فصل:
علماءُنا رحمهم اللہُ تعالى يعتبرونَ الجهاتِ في التُّوريثِ، غيرَ أنَّ أبا يوسفَ رحمهم اللہُ تعالى يعتبرُ الجهاتِ في أبدانِ الفروعِ ومحمداً ومحمداً رحمهم اللہُ تعالى يعتبرُ الجهاتِ في الأصولِ، كما إذا تركَ بنتَ بنتِ بنتٍ، وهما أيضاً بنتُ ابني بنتٍ وابنَ بنتِ بنتٍ بهذه الصورۃِ۔
علماءُنا رحمهم اللہُ تعالى يعتبرونَ الجهاتِ في التُّوريثِ۔ ہمارے علماء یعنی ہمارے فقہاء رحمهم اللہُ تعالى وہ اعتبار کرتے ہیں جہتوں کا وارث بنانے میں۔ غيرَ أنَّ أبا يوسفَ رحمهم اللہُ تعالى، علاوہ اس کے کہ امام ابو یوسف رحمہم اللہ وہ اعتبار کرتے ہیں جہتوں کا فروع کے ابدان میں، ان کے بدنوں میں۔
اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی وہ اعتبار کرتے ہیں جہتوں کا اصول کے اندر، بھئی۔ اصول کے۔
کما إذا ترکَ۔ یہ آگے صورت ذرا بنائیے، بھئی۔ کون سی مثال ہے؟ 117۔ مثال نمبر 117، بھئی۔
مثال نمبر 117۔
میت بنائیے۔
یہ کتاب میں جو صورت دی ہے یہی بنائیں گے، لیکن ذرا تھوڑی سی شکل مختلف کر دیں گے، بھئی۔
میت بنا لی، بھئی؟ جی۔ تین بیٹیاں اس کے نیچے بنائیے الگ الگ، بھئی۔ بنتُن، بنتُن، بنتُن۔
اب پہلی بیٹی کے نیچے، بھئی کتاب میں درمیان والی بیٹی کے نیچے ابن دیا ہوا ہے، آپ پہلی بیٹی کے نیچے ابن لکھیں اور اگلی دونوں بیٹیوں کے نیچے بنتُن، بنتُن لکھتے ہیں، بھئی۔
لکھ لیا، بھئی؟ دوسری پشت بنا لی؟ جی۔
تیسری پشت اسی طرح جیسے کتاب میں دی ہوئی ہے یہ جو دوسری پشت میں ابنُن اور بنتُن آ رہے ہیں، ان کے نیچے درمیان میں بنتینی لکھ لیں۔ بنتانی۔
بنتانی۔
دو بیٹیاں ہیں، بھئی۔
اور ابنُن سے بھی ایک لکیر کھینچیں بنتانتک اور ساتھ جو بنتُن ہے، اس سے بھی ایک لکیر کھینچیں بنتانی تک، بھئی۔
اور آخر میں جو تیسری بیٹی تھی، اس کے نیچے ایک بنتُن لکھا تھا، اسی کے نیچے ایک ابنُن لکھ لیں، بھئی۔
صورت بنا لی، بھئی؟
بھئی دیکھیے، انہوں نے بتلایا کہ ہمارے فقہاء وارث بنانے میں جہتوں کا اعتبار کرتے ہیں۔ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ جہتوں کا اعتبار کرتے ہیں، البتہ امام ابو یوسف رحمہم اللہ جو ہیں، وہ فروع کے ابدان میں جہت کا اعتبار کرتے ہیں اور امام محمد رحمہم اللہ اصول میں جہت کا اعتبار کرتے ہیں۔ تو دیکھو دونوں جہت کا اعتبار کر رہے ہیں، البتہ امام ابو یوسف رحمہم اللہ فروع کے اندر اور امام محمد رحمہم اللہ اصول کے اندر اعتبار کریں گے، بھئی۔
سب سے پہلے دیکھ لیں، ویسے لکھنا نہیں، امام ابو یوسف رحمہم اللہ کے مطابق صورت کیسے ہوگی، بھئی۔
دیکھیے یہ مرنے والے کی تین بیٹیاں تھیں، پھر ان میں سے ہر ایک کا، پہ ایک بیٹی کا بیٹا ہوا، بیٹا تھا اور اس سے آگے اس کی دو بیٹیاں ہیں۔
اور یہ ابنُن، ان کا کیا ہوا؟ والد۔
