فَصْلٌ فِي قِسْمَةِ التَّرِكَاتِ بَيْنَ الْوَرَثَةِ وَالْغُرَمَاءِ، إِذَا كَانَ بَيْنَ التَّصْحِيحِ وَالتَّرِكَةِ مُبَايَنَةٌ فَاضْرِبْ سِهَامَ كُلِّ وَارِثٍ مِنَ التَّصْحِيحِ فِي جَمِيعِ التَّرِكَةِ، ثُمَّ اقْسِمِ الْمَبْلَغَ عَلَى التَّصْحِيحِ، مِثَالُهُ: بِنْتَانِ وَأَبَوَانِ وَالتَّرِكَةُ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ۔
بھئی یہ فصل جو ہے اس میں یہ بیان کیا جائے گا کہ ترکہ کتنا کتنا ترکہ وارثوں میں کس طرح تقسیم ہوگا اور غرماء کے درمیان بھئی، غرماء جمع ہے غریم کی، قرض خواہ بھئی قرض خواہ۔
بھئی دیکھیے ابھی تک تو آپ نے جو مسائل حل کیے اس میں صرف اتنا بیان کرتے تھے آپ کہ کل ترکہ جتنا بھی ہے اس کے اتنے حصے کر لیے جائیں اور اتنے فلاں وارث کو دے دیں، اتنے فلاں وارث کو اور اتنے حصے فلاں وارث کو۔
لیکن کبھی کبھار مثلاً کوئی شخص آپ سے پوچھ لے کہ بھئی ترکہ ہے 15 لاکھ روپے، تو وارثوں میں ہر وارث کو کتنا کتنا ملے گا؟ تو ایک تو وہ آپ مسئلہ بناتے ہیں، تصحیح کرتے ہیں بھئی، اس میں تو صرف اتنا بیان ہوتا ہے کہ کل ترکے کے اتنے حصے کر لو، وہ جو تصحیح ہوئی، اتنے حصے کیا کر لیے جاتے ہیں کل ترکے کے، اور اس میں سے اتنے فلاں وارثوں کو دے دیں، اتنے فلاں کو اور اتنے فلاں کو۔
لیکن کبھی کبھار باقاعدہ وہ مقدار ترکے کی ذکر کرتے ہیں کہ ترکہ اتنا ہے، 5 لاکھ ہے یا 10 لاکھ ہے یا 15 لاکھ ہے، تو اب ہر ایک وارث کو کتنا کتنا دیں گے بھئی؟ تو وہ پھر مسئلہ بنانے کے بعد پھر مزید آپ کو عمل کرنا پڑتا ہے کہ کل ترکے کے مثلاً اتنے حصے جب مسئلہ بنایا آپ نے، جیسے ابھی تک بناتے آئے ہیں۔
مثلاً مسئلہ بنا کتنے سے؟ 24 سے مسئلہ بنا، اس میں سے اتنے اس کو دینے، اتنے اس کو اور اتنے اس کو، لیکن پھر آپ کو مزید عمل کرنا پڑتا ہے، وہ جو ترکہ ہے اس کے بھی باقاعدہ تقسیم حساب کر کے بتلانا پڑتا ہے، اس وارث کو اتنے ملیں گے اس میں 15 میں سے، اس حساب کے مطابق اور اس کو اتنے اور اس کو اتنے ملیں گے۔
یا اسی طرح قرض خواہ ہوتے ہیں کئی بھئی، مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا، اس نے زید کے بھی 5 لاکھ دینے ہیں، بکر کے 10 لاکھ دینے ہیں، عمر کے 20 لاکھ دینے ہیں، اور کل ترکہ ہے اس کا 5 لاکھ، تو اب وہ قرض خواہوں میں یہ پیسے تقسیم ہوں گے۔
اور قرض تو پورا ہوتا نہیں، ان میں بھی خاص تناسب سے تقسیم کرنا پڑے گا، جس کا قرضہ زیادہ تھا اس کو ذرا حصہ بھی زیادہ دیں گے، جس کا قرضہ کم ہے اس کو حصہ بھی کم ملے گا، قرضہ تو پورا تو نہیں ہو رہا لیکن بہرحال جتنا ہو رہا ہے، یہ تو اب سب کو تھوڑا تھوڑا جتنا ہو سکتا ہے وہ دے دیں گے، اور تو اسی میں سارا ترکہ ختم ہو جائے گا۔
