Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-059

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 35
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و رابع أن يكون مع الثاني من لا يرد عليه فاقسم ما بقي من مخرج فرض من لا يرد عليه على مسألة من يرد عليه فإن استقام فبها وهذا في صورة واحدة وهي أن يكون لزوجة الربع والباقي بين أهل الرد أثلاثا كزوجة وأربع جدات وست أخوات لأم. بھئی رد کے قوانین ہم پڑھ رہے تھے، پہلا قانون آپ نے پڑھا جس میں صرف من يرد عليه تھے اور من لا يرد عليه یعنی زوج یا زوجہ میں سے کوئی نہ ہوتا تھا اور مال کچھ بچ جاتا تھا، عصبہ کوئی نہیں کہ ما بقیہ کو لے لے تو ما بقیہ مال انہی پر رد ہوتا تھا اور پہلی صورت میں کیا تھا کہ صرف کون ہیں؟ من يرد عليه اور ان میں سے بھی صرف ایک ہی جنس ہے، ایک ہی نوع ہے تو پھر مسئلہ انہی کے عدد رؤوس سے ہم بنا لیتے تھے۔ دوسری صورت تھی کہ من لا يرد عليه نہیں ہے اور من يرد عليه کی دو یا تین قسمیں جمع ہیں تو پھر مسئلہ ہم ان کے سہام سے بنا لیتے تھے بھئی، کس سے؟ سہام۔ پہلے قانون میں عدد رؤوس سے، دوسرے میں ان کے سہام سے۔ تیسری تیسرا قانون یہ تھا کہ من يرد عليه بھی من لا يرد عليه بھی ساتھ اجاتا یعنی زوج یا زوجہ اور من يرد عليه ان کی ایک ہی نوع ہوتی تھی تو وہاں پر کیا صورت تھی؟ کہ من لا يرد عليه کا جو اقل مخرج ہے یعنی اس کا جو حصہ کم سے چھوٹے سے چھوٹا عدد جس سے اس کا پورا حصہ نکل سکے، یعنی اسی کا ہم نام عدد۔ ربع کس سے نکل آتا ہے؟ چار سے، ثمن کس سے نکل آتا ہے؟ اٹھ سے۔ ثمانیہ سے۔ وغیرہ بھئی یہ صورت بھئی۔ تو اسی کا جو اقل مخرج یعنی اس کا جو ہم نام عدد ہے اس سے مسئلہ بنا لیتے تھے اور ما بقیہ جو تھا وہ وارثوں میں تقسیم کرتے تھے۔ اگر پورا تقسیم ہو جاتا تو ٹھیک اگر پورا تقسیم نہ ہوتا تو پھر کیا کرتے تھے؟ عدد رؤوس اور مسئلے کے اندر تنا دیکھتے تھے کون سی نسبت ہے؟ اگر توافق کی ہوتی تو عدد رؤوس کے وقت کو اصل مسئلہ میں ضرب دے دیتے تھے اور اگر تبائن کی صورت ہوتی تو عدد رؤوس ہی کو کیا کرتے تھے؟ اصل مسئلے میں ضرب دے دیتے تھے۔ صورت ذہن میں ہے؟ آج چوتھا قانون پچھلے سبق میں ہم کچھ پڑھ چکے کہ من لا يرد عليه یعنی زوج یا زوجہ میں سے بھی کوئی ہے اور من يرد عليه کی دو یا تین جنسیں ہیں بھئی دو یا تین جنسیں تو میں نے بتلایا تھا کہ مسئلہ کس طرح بنائیں گے؟ من لا يرد عليه یعنی زوج یا زوجہ کا جو حصہ بن رہا ہے اس کے اس حصے کا جو اقل مخرج ہے یعنی اسی کا ہم نام جو عدد ہے یعنی جس سے وہ پورا پورا حصہ نکل سکتا ہے یعنی وہ اسی کا ہم نام عدد ہوا، اس سے مسئلہ بنا لیں گے۔ اور وہ اوپر لکھیں گے اور زوج یا زوجہ کو اس کا حصہ دے دیں گے اور ما بقیہ جو ہے وہ کس میں تقسیم ہونا ہے؟ من يرد عليه میں اور ان کا مسئلہ پھر بالکل الگ ہم بنائیں گے۔ یوں سمجھیں گے زوج یا زوجہ ان کے ساتھ ہے ہی نہیں۔ ان کا جب الگ مسئلہ بنا لیں گے پھر دیکھیں وہ جو ما بقیہ ہے وہ ان میں پورا پورا تقسیم ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر وہ ما بقیہ ان میں پورا پورا تقسیم ہو رہا ہو تو آگے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر وہ پورا تقسیم نہیں ہوتا پھر کیا کریں گے؟ ان کا جو من يرد عليه کا جو مسئلہ بنایا جس سے اس سے کیا کریں گے؟ من لا يرد عليه کے مسئلہ کو بھی ضرب دے دیں گے اور اس کے حصے کو بھی ضرب دے دیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ مسئلہ بنایا آپ نے من لا يرد عليه کا اور یہ مسئلہ بنایا من يرد عليه کا تو ان کے مسئلے کو من لا يرد عليه کے مسئلے سے اور حصے دونوں سے کیا کریں گے؟ ضرب دے دیں گے اور من لا يرد عليه کا حصہ دینے کے بعد جو باقی بچا تھا اس ما بقیہ کو من يرد عليه کے مسئلہ اور ان کے حصوں کے ساتھ ضرب دے دیں گے۔ کس کو ضرب دیں گے؟ ما بقیہ جو باقی بچا ہے اس کو ضرب دے دیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے مثال لکھیے بھئی مثال کے طور پر مثال سے بات اور واضح ہو جائے گی۔ جی مثال نمبر ترانوے ترانوے، اسی طرح میت بنائیے زوجہ زوجہ میت کے نیچے لکھیے۔ زوجہ جدہ جدہ اختانی لأم اختانی لأم کون سی صورت لکھی تھی؟ زوجہ جدہ چار اخوات لأم۔ अच्छा इसकी पहली भी कोई सूरत लिखी؟ हाँ؟ नहीं, यह फिर दोबारा यह वाली सूरत लिखें जो इस वक्त मैं लिखवा रहा हूं भाई। यह मिसाल नंबर ترانوे वो पिछली को छोड़ दें, वो भी वह भी आगे आ जाएगी पहले यह वाली कर लें भाई। زوجہ میت بنائیے زوجہ جدہ اور اختانی لأم (یعنی دو اخیافی بہنیں ہیں بھئی اختانی لأم) لکھ لیا بھئی؟ अच्छा भाई देखिए औलाद है؟ औलाद नहीं, तो زوجہ کو کتنے میں سے اس کا مسئلہ بنے گا؟ ربع ملے گا اور ربع کے صعد سے پورا پورا نکلتا ہے؟ چار سے۔ جی, تو اوپر چار لکھیے۔ چار میں سے ایک کس کو دیا؟ زوجہ کو دے دیا۔ ما بقیہ کا مسئلہ ہم الگ بنائیں گے بھئی۔ समझ में आया भाई؟ جدہ اور اختانی لأم کا بس چار کو ابھی یہیں پر چھوڑ دیں۔ جدہ کو کتنا دیتے ہیں؟ سدس। اختانی لأم ایک ہو تو سدس، دو یا زیادہ ہوں تو ثلث تو ان کو ثلث ملے گا تو کون کون آگئے؟ سدس اور ثلث۔ سدس اور ثلث ایک ہی نوع کے ہیں تو اس میں سے پھر چھوٹا جو حصہ ہوتا ہے اس سے ہم اس کے ہم نام عدد سے مسئلہ بناتے ہیں ثلث اور سدس میں سے چھوٹا کیا؟ سدس۔ تو سدس کا ہم نام عدد یعنی ستہ، چھ جو ہے اس سے مسئلہ بنائیں گے۔ اب اوپر چھ ٹھہریں, لکھنا کہاں ہے؟ یاد رکھیے! یہ چھ اس چار سے کافی دور کر کے لکھیں، یہ آپ اپنی یاد دہانی کے لیے کر رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مسئلہ ادھر چار ہی سے بنے گا۔ مسئلہ ادھر وہ جو چار لکھا، تو تقریباً نصف میں یا نصف سے بھی تھوڑا آگے کر کے مییت پر لکھیں چھ بھئی۔ تقریباً نصف میں لکھیں، اس سے بہت دور بھئی، بالکل شبہ بھی نہ پڑے یہ صرف آپ اپنی یاد دہانی کے لیے عمل کر رہے ہیں۔ مسئلہ ادھر ہی بنے گا چار وغیرہ سے۔ کس سے مسئلہ بنایا؟ چھ سے۔ چھ میں سے سدس کتنا ہے؟ ایک وہ جدہ کا حصہ ہے، ایک جدہ کے نیچے لکھیے۔ اور چھ کا ثلث کتنا؟ دو۔ دو اختانی لأم کا حصہ، ان کے نیچے دو لکھیے بھئی۔ अच्छा, तो देखिए, अब مسئلہ کس سے بنے گا بھئی؟ بھئی دوسرا قانون لگاؤ۔ ایک جنس ہے یا دو جنسیں ہیں؟ من لا يرد عليه کو چھوڑ دو۔ ما بقیہ کا مسئلہ بنا رہے ہیں ہم صرف۔ دو جنسیں ہیں اور پھر اس صورت میں جب دو جنسیں ہوتی تھیں، ہم کس سے مسئلہ بناتے تھے؟ سہام سے تو کتنے سہام ہوئے؟ جدہ کا ایک، اختانی لأم کے دو، دو اور ایک تین۔ معلوم ہوا رد ہوگا تین کی طرف تو چھ کے ساتھ وہ رد کی علامت لکھیے بھئی، وہ لفظ جیسے علامت لکھیے اور اس پر تین لکھ لیجیے۔ رد ہوگیا۔ ٹھیک ہے بھئی؟ اچھا! اب بتائیے۔ ما بقیہ زوج زوجہ کو چار میں سے ایک دیا تھا کتنے بچے تھے؟ تین اور یہاں بھی کتنے حصے ہوئے؟ تین، تو دیکھو وہ پورے تین وہ یہیں پر تقسیم ہوگئے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ مسئلہ وہی چار سے بنا ہے یہ رد والا عمل ہم نے ویسے الگ کیا بھئی حل کرنے کے لیے۔ یہ صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے اس مثال کے اندر مسئلہ ہم نے بنایا چار سے چار میں سے ایک زوجہ کو ملا، ایک جدہ کو اور دو اختانی لأم کو بھئی, دو اخیافی بہنوں کو بھئی۔ تو دیکھیے چار سے مسئلہ بنا اور پورا پورا مسئلہ صحیح ہے اور کہیں کسر بھی نہیں آرہی دو بہنیں ہیں، تو ان کو دو ہی حصہ ملا ہے ہر ایک کو ایک ایک مل جائے گا یعنی اس میں سے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں دیکھیے پورے تقسیم ہو گئے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اگر پورے تقسیم نہ ہوتے پھر ہمیں مزید عمل کی ضرورت پڑتی بھئی۔ دیکھیے پہلے یہ دیکھ لیجیے کتاب پر۔ و رابع چوتھی قسم یہ ہے کہ ان يكون مع الثاني کے ہو دوسری قسم کے ساتھ, دوسری قسم کون سی تھی؟ جس میں دو یا تین جنسیں ہوں من لا يرد عليه کے ساتھ کہ ہو دوسری قسم کے ساتھ من لا يرد عليه کون آجائے بھئی کس میں ثانی کے ساتھ؟ زوجین میں سے کوئی یعنی من لا يرد عليه بھی آجائے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ دوسری قسم کے ساتھ جو ہے من لا يرد عليه بھی ہو جائیں فاقسم ما بقي تو تقسیم کیجیے وہ جو باقی بچ جائے۔ किस में से बाकी बच जाए؟ من فرض من لا يرد عليه من لا يرد عليه کا فرض من لا يرد عليه کیا معنی؟ من لا يرد عليه کا حصہ اور مخرج فرض من لا يرد عليه من لا يرد عليه کے حصے کا مخرج۔ من لا يرد عليه کا کتنا حصہ تھا یہاں؟ جی! ایک یہ ہے فرض من لا يرد عليه یہ کیا ہے؟ اور ایک کا مخرج کیا ہے؟ چار تو یہ مخرج فرض من لا يرد عليه ہے چار بھئی۔ बात समझ में आ गई؟ تو لہذا تو تقسیم کیجیے وہ جو باقی بچ جائے من مخرج فرض من لا يرد عليه من لا يرد عليه کے حصے کے مخرج میں سے علی مسئلۃ किस पर تقسیم کریں؟ علی مسئلۃ من يرد عليه من يرد عليه کے مسئلہ پر۔ من يرد عليه کا مسئلہ ہم نے کس سے بنایا؟ بھئی چھ سے تو بننے کے بعد پھر رد ہوا تھا نا؟ تین سے۔ تو تین سے بنایا تھا تو یہ جو ما بقیہ ہے من لا يرد عليه کے حصے کے مخرج میں سے اس کو تقسیم کریں گے کس پر؟ من يرد عليه کے مسئلہ پر، اس پر تقسیم کیا فاستقام فبها اگر سیدھا رہے تو اچھی بات ہے یعنی پھر مزید کچھ عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے یہاں حصہ بھی بنا ان کا، مسئلہ بھی بنا تین سے اور باقبیہ بھی کتنا تھا؟ تین تھا برابر تقسیم ہوگئے و هدا في صورة واحدة بتلا رہے ہیں یہ ایک صورت میں ہی ہوگا والیہ ان يكون للزوجات الربع اور وہ یہ کہ زوجات کے لیے کتنا ہو؟ ربع اس مسئلے میں بھی زوجہ کے لیے کتنا تھا؟ ربع تھا والباقي بين أهل الرد أثلاثا اور باقی جو ہے وہ اہل رد کے درمیان کتنے حصے ہو جائے؟ تین حصے ہو جائے کزوجة یہ دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں کزوجة وأربع جدات وست أخوات لأم اب یہ مثال لکھیے بھئی ست أخوات لأم یہ مثال نمبر ترانوے کر لیجیے بھئی مثال نمبر ترانوے بھئی اسی طرح میت بنائیے، اس کے نیچے لکھیے زوجہ زوجات چار جدات چار اخوات لأم چھ بھئی یعنی اخیافی بہنیں چھ۔ اخوات لأم چھ لکھ لیا بھئی! زوجہ، جدات چار، اخوات لأم چھ۔ अच्छा بھئی! زوج اولاد نہیں ہے، زوجہ کو کتنا حصہ ملتا ہے؟ ربع تو لہذا چار سے بنائیے مسئلہ بھئی جو اس کے من لا يرد عليه کے حصے کا مخرج ہے۔ چار، چار اوپر لکھیے اس میں سے ایک زوجہ کے نیچے لکھ لیجیے۔ آگے بھئی اب جدات کا ہم نے الگ مسئلہ کرنا ہے نکالنا ہے بھئی! اب پھر ان کا مسئلہ بنائیں گے بہت دور کرکے آپ نے وہ لکھنا ہے ان کا مسئلہ۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ اخوات لأم کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث۔ سدس اور ثلث جمع ہوئے پچھلے مسئلے کی طرح ہی کس سے بنائیں گے مسئلہ؟ جی! چھ سے مسئلہ بنے گا تو چھ بہت آگے کر کے لکھیں۔ جی تو مسئلہ کس سے بنایا؟ چھ سے اور میں نے بتایا اس کو خوب آگے لیکن یہ جو عمل ہے، یہ صرف آپ کی یاد دہانی کے لیے ہے۔ اصل مسئلہ وہ جو چار آیہ وہاں اس سے ہم بنا رہے ہیں بھئی۔ تو کہیں خلط نہ آئے، آپ کو شبہ نہ پڑے تو خوب آگے کرکے میت کے تقریبا وسط میں یا اس سے بھی اگر تھوڑا آگے لکھ دیں، کسی قسم کا شک اور شبہ تاکہ نہ رہے۔ تو کس سے مسئلہ بنایا؟ چھ سے۔ چھ میں سے جدات کو کتنا دیا؟ ایک بھئی، یعنی کہ سدس۔ اور ثلث أخوات لأمین کو دیا وہ کتنا ہوا؟ دو۔ جی، تو پھر یہاں رد ہوگا۔ چھ کے آگے رد کی علامت بنائیے اور اس پر تین لکھ دیجیے۔ بھئی رد کی علامت اور اس پر تین لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے مسئلے کو بھئی۔ مسئلہ بنایا ہم نے چار سے۔ چار میں سے ایک دیا زوجہ کو، ایک دیا جدات کو، اور دو دیا أخوات لأمین کو، تو یہ کل کتنے حصے ہو گئے؟ چار اور مسئلہ بھی بنایا تھا چار سے۔ تو زوجہ کو ایک دینے کے بعد تین بچے تھے اور وہ تین آگے پورے پورے تقسیم ہو رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ہاں اب جو ما بقیہ تھا، وہ باقیوں پر پورا تقسیم ہو گیا۔ اب صرف کسر آرہی ہے بعض جگہ پر۔ جدات ہیں چار، حصہ ملا ایک۔ أخوات لأمین ہیں چھ اور حصے ملے دو۔ تو یہاں دونوں جگہ کسر ہے، اب وہی تصحیح والا ضابطہ بھئی۔ عدد رءوس کو پہلے ہم نکال لیں گے۔ جی، جدات چار ہیں، ان کو ایک ملا۔ یہاں تو چار اور ایک میں کون سی نسبت؟ تباین کی ہے، تو چار کو الگ لکھ لیجیے۔ یہ پہلا عدد رءوس ہمارے پاس آگیا۔ أخوات لأمین چھ ہیں، حصے ملے دو۔ چھ اور دو میں کون سی نسبت؟ تداخل ہے۔ لیکن تداخل بھی یہاں کس کی طرح؟ توافق کی طرح۔ تو چھ کا دو سے چھ کو تقسیم کیجیے، کیا آیا؟ تین۔ یہ تین، یہ وفق جو ہے چھ کا، تین، یہ دوسرا عدد رءوس ہے۔ تو دو عدد رءوس ہمارے پاس آگئے چار اور تین۔ ان میں کون سی نسبت؟ تباین کی۔ لہٰذا دونوں کو آپس میں ضرب دی، چار تیہ 12۔ یہ 12 ہمارے پاس مضروب آگیا۔ اس کے ساتھ اوپر مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ چار سے۔ چار کو 12 سے ضرب دیجیے۔ کیا آیا؟ 48۔ چار کے آگے وہی تصحیح کی تا لکھیے، اس پر 48 لکھ لیجیے۔ نیچے ہر ایک کے حصے کو بھی اسی مضروب یعنی 12 سے ضرب دیں گے۔ زوجہ کا حصہ ہے ایک، اس کو 12 سے ضرب دی، 12 آیا۔ تو زوجہ کے ایک جو حصہ ہے، اس کے نیچے 12 لکھ لیجیے۔ جدات کا حصہ بھی ایک ہے، اس کو بھی 12 سے ضرب دی، 12 آیا، تو ایک کے نیچے 12 لکھ لیجیے۔ أخوات کے حصے ہیں دو، اس کو بھی 12 سے ضرب دی، 24 آیا، تو دو کے نیچے 24 لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے کسر ختم ہوگئی۔ جدات ہیں چار اور حصے کتنے ملے؟ 12۔ تو ایک ایک جدہ کا کتنا حصہ؟ ہاں، 12 کو چار سے تقسیم کر دیں گے، تین آیا یہ ایک ایک جدہ کا حصہ۔ أخوات لأمین چھ ہیں، حصے ملے 24۔ ایک ایک اخت کا کتنا حصہ؟ چار چار یعنی 24 کو چھ سے تقسیم کیا تو چار آیا، یہ ایک ایک اخیاقی بہن کا حصہ ہوگیا۔ تو مسئلہ 48 سے بن گیا بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھیے یہ وہ صورتیں تھیں جہاں ما بقیہ پورا پورا تقسیم ہو رہا تھا۔ اب وہ صورت آئے گی جس میں ما بقیہ پورا تقسیم نہیں ہوتا بھئی۔ وہاں پھر میں نے بتایا کیا کریں گے؟ من ی رد علیہ کا جو مسئلہ بنائیں گے، جس عدد سے، اس کو کس میں ضرب دے دیں گے؟ من لا ی رد علیہ کا جسے مسئلہ بنایا تھا اور اس کے حصے کو بھی ضرب دے دیں گے۔ اور من لا ی رد علیہ سے جو باقی بچا تھا، اس کو اس کو من ی رد علیہ کے مسئلے اور ان کے حصوں سے ضرب دیں گے، پھر تصحیح ہوگی۔ اس کی مثال لکھ لیجیے۔ آگے کتاب میں بھی یہی مثال آئے گی، یہی لکھیں بھئی۔ میت بنائیے اسی طرح۔ زوجات لکھیے چار۔ مثال نمبر کون سی ہے؟ 95۔ مثال نمبر 95 ہے بھئی۔ اسی طرح میت بنائیے، زوجات ہیں چار بھئی۔ زوجات چار۔ بنات ہیں نو بھئی۔ بنات نو۔ جدات چھ ہیں بھئی۔ جدات چھ ہیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ زوجات چار، بنات نو، اور جدات چھ۔ اچھا بھئی، اولاد ہے یا اولاد نہیں ہے بھئی؟ ہے۔ تو لہٰذا بیوی کو کتنا حصہ دیتے ہیں؟ ثمن دیتے ہیں۔ ثمن ہوا یہ فرض من ی رد علیہ، کیا ہوا؟ من ی رد علیہ کا حصہ۔ اس کا پھر مخرج کیا ہوگا؟ آٹھ۔ آٹھ سے مسئلہ بنائیے، اوپر آٹھ لکھیے۔ آٹھ میں سے ایک زوجات کے نیچے لکھ لیجیے۔ ہاں، اس کو اب یہیں چھوڑ دیں۔ اب باقیوں کا اسی طرح بنات ہیں نو اور جدات چھ بھئی۔ وہ دوسرا قانون جو لگا تھا، اب اس کے مطابق صرف من ی رد علیہ کا مسئلہ بنائیں گے۔ بھئی بنات ہوں، کتنا ملتا ہے دو یا زیادہ تو؟ ثلثان ملتا ہے ان کو۔ اور جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ ثلثان اور سدس جمع ہوگئے، یہ ایک ہی نو کے ہیں، تو لہٰذا اس صورت میں جو چھوٹا ہو اس سے مسئلہ بناتے ہیں، چھوٹا کیا ہے؟ سدس۔ تو چھ، سدس کا ہم نام عدد ستہ ہے، چھ اس سے مسئلہ بنائیں، لیکن خوب دور کرکے لکھیں بھئی، اشتباہ تاکہ خطرہ نہ رہے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے، چھ میں سے دو ثلث کتنا؟ چار، بنات کے نیچے چار لکھیے۔ چھ میں سے سدس دیں گے جدات کو، کتنا؟ ایک، جدات کے نیچے ایک لکھیے۔ اچھا، دوسرا قانون کیا تھا؟ کہ من ی رد علیہ دو یا تین جنسوں کے جمع ہو جائیں تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ سہام سے۔ تو سہام گنو ذرا بنات کے چار اور جدات کا ایک، چار اور ایک پانچ۔ تو پانچ سے مسئلہ بنے گا، یعنی چھ کے آگے اب وہ رد کی علامت لکھیے اور اس پر پانچ لکھ لیجیے۔ اب دیکھیے! ان کا مسئلہ کس سے بنایا من ی رد علیہ کا؟ پانچ سے، اور زوجات کا مسئلہ کس سے تھا؟ آٹھ سے۔ آٹھ میں سے ایک ان کو دے دیا تھا، باقی کتنے بچے؟ سات۔ تو باقی بچے ہیں سات، اور بنات اور جدات کا مسئلہ بن رہا ہے کس سے؟ پانچ سے۔ دیکھو، وہ پورا تقسیم نہیں ہو رہا۔ تو اب وہی قانون لگے گا بھئی، کیا کریں گے؟ من ی رد علیہ کا مسئلہ جو ہے، اس کو ضرب دیں گے، کس سے بنایا من ی رد علیہ کا مسئلہ؟ پانچ سے۔ اس پانچ کو ضرب دے دیں گے من لا ی رد علیہ کے مسئلے سے بھی اور اس کے سہام سے بھی۔ اوپر مسئلہ آٹھ ہے، آٹھ کو پانچ سے ضرب دی، کیا آیا؟ 40۔ آٹھ کے آگے وہی تصحیح کی تا لکھیے اور 40 لکھ لیجیے۔ اسی پانچ کو زوجات کا حصہ ہے ایک، اس کے ساتھ بھی ضرب دے دیں گے۔ کیا آیا؟ پانچ۔ تو ایک کے نیچے پانچ لکھ لیجیے۔ اور ما بقیہ زوجات کے حصہ مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ آٹھ سے۔ اس میں سے ما بقیہ کتنا تھا؟ سات۔ سات کے ساتھ اب ضرب دیں گے کس کو؟ من ی رد علیہ کے مسئلے کو۔ پانچ کو دیجیے سات سے ذرا، 35۔ اس کے آگے تا لکھیے۔ 35 لکھ لیجیے۔ یہ چاہے لکھیں یا نہ لکھیں، ویسے یاد دہانی کے طور پہ لکھ لیں تو اچھی بات ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ 35، نیچے اسی سات سے نیچے ان کے حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ بنات کے حصے ہیں چار، اس کو بھی سات سے ضرب دی۔ سات چوک 28، چار کے نیچے 28 لکھیے۔ جدات کا حصہ ہے ایک، اس کو بھی سات سے ضرب دیں سات آیا تو ایک کے نیچے سات لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ ہوگیا بھئی۔ اب دیکھیے کہیں کسر آرہی ہے؟ زوجات ہیں، مسئلہ ہوگیا حل پورا۔ زوجات ہیں یعنی کہ مسئلہ کس سے بنا؟ 40 سے۔ 40 میں سے پانچ دینے ہیں زوجات کو، 28 دینے ہیں بنات کو، اور سات دینے ہیں جدات کو۔ اب دیکھیے کسر آرہی ہے، زوجات ہیں چار، حصہ ہے ایک، یہاں بھی کسر۔ بنات ہیں نو، حصے ہیں چار، یہاں بھی کسر۔ جدات ہیں چھ، حصہ ہے ایک، یہاں بھی کسر۔ اب وہی تصحیح والا قانون لگے گا۔ زوجات ہیں چار، حصہ ہے ایک، چار اور ایک میں تباین، تو پہلا عدد رءوس چار لکھ لیجیے۔ بھئی! بنات ہیں نو، حصے ہیں چار، یہاں بھی کون سی نسبت؟ تباین، تو یہاں نو دوسرا عدد رءوس آگیا ہمارے پاس۔ جدات ہیں چھ، حصہ ہے ایک، چھ اور ایک میں بھی کون سی نسبت؟ تباین کی، تو یہ چھ ہمارے پاس تیسرا عدد رءوس آگیا۔ چار، نو اور چھ، تین عدد رءوس آگئے، اب کیا کریں گے؟ جی؟ ہاں، ان میں آپس میں نسبت دیکھیں گے، کوئی سے دو میں نسبت دیکھ لیں بھئی! چار اور نو میں پہلے دیکھ لی، تباین ہے، ان کو پورے کے پورے میں آپس میں ضرب دے دی۔ چار نوم 36۔ 36 اور پھر اگلا عدد رءوس چھ ہے، 36 اور چھ میں کون سی نسبت؟ تداخل کی ہے، 36 چھ سے پورا تقسیم ہوجاتا ہے، تو بڑے عدد کو لے لیں گے یعنی 36 ہم نے لے لیا بھئی۔ اب یہ 36 مضروب آگیا۔ اس کو اب وہ 40 میں ضرب دیں بھئی۔ جی؟ 1440، 1440 آگیا بھئی۔ 1440 بھئی، اوپر تصحیح کی، آگے 40 کے آگے ایک اور تصحیح کی تا لکھیے۔ اور اوپر لکھ لیجیے 1440۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں، میں نے اس لیے کہا تھا، وہ چھ کو خوب آگے لکھیں تاکہ اشتباہ نہ آئے بھئی۔ اگر وہ قریب ہوا، اب آپ کو پھر اشتباہ پڑتا رہے گا، اس کو خوب آگے ہونا چاہیے بھئی، وہ رد والی صورت ہم نے بنائی تھی۔ اوپر لکھ لیا بھئی، 1440؟ اچھا، نیچے مضروب کیا ہے؟ 36، اسی سے ہر ایک کے حصے کو بھی ضرب دیں گے۔ زوجات کا حصہ ہے پانچ، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 180، پانچ کے نیچے 180 لکھیے۔ اچھا، بنات کا حصہ ہے 28، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 1008، 1008۔ اچھا، جدات کا حصہ ہے سات، اس کو بھی 36 سے ضرب دیجیے۔ 252، سات کے نیچے 252 لکھ لیجیے۔ بھئی، یہ ان کے حصے نکل آئے۔ بھئی چار زوجات ہیں، 180 حصے ملے، ایک زوجہ کا حصہ کتنا ہوگا؟ 180 کو چار سے تقسیم کیجیے۔ 45، یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ بھئی۔ اچھا، بنات ہیں نو، ان کو 1008 ملے، تو 1008 کو نو سے تقسیم کریں، ایک ایک بنت کا حصہ نکل آئے گا۔ کتنا؟ 112، یہ ایک ایک بیٹی کا حصہ ہوگا۔ اچھا، جدات ہیں چھ، ان کو 252 ملے، تو 252 کو چھ سے تقسیم کریں، تو ایک ایک جدہ کا حصہ نکل آئے گا۔ کتنا آیا؟ 42، بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ مسئلہ 1440 سے بنے گا، اس میں سے یہ اس طرح تقسیم ہو جائے گا بھئی۔ اچھی طرح صورت سمجھ میں آگئی، اب کتاب پر بس ترجمہ دیکھ لیجیے۔ پہلی صورت ہم نے کر لی تھی بھئی، جس میں حصے پورے پورے تقسیم ہو رہے تھے۔ اب جب حصے پورے تقسیم نہ ہوں۔ جیسے دیکھیے ما بقیہ بچا تھا سات، اور مسئلہ ان کا کس سے بنا تھا؟ پانچ سے، تو پورے تقسیم نہیں ہوئے تھے، وہ بیان کر رہے ہیں۔ وإن لم یستقیم، اور اگر ما بقیہ درست نہ رہے، یعنی پورا تقسیم نہ ہو، فاضرب جمیع مسئلۃ من ی رد علیہ، تو ضرب دیجیے من ی رد علیہ کے پورے مسئلے کو، جیسے اس مثال میں کیا تھا؟ پانچ تھا، اس کو ضرب دیجیے فی مخرج فرض من لا ی رد علیہ، من لا ی رد علیہ کے حصے کے مخرج میں۔ وہ کیا تھا مخرج، من لا ی رد علیہ کے حصے کا مخرج؟ آٹھ، تو اس کے ساتھ ہم نے ضرب دی۔ فالمبلغ مخرج فروض الفریقین، تو یہ جو حاصلِ ضرب ہے، یہ دونوں فریقوں کے حصوں کا مخرج ہے، یعنی 40۔ كأربع زوجات وتسع بنات وست جدات، جیسے کہ چار بیویاں، نو بیٹیاں اور چھ جدات یہ صورت ہم نے کر لی۔ ثم اضرب سہام من لا ی رد علیہ، پھر ضرب دیجیے کس کے حصوں کو؟ بھئی پانچ، استاد آ رہے ہیں، بس ایک منٹ۔ پانچ کے ساتھ ہم نے کس کو ضرب دی تھی؟ آٹھ کو بھی دی تھی نا، نیچے اب اس کے حصے بیوی کے حصوں کو بھی تو ضرب دینی ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ ثم اضرب، پھر ضرب دیجیے! سہام من لا ی رد علیہ، من لا ی رد علیہ کے سہام کو بھی ضرب دیجیے فی مسئلۃ من ی رد علیہ، کس کے اندر؟ من ی رد علیہ کے اسی مسئلہ یعنی پانچ میں۔ اور ضرب دیجیے سہام من ی رد علیہ، من ی رد علیہ کے سہام کو ضرب دیجیے فيما بقی من مخرج فرض من لا ی رد علیہ، من لا ی رد علیہ کے حصے کے مخرج میں سے جو باقی ہے، اس کے اندر بھئی۔ وإن انکسر علی البا، اور اگر پھر کسر واقع ہو بعض پر فتصحیح المسائل بالاصول المذکورۃ، تو پھر مسائل کی تصحیح کس طرح ہوگی؟ انہی اصولوں کے ذریعے جو کہ ذکر ہو چکے چلیے بس بھئی۔ ھذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 59 of 92