وأما أربعة وعشرون فإنها تعول إلى سبعة وعشرين عولا واحدا كما في المسألة الممبرية وهي امرأة وبنتان وأبوان.
عول کا باب کل ہم نے شروع کیا تھا میں نے بتلایا تھا کہ وہ عدد جس سے مسئلہ بنایا جاتا ہے اسے مخرج کہتے ہیں اور جو وارثوں کو دیے گئے وہ ہیں حصے، تو اگر تو کبھی کبھار تو حصے اور مخرج دونوں برابر ہوتے ہیں، مخرج سے وہ حصے نکل آتے ہیں پورے پورے اور لیکن کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ حصے مخرج سے کم ہو جاتے ہیں یا کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔
بہر حال حصے مخرج سے کم ہو جائیں تو اس کے لیے رد کا قانون ہے اور اگر حصے مخرج سے زیادہ ہو جائیں تو اس کے لیے عول کا قانون ہے بھئی عول بھئی۔
جی اور عول کیا تھا کہ مخرج پر اس کے حصوں میں سے کوئی چیز اس طرح بڑھا کوئی چیز بڑھا دی جائے جبکہ حصوں میں جبکہ وہ مخرج تنگ پڑ رہا ہو حصوں سے اور ایک مثال بھی آپ نے لکھ لی تھی بھئی۔
اور پھر بتلایا تھا کہ صرف جو مخارج ہیں وہ سات ہیں اور ان میں سے صرف تین جو ہیں ان کے اندر عول ہوتا ہے، ایک چھ ایک بارہ اور ایک چوبیس۔
چھ کے اندر جو عول ہوتا ہے وہ دس تک ہوتا ہے، وتراً بھی اور شفْعاً بھی، جبکہ بارہ کے اندر جو عول ہے وہ سترہ تک ہوتا ہے اور وتراً ہوتا ہے، شفْعاً نہیں ہوتا۔
جبکہ چوبیس جو ہے اس کے اندر چوبیس کے اندر ایک ہی عول ہوتا ہے کہاں تک؟ ستائیس تک بھئی۔
جی۔
ستائیس تک بھئی اور یہ کس کے اندر ہے؟ جیسے کس کے اندر ہے؟ مسئلہ منبریہ کے اندر بھئی اور مسئلہ منبریہ کیا تھا؟ اس کی صورت کہ ایک عورت ہو امراۃ وبنتان وأبوان ایک عورت ہو، اس کی دو بیٹیاں اور اس کے ماں باپ بھئی۔
خاوند کا انتقال ہوا اس کی بیوی بھی باقی ہے، دو بیٹیاں بھی باقی ہیں اور خاوند کے ماں باپ بھی باقی ہیں۔
تو اس صورت میں مسئلہ بنتا تھا چوبیس سے لیکن حصے بنتے ہیں ستائیس تو پھر چوبیس کا عول کہاں تک ہو جائے گا؟ ستائیس تک بھئی اور اس کو مسئلہ منبریہ اس لیے کہتے ہیں جیسے کہ میں نے بتلایا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ کوفہ میں منبر پر تشریف لائے اور خطبہ شروع فرمایا تو ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیا کہ ایک عورت ایک شخص کی بیوی ہے اور دو بیٹیاں ہیں اور ماں باپ ہیں اور اس صورت کے اندر عورت کو ستائیس میں سے کتنا ملے گا؟ تین ملے گا تو ستائیس میں سے تین یہ تو اس کا آٹھواں حصہ نہیں حالانکہ عورت بیوی کا تو کتنا حصہ ہے اولاد کی موجودگی میں؟ آٹھواں حصہ ہے سمن ہے، چوبیس حصے ہوتے تو اس میں سے تین کیا بن جاتا؟ چوبیس کے آٹھ حصے کریں تو ہر حصے میں تین تین آئیں گے، تو پھر بیوی کو تین مل رہے ہیں تو یہ تو آٹھواں حصہ نہ رہا، آٹھویں سے کم پڑ گیا تو حضرت علی نے فورا جواب میں فرمایا صار ثمنها تسعان بھئی کہ اس کا سمن کیا بن گیا؟ آٹھواں حصہ اس کا نواں حصہ بن گیا بھئی تو ستائیس میں سے ستائیس کے نو حصے کریں تو ایک حصہ تین بنتا ہے بھئی تو یہ اب آٹھواں حصہ نہیں مل رہا بیوی کو بلکہ کیا مل رہا ہے؟ نواں حصہ میں نے بتلایا تھا عول کی صورت میں سب کے حصوں میں کمی آ جاتی ہے بھئی سب کے حصوں۔
تو دیکھیے اب کتاب پر وأما أربعة وعشرون اور باقی چوبیس جو ہے فإنها تعول إلى سبعة وعشرين عولا واحدا پس یہ جو ہے اس کا عول ہوتا ہے ستائیس تک عولا واحدا ایک ہی عول كما في المسألة الممبرية جیسے کہ مسئلہ منبریہ کے اندر ہے وهي امرأة وبنتان وأبوان اور وہ یہ کہ ایک عورت ہو اور دو بیٹیاں ہوں اور ماں باپ ہوں یہ میت نے چھوڑے بھئی۔
ولا يزاد على هذا اور اس پر بڑھایا نہیں جاتا إلا عند ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ مگر حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک فإن عنده تعول إلى أحد وثلاثين وان کے نزدیک جو ہے چوبیس کا عول ہوتا ہے اکتیس تک بھئی، کہاں تک؟ اکتیس تک ہوتا ہے، اکتیس تک۔
مثالیں آگے آرہی ہیں جی عول کا باب مکمل ہوا اب مثالیں لکھ لیجیے بھئی۔
کتنی مثالیں گزر چکیں؟ سترہ سترہ ہوئی ہیں؟ جی۔
مثال نمبر اٹھارہ مثال نمبر اٹھارہ۔
اسی طرح میت لکھیں بھئی اور اس کے نیچے لکھیں زوج عورت کا انتقال ہوا ہے خاوند بھی اس کا باقی ہے اور اختاني لأب اختاني لأب اختاني لأب کیا ہیں بھئی؟ اللہتی بہنیں بھئی۔
تو بے شک آپ اردو میں لکھ لیں خاوند اور اللہ دو اللہتی بہنیں یا عربی میں اختاني لأب لکھ لیں۔
جی اب زوج بھئی، زوج کو کتنا ملتا ہے جب اولاد نہ ہو؟ نصف یہاں اولاد نہیں ہے، بہنیں ہیں تو نصف خاوند کا کو ملے گا اور دو اللہتی بہنیں ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان ایک ہو تو نصف ملتا ہے، دو ہوں تو ثلثان ملتا ہے تو دیکھیے نو نصف ہے نوع اول میں سے اور ثلثان ہے نوع ثانی میں سے اور نوع اول کا نصف نوع ثانی کے جس کے ساتھ بھی آجائے مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ چھ سے تو چھ سے مسئلہ بنائیے۔
جی چھ سے، چھ سے نصف چھ کا نصف کتنا ہے؟ تین، تو تین لکھ لیں خاوند کے نیچے اور چھ کا ثلث کتنا ہے؟ تیسرا حصہ دو اور بہنوں کو دینے ہیں دو ثلث بھئی تو وہ کتنا ہو گیا؟ چار، تو بہنوں کے نیچے لکھ لیں چار۔
اب ذرا دیکھیں آپ بھئی۔
کتنے حصے ہو گئے؟ خاوند کے تین، بہنوں کے چار کتنے ہو گئے؟ سات حصے ہو گئے اور مخرج ہے چھ، تو حصے بڑھ گئے تو اب عول ہوگا اسی طرح چھ کے ساتھ ع عین لکھیں اور اس کو ذرا آگے کو لمبا کر دیں عئین کا سر بنائیں نیچے نہ لے کے جائیں اور آگے کی طرف تھوڑا لے جائیں اور سات لکھ دیں اس کے اوپر بھئی، تو یہ چھ کا عول کہاں تک ہو گیا؟ سات تک بھئی، تو اب سب کے حصوں میں کمی آ گئی۔
جی مثال نمبر انیس۔
جی اسی طرح میت ب میت بنائیں، نیچے لکھیں زوج زوج اختاني لأب اختاني لأب یعنی دو اللہتی بہنیں اور ایک ام بھی لکھیں بھئی ماں بھی ساتھ لکھ لیں۔