اور دوسری طرف جو لکیر ملائی، بنتُن کے ساتھ، یہ کون ہیں ان کی؟ یہ والدہ ہے۔
یعنی دو بے میت کی دو بیٹیاں تھیں، ایک نے اپنے بیٹے کا نکاح کر دیا، اپنی بہن کی بیٹی سے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟ اس سے یہ دو بیٹیاں ہوئیں نیچے، دوسری طرف تیسری بیٹی جو ہے، اس کا ایک نواسہ ہے، سب سے نیچے، بھئی۔
اب یہ دو بیٹیاں تیسری پشت جو ہے، صرف یہ زندہ ہے۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔
اب امام ابو یوسف رحمہم اللہ جو ہیں، وہ جہت کا اعتبار کرتے ہیں، ابدانِ فروع کے اندر۔ کس میں؟ ابدانِ فروع۔
ابدانِ فروع اس وقت کتنے ہیں؟ سب سے نیچے، بھئی، ایک بیٹا ہے اور دو بیٹیاں ہیں۔
لیکن یہ جو دو بیٹیاں ہیں، یہ جو ابدانِ فروع ہیں، ان میں وہ جہت کا بھی اعتبار کرتے ہیں، تو یہ دو جہت سے ہیں، بھئی۔
یہ دو بیٹیاں کتنی جہت سے ہیں؟ دو جہت سے۔
نواسہ کی طرف سے بھی ہے، ان کی میت کے ساتھ رشتہ مل رہا ہے اور دوسری طرف نواسی کے ذریعے بھی رشتہ مل رہا ہے۔ تو وہ یوں سمجھتے ہیں گویا یہ دو نہیں ہیں، چار ہیں، بھئی، چار۔ نواسہ کی نسبت سے دو ہو گئیں اور نواسی کی نسبت سے بھی دو ہوئیں، تو چار بیٹیاں ہو گئیں، بھئی۔
تو گویا اس وقت چار بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے۔
اور ایک بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔
تو یہ یوں سمجھیں، آسان لفظوں میں، اس وقت تین بیٹے ہیں، بھئی۔
چار بیٹیاں کتنے بیٹوں کے برابر ہو گئیں؟ دو بیٹوں کے۔ گویا تین بیٹے ہیں، بھئی، تین بیٹے،
اور تو مال، تو مسئلہ، ان کے نزدیک تین سے بن جائے گا، بھئی، تین سے۔
ایک حصہ کس کو دیں گے؟ بیٹے کو، ا، بیٹے کو۔
اور ہر بیٹی، دراصل کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو۔ دو جہت سے ہے نا، ہر بیٹی؟ تو وہ بھی ایک بیٹے کے برابر ہوئی۔ دوسری بیٹی بھی گویا ایک بیٹے کے برابر ہوئی، کیونکہ دو دو بن گئیں، بھئی، اور ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر ہوتا ہے۔
تو تین حصے ہوں گے، ایک حصہ بیٹے کو اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کو مل جائے گا، بھئی، تین حصے، صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟
یہ تھا امام ابو یوسف رحمہم اللہ کے نزدیک، بھئی۔
امام ابو یوسف۔
بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟
سب کو؟
اچھا، اب امام محمد رحمہم اللہ کا طریقہ، بھئی۔
امام محمد رحمہم اللہ مال کے اوپر ہی تقسیم شروع کرتے ہیں، آپ کو پتہ ہے۔
پہلی پشت کے اندر تو سب بیٹیاں ہیں، وہاں مال کی تقسیم نہیں ہوگی، اس سے نیچے، بھئی،
نیچے والی پشت میں ایک بیٹا ہے اور دو بیٹیاں، یہاں مال کی تقسیم ہوگی۔ کس طرح ہوگی بھئی؟
لذکر مثل حظ انثیین کے طریقے پر۔
لیکن کس طرح کریں گے اب آپ بتائیے بھئی؟
