Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! کل ہم نے فصل شروع کی تھی جس میں یہ بتایا جائے گا کہ وارثوں کے اندر ترکہ کیسے تقسیم ہوگا۔ یعنی ترکے میں سے پہلے تو ہم حصے نکالتے تھے، اب اگر ترکے کی مقدار بتا دی جائے کہ اس میں سے ہر ہر وارث کو کتنا ملے گا، تو اس کا طریقہ ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ جی کہاں تک ہم پہنچے تھے؟ بھئی دیکھیے، سب سے پہلے تماثل والی صورت بیان ہوئی تھی کہ اگر تصحیح اور جو ترکے کی مقدار ہے، اس کے اندر تماثل ہو، پھر تو کوئی حساب وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں۔ جتنے سہام جس جس فریق کے ہیں، اتنا اتنا ان کو ترکے میں سے مل جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا قانون ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا کہ اگر تصحیح اور کل ترکے کے درمیان تباین ہو، تو پھر کیا کریں گے؟ ضابطہ کیا لگائیں گے؟ وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح بھئی۔ اور پھر اس پر صورت بنائی تھی کہ دو بیٹیاں ہیں اور ماں باپ ہیں، اور کل ترکہ ہے سات دینار بھئی۔ تو مسئلہ بنا تھا چھ سے، جس میں سے بیٹیوں کا حصہ چار، ماں کا حصہ ایک اور باپ کا حصہ بھی ایک۔ تو مسئلہ چھ سے بنا اور ترکہ ہے سات دینار، چھ اور سات میں تباین ہے بھئی تباین۔ تو اب یہ ضابطہ لگے گا بھئی۔ تو سب سے پہلے ہم نے اب بیٹی کے حصے نکالنا شروع کیے، اس کا کتنا حصہ بنے گا بھئی؟ ایک ایک بیٹی کا حصہ بھئی۔ بیٹیوں کو چار ملا، تو ایک بیٹی کے سہام کتنے ہوئے؟ دو بھئی۔ اس کے بعد لکھا تھا ترکے میں سے ایک بیٹی کا حصہ۔ اور آگے میں نے بتلایا تھا برابر کا نشان ڈالیے اور پھر وہ ضابطہ لکھ لیجیے دوبارہ یہاں۔ کیا تھا ضابطہ؟ وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح بھئی، تصحیح۔ جی، اب اس کے نیچے یہ جو برابر کے نشان ہے، اسی کے نیچے والی لکیر میں اسی کے نیچے ایک اور برابر کا نشان ڈالیں بھئی۔ جو آپ نے برابر کا بھئی ترکے میں سے ایک بیٹی کا حصہ، اس کے آگے آپ نے برابر کا نشان ڈالا تھا، اسی کے برابر والے کے نشان کے نیچے والی لکیر میں برابر کا نشان ڈالیں۔ وہ فارمولا ہم نے اوپر والی لائن میں لکھا ہے نا، تو اسی کے نیچے ہم نے اب عدد لکھنے ہیں۔ برابر کا نشان ڈال لیا بھئی؟ اب دیکھیے، وہ فارمولے پہ عدد رکھ دیجیے۔ وارث کے سہام بھئی، بیٹی کا حصہ نکال رہے ہیں، اس کے کتنے سہام ہیں؟ دو۔ دو کے ساتھ پھر اسی طرح ضرب کا نشان ڈالیے اور پھر کل ترکہ کتنا تھا؟ سات، تو دو ضرب سات۔ اور بٹا تصحیح، تصحیح کتنی ہے؟ چھ، تو دو ضرب سات بٹا چھ۔ دو ضرب سات بٹا چھ۔ جی، اب اس کو آگے حل کریں، برابر کا نشان ڈالیے۔ سات کو دو سے ضرب دی، چودہ۔ تو چودہ بٹا چھ آگیا بھئی۔ چودہ بٹا چھ۔ اب یہ کسی ایک عدد سے دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں بھئی؟ ہاں، تو یہی کاٹ دیجیے ان کو۔ دو سے دونوں تقسیم ہوتے ہیں۔ چھ کو دو سے تقسیم کیا تو تین آیا بھئی، تو چھ کو کاٹ کر تین لکھ دیجیے، لکھ لیجیے چھوٹا سا بھئی۔ اور دو سے ہی چودہ کو تقسیم کیا تو سات جواب آیا، تو چودہ کو کاٹ کر اس کے ساتھ چھوٹا سا سات لکھ لیجیے۔ آگے برابر کا نشان ڈالیے۔ اب کیا رہ گیا؟ سات بٹا تین رہ گیا بھئی، سات بٹا تین۔ اب اس کو صحیح کی صورت میں بھی ہم لکھ سکتے ہیں کیونکہ اوپر والا عدد بڑا ہے۔ تو ذرا سات کو تین سے تقسیم کیجیے بھئی۔ تین دونی چھ آیا، سات کے نیچے چھ لکھا اور کتنا باقی بچا؟ ایک۔ اچھا، تو آگے پھر برابر کا نشان ڈالیے۔ جو نیچے تھا اس کو نیچے ہی لکھ لیجیے، تین نیچے ہے، تین لکھا۔ باقی کتنا بچا؟ ایک، اس کو اوپر لکھا اور جو حاصلِ قسمت ہے اس کو بائیں طرف ساتھ لکھا۔ دو صحیح ایک بٹا تین آگیا۔ یہ ہے ایک ایک بیٹی کا حصہ بھئی۔ ایک بیٹی کا حصہ بھی دو صحیح ایک بٹا تین، دوسری بیٹی کا حصہ بھی دو صحیح ایک بٹا تین دینار بھئی۔ دو صحیح ایک بٹا تین کا کیا معنی؟ دو پورے دینار دیں گے اور ایک بٹا تین تیسرے دینار کا ثلث دے دیں گے بھئی۔ تو دو دینار اور ایک ثلث دینار، یہ ایک بیٹی کا حصہ بھئی۔ جی، اب ماں کا حصہ نکالتے ہیں۔ آگے نیچے لکھیے بھئی، ماں کے سہام، ماں کے سہام، برابر کا نشان ڈالیے۔ کتنے ہیں سہام؟ ایک ہی ہے بھئی، اس کے آگے ایک لکھ لیجیے۔ نیچے لکھیے ترکے میں سے ماں کا حصہ۔ ترکے میں سے ماں کا حصہ، برابر ہے، وہی ضابطہ لکھیے: وارث کے سہام ضربِ کل ترکہ بٹا تصحیح۔ وارث کے سہام ضرب کا نشان ڈالیے، پھر کل ترکہ، اور نیچے لکیر کھینچ کر اس کے نیچے تصحیح لکھیے بھئی۔ وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔ جی، اب نیچے بھئی ہر ایک عدد لے کر آئیں گے اپنی جگہ پر۔ تو برابر کی جگہ برابر کی علامت ڈالیے نچلی سطر میں۔ سہام کتنے ہیں؟ ایک۔ ضرب کا نشان ڈالیں، پھر کل ترکہ کتنا ہے؟ سات، تو ایک ضرب سات۔ اور تصحیح کتنی ہے؟ چھ، تو ایک ضرب سات بٹا چھ۔ جی، سات کو ایک سے ضرب دی تو سات ہی آیا، تو آگے برابر کی علامت ڈال کر سات بٹا چھ لکھ دیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ سات بٹا چھ۔ اب سات اوپر والا عدد بڑا ہے تو اس کو ہم صحیح کی صورت میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ صحیح کی صورت میں کیا آئے گا بھئی؟ ایک صحیح ایک بٹا چھ بھئی، ایک صحیح ایک بٹا چھ بھئی۔ صحیح کی صورت میں لکھنا آتا ہے یا بھول گئے ہیں بھئی؟ جی، جو حاصلِ قسمت ہوتا ہے اس کو بائیں طرف لکھتے ہیں، اور جو باقی بچتا ہے اس کو اوپر لکھتے ہیں، اور جس سے تقسیم کیا تھا اس کو اسی طرح نیچے لکھ دیتے ہیں۔ تو ماں کا حصہ آیا ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ اچھا، باپ نیچے لکھیے، باپ کے سہام۔ باپ کے سہام کتنے ہیں بھئی؟ ایک ہی ہے، تو باپ کے سہام برابر ہے، برابر کی علامت ڈالیے اور ایک لکھ لیجیے۔ اس کے نیچے لکھیے ترکے میں سے باپ کا حصہ۔ بھئی، ماں کا حصہ ایک سہام سے تھا تو کتنا حصہ نکلا؟ ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ تو باپ کا بھی وہی حصہ نکلے گا، لازمی بات ہے۔ تو یہاں دوبارہ عمل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو وہی لکھ دیں، ایک صحیح ایک بٹا چھ بھئی۔ ترکے میں سے باپ کا حصہ ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا! ایک صحیح ایک بٹا چھ کا کیا معنی؟ ایک درہم پورا اور ایک بٹا چھ حصہ دوسرے درہم میں سے، یعنی چھٹا حصہ۔ چھٹا دینار میں سے بھئی، ایک دینار پورا اور ایک دینار کا چھٹا حصہ بھئی، چھٹا حصہ۔ اب دیکھیے، یہ چونکہ ذرا مشکل کام ہے، ایک کا حصہ نکلا دو صحیح ایک بٹا تین، دوسرے کا بھی نکلا دو صحیح ایک بٹا تین، ماں کا حصہ ایک صحیح ایک بٹا چھ، باپ کا حصہ ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ پتہ نہیں ہمارا حساب صحیح ہوا یا نہیں، غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ تو پھر اس کی پڑتال کر لیں، دیکھ لیں کہ ہم نے صحیح مسئلہ نکالا ہے یا نہیں بھئی۔ تو نیچے ذرا لکھیں بھئی، پڑتال لکھ لیجیے۔ پڑتال لکھیے۔ اب جو جو حصے نکالے ہیں ذرا ان کو ہم جمع کریں گے۔ بھئی، ایک بیٹی کا حصہ کتنا تھا؟ دو صحیح ایک بٹا تین، وہ لکھیے نیچے۔ دو صحیح ایک بٹا تین۔ جی، یہ تو ایک بیٹی کا ہے۔ اور کتنی بیٹیاں ہیں؟ دو، تو اس کے ساتھ جمع کی علامت لکھ کر دو صحیح ایک بٹا تین اس کے ساتھ اور لکھیں، یہ اس کے سامنے جمع کرنا ہے۔ اچھا، ماں کا حصہ کتنا ہے بھئی؟ ایک صحیح ایک بٹا چھ، وہ بھی اس کے ساتھ جمع کر کے لکھیے، جمع کی علامت ڈال کر۔ ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ باپ کا حصہ کتنا؟ وہ بھی ایک صحیح ایک بٹا چھ، وہ بھی جمع کی علامت ڈال کر ایک صحیح ایک بٹا چھ لکھیے بھئی۔ تو اب ہم نے اس کی پڑتال کرنی ہے۔ دیکھیے بھئی، دو صحیح ایک بٹا تین جمع دو صحیح ایک بٹا تین جمع ایک صحیح ایک بٹا چھ جمع ایک صحیح ایک بٹا چھ، یہ عدد ہمارے پاس۔ ان کو ہم جمع کریں گے تو جواب وہی سات دینار آنا چاہیے بھئی، سات۔ تو اس کا مطلب ہے ہمارا سوال ٹھیک ہے۔ اب بھئی یہ صحیح کی صورت میں ہیں، ان کو واپس بٹوں کی صورت میں لے جائیں۔ کیسے لے کر جاتے تھے؟ صحیح جو تھا، مثلاً کیا تھا؟ دو صحیح ایک بٹا تین۔ تو دو کو نیچے والے عدد سے ضرب دیں گے اور اوپر والا عدد جمع کر کے اوپر لکھ دیں گے۔ دو کو تین سے ضرب دی، چھ، اور اوپر والا ایک جمع کیا، سات، تو سات بٹا تین یہ ہو جائے گا۔ لہٰذا آگے برابر کی علامت ڈالیے۔ برابر کی علامت ڈال کر اب ساروں کو، سارے، ساری رقمیں ہم آگے لکھیں گے ساری کی ساری، لیکن ہر ایک کو بٹوں کی طرف لے جائیں گے بھئی۔ تو دو صحیح ایک بٹا تین سے کیا بن گیا؟ سات بٹا تین آگے لکھیں۔ برابر کی علامت ڈال کر پھر سات بٹا تین۔ پھر اس کے ساتھ جمع، اگلا عدد کیا تھا؟ دو صحیح ایک بٹا تین، اس سے بھی یہی بننا ہے۔ لہٰذا جمع سات بٹا تین ایک اور لکھ لیجیے۔ اچھا، اگلا عدد کیا تھا؟ ایک صحیح ایک بٹا چھ۔ تو ایک جو صحیح ہے اس کو نیچے والے عدد چھ سے ضرب دی، کتنا آیا؟ چھ۔ اوپر والے عدد کو اس میں جمع کیا، سات، تو سات اوپر لکھ دیں گے اور چھ نیچے ہی، سات بٹا چھ۔ تو سات بٹا کیا آرہا ہے آگے بھئی؟ سات بٹا تین آیا، جمع سات بٹا تین، جمع سات بٹا چھ۔ اور یہ تھا ماں کا حصہ۔ باپ کا حصہ بھی ہے، اس کو بھی اسی طرح ساتھ لکھ دیں، سات بٹا چھ وہ بھی اتنا ہی آئے گا۔ جی، کیا رقمیں آگئیں ہمارے پاس؟ ماشاءاللہ! سات بٹا تین جمع سات بٹا تین جمع سات بٹا چھ جمع سات بٹا چھ۔ اچھا، اب ان کے جمع کا طریقہ یاد ہے بھئی؟ کس طرح ان کا کیا نکالیں گے؟ ذواضعافِ اقل نکالیں گے بھئی۔ چھ، چھ، تین، تین، یہ لکھیے اور پھر دو سے تقسیم کیجیے ان کو بھئی۔ چھ، چھ، تین، تین۔ جی، دو سے تقسیم کیا بھئی۔ نیچے اب کیا آگئے؟ جو تقسیم نہیں ہوتا اس کو تو پورا اتاریں گے۔ چھ تو تقسیم ہو گیا دو سے، تو تین آیا۔ دوسرا چھ بھی تقسیم ہو گیا، وہ بھی تین آگیا۔ تین تقسیم نہیں ہوا اس کو اسی طرح اتار لیا۔ اگلا تین بھی تقسیم نہیں ہوا اس کو اسی طرح اتار لیا۔ تو کیا کیا، کیا آگئے نیچے؟ چار مرتبہ تین آگیا بھئی۔ اب اس کو کس سے تقسیم کریں؟ تین سے تقسیم کریں بھئی، سارے تقسیم ایک ایک ا جائے گا نیچے۔ تو بائیں طرف ہمارے پاس کیا آگئے؟ دو اور تین۔ دو اور تین کو ضرب دی کیا آیا؟ چھ۔ تو اب ذواضعافِ اقل چھ نکل آیا بھئی۔ اب اسی طرح آگے برابر کی علامت ڈالیے، ایک لمبی سی ذرا لکیر کھینچ کر اس کے نیچے چھ لکھ لیں۔ چھ لکھ لیا؟ اب کیا کرنا تھا؟ نیچے والے، جو بٹے ہیں، نیچے والے عدد سے ذواضعافِ اقل کو تقسیم کریں گے اور اوپر والے سے ضرب دے کر اس کو لکھ دیں گے بھئی۔ مثلاً بھئی، ہم نے کس کو لانا ہے سب سے پہلے؟ سات بٹا تین کو لانا ہے؟ سات بٹا تین میں سے نیچے ہے تین، اوپر ہے سات۔ نیچے والے تین سے ذواضعافِ اقل کو تقسیم کریں گے۔ ذواضعافِ اقل کیا تھا؟ چھ۔ چھ کو تین سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ دو۔ اس دو کو اب اوپر والے عدد یعنی سات سے ضرب دیں گے، کیا جواب آیا؟ چودہ۔ تو وہ جو آپ نے ذواضعافِ اقل لکیر کھینچ کر ذواضعافِ اقل نیچے لکھا، اس کے اوپر لکھیں چودہ۔ جمع کی ساتھ علامت لگائیں۔ جمع کی علامت ساتھ لگائیں بھئی۔ دوسرا بھی کیا تھا؟ سات بٹا تین، اس سے بھی یہی ہے، چودہ ہی آئے گا بعینہٖ۔ تو چودہ جمع چودہ۔ جی، آگے کیا تھا؟ سات بٹا چھ۔ نیچے کیا ہے؟ چھ۔ اس سے ذواضعافِ اقل کو تقسیم کیا، ایک آیا۔ اس ایک سے اوپر والے سات کو ضرب دی، کیا آیا؟ سات۔ تو چودہ جمع چودہ جمع سات سات لکھ دیں۔ اگلے میں بھی کیا ا جائے گا؟ سات ہی آئے گا، تو چودہ جمع چودہ جمع سات جمع سات بٹا چھ۔ اب ان کو اوپر والے سب کو جمع کریں بھئی۔ چودہ چودہ اٹھائیس اور چھ، سات، اٹھائیس اور سات پینتیس، پینتیس اور سات بیالیس۔ اچھا، کیا آگیا؟ بیالیس برابر ہے بیالیس بٹا چھ لکھیں آگے۔ اچھا، اب کسی ایک سے تقسیم ہوتے ہیں دونوں؟ ہاں، نیچے والے عدد سے اوپر والا پورا تقسیم ہو جاتا ہے، تو بیالیس کو چھ سے تقسیم کیا، کیا جواب آیا؟ برابر ہے سات بھئی۔ دیکھو یہ وہ سات دینار، معلوم ہوا ہمارا جو ہم نے مسئلہ حل کیا، تقسیم کی، وہ صحیح ہے بھئی۔ اچھا، اب دیکھیے، مسئلہ ہم نے نکال لیا، پڑتال بھی ہو گئی کہ صحیح ہے۔ اب ہم نے نیچے مسئلہ دوبارہ لکھنا ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ نیچے دوبارہ اسی طرح میت لکھیں ذرا۔ یہ تو آپ نے اپنا حساب کتاب کیا، آخری صورت واضح کہ دیکھتے ہی پتہ چل جائے بھئی کیا کیا ہے آپ نے۔ نیچے اسی طرح میت بنائیے، بنا لی بھئی؟ اچھا، ہم کیا کر رہے تھے، فریقوں کا حصہ نکال رہے تھے یا ایک ایک وارث کا؟ ایک ایک وارث کا، وارثوں کو الگ کر دو۔ بنتان ہم نے پہلے اکٹھا لکھا تھا، اب ایک بنت الگ لکھو، دوسری بنت الگ لکھو، ام الگ لکھو، اب الگ لکھو بھئی۔ بنت، پھر کچھ فاصلے پر بنت، پھر ام، ماں، اور پھر اب یعنی باپ بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، مسئلہ تو ہم بنا چکے بھئی۔ مسئلہ ہم نے کس سے بنایا تھا؟ چھ، چھ اوپر لکھ لیجیے۔ کل ترکہ بھی بائیں طرف لکھ لیجیے کوئی مسئلہ نہیں، یہ رہا آپ کا مکمل اور درست متن صرف رسم الخط (اردو/فارسی-عربی) میں، جہاں تمام غیر ضروری یا غلطی سے دہرائے گئے الفاظ کو صاف کر کے مناسب اور باہم مربوط پیراگراف بنا دیے گئے ہیں: پر بالمقتر کا 7 دینار۔ اچھا، بیٹیوں کا کل حصہ کتنا تھا اوپر پہلے؟ 4۔ 4 میں سے ایک بیٹی کا حصہ کتنا تھا؟ 2۔ تو ایک بیٹی کے نیچے 2 لکھیے۔ دوسری کے نیچے بھی 2 لکھیے۔ ماں کا حصہ 1 تھا، اس کے نیچے 1 لکھیے۔ باپ کے نیچے 1 لکھیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ سہام ہیں ہر ایک کے۔ اب وہ ان کے حصے نیچے لکھ لو۔ بیٹی کے سہام ہیں 2، اس کے نیچے لکھیں کتنا حصہ نکلا تھا بیٹی کا؟ 2 صحیح 1 بٹا 3، یہ اس کے نیچے لکھ دیں، 2 صحیح 1 بٹا 3۔ دوسری بیٹی کا حصہ بھی 2 صحیح 1 بٹا 3۔ ماں کا حصہ، ہاں تو اس ماں کے حصے کے نیچے 1 صحیح 1 بٹا 6 لکھیں اور باپ کے سہام ہیں 1، اس کے نیچے بھی لکھیے 1 صحیح 1 بٹا 6۔ یہ مسئلہ حل ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اگلی مثال، ایک اور مثال کر لیجیے بھئی، ایک اور مثال۔ کون سی مثال ہے یہ؟ مثال نمبر 67 بھئی۔ میت بنائیے، وارثوں میں لکھیے بنتان، دو بیٹیاں ہیں، بنتان۔ آگے لکھیے اخ، یعنی بھئی، اخ۔ اس سے آگے لکھیے اختان، یعنی دو بہنیں ہیں، اختان۔ اچھا بھئی، بیٹیاں ہوں تو ان کا حصہ کتنا ہوتا ہے؟ ثلثان۔ اچھا بھئی بہنوں کے ساتھ مل کر کیا بنتے ہیں؟ عصبہ بنتے ہیں، تو ان کی اخ اور اختان کے نیچے ایک لکیر کھینچ دیجیے بھئی۔ انہوں نے عصبہ بننا ہے۔ تو بھئی کتنی بہنوں کے برابر ہوتا ہے؟ دو کے برابر، اور بہنیں بھی دو، تو دو اور دو کتنے؟ 4۔ تو 4 یہاں عدد الرءوس ہے بھئی، 4 عدد الرءوس ہے۔ یہ یاد رکھیے گا بھئی، عدد الرءوس کتنا؟ 4۔ اچھا، تو یہ اخ اور اختان یہ تو ہیں عصبہ، اور بنتان جو ہیں ان کو دینا ہے دو ثلث، تو صرف ایک ہی حصے والا آیا، دو ثلث۔ تو اس کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنائیں گے بھئی۔ ثلثان کا ہم نام عدد کیا ہے؟ ثلاثہ یعنی 3۔ 3 سے مسئلہ بنائیے۔ 3 میں سے دو ثلث کتنا ہوگا؟ 2، تو بیٹیوں کے نیچے 2 لکھ لیجیے۔ 3 میں سے 2 بیٹیوں کو دے دیے، باقی کتنا بچا؟ 