Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 28
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ولو ترك أبا المعتق وابنه وعند أبي يوسف سدس الولاء للأب والباقي للابن وعند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى رحمة واسعة الولاء كله للابن ولا شيء للأب ولو ترك ابن المعتق وجده فالولاء كله للابن بالاتفاق ولو ترك أبا المعتق وابنه، اچھا اب ولاء کی صورت بنائیں، ولاء لیکن جو آزاد کرنے والا ہے اس کا انتقال ہو چکا، اس کا باپ بھی زندہ اور اس کا بیٹا بھی، معتق جو آزاد، ایک آدمی نے اپنے غلام کو آزاد کیا اور پھر اس آدمی کا انتقال ہو گیا۔ اب یہ جو غلام ہے جو پہلے غلام تھا، اب اس نے خوب مال کا مال لیا اور اس کا انتقال ہوا، اس کا کوئی رشتہ دار اور نہیں، تو ولاء کس کو ملے گی، مال کس کو ملے گا؟ آزاد کرنے والے کو اور وہ تو پہلے سے ہی انتقال کر چکا، تو اب کس کی طرف جائیں گے؟ اس کے نسبی عصبات کی طرف اور اس کے نسبی عصبات میں باپ بھی زندہ ہے اس کا اور اس کا بیٹا بھی زندہ ہے۔ تو کس کو دیں گے؟ جی! تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ولاء کا مستحق بیٹا ہے، کیونکہ وہ پہلے درجے کا عصبہ ہے، پہلے درجے کا بھئی۔ تو جب پہلے درجے والا ہو تو وہ مستحق ہو گا، وہ سارا مال وہ لے جائے گا بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح مالِ وراثت تقسیم ہوتا تھا اسی طرح ہو گا۔ مالِ وراثت بھئی، ایک شخص کا انتقال ہوا اور باپ اور بیٹا زندہ ہیں، کس طرح مال تقسیم کریں گے؟ شاباش! باپ عصبہ نہیں بنے گا، عصبہ کون بنے گا؟ بیٹا! تو باپ ہے، یرحمک اللہ، تو باپ صرف ذوی الفروض میں سے ہے اور اس کا کتنا حصہ ہے؟ سدس ہے، چھٹا حصہ، باپ کو چھٹا حصہ دے دیں گے اور باقی پانچ حصے مال کے وہ کون لے جائے گا؟ بیٹا اس کا حقدار ہو گا عصبہ ہونے کی بنا پر۔ تو یہاں پر بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی پانچ حصے کس کو ملیں گے؟ بیٹے کو، چھ میں سے پانچ حصے پھر باقی بیٹے کو مل جائیں گے۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک سارا مال کون لے جائے گا؟ بیٹا لے کر جائے گا بھئی، بیٹا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اثرِ ملک کو حقیقتِ ملک کے درجے میں اتار لیا۔ بھئی یہ ولاء کیا چیز ہے؟ اثرِ ملک ہے۔ کیا ہے؟ بھئی یہ اس کا مالک تھا نا، پہلے اس کو آزاد اس نے کیا۔ تو یہ اس ملکیت کا اثر ہے کہ اس کو اس کا مال ملتا ہے بھئی، تو یہ اثرِ ملک ہے۔ اور ایک ہے حقیقۃً ملک، ایک آدمی حقیقۃً جس چیز کا مالک ہو اور وہ مرے تو اس کے باپ کو چھٹا حصہ ملتا ہے اور بیٹے کو چھ میں سے پانچ حصے ملتے ہیں۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اثرِ ملک کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حقیقتِ ملک کے درجے میں، جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ حقیقتِ ملک نہیں ہے، حقیقۃً یہ اس کا مالک، یہ اس کے مالک مرنے والا اس کے مال کا مالک نہیں تھا بلکہ یہ اس کے مالک ہونے کا اثر ہے، تو یہ اس کی طرح نہیں ہو گا جس طرح مالِ وراثت تقسیم ہوتا ہے، بلکہ یہ عصبات میں سے جس کا درجہ سب سے قریب جو قوی ہے، وہ اس سارے مال کو لے جائے گا بھئی، لہٰذا کون حقدار ہو جائے گا سارے مال کا؟ بیٹا حقدار ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، اگر دادا اور بیٹا تھے، آزاد کرنے والے کا دادا اور بیٹا، تو اس صورت میں بالاتفاق طرفین کے نزدیک تو پہلے بھی حقدار کون تھا؟ بیٹا! اب بھی حقدار کون ہو گا؟ بیٹا! امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی یہاں آ کر فرماتے ہیں کہ یہاں صرف بیٹا حقدار ہو گا، دادا کا حصہ نہیں ہو گا بھئی دادا کا، اگرچہ ویسے مراثت میں دادا کو سدس ملتا ہے۔ وجہ اس کی وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ کیونکہ باپ اور بیٹا دونوں کا تعلق بغیر واسطے کے تھا، لیکن اب دادا جو آیا اس کا تعلق کس کے ذریعے ہے؟ واسطے سے ہے، لہٰذا اس وجہ سے مسئلہ مختلف ہو گا بھئی۔ ولو ترك، جی دیکھیے اب کتاب پر، ولو ترك أبا المعتق وابنه اور اگر چھوڑا کسی شخص نے آزاد کرنے والے کے باپ کو اور آزاد کرنے والے کے بیٹے کو، عند أبي يوسف رحمة الله امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، سدس الولاء للأب ولاء کا چھٹا حصہ جو ہو گا وہ باپ کے لیے ہو گا، والباقي للابن اور باقی اس کے بیٹے کے لیے ہو گا، وعند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى اور طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، الولاء كله للابن ولاء ساری کی ساری کس کے لیے ہو گی؟ بیٹے کے لیے ہو گی، ولا شيء للأب اور باپ کے لیے کچھ نہیں ہو گا، کوئی چیز باپ کے لیے نہیں ہو گی۔ ولو ترك ابن المعتق وجده اور اگر معتق کا انتقال ہوا اور اس نے چھوڑا، نہیں، ولو ترك وہ آزاد شدہ غلام کا انتقال ہوا اور اس کا اور پیچھے کوئی بھی رشتہ دار نہیں، معتق بھی نہیں ہے، صرف کون کون ہیں؟ معتق کا بیٹا اور دادا۔ ولو ترك ابن المعتق وجده اور اگر چھوڑا اس نے آزاد کرنے والے کے بیٹے کو اور اس کے دادا کو، فالولاء كله للابن بالاتفاق تو پھر ولاء جو ہے وہ ساری کی ساری بیٹے کے لیے ہو گی بالاتفاق، یعنی اس میں پھر تینوں ائمہ ہمارے ان کا اتفاق ہے بھئی۔ ومن ملك ذا رحم محرم منه عتق عليه۔ اچھا بھئی، ایک یہ من ملك ذا رحم، رحم بھی اس کو پڑھ سکتے ہیں حاء ساکن، اور رحِم بھی پڑھنا صحیح ہے حاء کے نیچے کسرہ پڑھیں بھئی۔ من ملك ذا، یہ حدیث ہے مولانا، من ملك ذا رحيم محرم جو شخص مالک ہوا ذا رحيم محرم ایسے قریبی رشتہ دار کا جو محرم بھی ہو اس کا، محرم منه، ایسے قریبی رشتہ دار کا جو اس کا محرم بھی ہو، عتق عليه، وہ اس پر آزاد ہو جائے گا بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو مالک بنتے ہی وہ فوراً خود بخود آزاد ہو جائے گا، یہ کہنے کی بھی نہیں ضرورت کہ میں نے تجھے آزاد کیا، خود بخود کیا ہو جائے گا؟ آزاد! لیکن دو چیزیں ذکر کی گئیں حدیث میں: ذا رحم بھی ہو، قریبی رشتہ دار بھی ہو، اور محرم بھی ہو اس کا۔ محرم کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ نکاح شریعت نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ محرم کہتے ہیں، جیسے بہن ہے، اس کے ساتھ شریعت نے نکاح کو حرام قرار دیا، تو یہ کیا ہے؟ محرم ہے، ماں ہے، پھوپھی ہے وغیرہ بھئی۔ تو دو شرطیں ذکر ہوئیں حدیث کے اندر بھئی، من ملك ذا رحم محرم منه، ایسا قریبی رشتہ دار جو اس کا محرم بھی ہو۔ قریبی رشتہ دار ہونا بھی ضروری اور محرم ہونا بھی ضروری بھئی۔ ہر قریبی رشتہ دار تو محرم نہیں ہوتا، چچا کی بیٹی، اب قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں، اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ اور بعض قریبی رشتہ دار تو نہیں ہوتے لیکن محرم ہوتے ہیں، جیسے رضاعی ماں، جبکہ وہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اب بچے نے اگر اس کا دودھ پیا اور اس مدتِ رضاعت کے اندر تو یہ اس کی رضاعی ماں بن گئی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ نکاح کیا ہو گیا؟ حرام، حقیقی ماں کی طرح بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب یہ قریبی رشتہ دار تو نہیں لیکن محرم ہے۔ تو حدیث میں آیا کہ ذا کوئی ہم قریب رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو اس قسم اس کا جو مالک بنے گا وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ فورا آزاد ہو جائے گا "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ" بھئی جو مالک ہوا "ذَا رَحِمٍ"، کس کا مالک ہوا؟ قریبی رشتہ دار "مَحْرَمٍ مِنْهُ" جو اس کا محرم ہو "عَتَقَ عَلَيْهِ" وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد مثلا، دونوں سور دونوں میں سے اگر ایک شرط بھی منتفی ہوئی یا دونوں منتفی ہوئیں، تو پھر وہ آزاد نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے کسی اجنبی کو خریدا بھئی، غلام تھا نہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار، تو پہلی صفت بھی منتفی اور نہ ہی اس کا وہ محرم ہے، تو دوسری صفت بھی منتفی، دونوں صفتیں منتفی ہوئیں لہٰذا وہ شخص اس پر آزاد نہیں، یہ اس کا خریدا ہے اس نے تو یہ اسی کا غلام بن گیا۔ دوسری صورت، پہلی شرط منتفی ہو گئی جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کر دی کسی نے اپنی رضاعی ماں کو خریدا، مثلا وہ باندی تھی یا بعد میں باندی بن گئی کسی وجہ سے بھئی، جنگ میں گرفتار ہوئی باندی بن گئی اور پھر اس نے اس کو خرید لیا تو یہ اس کی محرم تو ہے لیکن قریبی رشتہ دار نہیں۔ تیسری صورت، قریبی رشتہ دار ہو لیکن محرم نہ ہو جیسے چچازاد بھئی یا بہن اب وہ قریبی رشتہ دار ہیں لیکن محرم نہیں، تو ان میں سے کوئی مثلا غلام بن گیا غلام تھا اس نے اس کو خرید لیا تو ایک شرط منتفی ہے، ایک موجود ہے لہٰذا یہ آزاد نہیں ہوں گے۔ رضاعی ماں کو خریدا وہ بھی آزاد نہیں ہوگی، یہ چچازاد بھئی یا بہن کو خریدا یہ بھی اس پر آزاد نہیں ہوں گے۔ دونوں شرطیں پائی گئیں تو پھر آزاد ہو جائے گا مثلا کسی نے اپنے والد کو خریدا، تو یہ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے۔ بھئی محرم بھئی، دونوں طرف اگر مرد ہیں تو ان میں سے ایک کو فرض اگر عورت ہوتی تو وہ کیا بنتا؟ جی؟ تو ایک کو مون، دونوں طرف سے حرمت ہونی چاہیے بھئی۔ مثلاً ایک آدمی نے اپنے بھئی کو خریدا، بھئی کو تو دونوں قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور محرم بھی ہیں۔ بھئی محرم کیسے؟ یہ بھی مذکر، وہ بھی مذکر، بھئی دونوں کو باری باری عورتیں فرض کرو، دونوں طرف سے حرمت آتی ہو تو اس صورت میں دوسری شرط بھی پوری ہو جائے گی۔ ایک کو خرید، خریدنے والے کو مؤنث فرض کرو، خریدا مذکر کو اور خریدنے والا؟ تو یہ دونوں میں کیا رشتہ بنا؟ بہن بھئی ہوئے اور بہن بھائیوں میں نکاح کیا ہوتا ہے؟ حرام، اچھا۔ اب اس کو مذکر ہی رہنے دو، وہ جس کو خریدا ہے اس کو مؤنث فرض کر لو، ابھی کیا رشتہ بنا؟ بہن بھئی، رشتہ کیا ہوتا ہے ان دونوں میں؟ حرام ہوتا ہے، ایک دوسرے کے محرم ہیں بھئی۔ تو دونوں طرف اگر مذکر ہوں یا مؤنث ہوں تو اس کا عکس کر لیا کریں کہ ایک کو مذکر یا مؤنث بنا لیں بھئی، پھر دیکھ لیا کریں کہ ایک دوسرے کے محرم بنتے ہیں یا محرم نہیں بنتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خریدا اپنے والد کو بھئی، ایک شخص نے اپنے والد کو خریدا تو یہ قریبی رشتہ دار بھی اور محرم، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ سب کو؟ جی۔ اچھا، تو قریبی رشتہ دار بھی اور محرم بھی ہے تو لہٰذا خریدتے ہی فورا خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ جس لمحے ایجاب و قبول کرے گا اسی لمحے کے اندر فورا کیا ہو جائے گا والد؟ خود بخود آزاد ہو گیا کیونکہ حدیث میں کیا آیا ہے؟ "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ" جو مالک ہوا قریبی محرم رشتہ دار کا "عَتَقَ عَلَيْهِ" وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا بھئی، آزاد ہو جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں "وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ" یہ محرم یہ صفت ہے "ذَا رَحِمٍ" کی بھئی، یاد رکھنا۔ کس کی صفت ہے؟ "ذَا رَحِمٍ" کی۔ اور "ذَا رَحِمٍ" منصوب ہے مولانا "ذَا" "ذُو مَالٍ، ذَا مَالٍ، ذِي مَالٍ" تو حالت نصبی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ، تو یہاں دیکھو "ذَا رَحِمٍ" آیا، تو اس کی صفت کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ منصوب، تو یہ "مَحْرَمٍ" منصوب ہے لیکن اس پر جر پڑھا گیا، اس کو جر جوار کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جر جوار۔ تو یہ چونکہ اس سے ماقبل والے لفظ پہ جر آ رہا تھا تو اسی کے مطابق اس پر بھی حرکت پڑھ دی گئی بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جر جوار کہتے ہیں۔ تو اصل میں یہ صفت "ذَا رَحِمٍ" کی منصوب ہے بھئی۔ "وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ" اور جو مالک ہوا ایسے قریبی رشتہ دار کا جو اس کا محرم بھی ہو "عَتَقَ عَلَيْهِ" تو وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ "وَيَكُونُ وَلاَؤُهُ لَهُ بِقَدْرِ الْمِلْكِ" اور ولاء اسی کے لیے ہوگی ملکیت کے بقدر بھئی۔ اس کی ولاء اسی کے لیے ہوگی ملکیت کے بقدر بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہاں تو اس کا کوئی دخل نہیں تھا آزاد کرنے میں۔ اس نے کوئی زبان سے کہا: میں نے آزاد کیا آپ کو؟ نہیں، اس کے کہنے کی ضرورت ہی نہیں، بس حدیث میں آ گیا جو قریبی محرم کا مالک بنا وہ اس سے آزاد ہو جائے گا۔ تو جیسے ہی قبول ہوا فوراً ہی وہ کیا ہو گیا؟ ایجاب کے بعد جیسے ہی قبول ہوا وہ فوراً آزاد ہو گیا، تو لیکن بہرحال یہ سبب تو یہی بنا اس کی آزادی کا لہٰذا یہی شخص اس کی ولاء کا مستحق ہوگا۔ تو اب اس والد کا جب انتقال ہوا تو ولاء کا مستحق بھی کون ہوگا؟ یا مثلا بیٹی کی صورت بنا لیں، بیٹا تو ویسے ہی سارا مال لے جاتا ہے۔ تو یہ ولاء کی مستحق کون ہو جائے گی؟ بیٹی، اکیلی بیٹی ہو وہ تو نصف لے کر جاتی ہے، نصف سے زیادہ اس کو نہیں ملتا اکیلی ہو، دو یا دو سے زیادہ ہوں تو پھر کتنا ملتا ہے؟ ثلثان۔ لیکن اکیلی بیٹی کو نصف ملتا ہے، تو پھر اس صورت میں مس- اور کوئی عصبات میں سے، ذوی الفروض میں سے مال بچ گیا، عصبات نسبیہ میں سے کوئی نہ ہوا، تو بہرحال پھر ولاء کے طور پر یہ مال کون لے جائے گی؟ اس کی بیٹی لے جائے گی۔ اور اسی قدر جس قدر ملکیت تھی بھئی۔ اگر پوری قیمت دی تھی، پورے والد کو، اگر پورے والد کو، اگر غلام کو نصف خریدا تھا، نصف اس کی وجہ سے آزاد ہوا تو یہ نصف ولاء کی مستحق ہوگی۔ اگر ثلث خریدا تھا وہ ثلث آزاد ہو گیا تھا تو ثلث کے مستحق ہوگی، اور اگر پورا غلام خریدا تھا تو پوری ولاء کی مستحق ہو جائے گی۔ آگے صورت خود بتانے- بنائیں گے بھئی کہ جتنی ملکیت ہے اسی قدر ولاء آئے گی۔ تو کہتے ہیں: "وَيَكُونُ وَلاَؤُهُ لَهُ بِقَدْرِ الْمِلْكِ" اور ولاء اسی کے لیے ہوگی ملکیت کے بقدر "كَثَلاَثِ بَنَاتٍ" جیسے کہ تین بہنیں ہیں "لِلْكُبْرَى ثَلاَثُونَ دِينَارًا" بڑی کے جو ہیں 30 دینار ہیں، بڑی کے کتنے دینار ہیں؟ 30 دینار ہیں "وَلِلصُّغْرَى عِشْرُونَ دِينَارًا" اور چھوٹی کے بڑی کے پاس 30 دینار ہیں اور چھوٹی کے پاس 20 دینار ہیں "فَاشْتَرَتَا أَبَاهُمَا بِالْخَمْسِينَ" تو ان دونوں نے خرید لیا اپنے والد کو کتنا؟ 50 کے بدلے "ثُمَّ مَاتَ الأَبُ" پھر والد کا انتقال ہو گیا "وَتَرَكَ شَيْئًا" اور اس نے کوئی چیز یعنی کوئی مال وغیرہ چھوڑا۔ تو کتنی بہنیں ہیں؟ تین بہنیں ہیں بھئی "ثَلاَثِ بَنَاتٍ"، خریدا دو نے ہے بہنیں تین ہیں۔ اب بھئی، تین بہنیں چھوڑی ہیں مال کی، اور کوئی بھی نہیں ہے، مال کیسے تقسیم کریں گے؟ ایک بہن ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ اچھا، یہ ہیں تین، تو دو سے یا دو سے زیادہ ہوں تو کتنا ملے گا؟ ثلثان۔ معلوم ہوا کل مال کے تین حصے کریں گے اور تین میں سے دو حصے ان تین بہنوں میں برابر برابر تقسیم کر دیں گے۔ ایک ثلث یعنی ایک تہائی مال رہ گیا، اب وہ کیا کریں گے؟ کہتے ہیں اور تو کوئی رشتہ دار نہیں، وہ انہی بہنوں کو بطورِ ولاء کے مل جائے گا بھئی۔ چلیے بھئی، بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔
92 approved lectures · 20 of 92