Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 34
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و عند شعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ھو قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما للخنثیٰ نصف نصیبین بالمنازعۃ۔ و اختلاف فی تخریج قول شعبی قال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ للابن سہم و للبنت نصف سہم و للخنثیٰ ثلاثۃ ارباع سہم۔ گذشتہ سبق میں خنثیٰ کی میراث کے مسائل آپ نے شروع کیے تھے۔ میں نے بتلایا تھا خنثیٰ سے مراد خنثیٰ مشکل ہے۔ کیونکہ اگر خنثیٰ کے اندر مرد والی علامتیں مل جائیں تو اسے مرد قرار دے دیا جاتا ہے اور مرد کے احکام جاری ہوں گے۔ اگر عورت والی علامتیں راجح ہو جائیں تو ان کو ترجیح دی جاتی ہے اور پھر اس پر عورت کے احکام لاگو ہوں گے۔ لیکن ایک وہ خنثیٰ کہ جس میں کسی ایک جانب کو بھی ترجیح نہ دی جا سکے تو اسے خنثیٰ مشکل کہتے ہیں اور یہ اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ اور اس کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ خنثیٰ مشکل کو أقل نصیبین دیں گے دو حصوں میں سے کمتر اور مصنف نے اس کی معنی کیا تھا أسوأ الحالین بھئی۔ دو حالتوں میں سے جو بدتر ہے بھئی۔ چاہے کم مل رہا ہو یا محروم ہو رہا ہو جو بدتر حالت ہوگی اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ جی اور بتلایا تھا اسی پر فتویٰ ہے۔ و عند شعبی اور شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک و ھو قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور یہی قول ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بھی کہ وہ فرماتے ہیں للخنثیٰ نصف نصیبین بالمنازعتی کہ خنثیٰ کے لیے دو حصوں کا آدھا ہے بالمنازعتی منازعَت کے طریقے پر جھگڑے کے طریقے پر بھئی۔ किस तरीके पर؟ भाई एक हिस्सा है अगर उसे مؤنث فرض کیا جائے تو مؤنث والا حصہ ملے گا۔ اگر مرد ہوتا تو مرد والا حصہ ملتا۔ تو اب یہاں کوئی طے نہیں ہو رہا یہ عورت ہے یا مرد ہے تو لہٰذا اب اس کو مرد اور عورت کے جو دو حصے ہیں ان کا نصف دیا جائے گا منازعَت کے طریقے پر۔ کس طریقے پر؟ منازعَت یعنی جھگڑے کے طریقے پر۔ و اختلاف جھگڑا ہے نا بھئی اس میں گویا اور بھی دوسرے وارثوں میں یہ چاہتا ہے مجھے زیادہ حصہ ملے۔ وارث چاہتے ہیں اس کو کم حصہ ملے بھئی تو اسے دونوں حصوں کا نصف ملے گا کس طریقے پر جھگڑے کے طریقے پر بھئی۔ آگے تفصیل آ رہی ہے بھئی و اختلاف فی تخریج قول شعبی اور اختلاف کیا ہے شعبی کے قول کی تخریج میں یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے اختلاف کیا ہے بھئی۔ کہ اس سے کس طرح اس پر عمل ہوگا اس سے کیا مراد ہے ان کی کہ ان کو نصف نصیبین ملے گا منازعَت کے طریقے پر۔ قال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں للابن سہم بیٹے کے لیے ایک حصہ ہوگا بھئی۔ و للبنت نصف سہم اور بیٹی کے لیے نصف سہم ہوگا آدھا حصہ بیٹے کو بیٹی سے دوگنا ملتا ہے تو بیٹے کو جب ایک حصہ ملا ہے تو بیٹی کو آدھا حصہ ملے گا۔ و للخنثیٰ ثلاثۃ ارباع سہم اور خنثیٰ کے لیے تین چوتھائی سہم ہوگا۔ خنثیٰ کے لیے تین چوتھائی سہم ہوگا۔ تین چوتھائی کا کیا معنی؟ یعنی ایک سہم کے چار حصے کیے جائیں تو اس میں سے تین ملیں گے خنثیٰ کو یعنی تین پاؤ کہہ لیں بھئی۔ کتنے؟ تین پاؤ۔ تو کہتے ہیں و للخنثیٰ ثلاثۃ ارباع سہم اور خنثیٰ کے لیے تین چوتھائی سہم ہے۔ لان الخنثیٰ توجہ سے سننا بھئی امام محمد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول آ رہا ہے اور بات ذرا مشکل ہے تھوڑی سی بھئی۔ تو کہتے ہیں لان الخنثیٰ يستحق سہماً اس لیے کیونکہ خنثیٰ جو ہے وہ مستحق ہوگا ایک سہم کا إن کان ذکراً اگر وہ اگر وہ مذکر ہوتا تو کتنے کا مستحق ہوتا؟ ایک حصے کا۔ و نصف سہم ان کان انثیٰ اور آدھے حصے کا مستحق ہوتا اگر وہ مؤنث ہوتا بھئی۔ مذکر ہوتا تو کتنا ملتا؟ ایک سہم اور مؤنث ہو ہوتا تو نصف سہم و ھذا متیقن اور یہ تو یقینی ہے کیا یقینی ہے؟ نصف سہم تو بھئی دیکھیے۔ کم حصہ کس صورت میں مل رہا ہے؟ مؤنث فرض کرنے کی صورت میں آدھا حصہ مل رہا ہے۔ بیٹا فرض کیا جاتا تو کتنا ملتا؟ ایک پورا۔ اس ایک پورے میں بھی وہ آدھا آگیا یا نہیں؟۔ جی تو وہ آدھا اس میں بھی مل رہا ہے اور مؤنث ہونے کی صورت میں بھی مل رہا ہے وہ آدھا تو یقینی ہے۔ اور اس آدھے سے جو زائد ہے۔ اس آدھے سے جو زائد ہے ایک سہم تک یعنی اوپر والا آدھا اس میں شک ہے بھئی۔ تو یہ والا کیا ہے یہ اس میں منازعہ ہے باقی رشتہ دار کہتے ہیں نہیں ملنا چاہیے اور یہ کیا چاہتا ہے کہ اسے ملنا چاہیے تو یہ تو متیقن ہے یہ جو آدھا ہے نصف سہم۔ فیاخذ نصف نصیبین پس وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔ کیا کرے گا؟ یہ نصف سہم تو یقینی ہے نصف سہم پس وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔ کیا معنی؟۔ بھئی آدھا تو یقینی ہے پس یہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا کیا معنی؟ وہ تو ٹھیک ہے دونوں دونوں حصوں کا مجموعہ ملائیں گے اور ایک حصہ ہوا بیٹے کا آدھا حصہ کس کا بنتا تھا بیٹی کا ڈیڑھ بن گیا اس ڈیڑھ کا آدھا اس کو دے دیں گے یعنی تین پاؤ۔ لیکن یہ دلیل تو سنیں و ھذا متیقن یہ یقینی ہے آدھا۔ تو دونوں کا آدھا لے لے گا۔ آدھا حصہ یقینی ہے اس سے کیسے بات نکلتی ہے کہ دونوں کا آدھا لے لے گا؟۔ وہ تو بات الگ ہے تین پاؤ مل رہا ہے وہ بات نہیں کر رہا میں تین پاؤ ملے گا وہ تو ٹھیک ہے ہمیں سمجھ میں آگیا لیکن یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ نصف سہم تو یقینی ہے اس لیے دونوں حصوں کا آدھا لے لے گا۔ اس لیے کیا کرے گا؟ یہ دلیل تو بنتی نہیں۔ ہاں دلیل یاد رکھنا بھئی۔ بھئی دیکھیے ایک یہ آدھا تو یقینی ہے اور وہ ایک مشکوک ہے تو ایک یقینی ہوا ایک مشکوک ہوا تو دونوں کا آدھا آدھا اس کو دے دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ایک یقینی ایک حصہ اور ایک حصہ کیا ہے؟ مشکوک ہے تو دونوں کا کیا کر دیں گے؟ آدھا آدھا اس کو دے دیں گے بھئی۔ یقینی کا بھی اور مشکور کا بھی آدھا دے دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی یا یوں کہیں۔ ایک تو یقینی ہے ایک نصف سہم اور ایک سہم جو ہے اس کے اندر تنازع ہے بھئی۔ اس کے اندر کیا ہے؟ یہ نصف تو اس کو ملنا ہی ہے اور باقی اوپر والا نصف اس میں تنازع ہے بھئی تو نصف نصف جو ہے وہ یقینی اور ایک جو ہے وہ اس میں تنازع ہے تو دونوں کا آدھا دے دیں گے بھئی دونوں کا کیا کریں گے؟۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟۔ ایک بیٹی کی صورت میں کتنا ملتا؟ نصف اور بیٹے کی صورت میں ایک ملتا۔ اور بیٹے والا ایک ملتا تو اس میں بھی کتنا آ جاتا وہ بیٹے والا آدھا وہ آ گیا اس کے اندر ہی آ گیا معلوم ہوا نصف تو اس کو ہر حال میں ملنا ہے تو نصف ہوا یقینی۔ ایک حصہ دو قسم کے حصے بن سکتے ہیں اس کے نصف بھی بن سکتا ہے اور ایک بھی بن سکتا ہے تو دو قسم کے حصے ہیں۔ اب ان میں سے ایک یقینی ہے اور ایک مشکوک ہے تو پھر کس پر عمل کریں گے؟ دونوں جانبوں کی رعایت کر لیں گے بھئی۔ دو قسم کے حصے ایک یقینی اور ایک مشکوک تو آدھا یقینی میں سے دے دیں گے اور آدھا مشکوک سے دونوں جہتوں کی رعایت ہو گئی بھئی صورت سمجھ میں آگئی؟۔ یہ معنی ہے و ھذا متیقن کہ یہ آدھا حصہ یہ تو یقینی ہے تو وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔۔ یا وہ لے لے گا نصفِ متیقن۔ نصفِ متیقن کون سا ہے؟ جو نیچے والا آدھا ہے یعنی وہ جو مؤنث ہونے کی صورت میں ملتا تو وہ نصفِ متیقن لے لے گا۔ مع نصفِ نصفِ المتنازع فیہ اور ساتھ اس متنازع فی نصف کے نصف نصف کو بھی لے لے گا۔ متنازع فی نصف کے نصف کو بھی لے لے گا۔ بھئی کس طرح؟ یہ وہی بات کر رہے ہیں لفظ بدل دیے بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ متنازع فی بھئی اگر خنثیٰ مؤنث ہوتا تو کتنا ملتا؟ نصفِ سہم اور اگر مذکر ہوتا تو کتنا ملتا؟ ایک سہم تو ایک کے اندر بھی آدھا آ جاتا ہے بیچ میں یا نہیں؟ وہ ایک تو معلوم ہوا آدھا تو ہے یقینی اس کو یہ آدھا اس مؤنث والی صورت میں بھی اس کو مل رہا ہے اور مذکر والے کے اندر بھی یہ آدھا ہے کیونکہ ایک کس کو کہتے ہیں جس میں دو آدھے ہوتے ہیں تو ایک آدھا آگیا اس میں یا نہیں آگیا؟ تو آدھا تو ہوا یقینی۔ یہ تو اس کو ملنا ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ صرف بیٹے والی جہت کی ذرا رعایت ذہن میں رکھنا۔ اس بیٹے کا حصہ ہے ایک۔ اس میں سے جو نچلا آدھا ہے یہ تو یقینی ہے کس کو ملنا ہے؟ خنثیٰ کو ملنا ہے یقینی۔ اوپر والے آدھے میں تنازع ہے اوپر والے آدھے میں تنازع ہے یہ چاہتا ہے یہ مجھے ملنا چاہیے رشتہ دار باقی وارث کیا چاہتے ہیں؟ نہیں ملنا چاہیے یہ ہمارا حصہ ہونا چاہیے تو نیچے والا آدھا ہوا یقینی یہ اس کو یہ تو ملے گا ہی ملے گا خنثیٰ کو اوپر والا آدھا یہ کیا ہے متنازع فی تو اس آدھے کا آدھا اس کو دے دیں گے اور آدھا نہیں دیں گے بھئی۔ تو کتنا مل جائے گا؟ وہی تین پاؤ ملے گا اس کو بھئی صورت سمجھ میں آگئی؟۔ یہ معنی ہے و ھذا متیقن کہ یہ آدھا حصہ یہ تو یقینی ہے تو وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔ ابی النصف المتیقنہ یا وہ لے لے گا نصفِ متیقن۔ نصفِ متیقن کون سا ہے؟ جو نیچے والا آدھا ہے یعنی وہ جو مؤنث ہونے کی صورت میں ملتا تو وہ نصفِ متیقن لے لے گا۔ مع نصفِ نصفِ المتنازع فیہ اور ساتھ اس متنازع فی نصف کے نصف نصف کو بھی لے لے گا۔ متنازع فی نصف کے نصف کو بھی لے لے گا۔ بھئی کس طرح؟۔ یہ وہی بات کر رہے ہیں لفظ بدل دیے بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ متنازع فی بھئی اگر خنثیٰ مؤنث ہوتا تو کتنا ملتا؟ نصفِ سہم اور اگر مذکر ہوتا تو کتنا ملتا؟ ایک سہم تو ایک کے اندر بھی آدھا آ جاتا ہے بیچ میں یا نہیں؟ وہ ایک تو معلوم ہوا آدھا تو ہے یقینی اس کو یہ آدھا اس مؤنث والی صورت میں بھی اس کو مل رہا ہے اور مذکر والے کے اندر بھی یہ آدھا ہے کیونکہ ایک کس کو کہتے ہیں جس میں دو آدھے ہوتے ہیں تو ایک آدھا آگیا اس میں یا نہیں آگیا؟ تو آدھا تو ہوا یقینی۔ یہ تو اس کو ملنا ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ صرف بیٹے والی جہت کی ذرا رعایت ذہن میں رکھنا۔ اس بیٹے کا حصہ ہے ایک۔ اس میں سے جو نچلا آدھا ہے یہ تو یقینی ہے کس کو ملنا ہے؟ خنثیٰ کو ملنا ہے یقینی۔ اوپر والے آدھے میں تنازع ہے اوپر والے آدھے میں۔ تنازع ہے یہ چاہتا ہے یہ مجھے ملنا چاہیے رشتہ دار باقی وارث کیا چاہتے ہیں؟ نہیں ملنا چاہیے یہ ہمارا حصہ ہونا چاہیے تو نیچے والا آدھا ہوا یقینی یہ اس کو یہ تو ملے گا ہی ملے گا خنثیٰ کو اوپر والا آدھا یہ کیا ہے متنازع فی تو اس آدھے کا آدھا اس کو دے دیں گے اور آدھا نہیں دیں گے بھئی۔ تو کتنا مل جائے گا؟ وہی تین پاؤ ملے گا اس کو بھئی صورت سمجھ میں آگئی؟۔ یہ معنی ہے و ھذا متیقن کہ یہ آدھا حصہ یہ تو یقینی ہے فیاخذ نصف النصیبین تو وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔ ابھی نصف المتیقنہ یا وہ لے لے گا نصفِ متيقن۔ نصفِ متيقن کون سا ہے؟ جو نیچے والا آدھا ہے یعنی وہ جو مؤنث ہونے کی صورت میں ملتا تو وہ نصفِ متيقن لے لے گا۔ مع نصف النصف المتنازع فیہ اور ساتھ اس متنازع فی کے نصف کے نصف کو بھی لے لے گا۔ متنازع فی نصف کے نصف کو بھی لے لے گا۔ بھئی کس طرح؟۔ یہ وہی بات کر رہے ہیں لفظ بدل دیے بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ متنازع فی بھئی اگر خنثیٰ مؤنث ہوتا تو کتنا ملتا؟ نصفِ سہم اور اگر مذکر ہوتا تو کتنا ملتا؟ ایک سہم تو ایک کے اندر بھی آدھا آ جاتا ہے بیچ میں یا نہیں؟ وہ ایک تو معلوم ہوا آدھا تو ہے یقینی اس کو یہ آدھا اس مؤنث والی صورت میں بھی اس کو مل رہا ہے اور مذکر والے کے اندر بھی یہ آدھا ہے کیونکہ ایک کس کو کہتے ہیں جس میں دو آدھے ہوتے ہیں تو ایک آدھا آگیا اس میں یا نہیں آگیا؟ تو آدھا تو ہوا یقینی۔ یہ تو اس کو ملنا ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ صرف بیٹے والی جہت کی ذرا رعایت ذہن میں رکھنا۔ اس بیٹے کا حصہ ہے ایک۔ اس میں سے جو نچلا آدھا ہے یہ تو یقینی ہے کس کو ملنا ہے؟ خنثیٰ کو ملنا ہے یقینی۔ اوپر والے آدھے میں۔ تنازع ہے اوپر والے آدھے میں۔ یہ چاہتا ہے یہ مجھے ملنا چاہیے رشتہ دار باقی وارث کیا چاہتے ہیں؟ نہیں ملنا چاہیے یہ ہمارا حصہ ہونا چاہیے تو نیچے والا آدھا ہوا یقینی یہ اس کو یہ تو ملے گا ہی ملے گا خنثیٰ کو اوپر والا آدھا یہ کیا ہے متنازع فی تو اس آدھے کا آدھا اس کو دے دیں گے اور آدھا نہیں دیں گے بھئی۔ تو کتنا مل جائے گا؟ وہی تین پاؤ ملے گا اس کو بھئی صورت سمجھ میں آگئی؟۔ یہ معنی ہے و ھذا متیقن کہ یہ آدھا حصہ یہ تو یقینی ہے فیاخذ نصف النصیبین تو وہ دونوں حصوں کا نصف لے لے گا۔ فصار لہ ثلاثۃ ارباع سہم تو اس کے لیے تین چوتھائی سہم ہوگئے۔ و مجموع الأنصباء سهمان و ربع سہم اور حصوں کا مجموعہ جو ہے وہ دو حصے اور ربع سہم ہوا۔ بھئی دیکھیے۔ صورت یہ۔ کہ اگر ایک بیٹا ہو جیسے پیچھے گزرا تھا۔ ایک بیٹا ہو ایک بیٹی ہو اور ایک خنثیٰ ہو۔ تو بیٹے کو کتنا ملے گا؟ ایک حصہ پورا بیٹی کو کتنا ملے گا؟ آدھا ایک اور آدھا کتنا ہوا؟ ڈیڑھ اور خنثیٰ کو کتنا ملے گا؟ تین پاؤ تو ڈیڑھ اور تین پاؤ کتنا ہوا؟ سوا دو کتنا ہوا؟ سوا دو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں و مجموع الأنصباء سهمان و ربع سہم اور تمام حصوں کا مجموعہ کتنا ہوگا؟ دو حصے پورے و ربع سہم اور ایک چوتھائی حصہ بھئی۔ لانہ یعتبر السہام والعولی بھئی بات چل رہی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی وہ تشریح فرما رہے ہیں۔ شعبی رحمہ اللہ کے قول کی بھئی۔ کہ ان کے قول کا یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں لانہ یعتبر السہام والعولی اس لیے کیونکہ چونکہ جو ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ اعتبار کرتے ہیں حصوں کا اور اول کا۔ دیکھیے حصوں کا اعتبار کیا یا نہیں؟ بیٹے کو ایک پورا حصہ بیٹے کو اس سے آدھا اور خنثیٰ کو دونوں کے مجموعے کا نصف اور تینوں کو جمع کیا تو کتنا بن گیا؟ سوا دو بن گیا تو دیکھو حصوں کا اعتبار کر رہے ہیں والعول اور اول کا اعتبار کرتے ہیں بھئی اول وہ نہیں جو اس سے پہلے پڑھا تھا کہ مخرج تنگ پڑ جائے حصے زیادہ ہو جائیں تو مخرج کو میں کچھ مخرج کو بڑھا دیا جاتا ہے جس سے پورے پورے حصے نکل آئیں بھئی وہ والا اول نہیں مراد۔ اول سے مراد یہ ہے یہاں پر کہ وہ کسر کو پھر ختم کسر کو ختم کرنا بھئی اول کا کیا معنی ہے؟ وہ اعتبار کرتے ہیں حصوں کا والعول اور کسر کو ختم کرنے کا و تصح من تسعۃ تو صحیح ہو جائے گا مسئلہ نو سے۔ مسئلہ کتنے سے صحیح ہو جائے گا؟ نو سے بھئی۔ آگے جی مثال لکھ لیں بھئی۔ کون سی مثال ہے؟۔ مثال نمبر 124 بھئی۔ مثال نمبر 124۔ مثال نمبر 24 میت بنائیے تین وارث ہیں بھئی بیٹا بیٹی اور خنثیٰ۔ بیٹا بیٹی اور خنثیٰ۔ تینوں وارث بنا لیے بھئی۔ اچھا بیٹے کو کتنا مل رہا تھا؟۔ ایک بیٹے کے نیچے ایک لکھیے۔ بیٹی کو کتنا ملا تھا؟ آدھا آدھا کس طرح لکھتے ہیں؟۔ ایک بٹ دو شاباش بیٹی کے نیچے ایک بٹ دو لکھ لیجیے۔ خنثیٰ کو کتنا ملا تھا؟ تین پاؤ یعنی کہ۔ تین بٹ چار تو خنثیٰ کے نیچے تین بٹ چار لکھیے بھئی۔ اور مسئلہ کتنے سے بنا تھا؟ مجموعہ کتنا ہوا تھا سب کا؟ سوا دو سوا دو سوا دو کس طرح لکھتے ہیں؟۔ دو صحیح ایک بٹ چار کیونکہ پاؤ ہے نا پاؤ سات دو کے ساتھ پاؤ آ رہا ہے اور پاؤ کو کس طرح لکھتے ہیں ایک بٹ چار تو مسئلے کی جہاں جہاں مسئلہ بنانا ہے وہاں لکھیں دو صحیح ایک بٹ چار۔ دو صحیح ایک بٹ چار۔ اچھا بھئی اس کو ذرا بٹوں کی صورت میں لے جائیں صرف صحیح کی صورت ختم کریں۔ دو صحیح ایک بٹ چار کو کیا طریقہ تھا؟۔ یہ صحیح کو نیچے والے عدد سے ضرب دیں گے دو کو چار سے ضرب دی دو چوکے آٹھ اوپر والا پھر اس میں جمع کریں گے آٹھ اور ایک نو اور نو اوپر لکھیں گے اور نیچے والا چار اسی طرح رہے گا تو اس کے سے ذرا آگے کرکے لکھ لیں نو بٹ چار۔ نو بٹ چار بھئی۔ یا یوں کریں اس کو بین القوسین کر دیں تاکہ یا یاد رکھیں بہرحال بھئی آپ کو بعد میں پریشان نہ ہوں یہ نو بٹ چار کہاں سے آیا بھئی یہ وہی دو صحیح ایک بٹ چار ہے صورت سمجھ میں آگئی؟۔ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ہاں بھئی اوپر یہ بھی لکھیں عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ۔ عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ یہ ان کا طریقہ چل رہا ہے وہ جو تخریج کر رہے ہیں شعبی رحمہ اللہ کے قول کی۔ اب کسر کو ختم کرنا ہے۔ تو چھوٹی کسر کون سی ہے؟۔ ایک بٹ دو کا مطلب تو ہے آدھا۔ اور تین بٹ چار کا کیا مطلب ہے؟ تین پاؤ اس میں پاؤ آ رہا ہے تو آدھا چھوٹا ہوتا ہے یا پاؤ چھوٹا ہوتا ہے؟ پاؤ چھوٹا ہے بھئی تو نیچے والا عدد جتنا بڑا ہوگا وہ کسر اتنی ہی چھوٹی ہوگی۔ تو تین بٹ چار میں نیچے ہے چار ایک بٹ دو میں نیچے ہے دو کون سا عدد بڑا نیچے والا؟ چار تو وہ چھوٹی کسر ہے۔ تو لہٰذا کسر ختم کرنے کے لیے کیا کرتے تھے؟۔ جو عدد نیچے ہوتا تھا اسی سے ہم ضرب دیتے تھے۔ اسی سے ضرب دیتے تھے۔ تو تین بٹ چار کو ضرب دی چار سے کیا ہوا آئے گا جواب؟ چار چا نیچے والا چار اس کو ضرب دی ہے چار سے وہ چار جب اوپر آیا تو نیچے والا چار اوپر والے چار سے کٹ گیا اور کیا بچا؟ تین تو 3/4 کے نیچے لکھ لیں تین بھئی۔ تین۔ بیٹی کو ملا تھا 1/2 اس کو بھی ضرب دی چار سے۔ چار سے۔ تو نیچے ہے دو اوپر آگیا چار دونوں کس سے تقسیم ہو جاتے ہیں؟ دو سے تقسیم ہو جاتے ہیں تو نیچے والا دو تو دو سے پورا تقسیم ہو گیا اوپر والے چار کو دو سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ دو تو دو آگیا بھئی۔ بیٹی کے نیچے اب دو لکھ لیجیے بھئی 1/2 کے نیچے دو۔ بیٹے کا حصہ کتنا تھا؟ ایک اس کو بھی چار سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ چار تو ایک کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ اوپر مسئلہ کس سے بنا تھا؟ 9/4 سے۔ اس کو بھی کس سے ضرب دے دی؟ چار سے تو نیچے والا چار اوپر والے چار سے کٹ گیا کیا باقی بچا؟ نو۔ تو لہذا آگے تصحیح کی تا لکھیے اوپر اور اوپر نو لکھ دیجیے بھئی۔ نو لکھ دیجیے۔ تو دیکھو کسر ختم کردی۔ کیا کردی گئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ يعتبر السہام والعول وہ کیا کرتے ہیں؟ سہام اور عول کا اعتبار کرتے ہیں عول کا کیا معنی ہے یہاں؟ کسر کو ختم کرنے کا و تصح من تسعۃ اور مسئلہ کی تصحیح کس سے ہوگی؟ نو سے ہوگی جیسے کہ یہاں ہو گئی۔ بھئی دیکھیے! یہاں یہ ضربیں آئیں۔ آپ ضربوں کے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔ بھئی دیکھیے! سب سے چھوٹی کسر کونسی ہے یہاں؟ ایک بیٹے کا حصہ وہ تو ہے پورا، بیٹی کا حصہ ہے آدھا۔ یہ کسر آگئی۔ اور خنثیٰ کا حصہ ہے تین پائو تو پائو تو آدھے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے تو جو سب سے چھوٹا ہے ساروں کو اسی میں لے جاؤ۔ ساروں کو اسی میں۔ پائو میں پائو بنا لو ساروں کے بھئی مثلاً سمجھا رہا ہوں صرف اسی کے اوپر نظر رکھیں۔ بیٹے کو ایک ملا تھا اس میں کتنے پائو ہوتے ہیں؟ چار۔ نیچے ہم نے چار پائو بنا دیے اس کے۔ بیٹی کو آدھا ملا تھا اس میں کتنے پائو تھے؟ دو۔ ہم نے نیچے دو بنا دیے۔ خنثیٰ کو 3/3 پائو ملے تھے تو 3 پائو اس کے نیچے دیکھو ہم نے تین لکھ دیا۔ اور سوا دو اوپر تھا سوا دو میں کتنے پائو ہوتے ہیں؟ جی؟ نو تو دیکھو نو بنا دیے ہم نے پائو بھئی اس سے مسئلہ کی تصحیح ہوگئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ او نقول یا ہم یوں کہتے ہیں للابن سہمان وللبنت سہم کہ بیٹے کے دو حصے بیٹے کے لیے دو حصے ہیں وللبنت سہم اور بیٹی کے لیے ایک حصہ ہے وللکنسا نصف النصیبین اور خنثیٰ کے لیے دونوں حصوں کا نصف یعنی دونوں کا مجموعہ کریں اور پھر اس کا نصف۔ تو بیٹے کو ملا دو، بیٹی کو ملا ایک، دو اور ایک کتنے ہوگئے؟ تین۔ تین کا نصف کتنا ہوا؟ ڈیڑھ تو خنثیٰ کو دو حصوں حصوں کا نصف ملے گا وھو سہم و نصف سہم اور وہ کتنا ہے؟ ایک پورا سہم اور نصف سہم۔ جی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ پھر بنا لیجیے بھئی پھر دوبارہ صورت نیچے بنائیے۔ اسی 124 مثال کے اندر ہی نیچے دوسری صورت بنائیے اسی طرح میت بنائیے۔ وارث وہی تین لکھیے بیٹا بیٹی اور خنثیٰ۔ بیٹا بیٹی اور خنثیٰ۔ اچھا یہ او نقول للابن سہمان وللبنت سہم وللکنسا نصف النصیبین اب یہ اس دوسرے لفظوں میں جو انہوں نے ذکر کیا ہم اس کو حل کر رہے ہیں۔ بھئی اس کے مطابق بیٹے کو کتنا ملا؟ دو حصے بیٹے کے نیچے دو لکھیے۔ بیٹی کو اس کا آدھا یعنی ایک ملا بیٹی کے نیچے ایک لکھیے۔ خنثیٰ کو ان دونوں کے مجموعے کا نصف ملا۔ دونوں کا مجموعہ بیٹے کا حصہ دو بیٹی کا حصہ ایک دو اور ایک تین اس مجموعے کا نصف تین کا نصف کتنا آیا؟ ڈیڑھ۔ ڈیڑھ کیسے لکھتے ہیں؟ 1 صحیح 1/2 یہ خنثیٰ کے نیچے لکھ لیں بھئی۔ اور کل دیکھو بیٹے کو دو حصے ملے ایک بیٹی کو دو اور ایک تین۔ تین اور خنثیٰ کا حصہ ڈیڑھ۔ تین اور ڈیڑھ کتنا ہوگیا؟ ساڑھے چار تو ساڑھے چار سے مسئلہ بنا بھئی اوپر لکھیے ساڑھے چار۔ ساڑھے چار کیسے لکھیں گے؟ 4 صحیح 1/2 بھئی۔ 4 صحیح 1/2 اب اس کو بٹا کی صورت میں لے جائیں تو کیا بنے گا؟ چار کو نیچے والے عدد سے ضرب دی 4 دونی 8 اور اوپر والا ایک جمع کیا نو اور نیچے والا اسی طرح رہے گا 9/2۔ 9/2 ہوگیا۔ अच्छा خنثیٰ کو ملا ہے 1 सही 1/2 اس کو بھی صرف بٹا کی صورت میں لے جائیں گے تو کیا بنے گا؟ ایک کو نیچے والے دو سے ضرب دی دو آیا پھر اوپر والا ایک جمع کیا تین ہوا 3/2۔ 3/2۔ اب ہم نے کسر کو ختم کرنا ہے کیسے ختم کریں گے؟ دو سے ضرب دیں گے۔ دو سے خنثیٰ کا حصہ ہے 3/2 اس کو دو سے ضرب دی تو دو دو سے کٹ گیا اور کتنا بچا؟ تین تو خنثیٰ کا جو ڈیڑھ لکھا تھا اس کے نیچے تین لکھیں۔ بیٹی کا ایک حصہ تھا اس کو بھی دو سے ضرب دی تو دو جواب آیا تو بیٹی کے ایک کے نیچے دو لکھیں۔ بیٹے کا حصہ دو تھا اس کو بھی دو سے ضرب دی تو دو دونی چار۔ دو کے نیچے کیا لکھیں؟ چار بھئی۔ اوپر کیا تھا مسئلہ کس سے بنا تھا؟ 9/2 سے۔ ساڑھے چار کہیں یا 9/2 کہیں اس کو بھی ضرب دی دو سے تو دو دو سے کٹ گیا کیا بچا؟ نو تو دیکھو آگے تصحیح کی تا لکھیے اور نو لکھ دیجیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو بھئی۔ پھر اب اس مسئلے پر نظر رکھیں۔ بیٹے کو ملے دو حصے، بیٹی کو ملا ایک حصہ، خنثیٰ کو ملا ڈیڑھ حصہ تو کسر آرہی ہے بھئی اور کتنا کا چھوٹی کسر کونسی ہے یہاں پر؟ ڈیڑھ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ ایک پورا اور ایک آدھا تو یہ آدھے کی والی کسر آرہی ہے۔ تو ساروں سے یہ آدھے آدھے بنا لیں گے بھئی تو ڈیڑھ کے اندر کتنے آدھے ہوتے ہیں؟ تین تو دیکھو ڈیڑھ کے نیچے ہم نے تین کر دیا۔ بیٹی کو ایک حصہ ملا تھا اس میں کتنے آدھے ہیں؟ دو آدھے آدھے ہیں تو دو اس کے نیچے لکھ دیا۔ بیٹے کو دو پورے حصے ملے تھے اس کے آدھا آدھا بنائے تو کتنے بن گئے؟ چار بن گئے۔ اور مسئلہ کس سے بنا تھا؟ ساڑھے چار سے۔ اس میں آدھے آدھے کتنے حصے بن گئے؟ نو تو دیکھو نو سے مسئلہ کی تصحیح ہوگئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے او نقول للابن سہمان وللبنت سہم یا ہم کہتے ہیں کہ بیٹے کے دو حصے ہیں اور بیٹی کا ایک حصہ ہے وللکنسا نصف النصیبین اور خنثیٰ کے لیے دونوں حصوں کا نصف ہے وھو سہم و نصف سہم اور وہ ایک حصہ اور نصف سہم ہے۔ وقال محمد رحمہ اللہ تعالی یأخذ الخنثیٰ خمسی المال ان کان ذکراً اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خنثیٰ لے لے گا خمسی المال مال کے دو خمس ان کان ذکراً اگر وہ مذکر ہوا وربع المال ان کان انثیٰ اور مال کا چوتھائی لے لے گا اگر وہ مؤنث ہوا۔ اگر مؤنث ہوا۔ بھئی صورت بنائیے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی مثال نمبر 125۔ مثال نمبر 125۔ سب سے پہلے اوپر لکھ لیں عند محمد رحمہ اللہ تعالی۔ عند محمد رحمہ اللہ تعالی۔ جی اب اس کے نیچے لکھیے بھئی مرد فرض کرنے کی صورت میں۔ مرد فرض کرنے کی صورت میں۔ اسی طرح میت بنائیے۔ بیٹا یہ تین وارث لکھنے ہیں بھئی بیٹا، بیٹی اور بیٹا۔ بیٹا، بیٹی اور بیٹا۔ یہ جو دوسرا بیٹا ہے اس کے ساتھ بین القوسین لکھ لیجیے خنثیٰ بھئی اس کو ہم نے مرد فرض کیا تو یہ بیٹا ہے بھئی۔ بھئی کس سے مسئلہ بنے گا؟ جی بیٹے بیٹی کو ایک ملتا ہو تو بیٹے کو کتنا ملتا ہے؟ دو تو تو دو بیٹے ہوگئے دو دو ان کا حصہ اور ایک بیٹی کا حصہ کتنے ہوگئے؟ پانچ تو مسئلہ پانچ سے بنے گا اوپر پانچ لکھیے۔ بیٹے کے نیچے دو، بیٹی کے نیچے ایک اور دوسرے بیٹے کے نیچے بھی دو۔ لکھ لیا بھئی؟ جی۔ اچھا اب دو لائنیں چھوڑ کر نیچے لکھیں مؤنث فرض کرنے کی صورت میں۔ مؤنث فرض کرنے کی صورت میں۔ اب پھر اسی طرح میت بنائیے۔ میت بنائیے بھئی۔ اب پھر وہی تین وارث لکھنے ہیں لیکن آخری بیٹے کی جگہ بیٹی لکھنا ہے۔ تین وارث کیا ہوگئے؟ بیٹا، بیٹی اور پھر بیٹی بھئی۔ پھر بیٹی اور اس دوسری بیٹی کے ساتھ بین القوسین خنثیٰ لکھ لیں بھئی اسے ہم ہم نے بیٹی فرض کیا ہے۔ اب دیکھیے بیٹی کو ایک حصہ ملتا ہے تو بیٹے کو اس سے دگنا ملتا ہے تو دو بیٹیاں ہیں ان کے کتنے حصے ہوگئے؟ دو اور دو کس کے ہوگئے؟ بیٹے کے تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ چار سے تو چار سے بنائیے مسئلہ بھئی۔ چار اوپر لکھیں بیٹے کے نیچے دو اور دونوں بیٹیوں کے نیچے ایک ایک بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا تو دیکھیے امام محمد رحمہ اللہ تفصیل بیان کر رہے ہیں شعبی رحمہ اللہ کے قول کی۔ وہ فرماتے ہیں اب دونوں کا نصف دیں گے۔ تو اس کا طریقہ کیا؟ کہتے ہیں پہلے کہ ایک مسئلے کو دوسرے مسئلے سے ضرب دے دیں گے۔ کیا کریں گے؟ ایک مسئلہ بنا ہے پانچ سے، ایک بنا ہے چار سے۔ مذکر کی صورت مذکر فرض کیا تو مسئلہ بنا پانچ سے، مؤنث فرض کیا تو مسئلہ بنا چار سے۔ تو جو مسئلہ بنا ہے پانچ سے اس کو چار سے ضرب دے دیں گے اور جو چار سے بنا ہے اس کو پانچ سے۔ ہر مسئلے کو دوسرے میں کیا کریں گے؟ ضرب دے دیں گے۔ اب بھئی اوپر والے مسئلے پھر ائیے جو جس میں ہم نے کیا فرض کیا تھا پہلے؟ مرد فرض کیا ہے تو اس کو نیچے والے مسئلے سے ضرب دیں گے نیچے کس سے بنایا تھا مسئلہ؟ چار سے۔ اس چار سے اب اس اوپر والے مسئلے کو ضرب دیں۔ چار سے پانچ کو ضرب دی جس سے مسئلہ بنایا تھا کیا جواب آیا؟ بیس تو پانچ کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور بیس لکھیے بھئی۔ اچھا بیٹے کو اس کے کتنا ملا تھا؟ دو اس کو بھی چار سے ضرب دی تو کیا جواب آیا؟ دو چوکے آٹھ تو دو کے نیچے آٹھ لکھیے۔ بیٹی کا ایک حصہ تھا اس کو بھی چار سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ چار تو بیٹی کے ایک کے نیچے چار لکھیے۔ اگلے بیٹے کا حصہ بھی دو تھا اس کو بھی چار سے ضرب دی آٹھ آیا تو دو کے نیچے آٹھ لکھ لیا صورت سمجھ میں آگئی۔ اب نیچے والے مسئلے میں آئیے۔ اس کو کس سے ضرب دینی ہے؟ پانچ سے اوپر والے مسئلے سے۔ تو چار کو پانچ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ بیس تو چار کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر بیس لکھ لیجیے۔ نیچے بیٹے کا حصہ کتنا ہے؟ دو اس کو بھی پانچ سے ضرب دی پانچ دونی دس بھئی تو دو کے نیچے دس لکھ لیجیے۔ بیٹیوں کا حصہ ایک ایک ہے ان کو بھی پانچ سے ضرب دی تو پانچ پانچ آیا تو دونوں کے نیچے پانچ پانچ لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ آگے الگ پھر میت بنائیے۔ بھئی بلکہ پہلے لکھیں حاصل مسئلہ۔ حاصل مسئلہ۔ حاصل مسئلہ۔ میت بنائیے بھئی۔ میت بنائیے۔ اسی طرح لکھیے بیٹا، بیٹی، اب لکھ دیں خنثیٰ بھئی۔ بیٹا، بیٹی اور تیسرے نمبر پر اب خنثیٰ لکھیں۔ خنثیٰ۔ بھئی پیچھے ایک مسئلہ کس سے بنا تھا؟ جی؟ بھئی تصحیح کے بعد کی بات کر رہا ہوں بیس سے۔ دوسرا بھی کس سے بنا؟ بیس سے۔ تو کل بیس اور بیس کو جمع کریں کتنا ہوا؟ چالیس۔ یہاں اس میت کے مسئلہ بنائیں چالیس سے اوپر چالیس لکھیے۔ چالیس سے۔ اچھا اب پھر واپس آئیے وہ مرد فرض کرنے کی صورت میں بیٹے کو کتنا ملا تھا؟ آٹھ اور مؤنث فرض کرنے کی صورت میں بیٹے کو کتنا ملا تھا؟ دس۔ دونوں مسئلوں پر نظر رکھنا پہلے پہلا اول جو بیٹا آیا اس کی بات کر رہا ہوں۔ پہلے مسئلے میں اس کو آٹھ ملا ہے دوسرے میں اس کو دس ملا آٹھ اور دس کتنا ہوا؟ اٹھارہ۔ تو ابھی حاصل مسئلہ میں جو بیٹا اس کے نیچے اٹھارہ لکھیں۔ اچھا اب پھر واپس آئیے وہاں بیٹی جو تھی درمیان میں اس کو پہلے مسئلے میں چار ملا، دوسرے میں کتنا ملا؟ پانچ۔ چار اور پانچ کتنا؟ نو۔ تو یہاں اب حاصل مسئلہ میں بیٹی کے نیچے نو لکھ لیجیے۔ پیچھے بھئی اس خنثیٰ کو بیٹا فرض کیا تھا تو کتنا ملا تھا؟ آٹھ اور بیٹی فرض کیا تو کتنا ملا؟ پانچ۔ آٹھ اور پانچ تیرہ۔ تو یہ حاصل مسئلہ میں خنثیٰ کے نیچے تیرہ لکھ دیجیے۔ بھئی تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس طرح تقسیم ہوگی بھئی ان شعبی رحمہ اللہ کے قول کا یہ معنی ہے بھئی۔ ان کے قول کا یہ معنی۔ اور مثال نمبر 124 میں بتلایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس طرح تقسیم کرتے ہیں بھئی۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ اچھی طرح۔ اب صرف ترجمہ دیکھ لیجیے کتاب پر بھئی۔ وقال محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں یأخذ الخنثیٰ خمسی المال خنثیٰ مال کے دو خمس لے گا ان کان ذکراً اگر وہ مذکر ہوا۔ بھئی مال کے دو خمس لے گا مذکر فرض کرنے کی صورت میں مسئلہ کس سے بنا تھا؟ اولاً اولاً پانچ سے اور پانچ میں سے خنثیٰ کو کتنا ملا تھا؟ دو۔ تو معلوم ہوا خنثیٰ کو کتنا مل رہا ہے؟ دو خمس مل رہے ہیں۔ پانچ میں سے ایک خمس ہوا نا تو اس کو مل رہے ہیں دو تو خنثیٰ کو مرد فرض کرنے کی صورت میں کتنا مل رہا ہے؟ دو خمس یہی بیان کر رہے ہیں کہ یأخذ الخنثیٰ خمسی المال کہ خنثیٰ لے لے گا مال کے دو خمس ان کان ذکراً اگر وہ مذکر ہوا۔ وربع المال ان کان انثیٰ بھئی مؤنث ہونے کی صورت میں خنثیٰ مسئلہ کس سے بنا تھا؟ چار سے اولاً بنا تھا اور اس میں سے خنثیٰ کو کتنا ملا تھا؟ ایک تو گویا کتنا ملا؟ ربع۔ یہی بیان کر رہے ہیں وربع المال اور ربع مال لے لے گا ان کان انثیٰ اگر وہ مؤنث ہوا۔ فیأخذ النصف النصیبین پس وہ دونوں حصوں کا نصف لے گا۔ دو خمس کا نصف کتنا ہوگا؟ ایک خمس۔ دو خمس کا نصف کتنا ہوگا؟ ایک خمس۔ یہی کہہ رہے ہیں کہ دونوں حصوں کا نصف لے گا وذالک خمس اور وہ کیا ہے؟ ایک خمس ہے۔ وسمون اور سومون۔ بھئی سومون کہاں سے آیا؟ وہ ربع کا نصف۔ ربع کا نصف کتنا ہوتا ہے؟ بھئی آٹھ روپے ہوں آپ کے پاس اٹھ کا ربع کتنا ہوگا؟ ربع ربع دو۔ کیونکہ آٹھ کے چار حصے کریں تو ایک حصے میں کتنے آئیں گے؟ دو یہ دو ربع ہے۔ دو ربع ہے۔ اس دو کو یہ ربع ہے اس کو نصف کریں کتنا آئے گا؟ ایک۔ اور یہ یہ کس کی تقسیم کر رہے تھے ہم؟ آٹھ کی۔ تو یہ ایک آٹھ کا کِتوان حصہ ہے؟ سومون۔ معلوم ہوا ربع کا نصف کتنا ہوتا ہے؟ سومون ہوتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے تو اس کو دونوں حصوں کا نصف ملے گا وذالک خمس وسمون وہ خمس اور سومون ہے باعتبار الحالتین دونوں حالتوں کے اعتبار سے۔ وتصح من اربعین اور تصحیح ہوگی صحیح ہو جائے گا مسئلہ کتنے سے؟ حاصل مسئلہ بیان کر رہے ہیں چالیس سے صحیح ہو جائے گا وھو المجتمع من ضرب احدی المسلتین اور وہ مجموعہ ہے ضرب دینے سے دو مسئلوں میں سے ایک کو۔ دو مسئلوں میں سے ایک کو ضرب دینے سے وھی الاربعۃ اور وہ ایک مسئلہ کس سے ہے؟ ایک مسئلہ بنا تھا چار سے۔ اس کو ضرب دینے سے فی الاخری کس میں؟ دوسرے مسئلے میں وھی الخمسۃ اور وہ کس سے وہ کیا تھا؟ پانچ سے تو چار کو پانچ سے ضرب دی تھی۔ ثم فی الحالتین پھر دونوں حالتوں میں فمن کان لہ شیء من الخمسۃ فمضروب فی الاربعۃ جس کے لیے کچھ چیز تھی کس میں سے؟ بھئی جو جہاں مسئلہ بنا تھا پانچ سے اس کو کس سے ضرب دے دی تھی؟ چار سے ضرب دی تھی۔ جب چار سے مسئلے کو ضرب دی تھی تو نیچے جن جن کو جتنے حصے ملے تھے اس کو بھی کس سے ضرب دی تھی؟ چار سے یہی بات بیان کر رہے ہیں فمن کان لہ شیء من الخمسۃ فمضروب فی الاربعۃ جس کو کچھ چیز ملی ہے پانچ میں سے وہ بھی مضروب ہوگا کتنے میں؟ چار میں یعنی جیسے اس کے پانچ اصل مسئلہ کو چار سے ضرب دی ہے نیچے حصوں کو بھی کس سے ضرب دے دیں گے؟ چار ہی سے ضرب دیں گے۔ ومن کان لہ شیء من الاربعۃ فمضروب فی الخمسۃ اور جن کو کچھ حصہ ملا تھا کس میں سے؟ چار میں سے فمضروب فی الخمسۃ تو وہ کس وہ مضروب ہوگا کتنے میں؟ پانچ اس کو پانچ میں ضرب دی جائے گی۔ فصارت للخنثی من الضربین تو ہو جائے گا خنثیٰ کے لیے دونوں ضربوں سے ثلاثۃ عشر سہماً کتنے حصے بھئی؟ بھئی وہ حاصل مسئلہ پر نظر ہے خنثیٰ وہ کتنے ملے تھے؟ تیرہ وہی بیان کر رہے ہیں کہ خنثیٰ کے لیے دونوں ضربوں سے تیرہ حصے ہوں گے۔ وللبن ثمانیۃ عشر سہماً اور بیٹے کو کتنے ملے تھے؟ اٹھارہ وہی بیان اور بیٹے کے اٹھارہ حصے ہوں گے وللبنت تسعۃ وسمین اور بیٹی کے نو حصے ہوں گے۔ بھئی حاصل مسئلہ کے مطابق بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المراع اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 86 of 92