ضابطے تو کچھ پڑھ چکے ہیں آپ، وہی ضابطے یہاں لگیں گے۔
وہ عدد نیچے سے لیتے تھے، فروع سے۔ عدد کس سے لیتے تھے؟ فروع سے عدد لیتے تھے۔
تو جو آخری بیٹی ہے، اس کا ایک ہی اس کی اولاد ہے، ادھر وہ ایک ہی شمار ہوگی۔ درمیان والی بیٹی کی کتنی بیٹیاں ہیں؟ دو بیٹیاں ہیں تو یہ بیٹی درمیان والی کتنی شمار ہوں گی؟ دو۔ اور بیٹے کے نیچے کتنی بیٹیاں ہیں؟ دو تو بیٹے بھی کتنے شمار ہوں گے؟ دو۔ تو گویا دو بیٹے ہوگئے اور کل کتنی بیٹیاں ہوگئیں؟ تین۔ دو بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ایک بیٹی کے نیچے دو بیٹیاں ہیں نا وہ بھی دو شمار ہوگی اور ایک بیٹی الگ ہے۔ تو تین بیٹیاں اور دو بیٹے، تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ سات سے۔ جی، سات سے مسئلہ بنائیے۔
سات سے۔
سات میں سے بیٹے کا حصہ کتنا ہوگا؟ یہ دو بیٹوں کی طرح ہے۔ چار ہوگا۔ بیٹے کے نیچے چار لکھیے۔
اور دو بیٹیوں کا آپ کو پتہ ہے، پھر وہ امام محمد رحمہ اللہ جماعت بنا دیتے ہیں، ایک جیسے جو ہوتے ہیں۔ تو دونوں بیٹیوں کو ملا کر مابقیہ دیں گے۔ بھئی ان کے نیچے لکیر کھینچیں۔
دونوں بیٹیوں کو کتنا ملے گا اب؟ تین۔ تین بیٹیاں ہیں دراصل تو تین ان کو مل گیا بھئی۔ تین لکھ لیا بھئی بیٹیوں کے نیچے؟
अच्छा फिर इन दो बेटियों की आगे क्या औलाद है भئی؟
دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا، اور ایک بیٹا کتنے کے برابر ہوتا ہے؟ دو بیٹیوں کے برابر۔ گویا کل کتنی بیٹیاں ہیں نیچے؟ چار۔ اور حصے کتنے ان دو بیٹیوں کو ملے؟ تین ملے۔ تو تین ہیں حصے اور عدد رؤوس کتنا؟ چار۔ تین اور چار میں کون سی نسبت؟ تباین۔ پھر کیا کریں گے؟ عدد رؤوس کو مسئلہ سے ضرب دیں گے۔ جی تو چار سے ضرب دے دیجیے اوپر سات کو بھی۔ اس کے آگے تصحیح تاء لکھیے۔
اٹھائیس ہو گیا۔
اور نیچے بھئی، بیٹے کے نیچے کتنا لکھا تھا؟ چار۔ چار کو بھی چار سے ضرب دی، سولہ ہوا۔ چار کے نیچے سولہ لکھ لیں۔ یا ضرب کی صورت میں لکھ لیں، جیسے بھی ہو۔
تو بیٹے کے نیچے سولہ آگیا۔ بیٹیوں کے نیچے بھئی تین تھا، وہ کتنا بن گیا؟ بارہ بن گیا۔ بارہ میں سے اب کیا کریں گے؟ ایک طرف دو بیٹیاں ہیں تو دوسری طرف ایک بیٹا۔ ایک بیٹا بھی کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو۔ تو گویا ایک طرف بھی دو بیٹیاں، دوسری طرف بھی دو بیٹیاں تو یہ بارہ آدھا آدھا کر دیں گے۔ بیٹے کو کتنا دے دیں گے؟ چھ۔ چھ بیٹے کے نیچے لکھ لیجیے۔
اور چھ ہی بیٹیوں کے نیچے لکھ لیں۔
اور نیز ان بیٹیوں کو بیٹے کی طرف سے کتنا ملا؟ سولہ۔ چھ کے ساتھ جمع سولہ لکھ دیں۔
बराबर है बाईस भئی۔
تو یہ بیٹیوں کو کتنا مل گیا؟ بائیس اور بیٹے کو چھ۔ دو بیٹیوں کو بائیس ملا۔ یعنی ایک بیٹے کا حصہ کتنا ہو گیا؟ گیارہ بھئی۔ ایک بیٹے کا حصہ گیارہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ کتنے سے بنا تھا؟
