فصل فی المفقود۔ المفقود حی فی مالہ حتی لا یرث منہ احد و میت فی مال غیرہ حتی لا یرث حتی لا یرث من احد ویوقف مالہ حتی یصح موتہ او تمضی علیہ مدۃ واختلف الروایات فی تلک المدۃ وفی ظاہر الروایۃ انہ اذا لم یبق احد من اقرانھ حکم بموتہ۔
فصل فی المفقود۔ یہ فصل ہے گمشدہ کے بیان میں۔ مفقود گمشدہ وہ شخص جو غائب ہے گم ہے پتا ہی نہیں جس کا کہ زندہ ہے یا مردہ ہے، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا کچھ پتا ہی نہیں وہ کیا ہے مفقود۔ تو اس فصل میں مفقود یعنی گمشدہ کے میراث کے مسائل بیان ہوں گے۔
المفقود حی فی مالہ مفقود جو ہے زندہ ہے وہ شخص وہ غائب شخص وہ گمشدہ شخص زندہ ہے فی مالہ اپنے مال کے بارے میں، اپنے مال کے حق میں۔ یوں سمجھا جائے گا بھئی اپنے مال کے بارے میں جیسے کہ وہ زندہ ہے اور زندہ ہو تو اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا تو یہاں بھی اس کا مال وارثوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
تو مفقود جو ہے وہ زندہ ہے اپنے مال کے حق میں حتی لا یرث منہ احد یہاں تک کہ کوئی وارث نہیں بنے گا لا یرث منہ احد یہاں تک کہ کوئی ایک بھی وارث نہیں بنے گا اس سے۔ یعنی کوئی اس کا وارث نہیں بنے گا کسی کو اس کا مال نہیں ملے گا یوں سمجھا جائے گا یہ ابھی زندہ ہے۔
ومیت فی مال غیرہ اور یہ جو مفقود ہے یہ مردہ ہے اپنے غیر کے مال میں۔ غیر کے مال کے حق میں اسے کیا سمجھا جائے گا؟ مردہ ہے۔ حتی لا یرث من احد یہاں تک کہ یہ وارث نہیں ہوگا کسی ایک سے بھی۔
بھئی اس کے رشتہ داروں میں سے کسی کا انتقال ہوا اور اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو بھی مال ملتا اس میں سے لیکن یہ ہے مفقود اور یہ غیروں کے مال میں کیا شمار ہوگا؟ مردہ شمار ہوگا۔ تو لہذا کسی کا یہ وارث نہیں بنے گا بھئی۔ یوں سمجھا جائے گا اس کا اس سے پہلے ہی انتقال ہو چکا تو یہ اس کے مال کا وارث نہیں بنے گا۔
ویوقف مالہ حتی یصح موتہ اور روکا جائے گا اس کے مال کو یہاں تک کہ صحیح ہو جائے اس کی موت یعنی ثابت ہو جائے اس کی موت پتا لگ جائے۔ او تمضی علیہ مدۃ یا اس پر ایک مدت گزر جائے۔
اس کا مال روک کے رکھا جائے گا بھئی اس کا جو مال تھا اس کو روک کر رکھا جائے گا یہاں تک کہ اس کی موت ثابت ہو جائے پتا چل جائے کہیں سے کہ اس کا تو انتقال ہو چکا یہ مر چکا فلاں جگہ پر یا اس پر ایک مدت گزر جائے بھئی۔ اس وقت تک اس کے مال کو روک کر رکھیں گے۔ کتنی مدت گزر جائے؟ آگے ذکر کر رہے ہیں کہ اس بارے میں بہت سے روایات ہیں بھئی۔
چند اقوال یہ ذکر کریں گے اور تقریبا ویسے دس بارہ اقوال تک ہیں اس بارے میں بھئی۔
واختلف الروایات فی تلک المدۃ اور مختلف ہیں روایتیں اس مدت میں کے بارے میں، مختلف روایتیں آئی ہیں۔ وفی ظاہر الروایات فظاہر روایت میں ہے کہ انہ اذا لم یبق ظاہر روایت کیا ہے اس بارے میں بھئی؟ ظاہر روایت کسے کہتے ہیں؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں اور ان میں جو مسئلہ مذکور ہو اسے ظاہر روایت کہا جاتا ہے۔