لیکن بہرحال ہر ایک کو برابر تو نہیں دیں گے، کیونکہ زید کے تو مثلاً 5 لاکھ دینے ہیں، عمر کے مثلاً 10 لاکھ دینے ہیں، تو عمر کو زید سے دگنا حصہ دیا جائے گا، تو یہ کس طرح ہوگا اس فصل میں یہ بتلائیں گے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دیکھیے کہتے ہیں: فَصْلٌ فِي قِسْمَةِ التَّرِكَاتِ، یہ فصل ہے ترکوں کی تقسیم کے بیان میں، بَيْنَ الْوَرَثَةِ وارثوں کے درمیان، وَالْغُرَمَاءِ اور قرض خواہوں کے درمیان، غرماء جمع ہے غریم کی بھئی، قرض خواہ بھئی۔
إِذَا كَانَ بَيْنَ التَّصْحِيحِ وَالتَّرِكَةِ مُبَايَنَةٌ جی، یہ مباینت اور موافقت والی صورت ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
ایک صورت تماثل کی بھی ہے، فرض کریں فرض کریں، آپ مسئلہ بناتے ہیں اور مسئلہ بنایا مثلاً 24 سے، اور ترکہ بھی اتنا ہی ہے، مثلاً 24 دینار ہے، کتنا ہے؟ 24 دینار۔
پھر تو حساب کرنے کی ضرورت ہی نہیں، جس وارث کے، یرحمک اللہ، جس وارث کے جتنے حصے ہیں، اتنے ہی دینار بھئی، کیونکہ مسئلہ بھی بنایا 24 سے اور حصے، دینار بھی کتنے ہیں؟ 24 ہیں، تو وہ برابر پورے پورے تقسیم ہو جائیں گے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ وہ صورت ہے جب مسئلہ یعنی تصحیح، تصحیح کہیں جس سے ہم نے مسئلہ بنایا اس کو کیا کہیں گے؟ تصحیح۔
جب تصحیح اور ترکے میں تماثل کی نسبت ہو، تو وہاں کسی حساب کی ضرورت ہی نہیں بھئی۔
جب کس کے اندر؟ تصحیح میں اور کس کے اندر؟ ترکے میں، یعنی 24 ہی دینار ہیں، تو 24 تصحیح، 24 اور دینار بھی، تو ان دونوں میں جب تماثل کی نسبت ہے تو کسی حساب وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں، تو پہلے ہم تماثل کی ایک دو مثالیں کر لیتے ہیں، اس کے بعد پھر یہ جو کتاب میں انہوں نے مباینت والی اور موافقت والی صورتیں ذکر کیں وہ پھر کرتے ہیں بھئی۔
جی، تو اس کے لیے پہلے ایک مسئلہ لکھ لیجیے، صورت بنائیے اسی طرح میت بھئی بنائیے۔
ہاں مثال نمبر کتنی ہوگی؟ 64، مثال نمبر 64 لکھیے بھئی، ایک طرف اس کے ساتھ تماثل بھی لکھ لیجیے، پتہ لگے کہ یہ تماثل والی صورت ہے۔
مثال نمبر 64، میت بنائیے بھئی، ورثہ ہیں بھئی زوج ہے یعنی خاوند۔
جی آگے اس کے ہے ام یعنی ماں، اور اب یعنی باپ۔
جی زوج، ام اور اب، اب دیکھیے زوج جب اولاد نہ ہو تو اس کو کتنا دیتے ہیں؟ نصف بھئی، یہ نوع اول میں سے۔