ام اچھا بھئی! خاوند کو اولاد نہ ہو تو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملے گا، اللہتی بہنیں دو ہیں تو کتنا ملے گا؟ ثلثان ملے گا ان کو اور ماں جو ہے وہ بہن دو بہن بھائیوں کی موجودگی میں اسے کتنا ملتا ہے؟ سدس، تو ماں کو سدس ملے گا۔
अच्छा نوع اول میں سے کیا آیا؟ صرف نصف آیا، اچھا نوع ثانی میں سے کیا آیا؟ ثلثان اور سدس آیا تو نصف جب بھی نوع ثانی کے ساتھ آئے مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ چھ سے، مسئلہ بنائیے چھ سے۔
چھ کا نصف خاوند کو ملنا ہے، کتنا؟ تین، وہ تین ہوا خاوند کے نیچے تین لکھیں۔
چھ کے دو ثلث چھ میں سے کتنا بنے گا؟ چار، چار بہن وہ اللہتی بہنوں کے نیچے لکھ لیجیے۔
اور چھ میں سے سدس یعنی چھٹا حصہ ماں کو ملنا ہے، چھ کا سدس کتنا ہے؟ ایک، چھ کے چھ حصے کریں تو ایک میں ایک آئے گا بھئی، تو ماں کے نیچے ایک لکھا۔
اب یہ ذرا حصے جمع کریں بھئی! تین زوج کے، چار بہنوں کے اور ایک ماں کا، یہ کتنے ہو گئے؟ آٹھ، یہ آٹھ ہو گئے اور مخرج ہے چھ، تو اب اس کا عول ہو جائے گا آٹھ تک بھئی، تو چھ کے ساتھ اسی طرح ع لکھیں اور اس کے اوپر آٹھ لکھ لیں بھئی۔
یہ ع بتا دے گا کہ یہاں عول ہوا ہے بھئی۔
چھ تو دیکھو پہلی مثال تھی چھ کا عول کہاں تک؟ سات تک، دوسری مثال ہے چھ کا عول آٹھ تک، اب مثال آئے گی جس میں چھ کا عول نو تک ہوگا بھئی۔
اگلی مثال لکھیے اسی طرح میت بنائیے۔
مثال نمبر بیس بھئی، مثال نمبر بیس۔
زوج لکھیں میت کے نیچے زوج اسی طرح اختاني لأب لکھیں بھئی! دو اللہتی بہنیں اور اس سے آگے لکھ لیں اختاني لأم دو اخیافی بہنیں دو اخیافی بہنیں اچھا خاوند کو جب اولاد نہ ہو یہاں کوئی اولاد نہیں ہے کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے، اچھا اللہتی بہنوں کو کتنا ملتا ہے؟ دو ہوں تو ثلثان یہ نوع ثانی ہے اور اختاني لأم ایک ہو تو کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے اور ایک سے زیادہ ہوں تو ثلث ملتا ہے، تو یہ ثلث یہ بھی نوع ثانی میں سے ہے تینوں اور نوع اول میں سے صرف کیا ہے؟ نصف، نوع اول میں سے صرف کیا ہے؟ نصف، نصف جب نوع ثانی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ چھ سے، مسئلہ بنائیے چھ سے۔
چھ کا نصف دے دیں خاوند کو، چھ کا نصف کتنا؟ تین، وہ تین ہوا خاوند کے نیچے تین لکھیں۔
چھ کے دو ثلث چھ میں سے کتنا بنے گا؟ چار، چار بہن وہ اللہتی بہنوں کے نیچے لکھ لیجیے۔
اور چھ میں سے سدس کس کو دینا ہے؟ اخیافی بہنوں کو اختاني لأم کیا ہیں؟ اخیافی تو چھ کا سدس کیا ہے؟ دو، دو ان کے نیچے لکھ لیجیے۔
اب مسئلہ بنایا چھ سے اور نیچے حصے ذرا گنے خاوند کے تین، اللہتی بہنوں کے چار اور اخیافی بہنوں کے دو یہ کتنے ہو گئے؟ یہ تین چار اور دو یہ نو ہو گئے بھئی، نو۔
تو یہاں اب چھ کا عول ہوگا نو تک بھئی، چھ کے ساتھ اسی طرح ع لکھیے اور اس کے اوپر نو لکھ لیجیے۔
صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جی یہ کتنی مثال تھی؟ بیسویں آگے لکھیے اکیسویں مثال، مثال نمبر اکیس۔
اسی طرح میت بنائیں اس کے نیچے لکھیے زوج اس کے آگے لکھیے اختاني لأب دو اللہتی بہنیں ہیں پھر آگے لکھیے اختاني لأم دو اخیافی بہنیں ہیں اور آگے ام، ام بھی لکھ لیجیے ماں ماں۔
تو دیکھیے خاوند کو کتنا ملے گا؟ نصف، اچھا اللہتی بہنوں کو ثلثان، اخیافی بہنوں کو ثلث، اور ماں کے ساتھ جب دو بھئی بہن کوئی بھی آجائیں تو ماں کو کتنا ملتا ہے؟ سدس یعنی چھٹا حصہ۔
تو ثلثان، ثلث، سدس یہ نوع ثانی میں سے ہیں تینوں اور نوع اول میں سے صرف کیا ہے؟ نصف، نوع اول میں سے صرف کیا ہے؟ نصف، نصف جب نوع ثانی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ چھ سے، مسئلہ بنائیے چھ سے۔
چھ کا نصف کتنا ہے؟ تین، یہ خاوند کو ملے گا اس کے نیچے تین لکھیں، اختاني لأب ان کو کتنا دینا ہے؟ دو ثلث، چھ میں سے دو ثلث کتنا ہوگا؟ چار ان کو مل جائے گا۔
اختاني لأم ان کو ثلث ملے گا، وہ کتنا ہے؟ چھ میں سے دو ان کو دے دیں گے۔
اور ماں کو سدس یعنی چھٹا حصہ ملنا ہے وہ کتنا ہے؟ ایک ہے، تو ماں کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔
اب دیکھیے مسئلہ چھ سے بنایا لیکن حصے بڑھ گئے، خاوند کے تین، اللہتی بہنوں کے چار یہ سات ہو گئے، اخیافی بہنوں کے دو یہ نو ہو گئے اور ماں کا ایک حصہ یہ دس، تو دس ہوئے حصے تو اب یہ چھ کا عول ہو جائے گا دس تک بھئی۔
ع لکھ کر اس کے اوپر دس لکھ لیجیے۔
یہ کتنی مثالیں ہوگئیں؟ اکیس، آگے لکھیے مثال نمبر بائیس۔
مثال نمبر بائیس۔
یہ دیکھیے چھ میں سات تک بھی عول ہوتا تھا، آٹھ تک بھی عول ہوتا تھا، نو تک بھی اور دس تک بھی سب کی مثالیں آ گئیں۔
اب بارہ کے اندر جو عول ہوتا ہے اس کی مثالیں آئیں گی بھئی۔
अच्छा اسی طرح میت بنائیے اب زوج کے بجائے زوجہ لکھیے بھئی میت کے نیچے معلوم ہوا انتقال کرنے والا خاوند ہے بھئی۔
تو زوجہ لکھیں، اس کے آگے لکھیں اختانے عینی دو حقیقی بہنیں، اختانے عینی اس کے آگے لکھ لیجیے ام بھئی، ماں۔
تو یہ ایک خاوند کا انتقال ہوا بیوی ہے، دو حقیقی بہنیں ہیں اور ماں یہ زندہ ہیں بھئی۔
بھئی زوجہ کو جب اولاد نہ ہو تو کتنا دیتے ہیں؟ ربع، تو ربع یہ نوع اول میں سے آ گیا، اچھا اختانے عینی حقیقی بہنوں کو ایک ہو تو نصف ملتا ہے اولاد نہ ہو اور دو یا زیادہ ہوں تو ثلثان ملتا ہے، تو یہ نوع ثانی ہوا اور ماں کو دو حقیقی بہنوں بھئی بہنوں کی موجودگی میں کتنا ملتا ہے؟ سدس، یہ بھی نوع ثانی تو نوع اول میں سے صرف کیا آیا؟ ربع، ربع جب نوع ثانی کے ساتھ آجائے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ بارہ سے، بارہ سے مسئلہ بنائیے۔
بارہ کا ربع یعنی چوتھا حصہ
زوجہ کو دینا ہے 12 کے ذرا چار برابر حصے کریں ایک میں کتنے آئیں گے؟ تین آئیں گے تو زوجہ کے نیچے تین لکھ لیجئے یہ ربوع ہے 12 کا.
