Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 35
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ہذا لمعرفة نصيب كل فرد، أما لمعرفة نصيب كل فريق منهم فاضرب ما كان لكل فريق من أصل المسألة في وفق التركَة ثم اقسم المبلغ على وفق المسألة إن كان بين التركَة والمسألة موافقة. بء اس سے پہلے ایک ایک وارث کا ہم حصہ نکالتے تھے، ایک ایک وارث کا اور دونوں صورتیں مصنف نے ذکر کیں کہ ایک ایک وارث کا حصہ تباین کی صورت میں کیسے نکالیں گے اور توافق کی صورت میں کیسے نکالیں گے۔ تو یہ وہ تو تھا ایک ایک وارث کا حصہ، مثلاً بیٹیاں تین ہیں تو ایک ایک بیٹی کو کتنا ملے گا، ہم نے یہ نکالا تھا اور اگر فریق کا حصہ نکالنا ہو، یعنی تینوں کا مشترکہ، تینوں بیٹیوں کو ملا کر ان کا اکٹھا ہی حصہ نکال دیں تو یہ کیا کہلائے گا؟ فریق کا حصہ۔ چچا پانچ ہیں، ایک ایک چچا کا نکالیں تو یہ ہے ہر وارث کا حصہ اور اگر پانچوں کا اکٹھا ہی نکال دیں، یہ پانچوں کو دینا ہے، تو اسے کیا کہیں گے ہم؟ فریق کا حصہ، یعنی جتنے بھی اس میں وارث ہوں، اس سے قطع نظر پورے گروپ کا اتنا حصہ بنے گا بھئی۔ تو وہ اج بیان کریں گے بھئی۔ اور پھر اس میں بھی دو صورتیں بنیں گی، تباین کی صورت میں کیسے ہر ہر فریق کا حصہ نکالیں گے اور توافق کی صورت میں کیسے مسئلہ نکالیں گے بھئی؟ تو بعینہ یہی طریقہ ہے بھئی، وہی طریقہ۔ پہلے کیا تباین کی صورت میں کیا ضابطہ لگاتے تھے آپ؟ ہر وارث کے سہام ضرب کل ترکَة بٹا تصحیح۔ تو اب صرف اتنا فرق ہوگا کہ ہر وارث کے سہام کے بجائے آ جائے گا ہر فریق کے سہام، ہر فریق کے سہام، تو ضابطہ لکھیے بھئی! تباین کی صورت پہلے لکھ لیجیے بھئی، تباین۔ تباین کی صورت میں فریقوں کا حصہ۔ جی، ضابطہ کیا لکھا؟ ہر فریق کے سہام، آگے ضرب کی علامت ڈالیے، آگے لکھیے: کل ترکَة اور اس کے نیچے لکیر کھینچ کر تصحیح لکھ دیجیے بھئی۔ تصحیح۔ کیا فارمولا بنا بھئی؟ ہر فریق کے سہام ضرب کل ترکَة بٹا تصحیح بھئی۔ آگے اب مثال لکھیے، مثال نمبر کون سی ہے؟ مثال نمبر 70۔ مثال نمبر 70۔ لکھیے بھئی، میت اسی طرح بنائیے: بنات ہیں سات بنات ہیں سات اور چچا ہیں پانچ بھئی، عمام پانچ ہیں بھئی۔ اچھا بھئی! بیٹیاں ہوں، اچھا کل ترکَة، یہ کون سی صورت ہم کر رہے ہیں؟ توافق۔ اچھا، چلیں کل ترکَة ہم بعد میں لکھتے ہیں بھئی، پہلے صورت بنا، پہلے تصحیح کر لیں پورے مسئلہ کی بھئی، پھر ہم کوئی تباین والا عدد لے آئیں گے جس میں کہ تصحیح میں اور اس میں کیا ہو؟ تباین ہو۔ جی، تو بیٹیوں کو ملتا ہے، کتنی بیٹیاں ہیں؟ سات۔ دو یا زیادہ بیٹیوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان۔ اور چچوں کو کتنا ملتا ہے؟ وہ عصبہ ہیں۔ تو صرف ثلثان آیا، تو ثلثان کے ہم نام عدد یعنی ثلاثہ سے مسئلہ بنائیں گے بھئی۔ تین لکھیے اوپر، تین میں سے دو، یعنی ثلثان جو ہے وہ مل جائے گا بیٹیوں کو تو بنات کے نیچے دو لکھیے بھئی۔ تین میں سے دو نکل گئے، کتنا رہ گیا؟ ایک، یہ ایک چچوں کا حصہ ان کے نیچے ایک لکھ لیجیے بھئی۔ اب بھئی ہم تصحیح کریں گے۔ بیٹیاں کتنی؟ سات۔ حصے کتنے؟ دو۔ سات اور دو میں کون سی نسبت؟ تباین کی۔ لہذا پہلا عدد رؤوس ہمارے پاس سات آ گیا، یہ الگ لکھیے، چچا کتنے؟ پانچ۔ حصہ کتنا ملا؟ ایک۔ پانچ اور ایک میں بھی تباین، تو اسی طرح پھر کیا کریں گے؟ عدد رؤوس الگ ہم پانچ لکھ لیں گے۔ پانچ بھئی۔ پھر سات اور پانچ میں نسبت دیکھی، کون سی نسبت؟ تباین کی تو ان کو آپس میں ضرب دے دیں گے۔ سات پنجے، سات پنجے 35 بھئی، تو 35 سے اب اصل مسئلہ کو ضرب دے دیں گے بھئی۔ 105، تو تین سے ضرب دی 35 کو 105 آیا، تو آگے تصحیح کی تا لکھیے، اس پر 105 لکھ لیجیے بھئی۔ 105 اور 35 تھا مضروب، اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ بنات کے حصے ہیں دو، اس کو 35 سے ضرب دیجیے بھئی۔ 70، تو دو کے نیچے 70 لکھ لیجیے۔ چچوں کا حصہ ہے ایک، اس کو بھی 35 سے ضرب دی تو 35 ہی آیا، تو ایک کے نیچے 35 لکھ لیجیے بھئی۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اچھا، مسئلہ کتنے سے بنا؟ 105 سے۔ بھئی اب کوئی ایسا ترکَة لے آئیں کہ 105 میں اور اس میں تباین ہو بھئی۔ 104 کر لیں بھئی۔ زیادہ غور کی ضرورت ہی نہیں، بس ایک کا فرق ڈال دیں، واضح بات ہے تباین ہے۔ تو ترکَة کتنا ہے؟ 104 دینار۔ اب دیکھیے بھئی، اب ہم نے ایک ایک بیٹی کا حصہ نہیں نکالنا، بلکہ سب بیٹیوں کا اکٹھا حصہ نکال دیں گے، یہ اس فریق کا حصہ ہے، یعنی بیٹیوں کا حصہ۔ اور ایک ایک چچا کا حصہ نہیں نکالنا بلکہ ساروں کا اکٹھا ہی نکال دیں گے بس یہ اس فریق کا حصہ ہے بھئی۔ اچھا، نیچے ہم نے سوال حل کرنا ہے، لیکن دوبارہ مسئلہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی کے نیچے ایک ڈیڑھ سطر خالی چھوڑ دیں۔ انہی کے نیچے ہم وہ لکھ دیں گے مقدار ترکہ کی مقدار لکھ دیں گے۔ لہذا نیچے اب لکھیے، ایک ڈیڑھ سطر چھوڑ کر۔ بنات کے سہام۔ بنات کے سہام۔ برابر ہے، کتنے ہیں بنات کے سہام؟ 70 بھئی۔ 70 لکھیے۔ اور اس کے نیچے اب لکھیے: ترکَة میں سے بنات کا حصہ۔ ترکَة میں سے بنات کا حصہ۔ آگے برابر کی علامت ڈالیے۔ اچھا، فارمولا لکھنے کی ضرورت نہیں، بھئی آپ کو سارا سمجھ میں آ چکا ہے۔ اب کیا کریں؟ وہ فارمولے کے مطابق رقمیں لکھیں بھئی، پہلے کیا تھا؟ فریق کے سہام ضرب کل ترکَة بٹا تصحیح۔ فریق کے سہام کتنے ہیں؟ 70 ضرب کل ترکَة کتنا ہے؟ 104۔ 70 ضرب 104 بٹا تصحیح کتنی ہے؟ 105۔ تو 70 ضرب 104 بٹا 105، یہ آ گیا ہمارے پاس۔ اب دیجیے بھئی ان کو اوپر والوں کو ضربیں دے دیں بھئی یا کٹ رہے ہیں کسی ایک سے؟ کس سے؟ 35 سے۔ 35 سے ٹھیک ہے، ہاں جتنے بڑے عدد سے کر لو، اتنا مختصر ہو جائے گا حساب بھئی۔ 35 سے 105 بھی تقسیم ہو رہا ہے نیچے والا اور اوپر والا 70 بھی تقسیم ہو رہا ہے۔ تو 35 سے 105 کو تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ تین۔ تو 105 کاٹ کر چھوٹا سا تین لکھ لیجیے۔ اور 70 کو 35 سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ دو۔ تو 70 کو کاٹ کر چھوٹا سا دو لکھ لیجیے۔ جی، اب اوپر کیا ہے کیا رہ گیا؟ 2 ضرب 104 بٹا تین۔ اچھا، اب ان کو ضرب دے دیں 104 کو دو سے۔ 208 بٹا تین آ گیا، 208 بٹا تین۔ اچھا، یہ 208 تین سے تقسیم ہوتا ہے؟ نہیں، 208 تین سے تقسیم نہیں ہوتا۔ چلیے پھر تصحیح کی صورت میں جتنا ہو سکتا ہے وہ تو لکھیے، اوپر والا عدد بڑا ہے، نیچے تین ہے۔ 69 صحیح 1/3 69 صحیح 1/3۔ اچھا، اب نیچے لکھیے: چچوں کے سہام۔ چچوں کے سہام برابر ہیں، کتنے ہیں بھئی؟ 35۔ چچوں کے سہام برابر ہیں 35۔ نیچے لکھیے: ترکَة میں سے چچوں کا حصہ۔ ترکَة میں سے چچوں کا حصہ۔ وہی فارمولا لگے گا، کیا آئے گا؟ 35 ضرب 104 بٹا 105۔ 35 ضرب 104 بٹا 105۔ اب یہ کسی ایک سے تقسیم ہوتے ہیں اوپر نیچے والے بھئی؟ 35 سے۔ 35 سے، ٹھیک ہے۔ 35 سے 105 کو تقسیم کیا تو کیا جواب آیا؟ تین۔ تو 105 کو کاٹ کر تین لکھیے۔ اور 35 سے 35 کو تقسیم کیا تو ایک آیا، تو 35 کو کاٹ کر ایک لکھ دیجیے۔ کیا آگیا اب؟ 104 ضرب 1/3 تو اس 104 کو ایک سے ضرب دی تو 104 ہی آیا۔ آگے برابر کی علامت ڈال کر لکھیے 104/3 104/3۔ اب 104 کو تین سے تقسیم کیجیے بھئی! 34 صحیح 2/3 تو یہ برابر ہوا 34 صحیح 2/3 بھئی۔ 34 صحیح 2/3۔ اچھا، اب پڑتال بھی کر لیں بھئی جلدی سے۔ کون کون سے دو حصے ہیں ہمارے پاس؟ 69 صحیح 1/3 جمع 34 صحیح 2/3۔ کیا لکھا؟ دو فریق ہیں نا؟ دو ہی دفعہ یہ تو دو ہی دفعہ لکھنا ہے، زیادہ نہیں بھئی۔ پہلا کیا لکھنا ہے؟ 69 صحیح 1/3 دوسرا 34 صحیح 2/3۔ اب ان کو صرف بٹا کی صورت میں لکھنا ہے۔ 69 کو نیچے والے عدد سے ضرب دیں اور اوپر والا اس میں جمع کر کے اوپر لکھ دیں اور نیچے والا اسی طرح نیچے لکھ دیں۔ کیا آیا؟ 208/3۔ ہاں، تو آگے برابر کی علامت ڈالیے 208/3 جمع 104/3۔ آگے پھر برابر کی علامت ڈالیے، ذو اضافکمل نکالیں بھئی! ہاں، ایک جیسے عدد ہیں تو وہی نکلے گا، تین۔ وہ ذو اضافکمل کی ایک لمبی لکیر کھینچیے، اس کے نیچے تین لکھیے۔ اچھا، اور جی؟ ہاں، دیکھیے پہلے پہلی پہلی رقم کیا ہے؟ 208/3 تو تین نیچے ہے، اس سے ذو اضافکمل کو تقسیم کیا۔ تین سے تین کو تقسیم کیا تو ایک آیا۔ اوپر والے 108 کو اس سے ضرب دے دی، کیا آیا؟ 208۔ 208 کو ایک سے ضرب دی تو 208 ہی آیا۔ تو وہ جو ذو اضافکمل کے اوپر جو لکیر کھینچی ہے اب اوپر لکھیں 208 جمع آگے آگے کیا آئے گا؟ 104 ہی آئے گا بھئی، 104 ہی آئے گا، وہی نیچے والے عدد سے ذو اضافکمل کو تقسیم کریں گے اور اوپر والے کو ضرب دیں گے۔ جی، جمع کیجیے۔ 312/3۔ 312/3۔ اب 312 کو تقسیم کریں تین سے، برابر ہے 104۔ دینار بھی کتنے تھے؟ 104۔ معلوم ہوا مسئلہ ہمارا صحیح ہے۔ بس اب کیا کیجیے؟ اوپر جو بیٹیاں تھیں، ان کے نیچے سہام کتنے تھے؟ 70۔ 70 کے نیچے لکھیے یہ ان کا حصہ کتنا ہے؟ 69 صحیح 1/3 69 صحیح 1/3 اور اس کے ساتھ لکھ لیں دینار بھی دینار بھی اور چچوں کا حصہ کتنا 34 صحیح 2/3 تو ٹھیک ہے چچوں کا حصہ نیچے لکھا تھا 35 بھئی ان کے نیچے اب اس 35 کے نیچے یہ لکھ لیں ان کا حصہ 34 صحیح 2/3 اور اس کے ساتھ لکھ لیں دینار بھی بھئی تاکہ اشتباہ نہ ہو بھئی اسی طرح پچھلے مسئلوں میں بھی یاد رکھنا جو جو حصے سہان کے نیچے جو ان کا ترکے میں سے حصہ نکالا تھا اس کے ساتھ دینار لکھ لیا کیجیے اس سے اشتباہ نہیں ہوگا بھئی یہ تھی تباین کی صورت توافق کی بھی ایک مثال کر لیجیے ہر فریق کا حصہ کیسے نکالیں گے جی اگلی مثال نمبر مثال نمبر بلکہ پہلے ضابطہ لکھ لیں بھئی توافق کی صورت میں فریق کا فریق کا حصہ اوپر لکھیے توافق کی صورت میں فریق کا حصہ نیچے ضابطہ کیا لگے گا بھئی توافق کی صورت میں ہر وارث کا حصہ ہم کیسے نکالتے تھے ہر وارث کے سہام ضرب وفق ترکہ بٹا وفق تصحیح بس اب ہر وارث کے سہام کی جگہ ہر فریق کے سہام کر دیں باقی وہی فارمولا لکھیے ہر فریق کے سہام ضرب وفق ترکہ بٹا وفق تصحیح بھئی وفق تصحیح اچھا بھئی اب آگے لکھیے کون سی مثال ہے مثال نمبر 71 بھئی مثال نمبر 71 اسی طرح میت بنائیے جددات ہیں سات اخوات عینی بھی ہیں سات عمام یعنی چچا بھی ہیں سات بھئی جددات