بھئی ذوی الارحام کی قسم اول ہم نے شروع کی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ امام محمد رحم امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ فروع کے عبدان کا اعتبار کرتے ہیں۔
فروع کے عبدان کا، جتنے بدن یعنی جتنے افراد ہوں گے اس کے مطابق مسئلہ بنا لیا جائے گا، اگر صرف مذکر ہیں تو ان کے عدد سے، اگر صرف مؤنث ہیں تو بھی ان کے عدد سے اور اگر مذکر اور مؤنث دونوں ہیں تو پھر مذکر کو مؤنث سے دگنا حصہ دیا جائے گا۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ وہ فروع کے اصول کا بھی اعتبار کرتے ہیں بھئی۔
اگر اصول مختلف ہیں تو وہیں پر تقسیم شروع ہوگی اور جو اصول کا حصہ ہوگا وہی نیچے ان کے فروع کو ملے گا بھئی فروع کو۔
چنانچہ گزشتہ سبق میں آپ نے ایک نقشہ بنایا بھئی، وہ نقشہ آپ کے سامنے ہے اس وقت بھئی؟ جی۔ آج ہم اس نقشے کو حل کریں گے۔
دیکھیے بھئی اس میں کل کتنی پشتیں بنائیں آپ نے؟ چھ۔
یہ جو چھٹی پشت ہے آخری، اس وقت صرف یہ زندہ ہے اور در باقی ایک سے لے کر پانچ تک جو پشتیں ہیں ان میں سے کوئی زندہ نہیں۔
تو یہ چھٹی پشت میں اس وقت یہ بارہ افراد موجود ہیں بارہ۔
اور ان بارہ میں آپ دیکھیے ذرا دوسرے نمبر پر بیٹا ہے، چوتھے نمبر پر بھی بیٹا ہے اور ساتویں نمبر پر بھی بیٹا ہے۔
تین بیٹے ہیں اور باقی بیٹیاں تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ آسان ہے۔
لذکر مثل حظ الانثيين کے مطابق مسئلہ بنا دیا جائے گا، ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو کے برابر۔
تو نو بیٹیاں اور بیٹے کتنی بیٹیاں بن گئے؟ چھ۔
نو اور چھ پندرہ، پندرہ سے مسئلہ ان کے مطابق بنے گا۔
اور پندرہ سے مسئلہ بنے گا اور ایک ایک بیٹی کو مل جائے گا اور دو دو بیٹوں کو بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی؟
لیکن آپ پڑھ چکے ہیں فتوی امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہے، ان کے مطابق اصول کے کو بھی دیکھا جائے گا اور اس کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
دیکھیے صورت دیکھیے بھئی۔
سب سے پہلی پشت جو ہے اس میں دیکھیے نو بیٹیاں ہیں اور دس سے لے کر بارہ تک یہ تین بیٹے ہیں۔
تو یہیں سے اصول مختلف ہو گئے، پہلی پشت سے ہی یہیں سے تقسیم کا عمل وہ شروع کر دیں گے۔
اور پھر وہ کیا کریں گے؟
کہ ایک قسم کے جو ہوں گے سارے مذکر یا سارے مؤنث ان کا حصہ ملا دیا جائے گا پورا ایک گروہ بنا دیں گے اس کو۔
کیا بنا دیں گے؟ گروہ۔
دیکھیے بھئی پہلی جو اگر یہ پہلی پشت موجود ہوتی تو کس طرح مال تقسیم کرتے بھئی؟
لذکر مثل حظ الانثيين کے مطابق ایک ایک حصہ بیٹی کو ملتا اور دو دو بیٹوں کو تو کل کتنے سے مسئلہ بنتا؟ پندرہ سے۔
अच्छा नौ बेटियाँ हैं तो इनको एक-एक मिलता हर एक को एक-एक तो यहीं से امام محمد رحمہ اللہ تقسیم شروع کرتے ہیں اور پھر جو سارے ایک جیسے افراد ہیں جن کو حصہ ملا ہے ان کی پوری وہ جماعت بنا دیتے ہیں۔