اور وہ کون کون سی چھ کتابیں ہیں؟ سیر صغیر، سیر کبیر، جامع صغیر، جامع کبیر، مبسوط اور زیادات۔ یہ ہر وقت آپ کو یاد ہونی چاہئیں بھئی۔
وفی ظاہر الروایۃ فظاہر روایت میں ہے کہ انہ اذا لم یبق احد من اقرانھ حکم بموتہ کہ جب کوئی ایک بھی باقی نہ رہے اس کے ساتھیوں، اس کے ہم عمروں میں سے حکم بموتہ تو حکم لگا دیا جائے گا اس کی موت کا۔
جب اس کے ہم عمر اس کے جو ساتھی تھے بھئی ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ رہے تو پھر فیصلہ کر دیا جائے گا اس کی موت کا کہ اب ساتھیوں میں سے تو کوئی اس کے ہم عمروں میں سے تو کوئی بھی زندہ نہیں رہا تو یہ بھی یقینا اب انتقال کر چکا ہوگا بھئی۔
وروی الحسن بن زیاد عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی اور حسن بن زیاد روایت کرتے ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی سے کہ ان تلک المدۃ مئۃ وعشرون سنتا کہ وہ مدت ایک سو بیس سال ہے من یوم ولد فیہ المفقود اس دن سے جس میں مفقود کی پیدائش ہوئی تھی۔
یعنی مفقود کی پیدائش سے لے کر اس دن تک ایک سو بیس سال پورے ہو جائیں۔ گھمے ہوئے سو بیس سال نہیں ہوئے بلکہ جب اس کی پیدائش سے کتنے ہو جائے اس کی عمر؟ ایک سو بیس سال کی مدت اس میں پوری ہو جائے تو اس وقت فیصلہ کر دیا جائے گا اس کی موت کا۔
وقال محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں مئۃ وعاشر سنینا ایک سو دس سال۔ ایک سو دس سال جب اس کی عمر ہو جائے پیدائش سے لے کر تو پھر اس کی موت کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
وقال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی مئۃ و خمس سنینا ایک سو پانچ سال۔ ایک سو پانچ سال جب اس کی عمر ہو جائے تو اس وقت اس کی موت کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
وقال بعضہم تسعون سنتا اور کہا ہے بعضوں نے نوے سال۔ وعلیہ الفتوی اور اسی پر فتوی ہے۔ اسی کیونکہ عام طور پر نوے سال تک بھی بہت کم لوگ زندہ رہتے ہیں اس سے زائد خاص طور پر تو بل بہت ہی نادر ہیں اور النادر کالمعدوم، نادر کو شمار نہیں کیا جاتا گو تو یہ بس نوے بیان فقہاء فرماتے ہیں کہ نوے سال کا ہو جائے اور اسی پر فتوی ہے بھئی۔
وقال بعضہم اور کہا ہے بعض نے مال الم یہ تو انہوں نے تین چار قول ذکر کر دیے بھئی میں نے بتایا دس بارہ اقوال تک ہیں اس بارے میں بھئی۔ وقال بعضہم اور بعض کہتے ہیں مال المفقود موقوف الی اجتہاد الامام کہ مفقود کا مال موقوف وہ روکا جائے گا الی اجتہاد الامام، خلیفہ کے اجتہاد تک، قاضی شہر کے امام حاکم جو ہے خلیفہ وغیرہ اس کے اجتہاد تک اس کے مال کو روکا جائے۔
