Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-072

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب ذوي الأرحام ذو الرحم هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة وكانت عامة الصحابة رضي الله تعالى عنهم يرون طور توريث ذوي الأرحام وبه قال أصحابنا رحمهم الله تعالى وقال زيد بن ثابت رضي الله تعالى عنه لا ميراث لذوي الأرحام ويوزع المال في بيت المال وبه قال مالك والشافعي رحمهم الله تعالى. أغلب باب ذي الأرحام کا ہے ذوی الأرحام. ذوی الأرحام جمع ہے ذو الرحم کی ذو الرحم بھئی حا کو ساکن پڑھنا بھی ٹھیک اور حا پر کسرہ پڑھنا بھی ٹھیک ذو الرحم. ذو الرحم یا ذو الرحم تو ذوی الأرحام جمع ہے ذو الرحم کی. اور عربی زبان میں ذو الرحم رشتہ دار کو کہتے ہیں ذو الرحم کسے کہتے ہیں؟ رشتہ دار. جبکہ اصطلاح شریعت میں ذو الرحم وہ رشتہ دار ہو وہ رشتہ دار ہے جو ذوی الفروض میں سے بھی نہ ہو اور عصبات میں سے بھی نہ ہو۔ ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں ان کو ذوی الأرحام کہا جاتا ہے بھئی. معنی سمجھ میں آگیا بھئی عربی زبان میں تو یہ ہر رشتہ دار کو کہتے ہیں تو ذوی الفروض بھی اس میں آگیا عصبات بھی اس میں آگیا لیکن اصطلاح شریعت میں یہ صرف کن کو کہتے ہیں؟ وہ رشتہ دار جو ذوی ذوی الفروض میں سے بھی نہ ہوں اور عصبات میں سے بھی نہ ہوں ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں ان کو ذوی الأرحام کہا جاتا ہے بھئی. اچھا بھئی یہ بحث ہے ذوی الأرحام کی اور ذوی الأرحام کو مال تب ملے گا جب میت کے ذوی الفروض اور عصبات نہ ہوں ذوی الفروض اور عصبات نہ ہوں. بھئی دیکھیے مال وراثت کی تقسیم کرنی ہے سب سے پہلے کس کو دیں گے؟ ذوی الفروض کو اس کے بعد جو باقی بچتا ہے وہ کس کو دیا جاتا ہے؟ عصبات کو اور اگر عصبات نہ ہوں تو پھر یہی مال رد ہوتا ہے کن پر؟ ذوی الفروض پر لیکن ذوی الفروض میں سے دو فرد ایسے ہیں جن پر رد نہیں ہوتا اور وہ کون کون ہیں؟ زوج اور زوجہ بھئی تو میاں اور بیوی ان دو پر رد نہیں ہوتا باقی سب پر رد ہوتا ہے تو لہذا عصبات میں سے کوئی زندہ ہو یا ان 10 ذوی الفروض میں سے ذوی الفروض کتنے تھے کل بھئی؟ کل 12 تھے نا 12 میں سے دو میاں بیوی کو نکال دیں ذرا باقی 10 یہ 10 ذوی الفروض جو ہیں میاں بیوی کے علاوہ اور عصبات ان میں سے کوئی بھی ہو کوئی ایک بھی فرد ہوا تو ذوی الأرحام کو کچھ نہیں ملے گا ہاں میاں بیوی کے ہوتے ہوئے ذوی الأرحام کو مل سکتا ہے جبکہ باقی ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی نہ ہو ایک شخص کا انتقال ہوا اور کوئی بھی نہیں ہے صرف اس کی ایک بیوی زندہ ہے تو پھر بیوی کو اولاد نہ ہونے کی صورت میں کتنا ملتا ہے؟ ربو ملتا ہے ربو مل جائے گا بیوی کو اور باقی تین ارباع جو ہیں وہ مل جائیں گے جو ذو الرحم ہوگا جو جس کا حق بن رہا ہو درجوں کے اعتبار سے اس کو مل جائے گا مال بھئی تو لہذا میاں بیوی کے ہوتے ہوئے ذوی الأرحام کو مال مل سکتا ہے لیکن میاں بیوی کے علاوہ ذوی الفروض میں سے کوئی اور ہو یا عصبات میں سے کوئی ہو تو پھر اس صورت میں ذوی الأرحام کو کچھ نہیں ملتا بھئی ذوی الأرحام کو. اور ذوی الفروض تو صرف 12 ہیں اور عصبات اپ نے پڑھا کہ وہ تو وہ مذکر جس کے ساتھ درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے عورت کا واسطہ نہ آئے اور عصبات کسی کے نہ ہوں یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کسی کا کوئی عصبہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے. بھئی دیکھیے جتنے فاروقی ہیں نسبت ہے ان کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ سارے کہیں نہ کہیں اوپر جا کر ملتے چلے جائیں گے یا نہیں بھئی؟ بھئی قریب والے عصبات میں کوئی نہیں بیٹا اولاد وغیرہ نہیں دادا پردادا وغیرہ نہیں چچا وغیرہ کوئی نہیں بھئی کوئی نہیں لیکن یہ جو سلسلہ اوپر جا رہا ہے ایک شخص فاروقی ہے دوسرا بھی فاروقی اپنے اپ کو کہتا ہے تو معلوم ہوا کہیں نہ کہیں اوپر جا کر ان کا نسب مل رہا ہے تو اور پھر وہاں سے اس شخص کے یعنی کہ سلسلہ نسب الگ اس آدمی کا الگ لیکن درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں کیونکہ نسب تو چلتا ہی کس سے ہے باپ سے وہ اپنے اپ کو فاروقی کہہ رہا ہے معلوم ہوا مردوں کے واسطے سے اس کا نسب اوپر تک جا رہا ہے یہ بھی اپنے اپ کو فاروقی کہتا ہے معلوم ہوا اس کا بھی نسب مردوں کے واسطے سے اوپر تک جا رہا ہے تو پھر وہاں جا کر جہاں مل گئے وہیں سے پھر واپسی کی طرف اتریں گے تو کہاں تک پہنچ جائیں گے اس دوسرے آدمی تک پہنچ جائیں گے اور درمیان میں کسی عورت کا واسطہ آیا نہیں آیا تو یہ عصبہ ہو گیا اس کا تو یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کسی کا عصبہ نہ ہو دسویں پشت بیسویں پشت چالیسویں پچاسویں پشت میں کتنے ہی ساتھ مل جائیں گے لیکن اب یہ پتہ نہیں کون کس پشت میں جا کر ملتا ہے یہ علم ہی نہیں ہے پتہ چلے گا تو طے کریں گے جو قریب والا ہوگا وہ مستحق ہوگا دور والا کیا ہو جائے گا محروم ہو جائے گا تو چونکہ یہ علم ہو ہی نہیں سکتا کہ کون سا کس پشت میں جا کر مل رہا ہے اور کون مستحق ہے فاروقی تو ہزاروں ہوں گے لاکھوں ہوں گے لیکن کون مستحق ہیں ان میں سے بھئی درجے کے اعتبار سے یہ پتہ ہی نہیں چل سکتا بھئی تو لہذا جب پتہ ہی نہیں چل سکتا تو یوں سمجھا جائے گا اس کا گویا کوئی عصبہ ہے ہی نہیں صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو ذوی الفروض کوئی نہیں لیکن عصبات تو ہر حال میں ہوں گے ضرور لیکن ان کا پتہ جب نہیں چل سکتا تو اس عدم علم کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدم وجود کے درجے میں گویا کوئی ہے ہی نہیں اور پھر مال کس کو دے دیا جاتا ہے؟ ذوی الأرحام کو دے دیا جاتا ہے صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی سب کو؟ তো عصبہ تو ہر حال میں ہوگا لیکن ہمیں پتہ نہیں ہوتا بعض صورتوں میں بڑی اوپر جا کر ایک ادمی کی سلسلہ ملتا ہے دوسرے سے علم نہیں ہو سکتا تو عدم علم کو عدم وجود کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے گویا اس کا کوئی عصبہ ہے ہی نہیں جب ذوی الفروض بھی کوئی نہیں عصبہ بھی کوئی نہیں تو پھر بالاخر مال کس کو دے دیا جاتا ہے؟ ذوی الأرحام کو دیا جاتا ہے. لیکن یہ صورت بہت کم پیش آتی ہے بھئی بہت کم پیش آتی ہے کہ مال کس کو دینا پڑے؟ ذوی الأرحام کو دینا پڑے بھئی اس لیے عموما یہ سب پڑھایا بھی نہیں جاتا بھئی لیکن بہرحال مسائل تو ہیں پتہ تو ہونا چاہیے کبھی تو پیش آ سکتی ہے ایسی صورت بھئی تو ذوی الأرحام کا باب شروع کر رہے ہیں ہم اس سے پہلے عصبات کی تفصیل آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے عصبات تو عصبات کی بحث کا خلاصہ ایک مرتبہ پھر سن لیں بھئی عصبات کی بحث کا حاصل کلام یہ ہے کہ بھئی دیکھیے آپ نے پڑھا عصبہ تین قسم پر ہے ایک عصبہ بنفسہ ایک عصبہ بغیرہ ایک عصبہ مع غیرہ عصبہ بنفسہ تو وہ مرد ہیں کہ جن کا ساتھ درمیان میں جن کے ساتھ رشتہ جڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے جیسے بیٹا ہے پوتا ہے پڑپوتا ہے اوپر کی طرف چلے جائیں باپ دادا ہے پردادا ہے اور اطراف میں چلے جائیں بھئی ہے حقیقی بھئی ہے علاتی بھئی ہے چچا ہے حقیقی چچا حقیقی تایا چچا چچا میں سب شامل ہیں بھئی اردو میں تو بڑا بھئی ہو جو والد کا اس کو تایا کہتے ہیں اور جو چھوٹا ہو اسے کیا کہتے ہیں چچا لیکن یہاں چچا کا لفظ یاد رکھنا بس عام ہے چھوٹا ہو یا بڑا دونوں شامل ہیں اس میں تو حقیقی چچا ہو یا علاتی چچا ہو اگر وہ نہیں ہے تو اس کی اولاد مذکر اولاد اگر مذکر اولاد نہیں ہے تو مذکر اولاد کی اولاد آگے اس سے بھی اوپر چلے جائیں والد کے جو چچا ہیں اگر وہ نہیں تو ان کی جو مذکر اولاد ہے اگر وہ بھی نہیں تو اس سے اوپر چلے جائیں دادا یا دادا کی جو مذکر اولاد ہے یعنی دادا کے تو دادا کی مذکر اولاد پھر آگے ان کے دادا کی اولاد کی مذکر اولاد سمجھ میں آئی بات تو یہ ہیں عصبہ بنفسہ وہ مرد جن کے ساتھ میت کا رشتہ جڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے اسے عصبہ بنفسہ کہتے ہیں اور عصبہ بغیرہ بھئی وہ چار عورتیں ہیں چار عورتیں جو ذوی الفروض میں سے ہیں لیکن جب ان کے ساتھ ان کے بھئی مل جاتے ہیں تو وہ عصبہ بن جاتی ہیں وہ چار عورتیں کون کون سی ہیں؟ بیٹی ہے اور پوتی نیچے تک بھئی اور حقیقی بہن اور علاتی بہن یہ ان چار یہ چاروں ذوی الفروض میں سے ہیں لیکن ان کے ساتھ جب بھی ان کا کوئی بھئی اجائے گا تو بھئی کی وجہ سے یہ کیا بن جائیں گی؟ عصبہ اور للذکر مثل حظ الأنثیین کے طریقے پر پھر مال ان میں تقسیم ہوتا ہے یہ تھی عصبہ بغیرہ یاد رکھیے جو عصبہ وہ عورتیں جو عصبہ بغیرہ نہیں ہیں نہیں یوں کہیں جو عورتیں ذوی الفروض نہیں ہیں وہ اپنے بھئی کے ساتھ آ بھی جائیں تو وہ عصبہ نہیں بنیں گی یہ آپ پڑھ چکے ہیں عصبات کے باب میں بھئی وہ عورتیں جو ذوی الفروض میں سے نہیں ہیں مثلاً بھئی اور کوئی رشتہ دار نہیں نیچے کی طرف بھی کوئی مذکر اولاد نہیں اوپر کی طرف بھی کوئی مذکر زندہ نہیں ہاں والد کا بھئی زندہ ہے یعنی چچا چچا زندہ ہے اور چچا کے ساتھ والد کی بہن یعنی پھوپھی بھی زندہ ہے اب یہاں پر صرف چچا ہے اور ساتھ پھوپھی ہے تو کیا ان میں بھی مال اسی طرح تقسیم ہوگا للذکر مثل حظ الأنثیین کیا پھوپھی بھی عصبہ بن جائے گی چچا کے ساتھ نہیں بھئی ضابطہ یاد رکھنا پھوپھی ذوی الفروض میں سے ہے؟ جی؟ وہ عورت اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بنے گی جس جو ذوی الفروض میں سے بھی تھی حقیقی بہن، علاتی بہن، بیٹی، پوتی وغیرہ یہ ذوی الفروض میں سے بھی تھیں یہ جب اپنے جب ذوی الفروض میں سے ہیں پھر جب یہ اپنے بھئی کے ساتھ جمع ہوں گی تو کیا بنے گی؟ عصبہ اور جو ذوی الفروض میں سے ہی نہیں ہے وہ عورت اپنے بھئی کے ساتھ جمع ہو کر کبھی بھی عصبہ نہیں بنے گی لہذا اس صورت میں چچا ہے اور چچا کی بہن ہے تو صرف چچا کو مال ملے گا بہن کو کچھ نہیں ملے گا صورت سمجھ میں آگئی؟ اگر پھوپھی ذوی الفروض میں سے ہوتی تو پھر اس کو یہ بھی عصبہ اس کے ساتھ بن جاتی لیکن عصبہ ذوی الفروض تو 12 افراد آپ نے پڑھے ان میں پھوپھی کا ذکر نہیں تھا بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو عصبہ ہو اللہ اور ایک ہے عصبہ مع غیرہ بھئی یہ تو پہلے گزرے عصبہ بغیرہ ایک عصبہ مع غیرہ وہ کون ہے؟ وہ میت کی بہن حقیقی یا علاتی بہن جب وہ میت کی بیٹی کے ساتھ جمع ہو جائے حدیث نہیں آئی تھی بھئی بہنوں کو کیا کرو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنا دو تو یہ اب بیٹیوں کے ساتھ مل کر عصبہ بنیں گی اور مابقیہ مال لے لیں گی بھئی اس حدیث کی وجہ سے تو یہ ہیں عصبہ مع غیرہ یہ دیکھو اپنے بھئی کی وجہ سے عصبہ نہیں بن رہی بلکہ کس کی وجہ سے بن رہی ہیں؟ غیر کے ساتھ مل کر یہ عصبہ بن رہی ہیں اس لیے ان کو عصبہ مع غیرہ کہتے ہیں تو گویا عصبات کتنے قسم پر ہوئے تین قسم پر ایک عصبہ بنفسہ اور ایک عصبہ بغیرہ اور ایک عصبہ ایک عصبہ مع غیرہ اب عصبہ بنفسہ کے اندر آپ نے پڑھا تھا چار درجے ہیں بھئی چار درجے یاد رکھیے سب سے پہلے مال پہلے درجے والوں کو دیتے ہیں ان میں دیکھتے ہیں کوئی ہے یا نہیں اگر وہ اس میں سے کوئی نہ ہو پھر کس کی طرف جاتے ہیں؟ دوسرے درجے کی طرف اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں پھر کدھر جائیں گے؟ تیسرے اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں پھر کہاں جائیں گے؟ چوتھے درجے کی طرف ترتیب آپ پڑھ چکے بھئی لہذا اگر کوئی دوسرے درجے والا موجود ہے تو تیسرے کی طرف نہیں جائیں گے بھئی تیسرے اور چوتھے درجے والے محروم رہیں گے اگر پہلے درجے والا کوئی موجود ہے تو دوسرے تیسرے اور چوتھے تینوں درجات والے محروم رہیں گے بھئی اب پہلے درجے میں کون ہے؟ وہ میت کے اولاد ہیں مذکر بھئی بیٹا پوتا پڑپوتا وغیرہ نیچے تک بھئی یہ پہلے درجے میں ہیں جو میت کے فروع ہیں فروع اور دوسرے درجے میں میت کے اصول ہیں بھئی۔ باپ، دادا، پردادا وغیرہ اوپر تک بھئی۔ یہ دوسرے درجے میں۔ اگر نیچے والے موجود ہیں تو پھر اوپر والوں کو کچھ نہیں، دوسرے درجے والوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ تیسرے درجے پر ہیں جو میت کے بھئی اور حقیقی بھئی اور علاتی بھئی اور آگے ان کی اولاد مذکر۔ حقیقی بھئی اور علاتی بھئی اور ان کی مذکر اولاد۔ اور چوتھے درجے میں میت کے چچا اور ان کی مذکر اولاد نیچے بھئی۔ چار درجے سمجھ میں آگئے؟ پہلے درجے پر کون ہے؟ میت کی مذکر اولاد۔ دوسرے درجے پر میت کے مذکر جو اصول ہیں اوپر کی طرف۔ اور تیسرے درجے پر جو میت کے برابر میں ہیں یعنی میت کے بھئی، حقیقی بھئی یا علاتی اور آگے انہی کی اولاد بھی وہ بھی اسی درجے میں ہے۔ اور چوتھے درجے میں میت کے چچا اور ان کی اولاد بھی جو مذکر ہے وہ اسی درجے میں ہے۔ اور اسی میں پھر آگے یہ تو میت کا چچا تھا، اس سے آگے جائیں گے پھر باپ کا جو چچا ہو اور اس کی مذکر اولاد، اس سے آگے جائیں گے جو دادا کا جو چچا ہو اور اس کی مذکر اولاد یہ سب چوتھے درجے میں ہیں بھئی۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ ہاں یا ربص آباد کا باب خوب اچھی طرح آنا چاہیے کیونکہ اگر ان میں سے کوئی ہو تو اس کو مال ملے گا پھر بھئی ذوی الارحام کو پھر نہیں ملے گا۔ اچھا۔ اب ان کی ترتیب کس طرح ہے بھئی؟ ترتیب لکھ لیجیے بھئی جلدی جلدی۔ جلدی لکھیے۔ اوپر لکھیے بھئی نقشہ عصبات ترتیب وار۔ نقشہ عصبات ترتیب وار۔ اس کے نیچے لکھ لیجیے درجہ اول کے عصبات۔ درجہ اول کے عصبات۔ لکھ لیا بھئی؟ اس سے نیچے لکھیے اب نمبر دیتے جائیے نمبر ایک میت کا بیٹا۔ نمبر ایک میت کا بیٹا۔ اسی سے آگے لکھیں نمبر دو پوتا۔ پوتا۔ نمبر تین پڑپوتا۔ پڑپوتا۔ نمبر چار، نمبر چار کیا ہوگا بھئی؟ جی؟ سکڑ پوتا کہ لکڑ پوتا؟ جی؟ لکڑ پوتا۔ اچھا۔ چلیں جو بھی ہو، لکڑ پوتا چلیں لکھ لیں بھئی۔ نمبر چار لکڑ پوتا۔ نمبر پانچ سکڑ پوتا۔ یعنی یہ اوپر سے نیچے کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ نام چاہے کوئی کوئی کہتا ہو، کوئی کچھ کہتا ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم اوپر سے نیچے کی طرف جا رہے ہیں ترتیب سے بھئی۔ کتنے ہوگئے؟ پانچ عصبات۔ سب سے پہلے بیٹے کو دیں گے، بیٹا نہ ہوا تو پھر پوتے کو دی، پوتا بنے گا عصبہ، پوتا نہ ہوا تو پڑپوتا بنے گا، پڑپوتا نہ ہوا تو جی۔ ہاں ان میں سے اگر کوئی بھی نہیں پہلے درجے والوں میں سے، پھر ہم جائیں گے درجہ ثانی کی طرف بھئی۔ نیچے لکھیے درجہ دوم بھئی۔ درجہ دوم۔ کتنے ہوگئے بھئی اوپر؟ پانچ۔ اچھا۔ آخری کیا لکھا تھا اوپر؟ پانچ؟ سکڑ پوتا۔ اسی کے آگے لکھ لیجیے ایک دو لفظ بھی بھئی۔ نیچے تک۔ نیچے تک۔ تاکہ بات یاد رہے بھئی۔ نیچے تک۔ یہ سارا پہلا درجہ ہی چل رہا ہے۔ نیچے تک۔ آگے کیا لکھا آپ نے؟ درجہ دوم۔ چھ نمبر پر لکھیے بھئی۔ میت کا باپ۔ میت کا باپ۔ سات نمبر پر لکھیے دادا۔ اٹھ نمبر پر لکھیے پردادا۔ نو نمبر پر لکھیے لکڑ دادا۔ دس نمبر پر لکھ لیجئے بھئی سکڑ دادا۔ بس یہ ترتیب ہے، اوپر کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ آپ جو بھی نام رکھیں گے بھئی چاہے سکڑ دادا کو پہلے لکھ اس پہلے کا نام سکڑ دادا رکھ لیں، اس کے بعد والے کا لکڑ دادا رکھ لیں لیکن بس ترتیب یاد رکھنا بھئی۔ آخر میں آگے لکھ لیجیے بھئی اوپر تک۔ اوپر تک۔ بھئی درجہ اول والا کوئی موجود ہو تو درجہ ثانی کی طرف قطعاً نہیں جانا۔ اول والے عصبہ بنیں گے کوئی بھی ہو نیچے تک۔ اگر ان میں سے کوئی نہیں پھر ہم کہاں آئیں گے؟ درجہ دوم دوسرے درجہ میں آئیں گے اور وہ پھر آخر تک بھئی۔ آگے لکھیے درجہ سوم بھئی۔ گیارہ نمبر بھئی حقیقی بھئی۔ بارہ نمبر علاتی بھئی۔ تیرہ نمبر حقیقی بھئی کا بیٹا۔ تیرہ نمبر حقیقی بھئی کا بیٹا۔ چودہ نمبر علاتی بھئی کا بیٹا۔ علاتی بھئی کا بیٹا۔ پندرہ نمبر حقیقی بھئی کا پوتا۔ حقیقی بھئی کا پوتا۔ سولہ نمبر علاتی بھئی کا پوتا۔ علاتی بھئی کا پوتا۔ سترہ نمبر حقیقی بھئی کا پڑپوتا۔ حقیقی بھئی کا پڑپوتا۔ اٹھارہ نمبر علاتی بھئی کا پڑپوتا۔ علاتی بھئی کا پڑپوتا۔ بھئی لکھ رہے ہیں یا میں زیادہ تیز تو نہیں لکھوا رہا؟ لکھ لیا ہے؟ جی؟ بھئی دوبارہ سن لو۔ گیارہ نمبر ہے حقیقی بھئی، بارہ نمبر ہے علاتی بھئی، تیرہ نمبر ہے حقیقی بھئی کا بیٹا، چودہ نمبر ہے علاتی بھئی کا بیٹا۔ پندرہ نمبر ہے حقیقی بھئی بھئی ترتیب یاد رکھو آپ خود۔ اول۔ پہلے درجے والا کوئی نہیں میت کے فروغ میں سے کوئی نہیں۔ دوسرے نمبر پر میت کے اصول میں سے بھی کوئی نہیں۔ آپ کو جو میت کے برابر میں ہیں یعنی بھئی۔ ان میں پہلا درجہ کس کا؟ حقیقی بھئی کا۔ اس کے بعد اگر حقیقی بھئی نہ ہوا تو کون؟ علاتی بھئی۔ اچھا حقیقی بھئی ہی نہیں علاتی بھئی بھی نہیں تو پھر حقیقی بھئی کا بیٹا۔ اگر حقیقی بھئی کا بیٹا نہیں تو پھر کون؟ علاتی بھئی کا بیٹا۔ اگر علاتی بھئی کا بیٹا بھی نہیں تو پھر دیکھو حقیقی بھئی کا پوتا ہے تو وہ۔ اگر حقیقی بھئی کا پوتا بھی نہیں تو پھر کس کا حق؟ علاتی بھئی کا پوتا۔ اگر حقیقی بھئی کا بھی پوتا ہے، علاتی بھئی کا بھی پوتا ہے تو کون مقدم ہے بھئی؟ حقیقی بھئی والا۔ حقیقی بھئی والا مقدم۔ یہ ترتیب میں لکھوا رہا ہوں آپ کو اسی لیے بھئی۔ اچھا حقیقی بھئی کا پوتا بھی نہیں علاتی بھئی کا پوتا بھی نہیں تو پھر؟ حقیقی بھئی کا پڑپوتا۔ اور اگر وہ بھی نہ ہو تو؟ علاتی بھئی کا پڑپوتا۔ یہ کتنے ہوگئے؟ اٹھارہ۔ اٹھارہ تک۔ آگے لکھیں اسی ترتیب سے نیچے تک۔ اسی ترتیب سے نیچے تک۔ ترتیب سمجھ میں آرہی ہے یہاں بھی بھئی؟ عصبات میں ترتیب درجات کا بھی خیال رکھنا، پھر ہر درجے کے اندر بھی ترتیب ہے اس کا بھی خیال رکھنا۔ سب سے پہلے اول درجے کے عصبات کون ہیں؟ بیٹے اور اس سے نیچے تک جو مذکر اولاد بھئی۔ اور پھر ان میں بھی یاد رکھنا جب قریب والا موہر درجے کے اندر پھر ترتیب ہے، قریب والا موجود ہے تو بعید والا محروم ہوگا بھئی۔ پھر اس کے بعد دوسرے درجے میں چلے گئے، اگر اولاد نہیں تو اس میں اصول کو دیکھیں باپ، دادا، پردادا۔ وہاں بھی وہی اصول قریب والا موجود ہے تو بعید والا محروم ہوگا۔ اچھا۔ اس کے بعد تیسرے درجے میں چلے گئے۔ تیسرے درجے میں پھر پہلا درجہ ہے حقیقی بھئی کا، دوسرا درجہ ہے علاتی بھئی کا۔ پھر حقیقی بھئی کا بیٹا، اگر وہ نہیں تو پھر علاتی بھئی کا بیٹا بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آئی؟ اچھا یہ اسی طرح نیچے تک چلے جائیں گے۔ اور چوتھے درجے میں کیا تھا؟ حقیقی چچا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد علاتی چچا۔ اب بھئی ایک مجھے ایک مسئلہ بتائیے، ایک آدمی کا انتقال ہوا اور اس کے صرف ایک حقیقی چچا کا بیٹا ہے اور علاتی چچا ہے۔ حقیقی چچا کا بیٹا ہے (یعنی چچا زاد بھئی ہے) اور ایک علاتی چچا بھی ہے۔ کس کو عصبہ بنائیں گے؟ علاتی چچا۔ علاتی چچا کو شاباش! کیوں؟ قریب ہے وہ تو قریب والے کا درجہ اولیٰ ہے بھئی۔ تو یہ ترتیب یاد رکھنا عصبات کے اندر بھئی، عصبات کے اندر۔ پھر اس میں دیکھیے ذرا یہ جو درجہ اول میں ہے بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ ان کے ساتھ ان کی بہن بھی آجائے تو وہ کیا بنے گی؟ عصبہ بن جائے گی۔ اچھا دوسرے درجے میں آئیے یہ یہاں پر اگر یہ باپ کے ساتھ اس کی بہن یا دادا کے ساتھ اس کی بہن آئی تو کیا وہ عصبہ بنے گی؟ نہیں بھئی۔ کیونکہ ذوی الفروض میں ان کا شمندنی ذکر کیا بھئی۔ باپ کی بہن کی بات کر رہے ہیں بھئی باپ کی بہن بھئی۔ وہ ذوی الفروض میں سے نہیں تو یہاں بھی اس کا حصہ نہیں ہوگا بھئی۔ اچھا تیسرے درجے میں آئیے حقیقی بھئی کے ساتھ اگر بہن آگئی، عصبہ بنے گی کہ نہیں؟ بنے گی۔ کیونکہ حقیقی بہن ہے وہ ذوی الفروض میں سے تھی۔ علاتی بھئی کے ساتھ اس کی بہن آئی تو۔ وہ بھی عصبہ بنے گی۔ اچھا۔ جی۔ آگے بھئی حقیقی بھئی کا بیٹا، حقیقی بھئی کا بیٹا یعنی بھتیجا۔ بھتیجے کے ساتھ بہن آگئی؟ جی۔ بھتیجی کے ذوی الفروض میں کوئی بھتیجی کا ذکر تھا؟ نہیں، جب نہیں تھا تو بس سیدھی سی بات ہے وہ عصبہ نہیں بنے گی اس کے ساتھ صرف بھتیجے کو حصہ ملے گا، بھتیجی کو کچھ نہیں ملے گا۔ بھتیجی ذوی الارحام میں چلی جائے گی بھئی کس کے اندر؟ ذوی الارحام میں بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آگئی؟ چوتھے درجے میں ذرا آؤ! حقیقی چچا کے ساتھ اگر اس کی بہن بھی آگئی۔ یعنی پھوپھی۔ جی۔ وہ ذوی الفروض میں سے نہیں تو لہذا وہ اپنے بھئی کے ساتھ عصبہ نہیں بنے گی، وہ کس میں داخل ہے؟ وہ ذوی الارحام میں داخل ہے۔ ترتیب ساری اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ عصبات کی ترتیب آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے بھئی یہ بڑی ضروری ہے۔ اسی پر آگے پھر آپ طے کریں گے کہ کون عصبہ بن رہا ہے، قریب والا ہو تو بعید والا نہیں بنے گا۔ اب پہلے درجات میں دیکھیں گے ہر درجے میں۔ پھر اگر اس درجے کے اندر دو تین افراد ملتے ہیں تو جو قریب والا ہوگا وہ عصبہ بنے گا اور بعید والا محروم ہوگا بھئی۔ اور اگر ایک درجے کا نہیں ہے تو پھر اس کے بعد اگلے درجے کی طرف ہم جائیں گے۔ اگر دوسرے درجے کا بھی نہیں پھر اس کے بعد ہم تیسرے درجے کی طرف جائیں گے۔ ترتیب اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے بھئی؟ جی۔ چلیے بس بھئی۔ ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 72 of 92