اور ماں کو کتنا دیں گے؟ جی؟ ثلث ما بقیہ، بھئی دو ہی تو صورتیں تھیں اس میں کہ جب کیا ہو؟ باپ مع احد الزوجین آ جائے، تو ماں کو کتنا دیتے ہیں؟ ثلث ما بقیہ دیتے ہیں۔
اچھا، اور باپ کا کیا حصہ ہوگا؟ وہ صرف عصبہ بنے گا بھئی، کیا بنے گا؟ عصبہ بنے گا، ما بقیہ اس کو ملے گا بھئی، باپ کی حالتوں میں آپ غور کر لیجیے۔
اچھا بھئی، تو یہاں کیا آیا؟ نصف ہے زوج کا حصہ، اور ثلث ما بقیہ کس کا حصہ ہے؟ ماں کا، تو نصف آیا نوع ثانی کے ساتھ، تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے، چھ سے مسئلہ بنائیے بھئی۔
اچھا ہاں بھئی، کل ترکہ تو ہم نے لکھا ہی نہیں بھئی! یہ میت کے شروع کے کنارے پر آپ نے کیا لکھا اوپر؟ چھ، جس سے مسئلہ بنایا، اس کے دوسرے کنارے پر لکھ لیں، آخری کنارے پر، کل ترکہ چھ دینار۔
کل ترکہ چھ دینار۔
اچھا، اب ذرا پہلے مسئلہ بنا لیں بھئی، چھ سے مسئلہ بنایا، چھ میں سے نصف یعنی کتنا؟ تین، یہ زوج کا حصہ، زوج کے نیچے تین لکھیے بھئی۔
اچھا، چھ میں سے تین خاوند کو دے دیے، باقی کتنے بچے؟ تین، اور ماں کا حصہ بھی کتنا تھا؟ ما بقیہ کا ثلث، تو ما بقیہ، باقی کتنا ہے اس وقت؟ تین، اس کا ثلث کتنا بنے گا؟ ایک، تو ایک ماں کا حصہ، ایک ماں کے نیچے لکھیے بھئی۔
اچھا، چھ میں سے تین خاوند کو دے دیے، ایک ماں کو، تین اور ایک چار، باقی کتنے رہ گئے چھ میں سے؟ دو، تو یہ باپ کا حصہ، باپ کے نیچے دو لکھیے بھئی۔
دیکھیے خاوند بھی ایک فرد ہے، تین حصے ملے کسر نہیں، ماں ایک فرد، ایک حصہ ملا کسر نہیں، باپ ایک فرد ہے، دو حصے ملے یہاں بھی کسر نہیں، بس مسئلہ کی تصحیح ہو گئی بھئی، اسی سے مسئلہ چھ ہی سے بنے گا بھئی، تصحیح کی ضرورت ہی نہیں۔
تو یہی تصحیح ہے، یہاں یہ چھ ہی کیا ہے؟ تصحیح۔
اب دیکھیے مسئلہ بنایا چھ سے اور کل ترکہ کتنا ہے؟ چھ دینار، تو دونوں میں نسبت کون سی؟ تماثل کی، تو لہٰذا اب کچھ حساب کرنے کی ضرورت ہی نہیں، یعنی چھ دیناروں میں سے زوج کو کتنے دے دیں گے؟ تین دینار، ماں کو؟ ایک دینار، اور باپ کو؟ دو دینار بھئی، جی۔
اگلی مثال لکھیے بھئی۔
اگلی مثال، مثال نمبر؟ مثال نمبر 65۔
جی اسی طرح میت بنائیے۔
جی بنتانِ، یہ وارث ہیں بھئی بنتانِ، دو بیٹیاں ہیں۔
جی آگے امٌ، ماں، امٌ، اور ابٌ، یعنی باپ بھئی۔
یہ ہیں وارث بھئی، دو بیٹیاں ہیں اور ماں باپ ہیں۔
اچھا ترکہ بھی لکھ لیجیے بھئی، اسی آخری کنارے پر میت کے، ترکہ ہے یہاں بھی چھ دینار۔
ترکہ چھ دینار ہے۔
اچھا بھئی، دو بیٹیاں ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان۔ اچھا۔
ماں کو کتنا ملے گا؟ جی؟ اولاد ہو تو ماں کو سدس ملتا ہے۔
اور باپ سدس بھی ملے گا اور عصبہ بھی ہوگا۔ بیٹیاں ہیں صرف۔ بیٹا ہوتا تو وہ عصبہ بنتا، عصبہ تو بنانا ہے جب موجود ہے۔
تو لہٰذا بھئی، ایک تو کیا آیا؟ ثلثان اور سدس آئے دو۔ تو ثلثان اور سدس، یہ ایک ہی نوع کے ہیں۔ ان میں چھوٹا کون سا ہے؟ سدس۔ تو اسی کے ہم نام عدد یعنی ستہ سے، چھ سے مسئلہ بنائیں گے۔ چھ سے مسئلہ بنائیے بھئی۔
چھ کے دو ثلث دینے ہیں بیٹیوں کو، کتنا ہوا؟ چار۔ بیٹیوں کے نیچے چار لکھیے۔ چھ میں سے صرف سدس، چھٹا حصہ ماں کو دینا ہے، کتنا ہے؟ ایک۔ وہ ماں کے نیچے لکھ لیجیے ایک، بھئی۔ اور سدس ہی دینا ہے کس کو؟ باپ کو۔ باپ کے نیچے ایک لکھیے، بھئی۔
بھئی دیکھیے، بیٹیوں کو کتنے دیے؟ چار۔ ماں کو؟ ایک۔ اور باپ کو بھی؟ ایک۔ چار اور ایک اور ایک، یہ کتنے ہو گئے؟ چھ۔ کچھ باقی بچا؟ نہیں۔ اگر باقی بچتا وہ بھی ہم باپ کو دے دیتے، بھئی۔ لیکن باقی کچھ بچا ہی نہیں، بھئی۔
تو بیٹیوں کا حصہ چار، ماں کا حصہ ایک، باپ کا حصہ ایک۔ اب دیکھیے، مسئلہ بنایا یعنی تصحیح ہوئی مسئلے کی کس سے؟ چھ سے۔ اور ترکہ بھی کتنا؟ چھ۔ تو دیکھو تصحیح اور ترکے کے درمیان کون سی نسبت ہے؟ تماثل کی۔ لہٰذا یہاں حساب کی ضرورت ہی نہیں، بھئی۔ اسی کے مطابق ہر ایک کو دینار دے دیں گے۔
بیٹیاں ہیں چار۔ تو حصے کتنے، کتنے دینار ملیں گے؟ بیٹیوں کا حصہ کتنا؟ چار۔ تو ان کو دینار بھی کتنے ملیں گے؟ چار۔ ماں کا حصہ ایک، تو دینار بھی ایک۔ باپ کا حصہ ایک، تو دینار بھی ایک، بھئی۔
تو دو بیٹیوں کے چار دینار ہیں، تو ایک بیٹی کے کتنے دینار؟ دو دینار، بھئی۔ تو یہاں دیکھیے، حساب کی ضرورت ہی نہیں، ویسے ہی پتہ چل گیا۔ یہ وہ صورت تھی جب ترکے میں اور تصحیح کے اندر تماثل کی نسبت ہو۔
جی۔ اب اگر دونوں کے درمیان تباین کی نسبت ہو بھئی، تباین کی۔ وہ اب کتاب میں بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: إِذَا كَانَ بَيْنَ التَّصْحِيحِ وَالتَّرِكَةِ مُبَايَنَةٌ، جب تصحیح اور ترکے کے درمیان مباینت ہو، یعنی مباینت والی نسبت ہو۔
فَاضْرِبْ سِهَامَ كُلِّ وَارِثٍ، بھئی دیکھیے بھئی! یہاں دو صورتیں ذکر کریں گے کتاب کے اندر، ابھی سے آپ سمجھ لیجیے۔ ایک تو پہلی صورت ذکر کریں گے ہر ہر وارث کا حصہ کیسے نکالیں گے۔
یعنی بیٹیاں بھی پچھلے مسئلے میں کتنی تھیں؟ دو۔ یہ ایک فریق ہے، بنتانِ۔ یہ کیا ہے؟ اگر دونوں کا اکٹھا نکالیں، کتنے پیسے ملیں گے دونوں کو؟ تو یہ کہیں گے فریق کا حصہ ہے۔ اس کو کیا کہیں گے؟ اس میں چاہے وہ دو ہوں، چار ہوں، دس ہوں، ساروں کا اکٹھا نکالا، تو ہم کیا کہیں گے یہ کس کا حصہ ہے؟ یہ فریق کا حصہ ہے یعنی یہ دس ہیں یا 15 ہیں، ساروں کا اکٹھا یہ حصہ۔ اور اگر ایک ایک بیٹی کا نکالیں، اس کو کہیں گے ہر وارث کا یہ حصہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ ہر وارث کا یہ حصہ ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہر وارث کا حصہ ہے، بھئی۔
