Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-070

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! کل ہم نے مناسخہ کی پہلی مثال کی تھی۔ مناسخہ کی دوسری مثال بھئی دوسری مثال لکھیے مناسخہ کی بھئی۔ دوسری مثال لکھیے بھئی! مثال نمبر یہ کون سی ہوگی؟ 111۔ مثال نمبر 111۔ اچھا بھئی! میت بنائیے یہ مرنے والے کا نام ہے زید بھئی۔ میت کے اوپر زید لکھیں آخر میں۔ اس کے وارث جو ہیں ایک زوجہ ہے، ایک اختِ عینی ہے یعنی حقیقی بہن، ایک اختِ علاتی ہے یعنی علاتی بہن اور ایک اختِ اخیافی ہے یعنی اخیافی بہن۔ لکھ لیے بھئی وارث؟ تو وارث کون کون ہوئے بھئی زوجہ، اختِ عینی، اختِ علاتی اور اختِ اخیافی۔ میت کا اوپر نام لکھ لیا بھئی؟ زید بھئی، زید۔ اب نیچے وارثوں کے بھی نام لکھ لیں بھئی۔ زوجہ کے نیچے لکھ لیجیے زینب۔ زینب۔ اختِ عینی کے نیچے لکھ لیجیے فاطمہ۔ اختِ علاتی کے نیچے لکھیے خالدہ۔ اور اختِ اخیافی کے نیچے لکھیے ساجدہ۔ لکھ لیا بھئی؟ اب دیکھیے بھئی اولاد ہے کہ نہیں ہے؟ اولاد نہیں تو زوجہ کو کتنا ملتا ہے؟ ربع ملتا ہے۔ چوتھا حصہ۔ اختِ عینی ایک ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے۔ اختِ علاتی کو ایک ہو سات اختِ عینی بھی ہو تو اسے کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے تاکہ ثلثان پورا ہو جائے۔ نصف اختِ عینی کو ملا اور سدس اختِ علاتی کو ملے گا تو ثلثان پورا ہو جائے گا۔ اور اختِ اخیافی بھئی ایک ہو اس کو بھی کتنا دیتے ہیں؟ اس کو بھی سدس دیتے ہیں۔ تو زوجہ کا حصہ ہوا ربع، اختِ عینی کا حصہ ہوا نصف۔ ربع اور نصف یہ نوعِ اول میں سے ہیں۔ تو اب کس کا اعتبار کریں گے ان میں سے؟ ربع یعنی جو چھوٹا ہے تو وہ ربع ہے۔ اور اختِ علاتی اور اختِ اخیافی دونوں کو سدس مل رہا ہے یہ نوعِ ثانی کا ہے۔ تو گویا ربع جمع ہو گیا نوعِ ثانی کے ساتھ تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ 12 سے۔ 12 سے مسئلہ بنائیے۔ بھئی۔ 12 میں سے 12 کا چوتھا حصہ زوجہ کو ملے گا۔ 12 کے چار حصے کریں، ایک میں کتنا آئے گا؟ تین تو زینب کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ 12 کا نصف اختِ عینی کو دینا ہے۔ 12 کا نصف کتنا؟ چھ تو فاطمہ کے نیچے چھ لکھ لیجیے۔ 12 کا چھٹا حصہ اختِ علاتی کو دینا ہے وہ کتنا ہوا؟ دو تو خالدہ کے نیچے دو اسی طرح ساجدہ کے نیچے بھی دو لکھ لیجیے بھئی۔ اب دیکھیے زوجہ کو ملے تین، فاطمہ کو کتنے ملے چھ؟ چھ اور تین نو۔ خالدہ کو کتنے ملے دو؟ نو اور دو گیارہ۔ اور ساجدہ کو بھی دو ملے گیارہ اور دو تیرہ۔ مسئلہ بنایا تھا بارہ سے تو اب کیا کہیں گے؟ حصے بڑھ گئے، عول ہوگا۔ تو بارہ کے آگے عول کی علامت لکھیے اور اس پر تیرہ لکھ لیجیے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ جی۔ تو یہ اب مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، اب دوسری میت آگے بنائیے بھئی۔ دوسری میت بھئی۔ اب انتقال ہوا بھئی اختِ عینی یعنی فاطمہ کا، تو اس میت کے درمیان میں فاطمہ لکھ لیجیے۔ اور اس میتِ ثانی کے بائیں کنارے پر بھئی مافِ الید لکھیں۔ مافِ الید۔ فاطمہ کو کتنا ملا ہے اوپر؟ چھ۔ تو مافِ الید کے آگے چھ لکھتے ہیں بھئی۔ چھ۔ اور اوپر فاطمہ اور اس کو جو حصے ملے اس کے گرد اسی طرح ڈبہ بنا دیجیے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو نیچے چاہے حصے کے نیچے ڈبہ بنا دیں یا ایک ہی بڑا سا ڈبہ بنا دیں سارا نام وغیرہ اسی کے اندر آجائے بھئی۔ الحمد للہ! رَحِمَكَ اللّٰهُ۔ اب اس کے ورثا اس کے نیچے لکھ لیجیے بھئی۔ زوجُن، زوجُن، اختِ علاتی، اختِ علاتی اور اختِ اخیافی یہ تین وارث ہیں اس کے خاوند ہے، علاتی بہن ہے اور اخیافی بہن ہے۔ ان کے نام بھی نیچے لکھ لیجیے زوج کا نام ہے خالد، اختِ علاتی کا نام ہے خالدہ وہی اوپر والی اور اختِ اخیافی کا نام اوپر بھی لکھا ہے آپ نے ساجدہ۔ اب اولاد ہے کہ نہیں ہے بھئی؟ نہیں ہے۔ نہیں ہے تو زوج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف یہ نوعِ اول میں سے آیا۔ اختِ علاتی کو کتنا ملتا ہے؟ جی؟ اب تو حقیقی بہن نہیں، یہ اس کی جگہ آگئی، تو اس کو کتنا ملے گا؟ نصف اس کو ملے گا اور اختِ اخیافی کو کتنا ملتا ہے ایک ہو تو؟ سدس چھٹا حصہ ملتا ہے۔ تو خاوند کا حصہ ہوا نصف یہ نوعِ اول میں سے نوعِ اول میں سے، اختِ علاتی کو بھی نصف ملا یہ بھی نوعِ اول میں سے، اختِ اخیافی کا سدس یہ نوعِ ثانی میں سے ہے، تو نوعِ اول کا نصف جمع ہوا نوعِ ثانی کے ساتھ تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ اوپر لکھیے۔ چھ کا نصف کتنا ہے؟ تین، یہ زوج کا حصہ تو خالد کے نیچے تین لکھیے۔ اور نصف دینا ہے اختِ علاتی کو تو خالدہ کے نیچے بھی تین لکھ لیجیے بھئی۔ چھ کا نصف تین۔ اور چھ کا سدس کتنا ہے؟ ایک تو ایک ساجدہ کے نیچے لکھ لیجیے۔ بھئی! خالد کو بھی تین ملے، خالدہ کو بھی تین، تین اور تین چھ اور ساجدہ کو ملا ایک، چھ اور ایک سات۔ تو کیا حصے بڑھ گئے، کیا کہیں گے؟ یہاں پر بھی عول ہوگا۔ چھ کے اوپر چھ کے ساتھ عول کی علامت لکھیے اور اس پر سات لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے بھئی! مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ تصحیحِ مسئلہ ہے سات اور مافِ الید ہے چھ۔ چھ اور سات میں کون سی نسبت؟ تباین کی۔ تو پھر کیا کرتے تھے؟ پورے پورے عددوں کو ضرب دیتے تھے۔ تو تصحیحِ مسئلہ جو ہے سات اس کو کس سے ضرب دیں گے؟ اوپر والے مسئلے سے بھی اور اوپر والے سہام سے بھی اور مافِ الید کو کس سے ضرب دیں گے؟ نیچے والوں کے سہام سے۔ تو اب پہلے تصحیحِ مسئلہ یعنی سات کو اوپر والے اوپر والوں سے ضرب دیں گے۔ تصحیحِ مسئلہ پہلی میت کی کیا ہے؟ تیرہ۔ تیرہ کو سات سے ضرب دیجیے بھئی! اکانوے تو تیرہ کے آگے پھر تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر اکانوے لکھ لیجیے۔ اسی سات سے اب نیچے ان کے حصوں کو بھی ضرب دیں گے، بیوی کا حصہ ہے تین اس کو سات سے ضرب دی سات تِیا اکیس، تین کے نیچے اکیس لکھ لیجیے۔ فاطمہ کا انتقال ہو چکا ہے بھئی خالدہ ہے اس کو دو ملے تھے دو کو بھی سات سے ضرب دی سات دونی چودہ، دو کے نیچے چودہ لکھیے۔ ساجدہ کے بھی دو حصے سات دونی چودہ، دو کے نیچے چودہ لکھ لیجیے۔ اب مافِ الید ہے چھ اس کو نیچے والے سہام سے ضربیں دیں گے، تو خاوند کا حصہ ہے تین اس کو چھ سے ضرب دی کتنے ہو گئے؟ اٹھارہ، تین کے نیچے اٹھارہ لکھ لیجیے۔ خالدہ کا حصہ تین اس کو بھی چھ سے ضرب دی اٹھارہ آیا، تین کے نیچے اٹھارہ لکھیں۔ ساجدہ کا حصہ ایک ہے اس کو بھی چھ سے ضرب دی تو چھ آیا، ایک کے نیچے چھ لکھ لیجیے۔ تو یہ تصحیحِ مسئلہ ہو گئی بھئی۔ بس بھئی! دو ہی میتیں تھیں اب نیچے لکھیے الاحیاء بھئی۔ الاحیاء۔ اب اوپر جو جو زندہ ہیں ان کے نام پہلے اتاریے، زینب ہے، خالدہ ہے، ساجدہ ہے اور نیچے والی میت میں کون ہے؟ خالد ہے۔ آگے کون ہے؟ خالدہ اور ساجدہ۔ توجہ کا نام اوپر والے میں تو ہے نیچے والے میں ہے نہیں اور اوپر اس کو کتنے ملے 21 تو زینب کے نیچے 21 لکھیں. آگے ہے خالدہ خالدہ کو اوپر کتنے حصے ملے 14 نیچے بھی ملے ہیں یا نہیں بھئی نیچے بھی اس کو 18 ملے 14 اور 18 32 تو خالدہ کے نیچے 32 لکھیے. اچھا ساجدہ کو اوپر کتنے ملے 14 نیچے ہے نیچے بھی چھ ملے تو 14 اور چھ 20 ساجدہ کے نیچے 20 لکھیے. خالد کو اوپر کچھ حصہ ملا اوپر نام ہی نہیں خالد کا نیچے کتنے ملے 18 تو خالد کے نیچے 18 لکھیں. اب بھئی ذرا یہ زینب کا حصہ 21 خالدہ کا 32 ساجدہ کا 20 خالد کا 18 ان حصوں کو جمع کریں بھئی 91 تو الاحیات کے اوپر المبلغ لکھ کر 91 لکھ لیجیے. المبلغ 91 اور دیکھیے المبلغ اور پہلی میت کی تصحیح وہ بھی کتنی ہے 91 وہ بھی 91 یہ المبلغ بھی 91 معلوم ہوا اپ کا مسئلہ صحیح ہے بھئی. تو گویا کل مال جو ہے اس کے 91 حصے کریں گے اس میں سے 21 زینب کو دیں گے 32 خالدہ کو 20 ساجدہ کو اور 18 خالد کو بھئی. اگلی مثال لکھیے بھئی مناسخہ کی. مثال نمبر 112 مثال نمبر 112. میت بنائیے بھئی. یہ جس کا انتقال ہوا یعنی مورث اعلی اس کا نام ہے بھئی زید. تو میت کے بائیں کنارے پر زید لکھ لیجیے. اس کے وارث نیچے لکھیے زوجہ اور بھئی کل پانچ وارث ہیں اس کے زوجہ ہے ایک اور آگے تین بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے الگ الگ سب کو لکھیں. زوجہ کے آگے لکھیں ابن ابن ابن اور پھر بنت. تین بیٹے اور ایک بیٹی. لکھ لیا بھئی اب ان کے نیچے ان کے نام