اور 12 کا ثلث کتنا ہوگا؟ تین حصے کریں ایک میں کتنے آئیں گے؟ چار اور دو ثلث ہم نے دینے ہیں حقیقی بہنوں کو تو کتنا ہوگیا؟ آٹھ ان کے نیچے لکھ لیں حقیقی بہنوں کے. یرحمک اللہ.
اور ماں کو ہم نے کتنا حصہ دینا ہے؟ ثلث چھٹا حصہ. 12 کے چھ حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ دو تو ماں کو دو حصے ملیں گے ماں کے نیچے دو لکھ لیں.
اب ان کو ذرا جمع کریں زوجہ کے تین اور اخت عینی کے آٹھ یہ 11 ہو گئے اور ماں کے دو حصے 13.
اور مخرج کیا ہے 12 تو اب یہ 12 کا اول ہو جائے گا 13 تک بھئی عین لکھ کر آگے اس پر 13 لکھ لیجئے بھئی.
آگے مثال نمبر مثال نمبر 23 بھئی
اسی طرح لکھیں میت کے نیچے زوجہ
زوجہ
اور اخت عینی دو حقیقی بہنیں
اخت عینی
اور آگے لکھ لیں اختانی لام دو اخیافی بہنیں
اختانی لام
جی زوجہ کو کتنا ملتا ہے اولاد نہ ہو تو؟ ربوع یہ نوع اول میں سے آیا. اخت عینی کو کتنا ملتا ہے بھئی؟ ثلثان ملتا ہے. اور اخیافی بہنیں بہن ایک ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ثلث
اور ایک سے زیادہ ہوں تو؟ ثلث تو ان کو ثلث ملے گا. تو ثلثان اور ثلث یہ تو ہیں نوع ثانی میں سے. نوع اول میں سے صرف کیا آیا؟ ربوع. تو ربوع جب نوع ثانی کے ساتھ آئے مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 12 سے تو 12 سے مسئلہ بنائیے.
12 میں سے ربوع یعنی چوتھا حصہ زوجہ کو دیں گے 12 کے چار حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ تین تو زوجہ کے نیچے لکھیے تین.
جی 12 میں سے دو ثلث دینے ہیں اخت عینی کو 12 کے تین حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ چار یہ ثلث ہوا اور دو ثلث کتنا ہو جائے گا؟ آٹھ تو اخت عینی کے نیچے آٹھ لکھیے بھئی.
अच्छा اختانی لام کو کتنا دینا ہے؟ ثلث. 12 کے تین حصے کریں تو کتنا ایک میں کتنا آیا؟ چار یہ ثلث ہوا 12 کا بھئی. تو اس میں سے ایک ثلث دے دیں بھئی اختانی لام کو یعنی چار ان کے نیچے لکھ دیں.
اب ذرا مسئلہ 12 سے بنا حصے جمع کریں بھئی زوجہ کے تین اخت عینی کے آٹھ اختانی لام کے چار.
تو تین اور آٹھ 11 اور 11 اور چار 15 تو حصے ہو گئے 15 اور مخرج کیا ہے 12 تو 12 کا اول ہو جائے گا 15 تک بھئی اسی طرح عین لکھیے اور اس کے اوپر 15 لکھ لیجیے بھئی.
جی آگے مثال نمبر
مثال نمبر 24 لکھیے بھئی
مثال نمبر 24
میت بنائیں اسی طرح ایک زوجہ لکھیں بھئی زوجہ
اسی طرح لکھیں اخت عینی
حقیقی بہنیں دو آگے اختانی لام اخیافی بہنیں لکھیں دو اختانی لام
اور اس کے ساتھ ام بھی لکھ لیں بھئی ماں
تو زوجہ اخت عینی اختانی لام اور ام بھئی یہ چار وارث یہ ہو گئے. اچھا زوجہ کو کتنا دیتے ہیں اولاد نہ ہو تو؟ ربوع ملتا ہے. اخت عینی دو بہنیں ہوں حقیقی تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان. اخت اخیافی دو بہنیں ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث ملتا ہے.
اور ماں جو ہے اس کے ساتھ دو بھئی بہن آجائیں تو کتنا ملتا ہے؟ سدس. تو اخت عینی کو ثلثان اختانی لام کو ثلث ماں کو سدس یہ تینوں نوع ثانی میں سے ہیں اور نوع اول میں سے صرف کیا آیا؟ ربوع. اور ربوع نوع ثانی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 12 سے مسئلہ بنائیے.
12 کا ربوع کتنا ہوگا؟ تین تو زوجہ کو مل جائیں گے تین مل جائیں گے.
12 میں سے دو ثلث کتنا ہوگا؟ آٹھ آٹھ مل جائیں گے اخت عینی کو بھئی.
अच्छा اختانی لام کو کتنا دینا ہے؟ ثلث تو 12 کا ثلث تیسرا حصہ کیا ہے؟ چار تو چار مل جائے گا اختانی لام کو بھئی ان کے نیچے چار لکھیں.
और मां को छठ्ठा हिस्सा देना है 12 के छह حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ دو تو یہ چھٹا حصہ دو یہ ماں کو مل جائے گا بھئی.
اب 12 سے مسئلہ بنایا اور حصے ذرا نیچے گنے تین اور آٹھ 11 11 اور چار 15 15 اور دو 17 تو 17 حصے بن رہے ہیں. تو اب 12 کا اول کہاں تک ہو جائے گا؟ 17 تک ہو جائے گا بھئی 17.
آگے لکھیے مثال نمبر 25 بھئی مثال نمبر 25 بھئی
یہ اسی طرح میت بنائیے
میت کے نیچے ایک لکھیے زوجہ
زوجہ
آگے لکھیے بنتانی دو بیٹیاں ہیں
دو بیٹیاں
آگے لکھیے ام ماں بھئی
اس سے آگے لکھیے اب باپ
تو ایک شخص کا انتقال ہوا اس کی بیوی دو بیٹیاں اور ماں باپ ہیں بھئی یہ وہ مسئلہ ممریہ ہے بھئی
امرأتون و بنتانی و ابوان بھئی یہ مسئلہ ممریہ ہے. اچھا بھئی زوجہ کو اولاد ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ثمون ملتا ہے. اچھا بیٹیاں دو ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان ملتا ہے یہ نوع ثانی آ گئی. ام کو اولاد کے ہونے کی صورت میں کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے. تو یہ بھی نوع ثانی ہے.
باپ کو بھئی
جی
تو باپ جب یہ باپ میں یہاں دوسری صورت آ گئی فرض مع التعسیب یعنی چھٹا حصہ بھی ملے گا اور عصبہ بھی بنے گا کیونکہ بیٹا پوتا وغیرہ کوئی نہیں تو ماں بقیہ مال بھی کس کو مل جائے گا؟ باپ کو مل جائے گا بھئی.
تو یہ فرض مع التعسیب عصبہ ہونے کو تو چھوڑو ابھی. حصہ کتنا بن رہا ہے اس کا؟ چھٹا چھٹا بھی ملنا ہے تو حصے کے اعتبار سے گویا یہاں صرف چھٹا آیا تو یہ بھی نوع ثانی میں سے. تو نوع اول میں سے صرف کیا آیا؟ ثمون آیا آٹھواں حصہ باقی سب کس میں سے نوع ثانی میں سے. تو جب ثمون جو ہے نوع ثانی کے کسی کے ساتھ ہو یرحمک اللہ. ثمون جب نوع ثانی کے کسی کے ساتھ آجائے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 24 سے تو مسئلہ بنائیے بھئی 24 سے بھئی.
بھئی 24 میں سے آٹھواں حصہ بیوی کو دینا ہے 24 کے ذرا آٹھ حصے کریں بھئی ایک حصے میں کتنا آئے گا؟ تین آئے گا تو بیوی کو ملے گا تین اس کے نیچے لکھ لیں تین بھئی.
अच्छा 24 کا کے تین حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ آٹھ یہ ہے ثلث اور بیٹیوں کو کتنا دینا ہے؟ ثلثان دینا ہے تو
16 آٹھ کو دو دفعہ کر لیں 16 ہو گیا یہ دو ثلث ہو گئے یہ بیٹیوں کے نیچے لکھ لیں. ماں کو کتنا حصہ ہے؟ سدس چھٹا 24 کے چھ حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ چار تو ماں کو چار یہ سدس چھٹا حصہ مل گیا بھئی.
