Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل في معرفة التماثل والتداخل والتوافق والتباين بين العددين. تماثل العددين كون أحدهما مساويا لآخر، وتداخل العددين المختلفين أن يعد أن يعد أقلهما الأكثر أن يفنيه. أو نقووله وأن يكون أكثر العددين منقسما على الأقل قسمة صحيحة، قسمة صحيحة. أخ بھئی آج ہم دو عددوں کے درمیان جو نسبت ہوتی ہے اس کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ فصل في معرفة التماثل والتداخل والتوافق والتباين بين العددين. یہ فصل ہے دو عددوں کے درمیان تماثل، تداخل، توافق اور تباین کے جاننے کے بارے میں۔ آگے بھئی تصحیح کا باب آ رہا ہے۔ تصحیح کا باب۔ یاد رکھیے علم الفرائض کے اندر جب آپ وارثوں کے حصے دیتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہر وارث کو پورا پورا حصہ ملے، یعنی ان کے حصے میں کسر نہ آئے بھئی۔ ان کے حصے میں کسر نہ آئے۔ مثلاً تین بہنیں ہیں، ان کو آپ نے چھ میں سے کتنا دیا؟ ثلثان دیا تین بہنوں کو وہ کتنا بن گیا؟ چار۔ اب چار حصے چار دیے حصے اور بہنیں ہیں تین تو یہ پورا پورا ان میں تقسیم نہیں ہو سکتا۔ لازمی بات ہے سوا سوا یا اس کے لگ بھگ ہر ایک کو دینا پڑے گا۔ تو ان کے حصوں میں کسر آ رہی ہے، ٹوٹن آ رہی ہے اور یہ کسر اور ٹوٹن یہ علم الفرائض میں درست نہیں۔ اس کے لیے تصحیح کا باب آگے پڑھنے والے ہیں کہ کس طرح اس طرح کا حساب کیا جائے کہ پھر ہر ایک کو پورا پورا حصہ ملے بھئی۔ مثلاً ان تین بہنوں کو چار مل رہا تھا، اسی چار کو اگر ہم پھر بارہ کر دیں تو اب بارہ کو تین سے ضرب دے دیں گے تو بارہ ہو جائے گا، اور بارہ میں سے اب تین بہنوں کو کتنا کتنا دے دیں گے؟ چار چار پورا پورا حصہ ہر ایک کو مل جائے گا بھئی۔ تو علم الفرائض جو ہے یہ کسر اس میں کسر کی گنجائش نہیں جہاں کسر آ رہی ہو اس کو صحیح کرنا پڑے گا تو اس کے لیے باب التصحیح ہے بھئی۔ تو اور اس باب التصحیح میں جہاں حساب کتاب کا جاننا ضروری ہے وہاں اعداد کے درمیان نسبتوں کا جاننا بھی ضروری ہے کہ دو عدد جو ہیں ان میں کون سی نسبت ہے؟ تو جس نسبت ہوگی اس کے مطابق پھر آپ کو اس نسبت کا پتہ ہوگا تو حساب کتاب میں آسانی ہو جائے گی، جلدی کر سکیں گے بھئی۔ تو اس میں اس باب میں وہ نسبتیں بیان ہوں گی تو یہ گویا کہ تمہید ہے آنے والے تصحیح کے باب کے لیے۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ پھر یہاں ایک اور بات یاد رکھیے کہ یہ جو ایک ہے ایک، یہ علم الفرائض میں عدد نہیں کہلاتا۔ دو، تین، چار، پانچ، یہ تو سارے عدد ہیں لیکن ایک کو عدد نہیں کہتے بھئی، کیونکہ عدد کہتے ہیں مجموعہ حاشیَتین کے نصف کو۔ عدد کسے کہتے ہیں؟ مجموعہ حاشیَتین کے نصف کو۔ دو حاشیے جو ہیں، دو کنارے جو ہیں ان کو جمع کریں اور پھر ان کا نصف کہو تو یہ عدد ہے۔ بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مثلاً دیکھیے بھئی دو۔ دو کے نیچے کیا ہے عدد ہے؟ ایک اور اوپر کیا ہے؟ تین۔ تو یہ ایک اور تین حاشیَتین ہوئے دو کناروں پر ہوئے۔ ان کا مجموعہ کیا بن گیا؟ چار اور چار کا نصف کیا ہے؟ دو وہ درمیان میں دو عدد تو معلوم ہوا دو عدد ہے۔ مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہوگا تو وہ عدد ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ عدد ہی نہیں ہے۔ اسی طرح دیکھو تین بھئی۔ تین کے نیچے کیا ہے؟ دو اور تین سے اوپر کیا ہے؟ چار تو یہ دو اور چار حاشیَتین ہوئے۔ ان کو جمع کریں کتنا ہوا؟ چھ اور چھ کا نصف کتنا ہے؟ وہ ہی تین درمیان والا یہ دیکھو مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہے۔ کسی بھی عدد میں آپ دیکھیں اسی طرح ہوگا۔ پانچ کو دیکھ لیں، پانچ کے نیچے کیا؟ چار، پانچ کے اوپر کیا؟ چھ۔ چار اور چھ کو جمع کریں دس۔ دس کا نصف کیا ہے؟ پانچ معلوم ہوا پانچ عدد ہے کیونکہ یہ مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہے بھئی۔ لیکن ایک عدد نہیں اس لیے کہ ایک سے اوپر تو عدد ہے دو اور نیچے کوئی عدد ہی نہیں ہے بھئی، عدد بھی کوئی نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا تو یہ مجموعہ حاشیَتین کا نصف یہ تعریف اس پر صادق نہیں آ رہی اس لیے یہ عدد نہیں۔ تو دیکھیے کتاب پر بھئی، فصل في معرفة التماثل والتداخل والتوافق والتباين بين العددين یہ فصل ہے دو عددوں کے درمیان تماثل، تداخل، توافق اور تباین کے جاننے کے بارے میں۔ تماثل العددين كون أحدهما مساويا لآخر. بھئی تماثل یہ ہے کہ دو عدد بالکل ایک دوسرے کے مثل ہوں، ایک چار ہے تو دوسرا بھی چار، ایک پانچ ہے تو دوسرا عدد بھی پانچ، ایک عدد دس ہے تو دوسرا عدد بھی دس یعنی دونوں طرف ایک ہی جیسا عدد ہو تو ان میں نسبت ہے تماثل کی، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مثل ہیں اور یہ دونوں عدد متماثلین کہلائیں گے۔ کیا کہلائیں گے؟ متماثلین بھئی۔ سمجھ گئے بھئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں تماثل تماثل العددين، دو عددوں کا باہم ایک دوسرے کے مثل ہونا كون أحدهما مساويا لآخر وہ ہونا ہے دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے برابر بھئی کہ ایک عدد کیا ہو دوسرے کے برابر ہو ایک طرف بھی دس ہے دوسری طرف بھی دس ہے تو ایک عدد دوسرے کے برابر ہے۔ یہ رہا۔ اچھا بھئی و تداخل العددين المختلفين اور دو مختلف عددوں کا تداخل جو ہے وہ یہ ہے ان يعد أقلهما الأكثر أن يفنيه. یا نقووله وأن يكون أكثر العددين منقسما على الأقل قسمة صحيحة قسمة صحيحة. أخ بھئی آج ہم دو عددوں کے درمیان جو نسبت ہوتی ہے اس کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ فصل في معرفة التماثل والتداخل والتوافق والتباين بين العددين یہ فصل ہے دو عددوں کے درمیان تماثل، تداخل، توافق اور تباین کے جاننے کے بارے میں۔ آگے بھئی تصحیح کا باب آ رہا ہے۔ تصحیح کا باب یاد رکھیے علم الفرائض کے اندر جب آپ وارثوں کے حصے دیتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہر وارث کو پورا پورا حصہ ملے، یعنی ان کے حصے میں کسر نہ آئے بھئی۔ ان کے حصے میں کسر نہ آئے مثلاً تین بہنیں ہیں ان کو آپ نے ثلث چھ میں سے کتنا دیا؟ ثلثان دیا تین بہنوں کو وہ کتنا بن گیا؟ چار اب چار حصے چار دیے حصے اور بہنیں ہیں تین تو یہ پورا پورا ان میں تقسیم نہیں ہو سکتا۔ لازمی بات ہے سوا سوا یا اس کے لگ بھگ ہر ایک کو دینا پڑے گا۔ تو ان کے حصوں میں کسر آ رہی ہے، ٹوٹن آ رہی ہے اور یہ کسر اور ٹوٹن یہ علم الفرائض میں درست نہیں۔ اس کے لیے تصحیح کا باب آگے پڑھنے والے ہیں کہ کس طرح اس طرح کا حساب کیا جائے کہ پھر ہر ایک کو پورا پورا حصہ ملے بھئی۔ مثلاً ان تین بہنوں کو چار مل رہا تھا اسی چار کو اگر ہم پھر بارہ کر دیں تو اب بارہ تین سے ضرب دے دیں گے تو بارہ ہو جائے گا اور بارہ میں سے اب تین بہنوں کو کتنا کتنا دے دیں گے؟ چار چار پورا پورا حصہ ہر ایک کو مل جائے گا بھئی۔ تو علم الفرائض جو ہے یہ کسر اس میں کسر کی گنجائش نہیں جہاں کسر آ رہی ہو اس کو صحیح کرنا پڑے گا تو اس کے لیے باب التصحیح ہے بھئی۔ تو اور اس باب التصحیح میں جہاں حساب کتاب کا جاننا ضروری ہے وہاں اعداد کے درمیان نسبتوں کا جاننا بھی ضروری ہے کہ دو عدد جو ہیں ان میں کون سی نسبت ہے تو جس نسبت ہوگی اس کے مطابق پھر آپ کو اس نسبت کا پتہ ہوگا تو حساب کتاب میں آسانی ہو جائے گی، جلدی کر سکیں گے بھئی۔ تو اس میں اس باب میں وہ نسبتیں بیان ہوں گی تو یہ گویا کہ تمہید ہے آنے والے تصحیح کے باب کے لیے۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ پھر یہاں ایک اور بات یاد رکھیے کہ یہ جو ایک ہے ایک یہ علم الفرائض میں عدد نہیں کہلاتا۔ دو، تین، چار، پانچ یہ تو سارے عدد ہیں لیکن ایک کو عدد نہیں کہتے بھئی کیونکہ عدد کہتے ہیں مجموعہ حاشیَتین کے نصف کو۔ عدد کسے کہتے ہیں؟ مجموعہ حاشیَتین کے نصف کو۔ دو حاشیے جو ہیں، دو کنارے جو ہیں ان کو جمع کریں اور پھر ان کا نصف کہو تو یہ عدد ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مثلاً دیکھیے بھئی دو۔ دو کے نیچے کیا ہے عدد ہے؟ ایک اور اوپر کیا ہے؟ تین تو یہ ایک اور تین حاشیَتین ہوئے دو کناروں پر ہوئے۔ ان کا مجموعہ کیا بن گیا؟ چار اور چار کا نصف کیا ہے؟ دو وہ درمیان میں دو عدد تو معلوم ہوا دو عدد ہے۔ مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہوگا تو وہ عدد ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ عدد ہی نہیں ہے۔ اسی طرح دیکھو تین بھئی۔ تین کے نیچے کیا ہے؟ دو اور تین سے اوپر کیا ہے؟ چار تو یہ دو اور چار حاشیَتین ہوئے۔ ان کو جمع کریں کتنا ہوا؟ چھ اور چھ کا نصف کتنا ہے؟ وہ ہی تین درمیان والا یہ دیکھو مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہے۔ کسی بھی عدد میں آپ دیکھیں اسی طرح ہوگا۔ پانچ کو دیکھ لیں، پانچ کے نیچے کیا؟ چار، پانچ کے اوپر کیا؟ چھ۔ چار اور چھ کو جمع کریں دس۔ دس کا نصف کیا ہے؟ پانچ معلوم ہوا پانچ عدد ہے کیونکہ یہ مجموعہ حاشیَتین کا نصف ہے بھئی۔ لیکن ایک عدد نہیں اس لیے کہ ایک سے اوپر تو عدد ہے دو اور نیچے کوئی عدد ہی نہیں ہے بھئی، عدد بھی کوئی نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا تو یہ مجموعہ حاشیَتین کا نصف یہ تعریف اس پر صادق نہیں آ رہی اس لیے یہ عدد نہیں۔ تو دیکھیے کتاب پر بھئی فصل في معرفة التماثل والتداخل والتوافق والتباين بين العددين یہ فصل ہے دو عددوں کے درمیان تماثل، تداخل، توافق اور تباین کے جاننے کے بارے میں تماثل العددين كون أحدهما مساويا للآخر. بھئی تماثل یہ ہے کہ دو عدد بالکل ایک دوسرے کے مثل ہوں، ایک چار ہے تو دوسرا بھی چار، ایک پانچ ہے تو دوسرا عدد بھی پانچ، ایک عدد دس ہے تو دوسرا عدد بھی دس یعنی دونوں طرف ایک ہی جیسا عدد ہو تو ان میں نسبت ہے تماثل کی، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مثل ہیں اور یہ دونوں عدد متماثلین کہلائیں گے۔ کیا کہلائیں گے؟ متماثلین بھئی۔ سمجھ گئے بھئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں تماثل تماثل العددين دو عددوں کا باہم ایک دوسرے کے مثل ہونا كون أحدهما مساويا للآخر وہ ہونا ہے دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے برابر بھئی کہ ایک عدد کیا ہو دوسرے کے برابر ہو ایک طرف بھی دس ہے دوسری طرف بھی دس ہے تو ایک عدد دوسرے کے برابر ہے۔ یہ رہا۔ اچھا بھئی وتداخل العددين المختلفين اور دو مختلف عددوں کا تداخل جو ہے وہ یہ ہے أن يعد أقلهما الأكثر کہ شمار کر لے عدد ان دو میں سے جو أقل ہے اکثر کو، بھئی دو عدد بالکل ایک دوسرے کی طرح ہیں তো ان میں کون سی نسبت؟ تماثل۔ اور ایک عدد چھوٹا ہے، ایک عدد بڑا ہے تو یاد رکھیے جو چھوٹا ہے اس کو کہیں گے عدد أقل اور جو بڑا ہے اس کو کہیں گے عدد اکثر بھئی۔ چھوٹے کو عدد أقل، بڑے کو عدد اکثر۔ تو کہتے ہیں اب تداخل کے بارے میں بتلانے لگیں کہ دو مختلف عددوں کے تداخل جو ہے وہ یہ ہے کہ أن يعد أقلهما الأكثر کہ شمار کر لے جو عدد أقل ہے ان دو میں سے کس کو شمار کر لے؟ عدد اکثر کو بھئی، اس کو شمار کر لے أن يفنيه یعنی کہ اسے فنا کر دے، اسے ختم کر دے۔ مثلا آپ کے پاس دو عدد ہیں تین اور نو تو تین کیا کر سک کیا کر یہ نو کو پورا پورا شمار کر لیتا ہے، نو میں سے ایک دفعہ تین نکالیں چھ رہ گئے، پھر دوبارہ نکالیں تین تین رہ گئے، پھر تین نکالیں تو ختم ہو گیا عدد، تو یہ معنی ہے پورا اس کو شمار کر لے یعنی اس کو ختم کر دے۔ تو یہ معنی ہے أن يعد أقلهما الأكثر کہ شمار کر لے ان دونوں میں سے جو أقل ہے وہ اکثر کو أن يفنيه یعنی اسے فنا کر دے ختم کر دے پورے طور پر۔ بھئی یہ ہے تداخل، تداخل سمجھ میں آگیا؟ اب اس کی کئی تعبیرات کریں گے۔ ایک تعبیر تو یہ تھی کہ چھوٹا عدد کیا کر لے؟ بڑے عدد کو پورا پورا شمار کر لے دوسری تعبیر کریں گے یعنی چھوٹا عدد بڑے کو پورا پورا تقسیم کر دے، اس پر تقسیم ہو جائے نو کو تین سے تقسیم کریں تو تقسیم ہو جائے گا یا نہیں بھئی؟ پورا پورا تقسیم ہو جائے گی، کسر آئے گی؟ کسر نہیں آئے گی بھئی تو پورا پورا تقسیم تین تیا نو بھئی۔ پہاڑے یاد ہیں یا نہیں بھئی؟ ہاں پہاڑے آنے چاہیے، آگے تصحیح کا باب آ رہا ہے۔ تو پورا پورا تقسیم کر دے۔ تیسری تعبیر آگے ذکر کریں گے یا یہ کہ عدد أقل پر اسی کے مثل کو یا ایک مرتبہ یا کئی مرتبہ بڑھا دیں تو بڑا حاصل ہو جائے۔ مثلاً تین اور نو تھے، عدد أقل کیا ہے؟ تین۔ تین پر اسی کا مثل بڑھا دو، کتنا ہوا؟ تین اور تین چھ، اس پر پھر مثل بڑھا دو، نو ہو گیا دیکھو تو عدد أقل پر عدد اسی کا مثل یعنی عدد أقل ہی ایک مرتبہ یا زیادہ مرتبہ بڑھائیں، بڑھائیں تو کیا حاصل ہو جائے؟ عدد اکثر حاصل ہو جائے۔ مثلاً دیکھیے پندرہ اور پانچ ہے۔ عدد أقل کیا ہے؟ پانچ۔ اس پر عدد أقل ہی کو بڑھائیں بھئی، پانچ پر پانچ ہی بڑھائیں، کتنا ہوا؟ دس۔ پھر اس پر پھر بڑھائیں، پانچ بڑھائے تو پندرہ، دیکھو عدد أقل کس کے برابر ہو گیا؟ عدد اکثر کے۔ کبھی یہ تو دو دفعہ بڑھانے سے ہوا، کبھی زیادہ دفعہ بڑھانے سے ہوگا، کبھی کم مرتبہ بڑھانے سے جیسے پانچ اور دس۔ یہاں پانچ پر صرف ایک ہی مرتبہ پانچ کو بڑھائیں تو عدد اکثر کے برابر ہو جائے گا۔ کبھی ہوگا پچیس اور پانچ مثلاً بھئی، یہاں پر اس چار مرتبہ اس کے اوپر مزید عدد أقل پر عدد أقل کو بڑھائیں گے تو وہ پچیس بن جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ یا یہ مختلف تعبیریں اسی ایک کی کریں گے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے، یا ایک تعبیر یہ کریں گے کہ عدد أقل جز ہو عدد اکثر کا۔ عدد أقل کیا ہو؟ عدد اکثر کا جز ہو جیسے دیکھو تین نو کا جز ہے، کون سا جز ہے؟ نو کے کتنے جز کریں کہ ایک جز تین، ایک جز میں تین آئے؟ تین جز۔ معلوم ہوا یہ ثلث ہے نو کا، اس کا جز ہے۔ پچیس اور پانچ بھئی، یہ پانچ کیا ہے پچیس کا جز ہے، کون سا جز ہے؟ پانچواں جز ہے، پچیس کے پانچ جز کریں تو ایک جز میں کتنے آ جائیں گے؟ پانچ آ جائیں گے۔ تعبیرات سمجھ میں آگئیں بھئی؟ تو ایک ہی چیز ہے اور تو اور اس کو تداخل کہیں گے اور یہ جو دو عددین ہیں، یہ متداخلین کہلائیں گے متداخلین۔ تو تعبیرات مختلف ہیں۔ دیکھیے بھئی کہ تین چار تعبیرات کریں گے کہتے ہیں وتداخل العددين المختلفين أن يعد أقلهم أقلهم الأكثر أن يفنيه اور دو مختلف عددوں کا تداخل وہ یہ کہ شمار کر لے ان دو میں سے جو أقل ہے وہ اکثر کو أن يفنيه یعنی اسے فنا کر دے، اسے ختم کر دے أو نقووله وأن يكون أكثر العددين منقسما على الأقل قسمة صحيحة یا ہم کہتے ہیں وہ یہ کہ جو دو عددوں میں سے جو اکثر ہے وہ تقسیم ہونے والا ہو أقل پر قسمة صحيحة پورا پورا تقسیم بھئی۔ قسمۃ صحیحہ سے کیا مراد ہے؟ پورا پورا تقسیم ہو یعنی کسر وغیرہ نہ آئے بھئی۔ أو نقووله یا ہم کہتے ہیں وہ أن يزید على الأقل مثله أو أمثاله فيساوي الأكثرا وہ یہ کہ بڑھ جائیں بھئی، أقل پر اسی کا مثل بڑھ جائے ایک ہی مرتبہ أو أمثاله یا اس کے کئی مثل بڑھ جائیں، فيساوي الأكثرا تو وہ بڑے کے اکثر کے برابر ہو جائے بھئی۔ أو نقووله یا ہم کہتے ہیں وأن يكون الأقل جزئا للأكثر بھئی یہ مثلہ اور أمثاله سمجھ میں آیا؟ بعض مرتبہ ایک ہی مثل بڑھائیں گے تو بڑے کے برابر آ جائے گا مثلاً پانچ اور دس۔ پانچ پر ایک ہی دفعہ پانچ کو بڑھایا تو عدد اکثر کے برابر آ گیا اور بعض مرتبہ کئی مرتبہ بڑھانا پڑے گا جیسے پانچ اور پچیس، پانچ پر چار مرتبہ اور پانچ کو بڑھائیں گے تو پھر پچیس بنے گا۔ اور پہلے میں ایک ہی مرتبہ بڑھایا تھا تو وہ دس کے برابر ہو گیا تھا۔ أو نقووله یا ہم کہتے ہیں وأن يكون الأقل جزئا للأكثر کہ وہ عدد أقل جو ہے وہ جز ہو کس کا؟ عدد اکثر کا مثل ثلاثۃ و تسعۃ جیسے تین اور نو۔ تو یہ دو مختلف عدد ہیں اور ان میں تداخل کی نسبت ہے اور یہ متداخلین کہلائیں گے ان میں اور ان میں یہ چاروں تعبیرات درست ہیں، چاروں صورتوں میں آپ دیکھیں گے اسی طرح حل ہوگا بھئی۔ وتوافق العددين، جی اب توافق کے بارے میں بتلانے لگیں کہتے ہیں دو عددوں کا توافق جو ہے ألا يعد أقهما الأكثر۔ بھئی دیکھیے پہلے سمجھ لیجیے۔ دو عددوں میں توافق کی نسبت تب ہوگی، پہلی چیز دونوں برابر نہ ہوں۔ دونوں برابر ہوں تو کیا کہلائیں گے؟ متماثلین۔ پھر معلوم ہوا ایک عدد دونوں مختلف ہوں، پھر مختلف میں اگر دونوں ایک چھوٹا بڑے کو پورا پورا تقسیم کر دے تو یہ کون سی نسبت ہے؟ تداخل متداخلین۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، ایک عدد چھوٹا تو ہے اور ایک بڑا ہے، لیکن چھوٹے سے بڑا عدد پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا۔ البتہ ایک اور عدد، کوئی اور عدد ہے جو دونوں کو پورا پورا تقسیم کر دیتا ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ توافق کہیں گے اور یہ دو عدد متوافقین کہلائیں گے۔ مثلاً بھئی چھ اور آٹھ دیکھ لیں بھئی۔ چھ اور آٹھ۔ اب دیکھیے، چھ سے آٹھ پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا۔ تو ان میں تداخل نہیں ہے۔ یا تداخل کے اور کیا پڑھا تھا؟ کہ عقل پر عقل کو ہی بڑھا دیں تو کیا بن جائے؟ اکثر بن جائے۔ چھ پر چھ کو بڑھائیں تو یہ آٹھ بنا یا بارہ بن گیا؟ بارہ معلوم ہوا ان میں تداخل نہیں ہے۔ تو پھر پھر ان میں توافق بھی ہو سکتا ہے اور آگے تباین بھی آنے والا ہے، تباین بھی۔ توافق تب ہوگا جب کوئی اور عدد ان دونوں کو تقسیم کر دے۔ یہاں پر دو کے ذریعے آٹھ بھی تقسیم ہو جاتا ہے، دو چوکّے آٹھ بھئی چار سے ضرب دینے سے آئے گا اور چھ بھی تقسیم ہو جاتا ہے دو کے ذریعے دو تئے چھ بھئی۔ تو لہذا یہ پورا پورا تقسیم ہوا دو کے ذریعے چھ بھی اور آٹھ بھی اور کس کے ذریعے تقسیم ہوئے؟ دو اور دو نہ وہ عدد عقل ہے، نہ یہ عدد اکثر ہے، یہ تیسرا عدد آیا جس نے دونوں کو کیا کر دیا؟ پورا پورا تقسیم کر دیا تو یہ دونوں میں نسبت کون سی آئی؟ توافق کی اور یہ عدد کیا کہلائیں گے؟ متوافقین کہلائیں گے۔ اور اگر کوئی اور عدد تیسرا بھی ایسا نہیں جو ان دونوں کو تقسیم کر سکے تو پھر وہ متباينین کہلائیں گے۔ جیسے چار اور پانچ کو دیکھ لیں، سات اور آٹھ کو دیکھ لیں، سات اور آٹھ بھئی۔ سات سات پر سات اور آٹھ دونوں برابر نہیں معلوم ہوا ان میں یہ تماس کی نسبت نہیں۔ ایک چھوٹا عدد ہے ایک بڑا۔ اچھا، چھوٹے پر اسی کے مثل کو بڑھائیں سات پر سات بڑھائیں یہ تو چودہ بن گیا اس سے اوپر چلا گیا اس کے برابر نہیں آیا تو معلوم ہوا ان میں تداخل بھی نہیں ہے۔ کوئی تیسرا عدد جو ان دونوں کو تقسیم کر دے بھئی۔ ایسا بھی کوئی عدد نہیں کہ جس سے سات بھی تقسیم ہو جائے اور آٹھ بھی ہو جائے۔ تو اب معلوم ہوا ان میں نسبت توافق کی بھی نہیں ہے بلکہ کون سی ہے؟ تباین کی ہے بھئی تباین۔ تو کہتے ہیں وتوافق العددين أن لا يعد أقلهما الأكثر، دو عددوں کا متوافق ہونا وہ یہ ہے کہ شمار نہ کرے ان دو میں سے جو اقل ہے وہ اکثر کو، جو عدد اقل ہے وہ عدد اکثر کو شمار نہ کرے یعنی اس کو فنا نہ کرے، ولكن يعدهما عدد ثالث لیکن ان دونوں کو شمار کر لے کوئی تیسرا عدد بھئی یعنی وہ ان دونوں کو ختم کر دے، كالثمانية مع العشرين جیسے آٹھ بیس کے ساتھ، ایک عدد ہے آٹھ، ایک ہے بیس۔ اب ان دونوں میں تماس ہے؟ آٹھ اور بیس ایک ہی عدد ہیں؟ نہیں تماس نہیں۔ اچھا، آٹھ پر اس کے کئی مثل بڑھاؤ۔ آٹھ پر آٹھ بڑھایا کتنا؟ سولہ۔ یہ ابھی بھی بیس سے کم۔ ایک اور آٹھ بڑھا دو چوبیس۔ یہ تو اس سے اوپر چلا گیا، برابر نہ آیا معلوم ہوا تداخل بھی نہیں۔ اچھا، کوئی تیسرا عدد ایسا کہ جس کے ذریعے دونوں کیا ہو جائیں؟ برابر تقسیم ہو جائیں۔ تو دونوں دو کے ذریعے بھی تقسیم ہو جاتے ہیں۔ دو چوکّے آٹھ اور دوسرا کیا تھا؟ بیس۔ دو دہایا بیس بھئی تو یہ بیس بھی تقسیم ہوا لیکن یاد رکھو توافق میں بڑے عدد کا اعتبار کرتے ہیں چھوٹے کا نہیں۔ اگر کوئی بڑا عدد ہمیں مل جائے جو دونوں کو تقسیم کر رہا ہو تو اس کا اعتبار کریں گے۔ اور چار سے بھی یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ کس طرح تقسیم؟ چار دو گنا آٹھ، یہ آٹھ بھی پورا تقسیم اور چار پنجے بیس بھئی بیس بھی اس سے پورا تقسیم ہو گیا تو معلوم ہوا چار ایک تیسرا عدد آیا جس نے ان دونوں کو پورا پورا تقسیم کر دیا تو ان میں کون سی نسبت آ گئی؟ توافق والی بھئی۔ تو کہتے ہیں كالثمانية مع العشرين جیسے کہ آٹھ ہے بیس کے ساتھ، تعدهما اربعة ان دونوں کو پورا شمار کر لیتا ہے چار بھئی، یعنی ان دونوں کو فنا کر دیتا ہے چار، فهما متوافقان بالربع تو یہ دونوں متوافق بالربع ہیں۔ یہ دونوں کیا ہیں؟ متوافق بالربع نہیں کہنا بھئی، چار میں تقسیم کیا ہے، بلکہ کیا کہنا ہے؟ متوافق بالربع کہنا ہے۔ تقسیم کس نے کیا؟ چار نے، لیکن کہنا کیا ہے؟ اس ربع کا جو جز ہے، اس ارباع کا جو جز ہے، اس کے ساتھ ذکر کرنا ہے، متوافق بالربع، متوافق بالربع۔ اگر دو تقسیم کا، مثلاً آٹھ سے تقسیم ہو رہے تھے دونوں کوئی ایسے دو عدد تھے کہ دونوں آٹھ سے پورے پورے تقسیم ہو جاتے تھے تو ان کو کیا کہیں گے؟ متوافقان بالثمن نہیں بلکہ بالثمن، آٹھواں حصہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں فهما متوافقان بالربع تو یہ دونوں متوافق بالربع ہیں۔ بھئی یہ بالربع کیوں کہا؟ بالارباع کیوں نہیں کہا؟ اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں لأن العدد العادة لهما مخرج لجزء الوقت، اس لیے کیونکہ وہ عدد العادة جو شمار کرنے والا ہے یعنی فنا کرنے والا ہے لہما ان دونوں عددوں کو، وہ تیسرا عدد جو کیا کرنے والا ہے؟ پورا شمار کرنے والا ہے ان دونوں کو، یہ ترجمہ کر لیں یا فنا کرنے والا ہے ان دونوں کو، مخرج وہ کیا ہے؟ مخرج ہے لجزء الوقت کس کے لیے؟ وقت کے جز کے لیے، کس کے لیے؟ وقت کے جز یعنی وقت کے سب سے چھوٹے جز کے لیے۔ یہ مقام اچھی طرح سمجھ لینا بھئی۔ کیونکہ وہ عدد مخرج ہے وقت کے سب سے چھوٹے اس سب سے چھوٹے جز کے لیے۔ بھئی چار کا سب سے چھوٹا جز کیا بنے گا آٹھ کا؟ ایک، اور ایک چار کا کیا ہے؟ ربع ہے، تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ متوافقان بالربع کہا بالارباع نہیں بھئی، تو جز کے ذریعے تو اس سے جو اس کا سب سے چھوٹا جز نکلتا ہے، اس کے ساتھ نام رکھتے ہیں۔ اور اگر آٹھ سے دونوں عدد تقسیم ہو رہے تھے، تو اس کا سب سے چھوٹا جز کون سا تھا؟ ایک، اور وہ آٹھ کا ایک کیا ہے؟ ثمون ہے، تو کیا کہیں گے متوافقان بالثمن کہیں گے بھئی۔ تعتیں لأن العدد العادة لهما تو یہ جو چار تھا، یہ ربع کا مخرج ہے، چار سے ربع نکل آتا ہے، ثمانیہ یہ مخرج ہے ثمن کا بھئی، اس سے ثمن نکل آتا ہے پورا پورا۔ لأن العدد العادة لهما مخرج لجزء الوقت اس لیے کیونکہ وہ عدد جو ان دونوں کو فنا کرنے والا ہے وہ مخرج ہے وقت کے جز کا یعنی سب سے چھوٹے جز کا، وتباین العددین اور دو عددوں کے درمیان تباین وہ یہ ہے کہ أن لا يعد العددان معاً عدد ثالث کہ شمار نہ کرے ان دونوں عددوں کو اکٹھا ہی عدد ثالث کوئی تیسرا عدد یعنی کوئی تیسرا عدد آکر دونوں کو پورا تقسیم نہ کر سکے، كالتسعة مع العشرة جیسے کہ نو ہے دس کے ساتھ۔ یہ دونوں ایک ہی کسی عدد سے تقسیم نہیں ہو سکتے۔ وطریق معرفة الموافقة والمباينة جی یہاں سے طریقہ بتلا رہے ہیں۔ tداخل بھی آپ کو تماس کا بھی آسانی سے پتہ چل جائے گا، تداخل کا بھی آسانی سے پتہ چلے گا، لیکن یہ توافق اور تباین، اس کا جاننا ذرا مشکل ہے لیکن بڑا پیارا اور عجیب ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں صاحب کتاب، فوراً آپ کو پتہ چل جائے گا کہ دو عددوں میں توافق ہے یا تباین۔ طریقہ پہلے سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بڑے میں سے چھوٹے کو نکالتے جائیں۔ بڑے میں سے چھوٹے کو نکالتے چلے جائیں، یہاں تک کہ وہ بڑا، وہ چھوٹا بن جائے، اور جو چھوٹا تھا وہ کیا بن جائے؟ بڑا بن جائے۔ تو پھر اب جو چھوٹا بن گیا اس کو پھر دوسرے سے نکالنا شروع کر دیں۔ یہاں یہ سلسلہ چلاتے رہیں، یہاں تک کہ ایک طرف دونوں طرف ایک جیسے عدد آ جائیں۔ دونوں طرف کیا ہوں؟ ایک جیسے عدد آجائیں، تو معلوم ہوا اس عدد کے ذریعے دونوں کیا ہو رہے ہیں؟ تقسیم ہو رہے ہیں۔ جیسے آٹھ اور بیس تھا بھئی۔ عقل کیا ہے؟ آٹھ، اکثر کیا ہے؟ بیس۔ بیس میں سے عقل کو نکالیں۔ آٹھ نکالے بیس میں سے کتنے رہ گئے؟ بارہ۔ ابھی بھی یہ زیادہ ہے آٹھ سے، پھر ایک دفعہ پھر نکالا آٹھ، کتنے رہ گئے؟ چار۔ اب یہ کم ہو گیا، اور وہ آٹھ کیا ہو گیا؟ وہ زیادہ ہے، تو اب اس چار کو اس میں سے نکالیں آٹھ میں سے، کتنا آیا؟ چار۔ دونوں طرف چار آ گئے، نکال بھی چار رہے تھے اور باقی بھی کتنا بچا؟ چار، معلوم ہوا ان دونوں کو کون سا عدد تقسیم کر دے گا؟ چار کر دے گا۔ اب کوئی مثال آپ بنا لیں بھئی۔ منٹوں میں آپ حل کر سکتے ہیں توافق کو۔ مثلاً بھئی کیا مثال بنائیں؟ بیالیس اور آٹھ نہیں آٹھ کے بجائے کوئی اور عدد کر لو۔ ہاں، چوالیس اور یا پینتالیس، پینتالیس اور چھ کر لیں بھئی۔ کیا کریں؟ پینتالیس چھ پر تقسیم تو نہیں ہوتا پورا پورا؟ نہیں۔ اچھا، اب پینتالیس میں سے چھ نکالیں کتنے رہ گئے؟ انتالیس۔ اچھا، ابھی بھی بڑا ہے، پھر چھ نکالیں تینتیس رہ گئے بھئی، پھر تینتیس میں ابھی بھی بڑا ہے پھر چھ نکالیں ستائیس، ابھی بھی بڑا، پھر اس میں سے اکیس رہ گئے۔ اکیس رہ گئے بھئی باقی، پھر اس میں سے چھ نکالیں پندرہ رہ گئے، پھر چھ نکالیں نو، نو رہ گئے، پھر چھ نکالیں تین، تین رہ گئے، یہ چھوٹا ہو گیا اور چھ کیا بن گیا؟ وہ بڑا۔ اب اس تین کو پھر اس میں سے نکالیں چھ میں سے، کتنا رہ گیا؟ تین، معلوم ہوا تین کے ذریعے دونوں طرف تین تین آگئے، تین کے ذریعے کیا ہوں گے دونوں برابر برابر تقسیم ہو جائیں گے بھئی۔ مسئلہ قانون سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ بڑا ہی آسان قانون جس کے ذریعے آپ فوراً توافق اور تباین کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ تو یہی بات کر رہے ہیں وطریق معرفة الموافقة والمباينة بين العددين المختلفين اور موافقة اور مباینت کو پہچاننے کا طریقہ دو مختلف عددوں کے بیچ وہ یہ ہے کہ أن ينقص من الأكثر کہ کم کیا جائے اکثر جو بڑا عدد عددِ اکثر ہے اس میں سے کم کیا جائے بمقدار الأقل اس کو کتنی مقدار کم کی جائے؟ عدد اقل کی مقدار کم کی جائے من الجانبين دونوں جانب سے یعنی پہلے ایک اکثر تھا وہ ہوتے ہوتے اقل بن جائے گا، اب پھر اقل کو کس میں سے نکالو؟ اکثر میں سے، پھر وہ اقل ہو جائے گا، پھر دونوں طرف سے سلسلہ چلاتے رہو جب تک دونوں کیا ہو جائیں؟ برابر آجائیں کسی عدد کے اندر۔ ایک میں آ کر برابر ہوئے اس کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ ایک تو عدد ہی نہیں ہے، ہم نے کہا کسی عدد میں آ کر دونوں کیا ہو جائیں؟ برابر ہو جائیں۔ تو یہ معنی ہے کہ نکالیں آپ اکثر میں عددِ اکثر میں سے عددِ اقل کی مقدار کو من الجانبين دونوں جانب سے مرة أو مرارا ایک مرتبہ یا کئی مرتبہ حتی حتی تفقا في درجة واحدة یہاں تک کہ دونوں متفق ہو جائیں ایک ہی درجے میں، یعنی ایک ہی عدد میں، فإن اتفقا في واحد فلا وقت بينهما اگر دونوں نے اتفاق کی دونوں متفق ہو گئے ایک کے اندر، تو پھر ان میں توافق نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ ایک تو عدد ہی نہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ فإن اتفقا في عدد اور اگر یہ دونوں متفق ہو گئے موافق ہو گئے في عدد کسی عدد میں، فهما متوافقان بذلك العدد تو یہ دونوں متفق ہوئے اس عدد کے ساتھ، ففي الاثنين بالنصف دو کے اندر ہم کیا کہیں گے یہ دونوں عدد کیا ہیں؟ متوافق ہیں بھئی چوارہ میں ہم نے کیا کہا تھا دونوں متوافق ہیں؟ بالربع اس کے جز کے ساتھ تعبیر کرنا ہے بھئی، اور نصف پیچھے مسائل میں پڑھا تھا، نصف کا معین مد عدد کون سا ہے؟ دو ہے، تو یہاں اگر دو کے اندر موافقت آئی، تو دونوں میں توافق بين نصف کہیں گے دونوں متوافقان ہیں بالنصف، وفي الثلاثة بالثلث اور ثلاثہ میں ثلث کے ساتھ یعنی اگر تین میں موافق ہیں تو یوں کہیں گے دونوں متوافقان ہیں بالثلث، وفي الأربعة بالربع اور چارہ میں ربع کے ساتھ ہكذا إلى العشرة اسی طرح دس تک ہوگا۔ پانچ میں توافق کا آئے تو پھر کیا کہیں گے یہ دونوں مت میں توافق ہے بالخمس، چھ میں آئے تو توافق بصو سدس ہے دس تک بھئی، وفيما ورا العشرة اور دس سے آگے کہ بعد بھئی، یہ توافقان بجز منهما دونوں متوافق ہوں گے اس کے جز سے، عشرہ سے اوپر بھئی، عدد عشرہ سے اوپر تو مرکبات آگئے، أحد عشر اثنا عشر دو جز آگئے۔ پہلے والوں میں تو جز آسانی سے بنا لیا تھا، ثلاثہ سے ثلث۔ چلیے بس بھئی ہٰذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
92 approved lectures · 26 of 92