بھی سات اخوات عینی بھی سات اور چچا بھی سات بھئی جددات کو کتنا ملتا ہے سدس یہ نوع ثانی میں سے اخوات عینی کو کتنا ملتا ہے ثلثان یہ بھی نوع ثانی میں سے چچوں کو کیا ملتا ہے وہ عصبہ ہیں بھئی تو دو حصے ائے ہمارے پاس ایک سدس ایک ثلثان چھوٹا کونسا ہے ان میں سے سدس چھوٹا ہے تو اسی کے ہم نام عدد یعنی ستہ یعنی چھ سے مسئلہ بنائیے بھئی چھ اوپر لکھیے چھ کا سدس کتنا ایک جددات کے نیچے ایک لکھیے چھ کا ثلثان کتنا چار اخوات عینی کے نیچے چار لکھیے بھئی اور جددات کو ملا ایک چھ میں سے اور اخوات عینی کو ملا چار چار اور ایک کتنا ہوا پانچ چھ میں سے پانچ نکل گئے کتنے رہ گئے ایک تو یہ چچوں کا حصہ ایک بھئی اچھا بھئی اب دیکھیے عدد رؤوس اور ان کے سہام میں دیکھیے ہر جگہ کسر ا رہی ہے تو عدد رؤوس اور ان کے سہام میں نسبتیں دیکھیں جددات کتنی سات حصے کتنے ملے ایک تو لہذا پہلا عدد رؤوس سات اگیا ہمارے پاس پھر اخوات عینی کتنی سات حصے کتنے ملے چار سات اور چار میں کون سی نسبت تباین تو لہذا یہ بھی سات اسی طرح لکھ لیں گے دوسرا عدد رؤوس چچا ہیں سات اور حصے ملے ایک سات اور ایک میں بھی تباین تو یہ ہمارے پاس عدد رؤوس کیا اگیا سات تو تین عدد رؤوس ائے ہمارے پاس تینوں کیا ہیں سات سات اور سات پھر کیا کریں گے یہ ان میں نسبت تماثل والی ہے پھر کیا کریں گے کسی ایک کو لے لیں گے تو ایک سات جو ہے اس کو ضرب دے دی کس سے مسئلہ بنایا تھا چھ سے چھ کو سات سے ضرب دی سات چھکے بیالیس تو اوپر تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر بیالیس لکھ لیجیے یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی نیچے ہر ایک کے حصے کو بھی مضروب یعنی سات سے ضرب دیں جددات کا حصہ کتنا ایک اس ایک کو سات سے ضرب دی سات آیا تو ایک کے نیچے سات لکھ لیجیے اخوات عینی کے حصے ہیں چار اس کو بھی سات سے ضرب دی سات چوکے اٹھائیس تو چار کے نیچے اٹھائیس لکھ لیا چچوں کا حصہ ایک ہے اس ایک کو بھی سات سے ضرب دی تو سات آیا تو ایک کے نیچے سات لکھ لیجیے بھئی یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی اب بھئی مسئلہ کس سے بنا بیالیس سے اور ہم کیا کرنا چاہتے ہیں توافق والی صورت بنانا چاہتے ہیں اب کیا کریں کوئی ایسا عدد لے آؤ کہ بیالیس اور اس میں توافق ہو بھئی تڑسٹھ لے آؤ میرا خیال ہے تڑسٹھ بھئی اکیس سے تینوں دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں یا نہیں ہو جاتے ہاں تو تڑسٹھ دینار ہیں ہمارے پاس تو مسئلہ بنا بیالیس سے اور دینار کتنے تھے مثلا توافق والی صورت بنانی ہے نا کوئی بھی صورت آپ بنا سکتے ہیں تو تڑسٹھ دینار ہیں بھئی اچھا اب نیچے لکھیے بھئی اب ہم نے ہر ایک کے حصہ ہر فریق کا حصہ نکالنا ہے جددات کے سہام برابر ہیں برابر ہیں سات بھئی جددات کے سہام ہوئے سات اور ترکے میں سے جددات کا حصہ نیچے لکھیے ترکے میں سے جددات کا حصہ برابر ہے آگے وہ فارمولے پر لکھنے کی ضرورت نہیں بس رقمیں لگا دیں جددات کے سہام کتنے پہلے وقت تو دونوں کے نکال لیں حمدللہ بھئی بیالیس ہے مسئلہ تصحیح بیالیس ہے تصحیح اور تڑسٹھ ہیں دینار یعنی ترکہ تو بیالیس اور تڑسٹھ یہ کس سے تقسیم ہو جاتے ہیں دونوں اکیس سے تو اکیس سے بیالیس کو تقسیم کیا کیا جواب آیا دو یہ ہے وقت بھئی تصحیح کا یہ لکھیں الگ بھئی دو اور تڑسٹھ کو اکیس سے تقسیم کیا تین آیا یہ ہے ترکے کا وقت بھئی ترکے کا وقت اچھا اب آئیے نیچے فارمولا کیا لگا رہے تھے جددات کا حصہ نکال رہے تھے تو جددات کے سہام کتنے سات ضرب وقت ترکہ ترکے کا وقت کتنا تین اور بٹا وقت تصحیح تصحیح کا وقت کیا دو سات ضرب تین بٹا دو آگے برابر کا نشان لگائیے کیا آیا سات تیہ اکیس اکیس بٹا دو اکیس بٹا دو اب اس کو صحیح کی صورت میں لکھیے دس صحیح ایک بٹا دو برابر ہے دس صحیح ایک بٹا دو اچھا آگے کس کا حصہ ہے اخوات عینی کے سہام اخوات عینی کے سہام برابر ہیں اٹھائیس بھئی اٹھائیس اب نیچے لکھیے اخوات عینی ترکے میں سے اخوات عینی کا حصہ ترکے میں سے اخوات عینی کا حصہ جی برابر ہے آگے وہ رقمیں فارمولے کے مطابق لگا دیجیے کیا ہوگا اٹھائیس ضرب تین بٹا دو ہاں اٹھائیس ان کے سہام ہیں ضرب وقت ترکہ یعنی تین بٹا وقت تصحیح یعنی دو اٹھائیس ضرب تین بٹا دو اچھا کوئی کٹ رہا ہے اوپر نیچے بھئی دو ہے نیچے اور اوپر کیا تھا ایک طرف اٹھائیس یہ دونوں کٹ رہے ہیں بھئی تو دو دو سے دو سے تقسیم ہوتے ہیں نیچے والے دو کو دو سے تقسیم کیا تو ایک آیا اس کو کاٹ کر ایک لکھیں اٹھائیس کو بھی دو سے تقسیم کیا تو چودہ آیا اس کو کاٹ کر اوپر چودہ لکھیں جی نیچے تو ایک آ گیا اچھا کیا برابر کا نشان ڈالیں آگے اوپر کیا رہ گیا چودہ ضرب تین رہ گیا چودہ تیہ بیالیس بیالیس بٹا ایک لکھیں بیالیس بٹا ایک اور نیچے ایک تو لکھتے نہیں ہیں لہذا آگے پھر برابر کی علامت ڈال کر بیالیس لکھ دیجیے بھئی بیالیس یہ کس کا حصہ اخوات عینی کا چچوں کا حصہ بھی ہم نے نکالنا ہے بھئی جددات کو بھی ایک ملا تھا اور چچوں کو بھی ایک تو جددات کا حصہ کتنا نکلا