خلیفہ کے اجتہاد سے کیا مراد ہے؟ یعنی جب اس خلیفہ کی، حاکم کی رائے
یہ ہو جائے کہ اب یہ مر چکا ہوگا
بعض نے کہا کوئی مدت متعین نہیں ہے بلکہ کب تک روکیں گے؟
جب خلیفہ امام کی کیا رائے ہو جائے کہ اب مر چکا ہوگا بھئی جس اور یہ جب بھی اس کی رائے ہو جائے تو اس وقت تک اس کے مال کو روک کر رکھا جائے گا
و موقوف الحکم فی حق غیرہ
اسی طرح ہے عبارت آپ کی کتابوں میں
و موقوف الحکم اس سے پہلے کوئی لفظ تو نہیں ہے؟ اچھا یہ خبر ہے یاد رکھیے اور مبتدا محذوف ہے
اور وہ ہے المفقود
المفقود یا ہوا ضمیر نکال لیں اس کے مطابق ہوا ہوا تو راجے ہوگی مفقود کو
اور مفقود جو ہے موقوف الحکم وہ موقوف الحکم ہے
یعنی اس کا حکم موقوف ہے بھئی اس کا حکم موقوف ہے فی حق غیرہ اپنے غیر کے حق میں
اپنے اپنے علاوہ کے حق میں اس کا حکم موقوف ہے یعنی اس کا حکم موقوف رکھا جائے گا غیر کے حق میں اس کا حکم موقوف رکھا جائے گا
حتی یوقف نصیبہ من مال مورثہ یہاں تک کہ روکا جائے گا اس کا حصہ اس کے مورث کے مال میں سے
یہاں تک کہ روکا جائے گا اس کا حصہ اس کے مورث کے مال میں
بھئی اس کا مال تو روکا گیا ہے وہ تو اس کے آگے وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوگا ہاں اس کے علاوہ اگر کسی اور رشتہ دار کا انتقال ہوتا ہے اور یہ اس کا وارث بنتا ہے اگر زندہ ہوتا تو یہ بھی کیا بنتا اس کا وارث بنتا
تو کہتے ہیں اس کا حصہ روک کے رکھا جائے گا مورث کے مال میں سے اس کے مورث کے مال میں سے اس کا حصہ روک کر رکھا جائے گا جیسے حمل میں آپ نے پڑھا بھئی حمل کا حصہ روک لیا جاتا تھا اور وارثوں کو کمتر حصہ دیا جاتا تھا یہاں بھی اسی طرح ہوگا آگے آپ کو بتلائیں گے
کہ دونوں مسئلے بنا لیے جائیں گے
ایک صورت بنا لیں گے جس میں مفقود زندہ ہو تو پھر وارثوں کو کتنا کتنا ملتا
دوسری صورت بنا لیں گے جس میں مفقود مر چکا ہو تو پھر وارثوں کو کتنا کتنا حصہ ملتا تو اس کے مطابق چیز پھر اس صورت میں وارثوں کو کمتر حصہ دے دیں گے کیا کریں گے؟ کمتر حصہ وارثوں کو دے دیں گے اور باقی روک کر رکھا جائے گا
اور خود اس کا حصہ بھی روک کر رکھیں گے بھئی حتی یوقف نصیبہ من مال مورثہ یہاں تک کہ روکا جائے گا اس کا حصہ اس کے مورث کے مال سے کما فی الحمل جیسے کہ حمل میں تھا
فاذا مضت المدۃ فمالہ لورثۃ الموجودین عند الحکم بموتہ پس جب وہ مدت گزر جائے
یاد رکھیے صرف مدت کا گزرنا کافی نہیں ہے بھئی یہ نہیں کہ مدت گزر جائے اور اس کے بعد مال کو بے دھڑک وارث آپس میں تقسیم کر لیں نہیں پھر بھی قضا قاضی ضروری ہے کیا ضروری ہے؟ قضا قاضی کا فیصلہ ضروری ہے وہ فیصلہ لکھ کے دے کہ اب اس کا انتقال ہو چکا ہوگا اس کے بعد پھر وہ وراثت کے احکام ہوں گے بھئی
فاذا مضت المدۃ پس جب وہ مدت گزر جائے فمالہ لورثتہ الموجودین تو اس کا مال اس کے ان وارثوں کے لیے ہوگا جو موجود ہوں گے عند الحکم بموتہ اس کی موت کے فیصلے کے وقت
جس وقت اس کی موت کا فیصلہ کیا گیا اس وقت گویا ابھی مرا ہے کیا سمجھا جائے گا؟ ابھی مرا ہے تو اس وقت جو زندہ ہیں صرف ان کو ملے گا مال جو اس سے پہلے مر چکے ان کو نہیں ملے گا
و ما کان موقوفا لا جعلہ آپ کی کتابوں میں بھی جعلہ ہے؟ ہاں میری کتاب میں لا جعلہ ہے بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے لا جعلہ نہیں بلکہ لاجلہ لاجلہ و ما کان موقوفا لاجلہ اور وہ مال جو روکا گیا تھا اس کی وجہ سے
بھئی اس کے مورث کا انتقال ہوا تھا اور اگر مفقود زندہ ہوتا تو اس کو بھی مال ملتا تو ہم نے کیا کیا اس کے حصے کو روک رکھا تھا اب تک تو کہتے ہیں وہ جو مال روکا گیا تھا اس کی وجہ سے یرد الی وارث مورثہ الذی وقف مالہ
وہ لوٹا دیا جائے گا الی وارث مورثہ اس کے مورث کے وارث کی طرف کس کو لوٹا دیا جائے گا؟
اس کے مورث کے جو اور وارث تھے جن کا حصہ روکا گیا تھا ان کی طرف کیا کیا جائے گا؟ جن کے حصے کم دیے تھے بھئی بعضوں کو حصے اس کی وجہ سے کم ملے ہوں گے
بعض اس کی وجہ سے بالکل محروم ہو گئے ہوں گے اگر یہ نہ ہوتا ان کو ملتا اور اگر یہ ہم نے تو ایک حساب کون سا لگایا؟ جس میں یہ زندہ کی ہونے والی صورت تھی اور اس صورت میں وہ محروم ہو رہے تھے اور اگر اس کو مردہ فرض کیا جاتا تو ان کو بھی مال ملنا تھا تو چاہے کسی کو سرے سے محروم کر کے مال روکا گیا تھا چاہے صرف اس کے حصے میں کمی کی گئی تھی تو جن جن کا حصہ روکا گیا تھا وہ ان کو دوبارہ دے دیا جائے گا اگر ان میں سے وہ لوگ زندہ ہوئے
اگر زندہ نہ ہوئے تو پھر ان کے ان کے وارثوں کو دے دیا جائے گا
تو یہ معنی ہے و ما کان موقوفا لاجلہ اور وہ مال جو روکا گیا تھا اس مفقود کی وجہ سے یرد الی وارث مورثہ الذی وقف مالہ تو یہ مال لوٹا دیا جائے گا
الی وارث مورثہ
اس کے مورث کے اس وارث کی طرف اس کے ترجمے پہ توجہ رکھنا اس کے مورث کے اس وارث کی طرف مال لوٹا دیا جائے گا الذی وقف مالہ جس کے مال کو روکا گیا تھا
و الاصل فی تصحیح مسائل المفقودی اور ضابطہ جو ہے مفقود کے مسائل کی تصحیح میں وہ یہ ہے کہ ان تصحح المسئلۃ علی تقدیر حیاتہ کہ تصحیح کر لی جائے مسئلہ کی اس کی زندگی کے
کی تقدیر پر اس کی زندگی کے فرض کرنے کی صورت پر کیا کر لیا جائے مسئلہ کی تصحیح یعنی ایک مسئلہ بنا لیں گے کہ اگر یہ زندہ ہوتا تو مال اس طرح تقسیم ہوتا
اس کے مورث کا انتقال ہوا ہے مال اس کو بھی ملنا تھا تو اس طرح تقسیم ہوتی
ثم تصحح علی تقدیر وفاتہ پھر تصحیح کر لی جائے مسئلہ کی اس کی وفات کی تقدیر پر اس کی وفات کو فرض کرتے ہوئے کہ اگر یہ مردہ ہوتا پھر کس طرح مال کی تقسیم ہوتی
و باق العمل ما ذکرنا فی الحمل اور باقی کا عمل وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا حمل کے اندر باقی اسی طرح کر لیا جائے گا بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام