Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اما فی قضاء الدیون فدین کل غریم بمنزلۃ سہام کل وارث فی العمل ومجموع الدیون بمنزلۃ التصحیح بھئی اب تک جو صورتیں آپ نے پڑھیں اس میں معین ترکے کی ایک مقدار کو ذکر کیا جاتا تھا کہ اس کو وارثوں میں کیسے تقسیم کیا جائے گا ہر وارث کا اتنے مال میں سے مثلاً کتنا کتنا حصہ بنے گا۔ اب اج آپ کو بتائیں گے کہ قرض خواہوں کے اندر ترکے کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔ تو اس میں ایک صورت تو یہ ہے کہ ترکہ ہو زیادہ اور قرض خواہ ہیں تھوڑے، قرضہ ہے تھوڑا پھر تو کوئی مشکل نہیں ان کا قرضہ ادا کر دیا جائے اور پھر باقی کا مال ترکہ ہے اس کو وارث آپس میں کیا کر لیں؟ تقسیم کر لیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی تو سب سے اول جو ہے تجہیز وتکفین کے بعد پھر قرضہ ہے بھئی جس کی آج کل کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا بھئی۔ تو ایک صورت تو یہ ذکر ہو گئی قرضہ کم اور ترکہ زیادہ اس میں تو کوئی مشکل نہیں یہ تو اب تک ہم جتنی مثالیں پڑھتے آئے ہیں سب میں اسی طرح ہی ہوگا۔ قرضہ دے دیں اور باقی ترکہ کیا کر لیں وارث اپنے درمیان تقسیم کر لیں۔ پھر ایک صورت یہ کہ جتنا قرضہ ہو اتنا ہی ترکہ ہو۔ قرضہ بھی دس لاکھ ترکہ بھی دس لاکھ تو بس پھر بھی کوئی مشکل نہیں ہر ہر قرض خواہ کو اس کا حصہ دے دو پورا پورا تقسیم ہو جائے گا بھئی۔ لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ قرضہ زیادہ ہوتا ہے اور ترکہ تھوڑا ہوتا ہے۔ ترکہ تھوڑا تو اس صورت میں بھی اگر ایک ہی قرض خواہ ہے پھر تو سیدھی سا سارا مال اسی کو دے دیں گے کیونکہ اس کا اپنا قرضہ بھی اس سے پورا نہیں ہو رہا تو سارا اس کو دے دیں گے۔ بھئی لیکن کبھی قرض خواہ زیادہ ہوتے ہیں بھئی تین چار افراد ہیں بھئی اور کسی کا قرضہ زیادہ کسی کا کم اور کل قرضہ ترکے سے بڑھ گیا اب یہ جو مال ہے اس کو ہم نے قرض خواہوں میں تقسیم کرنا ہے تو کچھ اس طریقے سے تقسیم کریں گے کہ ہر ایک کو اس کے قرضے کے اعتبار سے جس کا قرضہ زیادہ اس کو کچھ زیادہ حصہ مل جائے جس کا پورا تو ہوتا نہیں لیکن پھر بھی کوشش کریں گے کہ جس کا قرضہ زیادہ اس کو ذرا حصہ ملے جس کا قرضہ کم اس کو اسی کے بخدر کم ملے لیکن کس طریقے سے کس کیا کیسے وہ حساب کیا جائے گا وہ طریقہ آج ہم پڑھیں گے۔ آسان صورت ہے بھئی دیکھیے کہتے ہیں اما فی قضاء الدیون اور باقی قرضوں کی ادائیگی میں فدین کل غریم بمنزلۃ سہام کل وارث فی العمل پس ہر غریم ہر قرض خواہ کا جو دین ہے بمنزلۃ سہام کل وارث وہ ہر وارث کے سہام کے درجے میں ہے۔ ہر قرض خواہ کا جو قرض ہے وہ ہر وارث کے سے بھئی جس طرح ہر وارث کے سہام نکالاتے تھے اسی طرح ہر قرض خواہ کا قرض جو ہے وہ اس کے ان کے سہام کے درجے میں ہے فی العمل عمل کے اندر۔ ومجموع الدیون بمنزلۃ التصحیح اور مجموعہ دیون جو ہے وہ تصحیح کے درجے میں ہے۔ مجموعہ دیون کس کے درجے میں؟ تصحیح۔ بھئی آپ مسئلہ بناتے تھے اسی طرح آپ دیکھیں ہم بنائیں گے مسئلہ۔ مسئلہ کی تصحیح کرتے تھے یا نہیں؟ جی۔ تصحیح کی جگہ مجموعہ دیون رکھ دینا۔ اور میت کے نیچے وارث لکھتے تھے اب قرض خواہوں کو لکھ دینا۔ اور بائیں طرف کل ترکہ جیسے لکھتے تھے اسی طرح لکھ دیں گے اور پھر ہر ایک کو اسی حساب سے دے دیں گے۔ تو ضابطہ یہ آسان بالکل وہی ضابطہ لگے گا۔ لیکن اب کرنا کیا ہے صرف مجموعہ دیون کو ہم نے کیا قرار دینا ہے؟ تصحیح قرار دینا ہے۔ اور ہر قرض خواہ کا جو قرض ہے وہ اس کے گویا سہام ہیں۔ کیا ہیں؟ سہام ہیں۔ بھئی۔ جی تو لکھیے بھئی اب صورت بناتے ہیں۔ اوپر لکھ لیں۔ ترکہ کی تقسیم قرض خواہوں پر۔ ترکہ کی تقسیم قرض خواہوں پر۔ अच्छा اس میں بھی پھر دیکھیے بھئی دو صورتیں بنیں گی مجموعہ قرضہ کو ہم نے کیا قرار دیا؟ تصحیح۔ اور جو ترکہ ہے وہ بھی آئے گا تو ترکے میں اور مجموعہ تصحیح کے اندر مجموعہ دیون کے اندر کبھی تبائن ہوگا اور کبھی توافق ہوگا بھئی تو پہلے ہم تبائن والی صورت کر لیتے ہیں اوپر لکھ لیجیے تبائن کی صورت۔ تبائن کی صورت میں لکھ لیا بھئی؟ اچھا اس کے بعد بھئی وہ فارمولا لکھیں گے ضابطہ لکھیں گے قانون۔ کیا قانون تھا؟ پہلے کیا قانون پڑھا وارثوں میں کس طرح ایک ایک وارث کو دیتے تھے؟ ہر وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔ بس اب ہر وارث کے سہام کی جگہ ہر غریم کا قرض آ جائے گا۔ تو نیچے لکھ لیں۔ ہر غریم کا قرض پھر ضرب کی علامت ڈالیے پھر لکھیے کل ترکہ بٹا بٹا پہلے کیا تھا؟ تصحیح اب لکھتے ہیں مجموعہ دیون بھئی۔ مجموعہ دیون۔ مجموعہ دیون کو ہم نے تصحیح قرار دیا تھا۔ یہ ہے ضابطہ بھئی بیعینہ وہی ضابطہ ہے بس ہر وارث کے سہام کی جگہ کیا آگیا؟ ہر غریم کا قرض آگیا بھئی۔ अच्छा اب لکھیے بھئی آگے مثال کونسی ہے یہ؟ جی مثال نمبر 72۔ مثال نمبر 72۔ نیچے اسی طرح میت بنائیے۔ جی اور نیچے جو قرض خواہ ہیں وہ تین ہیں بھئی ان کے نام الگ الگ لکھ لیں زید بكر اور خالد۔ زید بکر اور خالد۔ یہ قرض خواہ ہیں نا وارثوں کی طرح لکھیں ان کو؟ یہ اب وارثوں کی طرح ان میں اب ہم نے مال تقسیم کرنا ہے وارثوں کے لیے تو کچھ بچے گا ہی نہیں بھئی کیونکہ قرضہ زیادہ ہے۔ تو زید بکر خالد لکھ لیا بھئی؟ اچھا زید کے نیچے زید کے قرضہ لکھ لیں گے اس پر۔ لکھ لیجیے 12 زید کا قرض جو ہے مثلاً 12 دینار ہے۔ بکر کا 16 دینار ہے۔ اور خالد کا 20 دینار ہے۔ 12 زید کا بکر کا 16 اور خالد کا 20۔ اچھا یہ کل قرضہ کتنا بنے گا؟ 12 اور 16 28، 28 اور 20 48۔ جی تو جہاں مسئلہ لکھتے تھے جسے مخرج لکھتے تھے وہاں لکھ لیں بھئی دیون 48 بھئی۔ یہ ہے تصحیح بھئی۔ جہاں بھئی تصحیح لکھتے تھے وہیں پر لکھ لیں اوپر دیون 48 یہی تصحیح ہے بھئی یہی تصحیح ہے۔ اور آگے لکھیے بھئی کل ترکہ میت کے بائیں طرف اوپر کل ترکہ 17 دینار۔ 17 دینار۔ لکھ لیا بھئی؟ جی اچھا بھئی اب نیچے کچھ جگہ ان کے نیچے تھوڑی سی چھوڑ دیں تاکہ ہمیں دوبارہ صورتِ مسئلہ نہ لکھنی پڑے انہی کے نیچے پھر ہم لکھ دیں گے کس کو کتنے کتنے دینار ملے ہیں 17 میں سے۔ کچھ جگہ چھوڑ دیں اس کے نیچے اب لکھیے بھئی اسی طرح زید کا قرض برابر ہے 12۔ زید کا قرض برابر ہے 12۔ اس کے نیچے لکھیے ترکے میں زید کا حصہ۔ ترکے میں زید کا حصہ۔ برابر ہے وہ ضابطہ لکھیں غریم کا قرض ضرب کل ترکہ غریم کا قرض ضرب کل ترکہ بٹا مجموعہ دیون بھئی یہ ضابطہ اب لگ جائے گا۔ جی اب نیچے ایک اور پھر برابر کا نشان ڈالیے اور ضابطے کے مطابق ہر جگہ پر اس کی رقم لکھ دیں۔ غریم کا قرض کتنا ہے؟ 12 اور کل ترکہ کتنا ہے؟ 17 12 ضرب 17 بٹا 48۔ 12 ضرب 17 بٹا 48۔ بھئی اوپر نیچے والا کوئی کٹ رہا ہے؟ جی کون؟ 12 اور 48۔ ہاں 12 سے 48 پورا تقسیم ہو جاتا ہے تو 48 کو 12 سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ چار۔ 48 کو کاٹئیے اس کے ساتھ چار لکھ لیجیے چھوٹا سا۔ اچھا اب 12 سے 12 کو تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ ایک تو 12 کو کاٹ کر اس کے ساتھ چھوٹا سا ایک لکھ لیجیے۔ جی کیا رہ گیا؟ 17 ضرب ایک بٹا چار۔ تو آگے برابر کا نشان ڈالیے 17 بٹا چار لکھیے۔ جی 17 کو چار سے تقسیم کیجیے بھئی چار۔ چار سے ایک بٹا چار۔ چار تو جی چار صحیح ایک بٹا چار۔ برابر کی علامت ڈال کر آگے لکھیے چار صحیح ایک بٹا چار۔ معلوم ہوا زید کو کتنے دینے ہیں بھئی 17 دینار میں سے؟ سوا چار دینار دینے ہیں۔ اچھا نیچے لکھیے بکر کا قرض برابر ہے 16۔ بکر کا قرض برابر ہے 16۔ نیچے لکھیے ترکے میں بکر کا حصہ۔ ترکے میں بکر کا حصہ برابر ہے اب ضابطہ لکھنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ بس وہ ضابطے کی جگہ رقمیں لگا دیں کیا ہوگا؟ قرض کتنا ہے؟ 16 ضرب کل ترکہ یعنی 17۔ 16 ضرب 17 بٹا 48۔ 16 ضرب 17 بٹا 48۔ کوئی تقسیم ہو رہا ہے اوپر نیچے والا بھئی؟ کس سے؟ 16 ہی سے تقسیم ہو رہا ہے نیچے والا 48۔ جی تو 16 سے نیچے والے 48 کو تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ تین۔ 48 کاٹئیے تین لکھیے۔ اور 16 سے اوپر والے 16 کو تقسیم کیا تو ایک آیا۔ تو 16 کو کاٹ کر ایک لکھیے بھئی۔ جی کیا رہ گیا 17 ضرب ایک بٹا تین۔ جی تو یہ 17 کو ایک سے ضرب دی تو 17 ہی آئے گا لہٰذا آگے لکھیے برابر ہے 17 بٹا تین۔ 17 بٹا تین۔ جی اب 17 کو تین سے تقسیم کیجیے بھئی کیا بنے گا؟ پانچ صحیح دو بٹا تین۔ ہاں پانچ صحیح دو بٹا تین تو آگے برابر کی علامت ڈالیے پانچ صحیح دو بٹا تین۔ یہ ترکے میں بکر کا حصہ آگیا۔ معلوم ہوا کتنا ملے گا بکر کو بھئی؟ پانچ دینار پورے اور تین بٹا دو کیا دو بٹا تین کیا معنی؟ دو ثلث بھئی۔ یعنی پانچ دینار پورے اور دو ثلث ایک دینار کا۔ نیچے لکھیے خالد کا قرض برابر ہے 20۔ خالد کا قرض برابر ہے 20۔ اس کے نیچے لکھیے ترکے میں خالد کا حصہ برابر ہے۔ جی وہی ضابطے کے مطابق لکھیں کیا آئے گا؟ 20 ضرب 17 بٹا 48۔ 20 ضرب 17 بٹا 48۔ اچھا بھئی کوئی کاٹ رہا ہے اوپر نیچے کسی سے؟ جی؟ 20 اور 48۔ 20 اور 48 کس سے تقسیم ہو رہے ہیں؟ 4 سے، ٹھیک ہے۔ 48 کو 4 سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ 12، 48 کو کاٹیے 7 چھوٹا سا 12 لکھ لیں۔ 20 کو بھی 4 سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ 5، 20 کو کاٹیے اور چھوٹا سا 5 لکھ لیجئے۔ تو اب رہ گیا 17 ضرب 5 بٹا 12۔ 17 کو 5 سے ضرب دیں، 85 اور نیچے 12 اسی طرح آئے گا تو آگے برابر ہے لکھیے 85 بٹا 12۔ اب 85 کو تقسیم کیجیے 12 سے بھئی، 7 صحیح 1 بٹا 12۔ تو آگے برابر کی علامت ڈال کر لکھیے بھئی، 7 صحیح 1 بٹا 12۔ 7 سے 1، 1 بٹا 12 کا کیا مطلب؟ 7 دینار پورے دینے ہیں اور ایک دینار کا بارہواں حصہ دینا ہے، 12 میں سے ایک۔ یہ سب کا حصہ نکل آیا بھئی۔ اب ذرا نیچے پڑتال کیجیے بھئی ہمارا حساب صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ اچھا بھئی! بھئی دیکھیے، نیچے لکھیں چار وہ تینوں کے حصے لکھیں: 4 صحیح 1/4 جمع 5 صحیح 2/3 جمع 7 صحیح 1/12۔ جی، ان کو ذرا صرف بٹوں میں لے جائیں، کیا آجائے گا؟ 4 صحیح 1/4، 4 کو نیچے والے 4 سے ضرب دی اور اوپر والا 1 جمع کیا۔ 17 بٹا 4۔ اور 5 صحیح 2/3 یہ کیا بن جائے گا؟ 17 بٹا، 5 کو 3 سے ضرب دی اور اوپر والا 2 جمع کیا، 5 تیا 15 اور 2 17، 17 بٹا 3۔ اور 7 صحیح 1/12، یہ کیا بن جائے گا؟ 85 بٹا 12۔ تو ہمارے پاس اب آ گیا 17/4 جمع 17/3 جمع 85/12۔ جی، نیچے ہیں 4، 3 اور 12۔ ذو العضاعف عقل نکالیے، جی؟ 12۔ دیکھیے جن میں تداخل ہوتا ہے نا تو وہ بڑا ہی ذو العضاعف عقل بن جاتا ہے حساب کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 4 بھی 4 اور 12 میں تداخل، 3 اور 12 میں بھی تداخل، تو یہ 12 ہی ذو العضاعف عقل بن جاتا ہے۔ تو 12 ذو العضاعف عقل لکھیے۔ جی، اب پہلی رقم پہلی رقم کیا ہے ہمارے پاس 17 بٹا 4۔ نیچے والے سے تقسیم کریں گے اور اوپر والے کو پھر جواب سے ضرب دیں گے، 4 سے 12 کو تقسیم کیا ذو العضاعف عقل کو، 3 آیا، 3 کو 17 سے ضرب دی۔ 51، جی۔ 51 لکھیے اوپر، 51 جمع۔ آگے کیا ہے؟ 3 سے اب ذو العضاعف عقل 12 کو تقسیم کیا اگلی رقم ہے نا 17 بٹا 3 تو 3 سے تقسیم کیا۔ 4 آیا، 4 سے 17 کو ضرب دی۔ 68، تو کیا اوپر آ گیا 51 جمع 68 اور آگے جمع 85 بٹا 12 ہے، تو اس سے تو 85 ہی اوپر آ جائے گا۔ 51 جمع 68 جمع 85 بٹا 12۔ جی، جمع کیجیے سب کو، 204 بٹا 12۔ اب 204 کو تقسیم کریں 12 سے، 17 برابر ہے 17۔ دیکھو معلوم ہوا ہمارا حساب صحیح ہے، وہی 17 دینار آ گئے بھئی۔ اچھا اب مسئلہ صحیح پتہ لگ گیا، اب وہی بھئی اوپر جو میت تھے، ان کے نیچے ان کے حصے ہر ایک کے لکھیں بھئی۔ زید کا قرض تھا 12، لیکن پورے تو دے نہیں سکتے، دینار ہی 17 ہیں تو کتنے دیں گے؟ کتنا حصہ نکلا؟ 4 صحیح 1/4 دینار۔ 4 صحیح 1/ تو 12 کے نیچے 4 صحیح 1/4 دینار لکھیں۔ بکر کا حصہ تھا 16، اس کے کتنا بنا؟ 5 صحیح 2، تو 16 کے نیچے لکھیے 5 صحیح 2/3 دینار۔ خالد کا قرض تھا 20، قرضے میں سے اس کا کتنا حصہ نکلا؟ 7 صحیح 1/12۔ 7 صحیح 1/12 تو 20 کے نیچے لکھیے 7 صحیح 1/12 دینار۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، ایک اور مثال کر لیں توافق کی بھی جلدی جلدی بھئی۔ جی، اوپر لکھیے توافق۔ بھئی توافق کی صورت میں کیا ضابطہ تھا؟ ہر وارث کے سہام ضرب وقت ترکہ بٹا وقت تصحیح بھئی۔ تو بعینہ وہی ضابطہ یہاں بھی لگے گا لیکن ہر وارث کے سہام کی جگہ آ جائے گا ہر غریم کا قرض۔ ہر غریم کا قرض ضرب وقت ترکہ بٹا مجموعہ دیون کا وقت۔ مجموعہ، یا وقت مجموعہ دیون جس طرح بھی آپ لکھ لیں۔ مجموعہ دیون کا وقت۔ جی آگے مثال لکھیے، کون سی مثال؟ مثال نمبر 73، میت بنائیے۔ یہاں پانچ قرض خواہ ہیں بھئی پانچ۔ زید، احمد، خالد، حامد، ساجد۔ اچھا زید کا قرضہ ہے، زید کے نیچے لکھیے 3، 3 دینار۔ احمد کا قرضہ ہے 4، احمد کے نیچے 4 لکھیے۔ خالد کا قرضہ ہے 6 دینار، اس کے نیچے، خالد کے نیچے 6 لکھیے۔ حامد کا قرضہ ہے 9 دینار بھئی، اس کے نیچے 9 لکھیے۔ ساجد کے نیچے 8 لکھیے بھئی 8 دینار اس کا قرضہ ہے۔ اچھا اور اوپر کل ترکہ، کل ترکہ 12 دینار بھئی، کل ترکہ 12 دینار ہے وہ لکھ لیا اوپر بھئی۔ اچھا مجموعہ دیون کتنے ہیں بھئی یہ سارے جمع کرو ان کے قرضے؟ 30۔ تو اوپر تصحیح کی جگہ پر لکھیں دیون 30 بھئی، دیون 30۔ اچھا اب نیچے کچھ جگہ چھوڑ دینا بھئی جہاں ہم نے ہر ایک کا حصہ لکھنا ہے، اس کے نیچے لکھیے، اب سیدھا سیدھا ضابطہ لگائیں گے۔ ترکے میں سے زید کا حصہ۔ ترکے میں سے زید کا حصہ برابر ہے۔ بلکہ اوپر لکھ لیں، وقت نکا۔ جی؟ وقت۔ ہاں وقت پہلے نکال لیں ہم نے فارمولے میں وقت، وقت لکھنے ہیں تو 12 اور 30 بھئی دونوں کس سے تقسیم ہوتے ہیں؟ جی؟ 6 کے ذریعے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں بڑا عدد، بھئی بڑا عدد جو بڑے سے بڑا ہو۔ 6 کے ذریعے۔ 30 کو 6 سے تقسیم کیا کیا آیا؟ 5۔ یہ 5 وقت ہے یہ لکھ لیجئے۔ اور 12 کو 6 سے تقسیم کیا کیا آیا؟ جی؟ 2۔ تو 2 بھی لکھ لیں یہ ترکے کا وقت ہے۔ اچھا نیچے کیا لکھا؟ زید کا قرض برابر ہے 3۔ زید کا قرض برابر ہے یہ لکھیں یا نہ لکھیں بہرحال جلدی جلدی سوال کریں۔ ترکے میں سے زید کا حصہ برابر ہے ایک دفعہ وہ ضابطہ لکھ لیں، غریم کا قرض ضرب وقت ترکہ بٹا مجموعہ دیون کا وقت۔ غریم کا قرض ضرب وقت ترکہ بٹا مجموعہ دیون کا وقت۔ اب نیچے لکھیے برابر کی علامت ڈالیے، جی۔ اچھا کتنا قرض ہے زید کا؟ 3 ضرب کل ترکے کا وقت کتنا ہے؟ 2۔ 3 ضرب 2 بٹا 5 اور مجموعہ دیون کا وقت ہے 5۔ 3 ضرب 2 بٹا 5۔ کیا آیا؟ 6 بٹا 5۔ 6 بٹا 5 پھر تقسیم کیا تو کیا آیا؟ 1 صحیح 1 بٹا 5 یہ نکل آیا زید کا حصہ۔ احمد کا قرض برابر ہے 4۔ برابر ہے 4۔ نیچے لکھیے ترکے میں احمد کا حصہ برابر ہے۔ ترکے میں احمد کا حصہ برابر ہے 4 ضرب 2 بٹا 5۔ 4 ضرب 2 بٹا 5۔ کتنے کے برابر ہوا؟ 8، اہ جی؟ کیا آیا تھا؟ 4 ضرب 2 بٹا 5۔ 8 بٹا 5، 8 بٹا 5 اب 8 کو تقسیم کریں 5 سے۔ 1 صحیح 3 بٹا 5۔ 1 صحیح 3 بٹا 5 یہ احمد کا حصہ نکل آیا۔ نیچے لکھیے ترکے میں خالد کا حصہ بس جلدی جلدی۔ ترکے میں خالد کا حصہ، خالد کا قرض کتنا ہے؟ 6۔ 6 ضرب 6 ضرب 2 بٹا 5۔ برابر ہے 12 بٹا 5۔ 12 کو 5 سے تقسیم کیا، برابر ہے 2 صحیح 2 بٹا 5 یہ خالد کا حصہ نکل آیا۔ اچھا، آگے ترکے میں حامد کا حصہ برابر ہے۔ حامد کا کتنا حصہ؟ 9۔ تو باقی وہ ضابطہ اسی طرح لگے گا۔ 9 ضرب 2 بٹا 5۔ برابر ہے 18 بٹا 5۔ 18 کو 5 سے تقسیم کیا، 3 صحیح 3 بٹا 5 بھئی، 3 صحیح 3 بٹا 5۔ اچھا ترکے میں ساجد کا حصہ برابر ہے۔ کتنا ہے 8 ہے؟ باقی ضابطہ اسی طرح۔ 8 ضرب 2 بٹا 5۔ برابر ہے 16 بٹا 5۔ 16 کو 5 سے تقسیم کریں، 3 صحیح 1 بٹا 5۔ یہ ہر ایک کا حصہ نکل آیا۔ اچھا، اب پڑتال کیجیے اس کی بھئی۔ بھئی صحیح، زید کا حصہ کیا تھا؟ 1 صحیح 1 بٹا 5۔ اس سے پیچھے کیا تھا لکھا تھا؟ ہاں 6 بٹا 5۔ یہ جو صحیح سے پچھلے عدد ہیں نا یہ سارے لکھ لیں ہم نیچے وقت بن جائے گا۔ 6 بٹا 5 جمع 8 بٹا 5 جمع 12 بٹا 5 جمع 18 بٹا 5 جمع 16 بٹا 5۔ ذو العضاعف عقل سب کے نیچے 5 ہے تو ذو العضاعف عقل بھی کیا نکلے گا؟ 5۔ تو لمبی لکیر کھینچیے اور 5 اس کے نیچے لکھیے۔ اور سب کے نیچے 5 ہے تو اوپر یہی رقمیں آئیں گی کیونکہ 1 سے تقسیم ہو، ایک آئے گا تقسیم کرنے سے اور اس سے ضرب دیں گے تو یہی۔ اوپر کیا لکھیں گے؟ 6 جمع 8 جمع 12 جمع 18 جمع 16 بٹا 5۔ ان سب کو جمع کیجیے۔ 60 بٹا 5۔ 60 بٹا 5۔ زیادہ تیز تو نہیں میں چل رہا بھئی حساب؟ کر رہے ہیں ساتھ ساتھ؟ تو یہ 60 بٹا 5 آیا۔ 60 کو 5 سے تقسیم کریں برابر ہے 12۔ دیکھو یہ وہی کل ترکہ 12 دینار معلوم ہوا ہمارا حساب صحیح۔ اب ہار وارث کے، ہر غریم کے نیچے اس کا حصہ لکھ لو۔ زید کے نیچے 3 لکھا تھا اس کے نیچے لکھیں 1 صحیح 1 بٹا 5 دینار۔ 1 صحیح 1 بٹا 5 دینار۔ احمد کے نیچے 4 لکھا تھا اس کے نیچے لکھیے۔ 1 صحیح 3 بٹا 5 دینار۔ خالد کے نیچے 6 تھا اسی کے نیچے لکھیے 2 صحیح 2 بٹا 5 دینار۔ حامد کے نیچے 9 تھا اس 9 کے نیچے لکھیے 3 صحیح 3 بٹا 5۔ اور ساجد کا حصہ تھا 8 اس کے نیچے لکھیے 3 صحیح 1 بٹا 5 بھئی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو والامر واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 54 of 92