بھی لکھ لیجیے زوجہ کے نیچے نام لکھیے بھئی ہند. ہند. بیٹے کے نیچے نام لکھیے خالد. دوسرے بیٹے کے نیچے نام لکھیے بکر. تیسرے بیٹے کے نیچے نام لکھیے ولید. اور بیٹی کے نیچے نام لکھیے سلمی. سلمی یا کے ساتھ اوپر کھڑی زبر لکھیں بھئی سلمی. اچھا اب مسئلہ بناتے ہیں بھئی اولاد ہے یا نہیں ہے بھئی اولاد ہے تو زوجہ کو کتنا ملتا ہے ثمن یعنی آٹھواں حصہ. اور اولاد میں بیٹے بیٹیاں ہیں تو وہ عصبہ بنیں گے سارے تو لہذا ایک ہی حصہ آیا ثمن اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنائیں گے ثمن کا ہم نام عدد کون سا ثمانیہ تو آٹھ سے مسئلہ بنائیے بھئی آٹھ اوپر لکھیں. آٹھ میں سے بیوی کا کتنا آٹھواں حصہ وہ ایک ہے اس کے نیچے ایک لکھیے ہندہ کے نیچے. باقی کتنے رہ گئے سات رہ گئے. اچھا ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر دو تو تین بیٹے چھ بیٹیوں کے برابر اور ایک بیٹی خود ہے سات اور بقیہ بھی کتنا ہے سات ہے تو اب تقسیم صحیح ہو جائے گی. تو سات میں سے ایک بیٹی سات ہی بیٹیاں ہیں گویا اور سات ہی حصے بن گئے تو ہر بیٹی کا کتنا حصہ ایک تو بیٹی کے نیچے ایک لکھیں اور بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر دینا ہے تو ہر بیٹے کے نیچے دو دو لکھ دیں بھئی. لکھ لیا بھئی جی مسئلہ کی تصحیح ہو گئی. اس کے بعد نیچے آئیے میت ثانی بنائیے بھئی. میت ثانی بنائیے بھئی. دوسرا جس شخص جس کا انتقال ہوا وہ بکر ہے بھئی بکر. تو میت ثانی کے درمیان میں بکر لکھیں. بھئی بکر کو اوپر کتنا حصہ ملا دو تو لہذا اس میت ثانی کے بائیں کنارے پر لکھیں ماقبل ید دو. ماقبل ید دو. اور اوپر بکر اور اس کے حصے کے گرد ڈبہ ایک بنا دیں بھئی ایک ہی ڈبہ بنا دیں دونوں چیزیں اس میں آ جائیں نام بھی اور حصہ بھی. اچھا اس کے وارث بھئی صرف دو ہیں. ایک بھئی ہے اور ایک بہن ہے اخ اور اخت. اخ اور اخت. سمجھ میں آئی بات. اب کیا کریں گے. جی. عجیب بات ہے بھئی عجیب بات معلوم ہوا وراثت ابھی تک کچھ مسائل آپ کو سمجھ ہی نہیں آئے بھئی. کیا کریں گے. تین سے مسئلہ بنے گا فورا کہہ رہے ہیں آپ کے ذہن میں شبہ نہیں آتا اوپر پانچ تھے پانچ میں سے ایک کا انتقال ہوا ہے تو چار باقی ہونے چاہیے. ایک اور کا انتقال ہوا ہے ایک اور کا کیسے انتقال ہوا ہے. ہاں کیا کریں بھئی اوپر ہیں پانچ پانچ وارث ہیں اب اگلے ایک کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے کتنے وارث ہونے چاہیے چار ہونے چاہیے. یاد رکھیے. بھئی یہ وارث یہ لوگ جب آپ کے پاس مسئلہ پوچھنے آئیں گے وہ اس طرح نہیں لکھوائیں گے ایک بیٹا فلاں فلاں آپ نے خود تحقیق کرنی ہوگی. کہ اس کے کون کون زندہ تھے اور اس کے عصبات میں کون کون ساری تحقیق کر کے پھر آپ طے کریں گے یہ یہ وارث بن رہے ہیں یہ یہ وارث نہیں بن