تین سے مسئلہ بنا تھا بھئی۔
کیونکہ ہر بیٹی دو بیٹیوں کی طرح تھیں، گویا ایک بیٹے کے برابر تھی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی دیکھیے اب کتاب پر دوبارہ، علماءنا رحمہ اللہ تعالیٰ یعتبرون الجہات فی الطور۔ ہمارے فقہاء رحمہ اللہ اعتبار کرتے ہیں جہاتوں کا وارث بنانے میں۔ وارث بنانے میں جہت کا تو اعتبار کرتے ہیں لیکن پھر آگے اختلاف ہے کہ کس جہت کا اعتبار کیا جائے گا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس جہت کا اعتبار کرتے ہیں؟ فروع کے ابدان کا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ؟ اصول کی جہت کا۔ غیر ان ابا یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ یعتبر الجہات فی ابدان الفروع علاوہ اس کے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ اعتبار کرتے ہیں ابدان فروع کے اندر جہت کا۔ ومحمداً رحمہ اللہ تعالیٰ یعتبر الجہات فی الاصول اور امام محمد رحمہ اللہ اصول کے اندر جہتوں کا اعتبار کرتے ہیں۔ کما اذا ترک بنت بنت بنت وہما اذن بنت ابن بنت وابن بنت بنت بهذه الصورة۔ جیسے چھوڑا کسی نے۔ جیسے کسی نے چھوڑا بنت بنت بنت بنتی۔ یہ کیا ہوا؟ دو، ایک بیٹی کی دو نواسیاں ہیں۔ وہما اذن بنت ابن بنت اور یہ دونوں ایک بیٹی کی پوتیاں بھی ہیں۔ ایک بیٹی کی دو نواسیاں ہیں اور یہی جو ہیں ایک بیٹی کی پوتیاں بھی ہیں۔ اور دوسرا وابن بنت بنت اور ایک بیٹی کا نواسہ ہے۔ بہذہ الصورة اس صورت میں۔ عند ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ یکون المال بینہم اثلاثا امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مال ان کے درمیان تین حصے ہوگا۔ وشارکا انہ ترک اربع بنات وابن۔ اور یہ اسی طرح ہو جائے گا، گویا اس نے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ ثلثاہ للبینتین وثلثہ للابن۔ اور دو ثلث اس کی بیٹیوں کے لیے ہوں گے اور ایک ثلث جو ہے بیٹے کا ہوگا۔ وعند محمد رحمہ اللہ تعالیٰ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یقسم المال بینہم علی ثمانی و عشرین سہما۔ تقسیم کیا جائے گا مال ان کے درمیان علی ثمانی و عشرین سہما کتنے حصوں پر؟ اٹھائیس حصوں پر۔ للبنتین اثنان وعشرون سہما من قبل ابیہما وستۃ احسم من قبل امہما۔ سولہ حصے جو ہیں ان کے باپ کی طرف سے ہوں گے اور چھ حصے ان کی ماں کی طرف سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بیٹے کی طرف سے کتنے ملے تھے بیٹیوں کو؟ سولہ اور بیٹے کی طرف سے؟ چھ۔ ولیلبن ستۃ و من قبل امہ اور بیٹے کے لیے چھ حصے ہیں من قبل امہ اس کی ماں کی طرف سے۔ تو یہ صورت ہو جائے گی بھئی۔ چلیے بس، هذا ہو المراد، واللہ اعلم بس یہ تذکرہ اس کا۔