کیا کرتے ہیں؟ جماعت بنا دیتے ہیں۔
تو یہاں دیکھیے بیٹیوں کی پھر الگ جماعت بن جائے گی اور ان کا حصہ اکٹھا رہے گا اور بیٹوں کی الگ جماعت بن جائے گی اور ان کا حصہ الگ رہے گا بھئی۔
بیٹیاں کتنی ہیں؟
نو اور ان کو کتنا ملے گا؟
نو ہی ملے گا اور بیٹے کتنے ہیں؟
تین اور ان کو کتنا ملے گا؟
چھ۔
لہذا یوں کریں اب ایک نمبر سے لے کر یرحمك الله۔
ایک نمبر سے لے کر نو تک یہاں تک بیٹیاں ہیں بھئی پہلی پشت میں ان کے نیچے ایک لکیر کھینچتے ہیں۔
ایک سے لے کر نو تک۔
اور اس کے نیچے ان کا حصہ لکھ دیں کتنا حصہ ہے بھئی؟
نو۔
تو نو لکھ دیجیے بھئی اس کے نیچے اور بیٹے کتنے ہیں؟
تین۔
ان کے نیچے بھی لکیر کھینچیں یہ بھی ایک جماعت بن گئی۔
اور ان کو کتنا ملے گا؟
چھ تو ان کے نیچے چھ لکھیں اور مسئلہ کتنے سے بنا؟
پندرہ سے۔
پندرہ اوپر لکھیے بھئی پندرہ سے مسئلہ بنا۔
اب یاد رکھیے ادھر دیکھیے توجہ کیجیے۔
ایک جماعت بن گئی بیٹوں کی ایک جماعت بن گئی بیٹیوں کی اوپر سے ہی تقسیم شروع ہو گئی۔
یاد رکھنا جوں جوں نیچے اختلاف آتا جائے گا جماعتیں پھیلتی چلی جائیں گی بھئی۔
اس وقت دو جماعتیں ہیں آگے چل کر اور بنیں گی اور جو ایک دفعہ جماعت بن گئی اس کا پھر دوسری جماعت سے تعلق نہیں ہوگا، پھر دوبارہ نیچے ان کو نہیں جوڑنا۔
صورت سمجھ میں آگئی؟
ایک دفعہ جب اوپر جماعت بن گئی الگ ہو گئے باقیوں سے تو وہ خود جماعت نیچے چلے گی اور اسی میں پھر آگے تقسیم کا عمل ہوتا رہے گا بھئی ان میں جب اختلاف آئے گا۔
صورت جی تو دیکھیے بھئی، بیٹیوں کو ملا نو اور بیٹوں کو مل گیا چھ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اصول کے اندر جہاں مذکر اور مؤنث میں اختلاف آئے تو مذکر کی ایک جماعت بنا دی جائے اور مؤنث کی ایک جماعت پوری بنا دی جائے۔
پھر اس کے بعد اب ہم آئے نیچے دوسری پشت میں، دوسری پشت میں دیکھیے کہیں تقسیم آرہی ہے بھئی؟
نہیں، سب بیٹیاں ہیں یہاں تقسیم نہیں آ رہی وہ حصہ اسی طرح رہے گا۔
اس سے نیچے آئیے بھئی۔
جو بیٹیاں تھیں نو، ان کی تیسری پشت میں دیکھیں۔
اس میں ایک سے لے کر چھ تک بیٹیاں ہیں اور سات آٹھ نو یہ کیا ہیں؟ بیٹے تو دیکھو یہاں ان کا حصہ پھر تقسیم ہوگا۔
ان کا حصہ پھر تقسیم ہوگا۔
کتنا حصہ تھا اوپر ان کا؟
نو، نو میں سے ایک طرف ہیں چھ بیٹیاں، دوسری طرف ہیں تین بیٹے، تین بیٹے بھی دراصل کتنے ہوئے گویا؟
چھ بیٹیاں تو چھ بیٹیاں ایک طرف ہوئے گویا اور چھ ایک طرف۔
دیکھیے یہاں ابھی سے عدد رؤوس دیکھ لیں۔
عدد رؤوس اس طرح دیکھیں، چھ ہیں بیٹیاں اور تین ہیں بیٹے، تو بیٹے ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟
دو بیٹیوں کے برابر تو گویا چھ اور چھ کتنی ہو گئیں؟
بارہ بیٹیاں ہو گئیں۔
تو عدد رؤوس گویا یہاں ہے بارہ۔
اور حصہ کتنا ملا؟
نو مل رہا ہے بارہ اور نو میں کون سی نسبت ہے؟