رہے پھر اگلی میت کا انتقال ہوا. اس کے آپ صرف اولاد وغیرہ پوچھ لیں گے جو جو چیزیں پوچھنی ہیں پوچھ لیں گے پھر خود طے کریں گے کون اس کا وارث بن رہا ہے کون اس کا وارث نہیں بن رہا پھر تیسری کا انتقال ہوتا ہے وہاں بھی آپ نے خود نکالنا ہوگا سارا کچھ. تو یہ آپ کو فورا سوال کرنا چاہیے تھا کہ یہ باقی کدھر گئے بھئی تو یاد رکھیے. یہ جو. زوجہ ہے. اس کا صرف ایک بیٹا ہے اوپر جو تھی خالد یہ اس کا بیٹا ہے. اور باقی دو بیٹے اور بیٹی وہ دوسری بیوی سے ہیں بھئی. وہ کس سے ہیں. اور یاد رکھیے یہ مسئلہ بھی بھئی. میاں بیوی میں جدائی ہو جاتی ہے طلاق ہو گئی بچے ان کے موجود ہوتے ہیں. وہ یا تو خاوند کے پاس مثلاً رہنے لگ پڑے یا بیوی کے پاس ایک کے پاس مثلاً ماں کے پاس رہنے لگ پڑے باپ کا زندگی بھر انہوں نے پوچھا ہی نہیں باپ نے بھی کبھی زندگی بھر ان کا پوچھا ہی نہیں پھر بھی وارث ہیں ایک دوسرے کے بھئی. سمجھ میں آئی بات بھئی ہاں وہ اس کے حقیقی بیٹے ہیں وہ اس کے وارث بنیں گے اور اگر ان میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے تو باپ ان کا وارث بنے گا بھئی. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی. اور اسی طرح کوئی یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کوئی کسی کی زندگی بھر بھی خدمت کر لے اگر وہ شرعا وارث نہیں ہے تو وہ خدمت کی وجہ سے اس کو کچھ نہیں ملے گا بھئی. جو اس کے وہ وارث جنہوں نے کبھی زندگی بھر بھی اس کو نہیں پوچھا وہ کیا ہوں گے اس کے وارث بنیں گے بھئی. تو یہاں عموماً یہ ہوتا ہے اولاد میاں بیوی میں جدائی ہوتی ہے اور پھر وہ وراثت میں حصہ بھی نہیں دیتے کہ ہم کیوں دیں وہ تو ہم سے الگ ہیں نہیں بھئی اللہ نے مقرر کیا ہے وہ آ اس شخص کی اولاد ہے تو ان کو حصہ دینا پڑے گا بھئی. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی. جی تو یہاں دیکھیے اس زوجہ جو ہندہ ہے اس کا بیٹا ہے صرف خالد. اور باقی. وہ دو بیٹے اور ایک بیٹی وہ دوسری بیوی سے ہیں بھئی. دوسری بیوی سے ہیں بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی. تو جب وہ دوسری بیوی سے ہیں ان میں سے بکر کا انتقال ہوا ہے تو بکر کا ایک وارث اس کا حقیقی بھئی اور حقیقی بہن. اور دوسرا بھئی. وہ. وہ تو علاتی بھئی ہے اور حقیقی بھئی جب موجود ہوں تو علاتی بھئی کو کچھ نہیں ملتا اور ماں جو ہے وہ. وہ تو سوتیلی ماں ہے بھئی اس کو بھی کچھ نہیں ملے گا لہٰذا اسی لیے میں نے کہا اس کے دو وارث ہیں ایک بھئی اور ایک بہن بھئی اور بھئی کا کیا نام ہے ولید تو اخ کے نیچے ولید لکھیے اور بہن کا کیا نام ہے سلمی تو اس کے نیچے سلمی لکھیے بھئی. چلیے باقی انشاءاللہ کل کریں گے بھئی ھذا هو المرام واللہ أعلم بحقيقة الكلام.
92 approved lectures · 70 of 92