Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل في الخنثى للخنثى المشكل أقل النصيبين أعني أسوأ الحالين عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأصحابه وهو قول عامة الصحابة رضي الله تعالى عنهم وعليه الفتوى. فصل في الخنثى، هذه فصل ہے خنثى کے بیان میں یعنی جس میں خنثى کی میراث کے مسائل بیان ہوں گے۔ خنثى فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے کہ وہ شخص جس کے مرد اور عورت دونوں کی طرح اعضاء مخصوصہ وغیرہ ہوں اور پھر اس میں آپ نے پڑھا ہے کہ اب مرد اور عورت کی دیگر علامات کو دیکھا جائے گا اور پھر اس کے ذریعے ترجیح دے کر یا تو اسے مرد قرار دے دیں گے پھر سارے مرد والے احکام ہوں گے اس کے یا اسے عورت قرار دے دیا جائے گا اگر اس میں عورت کی نشانیاں ہوئیں اور پھر سارے عورت ہی کے احکام اس پر لاگو ہوں گے۔ لیکن بعض صورتوں میں فیصلہ کسی طور پر بھی ممکن نہیں رہتا، تو اسے پھر خنثى مشکل کہتے ہیں بھئی۔ تو اس یہاں پر یہ خنثى مشکل کے احکام بیان ہوں گے جس کی تعیین ہی نہیں ہو رہی کہ اسے مرد قرار دیا جائے یا عورت قرار دیا جائے۔ اگر تعیین ہو جائے دوسری علامتوں کے ذریعے تو اگر مرد والی علامتیں مل جائیں تو اسے مرد قرار دیں گے اور پھر وہی احکام جاری ہوں گے میراث میں بھی جو مرد کے تھے اور اگر وہ عورت والی جہت راجح ہو جائے عورت کی علامتیں اس میں ہمیں مل جائیں تو پھر اسے عورت قرار دے دیا جائے گا لیکن یہاں پر کس کا بیان ہے؟ خنثى مشکل کا جہاں پر مسئلہ مشکل ہو گیا کسی ایک جانب کو بھی ترجیح نہیں دے سکتے تو اب اس کے لیے میراث کے کیا احکام ہوں گے؟ کتنا حصہ اس کو ملے گا؟ وہ اب بیان کر رہے ہیں بھئی۔ تو فرماتے ہیں للخنثى المشكل أقل النصيبين خنثى مشکل جو ہے اس کے لیے دو حصوں میں سے جو کمتر ہے وہ ہوگا۔ خنثى مشکل کے لیے جو دو حصوں میں سے جو کمتر یعنی اسے مرد فرض کیا جائے اور پھر حصہ نکالا جائے اور پھر اسے عورت فرض کیا جائے اور اس کا حصہ نکالا جائے جس صورت میں اسے کم مال ملتا ہے وہ صورت اختیار کی جائے گی۔ تو دو حصوں میں سے جو کمتر حصہ ہوگا وہ خنثى مشکل کے لیے ہوگا بھئی۔ آنی أسوأ الحالینی یعنی کہ دو حالتوں میں سے بدتر فقہا نے لکھا بھئی للخنثى المشكل أقل النصيبين خنثى مشکل کے لیے دو حصوں میں سے کمتر ہوگا۔ صاحب کتاب اس أقل النصيبين کی تشریح کس سے کر رہے ہیں بھئی؟ آنی أسوأ الحالین سے دو حالتوں میں سے بدتر اس کو ملے گا۔ یہ تفصیل کیوں کی انہوں نے أقل النصيبين کی بھئی؟ اس تفصیل کی وجہ کیا؟ وجہ یہ بھئی أقل النصيبين کا اگر ظاہری معنی رہے تو معنی یہ ہے دو حصوں میں سے کمتر تو اس میں وہ صورتیں تو آ جائیں گی جس میں اس کو کم مل رہا ہو دو صورتوں میں سے ایک میں، لیکن یہاں بعض ایسی صورتیں بھی آتی ہیں کہ مثلاً مرد فرض کریں تو اسے مال مل رہا ہے، عورت فرض کریں تو اسے کچھ بھی نہیں ملتا۔ تو پھر اسے عورت فرض کریں گے اور اسے کچھ بھی نہیں دیں گے۔ اب دیکھیے یہاں اسے أقل ملا ہے یا کچھ بھی نہیں ملا؟ یہاں تو کچھ بھی نہیں ملا اسے یا اسی طرح بعض اوقات اسے مرد فرض کریں گے تو اسے کچھ نہیں ملتا عورت کی صورت میں کچھ مال ملتا ہے تو یہاں پر پھر اسے مرد فرض کیا جائے گا اور اسے کچھ بھی نہیں دیا جائے گا، تو یہاں اسے أقل النصيبين ملا ہے یا کچھ بھی نہیں ملا بھئی؟ کچھ بھی نہیں ملا تو أقل النصيبين کو اگر اس کے ظاہر پر رکھا جائے تو پھر اس کا تو یہ معنی کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا دو حصوں میں سے جو کم والا ہے وہ تو ضرور ملے گا، حالانکہ اس میں بعض وہ صورتیں بھی آ رہی تھیں جن میں وہ بالکل محروم رہ جاتا ہے اس لیے انہوں نے اس أقل النصيبين کی کیا تفصیل کی؟ أسوأ أسوأ الحالین دو حالتوں میں سے بدتر۔ اب اس کے اندر محروم والی صورت بھی داخل ہو گئی بھئی کیونکہ یہاں کمی بیشی کی بات ہی نہیں بلکہ کیا کہہ دیا دو حالتوں میں سے جو بدتر ہو چاہے اس میں کم مل رہا ہو چاہے اس میں محروم ہو رہا ہو۔ آنی أسوأ الحالینی یعنی دو حالتوں میں سے بدتر عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک واصحبہ اور ان کے فقہا کے نزدیک وھو قول عامة الصحابة رضي الله تعالى عنہم اور یہی قول ہے اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا و علیہ الفتوی اور اسی پر فتوی ہے۔ كما إذا ترك ابناؤہ جی اب بھئی صورتیں کچھ بنا لیں بھئی۔ کچھ مثالیں حل کر لیں مثال نمبر 120 بھئی 120 ہوگی؟ ہاں مثال نمبر 120 بھئی۔ پہلے اوپر لکھ لیجیے یہیں پر وہ صورت وہ صورت جب خنثى کو مرد فرض کیا گیا وہ صورت جب خنثى کو مرد فرض کیا گیا تو محروم رہا۔ تو محروم رہا۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا اب نیچے بھئی میت بنائیے۔ میت جی، تین وارث اس کے نیچے لکھیں گے بھئی، پہلے نمبر پر لکھیے خاوند خاوند دوسرے نمبر پر حقیقی بہن حقیقی بہن تیسرے نمبر پر لکھیے علاتی بہن علاتی بہن اور اس علاتی بہن کے ساتھ ہی بین القوسین لکھ دیں خنثى۔ بریکٹ میں لکھ دیں خنثى بھئی، یہ علاتی بہن یہ وہ خنثى ہے اور اس کو ہم نے مونث فرض کیا ہے بھئی۔ بھئی صورت یہ ایک شخص کا انتقال ایک عورت کا انتقال ہوا۔ اس کا خاوند بھی زندہ ہے اور اس عورت کی حقیقی بہن بھی زندہ ہے اور ایک خنثى جو اس کے والد کی اولاد ہے اس مرنے والے کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی یوں کہیں بھئی ایک علاتی خنثى بھی زندہ ہے ساتھ بھئی، ایک خاوند ہے حقیقی بہن ہے اور علاتی خنثى ہے بھئی۔ اب صورت ہم بنائیں گے مرد والی صورت بھی بنائیں گے اور عورت فرض کریں مرد فرض کرنے کی بھی صورت بنائیں گے اور عورت فرض کرنے کی صورت میں کس طرح ہوگا وہ بھی بنائیں گے تو یہ پہلی صورت یہ جو علاتی بہن ہے یہ کون ہے؟ وہ خنثى ہے جس کو ہم نے کیا فرض کیا ہے؟ علاتی خنثى تھا نا اب اس کو مونث فرض کریں تو کیا بن جاتی ہے؟ علاتی بہن ہوتی ہے اگر اس کی جگہ کوئی مونث ہوتی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت کے اوپر بائیں طرف ذرا واضح کر کے لکھ لیں مونث فرض کرنے کی صورت میں علاتی خنثى علاتی بہن ہوا۔ مونث فرض کرنے کی صورت میں علاتی خنثى علاتی بہن ہوا۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا اب ائیے تو کیا کیا لکھے بھئی؟ خاوند ہے، حقیقی بہن ہے اور علاتی بہن اور اس کے ساتھ آپ نے بریکٹ میں خنثى لکھ لیا بھئی۔ جی خاوند کو کتنا ملے گا یہاں پر اولاد ہے مرنے والی کی؟ نہیں ہے تو کتنا ملے گا؟ نصف ملے گا یہ نوع اول میں سے آیا۔ حقیقی بہن ایک ہو تو اس کو بھی کتنا ملتا ہے؟ اسے بھی نصف ملتا ہے اور علاتی بہن اس کے ساتھ ایک آ جائے تو اسے کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے تکملت للثلثین تاکہ دو ثلث پورے ہو جائیں بھئی، حقیقی بہن اور اس کا ملا کر دو ثلث بن جاتا ہے بھئی۔ تو نوع اول میں سے نصف آیا اور نوع ثانی میں سے سدس آیا تو نوع اول جب نوع ثانی کے ساتھ جمع ہو جائے تو مسئلہ کس سے بناتے تھے؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ اوپر لکھ لیں۔ جی چھ میں سے نصف کتنا ہوا؟ تین تو یہ خاوند کے نیچے لکھیں تین اور نصف ہی دینا ہے حقیقی بہن کو تو اس کے نیچے بھی تین لکھیں۔ اور علاتی بہن کو سدس یعنی چھٹا حصہ دینا ہے چھ میں سے چھٹا حصہ کتنا ہوگا؟ ایک تو علاتی بہن کے نیچے ایک لکھ دیں بھئی۔ اب آگے کیا کریں گے؟ شاباش، اب عول ہوگا کیونکہ خاوند کو بھی تین، حقیقی بہن کو بھی تین، تین اور تین چھ اور علاتی بہن کو ایک کتنے ہو گئے؟ سات تو سہام ہو گئے سات اور مخرج کیا تھا؟ چھ اس سے تو چھ میں سے سات نہیں ہو سکتے تو عول ہوگا سات تک بھئی، تو چھ کے آگے عین وہ عول کی علامت لکھیے اور اس پر سات لکھ لیجیے بھئی۔ جی آگے نیچے لکھیے۔ مذکر فرض کرنے کی صورت میں مذکر فرض کرنے کی صورت میں علاتی خنثى علاتی بھئی ہوا۔ علاتی خنثى علاتی بھئی ہوا، لکھ لیا؟ اب بنائیے پھر میت بھئی اسی طرح میت بنائیے اور اسی طرح وہ سارے وارث لکھیے۔ صرف علاتی بہن کی جگہ علاتی بہن کی جگہ علاتی بھئی لکھنا ہے بھئی تو میت کے نیچے سب سے پہلے لکھیں خاوند اس کے بعد لکھیں حقیقی بہن اس کے بعد لکھیں علاتی بھئی۔ علاتی بھئی اور اس کے ساتھ بین القوسین خنثى ضرور لکھنا ہے بھئی تاکہ یاد رہے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اب صورت بنے گی دیکھیے خاوند جو ہے اس کو اولاد کوئی نہیں مرنے والی کی تو خاوند کو کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ حقیقی بہن کو بھی کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ اور علاتی بھئی اس کو وہ عصبہ بنے گا شاباش۔ अच्छा، تو یہاں صرف نصف ہی ائے دو مرتبہ دونوں کا حصہ نصف ہے تو گویا ایک ہی نصف ہی آیا اور نصف آیا ہو تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ دو سے شاباش، دو سے مسئلہ بنائیے۔ دو میں سے آدھا کتنا ہوگا؟ ایک ایک خاوند کا حصہ اور ایک وہی آدھا ہی حقیقی بہن کا بھی حصہ تو دو میں سے ایک خاوند کو ملا ایک بہن کو جو باقی بچے گا وہ علاتی بھئی کا ہوگا کتنا باقی بچا؟ کچھ بھی نہیں بچا معلوم ہوا عصبہ کو کچھ نہیں ملے گا تو علاتی بھئی کے نیچے محروم لکھ دیجیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے ایک عورت کا انتقال ہوا تھا، اس کا خاوند تھا، حقیقی بہن تھی اور ایک علاتی خنثى۔ اور آپ نے مسئلہ پڑھا کہ دو حالتوں میں سے جو بدتر حالت ہوگی (یعنی مذکر یا مونث فرض کرنے دونوں صورتیں فرض کی جائیں گی اور جو بدتر صورت ہوگی اس کے مطابق خنثى کو مال ملے گا)۔ یہاں دونوں صورتیں آپ نے بنا لیں اس کو مذکر فرض کر کے بھی اور مونث فرض کر کے بھی۔ कौन सी حالت بری ہے؟ مرد فرض کیا گیا تو وہ محروم رہا۔ تو لہذا اس پر عمل کیا جائے گا، سارا مال تقسیم کر دیا جائے گا شوہر اور حقیقی بہن کے درمیان آدھا آدھا اور خنثى کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ کون سی مثال تھی؟ 120۔ اگلی مثال لکھیے مثال نمبر 121۔ مثال نمبر 121۔ اور لکھ لیجیے وہ صورت جب خنثى کو مونث فرض کیا جائے وہ صورت جب خنثى کو مونث فرض کیا جائے تو محروم رہتا ہے تو محروم رہتا ہے۔ اب اس کے نیچے لکھ لیجیے۔ نمبر ایک مرد فرض کرنے کی صورت مرد فرض کرنے کی صورت۔ نیچے میت بنائیے بھئی۔ میت کے نیچے صرف دو وارث ہیں بھئی، پہلے نمبر پر ہے چچا کا بیٹا۔ چچا کا بیٹا۔ دوسرے نمبر پر بھی لکھیں چچا کا بیٹا۔ چچا کا بیٹا۔ اور بین القوسین اس کے ساتھ لکھ دیں خنثى بھئی، جس خنثى یہ چچا کی اولاد ہے اس کو ہم نے کیا فرض کر لیا؟ مذکر فرض کیا ہے تو یہ چچا کا بیٹا بھئی۔ اب مال کس طرح تقسیم ہوگا بھئی؟ یہ دونوں بنا بنے ہیں بھئی اصبہ تو اور کوئی رشتہ دار نہیں تو مال دونوں چچا کے بیٹے ہیں تو مال برابر برابر تقسیم ہو جائے گا مسئلہ کس سے بنے گا؟ دو سے مسئلہ بنے گا اور دونوں کو ایک ایک مل جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مرد فرض کرنے کی صورت تھی۔ جی، دوسری صورت آگے اسی کے نیچے لکھیے۔ عورت فرض کرنے کی صورت، مونث فرض کرنے کی صورت۔ نیچے میت بنائیے، میت بنائیے۔ پہلے پر تو لکھیں چچا کا بیٹا اسی طرح چچا کا بیٹا، دوسرے پر اب کیا لکھیں گے؟ چچا کی بیٹی بھئی۔ اب مونث فرض کیا ہم نے، چچا کی بیٹی اور بین القوسین ساتھ لکھیں گے خنثیٰ بھئی۔ اب مسئلہ کس سے بنے گا بھئی؟ جی۔ شاباش بھئی وہ چچا کا بیٹا عصبہ ہے بیٹی چچا کی وہ تو اس کے ساتھ عصبہ نہیں بنے گی بھئی۔ صرف وہ عورتیں عصبہ بنتی تھیں بھئی کے ساتھ مل کر جو کس میں سے تھیں؟ جو ذوی الفروض میں سے تھیں بھئی چچا کی بیٹی کے کوئی حصے پڑے آپ نے وہاں؟ نہیں۔ نہیں بھئی تو یہ عصبہ نہیں بنے گی اپنے بھئی کے ساتھ۔ تو مسئلہ ایک سے ہی بنے گا کیونکہ سارا مال چچا کا بیٹا لے جائے گا اور چچا کی بیٹی جو ہے وہ محروم رہے گی تو ایک سے مسئلہ بنائیے، چچا کا بیٹا جو ہے اس کے نیچے ایک لکھیے، چچا کی بیٹی یعنی خنثیٰ جو ہے اس کے نیچے محروم لکھیے۔ کونسی صورت پر عمل کریں گے یہاں پر بھئی؟ عورت فرض کرنے کی صورت میں جب وہ محروم رہتا ہے تو یہاں سارا مال چچا کے بیٹے کو مل جائے گا اور خنثیٰ محروم رہے گا بھئی۔ آگے لکھیے بھئی مثال نمبر کونسی؟ مثال نمبر 122 بھئی۔ مثال نمبر 122۔ اور اوپر لکھ لیجیے وہ صورت جب خنثیٰ کو مرد فرض کیا جائے تو کم حصہ ملتا ہے۔ وہ صورت جب خنثیٰ کو مرد فرض کیا جائے تو کم حصہ ملتا ہے۔ نیچے اس کے لکھیے جب مونث فرض کیا گیا۔ جب مونث فرض کیا گیا۔ جی نیچے اب میت بنائیے۔ میت کے نیچے چار وارث آئیں گے بھئی۔ سب سے پہلے نمبر پر ہے خاوند، خاوند۔ دوسرے نمبر پر ہے ماں، ماں۔ تیسرے نمبر پر ہے اخیافی بہن، اخیافی بہن۔ اور چوتھے نمبر پر ہے علاتی بہن بھئی یہی خنثیٰ ہے۔ علاتی بہن بین القوسین اس کے ساتھ لکھ لیں خنثیٰ۔ دیکھیے خنثیٰ کو ہم نے مونث فرض کیا تو وہ علاتی بہن ہے بھئی۔ جی، اولاد ہے یا نہیں ہے بھئی؟ اولاد نہیں تو خاوند کو کتنا ملے گا؟ نصف۔ نوع اول میں سے ہے یہ۔ ماں کو کتنا ملے گا؟ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر مرنے والے کی اولاد ہو یا کسی بھی جہت سے دو بھئی بہن ہوں تو ماں کو سدس ملتا ہے۔ کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے۔ تو یہاں ماں کو سدس ملے گا بھئی۔ سدس لئی اور اخیافی بہن ایک ہو تو اس کو بھی کتنا ملتا ہے؟ سدس بھئی۔ اور علاتی بہن ایک ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے۔ تو خاوند کا حصہ بھی نصف، علاتی بہن کا بھی نصف، ماں کا سدس، اخیافی بہن کا بھی سدس۔ تو نصف ہے نوع اول میں سے اور سدس ہے نوع ثانی تو نصف جمع ہو گیا نوع ثانی کے ساتھ۔ مسئلہ کس سے بنے گا؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے بھئی۔ میت کے اوپر چھ لکھیے۔ چھ میں سے نصف کتنا؟ تین تو یہ تین خاوند کے نیچے لکھ لیجیے۔ چھ کا سدس یعنی چھٹا حصہ کتنا؟ ایک تو ماں کے نیچے بھی ایک۔ اخیافی بہن کا بھی اتنا ہی حصہ اس کے نیچے بھی ایک اور علاتی بہن کو کتنا دینا ہے؟ نصف۔ تو چھ کا نصف تین ہے وہ علاتی بہن کے نیچے بھی لکھ لیجیے۔ اب کیا کریں گے؟ شاباش اب عول ہوگا کیونکہ خاوند کو تین ملے، ماں کا ایک حصہ تین اور ایک چار، اخیافی بہن کا ایک حصہ چار اور ایک پانچ اور علاتی بہن کے تین حصے تو پانچ اور تین آٹھ۔ تو چھ کا عول کہاں تک ہوگا؟ آٹھ۔ چھ کے ساتھ آگے عول کی علامت لگائیے اور اس پر آٹھ لکھ لیجیے بھئی۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ اب نیچے لکھیے جب مرد فرض کیا گیا۔ جب مرد فرض کیا گیا۔ اسی طرح میت بنائیے۔ سارے یہی وارث لکھیے۔ صرف علاتی بہن کی جگہ اب علاتی بھئی بنانا ہے بھئی۔ خاوند، ماں، اخیافی بہن اور علاتی بھئی۔ علاتی بھئی اس کے ساتھ بین القوسین خنثیٰ لکھ دیجیے بھئی۔ اب کیا صورت ہوگی بھئی؟ خاوند کو نصف ملتا ہے، ماں کو کتنا ملے گا؟ سدس۔ اور اخیافی بہن کو بھی سدس اور علاتی بھئی وہ کیا بنے گا بھئی؟ وہ شاباش عصبہ بنے گا بھئی۔ تو مسئلہ اسے نصف اور سدس ہے تو مسئلہ چھ سے بنے گا بھئی۔ چھ لکھیے اوپر۔ چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ یہ خاوند کے نیچے لکھ لیجیے تین بھئی۔ ماں کے نیچے ایک۔ اسی طرح اخیافی بہن کے نیچے بھی ایک کیونکہ ان کو سدس دینا ہے۔ اور تو خاوند کو تین ملے، ماں اور اخیافی بہن کو ایک ایک، تین اور یہ دو کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ باقی کتنا بچا؟ چھ میں سے پانچ نکل گئے تو ایک بچا، وہ علاتی بھئی کا حصہ اس کے نیچے لکھ لیجیے۔ بھئی۔ लिख लिया بھئی؟ اب دیکھیے، مونث فرض کیا گیا تو آٹھ میں سے تین ملے تھے اوپر بھئی خنثیٰ کو۔ اور مذکر فرض کیا گیا تو چھ میں سے ایک ملا ہے۔ چھ میں سے ایک ملا ہے۔ یہ جو نیچے نمبر لکھے ہوتے ہیں نا تین اور اوپر ملا تین خنثیٰ کو، نیچے ملا ایک۔ صرف ان پہ نظر نہیں کرنی۔ آپ نے اس بات سے بھی نظر رکھنی ہے کہ مسئلہ کس سے بنا ہے؟ تو دیکھیے اوپر والی صورت میں علاتی بہن یعنی خنثیٰ کو کتنے مل رہے ہیں؟ تین اور کتنے میں سے ہیں؟ آٹھ میں سے۔ آٹھ میں سے تین یعنی نصف کے قریب ہے۔ آٹھ کا نصف کتنا ہوتا ہے؟ چار تو یہ نصف کے قریب اس کو مال مل رہا ہے۔ اور نیچے والی صورت میں دیکھیں چھ میں سے ایک مل رہا ہے۔ چھ میں سے اور یعنی چھٹا حصہ مل رہا ہے تو اوپر تو نصف کے قریب مل رہا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور نیچے چھٹا حصہ ہے تو آپ نے اس طرح دیکھنا ہے بھئی۔ صرف نیچے نمبر ایک کے نیچے ایک اوپر تین لکھا ہے، نیچے ایک لکھا ہے علاتی بھئی بنا کر তো صرف ان پہ نظر نہیں رکھنی۔ اس پہ بھی نظر رکھنی ہے مسئلہ بن کتنے سے رہا ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً ایک جگہ مسئلہ بن رہا ہے چالیس سے اور خنثیٰ کو کتنے مل رہے ہیں چالیس میں سے فرض کرو آٹھ مل رہے ہیں۔ کتنے مل رہے ہیں؟ آٹھ۔ چالیس میں سے فرض کرو آٹھ۔ دوسری طرح، دوسری صورت بنائی تو خنثیٰ کو۔ خنثیٰ کو اسی میں سے بارہ مل رہا ہے۔ ایک طرف فرض کریں ویسے بتا رہا ہوں چالیس میں سے کتنا مل رہا ہے؟ آٹھ۔ اور دوسری طرف اسی میں سے بارہ مل رہا ہے تو آپ یہ نہ کہنا کہ یہ آٹھ والی صورت میں کم مل رہا ہے یہ دیں گے۔ کیونکہ یہ تو زیادہ ہے۔ آٹھ چالیس کا کتنا حصہ ہے؟ پانچواں حصہ اس کو مل رہا ہے اور ادھر بارہ کی طرف ہم گئے تو وہ اسی میں سے کتنا ہے؟ جی۔ چھٹے حصے سے کچھ زائد ہے۔ بارہ سے اسی کو تقسیم کریں تو چھ اعشاریہ کچھ جواب آئے گا بھئی تو دیکھو معلوم ہوا ادھر اگرچہ ہندسہ بڑا ہے بارہ لیکن یہ دراصل کتنا ہے؟ چھٹے حصے سے کچھ زائد ہے۔ چھٹے حصے سے۔ اور پھر وہیں مثال کرو بھئی سب کے لیے بات واضح ہو جائے۔ کیا مثال بنائیں؟ चौरासी میں سے ہاں، چلیں یہ کر لیں۔ بھئی دیکھیے ایک طرف خنثیٰ کو مثلاً چالیس میں سے کتنا ملا؟ آٹھ اور دوسری طرف चौराسی میں سے بارہ ملا۔ चौराسی میں سے۔ بارہ تو آپ کہیں دیکھیں ایک جگہ آٹھ ملے، دوسری جگہ بارہ یہ آٹھ والا کم ہے اب یہ والی صورت اختیار کریں گے نہیں بھئی آپ یہ بھی تو دیکھیں چالیس میں سے آٹھ اس کو مل رہا ہے چالیس میں سے آٹھ کا کیا مطلب ہے؟ پانچواں حصہ اس کو مل رہا ہے اور دوسری طرف جو بارہ مل رہا ہے وہ کتنے میں سے ہے؟ चौराسی میں سے وہ بارہ سے चौराسی کو تقسیم کریں کیا آیا؟ سات۔ سات یہ ساتواں حصہ ہے۔ یہاں ساتواں حصہ مل رہا ہے اوپر پانچواں حصہ مل رہا ہے تو یہ کم ہے اس کے مقابلے میں تو بارہ والی صورت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دونوں صورتیں بنا لیں بھئی؟ مذکر والی بھی اور مونث والی بھی؟ اچھا۔ جی۔ اچھا آگے بھئی مثال نمبر 123 جلدی جلدی کیجیے بھئی۔ مثثال نمبر 123۔ اور اوپر لکھ لیں وہ صورت جب خنثیٰ کو عورت فرض کیا گیا تو کم حصہ ملتا ہے۔ وہ صورت جب خنثیٰ کو عورت فرض کیا گیا تو کم حصہ ملتا ہے۔ اس کے نیچے لکھ لیں پہلی صورت جب مرد فرض کیا گیا۔ جب مرد فرض کیا گیا۔ جی میت بنائیے۔ میت کے نیچے لکھیے بھئی۔ تین وارث آئیں گے۔ بیٹا، بیٹی، بیٹا۔ بیٹا پھر بیٹی اور تیسرے نمبر پر پھر بیٹا ہے یہ وہ خنثیٰ ہے بین القوسین لکھ لیجیے بھئی اس کو ہم نے مرد فرض کیا یہ بیٹا ہے۔ جی اب مسئلہ کس سے بنے گا؟ بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملتا ہے۔ تو بیٹی کو اگر ایک دیں تو ہر بیٹے کو کتنا دیں گے؟ دو دیں گے تو کل کتنے ہو جائیں گے اس سے؟ پانچ تو مسئلہ پانچ سے بنائیے۔ پانچ سے مسئلہ بنا۔ بیٹے کے جو پہلا ہے اس کے نیچے دو لکھیے، بیٹی کے نیچے ایک اور اگلے بیٹے کے نیچے پھر دو لکھ لیجیے۔ بھئی یہ وہ صورت ہے جب مرد فرض کیا گیا۔ اگلی صورت جب مونث فرض کیا گیا بھئی۔ جب مونث فرض کیا گیا۔ اسی طرح میت بنائیے، یہی وارث سارے لکھیں۔ لیکن آخری بیٹے کے بجائے بیٹی اب لکھیں گے۔ بھئی تو تین وارث ہیں بیٹا، بیٹی اور پھر بیٹی اور یہ دوسری بیٹی کے ساتھ خنثیٰ لکھ لیں بین القوسین بھئی۔ جی اب مسئلہ کس سے بنے گا؟ بس بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملتا ہے تو بیٹی کو اگر ایک ملے تو بیٹے کو دو تو دو بیٹیاں ہیں ایک ایک ان کو مل گیا اور بیٹے کو دو کتنا؟ چار تو چار سے مسئلہ بنائیے بھئی اوپر چار لکھ لیجیے۔ بیٹے کے نیچے دو اور ہر بیٹی کے نیچے ایک ایک بھئی۔ جی اب کونسی صورت میں کم مل پہلی صورت میں دیکھیے پانچ میں سے خنثیٰ کو کتنا مل رہا ہے؟ دو اور دوسری صورت میں چار میں سے ایک مل رہا ہے۔ تو پانچ میں سے دو یہ نصف کے قریب ہے بھئی۔ پانچ کا نصف ڈھائی تھا اس کو دو مل رہا ہے نصف کے قریب اور دوسری صورت میں چار میں سے ایک چوتھا حصہ مل رہا ہے تو وہ کم ہے۔ تو یہاں خنثیٰ کو کیا فرض کیا جائے گا؟ مونث اور وہ ایک دیا جائے گا چار میں سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ چاروں صورتیں ہم نے کر لیں۔ بعض صورتوں میں مرد فرض کیا جاتا تھا تو محروم رہتا تھا بعض صورتوں میں عورت فرض کیا جاتا تو محروم رہتا تھا بعض صورتوں میں مرد فرض کیا گیا تو کم حصہ ملا، بعض صورتوں میں عورت فرض کیا گیا تو کم حصہ ملا وہ چاروں صورتیں بیان ہو گئیں بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں کما اذا ترک بنتا و خنثی جیسے کسی شخص نے چھوڑا ایک بیٹا بیٹی اور ایک خنثی یہ آخری صورت ابھی جو ہم نے حل کی بھئی بیٹا، بیٹی اور خنثی للخنثی نصیب بنت خنثی کے لیے بیٹی کا حصہ ہوگا کیونکہ وہ یقینی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ وہ یقینی ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے خنثی اس خنثی مشکل کی بات چل رہی ہے پتہ نہیں وہ اس کا طے نہیں ہو رہا تعیین نہیں ہو رہی کہ اس کو مرد تصور کیا جائے یا عورت۔ اگر مرد تصور کیا جائے تو اسے مرد والا حصہ ملنا چاہیے، اگر عورت تصور کیا جائے تو اسے عورت والا حصہ ملے گا۔ تو اب یہاں پر اگر مرد تصور کریں تو اسے کتنا ملتا ہے؟ پانچ میں سے دو یعنی نصف کے قریب اور اگر اسے عورت تصور کریں تو اسے چار میں سے ایک ملتا ہے تو ایک تو کم از کم چار میں سے ایک تو یقینی ہے ربع تو اس کا یقینی ہے۔ اگلا باقی جو زائد ہے اس میں شک ہے بھئی کہ مرد ہوتا تو ہم وہ حصہ دے دیتے لیکن کم از کم ایک چار میں سے ایک تو ضرور اس کا حصہ ہے یقینی طور پر اس سے کم تو نہیں اس کا حصہ۔ یہ جو مثالیں ہم نے بنائیں ابھی آخر میں یہی صورت بیان ہو رہی ہے۔ چار میں سے ایک کم تر کتنی مل رہی ہے؟ چار میں سے ایک اور زیادہ والی صورت کتنی ہے؟ پانچ میں سے دو معلوم ہوا چار میں سے ایک یہ تو اس کا پکا حق ہے۔ اس کا یہ تو اس کا پکا حق ہے یقینی ہے۔ ہاں اگر مرد فرض ہوتا تو اس کو وہ زائد بھی مل جاتا لیکن یہ جو نیچے والا یہ تو یقینی ہوتا ہے کہ یہ تو ملنا ہی ملنا ہے اس سے زائد میں شبہ آتا ہے تو لہذا اس لیے یہاں یہ یقینی اس کو مل جائے گا بھئی۔ کم تر حصہ جو بیٹی والا ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی ہٰذا هو المراد واللہ اعلم بحقیقت الکلام
92 approved lectures · 85 of 92