تواقفت کی ہے، کس سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں؟
تین سے تو تین سے عدد رؤوس یعنی بارہ کو تقسیم کیجیے بھئی، کیا آیا؟
چار یہ ہے عدد رؤوس کا وقف بھئی۔
اب چار کے ساتھ ضرب دے دیں گے اوپر اصل مسئلہ کو چار سے ضرب دیجیے۔
پندرہ چوکے ساٹھ، جی پندرہ کے آگے تشعیق طالیے اور اس پر ساٹھ لکھ لیجیے بھئی۔
لکھ لیا بھئی؟
اچھا نیچے بیٹیوں کو کتنے حصے دیے تھے پہلی پشت میں؟
نو اس کو بھی چار سے ضرب دیں گے تو نو کے ساتھ ضرب کی علامت ڈالیے پھر چار لکھیے برابر ہے چھتیس۔
نو ضرب چار برابر ہے چھتیس۔
ضرب کی علامت بھی ڈالیں اور برابر والی علامت بھی ڈالیں۔
نو ضرب چار برابر ہے چھتیس۔
اچھا دوسری طرف بیٹوں کو کتنا ملا تھا؟
چھ اس کے ساتھ بھی چھ ضرب چار برابر ہے چوبیس لکھ دیجیے بھئی۔
چھ کے ساتھ ضرب کی علامت پھر چار پھر برابر کی علامت اور برابر ہے کتنے کے؟ چوبیس کے۔
بیٹوں کی تیسری پشت میں آئیے بھئی۔
دس نمبر میں تیسری پشت میں کیا ہے؟
بیٹی گیارہ میں بھی کیا ہے؟ بیٹی اور بارہ میں بیٹا ہے دیکھو یہاں پھر دو قسمیں آ گئیں۔
اب کیا کریں گے؟
وہ چوبیس ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔
چوبیس میں سے اب کتنا دیں گے بیٹیوں کو؟ نیچے جو بیٹ کے بیٹوں کے نیچے ہیں بیٹیاں۔
किस तरह تقسيم ہوگا؟ کتنا کتنا ملے گا؟
بیٹا کتنے کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر اور دوسری طرف بھی دو بیٹیاں تو چار ہو گئیں تو چوبیس ان میں تقسیم کرنا ہے تو بیٹے کو کتنا مل جائے گا؟
آدھا اور آدھا کن کو؟
بیٹیوں کو کتنا دیں گے؟ بارہ دیں گے بیٹیوں کو اور بارہ ہی بیٹے کا حصہ تو بیٹیوں کے نیچے بارہ لکھ لیجیے اور بیٹ بیٹیوں کے نیچے بارہ اور بیٹے کے نیچے بھی بارہ لکھ لیجیے۔
اب دیکھیے۔
بھئی بیٹے کے نیچے سب سے آخر میں جو بارہ نمبر کے نیچے تیسری پشت میں بیٹا ہے اس کی آگے تقسیم ہو رہی ہے بھئی۔
جی اس اس کی آگے کہیں دو پشتیں بن رہی ہیں دو نسلیں نہیں بس ایک ایک ہی ہے تو یہی بارہ جو بیٹے کا حصہ ہے سب سے آخر میں نیچے بیٹی کو مل جائے گا تو جو بارہ نمبر میں سب سے نیچے چھٹی پشت میں جو بیٹی ہے اس کے نیچے بارہ لکھ لیجیے۔
بھئی! آپ یہ بیٹیوں کو کتنا ملا بھئی؟ یہ جو بیٹوں کے نیچے دو بیٹیاں ہیں ان کو بارہ ملا ہے۔ اس سے نیچے آئیے، چوتھی پشت یہاں بھی تقسیم نہیں ہو رہی۔ اس سے نیچے آئیے، پانچویں پشت میں، یہاں دیکھیے بھئی، دس نمبر میں بیٹی ہے تو گیارہ نمبر میں بیٹا ہے۔ یہاں تقسیم پھر ہوگی۔ کس طرح تقسیم ہوگی؟ للذکر مثل حظ الأنثيين بھئی۔ تو بارہ کے تین حصے کریں گے، دو حصے بیٹے کو دیں گے، ایک حصہ بیٹی کو۔ بارہ کو تین سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ چار۔ تو یہ چار بیٹی کا اور اس کو دگنا کریں، آٹھ، یہ بیٹے کا حصہ ہوا بھئی۔