ہاں، تو اگر 10 یا 15 بیٹیاں ہیں، ان کا اکٹھا آپ نے حصہ نکالا تو یہ کیا کہیں گے؟ یہ فریق کا حصہ ہے ساروں کا ملا کے۔ اور اگر ایک ایک بیٹی کا حصہ نکالتے ہیں تو اس کو کہیں گے یہ ہر ہر اس فریق کے ہر ہر وارث کا حصہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ کتاب میں دونوں الگ الگ ذکر کریں گے۔ پہلے بتلائیں گے ہر ہر وارث کا حصہ کیسے نکالنا ہے۔ اس کے بعد آگے چل کر آپ کو بتائیں گے فریق کا حصہ کیسے نکالنا ہے۔ یعنی ایک ہی فریق میں چاہے 10 افراد ہیں، چاہے 15 ہیں، چاہے پانچ ہیں، ان سب کا اکٹھا نکالنا ہے تو وہ کیسے نکالیں گے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: إِذَا كَانَ بَيْنَ التَّصْحِيحِ وَالتَّرِكَةِ مُبَايَنَةٌ، جب تصحیح اور ترکے کے درمیان مباینت ہو۔ فَاضْرِبْ سِهَامَ كُلِّ وَارِثٍ، تو آپ ضرب دیجیے ہر وارث کے حصوں کو۔ دیکھا، ہر وارث کا ذکر آیا، ایک ایک فرد کا نکالیں گے، بھئی۔ ہر وارث کے حصوں کو آپ ضرب دیجیے مِنَ التَّصْحِيحِ، بھئی وارث کے حصے مِنَ التَّصْحِيحِ، کس میں سے؟ تصحیح میں سے، یعنی تصحیح کے بعد جو حصے بنے ہیں، اس کو ضرب دیں گے، بھئی۔ کس کے اندر ضرب دیں گے؟ فِي جَمِيعِ التَّرِكَةِ، پورے ترکے کے اندر اس کو ضرب دے دیں۔
ثُمَّ اقْسِمِ الْمَبْلَغَ، پھر آپ تقسیم کیجیے مبلغ یعنی حاصل ضرب کو۔ مبلغ، حاصل ضرب کو۔ اس کو تقسیم کیجیے عَلَى التَّصْحِيحِ، کس سے؟ تصحیح سے، بھئی تصحیح سے۔
مِثَالُهُ: بِنْتَانِ وَأَبَوَانِ، اس کی مثال جیسے دو بیٹیاں وَأَبَوَانِ اور والدین، بھئی یہ وارث ہوں۔ وَالتَّرِكَةُ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ، اور ترکہ کتنا ہو؟ سات دینار ہوں، سات دینار، بھئی۔
جی، اب لکھیے ذرا، بھئی۔ سب سے پہلے تو ان کا یہ جو قانون انہوں نے بتایا کہ جب مباینت ہو تو کرنا کیا ہے۔ ہر وارث کے حصوں کو ضرب دینی ہے سارے ترکے میں اور اس کو تقسیم کرنا ہے تصحیح کے ساتھ۔ تو یہ ضابطہ پہلے لکھ لیجیے، ضابطہ بھئی۔ تباین کا ضابطہ بھئی، یا تباین لکھ لیجیے، تباین کی صورت۔ اور پھر اس کے نیچے لکھیے: ضابطہ، ہر وارث کے حصے نکالنے کا ضابطہ۔ یوں لکھ لیجیے: ہر وارث کے حصے نکالنے کا ضابطہ۔