باپ کو کیا ملیں گے؟ سدس
اور سدس کتنا ہے؟ چار ابھی آپ نے بتایا تو باپ کے نیچے بھی چار لکھ لیں بھئی.
اب دیکھیے مسئلہ بنایا 24 سے اور جمع کریں زوجہ کے تین اور بیٹیوں کے 16 کتنے ہو گئے؟ 19 19 اور ماں کے چار حصے 23 23 اور باپ کے چار حصے 27 بھئی تو مسئلہ بنایا تھا 24 سے حصے بن رہے ہیں 27 تو یہاں اول 24 کا کہاں تک ہو جائے گا؟ 27 تک ہو جائے گا بھئی. اب دیکھیے باپ کو ہم نے بتایا تھا اول کی صورت میں عصبہ کو کچھ نہیں ملتا باپ عصبہ بھی بن رہا ہے لیکن ذو الفروض ہونے کی حیثیت سے سدس تو مل گیا لیکن عصبہ ہونے کی حیثیت سے اب کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ بچا ہی کچھ نہیں.
حصے تو مخرج سے بھی بڑھ گئے بھئی بچتا کیا؟
اگلا مسئلہ لکھیے بھئی وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جو فرماتے تھے کہ 24 کا اول 31 تک ہو سکتا ہے.
جی اسی طرح میت بنائیے
اس کے نیچے لکھیے زوجہ
ام ماں
اختانی لابی یعنی دو علاتی بہنیں
آگے لکھیے اختانی لام یعنی دو اخیافی بہنیں
اور اس سے آگے لکھ لیجیے
ابن کافر
ابن کافر
بھئی بیٹا ہے اور وہ کافر ہے تو آپ نے پڑھا ہے کہ اختلاف دین ہو تو وارث نہیں بنے گا تو بیٹے کو یہاں کافر ہے کچھ نہیں ملے گا اس کے نیچے میم لکھ لیجیے یہ محروم ہے بھئی
محروم ہے
अच्छा لیکن آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو محروم ہمارے نزدیک تو محروم جو ہوتا ہے وہ کعدم ہوتا ہے گویا ہے ہی نہیں اس کو شمار کرنے کی ضرورت ہی نہیں لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک یہ یہ حاجب بنتا ہے کس کے ساتھ حجب نقصان کے ساتھ حاجب بنتا ہے حجب حرمان کے ساتھ حاجب نہیں بنتا تو یہ جہاں حصوں میں کمی کرتا تھا کمی کرے گا لیکن کسی کو محروم نہیں کرے گا دیکھیے بھئی زوجہ کو اولاد ہو
اولاد نہ ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ربوع
اولاد ہے یا نہیں؟ ہے کون ہے؟ بیٹا اور اولاد ہونے کی صورت میں کتنا ملتا ہے؟ ثمون ملتا ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک یہاں بیوی کو ثمون ملے گا ہمارے نزدیک وہ بیٹا جب کافر ہے محروم ہے گویا کہ وہ ہے ہی نہیں جب ہے ہی نہیں تو اور تو کوئی بھی اولاد نہیں ہے تو معلوم ہوا میت کی کوئی اولاد نہیں اور جب اولاد نہ ہو تو بیوی کو کتنا ملتا ہے؟ ربوع ملا کرتا ہے تو ہمارے نزدیک یہاں بیوی کو ربوع ملے گا ان کے نزدیک ثمون ملے گا ثمون
آگے ماں جب اولاد ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ سدس
یا دو بھئی بہنیں ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ سدس ملتا ہے سدس بھئی
جی اختانی لابی ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان ملتا ہے بھئی علاتی بہنوں کو اختانی لام ان کو کتنا ملتا ہے؟ جی؟ ثلث
ثلث ملتا ہے
جی تو اب دیکھیے نوع اول میں سے صرف ثمون آیا
اور باقی سدس ثلثان اور ثلث یہ سب کس میں سے ہے نوع ثانی تو نوع اول کا ثمون جب نوع ثانی کے کسی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 24 سے تو مسئلہ بنائیے بھئی 24 سے بھئی