1، تو وہ اس اخ اور اختان کے نیچے جو لکیر کھینچی ہے، اس کے نیچے درمیان میں 1 لکھ دیجیے بھئی۔ یہ ان کا حصہ ہو گیا۔ اب دیکھیے بھئی، بیٹیاں ہیں 2، حصے بھی ملے 2، یہاں کسر نہیں آ رہی۔ لیکن بھئی بہن جو ہیں ان کا عدد الرءوس ہے 4 اور حصہ مل رہا ہے 1، یہاں کسر آ رہی ہے۔ تو مسئلہ کی تصحیح کریں گے بھئی، ایک ہی جگہ کسر آئی۔ تو کیا کریں گے؟ 4 سے ہی اصل مسئلہ کو ضرب دے دیں گے۔ 4 کو 3 سے ضرب دی، 12 آیا۔ تصحیح کی ت لکھیے اور 12 اوپر لکھ دیجیے بھئی۔ تو 4 ہے مضروب، اس سے ہم نے ضرب دی ہے 3 کو۔ 4 سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں۔ بیٹیوں کا حصہ ہے 2، اس کو 4 سے ضرب دی کیا آیا؟ 8، 2 کے نیچے 8 لکھیے۔ اخ اور اختان کا حصہ ہے 1، اس کو بھی 4 سے ضرب دی، کیا جواب آیا؟ 4، تو 1 کے نیچے 4 لکھ لیجیے بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا ہاں بھئی، ترکہ تو ہم نے لکھا ہی نہیں، کل ترکہ بھی تو اوپر لکھیں۔ میت کے بائیں طرف اوپر 13 دینار بھئی، 13 دینار۔ 13 دینار، جی اب نیچے اسی طرح حل کرتے جائیں گے۔ بھئی، دو بیٹیوں کے حصے کتنے؟ 8، تو ایک بیٹی کے کتنے؟ 4۔ تو لکھیے، ایک بیٹی کے سہام برابر ہیں 4۔ ایک بیٹی کے سہام برابر ہیں 4۔ نیچے لکھیے، ترکے میں سے ایک بیٹی کا حصہ برابر ہے، وہی ضابطہ لگے گا بھئی۔ ضابطہ چاہے لکھنا چاہیں تو پورا ضابطہ لکھ لیں یاد دہانی کے لیے، کیا تھا؟ وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔ نیچے برابر کی علامت لگائیے، اب ہر ایک کی جگہ پر اس کا عدد لکھ دیجیے بھئی۔ وارث کے سہام کتنے ہیں یہاں بیٹی کے سہام؟ 4 ہیں۔ اچھا، 4 کو ضرب دینی ہے کل ترکے سے، کل ترکہ کتنا ہے؟ 13۔ تو 4 ضرب 13 بٹا، تصحیح کتنی ہے؟ 12۔ تو 4 ضرب 13 بٹا 12 آ گیا ہمارے پاس۔ 4 ضرب 13 بٹا 12۔ بھئی اگر کوئی کٹتا ہے تو یہی کاٹ دیں بھئی۔ 4 ایکم 4 اور 4 تیے 12، تو دیکھو اوپر والا 4 اور نیچے والا 12، یہ دونوں 4 سے پورے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اوپر والے 4 کو کاٹیے اس کے ساتھ 1 لکھ لیجیے۔ 4 تیے 12 ہے جی، تو 12 کو کاٹیے اور اس کے ساتھ 3 لکھ لیجیے بھئی۔ اب کیا آ گیا اوپر؟ 13 ضرب 1 رہ گیا اب، تو 13 ضرب 1 سے 13 ہی آیا، نیچے 3 ہے تو آگے برابر کا نشان ڈال کر 13 بٹا 3 لکھ دیں۔ 13 بٹا 3۔ اچھا، اب اس کو اوپر والا عدد بڑا ہے، صحیح کی صورت میں لکھیے بھئی۔ صحیح کی صورت میں لکھیں بھئی، 4 صحیح 1 بٹا 3 آیا بھئی، 4 صحیح 1 بٹا 3۔ یہ ہے ایک بیٹی کا حصہ۔ 4 صحیح 1 بٹا 3 کا کیا معنی؟ 4 پورے دینار اور پانچویں کا ثلث بھئی۔ اچھا، اب ہم نے نکالنے ہیں بھئی کے، نیچے لکھیے بھئی، بھئی کے سہام۔ اچھا بھئی، بھئی اور بہنوں کو کل کتنے حصے ملے؟ 4۔ 4 میں سے عدد الرءوس بھی کتنا؟ 4 ہے۔ تو بھئی کتنی بہنوں کے برابر؟ دو، تو اس کو کتنے مل جائیں گے؟ دو، اور ہر بہن کو ایک ایک۔ تو لہٰذا بھئی کے سہام برابر ہیں 2۔ بھئی کے سہام برابر ہیں 2۔ نیچے لکھیے، ترکے میں سے بھئی کا حصہ برابر ہے، اب وہی ضابطے والے عدد بس لکھ دیں، ضابطہ دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ کتنے حصے ہیں بھئی کے؟ 