Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب المناسخۃ ولو صار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ كزوج وبنت وام فمات الزوج قبل القسمۃ عن امرأۃ وابوین ثم ماتت البنت عن ابنین وبنت وجدۃ ثم ماتت الجدۃ عن زوج وافوین آج ہم مناسخہ کا باب پڑھیں گے اور یہ باب سب سے مشکل کہ اس میں پچھلے تمام ابواب کا ذہن میں حاضر ہونا ضروری ہے بھئی لیکن انشاءاللہ اللہ آسان فرما دیں گے بھئی انشاءاللہ آسانی سے انشاءاللہ یہ بھی حل ہو جائے گا بھئی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کا مثلا انتقال ہوا اس کے ورثاء مالِ وراثت کو تقسیم کرتے نہیں اسی طرح مل جل کر رہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کے وارثوں میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے حصے اب اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوں گے پھر بعد میں مثلا ایک اور وارث کا بھی ابھی حصہ لیا نہیں بھئی اس کا بھی انتقال ہو گیا تو اس طرح ایک شخص نے ابھی اپنا حصہ لیا نہیں اور پہلے ہی اس کا حصہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے بھئی تو یہ اس کو مناسخہ کہتے ہیں کیا کہتے ہیں مناسخہ کہتے ہیں بھئی تو پھر یہاں ہمیں ہر ایک کا الگ حال الگ صورتِ مسئلہ بنانی پڑتی ہے اور پھر وہ جو سارا مال ہے اس میں سے آگے ورثاء کو اس شخص کا کتنا حصہ تھا پھر اس میں سے آگے اس کے ورثاء کو کتنا کتنا ملا سارا ایک ہی نقشہ بنانا پڑتا ہے بھئی یہ نہیں کہ پہلے ایک کی صورت بنا لی بھئی اتنے حصے مال کے کریں گے سب کے اتنے اتنے ہوگئے پھر اس کے حصے میں جو آیا اب اس کو اس کے ورثاء میں تقسیم کریں گے آگے وہ تو ان سب لوگوں کے لیے تو مصیبت بن جائے گی تو یہ کس طرح کریں تو ایک ہی صورت پھر بتا دی جاتی ہے کہ جتنا مال ہے بھئی اس کے اتنے حصے کر لینا سارے مال کے اس کے جو پہلے ورثاء تھے ان میں سے جو جو باقی ہیں ان کا اتنا بنتا ہے اور وارث کے جو اگلے ورثاء ہیں ان کا اتنا اتنا بنتا ہے وہ ایک ہی نقشہ بنایا جاتا ہے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی अच्छा بھئی مناسخہ سے پہلے بھئی مختصراً میں ذرا نسبتوں کو پھر بیان کر دوں کیونکہ ان کی پھر ضرورت پڑے گی نسبتیں آپ نے پڑھی ہیں اعداد کے اندر چار قسم کی نسبتیں ہیں یا تماثل ہوگا یا تداخل ہوگا یا توافق ہوگا یا تباین ہوگا بھئی تماثل تو سیدھی سی بات ہے جو ایک عدد جیسا ہے ویسا ہی دوسرا ہو ایک عدد بارہ ہے تو دوسرا بھی کیا ہو بارہ ہو ایک عدد بیس ہے تو دوسرا بھی کیا ہو بیس دونوں ایک جیسے ہیں تو یہ ہے تماثل بھئی اور تداخل تداخل آپ پڑھ چکے بھئی کہ ایک عدد چھوٹا ہو ایک بڑا ہو لیکن بڑا عدد چھوٹے سے پورا پورا تقسیم ہو جائے کیا ہو جائے تقسیم کا طریقہ سب کو آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی پورا پورا تقسیم ہو جائے یا یوں کیا جائے کہ وہ جو بڑا عدد ہے اس میں سے چھوٹے عدد کو نکالتے چلے جائیں یہاں تک کہ وہ بالکل ختم ہو جائے گا بھئی ایک بھی باقی نہیں بچے گا اس میں سے سمجھ میں آیا تو معلوم ہو اگر بالکل ختم ہو جائے مثلا بھئی 99 میں سے 11 99 ہے ایک عدد ایک 11 ہے تو آپ دیکھیے 11 کے ذریعے 99 پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے تو ان میں کون سی نسبت تداخل کی یا یوں کہو کہ 99 میں سے 11 کو نکالتے چلے جائیں تو 99 بالکل ختم ہو جائے گا تو سمجھ جائیں ان میں نسبت تداخل کی ہے مثلا 99 میں سے 11 نکالے کتنا رہ گیا 88 88 میں سے پھر 11 نکالے 77 77 میں سے پھر 11 نکالے 66 66 میں سے پھر 11 نکالے 55 55 میں سے پھر 11 نکالے 44 44 میں سے پھر 11 نکالے 33 33 میں سے پھر 11 نکالے 22 22 میں سے پھر 11 نکالے 11 تو 11 آ گیا اور پھر ایک دفعہ نکالیں 11 تو صفر رہ گیا ختم ہو گیا دیکھو یہ تداخل ہے تو یوں کہو کہ ایک بڑے عدد میں سے چھوٹے کو نکالتے چلے جائیں تو وہ بالکل ختم ہو جائے یا یوں کہو اس کے بالکل دوسرے کے برابر آ جائے 22 میں سے 11 نکالے تھے تو کتنے رہ گئے تھے 11 بالکل اس کے برابر آ گیا تو یوں کہیں اس کے بالکل برابر آ جائے یا بالکل ختم ہو جائے جس طرح بھی آپ تعبیر کرنا چاہیں تو سمجھ جائیں کہ ان میں کون سی نسبت ہے تداخل کی نسبت ہے تداخل کی اور اگر چھوٹے عدد کو بڑے میں سے نکالیں اور کسی اور عدد پر آ کر وہ ایک جیسے ہو جائیں یہ یوں کہیں پہلے توافق توافق یہ ہے کہ بڑے عدد بڑا عدد جو ہے وہ چھوٹے عدد سے پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا لیکن کوئی تیسرا عدد ہے جس سے یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں بھئی دونوں کیا ہو جاتے ہیں پورے پورے تقسیم ہو جاتے ہیں تو یہ توافق ہے بھئی توافق اور اس کا آسان طریقہ انہوں نے بتایا یہی جو ابھی بیان ہو رہا تھا کہ بڑے عدد میں سے کیا کریں چھوٹے کو نکالتے چلے جائیں اگر وہ بالکل ختم ہو جائے پھر تو کون سی نسبت تداخل اور اگر بالکل ختم نہیں ہوتا لیکن وہ بڑا عدد اس چھوٹے سے بھی چھوٹا ہو جاتا ہے تو اب جو چھوٹا ہو گیا اب اس کو دوسرا بڑا ہو گیا تو اب اس چھوٹے کو اس بڑے میں سے نکالیں گے پھر وہ ہوتے ہوتے اس سے چھوٹا ہو گیا تو اب وہ چھوٹا ہو گیا یہ بڑا ہو گیا پھر اس کو اس میں سے نکالنا شروع کریں یہ سلسلہ جاری رکھیں یہاں تک کہ کسی عدد پر آ کر دونوں طرف ایک جیسا عدد رہ جائے جو نکال رہے ہیں وہی باقی بھی بچ جائے ایک عدد کو نکال رہے تھے دوسرا عدد بڑا تھا بڑے میں سے چھوٹے کو نکالتے گئے یہاں تک کہ بڑا عدد کس کے برابر آ گیا چھوٹے کے برابر کئی دفعہ کرنے کے بعد اس طرح ہوا کسی ایک عدد پر آ کر دونوں مل گئے بالکل ایک جیسے عدد دونوں طرف آ گئے تو سمجھ جائیں ان دو عددوں میں وہ جو 32 اور 120 تھے ان میں کون سی نسبت ہے توافق کی اور وہ سب سے بڑا عدد جس سے 32 اور 120 دونوں تقسیم ہوتے تھے وہ یہ آٹھ ہے بھئی بڑے سے بڑا عدد جس کے ذریعے 32 اور 120 دونوں تقسیم ہوتے ہیں وہ آٹھ ہے بھئی آٹھ صورت سمجھ میں آ گئی ایک اور مثال کر لیں مثلا ہمارے پاس دو عدد ہیں 24 اور 66 24 چھوٹا عدد ہے 66 بڑا اب 24 سے 66 تو پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا تو معلوم ہوا ان میں تداخل تو نہیں اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں ان میں توافق ہے یا نہیں تو 66 میں سے 24 کو نکالیں گے کتنا رہ گیا 42 رہ گیا 42 ابھی بھی بڑا ہے 24 چھوٹا ہے پھر اس میں سے 42 میں سے 24 نکالیں کتنا رہ گیا 18 اب یہ والا عدد چھوٹا ہو گیا اور جو نکال رہے تھے 24 وہ بڑا ہے تو اب اس چھوٹے کو اس بڑے میں سے نکالیں 18 کو 24 میں سے نکالیں چھ رہ گیا اب وہ چھوٹا ہو گیا یہ 18 کیا ہوا بڑا تو اب اس چھوٹے کو اس 18 میں سے نکالیں 18 میں سے چھ نکالیں کتنا رہ گیا 12 بارہ ابھی بھی چھ سے بڑا ہے پھر 12 میں سے دوبارہ چھ نکالیں چھ رہ گیا دیکھو اب ایک جیسے عدد دونوں طرف آ گئے ایک طرف بھی چھ دوسری طرف بھی چھ جس عدد کو نکال رہے ہیں وہ بھی چھ اور جس سے نکال رہے تھے وہ بھی چھ تو معلوم ہوا ایک کسی عدد پر آ کر دونوں طرف دونوں مل گئے تو اس کا مطلب ہے ان دونوں میں توافق ہے کن دونوں میں وہ جس سے ہم نے سلسلہ شروع کیا تھا 66 اور 24 میں توافق ہے اور بڑے سے بڑا عدد جس میں جو ان دونوں کو تقسیم کر دیتا ہے پورا پورا وہ یہ عدد جس میں آ کر ملے یعنی چھ یعنی چھ کے ذریعے 24 بھی پورا تقسیم ہوتا ہے اور چھ کے ذریعے 66 بھی پورا تقسیم ہوتا ہے بھئی یہ کیا ہے توافق کی نسبت اب سمجھ میں آ گئی خوب اچھی طرح بھئی یہ کہیں مشکل پیش آئے یہ طریقہ سب سے آسان ہے توافق توافق میں اور توافق میں ہمیں چاہیے ہوتا ہے بڑے سے بڑا عدد جس سے دونوں تقسیم ہوں۔ اب دیکھا جائے تو 66 اور 24 یہ دو سے بھی تقسیم ہو جاتے ہیں اور چھ سے بھی لیکن دو کا اعتبار نہیں، کس کا اعتبار ہے؟ چھ کا اعتبار ہے، کیونکہ چھ سے جب تقسیم کریں گے ان کو تو چھوٹے عدد ہمیں جواب میں ملیں گے اور ہمیں بھی کیا چاہیے ہوتے ہیں؟ چھوٹے سے چھوٹا عدد چاہیے ہوتا ہے۔ اور اگر کسی عدد پر دونوں نہیں ملتے آ کر ایک پر آ کر ملتے ہیں تو سمجھ جائیں پھر ان میں تباین ہے بھئی۔ تداخل میں تو صفر تک چلا جاتا تھا دوسرا، توافق میں کسی اور عدد پہ آ کے مل جائیں گے لیکن تباین میں ایک پر آ کر دونوں ملیں گے اور اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ مثلا بھئی! دو عدد ہیں 21 اور 50، 21 چھوٹا ہے 50 بڑا ہے تو کیا کریں گے؟ 50 میں سے 21 کو نکالیں گے کتنا رہ گیا؟ 29، 29 ابھی بھی بڑا ہے 21 سے، اس سے پھر 21 کو نکالیں گے کتنا رہ گیا؟ آٹھ، اب آٹھ چھوٹا ہو گیا 21 بڑا ہے تو اب آٹھ کو 21 میں سے نکالیں گے۔ 21 میں سے آٹھ نکالا کیا رہ گئے؟ 13، 13 رہ گئے۔ اب 13 ابھی بھی بڑا ہے آٹھ سے، اس سے پھر آٹھ نکالیں، پانچ رہ گئے، اب پانچ چھوٹا ہو گیا، آٹھ بڑا ہے۔ اب آٹھ میں سے پانچ نکالے، تین رہ گئے، اب یہ چھوٹا ہو گیا، پانچ بڑا ہے۔ اب تین کو پانچ میں سے نکالیں، دو رہ گئے، اب دو چھوٹا ہو گیا، تین بڑا ہے۔ اب تین میں سے دو نکالے، ایک رہ گیا، ایک تک بات آ گئی، بس جیسے ہی ایک تک بات آئے آپ سمجھ جائیں دونوں کے اندر تباین ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ چونکہ نسبتیں، اب اس میں آخری ضروری اہم بات بھئی! جو بار بار جس کی ضرورت پیش آتی ہے، اس لیے میں نے کہا نسبتوں کو دوبارہ بیان کر دوں بھئی۔ अच्छा! تو یہ مناسخہ ہے بھئی۔ مناسخہ سمجھ میں آیا؟ کہ ایک وارث نے ابھی حصے اپنے لیے نہیں تھے کہ خود اس کا انتقال ہوا اور اس کے حصوں کے اس کے وارثوں کی طرح منتقل ہو گئے بھئی، تو پھر ایک ہی نقشہ بنانا پڑتا ہے کہ شروع سے ساری جائیداد کے اتنے حصے کریں اور پھر اس طرح تقسیم کریں، تو یہ مناسخہ ہے بھئی، مناسخہ۔ یاد رکھیے مناسخے کے سات اصول یاد رکھیے بھئی! سات اصول۔ پہلے مناسخہ کو سمجھ لیں، پھر انشاءاللہ کتاب سے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ سات اصول۔ پہلا اصول، پہلا اصول، جس میت کی جائیداد تقسیم کی جا رہی ہے، یعنی جس کا سب سے پہلے انتقال ہوا، با الفاظ دیگر جس سے سلسلہ وراثت شروع ہوا، اسے مورث اعلیٰ کہتے ہیں۔ جب مورث اعلیٰ کی کہ میت بنائیں، جب مورث اعلیٰ کی میت بنائیں تو میت کے اوپر درمیان میں یا بائیں کنارے پر مورث اعلیٰ کا نام لکھیں اور چاہیں تو اس کے ساتھ مورث اعلیٰ بھی لکھ دیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میت مورث اعلیٰ کی جب میت بنائیں تو میت کے اوپر درمیان میں یا بائیں کنارے پر مورث اعلیٰ کا نام لکھیں گے، مثلاً زید ہے، عمر ہے یا بکر ہے، جو بھی نام ہے وہ نام لکھ لیں گے اور چاہیں تو اس کے ساتھ مورث اعلیٰ بھی لکھ لیں بھئی، مورث اعلیٰ بھی۔ تو مورث اعلیٰ ساتھ لکھنا ضروری نہیں، لیکن بہرحال لکھ لیں تو بہتر ہے۔ البتہ یاد رہنا ہونا چاہیے کہ مورث اعلیٰ کس کو کہتے ہیں؟ جس سے سلسلہ وراثت شروع ہوا ہے بھئی، جس کا سب سے پہلے ان لوگوں میں سے انتقال ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جس سے سلسلہ وراثت شروع ہو رہا ہے، دو تین نسلوں تک میں وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی، لیکن سب سے پہلے جس کا انتقال ہوا، وہ ہے مورث اعلیٰ جس کے بعد ابھی تک جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تھی بھئی، اس کی وراثت کا نقشہ بنانا ہے تو اس کو مورث اعلیٰ کہیں گے اور میت جب بنائیں گے تو اوپر، میت کے اوپر درمیان میں کیا لکھ لیں گے؟ اس کا نام بھی اور ساتھ مورث اعلیٰ بھی لکھ لیں گے یا میت کے بائیں کنارے پر لکھ لیں گے۔ دائیں کنارے پر تو آپ مسئلہ بناتے ہیں نا اور بائیں کنارے پر اس کا نام اور مورث اعلیٰ لکھ لیں گے۔ دوسرا اصول، دوسرا اصول، جس میت کا بھی نقشہ بنایا جائے، جس میت کا بھی نقشہ بنایا جائے، تو مرنے والے کا تو مرنے والے کا نام، مرنے والے کا نام اس میت کے اوپر اس میت کے اوپر درمیان میں یا بائیں کنارے پر لکھیں گے۔ درمیان میں یا بائیں کنارے پر لکھیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یعنی جس طرح وہ ایک تھا مورث اعلیٰ۔ پہلے قانون میں آپ کو مورث اعلیٰ کی پہچان کروائی گئی کہ اسے مورث اعلیٰ کہتے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اس کا نام بھی لکھنا اور نام کے ساتھ مورث اعلیٰ بھی لکھنا ہے۔ دوسرا ضابطہ کیا؟ کہ جس جس میت کا نقشہ بنانے لگے ہیں، تو اس میت کے اوپر درمیان میں اس مرنے والے کا نام یا بائیں کنارے پر اس مرنے والے کا نام لکھیں گے بھئی۔ تاکہ اشتباہ وغیرہ کہیں نہ پڑے بھئی۔ اصول نمبر تیسرا اصول بھئی، تیسرا اصول۔ جس میت کا، جس میت کا نقشہ بنانے لگے ہیں، تو اوپر کے مسئلوں میں جہاں اس کا نام آیا تھا، تو اوپر کے مسئلوں میں جہاں اس کا نام آیا تھا اور حصے ملے تھے اور حصے ملے تھے، تو وہاں اس کے نام اور حصوں کے گرد تو وہاں اس کے نام اور حصوں کے گرد ایک ڈبہ بنا دیں گے، ایک ڈبہ بنا دیں گے جس کا اوپر کا، اوپر کی طرف سے جو کھلا ہو۔ وہ جو اوپر کی طرف سے کھلا ہو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ وہ جو اوپر اس کا جہاں نام آیا تھا اب وہاں تو اس کو حصے ملے تھے آگے چل کر اب ہم اس کا نقشہ بنا رہے ہیں، اس کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ تو اب جہاں اوپر جہاں اس کو حصے ملے تھے وہاں اس کے نام اور حصوں کے گرد کیا بنا دیں گے؟ ایک ڈبہ سا بنا دیں گے یعنی دائیں بائیں اور نیچے ایک لکیریں کھینچ کر ملا دیں گے۔ یہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ، یعنی اس کو قبر میں اتار دیں گے یوں کہو بھئی، قبر کا گڑھا اس کے گرد بنا دیں گے۔ بھئی! یہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہاں بار بار ضربوں کا عمل کرنا پڑتا ہے، نیچے بھی، اوپر بھی، پھر نیچے، پھر اوپر ضربوں کا عمل۔ تو اگر یہ ہم ڈبہ نہیں بنائیں گے تو اس کا حصہ بھی ضربوں میں آ جائے گا، تو سارا مسئلہ غلط ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ حساب سارا آپ کا غلط ہو جائے گا تو جب اوپر والے، ایک دفعہ تو مورث اعلیٰ کا انتقال ہوا اس کے نیچے آپ نے سارے ورثا لکھے، اور پھر یہ دوسرے کا انتقال ہوا تو اوپر اس ڈبہ بنا دیں گے، یہ ڈبہ علامت ہوگی کہ بس اب اس کے حصے میں اور ضربوں کی ضرورت نہیں بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا! کتنے قانون اصول ہو گئے؟ تین۔ چوتھا اصول، چوتھا اصول، ہر میت کے نیچے، ہر میت کے نیچے جب ورثا کو لکھ لیں، جب ورثا کو لکھ لیں، تو ہر وارث کے نیچے اس کا نام بھی لکھیں گے، ہر وارث کے نیچے اس کا نام بھی لکھیں گے تاکہ آگے چل کر کہیں اشتباہ واقع نہ ہو، تاکہ آگے چل کر کہیں اشتباہ نہ ہو، اشتباہ نہ ہو۔ کیا لکھوایا؟ چوتھا اصول کیا لکھوایا؟ ہاں! ہر میت کے نیچے جب مورث اعلیٰ سے لے کر آخر تک اسی طرح سلسلہ چلے گا، آپ میت کے نیچے جب وارث لکھیں گے مثلاً بیوی ہے، بیٹا، بیٹا، بیٹا، بیٹی اور بھئی، جو بھی صورت بنتی ہے مثلاً جتنے وارث آپ کے بن رہے ہیں اس کے وہ اس کے نیچے لکھیں گے۔ پھر ہر ایک کے ساتھ نیچے اس کا نام بھی لکھیں گے بھئی، ہر ایک کے ساتھ۔ یہ چار قوانین ہو گئے بھئی! مناسخے کے کل کتنے ہیں؟ سات۔ چلیے! بس باقی پھر کل کر لیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ چلیے! بس بہرحال واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
92 approved lectures · 65 of 92