بھئی 24 میں سے آٹھواں حصہ بیوی کو دینا ہے 24 کے آٹھ حصے کریں برابر ایک میں کتنا آئے گا؟ تین یہ تین ثمون ہے 24 کا تو تین دے دیں گے بیوی کو
24 کے میں سے سدس ماں کو دینا ہے 24 کے چار حصے کریں برابر ایک میں کتنا آئے گا؟ چار تو ماں کو کتنا مل جائے گا؟ یہ چار یہ سدس بھئی
24 میں سے دو ثلث دینے ہیں علاتی بہنوں کو 24 کے تین حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ آٹھ
اور یہ ہے ثلث دو ثلث دینے ہیں ان کو وہ کتنا ہوا؟ 16 تو 16 مل جائے گا دو علاتی بہنوں کو اور ایک ثلث جو ہے وہ اخیافی بہنوں کو ملے گا ان کے نیچے آٹھ لکھ لیں اور بیٹے محروم ہیں جی یہ کتنے ہوگئے زوجہ کے تین اور ماں کے چار سات اور اختانی لابی کے 16 23 اور اختانی لام کے آٹھ 31 بھئی ہو گئے تو حصے بڑھ گئے مخرج سے تو اول ہو جائے گا 31 تک بھئی صورت سمجھ میں آگئی
یہی مسئلہ ہمارے نزدیک کیسے ہوگا یہ بھی لکھ لیں بھئی یہ مثال نمبر کون سی ہو جائے گی نیچے؟
مثال نمبر 27 بھئی اسی کے نیچے یہی سارا کچھ دوبارہ لکھ لیں میت بنائیں زوجہ
ام یعنی ماں
اختانی لابی اور اختانی لام
ابن کافر کو چاہے لکھ ابن کافر کو ویسے وضاحت کے لیے لکھ لیں کہ پتہ چلے یہ اوپر والے ہی مسئلہ ہمارے نزدیک اس طرح ہے
ورنہ لکھنے کی ضرورت نہیں ویسے
لکھ لیا بھئی؟
تو ابن کافر ہمارے نزدیک کعدم ہے تو اولاد نہیں جب اولاد نہیں تو بیوی کو کتنا ملے گا؟ ربوع ملے گا بھئی اچھا ماں کو دو بھئی بہن اکٹھے ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ سدس یہ نوع ثانی ہے اچھا اختانی لابی کو کیا ملتا ہے؟ جی؟ ثلثان یہ بھی نوع ثانی ہے اختانی لام دو ہوں تو ثلث ملتا ہے یہ بھی نوع ثانی نوع اول میں سے صرف کیا آیا
جی؟ ربوع اور ربوع نوع ثانی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 12
12 سے مسئلہ بنائیے بھئی
12 کا ربوع دینا ہے بیوی کو کتنا ہوا؟ تین بیوی کو مل جائے گا
अच्छा 12 کا چھٹا حصہ دینا ہے ماں کو وہ کتنا ہوا؟ دو ماں کے نیچے دو لکھ لیں
حقیقی علاتی بہنیں ہیں ان کو آ 12 میں سے دو ثلث دینے ہیں 12 کے تین حصے کریں ایک میں کتنا آئے گا؟ چار یہ ایک ثلث ہے دو ثلث دینے ہیں ان کو وہ کتنا ہوا؟ آٹھ تو اختانی لابی کے نیچے آٹھ لکھیں اور اختانی لام ان کو ایک ہی ثلث دینا ہے ان کے نیچے چار لکھ لیں
12 سے مسئلہ ہوا بیوی کے تین ماں کے حصے دو اختانی لابی کے آٹھ اور اختانی لام کے چار اور ابن کافر کے نیچے اسی طرح میم لکھ لیں محروم ہے یہ
اب حصے جمع کریں تین اور دو پانچ اور آٹھ 13 اور چار 17 تو 12 کا اول کہاں تک ہو جائے گا؟ 17 تک ہو جائے گا بھئی
تو یہ وہی مسئلہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک اس جیسے اوپر بیان ہوا اس طرح ہوگا اور ہمارے نزدیک اس طرح جیسے نیچے کون سی مثال تھی یہ؟
مثال نمبر 27 میں ہمارے نزدیک اس طرح تقسیم ہوگی بھئی
جی سب کو اچھی طرح سبق سمجھ میں آگیا؟
حل ہو رہی ہیں مثالیں کہ نہیں بھئی؟
چلیے بس بھئی واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام