فصل فی الحمل۔ اکبر مدت الحمل سنتان عند ابی حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی و عند لیس ابن سعد ثلاث سنین و عند شافعی رحمۃ اللہ تعالی اربع سنین۔ و عند زہری سبع سنین و اقلہا ستۃ اشہر ویوقو للفحمل عند ابی حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی نصیبو نصیبو اربعۃ بنین او اربع بنات ایہما اکثر۔
فصل فی الحمل یہ فصل ہے حمل کے بیان میں یعنی اس کی میراث کے احکام بیان ہوں گے بھئی۔ حمل وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو۔ تو دیکھیے یہ کتنا ضروری مسئلہ ہے اور کتاب کے اخر میں ذکر اور عموما کتاب کا یہ حصہ پڑھایا ہی نہیں جاتا بھئی۔
حالانکہ کتنا ضروری مسئلہ کہ یہ تو عام پیش انے والا مسئلہ ہے بھئی کہ اگر میت مرنے والے کا انتقال ہو اور اس کی بیوی حاملہ ہو تو وہ بھی وہ حمل بھی وارث بنے گا بھئی اگر وہ زندہ پیدا ہوا۔ یا اسی طرح اس کی کوئی اور رشتہ دار عورت وہ حاملہ ہے کہ اس کے جو حمل پیدا ہو گا یعنی اگر اس کا بیٹا ہوتا یا بیٹی تو وہ وارث بنتے تو یہ جو حمل ہے اس کے پیٹ میں یہ بھی کیا بنے گا؟ وارث بنے گا بھئی۔
جی دیکھیے کہتے ہیں اکبر مدت الحمل سنتان عند ابی حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک۔ و عند لیس ابن سعد ثلاث سنین اور لیس ابن سعد رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک تین سال ہے بھئی حمل کی اکثر مدت۔ و عند شافعی رحمۃ اللہ تعالی اربع سنین اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہے و عند زہری سبع سنین اور زہری کے نزدیک زہری رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک سات سال ہے بھئی سات سال۔
امام صاحب کے نزدیک زیادہ سے زیادہ بچہ ماں کے پیٹ میں کتنے عرصے تک رہ سکتا ہے؟ دو سال تک بھئی جبکہ دیگر بعض ائمہ کا مذہب ذکر ہوا کہ بعض کے نزدیک تین سال ہے، بعض کے نزدیک چار سال اور بعض کے نزدیک سات سال ہے۔
امام صاحب کی دلیل بھئی یہ آپ کے حاشیہ میں دی ہوئی ہے حدیث ہے بھئی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں لا یبقوالولد فی بطن امہ اکثر من سنتین کہ باقی نہیں رہ سکتا بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ ولو بفلکۃ مغزلین اگرچہ چرغے کے ایک پہیے جتنا ہی کیوں نہ ہو یعنی اس کے ایک گھومنے کی مقدار ہی کیوں نہ ہو اگرچہ وہ جو چرغا بھئی جس پر سوت کاٹتے ہیں وہ اس کے ایک پہیے گھومنے کی مقدار ہی کیوں نہ ہو اتنی مقدار بھی دو سال سے اوپر وہ نہیں رہ سکتا بھئی یعنی دو سال حد ہے انتہائی اس سے زیادہ حمل ماں کے پیٹ میں رہ ہی نہیں سکتا یہ ہے امام صاحب کی دلیل بھئی۔
اور اس قسم کی بات عقل کے ذریعے تو نہیں ہو سکتی یقینا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا تو تو ہماری یہ دلیل ہے بھئی۔
جبکہ باقی ائمہ کی جو دلیلیں ہیں تین سال یا چار سال یا سات سال وہ جزئی واقعات کو دلیل بناتے ہیں۔ کس کو بناتے ہیں؟ جزی واقعات کو کہ فلاں شخص جو ہے وہ تین سال تک ماں کے پیٹ میں رہا یا فلاں جو ہے وہ چار سال تک رہا یا فلاں وہ سات سال تک رہا بھئی۔
و اقلوہا ستۃ اشہر اور حمل کی کم سے کم مدت جو ہے وہ چھ ماہ ہے بھئی۔
بھئی اکثر مدت میں تو ائمہ کا اختلاف ہے لیکن اقل مدت میں اختلاف نہیں ہے اقل مدت کتنی ہے حمل کی؟ چھ ماہ، چھ ماہ کے اندر پورے بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے صحیح طور پر۔
و دلیل اس کی قران میں اللہ فرماتے ہیں و حملوہ و فصالہ ثلاثون شہرا کہ حمل اور اس کا دودھ چھڑانا یہ کتنے ہیں؟ بیس مہینے ہیں اور دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں و فصالہ فی عامین کہ اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوگا، دو سال۔ تو دو سال دودھ پینے کا زمانہ دو سال میں 24 مہینے ہو گئے اور کل کتنے تھے؟ تیس تو 30 میں سے 24 نکالیے کتنے رہ گئے؟ چھ ماہ تو یہ اقل مدت ہے بھئی حمل کی۔
و یوقوف للحمل عند ابی حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی نصیبو اربعۃ بنین او اربع بنات ایہما اکثر۔ و یوقوف اور روکا جائے گا حمل کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک نصیبو اربعۃ بنین چار بیٹوں کا حصہ یا چار بیٹیوں کا حصہ ایہما اکثر جو بھی ان میں سے زیادہ ہوا۔
امام صاحب فرماتے ہیں بھئی حمل کے لیے مال کو روک کر رکھا جائے گا کچھ حصہ روک لیں گے باقی وارثوں میں تقسیم کر دیں گے اور کتنا حصہ روکا جائے گا؟ چار بیٹوں کے برابر حصہ یا چار بیٹیوں کے برابر جو ان میں سے زیادہ ہوا وہ زیادہ روک کر رکھیں گے اور باقی وارثوں کو وہ کم دیر حصہ دے دیں گے بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی چار بیٹوں یا چار بیٹیوں کا کیوں روکیں گے؟ وجہ اس کی یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ اب تک جو عملی ثبوت ملا ہے کہ ایک عورت کے زیادہ سے زیادہ چار بیٹے ہوئے ہیں۔ ایک عورت کے زیادہ سے زیادہ چار بیٹے ہوئے ہیں تو ہو سکتا ہے اس کے بھی کتنے ہو جائیں؟ چار ہو جائیں امکان تو ہے تو اس لیے یہ جائیداد اتنی اس کے لیے روک کر رکھی جائے بھئی۔
جی تو امام صاحب فرماتے ہیں روکا جائے گا حمل کے لیے چار بیٹوں یا چار بیٹیوں کا حصہ ایہما اکثر ان میں سے جو بھی زیادہ ہوا و یعطی لبقیۃ الورثۃ اقل الانصبائی اور دے دیا جائے گا باقی وارثوں کو کمتر حصہ باقی وارثوں کو کمتر حصہ دے دیا جائے گا بھئی جب اس کے لیے چار کا روک لیا تو باقیوں کے حصے کم ہو گئے یا نہیں خود بخود؟ باقیوں کے حصے تو وہ ان کو دے دیے جائیں گے کمتر حصہ باقی وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ و عند محمد رحمۃ اللہ تعالی اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک یوقوف نصیبو ثلاثۃ بنین او ثلاث بنات ایہما اکثر کہ روکا جائے گا تین بیٹوں کا یا تین بیٹیوں کا حصہ ایہما اکثر جو ان دونوں میں سے زیادہ ہوا روایہ لیس ابن سعد یہ روایت کیا ہے اس کو لیس ابن سعد نے امام محمد سے و فی روایۃ اور دوسری روایت میں ہے یعنی امام محمد رحمۃ اللہ سے دوسری روایت میں آیا ہے نصیبو ابنینی دو بیٹوں کا حصہ روکا جائے گا وہ و قول الحسن اور یہی قول ہے حسن بصری رحمۃ اللہ کا بھی و احدی الروایتین عن ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی سے روایہ عنہشام جو ان سے روایت کی ہے ہشام نے و روا الخصاف رحمۃ اللہ عن ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی انہ یوقوف نصیب ابن نصیب ابن واحد او بنت واحدۃ وعلیہ الفتوی اور روایت کیا گیا ہے روایت کیا ہے امام خصاف نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ سے کہ روکا جائے گا ایک بیٹے یا ایک بیٹی کا حصہ حمل کے لیے ایک بیٹے یا ایک بیٹی کا حصہ روکا جائے گا وعلیہ الفتوی اور اسی پر فتوی ہے کیونکہ عموما ایک بیٹا یا ایک بیٹی ہی ایک حمل سے پیدا ہوتے ہیں بھئی۔
و یوقود الکفیل علی قولہ اور لیا جائے گا ضامن علی قولہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ کے قول پر وہ بھئی یہ جو اخری قول ایا ان کا کہ ایک بیٹا ایک بیٹے یا ایک بیٹی کا حصہ روک لیا جائے گا حمل کے لیے اور وارثوں سے ضامن لے لیا جائے گا بھئی کیا لے لیا جائے گا؟ ضامن لے لیں گے بھئی کوئی ضمانت دے ان کی طرف سے کہ اگر دو ہو گئے یا تین ہو گئے تو تم پھر اتنا اتنا حصہ واپس کرو گے جو اس کا حق بنتا ہے وہ اس کو دو گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ فان کان الحمل من المیت اگر وہ حمل مرنے والے کی طرف سے ہے یعنی شخص کسی شخص کا انتقال ہوا اور اس کی بیوی حاملہ تھی تو یہ حمل کس کی طرف سے ہے؟ مرنے والے کی طرف سے۔ فان کان الحمل من المیت پس اگر حمل مرنے والے کی طرف سے ہے و جاءت بالولد اور وہ لے ائی اس کی بیوی بچے کو یعنی اس نے اس کو بچے کو اس کے بچے کو جنم دیا تمام اکثری مدت الحمل اکثر مدت حمل
کے پورا ہونے کے وقت، اور اقل منھا یا اس سے کم میں، ولم تکن اقر باقضاء العدۃ اور اس نے اقرار نہیں کیا تھا عدۃ کے گزر جانے کا۔
اس عورت نے اپنے عدۃ کے گزر جانے کا اقرار نہیں کیا تھا۔
یرث ویرث عنہ، یرث یہ حمل جو تھا، یہ جو اب پیدا ہوا، یہ وارث بنے گا، ویرث عنہ اور اس سے وارث بنیں گے، یعنی وہ جو اس کے، یعنی بھئی دیکھیے۔
کسی شخص کا انتقال ہوا، اور اس کے انتقال کے بعد دو سال پورے ہونے پر یا دو سال سے پہلے پہلے اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا۔
تو اب دیکھیے اکثر مدت کتنی ہے؟ دو سال اور اس نے بھی دو سال کے پورا ہونے پر بچے کو جنم دیا یا اس سے پہلے ہی جنم دے دیا ہے تو مرنے والے سے اس کا نصب ثابت ہو جائے گا۔ معلوم ہوا یہ اس کا بیٹا ہے۔
جب بیٹا ہے تو یہ اس کا وارث بنے گا بھئی۔
اور جب یہ اس کا بیٹا ہے، اب یہ وارث بن گیا، اس کا حصہ اس کو دیا جائے گا، اور اس کا اگر انتقال ہو جاتا ہے، فرض کریں تھوڑی دیر بعد اس کا کیا ہوا؟ انتقال، تو پیدا تو زندہ ہوا تھا، وارث کو یہ بن گیا، کیونکہ باپ کے انتقال کے وقت یہ حمل موجود تھا، تو یہ وارث بن گیا، اور پھر کچھ دیر بعد پیدائش کے بعد اس کا انتقال ہو جاتا ہے، تو اب یہ وہ خاوند کا بیٹا تھا، تو اس کے جو رشتہ دار ہیں وہ اس کے بھی رشتہ دار ہیں۔
جب اس کے رشتہ دار ہیں تو یہ جب مرے گا، تو اب اس کے مال کے وہ وارث بنیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے یرث ویرث عنہ، کہ یہ وارث بنے گا ویرث عنہ اور اس سے وارث بنا جائے گا، یعنی وہ رشتہ دار وارث بنیں گے اس سے۔
وان جاءت بالولد لاكثر من اكثر مدت الحمل اور اگر وہ بیوی اس کی لے آئی بچے کو، یعنی اس بچے کو اس نے جنم دیا لاكثر من اكثر مدت الحمل حمل کی اکثر مدت سے زیادہ میں۔
یعنی دو سال کے بعد اس نے بچے کو جنم دیا، لا یرث، تو وارث نہیں بنے گا، کیونکہ نصب ہی نہیں ثابت ہوگا بھئی، کیونکہ اکثر مدت حمل ہے ہی کتنی؟ دو سال، اور یہ دو سال کے بعد جا کر ایک بچے کو جنم دے رہی ہے، معلوم ہوا یہ خاوند کی اولاد نہیں ہے، نصب ثابت نہیں ہوگا، جب نصب ثابت نہیں اس کی اولاد نہیں تو ظاہری بات ہے کہ وارث بھی نہیں بنے گا۔
یہ تو وہ صورت تھی جب حمل مرنے والے کی طرف سے تھا، یعنی اس کی بیوی حاملہ تھی۔
وان کان من غيره، اور اگر حمل کسی اور سے ہو، یعنی خاوند کے کسی اور رشتہ دار کی بیوی حاملہ ہے۔
اس شخص کا انتقال ہوا، جس کا اس کا کوئی اور رشتہ دار ہے، چاہے وہ مرنے والی بیوی تھی یا خاوند تھا۔
اس کا کوئی اور رشتہ دار ہے، اور اس کی بیوی حاملہ ہے، اور اس کی اگر اولاد ہو، تو وہ اس کی وارث بنتی۔
اگر اس کی اولاد ہو، تو اسے کیا بنتی؟ وارث بنتی، تو وہ حمل بھی لازمی بات ہے، اس کا وارث بنے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
مصلحتا کیا صورت بنا لیں۔
بھئی کی بیوی مثلا حاملہ ہے، اس کے، اور بھئی کا بھی بعد میں کیا ہو گیا؟ انتقال ہو گیا، تو آگے اس کا بیٹا پیدا ہوا، اور کوئی عصبہ ہے نہیں تو یہ بیٹا کیا بن جائے گا اس کا؟ عصبہ بن جائے گا لازمی بات ہے یہ وارث بنے گا۔
تو غیر سے کیا مراد ہے یہاں جو آیا؟ وہ جو کیا بن سکتا ہو اس کا؟ وارث بن سکتا ہو بھئی۔
تو وہ کہتے ہیں وان کان من غيره اور اگر وہ حمل جو ہے، اس میت کے علاوہ کسی سے ہوا، وجاءت بالولد لستة اشهر اور وہ اس نے بچے کو جنم دیا چھ ماہ میں، او اقل منھا یا چھ سے کم میں، یرث، تو وہ وارث بنے گا۔
وان جاءت به لاكثر من اقل مدت الحمل لا یرث، اور اگر اس نے بچے کو جنم دیا، حمل کی اقل مدت سے زیادہ کے اندر، لا یرث، تو وہ وارث نہیں بنے گا۔
بھئی مرنے والے کا جو حمل تھا، اس میں تو ہم نے کہا تھا اکثر مدت کا لحاظ رکھنا ہے، اگر اس کی بیوی دو سال میں بچے کو جنم دے دے، یا دو سال سے پہلے تو وہ اسی کا بیٹا شمار ہوگا، اور وارث بھی بنے گا، اور اگے باقی رشتہ دار بھی پھر اس سے وارث بنیں گے۔
لیکن اگر حاملہ کوئی اور رشتہ دار عورت تھی اس مرنے والے کی، تو اس میں یاد رکھیے تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ اگر اس نے چھ ماہ کے پورا ہونے پر یا اس سے پہلے پہلے بچے کو جنم دے دیا۔
مرنے مرلے کے، اس کے انتقال کے پورے چھ ماہ بعد یا اس سے پہلے پہلے بچے کو جنم دیا تو یہ بچہ اب وارث بنے گا اس کا، اگر وارث بن سکتا ہے تو وارث بنے گا۔
لیکن چھ ماہ سے زیادہ کے بعد اس نے بچے کو جنم دیا، اب وارث نہیں بنے گا، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ اس کا حمل بعد میں ٹھہرا ہو بھئی، اور یہ پیدا ہو گیا ہو اقل مدت میں، مثلا بھئی ساڑھے چھ ماہ کے بعد اس کی ایک رشتہ دار خاتون نے ایک بچے کو جنم دیا۔
تو یہ وارث بنے گا یا نہیں؟ نہیں بنے گا۔
کیوں؟ کیونکہ چھ ماہ سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے، چھ ماہ پندرہ دن گزر چکے ہیں، تو ہو سکتا ہے اس وقت یہ حمل تھا ہی نہیں اس عورت کے پیٹ میں یہ حاملہ ہی اس کے بعد ہوئی ہے اور چھ ماہ میں کیا ہوا بچے کی بچے کی پیدائش ہو گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چونکہ یہاں یہ امکان ہے اس وجہ سے وہ وارث نہیں بنے گا کہ ہو سکتا ہے بعد میں حمل ٹھہرا ہو۔
تو کہتے ہیں وان جاءت به لاكثر من اقل مدت الحمل لا یرث، اگر اس نے بچے کو جنم دیا حمل کی اقل مدت سے زیادہ کے اندر لا یرث تو وہ وارث نہیں بنے گا۔
فان خرج اقل الولد ثم مات لا یرث، فقہائے کرام پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں، کتنے مسائل کو ہمارے لیے آسان کر دیا ایک ایک امکانی صورت بیان کر دی بھئی، ایک ایک امکانی صورت۔
اب دیکھیے بھئی ایک عورت حاملہ تھی، اور اس میں آپ نے پڑھا کہ حمل بھی وارث بنتا ہے، حمل بھی وارث بنتا ہے۔
اب یاد رکھیے کہ اگر پیدائش کے وقت حمل مردہ تھا، پھر تو وہ وارث نہیں بنے گا۔
پیدائش کے وقت اگر وہ مردہ تھا تو وارث نہیں۔
لیکن اگر پیدائش کے وقت زندہ تھا، اور پھر کچھ دیر بعد اس کا انتقال ہوا تو پھر یہ وارث بنے گا۔
وہ مال اس کے حصے میں آیا، اور پھر اس سے آگے اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب ایک بچہ پیدائش کے وقت زندہ تھا، اور پھر پیدائش کے دوران ہی اس کا انتقال ہو گیا، اب اس کا کیا کریں؟ وارث ہوگا یا وارث نہیں۔
پیدائش کے وقت وہ رویا، پتہ لگا وہ زندہ ہے، اور پھر فورا ہی کیا ہوا اس کا؟ انتقال ہوا، فقہائے کرام نے وہ صورت بھی بتلا دی اور بیان کر دی، فرماتے ہیں کہ للاکثر حکم الکل اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، اگر نصف بچے آ یعنی اکثر بچہ باہر نکل چ باہر نکلا اور اس وقت وہ زندہ تھا تو اسے زندہ شمار کریں گے اور پھر فورا مر گیا تو اب وارث بھی بنے گا اور آگے رشتہ داروں کی طرف اس کی وراثت منتقل ہوگی، اور اگر اکثر حصہ نہیں نکلا تھا اس سے پہلے ہی مر گیا تو اس کو مردہ ہی شمار کیا جائے گا۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ بھی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں فان خرج اقل الولد پس اگر نکلا بچے کا تھوڑا سا حصہ ثم مات پھر مر گیا لا یرث تو وہ وارث نہیں بنے گا، یعنی اس وقت زندہ تھا لیکن پھر مر گیا تو وارث نہیں بنے گا۔
وان خرج اکثره ثم مات اور اگر اس کا اکثر حصہ نکل آیا پھر وہ مر گیا یرث تو وہ وارث بنے گا۔
اب بھئی پتہ کیسے چلے بھئی اکثر حصہ نکلا ہے یا اکثر حصہ نہیں نکلا، وہ بھی تفصیل بیان کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں فان خرج الولد مستقیما پس اگر بچہ سیدھا نکلا، سیدھا نکلا یعنی سر باہر پہلے نکلا، فالمعتبر صدرہ تو معتبر اس کا سینہ ہے۔
یعنی اگر پورا سینہ نکلنے تک وہ زندہ تھا، بعد میں مرا ہے تو اسے کیا شمار کریں گے؟ زندہ ہی شمار کریں گے۔
تو کہتے ہیں معتبر جو ہے اس کا سینہ ہے یعنی اذا خرج الصدر کله یرث یعنی اگر نکل آیا اس کا پورا سینہ اور اس وقت وہ کیا تھا؟ زندہ تھا تو یرث وہ وارث ہوگا۔
وان خرج منکوسا اور اگر وہ الٹا نکلا، یعنی پاؤں پہلے نکلے فالمعتبر سرتہ تو معتبر اس کی ناف ہے بھئی، سرہ کس کو کہتے ہیں؟ ناف کو، الٹا نکلا یعنی پاؤں پاؤں پہلے باہر نکلے، تو اگر ناف تک نکل آیا تھا اور اس وقت تک زندہ تھا تو اس کو کیا شمار کریں گے؟ زندہ ہی اور اگر اس سے پہلے ہی مر گیا تو اسے مردہ ہی شمار کریں گے۔
بھئی چلیے بس یہی حادہ المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