دس صحیح ایک بٹا دو تو چچوں کا بھی لازمی بات ہے یہی نکلے گا آپ بے شک فارمولا لگا کر دیکھ لیں تو نیچے لکھ لیجیے بھئی ترکے میں سے چچوں کا حصہ ترکے میں سے چچوں کا حصہ برابر ہے دس صحیح ایک بٹا دو دس صحیح ایک بٹا دو پڑتال بھی کریں گے لیکن پڑتال تو یہاں خود ہی ہو رہی ہے بھئی کیا جددات کا حصہ کتنا دس صحیح ایک بٹا دو کا کیا مطلب ہے ساڑھے دس اچھا ساڑھے دس ان کا حصہ ہوا اور چچوں کا حصہ بھی کتنا ساڑھے دس ساڑھے دس اور ساڑھے دس کتنے ہو گئے اکیس ہو گئے اور بہنوں کا حصہ کتنا بیالیس اکیس اور بیالیس کتنا ہوا تڑسٹھ دیکھو بھئی معلوم ہوا مسئلہ ہم نے صحیح نکالا جی تو اب یہ جو ہر ایک کے حصے ہیں اوپر جو مسئلہ بنایا تھا ان کے نیچے حصے لکھ دیں بھئی جددات کے نیچے لکھیے دس صحیح ایک بٹا دو دینار بھئی اخوات عینی کے نیچے لکھیے بیالیس دینار چچوں کے نیچے لکھیے دس صحیح ایک بٹا دو دینار بھئی صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح جی دیکھیے اب کتاب پر بھی دیکھ لیجیے صرف ترجمہ ہے کہتے ہیں یہ جو ہے یہ ہر فرد کا کے حصے کو جاننے کے لیے ہے یعنی ابھی تک جو ہم نے کہتے ہیں بیان کیا وہ کس لیے تھا ہر فرد کے حصے کو جاننے کے لیے تھا باقی جاننے کے لیے ہر ان میں سے ہر فریق کے حصے کو فضلبی من اصل المسألت تو پھر آپ ضرب دیجیے وہ جو ہر فریق کا حصہ ہے اصل مسئلہ میں سے ہر فریق کا حصہ ہے دیکھو یہ وہ فارمولا آ رہا ہے بھئی کس میں ضرب دیں فی وفق الترکۃ کس کے اندر ترکے کے وقت میں ثم اقسم المال علی وفق المسألت پھر تقسیم کیجیے حاصل ضرب کو علی جمیع المسألت کس پر جمیع مسئلہ یعنی تصحیح کے ساتھ پورا جس سے مسئلہ بنایا تھا اس سے تقسیم کیجیے فالخارج نصیب ذالک الفریق فی الوجهین تو حاصل قسمت جو ہے وہ حصہ ہوگا اس فریق کا دونوں صورتوں میں یعنی توافق کی صورت میں بھی اور تباین کی صورت میں بھی جی مسئلہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا کوئی مشکل تو نہیں بھئی سمجھ میں آیا تو انہوں نے اوپر یہ تو کہا کہ توافق کی صورت میں اس کو تقسیم کرو تباین کی صورت میں اس کو تقسیم کرو لیکن پھر خارج کیا آئے گا اس کے بارے میں بات نہیں کی تھی وہ آخر میں آ کر دونوں کی اکٹھا بات بیان کر دی کہ فالخارج جو حاصل قسمت ہوگا تقسیم کے بعد جو آئے گا وہ نصیب ذالک الفریق وہ اس فریق کا حصہ ہوگا فی الوجهین دونوں صورتوں میں بھئی چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام
92 approved lectures · 53 of 92