سمجھ میں آگیا بھئی؟ بارہ کے کتنے حصے کیے؟ تین۔ ایک حصے میں کتنے آئے؟ چار۔ تو چار بیٹی کا حصہ اور آٹھ بیٹے کا حصہ۔ اب بیٹی کے نیچے تو ایک ہی بیٹی ہے، تقسیم آگے نہیں۔ لہذا اس کے نیچے جو بیٹی ہے یعنی دس نمبر، اس کے نیچے چار لکھ لیں۔ اس کو وہی حصہ مل گیا۔ بیٹے کی بھی آگے تقسیم نہیں ہے گیارہ نمبر میں، تو اس کے نیچے جو بیٹی ہے، اس کے نیچے کیا لکھ لیں؟ آٹھ لکھ لیں۔ دیکھیے ان تین کا حصہ نکل آیا۔ بیٹی کا حصہ دس نمبر میں چار، گیارہ نمبر میں آٹھ، اور بارہ نمبر میں بارہ ہے۔
اب آئیے دوسری طرف بھئی، جو بیٹیاں تھیں، ان میں تیسری پشت میں آکر تقسیم ہوئی تھی بھئی۔ بیٹیوں کو کتنا حصہ ملا ہے اوپر؟ چھتیس ملا ہے۔ تو نیچے ہیں، تیسری پشت میں چھ بیٹیاں ہیں، تین بیٹے ہیں، اور تین بیٹے بھی دراصل کتنے ہیں گویا؟ چھ بیٹیاں۔ تو ایک طرف بھی چھ بیٹیاں، دوسری طرف بھی چھ بیٹیاں، تو چھتیس کو آدھا آدھا دونوں میں تقسیم کر دیں گے۔ تو بیٹیوں کو کتنا ملے گا؟ اٹھارہ۔ تو بیٹیوں کے نیچے لکیر کھینچیے، اٹھارہ لکھ لیجیے۔ بیٹوں کے نیچے بھی لکیر کھینچ لیجیے، اور ان کے نیچے بھی اٹھارہ لکھ لیں۔
اچھا، اس کے بعد اب دیکھیے بھئی، صرف اب یہ بیٹوں والی جانب ذرا پہلے کر لیں۔ بیٹوں کے نیچے دیکھیے، چوتھی پشت میں دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ ان میں پھر اسی طرح تقسیم ہوں گی۔ بیٹا کتنے کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر۔ تو گویا ایک طرف دو بیٹیاں ہیں، دوسری طرف بھی دو بیٹیاں، تو اٹھارہ کے دو برابر حصے کریں گے۔ تو سات اور آٹھ نمبر میں جو دو بیٹیاں ہیں، ان کے نیچے لکیر کھینچیے اور اس کے نیچے اٹھارہ کا آدھا کتنا ہوا؟ نو، نو لکھ لیجیے۔ اور بیٹے کے نیچے بھی کتنا لکھ لیں گے؟ نو لکھ لیں گے بھئی۔ اب بیٹا اکیلا ہے، آگے اس کی تو تقسیم ہے ہی نہیں، وہ لہذا سب سے نیچے جو بیٹی ہے، اس کو اس کا حصہ مل گیا۔ بیٹی کے نیچے نو نمبر لکھ لیجیے۔ نو نمبر خانے میں۔
اچھا، بیٹیوں کو کتنا ملا؟ سات اور آٹھ میں، چوتھی پشت کے اندر، نو ملا ہے۔ نیچے والے پانچویں پشت میں تقسیم نہیں۔ چھٹی پشت میں آئے، تو ایک بیٹا ہے، ایک بیٹی ہے۔ تو کیا کریں گے؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ نو کے تین حصے کریں گے۔ ایک حصے میں کتنے آئے؟ تین، یہ ہے بیٹی کا حصہ۔ اور دو ثلث یعنی چھ کس کا حصہ؟ بیٹے کا۔ تو بیٹی کے نیچے تین لکھیں، بیٹے کے نیچے چھ لکھیں۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
اب آئیے بھئی دوسری طرف، ایک نمبر سے لے کر چھ نمبر تک جو خانے ہیں تیسری پشت میں، اس میں صرف بیٹیاں تھیں، ان کو کتنا ملا ہے؟ اٹھارہ۔ اس سے نچلی پشت چوتھے میں آئے بھئی۔ بیٹیاں کتنی؟ تین۔ بیٹے کتنے؟ تین۔ تین بیٹے کس کے برابر؟ چھ بیٹیوں کے برابر۔ تو گویا کل کتنی بیٹیاں ہو گئیں؟ نو بیٹیاں ہو گئیں۔ نو بیٹیاں، اور اٹھارہ کل حصہ ہے، تو ہر بیٹی کو کتنا ملے گا؟ دو۔ ہر بیٹی کو دو ملے گا۔ تو تین بیٹیوں کو کتنا ملا؟ چھ۔ تو تین بیٹیوں کے نیچے لکیر لگائیے، اس کے نیچے چھ لکھئے۔ اٹھارہ میں سے چھ نکل گئے، باقی کتنے رہ گئے؟ بارہ۔ تو تینوں بیٹوں کے نیچے لکیر لگائیے، ان کے نیچے بارہ لکھ لیجیے۔