2 ضرب، ضرب کل ترکہ 13 بٹا تصحیح یعنی 12۔ 2 ضرب 13 بٹا 12۔ 2 ضرب 13 بٹا 12، بھئی اوپر نیچے والے میں سے کوئی تقسیم ہوتے ہیں یا کسی سے کٹتے ہیں بھئی؟ 2 سے ہاں، 2 سے اوپر والے 2 کو تقسیم کیا تو 1 جواب آیا، تو 2 کو کاٹ کر 1 لکھیے۔ اور 2 سے ہی 12 کو تقسیم کیا تو 6 جواب آیا، 12 کو کاٹ کر اس کے ساتھ چھوٹا سا 6 لکھ لیجیے۔ جی تو اوپر اب کیا رہ گیا؟ 13 ضرب 1، 13 ضرب 1 سے کیا جواب آیا؟ 13، تو آگے برابر کا نشان ڈالیے، 13 بٹا 6 آ گیا آگے بھئی۔ 13 بٹا 6۔ اس کو اب صحیح کی صورت میں لکھیں گے بھئی، 13 کو 6 سے تقسیم کریں بھئی، 2 صحیح 1 بٹا 6۔ بھئی میں تیز تو نہیں چل رہا؟ سب کو سمجھ میں آ رہا ہے؟ حساب حل ہو رہا ہے کہ میں آہستہ چلوں؟ کوئی ہیں جو کہتے ہیں آہستہ تو بتا دیں بھئی، یہ نہ ہو سوال سمجھ میں نہ آئے اور ہم تیز چلتے جائیں بھئی۔ ٹھیک رفتار سے چل رہے ہیں؟ چلو۔ اچھا جی، 2 صحیح 1 بٹا 6، یہ بھئی کا حصہ نکل آیا۔ اچھا، نیچے لکھیے، ایک بہن کے سہام، ایک بہن کو کتنا ملے گا؟ ایک ہی مل رہا تھا 4 میں سے، تو ایک بہن کے سہام برابر ہیں 1۔ نیچے لکھیے، ترکے میں سے ایک بہن کا حصہ، ترکے میں سے ایک بہن کا حصہ برابر ہے، وہی ضابطہ بھئی اس کے لگا دیں عدد سارے بھئی، کیا آئے گا؟ حصہ کتنا؟ 1، کل ترکہ کتنا؟ 13، 1 ضرب 13 بٹا تصحیح، تصحیح کتنی؟ 12، 1 ضرب 13 بٹا 12۔ کتنا آیا؟ آگے برابر کا نشان ڈالیے، 13 بٹا 12 آ گیا بھئی، 13 بٹا 12۔ اچھا، اب اوپر والا عدد بڑا ہے، اس کو صحیح کی صورت میں لکھیے۔ 1 صحیح 1 بٹا 12، 1 صحیح 1 بٹا 12۔ یہ بھئی ایک ایک وارث کا حصہ نکل آیا، ایک ایک وارث کا حصہ نکل آیا۔ اچھا بھئی، اب ہم پڑتال کریں گے بھئی، پڑتال لکھیے نیچےے۔ اچھا بھئی، بہن کا حصہ بیٹی کا حصہ کتنا تھا؟ 4 صحیح 1 بٹا 3، اور کتنی بیٹیاں ہیں؟ 2، تو لکھیے 4 صحیح 1 بٹا 3 جمع 4 صحیح 1 بٹا 3۔ جی، ساتھ جمع کریں، بھئی کا کتنا حصہ؟ ہاں تو جمع 2 صحیح 1 بٹا 6۔ ساتھ بہن کا کتنا حصہ؟ جمع 1 صحیح 1 بٹا 12، اور دو بہنیں ہیں تو دو دفعہ لکھیں، 1 صحیح 1 بٹا 12 جمع 1 صحیح 1 بٹا 12۔ تو یہ ہمارے پاس آ گئے سارے بھئی، کیا کیا آیا؟ 4 صحیح 1 بٹا 3 جمع 4 صحیح 1 بٹا 3 جمع 2 صحیح 1 بٹا 6 جمع 1 صحیح 1 بٹا 12 جمع 1 صحیح 1 بٹا 12۔ یہ کل رقمیں آ گئیں۔ اب ان کو صرف اس کی صورت میں لکھیں، بٹا کی صورت میں۔ نیچے والی لائن میں برابر کا نشان ڈال کر نیچے لکھ لیں بھئی، کافی رقمیں ہیں۔ 4 صحیح 1 بٹا 3 کیا کریں گے؟ 4 کو 3 سے ضرب دیں گے اور اوپر والا عدد جمع کر کے اوپر لکھ دیں گے۔ 4 تیے 12 اور ایک 13، 13 بٹا 3 اسی طرح نیچے آ جائے گا۔ 13 بٹا 3 جمع 13 بٹا 3 جمع، 2 ضرب 6 12 اور جمع 1 13، 13 بٹا 6 جمع 13 بٹا 12 جمع 13 بٹا 12۔ آ گئیں یہ رقمیں بھئی؟ کیا کیا آئیں؟ 13 بٹا 3 جمع 13 بٹا 3 جمع 13 بٹا 6 جمع 13 بٹا 12 جمع 13 بٹا 12۔ اب ذواضعاف عقل نکالیے بھئی، نیچے کیا کیا ہیں؟ 3، 3، 6، 12، 12۔ 12 آ گیا بھئی؟ جی، ذواضعاف عقل 12 آیا بھئی، تو نیچے لکیر کھینچ کر، برابر کی علامت ڈال کر ایک لمبی لکیر کھینچیے اور اس کے نیچے 12 لکھ لیجیے۔ اچھا بھئی، پہلی رقم کیا ہے؟ اوپر اوپر اس سے جن کا ذواضعاف عقل ہم نے نکالا؟ 13 بٹا 3، نیچے والا عدد ہے 3، اوپر ہے 13۔ 3 سے ذواضعاف عقل کو تقسیم کریں، جو جواب آئے اس کو اوپر والے عدد سے ضرب دیں۔ 3 سے 12 کو تقسیم کیا کتنا آیا؟ 4، 4 کو اوپر والے 13 سے ضرب دی، 52، تو اوپر 52 لکھیں بھئی۔ 52، دوسرا بھی 52 ہی آئے گا، وہ بھی یہی رقم ہے، 52 جمع 52۔ آگے کیا آئے گا بھئی؟ کیا تھا؟ 13 بٹا 6 ہے نا، 6 تو ذواضعاف عقل 12 کو 6 سے تقسیم کیا کیا آیا؟ 2، اور 2 کو پھر اوپر والے عدد 13 سے ضرب دی کیا آیا؟ 26۔ تو کیا تھا پیچھے عدد کیا لکھے تھے؟ 52 جمع 52 جمع 26۔ آگے 13 بٹا 12؟ ہاں، تو نیچے 12 کو 12 سے ذواضعاف عقل کو تقسیم کیا 1 آیا، 1 سے اوپر والے 13 کو ضرب دی تو 13 ہی آیا، تو جمع 13 جمع 13۔ یہ آ گیا بھئی 52 جمع 52 جمع 26 جمع 13 جمع 13 بٹا 12 بھئی۔ اچھا ان کو جمع کریں بھئی، 156 بٹا 12۔ اچھا، اب 156 کو ذرا 12 سے تقسیم کیجیے۔ برابر ہے 13۔ دیکھو یہ وہی 13 دینار بھئی، معلوم ہوا ہمارا حساب کا عمل صحیح تھا بھئی۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ اب دوبارہ وہ مسئلہ نیچے لکھیے بھئی، ہم نے ہر ایک وارث کے نیچے اس کا حصہ لکھنا ہے۔ میت بنائیے، میت بنائیے۔ اب الگ الگ لکھیے، بنت، آگے ایک اور بنت۔ لکھی دو بنت بھئی؟ آگے لکھیے اخ۔ اختان وہ بھی دو بہنیں ہیں، تو دونوں کو الگ الگ لکھیے اخت، اور پھر اخت۔ کیا کیا وارث بنے؟ بنت، بنت، اخ، اخت، اخت۔ اچھا، اب ان کے حصے جتنے جتنے حصے، اوپر مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ 3 سے، اور پھر تصحیح کس سے کی تھی؟ 12، وہ بھی لکھ لیجیے اوپر۔ کل ترکہ کتنا تھا؟ 13 دینار، وہ بھی بائیں طرف اوپر لکھ لیجیے، سارا مسئلہ بالکل اسی طرح کرنا ہے۔ اچھا، بیٹیوں میں سے بیٹیوں کا حصہ کتنا تھا؟ دونوں کا 8 تھا، ایک کا کتنا تھا؟ 4، تو ایک بیٹی کے سہام جو ہیں 4، اس کے نیچے لکھیے۔ دوسری بیٹی کے سہام بھی 4، وہ بھی اس کے نیچے لکھیے۔ بھئی کے کتنے سہام تھے؟ 2، تو بھئی کے نیچے 2 لکھیے۔ بہن کے کتنے سہام؟ 1، تو ایک بہن کے نیچے بھی 1 لکھیے، دوسری کے نیچے بھی 1 لکھیں۔ اب حصہ جو ہر ایک کا بنا، وہ بھی اس کے نیچے لکھیں گے بھئی۔ بیٹی کے سہام کتنے تھے؟ 4، اور حصہ کتنا نکلا؟ 4 صحیح 1 بٹا 3، تو 4 کے نیچے 4 صحیح 1 بٹا 3 لکھ لیجیے۔ دوسری بیٹی کے سہام بھی 4 صحیح 1 بٹا 3 ہیں، وہ بھی اس کے نیچے لکھ لیجیے۔ بھئی کا کتنا حصہ تھا؟ 2 صحیح 1 بٹا 6، تو بھئی کے سہام نیچے آپ نے لکھے 2، اسی کے نیچے لکھنے ہیں 2 صحیح 1 بٹا 6۔ بہن کا حصہ کتنا؟ 1 صحیح 1 بٹا 12، یہ بھی ایک ایک بہن کے نیچے لکھ لیجیے 1 صحیح 1 بٹا 12۔ تو یہ مسئلہ حل ہوا بھئی، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بھئی، بس کرتے ہیں، بس بھئی۔ ھذا ما المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
92 approved lectures · 51 of 92