Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-077

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وكذلك عند محمد رحمه الله تعالى اذا كان في أولاد البنات بطون مختلفة يقسم المال على أول بطن مختلف في الأصول ثم يجعل الذكور طائفة والاناث طائفة بعد القسمة. بھئی گزشتہ سبق میں کون سی مثال کی تھی ہم نے؟ بھئی گزشتہ سبق میں مثال نمبر 115 کی تھی ہم نے بھئی۔ بھئی ذرا اس صورت کو دوبارہ دیکھ لیں بھئی۔ بھئی اس میں یہ مثال نمبر 115 میں چھٹی پشت زندہ تھی اور اس چھٹی پشت میں آپ دیکھیں تو تین بیٹے ہیں اور نو بیٹیاں ہیں بھئی چھٹی پشت میں۔ دوسرے نمبر پر بھی بیٹا ہے، چوتھے پر بھی اور ساتویں پر بھی۔ اور امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں ان کا طریقہ کیا تھا؟ کس طرح تقسیم کیا جائے گا مالِ وراثت؟ اصول کو دیکھیں گے بھئی، اصول کو۔ اصول میں جہاں اختلاف آتا ہے مذکر و مونث ہونے میں تو وہاں پر مذکر کے جتنے مذکر ہیں ان کی وہ الگ جماعت بنا دیتے ہیں اور جتنے مونث ہیں ان کی الگ جماعت اور ان کو جو جو حصہ ملا ہے وہ مطلب پوری جماعت کا شمار کیا جاتا ہے کہ اس پوری جماعت کا یہ حصہ ہوا، دوسری جماعت کا یہ حصہ ہوا۔ پھر اس کے بعد نیچے جوں جوں نیچے جائیں تو تذکیر و تانیث کا جہاں اختلاف آئے گا پھر نیچے جماعت بنتی چلی جائے گی۔ اور ایک دفعہ جو جماعت بن گئی، دوسری جماعت سے علیحدہ ہو گئی تو وہ نیچے بھی پھر الگ ہی اس کی تقسیم کا عمل چلے گا، دوبارہ پھر دوسری جماعت کے ساتھ اسے نہیں جوڑنا بھئی۔ اور اس میں آپ نے دیکھا تھا کہ بیٹیوں کو پہلی پشت میں نو ملے تھے اور بیٹوں کو چھ۔ اور پھر تیسری پشت میں جا کر بیٹیاں ان نو بیٹیوں کی جو آگے اولاد تھی اس میں چھ بیٹیاں تھیں اور تین بیٹے تھے۔ تو اور تو تین بیٹے بھی چھ بیٹیوں کے برابر ہوئے تو اور چھ بیٹیاں بھی ہیں تو گویا 12 بیٹیاں ہیں اور 12 عدد رؤوس ہوا اور ان کو حصہ ملا تھا نو۔ تو اب نو 12 کے اندر پورا تقسیم نہیں ہوتا تو پھر کیا کیا تھا ہم نے؟ عددِ رؤوس اور حصے میں نسبت دیکھی تھی۔ تو نو اور 12 میں توافق کی نسبت تھی، دونوں تین سے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو تین سے عددِ رؤوس یعنی 12 کو تقسیم کیا تو چار آیا۔ اس چار سے پھر ہم نے اصلِ مسئلہ کو بھی ضرب دی تھی اور ان کے جو سہام بن رہے تھے ان کو بھی ضرب دی۔ تو بیٹیوں کا حصہ جو ہے وہ 36 بن گیا تھا پہلی پشت میں اور تین بیٹوں کا حصہ جو ہے وہ 24 بن گیا تھا۔ وہی پھر آگے دیا تو تیسری پشت میں تین بیٹے تھے اور چھ بیٹیاں بیٹیوں کے اندر نیچے بھئی۔ تو وہاں وہ 18 تقسیم کیا اور 18 بیٹیوں کا حصہ ہوا 18 بیٹوں کا۔ دوسری طرف جو تین بیٹے تھے پہلی پشت میں، ان کے نیچے تیسری پشت میں آ کر دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ تو ان وہ دو بیٹیوں کی جماعت بن گئی 24 میں سے آدھا یعنی 12 ان کو دے دیا اور 12 بیٹے کو دے دیا۔ اور پھر اسی طرح یہ تقسیم کا عمل نیچے تک چلتا رہا، جہاں جہاں اختلاف آتا رہا اور اس کے مطابق پھر ہر ایک کا حصہ نکل آیا لیکن مختلف ہیں دیکھیے بھئی۔ کسی بیٹی کا ایک حصہ ہے چھٹی پشت میں، کسی کا تین ہے، کسی کا چھ ہے اور کسی کا 12 ہے وغیرہ بھئی۔ یہ طریقہ ہے امام محمد رحمہ اللہ کا ذوی الارحام میں۔ تو معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ ذوی الارحام میں اصول کے اندر ان کی صفت کا اعتبار کرتے ہیں بھئی، مذکر اور مونث ہونے میں۔ اور پھر اس میں میں نے آپ کو بتایا تھا بھئی اگر فرض کریں ہمارے پاس یہ دوسری پشت ہوتی۔ دوسری پشت میں 12 بیٹیاں ہیں، سب بیٹیاں ہیں بھئی تو یہاں تقسیم کس طرح کرتے؟ جی ہاں، جو آخری تین ہیں بیٹوں کی بیٹیاں وہ ہیں پوتیاں اور باقی ہیں نواسیاں۔ اور پوتی تو ذوی الفروض میں سے ہے، اس کا تو حصہ مقرر ہے باقاعدہ۔ تو اور جو دوسری طرف نواسیاں وہ ذوی الارحام ہیں، اور ذوی الارحام کو مال تب دیتے ہیں جب ذوی الفروض یا عصبات نہ ہوں۔ تو یہاں پھر وہ تین پوتیاں جو ہیں انہی کو سارا مال مل جانا تھا۔ اور پوتیاں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان۔ ثلثان ملنا تھا لیکن آگے عصبہ کوئی نہیں تھا تو باقی نے بھی اسی پر رد ہونا تھا، تو اس لیے مسئلہ ہی کس سے بنایا جائے گا پھر؟ تین سے بھئی تین حصے کرکے ایک ایک حصہ ایک پوتی کو مل جاتا بھئی۔ اس سے نچلی پشت میں اگر آئیں تو اس میں پھر چوتھی پشت میں جو پوتیوں کے نیچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تیسری پشت میں پوتیوں کے نیچے کیا ہے؟ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ یہ ہیں وارث کی اولاد۔ پوتی کی اولاد ہیں نا؟ پوتی وارث ہے تو یہ وارث کی اولاد۔ اور اس طرف والے جو بیٹیوں کے نیچے ہیں یعنی بیٹیوں کے جو نواسے نواسیاں ہیں وہ کس کی اولاد ہیں؟ وہ نواسے نواسیوں کی اولاد ہیں تو ذوی الارحام کی اولاد ہوئے بھئی۔ تو ایک طرف ہوں وارث کی اولاد، ایک طرف ہوں ذوی الارحام کی اولاد تو کون اولیٰ ہے؟ وارث کی اولاد۔ اس چنانچہ تیسری پشت میں بھی وہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹے ان کو مال مل جانا تھا اور مسئلہ چار سے بن جاتا باقی نو بیٹے بیٹیاں جو ہیں وہ محروم ہوجاتے بھئی۔ اس سے نیچے چوتھی پشت میں آئیں بھئی تو چوتھی پشت میں اب یہ جو 12 کے 12 ہیں یہ سب ذوی الارحام کی اولاد ہیں کیونکہ تیسری پشت میں کوئی وارث نہیں، سب کیا ہیں؟ سب ذوی الارحام ہیں، البتہ ان میں سے پھر تین وارث کی اولاد تھے اور تین اور باقی نو ذوی الارحام کی اولاد تھے لیکن چوتھی پشت میں آ کر اب سارے ذوی الارحام کی اولاد ہیں کیونکہ تیسری پشت میں کوئی وارث نہیں ہے، سب ذوی الارحام ہیں بھئی تو یہاں آ کر پھر تقسیم ان میں اسی طریقہ کے مطابق ہوتی جو تفصیلی طریقہ بیان ہوا امام محمد رحمہ اللہ کا بھئی۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں اب کتاب پر دیکھیے بھئی۔ وكذلك عند محمد رحمه الله تعالى إذا كان في أولاد البنات بطون مختلفة اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب بیٹیوں کی اولاد میں مختلف پشتیں ہوں، مختلف مختلف پشتیں ہوں يقسم المال على أول بطن اختلاف في الأصول تو تقسیم کیا جائے گا مال پہلی پشت میں، پہلی اس پشت میں اختلاف في الأصول جس میں اصول میں اختلاف آیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جہاں بھئی يقسم المال على أول بطن مال کی تقسیم ہم نے کہاں شروع کی تھی؟ اولاً صورت کہاں سے بنانا شروع کردی؟ پہلی پشت سے ہی بنانا شروع کردی، کیوں؟ پہلی میں کیوں کردی تقسیم شروع؟ کیونکہ وہیں پر اصول مختلف ہوگئے تھے، تین بیٹے تھے اور نو بیٹیاں تھیں اس لیے وہیں سے تقسیم شروع کردی۔ اگر اس میں ساری بیٹیاں ہوتیں یا سارے بیٹے ہوتے تو پھر یہاں تقسیم کا عمل نہ شروع کرتے، اس سے نیچے جہاں مختلف ہوتے وہاں سے پھر تقسیم کا عمل شروع کرتے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ اذا كان في أولاد البنات بطون مختلفة جو بیٹیوں کی اولاد میں مختلف پشتیں ہوں تو يقسم المال على أول بطن تو تقسیم کیا جائے گا مال کو علی اول بطن اختلاف پہلے اس بطن میں ہی جس میں اختلاف آیا في الأصول کس کے اندر؟ اصول، بھئی یہ تقسیم کس میں کر رہے ہیں ہم؟ چھٹی پشت میں تقسیم کر رہے ہیں۔ مختلف اور بطون مختلف ہیں نا، کتنی پشت ہے یہ؟ چھٹی تو مختلف پشتیں ہیں، تو مال کو تقسیم کیا جائے گا کس میں؟ جہاں اولِ بطن میں اختلاف آ جائے، اصول کے اوپر، اوپر اب چھٹی پشت سے اوپر سارے اصول ہیں۔ تو پہلی پشت جس کے اندر اختلاف آ جائے اصول کے اندر اور کہاں پہلی مرتبہ اختلاف آیا تھا؟ پہلی پشت میں ہی آیا تھا ثم يجعل الذكور طائفة پھر بنا دیا جائے گا ذکور جو مذکر ہیں ان کو طائفة ایک جماعت بنا دیا جائے گا والاناث طائفة ثم يجعل الذكور طائفة پھر وہ بنا دیتے ہیں ذکور کو ایک طائفہ والاناث طائفة بعد القسمة اور اناث کو، مونث کو ایک گروہ ایک جماعت بنا دیتے ہیں بعد القسمة تقسیم کے بعد جیسے ہم نے کیا تھا بھئی۔ پہلی پشت میں نو بیٹیاں تھیں تو ساری کو ایک جماعت بنا کر ان کے نیچے ہم نے نو لکھا تھا۔ بیٹے تین تھے پہلی پشت میں تو تینوں کو ملا کر ایک جماعت بنا دی اور ان کو جو حصہ ملا تھا چھ وہ اکٹھا لکھ دیا تھا ان کے نیچے فما أصاب الذكور يجمع ويقسم على أعلى الخلاف پس وہ جو پہنچے مذکر کو، اس کو جمع کیا جائے گا (یعنی پوری جماعت کو جو ملا ہے وہ سارا جمع کر لیا جائے گا ہر ہر فرد کے حصے کو) ويقسم على أعلى الخلاف الذي بقى في أولادهم اور تقسیم کیا جائے گا اوپر والے اختلاف پر جو ان کی اولاد میں واقع ہو۔ بھئی آگے ان کی اولاد میں اختلاف آئے گا بھئی جیسے بیٹیاں نو تھیں پہلی پشت میں، اس کے نیچے پھر کیا تھیں دوسری پشت میں؟ تین نقشے پر نظر ہے؟ دوسری پشت میں بیٹیوں کے نیچے صرف دیکھیں، بیٹیوں کی الگ جماعت بن چکی نو بیٹیاں، ان کے نیچے دوسری پشت میں دیکھیں کوئی اختلاف آیا؟ نہیں لہٰذا یہاں بھی تقسیم نہیں کریں گے، پھر اس سے نچلے پشت میں آئے تو وہاں پر اختلاف آیا، چھ بیٹیاں ہیں اور تین بیٹے ہیں۔ تو یہ باقی پشتیں ان سے نیچے ہیں، یہ کیا ہیں؟ باقیوں سے اوپر ہیں تو کہتے ہیں ان کی اولاد میں پھر جو ایک جماعت بن گئی اس جماعت میں جو سب سے اوپر والے ہیں جن میں اختلاف آ رہا ہے، پھر وہاں پر کیا کیا جائے گا؟ مال کو تقسیم کیا جائے گا بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ ان کی اولاد میں دیکھو تیسری، چوتھی، پانچویں پشت، سب میں اختلافات چلے جا رہے تھے لیکن سب سے اوپر والا ان میں سے کون سا ہے؟ تیسری پشت والا بھئی تو لہٰذا اس پر مال تقسیم کیا جائے گا، یہ معنی ہے ويقسم على أعلى الخلاف الذي بقى في أولادهم اور تقسیم کیا جائے گا مال کو اوپر والے اختلاف پر جو ان کی اولاد میں واقع ہو (یعنی جن کی اولاد میں آگے سب سے اوپر یعنی سب سے پہلا جہاں اختلاف آئے گا وہیں پھر اور تقسیم ہوگی) وكذلك ما أصاب الإناث ما أصاب الإناث اور اسی طرح جو پہنچے جو مونث کو پہنچے بھئی اس میں بھی اسی طرح عمل ہوگا۔ وهكذا يعمل إلى أن ينتهي بهذه الصورة اور اسی طرح عمل کیا جائے گا یہاں تک کہ عمل انتہا کو پہنچ جائے اس صورت میں جیسا کہ انہوں نے آگے نقشہ دیا ہوا ہے اور جو آپ بنا چکے ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی وكذلك محمد رحمه الله تعالى يأخذ الصفة من الأصل حال القسمة عليه والعدد من الفروع اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ صفت لیتے ہیں اصل سے حال القسمة عليه اس پر تقسیم کے حال میں والعدد من الفروع اور عدد لیتے ہیں فروع سے۔ كما إذا ترك جیسے کہ چھوڑا کسی شخص نے ابن بنت بنت بنت بھئی بیٹی کی، بیٹی کی، بیٹی کی کے دو بیٹے بھئی۔ یعنی نواسی کے دو نواسے ہیں نواسی کے دو نواسے ہیں۔ وبنت ابنی بنت بنت بھئی اور بیٹی کی بیٹی کے بیٹے کی بیٹی (یعنی نواسی کی پوتی) وبنت بنت بنت ابن بنت بھئی یہ کیا ہے؟ واسطے کی کہ جو نواسیاں بہاری ہی صورت اس صورت کے اندر بائیے صورت بنائیے بھئی۔ مثال نمبر 116 بھئی۔ مثال نمبر 116۔ اسی طرح میت بنائیے۔ تین بیٹیاں الگ الگ لکھیے میت کے نیچے بھئی۔ بنت، بنت، بنت۔ جلدی لکھیے میں بنواتا ہوں نقشہ بھئی۔ تین بیٹیاں بنا لی بھئی؟ یرحمک اللہ۔ اچھا پہلی بیٹی کے نیچے لکھیے بنت پھر لکھیے دوبارہ بنت پھر اس کے نیچے لکھیے ابنانی ابنانی۔ کتنی پشتیں بن گئیں؟ چار پشتیں بن گئیں۔ تین پشتوں میں بیٹی، بیٹی، بیٹی ہے اور چوتھی میں دو بیٹے ہیں۔ اگلی بیٹی کے نیچے آئیے بھئی۔ اس کے نیچے لکھیے بنت، اس سے نیچے لکھیے ابن، اس کے نیچے لکھیے بنت۔ اس سے اگلی آخری بیٹی کے نیچے لکھیے ابن، اس کے نیچے لکھیے بنت، اور اس کے نیچے لکھیے بنتانی بنتانی۔ اب کیا کیا جائے گا بھئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مطابق مال کس طرح تقسیم ہوگا؟ سب سے نیچے والی پشت زندہ ہے یعنی چوتھی پشت۔ دو بیٹے ہیں اور تین بیٹیاں ہیں اور ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر تو گویا کل کتنی ہو گئیں؟ دو بیٹے ہیں، تین بیٹیاں سات ہو گئے۔ ساٹھ حصے تو سات سے ان کے نزدیک مسئلہ بنے گا اور ہر بیٹی کو ایک ایک ملے گا اور بیٹے کو دو دو تو بیٹوں کا حصہ کتنا ہو جائے گا؟ چار اور بیٹیوں کا تین۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ ابدان کا اعتبار کرتے ہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ اصول کا اعتبار کرتے ہیں، جہاں اصول میں اختلاف آئے گا وہیں پر وہ مال کی تقسیم کا عمل شروع کر دیں گے بھئی، حصے بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور لیکن پھر یاد رکھیے صفت کا تو وہ اصول کا اعتبار کرتے ہیں اور عدد وہ فروع سے لیں گے۔ کس سے لیں گے؟ جس کی دو اولاد ہوں گی اوپر جہاں تقسیم کرنے لگے وہاں یوں سمجھیں گے یہ دو ہیں۔ کیا سمجھیں گے؟ یہ دو ہیں۔ دیکھیے نقشے پر اب آئیے ذرا، بھئی پہلی پشت میں تین بیٹیاں ہیں یہاں تقسیم کا عمل شروع نہیں ہوگا، نیچے اس سے آئیے۔ دوسری پشت میں کیا ہے؟ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ لیک تو لیکن یہ جو پہلی بیٹی ہے پہلے نمبر والی میں دوسری پشت کے اندر بھئی۔ اس کے نیچے دیکھو فروع میں کتنی اولاد ہے؟ دو بیٹے جی۔ ایک بیٹا۔ بھئی پہلے پہلے نمبر پر جو بیٹی ہے دوسری پشت میں اس کے نیچے سب سے نیچے اس کی کتنی اولاد ہے؟ دو بیٹے اس کے ہیں تو یہاں سے امام محمد رحمہ اللہ عدد لیں گے۔ یہ دو ہیں تو معلوم ہوا یہ دوسری پشت والی بیٹیاں یوں سمجھو دو ہیں۔ کتنی ہیں؟ دو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ عدد فروع سے لیں گے تو یہ دو بیٹیاں ہو گئی سمجھو اور ایک ساتھ والی بھی دوسری پشت میں اس کے ساتھ جو ہے ایک اور بیٹی تو گویا کل کتنی بیٹیاں ہو گئیں؟ یہاں تین بیٹیاں ہیں اور ابن سب سے آخر میں دوسری پشت کے اندر اس ابن کے سب سے نیچے کتنی اولاد ہے؟ دو بیٹیاں تو یوں سمجھو یہ ایک بیٹا اس وقت یہاں نہیں ہے بلکہ دو بیٹے ہیں تو یہاں دوسری پشت میں گویا تین بیٹیاں ہو گئیں اور دو بیٹے تین بیٹیاں اور دو بیٹے تو کس سے بنائیں گے بھئی تقسیم عدد سے کس کس عدد سے مسئلہ بنائیں گے؟ سات سے کیونکہ دو بیٹے کتنی بیٹیوں کے برابر؟ چار بیٹیوں کے برابر اور تین بیٹیاں بھی ہیں چار اور تین سات تو سات سے مسئلہ بنائیے بھئی۔ سات سے مسئلہ بنائیے۔ دونوں بیٹیوں کے نیچے لکیر کھینچ کر اس کے نیچے تین لکھیے کیونکہ ایک جماعت بنا دیتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ۔ جو ایک جیسے ہوتے ہیں ان کی جماعت۔ دونوں بیٹیوں کے نیچے تین لکھ لیا بھئی؟ اچھا بیٹے کے نیچے کیا لکھیں گے؟ چار بھئی۔ مسئلہ کس سے بنے؟ سات سے۔ صورت بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ آرہی ہے۔ صفت کا اصول کی صفت کا اعتبار کرنا ہے مذکر و مؤنث ہونے کا اور عدد کہاں سے لینا ہے؟ فروع سے عدد لینا ہے بھئی۔ اس سے پیچھے جو ہم نے مسئلہ کیا تھا مثال نمبر 115 بھئی اس میں سب کے نیچے ایک ایک اولاد تھی اگر وہاں بھی کسی کے نیچے دو اولادیں ہوتیں تو وہاں بھی مسئلہ مختلف ہو جاتا۔ تو یہاں بات کی دو اولادیں ہیں تو وہاں اصول کو ہی سمجھیں گے گویا دو ہیں۔ اس کے بعد اب آئیے بھئی۔ بھئی بیٹے کے نیچے آگے کوئی چلیے وہ کرتے یہ اچھا بیٹیوں کو کتنا ملا؟ تین۔ اس سے نچلی پشت میں آئیے یعنی تیسری پشت میں۔ تیسری پشت کے اندر اب دیکھیے یہاں بیٹیوں کے نیچے ایک بیٹی ہے اور ایک بیٹا۔ اب پھر کیا کریں گے مال کو تقسیم کریں گے، کس طرح تقسیم ہوگا؟ دو بیٹے شاباش۔ یہاں چار حصے ہوں گے بیٹے کے نیچے ذرا دیکھو کتنی اولاد ہے؟ ایک تو بیٹا ایک ہی ہے۔ بیٹی کے نیچے کتنی اولاد ہے؟ دو بیٹے ہیں تو بیٹی گویا دو بیٹیاں ہیں بھئی تو دو بیٹیاں ہو گئیں ایک بیٹا ہو گیا اور بیٹا کتنے کے برابر ہوتا ہے؟ دو بیٹیوں کے برابر تو دو اور دو چار تو یہاں عدد رؤوس ہے چار اور حصے کتنے مل رہے ہیں؟ تین تو کیا رہی ہے؟ کسر آرہی ہے اور پھر چار جو عدد رؤوس ہے اور تین جو حصے ملے ان میں نسبت دیکھیے تبائن کی تو عدد رؤوس سے اصل مسئلہ کو ضرب دے دیں گے بھئی۔ تو اوپر سات کو ضرب دیجیے چار سے سات چوکنے 28 تو سات کے آگے طثیق تالیے اور اس پر 28 لکھ لیجیے بھئی۔ 28۔ اچھا اوپر بیٹیوں کو بھئی کتنا حصہ ملا تھا؟ تین اس کو بھی چار سے ضرب دی کتنا بن گیا؟ 12 ہو گیا بھئی بارہ۔ تین ضربے چار برابر ہے 12 یہ بیٹیوں کے نیچے لکھ لیں بھئی تاکہ آپ کو بھی یاد رہے کہ یہاں کس طرح بارہ ہوا بھئی۔ اچھا بیٹے کے نیچے کتنا لکھا تھا؟ چار اس کو بھی چار سے ضرب دی تو 16 ہو گیا بھئی۔ 16۔ اچھا اب بیٹیوں کا حصہ ہوا 12 اس 12 میں سے نیچے کتنے ہیں؟ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں، بیٹا بھی کتنے کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر گویا چار بیٹیاں ہیں۔ ایک طرف بھی دو بیٹیاں، دوسری طرف بھی دو بیٹیاں تو 12 ان میں آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔ تو بیٹی کے نیچے کیا لکھیں؟ چھ اور بیٹے کے نیچے بھی چھ۔ اب اس کے نیچے آئے اس سے تو وہی بیٹی کے نیچے جو چھ لکھا ہے وہ اس کے نیچے جو دو بیٹے ہیں ابنانی سب سے نیچے اس کو وہی اپنے اصل کا حصہ چھ مل جائے گا۔ اور تیسری پشت میں جو ابن کو چھ ملا تھا وہی اس کے نیچے جو بیٹی ہے اس بیٹی کو چھ مل جائے گا سب سے نیچے بھئی۔ دوسری طرف بھئی دوسرے پشت میں جو بیٹا آیا تھا اس کو کتنا ملا تھا؟ 16۔ وہی 16 سب سے نیچے اس کی جو دو بیٹیاں ہیں ان کو مل جائے گا کیونکہ آگے کوئی تقسیم نہیں ہے۔ تو دو بیٹوں کو کتنا ملا؟ چھ، بیٹی کو چھ اور پھر آگے جو دو بیٹیاں ہیں ان کو 16 بھئی یعنی ایک ایک کو اٹھ آٹھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا طریقہ ہے۔ देखिये अब दोबारा किताब पर वकذلك محمد رحمہ اللہ تعالی يأخذ الصفة من الأصل حال القسمة عليه اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یاخذ الصفة من الأصل صفت لے گا بھئی وہ صفت لے گا کس سے؟ اصل سے حال القسمة عليه اس پر تقسیم کے وقت ولعدد من الفروع اور عدد کس سے لے گا؟ فروع سے کما اذا ترک ابنتي بنت بنت وبنت ابن بنت بنت وبنتي بنت ابن بنت بهذه الصورة اس صورت میں یہ جو نقشہ دیا ہوا ہے بھئی۔ عند أبي يوسف رحمہ اللہ تعالى يقسم المال بين الفروع أسباعا باعتبار أبدانهم امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک تقسیم کیا جائے گا مال کو فروع کے اندر اسباعا سات حصے کرکے باعتبار ابدانهم ان کے بدنوں کے اعتبار سے و عند محمد رحمہ اللہ تعالى يقسم المال على أعلى الخلاف اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مال تقسیم کیا جائے گا علی اعلی الخلاف سب سے اوپر والے اختلاف میں بھئی سب سے اوپر کہاں اختلاف آیا تھا؟ دوسری پشت میں پہلی میں اس لیے تقسیم نہیں دوسری پشت جہاں اختلاف آیا وہاں تقسیم ہوگا یعنی فی البطن الثانی یعنی کہ دوسری پشت میں اسباعا کتنے بھئی؟ سات حصے بھئی باعتبار اسباع جمع ہے سبوع کی ساتویں حصے کو کہتے ہیں۔ باعتبار عدد الفروع في الاصول کس اعتبار سے سات حصے بنیں گے بھئی؟ باعتبار عدد الفروع في الاصول اصول کے اندر فروع کے عدد کے اعتبار سے بھئی۔ اصول کے اندر فروع کے عدد کا لحاظ رکھیں گے۔ اربعه اسباعه چار اسباع بھئی سات حصے کیے نا ہر ایک حصہ کیا ہوا سبوع ساتواں حصہ تو چار اسباع لبنتي بنت ابن البنتی وہ کس کو مل جائے گا؟ ان کو ملے گا بھئی لبنتي بنت ابن البنتی جو دو بیٹیاں ہیں سب سے نیچے ان کو کتنا ملے گا اولاً؟ چار ضربیں دینے سے پہلے بھئی۔ نصیب جدهما اس حال میں کہ یہ ان کے جد کا حصہ ہے۔ یا نصیب جدهما اس پر چاہے رفع پڑھ لیں نصب پڑھ لیں نصب پڑھ لیں تو حال بن جائے گا بھئی اور رفع پڑھ لیں تو بدل بنے گا یا مبتدا کی خبر بن جائے گا۔ و ثلاثة اسباعه اور تین سبوع جو ہیں وہا نصیب البنتين وہ دو بیٹیوں کا حصہ ہے کون سی دو بیٹیاں؟ دوسری پشت والی وہ ان کا حصہ ہے يقسم علي ولديهما وہ ان دونوں کی اولاد پر تقسیم ہوگا یعنی فی البطن الثالث کس میں؟ تیسری پشت میں انصافا آدھا آدھا۔ نصفه لبنت ابن بنت البنتی نصف اس کا کس کے لیے ہوگا؟ جو سب سے نچلی پشت والی ہے اس کا حصہ بن رہا ہے تقسیم اوپر کر رہے ہیں لیکن حصے یہ انہی نیچے والوں کے ہیں نا حصے وہ نیچے والوں کے ہیں تو حصے میں اس کو ذکر کر دیتے ہیں۔ آدھا اس کا ہوگا لبنت بنت البنتی یعنی درمیان میں جو سب سے نیچے والی بیٹی ہے آدھا اس کو ملنا چاہیے تین میں سے اور یہ کیا ہے نصیب ابيها ان کے باپ کا حصہ ہے۔ ان کا باپ کون؟ تیسرے میں جو درمیان میں ابن آرہا ہے یہ ان کا باپ اس کا حصہ ہے جو اس کو اوپر سے ملا ہے والنصف الاخر لبنتي بنت بنت البنتی اور باقی کا نصف یعنی ڈیڑھ وہ کس کو ملے گا؟ جو شروع میں دو بیٹے ہیں سب سے نیچے نصیب امهما یہ کس کا حصہ ہے ان کی ماں کا حصہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وتصح المسئلة من ثمانية وعشرين اور صحیح ہو جائے گا مسئلہ 28 سے وقول محمد رحمہ اللہ تعالى اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا قول جو ہے اشهر الروايتين عن أبي حنيفة رحمہ اللہ تعالی یہ دو روایتوں سے مشہور تر ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کہ جو دو روایتیں میں ہے جو دو روایتیں ہیں ان میں سے یہ مشہور تر قول ہے فی جميع ذوی الارحام تمام ذوی الارحام میں وعلیہ الفتوى اور اسی پر فتوی۔
92 approved lectures · 77 of 92