اچھا، اب نچلی پشت میں آئیے بھئی۔ اب صرف بیٹیوں والی پہلے جانب حل کر لیں۔ نیچے پھر اختلاف آیا، دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ ایک بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو۔ تو گویا ایک طرف بھی دو بیٹیاں، دوسری طرف بھی دو بیٹیاں، تو چھ کے دو برابر حصے کریں گے۔ کتنا ملے گا؟ تین۔ تین بیٹیوں کو اور تین بیٹے کو۔ تو دونوں بیٹیوں کے نیچے لکیر کھینچیے، اس کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ بیٹے کے نیچے بھی تین لکھ لیجیے بھئی۔
اچھا، بیٹے کے تو چونکہ آگے تقسیم نہیں، لہذا اس کے نیچے جو بیٹی ہے اس کو وہی تین مل گیا۔ اس کے نیچے تین لکھ لیں۔ بیٹیوں کو ملا ہے تین، اس کے اندر چھٹی پشت میں پھر ایک بیٹا ہے ایک بیٹی ہے۔ پھر کیا کریں گے؟ تین حصے کریں گے۔ ایک حصہ بیٹی کو اور دو حصے بیٹے کو۔ تو بیٹی کو کتنا ملے گا؟ ایک۔ اور بیٹے کو کتنا ملے گا؟ دو۔ تو بیٹی کے نیچے ایک لکھیں، بیٹے کے نیچے دو بھئی۔
اب آئیے وہ بیٹوں کی طرف بھئی، کہاں، کون سی پشت میں ہم پہنچے تھے؟ چوتھی پشت میں بیٹوں کو ملا ہے بارہ۔ نیچے آئیے بھئی، پانچویں پشت میں پھر تقسیم ہو رہی ہے۔ دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ اور بیٹا کتنے کے برابر؟ دو کے برابر۔ یعنی دو بیٹیاں ایک طرف ہیں، دو بیٹیاں... بیٹے کو الگ دینا ہے نا، بیٹیوں کو الگ دینا ہے۔ تو بیٹے کا حصہ بارہ میں سے کتنا ہوا؟ چھ۔ تو بیٹے کے نیچے چھ لکھیے۔ اور دونوں بیٹیاں جو ہیں، ان کو کتنا ملے گا؟ تین تین، لیکن آپ ابھی ان کو، ان کی جماعت بناتے جا رہے ہیں ہم بھئی، تو ان دونوں بیٹیوں کی کیا بنے گی؟ جماعت، اور پیسے ابھی جو حصہ ملا وہ اکٹھا رہے گا۔ تو کیا کریں؟ بیٹے کے نیچے چھ لکھ لیا بھئی؟ اب ایک بیٹی سے لکیر کھینچیں دوسری کی طرف، چھ کے نیچے سے گزرتے ہوئے، جو بیٹے کا حصہ ہے۔ بیٹے کے حصے کے نیچے سے گزرتے ہوئے دونوں بیٹیوں کے درمیان لکیر کھینچ کر ان کو ملا دیں۔ ملا دیا بھئی؟ اب اس کے نیچے یاد رکھو، چھ لکھنا ہے لیکن اس طرح نہ لکھنا کہ وہ بیٹے کا حصہ جو چھ ہے اسی کے نیچے چھ آجائے، ورنہ پھر شبہ پڑے گا۔ ذرا ایک طرف سائیڈ پہ کرکے اس کے نیچے چھ لکھ لیں۔
اب صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا، اس کے بعد آگے دیکھیے بھئی۔ بیٹے کو کتنا ملا؟ چھ، اس میں تو آگے تقسیم نہیں، اس کی ایک ہی بیٹی ہے آگے، تو وہ چھ اس کی بیٹی کو مل جائے گا۔ تو جو پانچ نمبر میں بیٹی ہے، اس کے نیچے چھ لکھ لیں۔ اور دو بیٹیوں کو کتنا ملا؟ چھ، ان میں پھر تقسیم ہے دیکھیے، ایک طرف بیٹا ہے تو دوسری طرف بیٹی۔ پھر کیسے تقسیم کریں گے؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ معلوم ہوا چھ کے تین حصے کریں گے، دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو۔ تو بیٹے کو کتنا ملے گا چھ میں سے؟ چار۔ تو لہذا چار نمبر میں جو بیٹا ہے، سب سے نیچے، اس کے نیچے چار لکھیں۔ اور چھ نمبر میں سب سے نیچے جو بیٹی ہے، اس کے نیچے دو لکھیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ پہلے خانے میں جو بیٹی ہے چھٹی پشت پہ، اس کو کتنا ملا؟ ایک۔ دوسرے نمبر والے بیٹے کو دو۔ تیسرے نمبر والی بیٹی کو تین۔ چوتھے نمبر پر جو بیٹا ہے اسے چار۔ پانچویں نمبر پر جو بیٹی ہے اسے چھ۔ اور چھٹے نمبر پر جو بیٹی ہے اسے دو۔ ساتویں نمبر پر جو بیٹا ہے اسے چھ۔ اور اگلے خانے میں بیٹی کو تین۔ نویں خانے میں بیٹی کو نو۔ دسویں خانے میں بیٹی کو چار۔ اور گیارہویں خانے میں بیٹی کو آٹھ۔ اور بارہویں خانے میں بیٹی کو بارہ۔ یہ تقسیم ہوئی امام محمد رحمہ اللہ کے طریقہ پر۔
طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ اوپر تقسیم جہاں وارثوں میں اختلاف آئے، وہیں سے تقسیم شروع ہوگی۔ اور پھر جو ایک جیسے ہوں گے ان کی جماعت بنتی جائے گی۔ اور جو جماعت ایک دفعہ بن گئی، باقیوں سے الگ ہو گئی، دوبارہ ان کو آپس میں پھر نہیں ملانا بھئی۔
اچھا بھئی، اگر یہی مسئلہ ہوتا، اور ہم پہلی پشت میں ہوتے، تو مسئلہ کس سے بنتا؟ پندرہ سے بنتا۔ نو بیٹیوں کو ملتا اور چھ بیٹوں کو۔ اچھا، اگر یہی صورت ہوتی، لیکن دوسری پشت والے سارے موجود ہوتے، تو کیا کرتے؟ بارہ سے۔ بارہ سے مسئلہ کس طرح بنتا؟ دوسری پشت ہے ہمارے پاس پوری۔ بارہ اور بیٹیاں ہیں، کس سے مسئلہ بنتا؟ مسئلہ تین سے بنتا۔ یہ تین پوتیاں ہیں، یہ ذوی الفروض ہیں، انہی پر رد بھی ہو جانا تھا، اور باقی چھ تو نواسے ہیں، وہ تو ذوی الارحام ہیں بھئی، نو نو، ان کو کچھ بھی نہیں ملنا تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
اچھا، اس سے نچلی پشت میں آئیے ذرا۔ تیسری پشت اگر ہوتی یہ ساری بارہ افراد ہوتے، کس طرح مسئلہ بنتا؟ وارث کی اولاد ذوی الارحام کی اولاد سے اولی ہے۔ دوسری پشت میں جو آخری تین بیٹیاں وہ وارث ہیں، اور پہلی والی چھ نو کیا ہیں؟ ذوی الارحام۔ تو نیچے پہلے نو خانوں کے نیچے جو اولاد ہے، یہ ذوی الارحام کی اولاد ہے۔ اور آخری تین خانوں میں جو اولاد ہے وہ پوتی کی اولاد یعنی وارث کی اولاد ہے۔ اور وارث کی اولاد ذوی الارحام کی اولاد سے اولی ہوتی ہے، لہذا انہی کو ملے گا، باقیوں کو نہیں ملے گا، اور مسئلہ کتنے سے بنتا؟ چار سے مسئلہ بنتا۔ ایک ایک بیٹی کو اور دو بیٹے کو۔ جبکہ آخری چھٹی پشت میں آپ دیکھ رہے ہیں، کوئی بھی وارث کی اولاد نہیں، یعنی ان سے اوپر جو پانچویں پشت ہے، اس میں کوئی بھی وارث نہیں ہے، سب کے سب کیا ہیں؟ ذوی الارحام ہیں بھئی۔ چلیے بس! واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