Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وإن اختلط بهن ذو سهم فللجد هنا أفضل الأمور الثلاثة بعد فرض ذي سهم؛ إما المقاسمة كزوج وجد وأخ، وإما ثلث ما بقي كجد وجدة وأخوين وأخت، وإما سدس جميع المال كجد وجدة وبنت وأخوين. بھئی کل ہم نے باب شروع کیا تھا مقاسمت الجد کا، کہ دادا کا حصہ کیسے نکالا جائے گا، کتنا حصہ دیا جائے گا. آپ نے تفصیل پڑھی کہ یہاں امام صاحب کا مذہب اور صاحبین کا مذہب الگ الگ ہے. امام صاحب کا مذہب آسان ہے، ان کے نزدیک دادا کے وہی احوال ہیں جو باپ کے ہیں اور باپ کے احوال ہیں، اور جس طرح باپ کے ہوتے ہوئے علاتی اور حقیقی بھئی بہن محروم ہوتے تھے، اسی طرح دادا کے ہوتے ہوئے بھی یہ کیا ہوں گے؟ محروم ہوں گے. جبکہ صاحبین کا مذہب یہ ہے، یعنی جو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب ہے، کہ دادا کے ساتھ حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن وہ بھی کیا ہوں گے؟ وہ بھی وارث ہوں گے، پھر اس میں کچھ تفصیل تھی کہ بعض صورتوں میں علاتی بھئی بہن محروم رہ جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں کچھ نہ کچھ مال ان کے لیے بھی بچ جاتا ہے. لیکن بہرحال جس وقت تقسیم کرنے لگیں گے تو اس وقت علاتی بھئی بہن اگرچہ وہ محروم ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں لیکن دادا کا حصہ نکالتے وقت ان کو شمار کرنا ہے، پھر جب دادا کا حصہ نکال لیں، اس کے بعد پھر کیا کر دیں گے ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا وہ محروم رہ جائیں گے. بھئی، لیکن تو چاہے ان کو کچھ مل رہا ہو، چاہے کچھ نہ مل رہا ہو دونوں صورتوں میں وہ دادا کا حصہ نکالتے وقت، یرحمك اللہ، دادا کا حصہ نکالتے وقت وہ کیا ہوں گے ساتھ شریک ہوں گے بھئی. جی اور بتلایا تھا کہ جب دادا کے ساتھ حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن جمع ہو جائیں اور کوئی وارث نہیں ہے اور کوئی وارث نہیں، صرف یہی ہیں بھئی. تو اس صورت میں دو امور میں سے جو دادا کے لیے زیادہ بہتر ہو اس کو اختیار کیا جائے گا. یا تو کیا کیا جائے گا؟ مقاسمت کو یا پھر ثلث جميع المال، یعنی ثلث الكل. اور مقاسمت کا کیا معنی بیان ہوا تھا؟ کہ دادا کو بھی کس کی طرح فرض کر لیا جائے گا؟ ایک بھئی کی طرح فرض کر لیا جائے گا. تو یہ مقاسمت کی صورت ہے، تو مقاسمت میں اور ثلث کل میں سے جس میں دادا کا فائدہ زیادہ ہو اس صورت کو کیا کر لیا جائے گا؟ اختیار کر لیا جائے گا بھئی. جی آج ہم مزید دوسری صورت پڑھیں گے کہ جب حقیقی اور علاتی بھئی بہنوں کے ساتھ کوئی اور وارث بھی آ جائے، پھر کیا کریں گے بھئی؟ پہلے تو صرف کون تھے دادا کے ساتھ؟ حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن ان کے ہوتے ہوئے مقاسمہ اور ثلث الكل میں سے جو افضل صورت ہوتی تھی دادا کے لیے اس کو اختیار کیا جاتا تھا، اور اگر حقیقی بھئی بہن اور یا علاتی بھئی بہن ان کے ساتھ ساتھ کوئی اور وارث بھی آ جائے، چاہے بھئی دونوں ہوں، حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن چاہے دونوں ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ہو لیکن ساتھ کون آ جائے؟ کوئی اور وارث بھی آ جائے تو اس صورت میں کہتے ہیں تین چیزوں میں سے جو بہتر ہوگی دادا کے لیے اس کو اختیار کیا جائے گا. تین چیزیں کون کون سی؟ پہلی مقاسمت، کون سی؟ مقاسمت یعنی دادا کو بھی کس کی طرح بند فرض کر لیا جائے؟ بھئی کی طرح اس کا جو حصہ بنتا ہے وہ نکال لیا جائے، اگر ایک یہ صورت، دوسری یہ کہ ثلث ما بقی، وہ جو دوسرے ذوی الفروض آئے، حقیقی اور علاتی بھئی بہنوں کے ساتھ جو دوسرے ذوی الفروض آئے ان کا حصہ دے دو جو مال باقی بچ جائے اس کا ثلث دیں گے دادا کو، اس کا ثلث بھئی، ایک یہ صورت اور تیسری صورت جمیع المال کا سدس بھئی چھٹا حصہ. تو ان تین میں سے جو بہتر ہو وہ صورت اختیار کی جائے گی، کون کون سی تین صورتیں؟ نمبر ایک مقاسمت، نمبر دو ثلث ما بقی، نمبر تین ثلث الكل بھئی پورے مال کا سدس یعنی چھٹا حصہ. صورتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی اچھی طرح؟ ان میں سے جو بہتر صورت ہوگی وہ اختیار کی جائے گی بھئی. دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں [unclear] اور اگر مل جائے ان کے ساتھ کن کے ساتھ؟ یہ جو نیچے تفصیل بین السطور دی ہوئی ہے بھئی [unclear] دادا اور بنو الاعیان أو العلاتی. دادا اور بنو الاعیان اور بنو العلاتی ان کے ساتھ دیکھو یہاں بنو العلاتی ہوں اور بنو الاعیان بھی ہیں اور بنو العلاتی یا ومنهما یا ان دونوں میں سے کوئی ایک ہو، دادا ہوں اور بنو الاعیان ہوں یا دادا ہوں اور بنو العلاتی ہوں بھئی، جو بھی صورت ہو لیکن ان کے ساتھ کوئی دوسرا ذو سهم مل جائے، کوئی دوسرا حصے والا مل جائے فالجد هنا أفضل الأمور الثلاثة، تو دادا کے لیے یہاں پر تین امور میں سے جو افضل ہوگا، بہتر ہوگا وہ ہوگا بعد فرض ذي سهم، کس کا حصہ دینے کے بعد؟ اس حصے ذو اس ذو سهم کا حصہ دینے کے بعد بھئی، بعد فرض ذي سهم ذي سهم کے حصے کے بعد. تو اس کے لیے دادا کے لیے تین صورتوں، تین امور میں سے جو افضل ہوگا وہ ہوگا، وہ تین امور کون سے ہیں؟ کہتے ہیں اما مقاسمت، یا تو کیا ہوگا؟ مقاسمہ، آگے صورت ذکر کر دی کہ دیکھیے اس مثال کے اندر تین میں سے مقاسمہ بہتر ہے زوج وجد وأخ، وإما ثلث ما بقی، یا کیا ہوگا؟ ثلث ما بقی ہوگا جیسے کہ اس مثال کے اندر ہے كجد وجدة وأخوين وأخت. یا اما سدس جميع المال، یا جمیع المال کا سدس یعنی چھٹا حصہ جیسے کہ اس مثال میں جد وجدة وبنت وأخوين. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے یہ جو انہوں نے مثالیں ذکر کیں وہ ہم حل کرتے ہیں بھئی، پہلی کس مقاسمت کی صورت انہوں نے ذکر کی کہ مقاسمہ جس میں بہتر ہو اس کی مثال ہے زوج کا زوج وجد وأخ بھئی. جی اسی طرح میت بنائیے بھئی. بھئی اوپر لکھ لیجیے، یہ تینوں صورتیں ہم بنائیں گے [unclear] تینوں صورتیں ہم بنائیں گے ہر ایک میں کون کون سی مقاسمت والی بھی، ثلث ما بقی والی بھی اور سدس والی بھی، پھر آپ دیکھنا کس میں دادا کا نفع زیادہ ہے اس کے لیے بہتر ہے اس صورت کو اختیار کر لیا جائے گا بھئی، کس کے مذہب کے مطابق؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب کے مطابق بھئی. جی اوپر لکھ لئی، اوپر لکھ لیا بھئی مقاسمت کی صورت بھئی. ہاں یہ مثال کون سی ہے بھئی؟ مثال نمبر 98 بھئی یہ اوپر لکھیے پہلے ایک طرف بھئی. اوپر لکھیں مثال نمبر، مثال نمبر 98 پھر اس میں دو تین صورتیں آئیں گی ہر ایک کے اندر تو وہ اسی کے تحت رہیں تاکہ ساری بھئی تو پہلی صورت کیا لکھیں گے؟ مقاسمت کی صورت میں، مقاسمت کی صورت میں، اسی طرح میت بنائیے بھئی. میت بنائیے. اور کتاب میں کیا کیا وارث دیے ہیں؟ كزوج وجد وأخ بھئی، تو اس کے نیچے لکھ لیجیے زوج، جد اور اخ یعنی بھئی. زوج، جد اور اخ بھئی کیا صورت ذکر کی تھی بھئی؟ کہ دادا کے لیے تین صورتوں میں سے جو افضل ہو، پہلی صورت ہم کون سی کرنے لگے ہیں؟ مقاسمت، مقاسمت کی کیا صورت تھی؟ کہ دادا کو بھی کس کی طرح فرض کر لیا جائے؟ بھئی کی طرح بھئی، تو یوں سمجھو اس وقت دادا اور بھئی، یہ دو بھئی ہیں اور ایک زوج ہے. اور زوج ہو اور اولاد ہے کوئی بھئی؟ نہیں، تو زوج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف تو دیکھیے یہ نصف تو نصف ہو تو دادا اور بھئی تو ہیں عصبہ، دادا اور بھئی تو کیا ہیں؟ عصبہ ہیں، تو نصف آیا اور نصف کی ایک ہی حصہ آیا اور اس صورت میں اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بناتے تھے، اور نصف کا تو کوئی ہم نام نہیں، لیکن پھر اس صورت میں نصف کا مددگار عدد کون سا تھا؟ دو، دو سے مسئلہ بنائیں گے، بنائیے بھئی دو سے، اوپر دو لکھیے. دو کا نصف کتنا؟ ایک، ایک زوج کے نیچے لکھیے یہ زوج کا حصہ، دادا اور بھئی دونوں کا ملا کر حصہ ایک ہے لہذا ان کے نیچے ایک لکیر کھینچیے. ان کے نیچے لکیر کھینچیے اس کے نیچے درمیان میں ایک لکھ لیں یہ ان دونوں کا حصہ. अच्छा، یہ ایک تو دونوں کا حصہ ہے، تو دونوں الگ الگ کتنا ہوگا دونوں کا؟ آدھا آدھا، اور آدھے کو کس طرح لکھتے ہیں؟ ایک بٹ دو، تو بس اب دادا کے نیچے نیچے ایک بٹ دو لکھ لیں، بھئی کے نیچے بھی ایک بٹ دو لکھ لیں. دادا کے نیچے بھی ایک بٹ دو. اور زوج کا حصہ اسی طرح رہے گا اس کے نیچے نہیں ایک بٹ دو لکھنا بھئی وہ ایک ہی ہے، دادا کا حصہ ایک بٹ دو ہے آدھا اور بھئی کا حصہ بھی کتنا؟ ایک بٹ دو بھئی. अच्छा، اب دیکھیے کسر آ رہی ہے. بھئی اور دادا کے حصے میں کسر آ رہی ہے، اس کسر کو ختم کرنا ہے، تو نیچے دونوں کے کون سا عدد ہے؟ دو ہے، تو اسی عدد سے ضرب دیں گے تو کسر ختم ہوگی، لیکن صرف پھر ان کو نہیں ضرب دیں گے، سب کے حصوں کو اور کل مسئلے کو بھی دو سے ضرب دیں گے بھئی، لہذا سب سے پہلے اوپر والے دو کو دو سے ضرب دیجیے. کیا جواب آیا؟ چار، تو آگے تصحیح کی طاق لکھیں اوپر چار لکھ لیجیے. अच्छा، زوج کا حصہ تھا ایک اس کو بھی دو سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ دو، تو ایک کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ دادا کا حصہ تھا ایک بٹ دو اس کو دو سے ضرب دی۔ تو دو، اوپر والا دو نیچے والے دو سے کٹ جائے گا برابر دونوں دو سے تقسیم ہوگئے تو ایک رہ گیا. تو دادا کے نیچے اب کیا ایک بٹ دو کے نیچے کیا لکھیں گے؟ ایک، اسی طرح بھئی کے ایک بٹ دو کے نیچے بھی کیا لکھ دیں گے؟ ایک، یہ ہو گئی صورت مسئلے کی کہ کل مال کے چار حصے کریں گے، دو زوج کے حصے، ایک دادا کا اور ایک بھئی کا یعنی دادا کو کتنا ملا؟ چوتھا حصہ ربع مل رہا ہے بھئی، ربع. اب دوسری صورت لکھیے یہی مسئلہ بنائیں گے، اب لکھیے بھئی ثلث ما بقی کی صورت. ثلث ما ب، یہی مسئلہ. ثلث ما بقی کی صورت میں کتنا ملتا ہے دادا کو بھئی؟ ثلث ما بقی کی صورت. نیچے پھر اسی طرح میت بنائیے. میت بنائیے، اسی کے اس کے نیچے اسی طرح زوج، جد اور اخ یعنی بھئی لکھ لیجیے بھئی. अच्छा، یہاں دیکھیے اب زوج کو کتنا ملے گا؟ اولاد کوئی نہیں تو زوج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے یہ نوع اول میں سے ہے. اور جد کو کتنا دینا ہے؟ ثلث ما بقی دینا ہے بھئی آپ پڑھ چکے. اور بھئی جو ہے وہ عصبہ بنے گا. تو ہمارے پاس کون کون سے حصے آ گئے؟ نصف اور ثلث، نہیں بھئی، صرف نصف ہے ہمارے پاس بھئی، یاد رکھیے ثلث ما بقی کا اعتبار نہیں کرنا مسئلہ بناتے ہوئے. یہ تو ثلث ما بقی جو باقی بچے گا اس کا ثلث دینا ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو لہذا مسئلہ بناتے ہوئے ثلث ما بقی کا اس میں لحاظ نہیں رکھنا یوں سمجھنا یہ ابھی ہے ہی نہیں بھئی. یہ ہے ہی نہیں تو گویا اس وقت صرف ایک ہی حصہ ہے زوج کا اور وہ کتنا؟ نصف، اور جب ایک ہی حصہ آئے، تو پھر اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنایا جاتا ہے. جب ایک ہی حصہ ہے تو اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنایا جاتا ہے بھئی. تو نصف، نصف کا تو کوئی ہم نام عدد ہے نہیں، اور پھر اس کا معین و مددگار کون سا عدد ہے نصف کا؟ دو ہے دو، جب نصف آئے صرف تو پھر دو کس سے مسئلہ بنایا جاتا ہے، تو دو سے مسئلہ بنائیے بھئی. دو اوپر لکھیے. دو میں سے نصف دینا ہے زوج کو دو کا نصف کتنا؟ ایک، زوج کے نیچے ایک لکھیے بھئی. अच्छा، ایک زوج کو دے دیا باقی کتنا بچا؟ ایک، اس ایک کا ثلث دینا ہے یہ جو ما بقی ہے نا ایک، اس کا ثلث دینا ہے جد کو، جد کو. ثلث، بھئی ثلث لکھتے کس طرح ہیں؟ ایک بٹ تین، یعنی تین میں سے ایک. ایک بٹ تین، یعنی تین میں سے ایک، کسی چیز کے تین حصے کر کے اس میں سے ایک حصہ دیا جائے یہ ثلث ہے. تو جس عدد سے بھی یاد رکھیں ثلث جس عدد کا بھی نکالنا ہو، ایک بٹ تین کو اس عدد سے ضرب دے دیا کریں، تو وہ اس عدد کا ثلث نکل آئے گا. تو ثلث ہم نے نکالنا بھی کس کا ہے؟ ایک کا، تو ایک بٹ تین کو ایک سے ضرب دے دیں گے بھئی. جواب بھی کیا آئے گا؟ ایک بٹ تین ہی آئے گا، تو جد کا حصہ کتنا ہوا؟ ایک بٹ تین تو جد کے نیچے ایک بٹ تین لکھیے بھئی، ایک بٹ تین. अच्छा بھئی، ایک زوج کو دے دیا تھا ایک باقی تھا، اس ایک میں سے ایک بٹ تین دادا کو دے دیا، تو یہ تو ایک ثلث دیا، ایک کا ایک ثلث. باقی کتنے رہ گئے؟ دو ثلث رہ گئے بھئی، دو ثلث، ایک میں سے ایک، ایک کے تین حصے کیے ایک حصہ دادا کو دے دیا دو حصے یعنی دو ثلث اب دینے ہیں بھئی کو. اور دو ثلث کس طرح لکھیں گے؟ किस तरह लिखेंगे؟ دو بٹ تین. آپ اس کو حل بھی کر سکتے ہیں بھئی، کیسے؟ ایک میں سے ایک بٹ تین نکالیں بھئی. ایک میں سے کیا کریں؟ ایک میں سے ایک بٹ تین نکالیں گے، تو خود بخود جواب آ جائے گا دیکھیے ایک ہے، ایک کا کیا مطلب؟ ایک بٹ ایک. اور دوسری طرف کیا ہے نکالنا کس کو ہے؟ ایک بٹ تین کو، لہذا ذو ضاعف عقل نکالیں گے بھئی، جو نیچے والے عدد ہیں ان کو لے کر نیچے صرف تین ہے وہ ایک کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں. تو تین کو ذو ضاعف عقل وہ تین ہی آئے گا بھئی وہی ایک ہی عدد ہے، تو لہذا آگے وہ لمبی لکیر کھینچیں گے [unclear] اور اس کے نیچے تین لکھ لیں یہ ذو ضاعف عقل ہو گیا. अच्छा، پھر کیا طریقہ تھا؟ نیچے والے عدد [unclear] سے ذو ضاعف عقل کو تقسیم کرتے ہیں اور جو جواب آئے اوپر والے عدد سے اس کو ضرب دے کر اوپر لکھ لیا کرتے ہیں، تو پہلے کیا تھا؟ ایک، ایک کے نیچے کیا ہے؟ ایک، ایک، یعنی ایک سہی، ایک کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ ایک بٹ ایک، پہلے اس کو کر لیتے ہیں، تو ایک کا مطلب ہے ایک بٹ ایک، تو نیچے ایک ہوا، اس نیچے والے عدد ایک سے تین کو تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ تین ہی آیا، اس تین کے ساتھ ہی اوپر جو تھا ایک بٹ ایک میں اوپر کیا ہے؟ ایک، اس ایک کو تین سے ضرب دے دی. جو جواب آیا تھا تقسیم سے، تو جواب کیا آیا؟ تین، تو اوپر کیا آ جائے گا؟ تین آ جائے گا ایک تو، اور دوسری طرف کیا تھا دوسرا عدد؟ ایک بٹ تین، تو نیچے والا تین ہے اس سے ذو ضاعف عقل یعنی تین ہی کو تقسیم کیا تو کیا جواب آیا؟ ایک، اس ایک کو پھر اوپر ایک بٹ تین میں سے اوپر کیا ہے؟ ایک، اس ایک کے ساتھ اس جواب کو ضرب دیں گے کیا آیا؟ ایک، تو اوپر کیا آ گیا؟ ایک منفی ایک بٹ تین تھا نا، ایک والی جانب پہ وہ، وہ لکھیں جو اس سے آیا تھا، وہ تو کیا آیا تھا؟ تین اور دوسری طرف، منفی ایک آ گیا، تین منفی ایک بٹ تین یہ آ گیا بھئی، تو تین میں سے ایک نکالا کتنا آ گیا؟ دو تو دو بٹ تین دیکھا، دو بٹ تین آ گیا، تو بھئی کے نیچے دو بٹ تین لکھ لیجیے بھئی. بھئی کے نیچے دو بٹ تین لکھ لیجیے بھئی. अच्छा، دیکھئے، دو سے مسئلہ بن گیا۔ زوج ایک ملا دادا کو ایک بٹا تین بھئی کو دو بٹا تین مل گیا لیکن یہاں بھسوں میں کسر آ رہی ہے دادا کا حصہ ایک بٹا تین ہے بھئی کا حصہ دو بٹا تین ہے اس کسر کو ختم کرنا ہے اور کسر کو ختم کرنے کا طریقہ یہ کہ نیچے والا جو عدد ہو اسی سے اس کو ضرب دی جائے بھئی نیچے دونوں جگہ تین ہی ہے تو تین سے ضرب دیں گے ایک بٹا تین کو ضرب دی تین سے تو یہ تین اوپر چلا گیا ایک جس سے ضرب دے رہے ہیں کیونکہ تین کا کیا مطلب ہے تین بٹا ایک اور نیچے ہے تین تو تین سے دونوں طرف کے تین تقسیم ہو جاتے ہیں بھئی نیچے والا تین اوپر والے تین سے کٹ جائے گا تو کیا رہ جائے گا ایک رہ جائے گا بھئی تو دادا کا جو حصہ ہے ایک بٹا تین اس کے نیچے اب لکھ لیجیے ایک بھئی ایک اور اسی طرح بھئی کا حصہ تھا دو بٹا تین اس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین تین سے کٹ گیا باقی کیا رہ گیا دو تو بھئی کا جو حصہ ہے دو بٹا تین اس کے نیچے دو لکھ لیجیے اور تین سے ان دونوں کے حصوں کو ضرب دیا تو باقی سارے حصوں کو بھی اور مسئلے کو بھی تین سے ضرب دیں گے اوپر مسئلہ کس سے بنایا تھا دو سے اس کو بھی تین سے ضرب دیں گے دو کو تین سے ضرب دی کیا جواب ایا چھ تو دو کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر چھ لکھ لیجیے اور زوج کا حصہ ایک تھا اس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین آیا تو زوج کا جو ایک حصہ ہے اس کے نیچے تین لکھ لیجیے بھئی یہ اب مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بس یہ ضابطہ یاد رکھنا کہ مسئلہ بناتے وقت ثلث ما بقیہ کا اعتبار نہیں کرنا بھئی ثلث الکل ہو اس کا تو اعتبار کریں گے لیکن ثلث ما بقیہ کا اعتبار نہیں کرنا مسئلہ بناتے وقت بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تیسری صورت لکھیے بھئی ثلث جمیع المال کی صورت۔ ثلث جمیع المال کی صورت۔ اسی طرح میت بنائیے میت بنائیے اس کے نیچے یہی وارث دوبارہ لکھیے زوج جد اور بھئی بھئی اخو۔ اخو۔ अच्छा भाई زوج کو کتنا دینا ہے؟ نصف اور دادا کو کتنا دینا ہے؟ ثلث جمیع المال دینا ہے تو نصف جمع ہوا کس کے ساتھ؟ ثلث کے ساتھ نصف نوع ثانی کے کسی کے ساتھ جمع ہو جائے تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ چھ سے چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ سے مسئلہ بنایا اس میں سے نصف تین زوج کو دیجیے زوج کے نیچے تین لکھیے چھ کا ثلث کتنا؟ ایک ایک دادا کے نیچے لکھیے تین زوج کو دیے ایک دادا کو تین اور ایک چار چھ میں سے چار نکلے کتنے رہ گئے؟ دو تو یہ بھئی کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے پہلی صورت میں مسئلہ کس سے بنا تھا مقاسمۃ کی صورت میں چار اور چار میں سے زوج دادا کو کتنا ملا تھا؟ ایک اور ایک چار کا کتنا ہے؟ ربع یعنی دادا کو ربع چوتھا حصہ مل رہا ہے یہ مقاسمۃ کی صورت میں اور ثلث ما بقیہ کی صورت میں مسئلہ کس سے بنایا؟ چھ سے اور چھ میں سے دادا کو کتنا ملا؟ ایک اسی طرح ثلث جمیع المال کی صورت میں بھی مسئلہ کس سے بنایا؟ چھ سے اور دادا کو کتنا ملا؟ ایک تو لہذا چھ میں سے ایک یہ کتنا ہوتا ہے ایک چھ کا ثلث چھٹا حصہ تو ثلث ما بقیہ میں بھی چھٹا حصہ مل رہا ہے اور ثلث جمیع المال میں بھی چھٹا حصہ مل رہا ہے اور مقاسمۃ کی صورت میں کیا مل رہا ہے ربع اب آپ خود بتائیے ربع بڑا ہوتا ہے یا ثلث بڑا ہے؟ ربع بڑا ہے لہذا کون سی صورت اختیار کی جائے گی مقاسمۃ والی یہی بات انہوں نے کتاب میں بیان کی اما المقاسمۃ تو کون سی صورت اختیار کی جائے گی مقاسمۃ والی کزوج و جد و اخن جیسے کہ اس صورت میں مقاسمۃ کو اختیار کیا جائے گا کہ وہ افضل ہے دادا کے لیے۔ आगे क्या आया व اما الثلث ما بقیہ یا ثلث ما بقیہ اس کی مثال بھی ہے کجد و جدت و اخوین و اختن بھئی یہ صورت اب بنائیے بھئی۔ میسال نمبر کون سی ہے یہ؟ 99 اوپر لکھیے مثال نمبر 99۔ مثال نمبر 99۔ जी सबसे पहले ऊपर लिख लीजिए कौन सी صورت ભાઈ جس کو ترجیح دینی ہے اس کو پہلے لکھ لیں ثلث ما तीनों करेंगे हम तीनों ही चाहे आप पहली दूसरी मिसाल कर लें जो भी कर लें यहां पहले ثلث ما بقیہ کو کر لیتے ہیں۔ ثلث ما بقیہ والی صورت بھئی۔ اسی طرح میت بنائیے بھئی میت کے نیچے بھئی لکھنا کس طرح ہے؟ سب سے پہلے جدہ کو لکھیں۔ جدہ کو اس کے بعد جد کو لکھیں تاکہ بھائیوں کے قریب ہو جائے بھئی ہم نے ایک صورت وہ مقاسمۃ والی بھی تو آئے گی تاکہ ایک جیسا نقشہ سب میں بنے۔ پہلے جدہ لکھا پھر جد لکھا پھر اخ لکھا وہ اخ دو بھئی ہیں الگ الگ لکھ لیجیے۔ اخن پھر کچھ فاصلے پر لکھیے اخن پھر اس کے بعد کچھ فاصلے پر لکھیے اختن۔ اختن۔ अच्छा ये कौन सी صورت ہم کر رہے ہیں؟ ثلث ما بقیہ اچھا۔ तो देखिए यहां جدہ ہے جدہ کو کتنا دیا جاتا ہے؟ ثلث और جد ہے جد کا حصہ کتنا؟ ثلث ما بقیہ اس کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں کرنا مسئلہ بنانے میں اور باقی بھئی بہنیں وہ تو عصبہ بنیں گے تو گویا صرف کون سا حصہ آیا؟ ثلث آیا ایک ہی حصہ آیا اور جب صرف ایک ہی حصہ ہے تو اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنایا جاتا ہے تو ثلث کا ہم نام کون سا عدد ہے؟ ستہ ہے یعنی چھ تو چھ سے مسئلہ بنائیں گے بھئی چھ سے مسئلہ بنائیے۔ چھ اوپر لکھیے۔ چھ کا ثلث کتنا؟ ایک ایک دے دیا جدہ کو۔ جدہ کو یہ جدہ کے نیچے ایک لکھیے۔ अच्छा باقی کتنے بچے؟ پانچ پانچ میں سے ثلث دینا ہے ہم نے دادا کو۔ کتنا دینا ہے؟ ثلث ثلث کو لکھتے کس طرح ہیں؟ ایک بٹا تین یہ نیچے والا عدد تقسیم کرتا ہے یعنی اوپر والے عدد کو تین سے کیا کر دو؟ تقسیم کر دو تو تین حصے کر دو تو یہ کیا ہوتا ہے؟ ثلث ایک بٹا تین یہ ہے ثلث اور کس کا ثلث نکالنا ہے ہم نے؟ پانچ کا تو ایک بٹا تین کو پانچ سے ضرب دیں گے۔ ایک بٹا تین کو کس سے؟ एक بٹا تین یہ تو ایک کا ثلث ہے کس کا؟ تو پانچ کا ثلث کتنا ہوگا؟ اسی پانچ اس کو ضرب دے دیں گے جس کا بھی نکالنا ہو صورت سمجھ میں آگئی؟ جس عدد کا بھی ثلث نکالنا ہے اس کو ایک بٹا تین سے ضرب دے دیں گے۔ تو اس ایک بٹا تین کو ذرا الگ عمل کیجیے بھائی। ایک بٹا تین ضرب پانچ کیجیے۔ کیا کٹ رہا ہے کوئی نیچے اوپر بھئی؟ نیچے تین ہے اوپر پانچ ہے دونوں کسی ایک عدد سے تقسیم نہیں ہوتے تو اسی طرح پانچ کو ایک سے ضرب دے دیں گے۔ پانچ اور نیچے اسی طرح تین آ جائے گا پانچ بٹا تین یہ حصہ کس کا ہوا؟ دادا کا تو دادا کے نیچے لکھیے بھئی پانچ بٹا تین۔ پانچ بٹا تین۔ अच्छा उसके बाद पांच का ثلث کیا ہوا؟ پانچ کا ثلث ہم نے دادا کو دے دیا۔ باقی کتنے رہ گئے؟ دو ثلث کتنے رہ گئے؟ دو ثلث دو ثلث کس طرح لکھتے ہیں؟ ایک بٹا تین تھا ثلث تو لازمی بات ہے دو ثلث کتنا ہوگا؟ دو بٹا تین ہوگا تو دو بٹا تین کو اسی طرح ذرا پانچ سے ضرب دیں۔ پانچ کا ثلث دو ثلث نکال رہے ہیں نا یہ دو بٹا تین تو یہ ایک کا ثلث ہے ایک کا تو دو بٹا تین کو پانچ سے ضرب دیجیے کیا آیا؟ 10 بٹا تین یہ آ گیا بہن بھائیوں کا اکٹھا حصہ سب کے نیچے لکیر لگائیے اور درمیان میں لکھ دیجیے 10 بٹا تین۔ अच्छा भाई ये صورت بن گئی مسئلہ کی لیکن آپ دیکھ رہے ہیں دو جگہ کسر ہے دادا کا حصہ ہے پانچ بٹا تین بہن بھائیوں کا حصہ ہے 10 بٹا تین تو نیچے کون سا عدد ہے؟ تین ہم نے اس کسر کو ختم کرنا ہے کس سے ضرب دیں گے؟ تین سے تو تین سے سارے مسئلے کو ضرب دے دیں گے۔ जी सबसे पहले ऊपर مسئلہ جس سے بنایا یعنی چھ اس کو تین سے ضرب دیں کیا جواب آیا؟ 18 چھ کے آگے تصحیح کی تا لکھیے اور 18 لکھ لیجیے۔ جد جدہ کا حصہ ایک ہے اس کو تین سے دی تو تین آیا تو ایک کے نیچے تین لکھ لیجیے جو جدہ کا حصہ ہے۔ جد کا حصہ تھا پانچ بٹا تین اس کو تین سے ضرب دی تو تین تین سے کٹ جائے گا اور کتنا رہ جائے گا؟ پانچ تو جد کے نیچے پانچ لکھ لیجیے۔ اچھا بھائیوں کا حصہ کتنا تھا؟ 10 بٹا تین اس کو تین سے ضرب دی کتنا رہ گیا؟ 10 تو 10 بٹا تین کے نیچے 10 لکھ لیجیے۔ 10 لکھ لیا بھئی؟ اب بھئی بہن بھائیوں کا حصہ بھی الگ کرنا ہے کتنے رؤوس ہیں ہمارے پاس؟ پانچ ہر بھئی دو بہنوں کے برابر تو دو بھئی کتنی بہنوں کے برابر؟ چار اور ایک بہن کتنے ہو گئے؟ پانچ تو 10 کو پانچ میں تقسیم کریں کتنا آئے گا ایک کے حصے میں؟ دو تو بہن کو تو دو ملے گا اور بھائیوں کو تو دگنا ملے گا چار چار تو وہ ان کے نیچے الگ الگ لکھ لیجیے۔ ہر اخ کے نیچے چار پہلے اخ کے نیچے بھی چار لکھیے دوسرے کے نیچے بھی چار اور اخت کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ تصحیح ہو گئی مسئلہ کی۔ اگلی صورت لکھیے بھئی مقاسمۃ والی صورت۔ جلدی جلدی کیجیے بھئی۔ اسی طرح سارے میت بنائیے۔ اوپر لکھ لیجیے مقاسمۃ کی صورت۔ پھر میت بنائیے وارث سارے اسی طرح لکھ لیجیے بھئی۔ جدہ، جد، اخ، دوسرا اخ، اور پھر اخت بھئی۔ اخت۔ اچھا مقاسمۃ کی صورت میں ہم کیا کرتے تھے؟ دادا کو بھی بھئی بند سمجھتے تھے فرض کرتے تھے اچھا جدہ کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث اور باقی سارے تو عصبہ ہیں بھئی دادا کو بھی ہم نے کیا فرض کر لیا؟ بھئی فرض کر لیا تو وہ تو سارے عصبہ بن گئے تو صرف ایک ہی حصہ آیا ثلث اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنائیں گے ثلث کا ہم نام ہے ستہ یعنی چھ چھ سے مسئلہ بنائیے چھ اوپر لکھیے۔ چھ میں سے کتنا حصہ جدہ کا؟ ایک یا رحمۃ اللہ جدہ کا حصہ کتنا؟ ایک جدہ کے نیچے ایک لکھ لیجیے باقی کتنے بچے؟ پانچ وہ سارے جد، اخ، اخ، اور اخت کا حصہ ہے بھئی سب کا حصہ ہے ان سب کے نیچے لکیر کھینچیے اور اس کے نیچے پانچ لکھ لیجیے بھئی۔ پانچ۔ اچھا اب کیا کریں گے یہاں؟ بھئی عدد یہاں کسر آ رہی ہے مسئلہ تو بن گیا لیکن کسر آ رہی ہے جد بھی جد ہیں اور دو بھئی یعنی تین بھئی اور ایک بہن ہیں یوں سمجھیں تین بھئی اور ایک بہن ہوں تو ہر بھئی کتنی بہنوں کے برابر؟ دو تو تین بھئی کتنی بہنوں کے برابر؟ چھ اور ایک بہن خود بھی ہے سات تو گویا عدد رؤوس سات ہیں سات ہے اور حصے کتنے؟ پانچ مل رہے ہیں سات اور پانچ میں کون سا نسبت؟ تباین والی لہذا اس عدد رؤوس ہی کو اصل مسئلہ میں ضرب دے دیں گے اور سب کے حصوں میں بھی تو سات کو چھ سے ضرب دیجیے کیا آیا؟ 42 تو آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر 42 لکھ لیجیے۔ अच्छा नीचे भाई جد کا کتنا حصہ جدہ کا حصہ اس کو بھی ایک ہے اس کو بھی سات سے ضرب دی کیا آیا؟ سات تو اس ایک کے نیچے سات لکھیے۔ اچھا جد اور بھائیوں بہنوں کا حصہ اکٹھا پانچ تھا اس کو بھی سات سے ضرب دی کتنا آیا؟ 35 پانچ کے نیچے 35 لکھ لیجیے بھائی। اچھا 35 کے ذرا سات حصے کریں عدد رؤوس ہے سات 35 کو سات سے تقسیم کریں کیا جواب آئے گا؟ پانچ یہ ایک بہن کا حصہ ہے اور بھائیوں کو تو کتنا دینا ہے؟ دگنا یعنی 10 تو ہر بھئی کے نیچے دادا کے نیچے بھی 10 لکھیں ہر بھئی کے نیچے بھی 10 10 لکھیں اور بہن کے نیچے پانچ لکھ لیجیے۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو یہ تصحیح ہو گئی بھئی۔ تیسری صورت لکھیے بھئی۔ ثلث جمیع المال کی صورت۔ ثلث جمیع المال کی صورت۔ اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ جدہ، جد، اخن، اخن اور اختن یہ لکھ لیجیے بھئی اس کے نیچے آپ دیکھئے بھئی جدہ کا کتنا حصہ ہے؟ ثلث دادا کو بھی کتنا دینا ہے؟ ثلث اور بھئی بہنیں تو عصبہ ہیں تو صرف ثلث آیا ایک ہی حصہ آیا اور اسی کے ہم نام عدد یعنی چھ سے مسئلہ بنائیں گے چھ سے اوپر مسئلہ بنائیے بھئی۔ چھ کا ثلث کتنا؟ ایک ایک جدہ کے نیچے لکھیے۔ دادا کو بھی ثلث دینا ہے اس کے نیچے بھی ایک لکھ لیجیے۔ چھ میں سے دو دے دیے ایک جدہ کو ایک جد کو کتنے رہ گئے؟ چار تو اخ دونوں بھئی اور بہن جو ہیں ان ساروں کا حصہ چار ہے ان کے نیچے لکیر کھینچ کر چار لکھ دیجیے ان کے نیچے لکھ لیا بھئی؟ اب دیکھئے بھئی جد کو بھی ایک جدہ کو بھی ایک لیکن بھئی بہنوں کو چار ملے اور بھئی بہن بھئی دو ہیں تو کتنی بہنوں کے برابر؟ چار اور ایک بہن بھی ہے پانچ تو یہاں عدد رؤوس ہیں پانچ اور حصے کتنے مل رہے ہیں؟ چار تو کیا رہا ہے؟ کسر آ رہی ہے پانچ اور چار میں پھر نسبت دیکھیں تباین تو پھر عدد رؤوس ہی کو اصل مسئلہ میں ضرب دیں گے پانچ کو ضرب دیجیے چھ میں کیا جواب آیا؟ 30 تو آگے تصحیح کی تا لکھیے چھ کے آگے اور اس پر 30 لکھ لیجیے۔ اچھا نیچے ہر ایک کے حصوں کو بھی پانچ سے ضرب دیں دادی کا حصہ ایک ہے اس کو پانچ سے ضرب دی پانچ آیا ایک کے نیچے پانچ لکھیے۔ دادا کا حصہ بھی اسی طرح پانچ ہو گیا وہاں بھی ایک کے نیچے پانچ لکھیے۔ اچھا بھئی بہنوں کا حصہ تھا چار اس کو پانچ سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 20 پانچ چوکھی 20 بھئی تو چار کے نیچے 20 لکھ لیجیے۔ اچھا کل عدد رؤوس یہاں کتنے ہیں؟ پانچ ہیں پانچ ضرب 20 کو تقسیم کریں کتنا آیا؟ چار یہ ایک بہن کا حصہ ہے اور بھائیوں کو کتنا دینا ہے؟ دگنا یعنی آٹھ تو ہر بھئی کے نیچے آٹھ لکھ لیجیے اور بہن کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی اب ذرا غور کیجیے بھئی دیکھئے ثلث ما بقیہ کی صورت میں دادا کو کتنا ملا؟ کتنے میں سے؟ 18 میں سے پانچ ملا 18 میں سے پانچ کا کیا مطلب ہے؟ 18 کا ثلث کتنا ہوتا ہے؟ چھ چھ اور یہ ہے پانچ یعنی ثلث سے کچھ کم ملا پہلی صورت میں ثلث سے کچھ کم ملا ثلث سے کچھ کم ملا مقاسمۃ کی صورت میں دیکھیے 42 میں سے کتنا ملا؟ جی 10 42 میں سے 10 ملا تو 42 کا ربع کتنا؟ نہیں چار 10 کتنے کا ربع ہے؟ 40 کا تو اور 42 کا ربع کتنا بنے گا؟ جی ساڑھے دس بن جائے گا تو یعنی 42 میں سے 10 ملا ہے 40 میں سے 10 ملتا تو ربع ہوتا یہ 42 میں سے 10 ملا ہے یعنی ربع سے کچھ کم ملا ہے کیا ہوا؟ پہلی صورت میں کیا تھا؟ ثلث سے کچھ کم اب ربع سے کچھ کم اچھا ثلث جمیع المال والی صورت میں دیکھیے 30 میں سے کتنا ملا؟ پانچ یہ پانچ 30 کا کتنا حصہ ہے؟ چھٹا حصہ یہ تو چھٹا حصہ یہاں تو مل گیا ٹھیک ہے اچھا یہاں ملا چھٹا حصہ پہلے ثلث ما بقیہ میں کتنا ملا؟ ثلث سے کچھ کم دوسری صورت میں ربع سے کچھ کم تیسری صورت میں ثلث سے چھٹا حصہ مل گیا تو کس میں فائدہ زیادہ؟ پہلی صورت میں یا یوں کرو دیکھو ایک ہی عدد اس سے بنا لو۔ مثلا اگر 12 سے مسئلہ ہوتا 12 سے તો پہلی صورت میں کتنا ملا؟ ثلث سے کچھ کم 12 کا ثلث کتنا؟ چار معلوم ہوا چار سے کچھ کم معمولی سا کم دوسری صورت ہوتی تو 12 میں سے کتنے ملتے؟ ربع ربع کتنا ہے 12 کا؟ تین یعنی تین سے کچھ کم ثلث ما بقیہ دیں تو چار سے معمولی سا کم اور مقاسمۃ کریں تو تین سے بھی کچھ کم اور ثلث دیتے تو چھ کا ثلث 12 کا ثلث کتنا؟ دو تو اس صورت میں دو ملتا آپ خود بتائیے ایک صورت میں اس کو دادا کو دو مل رہا ہو ایک صورت میں تین سے تھوڑا سا کم ہو ایک صورت میں چار سے تھوڑا سا کم ہو کون سی صورت زیادہ ہے؟ چار والی یعنی پہلی صورت بھئی اچھی طرح سمجھ میں آگئی بات؟ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
92 approved lectures · 61 of 92