جی، اس کے نیچے اب وہ ضابطہ ہم لکھیں گے، بھئی۔ لکھیے: وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔ یہ وہ فارمولا ہم بنا لیں گے، بس اسی کو دیکھنا آپ کو فوراً پتہ چل جائے گا۔ وارث کے سہام، اس کے ساتھ آگے ضرب کا نشان لگائیے۔ ضرب کا نشان لگا لیا، بھئی؟ اس کے آگے لکھیے: کل ترکہ۔ جی، بٹا تصحیح۔ اس سارے کے نیچے لکیر کھینچ کر اس کے نیچے تصحیح لکھیے، بھئی۔ اس سارے کے نیچے لکیر لگائیں اور تصحیح لکھ دیجیے۔ تو کیا قانون ہوا ہمارے پاس؟ وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔ یہ فارمولا لگائیں گے اور فوراً اس وارث کا حصہ نکل آئے گا، بھئی۔
جی، آگے اب صورتِ مسئلہ بنائیے اسی طرح بھئی، بنتان و ابوان جو کتاب میں ذکر ہے اس کے لیے میت بنائیے۔ مثال نمبر کون سی؟ مثال نمبر 66، بھئی۔ میت بنائیے۔ اس کے نیچے لکھیے بھئی: بنتانِ۔ اور آگے امٌ، یعنی ماں۔ ابٌ، یعنی باپ، بھئی۔ یہ ہیں وارث، بھئی۔ دو بیٹیاں ہیں اور ماں باپ ہیں۔
اچھا، اور کل ترکہ کتنا بتایا کتاب میں؟ سات دینار۔ وہ بھی آخری کنارے پر میت کے اوپر لکھ لیجیے: کل ترکہ سات دینار۔ سات دینار۔
بھئی، یہ مثال وہی پیچھے والی ہے۔ اس میں کس سے مسئلہ بنایا تھا ہم نے؟ چھ سے، بھئی۔ چھ سے ہی مسئلہ بنائیے۔ ثلثان یعنی چار بیٹیوں کا حصہ، بیٹیوں کے نیچے چار لکھیے۔ ماں کے نیچے ایک اور باپ کے نیچے بھی ایک لکھیے، بھئی۔ لکھ لیا، بھئی؟
اب دیکھیے، بھئی! مسئلہ بنایا یعنی تصحیح ہوئی مسئلے کی کس سے؟ چھ سے۔ اور ترکہ کتنا ہے؟ سات دینار۔ تو چھ اور سات میں کون سی نسبت؟ تباین کی نسبت۔ تو یہ ہم تباین کی صورت کر رہے ہیں۔ اور کیا کر رہے ہیں؟ ہر وارث کے حصے نکالنے ہیں۔ اب ہم نکالتے ہیں ہر وارث کے حصے۔ نیچے لکھیے، بھئی: ایک بیٹی کے سہام۔ ایک بیٹی کے سہام۔
اوپر دیکھیں ذرا، بنتانِ، بیٹیوں کے کتنے حصے؟ چار۔ تو ایک بیٹی کا کتنا ہوگا؟ دو۔ تو لہٰذا، کیا لکھا آپ نے؟ ایک بیٹی کے سہام۔ آگے برابر کی علامت ڈالیے برابر کی، اور اس کے آگے لکھیے: دو۔ ایک بیٹی کا حصہ کتنا ہوا؟ دو۔ یہ تو سمجھ میں آ گیا یا نہیں آپ کو، بھئی؟ اچھا، اس کے نیچے لکھیے، نیچے لکھیے اب بھئی، اسی ایک بیٹی کے سہام کے نیچے لکھیں: ترکے میں سے ایک بیٹی کا حصہ۔ اب ہم وہ فارمولا لگائیں گے۔ ترکے میں سے ایک بیٹی کا حصہ۔
آگے برابر کا نشان ڈالیے، وہ فارمولا لکھیے، بھئی: وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح۔
وارث کے سہام ضرب کل ترکہ بٹا تصحیح، بھئی۔
چلیے، بقیہ کل کریں گے، بھئی۔ چلیے، ھذا ہو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