ بڑا حصہ نصیب فرمائے۔
جب آپ کا انتقال ہوا تو بعض لوگوں نے خواب میں دیکھا اور خواب میں آپ نے ان سے فرمایا کہ میرا انتقال اپنے وقت سے ایک ہزار سال پہلے ہی ہو گیا۔
ابھی میری موت میں ایک ہزار سال باقی تھے اس سے پہلے ہی میرا انتقال ہو گیا۔
بعد میں علماء سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو علماء فرمانے لگے کہ اس خواب کا معنی یہ ہے کہ حضرت کے انتقال سے اتنا بڑا علمی نقصان ہوا ہے کہ ایک ہزار سال تک اس کی کمی پوری نہیں ہو سکے گی وہ۔
اللہ اللہ یہ تو وقت اوپر ہو گیا میرا ارادہ تھا دعا کر لیں گے بھئی چلیے خیر دعا کر ہی لیں گے انشاءاللہ۔