Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-019

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب العصبات العصبات النسبية ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره. أما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى. آج ہم عصبات کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ عصبات کے بارے میں آپ نے اتنا تو پڑھ لیا کہ وہ ہیں جو کوئی اور وارث نہ ہو تو میت کا سارا مال لے جائیں، اور اگر اور وارث ہیں تو ان کا حصہ دینے کے بعد جو مال باقی بچتا ہے وہ سارا کا سارا مال لے جاتے ہیں، انہیں عصبات کہا جاتا ہے۔ جی تو کہتے ہیں: العصبات النسبية ثلاثة، نسبی عصبات جو ہیں وہ تین ہیں: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره۔ ایک عصبہ بنفسہ ہے، ایک عصبہ بغيرہ ہے، اور ایک عصبہ مع غيرہ ہے۔ أما العصبة بنفسه، تو عصبہ بنفسہ جو ہے، فكل ذكر، ہر وہ مذکر ہے، ہر وہ مرد ہے، لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، کہ داخل نہ ہو اس کی میت کی طرف نسبت میں کیا داخل نہ ہو؟ أنثى، کوئی مؤنث۔ یعنی میت کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ عصبہ بنفسہ ہر وہ مذکر ہے، یعنی ہر وہ مرد ہے، عورت نہیں بھئی، صرف کیا ہیں؟ مرد۔ ہر وہ مرد کہ میت کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ وهم أربعة أصناف، اور یہ چار قسم پر ہیں: جزء الميت، ایک میت کا جز بھئی، یعنی میت کی اولاد بھئی۔ میت کی اولاد: بیٹا، پوتا، مذکر صرف بھئی مذکر، بیٹا، پوتا، پڑپوتا، یہ نیچے تک بھئی، یہ سب کیا ہیں؟ جزء میت ہیں، میت کا جز ہیں بھئی۔ وأصله، أي اصل الميت، اور دوسرے، یہ پہلا درجہ تھا بھئی۔ جزء میت، یہ پہلے درجے والے ہیں۔ اور اصل میت، یہ دوسرے درجے والے ہیں بھئی۔ اصل میت یعنی میت کا والد، اور والد کا والد، اور پھر والد کے والد کا والد بھئی، اوپر کی طرف بھئی۔ یہ دوسرا درجہ ہے۔ پہلا درجہ کس کا؟ جزء میت یعنی میت کے بیٹے، پوتے وغیرہ بھئی۔ اور تو جب بیٹے یا پوتے وغیرہ میں سے کوئی بھی موجود ہو تو پھر میت کا جو باپ ہے وہ عصبہ نہیں بنے گا۔ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کا ایک بیٹا ہے اور والد زندہ ہے اور کوئی رشتہ دار نہیں، تو پھر کس طرح مال تقسیم کریں گے؟ باپ عصبہ نہیں بنے گا۔ البتہ باپ ذوی الفروض میں سے تو ہے، پہلے کس کو حصہ دیا جاتا ہے؟ ذوی الفروض کو دیا جاتا ہے، پھر جو مال بچتا ہے وہ عصبات لے کر جاتے ہیں۔ ذوی الفروض زیادہ ہوئے تو عصبہ کے لیے مال تھوڑا بچے گا۔ ذوی الفروض کم ہوئے تو عصبہ کے لیے مال زیادہ بچے گا۔ تو والد کو سدس دے دیں گے، چھٹا حصہ۔ اور عصبہ ہے بیٹا، تو باقی حصے چھ میں سے ایک حصہ والد کو دیا اور باقی پانچ حصے کس کے ہو جائیں گے؟ بیٹے کے ہو جائیں گے۔ بیٹا اگر نہیں تھا لیکن پوتا تھا تو وہ پانچ حصے پوتے کے ہو جائیں گے۔ اگر پوتا بھی نہیں تھا، پڑپوتا تھا تو یہ پانچ حصے کس کے ہو جائیں گے؟ پڑپوتے کے ہو جائیں گے۔ تو یہ ہے جزء میت۔ وأصله، اس کے بعد کس کا درجہ ہے؟ اصل میت یعنی میت کا باپ، دادا، پردادا وغیرہ بھئی۔ تو اگر جزء میت نہ ہو تو پھر یہ عصبہ بن جاتے ہیں۔ وجزء أبيه، اور میت کے باپ کا جز۔ یہ تیسرا درجہ آ گیا۔ بتلایا انہوں نے کہ عصبات یہ چار قسم پر ہیں: پہلا جزء میت، دوسرا اصل میت، تیسرا جزء اب بھئی، میت کے باپ کا جز بھئی۔ میت کے باپ کا جز کیا ہوئے میت کے؟ بھئی ہوئے اس کے۔ باپ کا جز ہیں، تو میت کے بھئی، اور بھائیوں کے نیچے جو مذکر اولاد ہے یعنی بھتیجے، اور ان کے نیچے چلے جائیں نیچے تک بھئی، یہ سارے تیسری قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ یہ سب کیا ہیں؟ میت کے باپ کا جز ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو اس میں حقیقی بھئی بھی داخل ہوئے اور ان کی اولاد بھی، مذکر اولاد۔ اور علاتی بھئی بھی اس کے اندر داخل ہوئے بھئی۔ پھر چوتھے نمبر پر وجزء جده، اور میت کے دادا کا جز بھئی۔ میت کے دادا کا جز کون ہیں؟ ہاں، باپ کے جو بھئی ہیں یعنی میت کے چچا، مرنے والے کے چچا۔ وہ چچا اس کے دادا کا جز ہے بھئی۔ تو چچا اور پھر چچا کے نیچے جو مذکر اولاد ہے، اور پھر ان کی جو نیچے مذکر اولاد ہے نیچے تک بھئی۔ تو پہلے درجے میں میت کی اولاد نیچے تک بھئی۔ دوسرے میں میت کے اصل: باپ، دادا، اور پردادا وغیرہ، یہ دوسرے درجے کے عصبات ہیں۔ تیسرا درجہ کس کا ہے؟ میت کے بھئی اور نیچے تک ان کی اولاد جو مذکر ہے بھئی۔ اور چوتھے نمبر پر میت کے چچا اور ان کے نیچے تک جو اولاد۔ تو لہٰذا اگر بیٹے ہوں تو پوتے، پڑپوتے اولا وہ عصبہ بنیں گے۔ ان میں سے کوئی نہیں ہے تو پھر اصول کی طرف چلے جائیں گے: باپ، دادا، پردادا وغیرہ میں سے کوئی زندہ ہے وہ عصبہ بن جائے گا۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں ہے پھر میت کے جو بھئی ہیں وہ کیا ہوں گے؟ عصبہ بنیں گے۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں ہے تو پھر میت کا چچا جو ہے وہ عصبہ بنے گا، اور یا اس سے اگر چچا نہیں ہے تو اس کی اولاد بنے گی يا اس کی اولاد کی اولاد بنے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جزء جد بھئی، اوپر تک یہ پھر سلسلہ چلتا جائے گا بھئی۔ اس جد کی اگر جز کوئی نہیں ہے تو پھر اس سے اوپر والے جد کا جز دیکھ لیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا پھر اس سے اوپر والے جد کا۔ تو کہتے ہیں: وهم أربعة أصناف، یہ چار قسم پر ہیں: جزء الميت، ایک میت کا جز ہے، وأصله، اور ایک میت کی اصل ہے، وجزء أبيه، اور ایک میت کے باپ کا جز، وجزء جده، اور میت کے دادا کا جز۔ الأقرب فالأقرب، قریب والے درجہ بدرجہ بھئی۔ یعنی جو جتنا قریبی ہو گا وراثت میں اس کا اتنا ہی قریبی مستحق وہ ہو گا بھئی۔ يرجحون بقرب الدرجة، ترجیح یہ ترجیح دیے جائیں گے درجہ کے قرب کے سبب سے بھئی، جس کا درجہ جتنا قریب اسی قدر اس کو ترجیح ہو گی۔ أعني أولاهم بالميراث جزء الميت، یعنی کہ ان میں اولیٰ زیادہ لائق جو ہیں میراث کے وہ جزء میت ہیں پہلے درجے والے، أي البنون، یعنی کہ بیٹے، ثم بنوهم، پھر ان کے بیٹوں کے بیٹے یعنی پوتے، وإن سفلو، اور اگرچہ نیچے تک ہوں بھئی، پڑپوتے وغیرہ۔ ثم أصله، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر أصله، أي الأب، میت کا جو اصل یعنی باپ ہے، ثم الجد، پھر دادا ہے، أي أبو الأب، یعنی باپ کا باپ۔ بھئی جد کا اطلاق عربی میں دادا پر بھی ہوتا ہے، نانا پر بھی ہوتا ہے، اس لیے اس کو بتلا دیا کہ جد سے یہاں ابو الاب مراد ہے، ابو الام مراد نہیں ہے بھئی۔ أي أبو الأب، یعنی باپ کا باپ، وإن علا، اگرچہ اوپر تک ہو: پردادا، لکڑدادا سب بھئی۔ ثم جزء أبيه، پھر تیسرے درجے پر کون ہے؟ اس کے باپ کے جز، أي الإخوة، یعنی بھئی، ثم بنوهم، پھر ان بھائیوں کے جو بیٹے ہیں یعنی بھتیجے وغیرہ، وإن سفلو، اگرچہ نیچے تک ہوں۔ ثم جزء جده، پھر اس کے دادا کا جز بھئی، أي الأعمام، یعنی کہ چچا ہیں، ثم بنوهم، پھر ان کے بیٹے ہیں، وإن سفلو، اگرچہ نیچے تک ہوں بھئی، نیچے تک بھئی۔ بھئی ایک شخص کا مثلاً انتقال ہوا۔ تو سب عصبات میں پہلا درجہ کس کا؟ بیٹے کا ہے۔ تو لہٰذا بیٹے عصبہ بنیں گے۔ اور ان میں بھی آپ نے پڑھا جو قریب والا ہے وہ حقدار ہو گا، دور والا محروم رہے گا۔ لہٰذا ایک بیٹے بھی ہیں، اور پوتے بھی ہیں، اور پڑپوتے بھی ہیں، سب زندہ ہوں تو مال کس کو دیا جائے گا؟ عصبہ کون بنیں گے؟ بیٹے بنیں گے، پوتے اور پڑپوتے وغیرہ محروم رہیں گے۔ چاہے وہ اسی بیٹے کے پوتے آگے اولاد ہو یا دوسرے بیٹے کی۔ مثلاً ایک شخص کے دو بیٹے تھے۔ ایک بیٹے کا اس کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا۔ لیکن جس بیٹے کا انتقال ہوا اس کی نیچے اولاد موجود ہے، اس کے پوتے، یعنی میت کے وہ پوتے اس شخص کے پوتے بن رہے ہیں۔ اس کے پوتے بن رہے ہیں، اس مرنے والے کے بیٹے زندہ ہیں۔ اب کیا ترتیب ہوئی؟ اس شخص کا انتقال ہوتا ہے، ایک اس کا بیٹا زندہ اور دوسرے بیٹے کی اولاد زندہ ہے۔ تو عصبہ کون بنے گا؟ بیٹا بنے گا۔ اور وہ پوتے جو ہیں، دوسرے بیٹے کی طرف سے، وہ محروم رہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا جہاں ایسی صورت پیش آئے تو اس شخص کو چاہیے کہ زندگی میں ہی پوتوں کو کچھ دے جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ورنہ تو وہ بالکل محروم رہیں گے، ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو ان کو کیا کرے؟ زندگی میں ہی کچھ نہ کچھ دے دینا چاہیے بھئی۔ ثم يرجحون بقوة القرابة، پھر یہ ترجیح دیے جائیں گے قوت قرابت کے اعتبار سے، یعنی جس کے ساتھ قرابت زیادہ ہو گی وہ ترجیح پا جائے گا دوسرے پر۔ کیا معنی؟ خود بتلا رہے ہیں: أعني به، مراد اس کے ذریعے یہ ہے أن ذا القرابتين أولى من ذي قرابة واحدة، کہ دو قرابتوں والا وہ اولیٰ ہو گا من ذی قرابة واحدة، ایک قرابت والے سے۔ جس کی دو قرابتیں ہیں وہ اولیٰ ہے، کس کے مقابلے میں؟ جس کی ایک قرابت ہو بھئی۔ مثلاً دیکھیے بھئی! پہلا درجہ کس کا؟ بیٹے کا۔ بیٹے میں اولاد: بیٹے، پوتے کوئی بھی نہیں ہیں۔ پھر کس کو دیں گے؟ باپ کو، دادا وغیرہ بھئی، ان میں سے جو قریب ہو گا۔ ان میں سے بھی کوئی نہ ہو پھر کس کو دیں گے؟ بھائیوں کو دیں گے۔ اب میت، مرنے والے کے بھئی دو قسم کے ہیں مثلاً: ایک حقیقی بھئی، اور ایک علاتی بھئی، یعنی صرف باپ شریک جو بھئی ہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھو درمیان میں اخیافی بھائیوں کی بات نہیں کر رہے، کیونکہ وہاں تو واسطہ عورت کا آ گیا۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ تو لہٰذا اخیافی بھائیوں کی بات نہیں۔ ہاں، علاتی بھئی رہ گئے اور حقیقی بھئی۔ اب علاتی بھئی جو ہیں ان کے ساتھ تعلق صرف باپ کے واسطے سے ہے، تو ایک قرابت ہوئی۔ اور حقیقی بھئی کے ساتھ قرابت باپ کے اعتبار سے بھی ہے اور ماں کے اعتبار سے بھی ہے، تو یہ ان کے ساتھ دو اعتبار سے قرابت ہوئی۔ اور علاتی بھائیوں کے ساتھ ایک اعتبار سے قرابت ہوئی۔ تو جس میں دو قرابتیں ہیں وہ ایک قرابت والے کے مقابلے میں اولیٰ ہے بھئی۔ تو حقیقی بھئی جب ہوں تو پھر علاتی بھئی عصبہ نہیں بنیں گے بھئی۔ کیونکہ ہم نے ضابطہ بتلا دیا: الأقرب فالأقرب بھئی۔ اور جو جس میں، جس میں قوت قرابت زیادہ ہو وہ اولیٰ ہے دوسرے کے مقابلے میں۔ ضابطہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ اسی طرح اگر بھائیوں میں سے بھی کوئی نہیں، حقیقی بھئی کا بھی انتقال ہو چکا، علاتی بھئی کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ البتہ حقیقی بھئی کا بیٹا ہے۔ اور اسی طرح علاتی بھئی کا بھی بیٹا ہے۔ تو ایک ہوا حقیقی بھتیجا، ایک ہوا علاتی بھتیجا۔ تو اولیٰ کون ہے؟ حقیقی بھتیجا۔ وہ میرا، وہ عصبہ بن جائے گا، علاتی بھتیجا اس کے ساتھ ہو تو پھر عصبہ نہیں بنے گا۔ اسی طرح اگر چچا بھئی، ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا تو پھر چوتھے درجے میں ہم چلے گئے بھئی۔ چوتھے درجے میں کون عصبہ ہے؟ چچا ہوں گے عصبہ۔ تو چچا پھر دو قسم کے ہو سکتے ہیں: حقیقی چچا اور علاتی چچا۔ تو ان میں سے مقدم کون ہو گا؟ حقیقی چچا مقدم ہو گا علاتی چچا پر۔ یا اگر یہ نہیں ہیں تو ان کی جو اولاد ہے، تو حقیقی چچا کی اولاد مقدم ہو گی علاتی چچا کی اولاد پر۔ أعني به أن ذا القرابتين أولى من ذي قرابة واحدة، اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ دو قرابتوں والا جو ہے وہ زیادہ لائق ہے ایک قرابت والے سے، ذكراً كان أو أنثى، مذکر ہو یا وہ مؤنث۔ چاہے وہ مذکر ہو، چاہے مؤنث ہو بھئی۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ابھی ہمیں بتایا عصبہ صرف مذکر ہوں گے، مؤنث نہیں۔ تو یہاں ذكراً كان أو أنثى کا کیا معنی؟ بھئی، یہ ویسے ایک ضابطے کے، ضابطہ ذکر کیا ہے انہوں نے کہ دو قرابتوں والا ایک قرابت کے مقابلے میں اولیٰ ہو گا۔ اس ضابطے پر بتا رہے ہیں، چاہے مذکر ہو چاہے عصبہ کے علاوہ۔ عصبہ کے عصبہ کے علاوہ یعنی مذکر کے علاوہ جہاں عورتیں بھی ایسی آ جائیں کہ ایک عورت کے ساتھ دو جہت سے رشتہ ہے اور ایک کے ساتھ ایک جہت سے رشتہ ہے تو کون سی اولیٰ ہو گی؟ دو جہت والی۔ جیسے حقیقی بہن، وہ اولیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ علاتی بہن کے مقابلے میں، جب بیٹی آ جائے۔ آپ نے پڑھا میت کی جب بیٹی ہو اور رشتہ دار نہیں ہیں اور ساتھ مرنے والے کی حقیقی بہن بھی ہے اور علاتی بہن بھی ہے تو وہ عصبہ بن جایا کرتی ہے۔ حدیث آپ نے پڑھی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة، بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ کیا بنا دو؟ عصبہ بنا دو۔ تو اب یہ حقیقی بہن بھی کیا بن رہی ہے؟ عصبہ۔ علاتی بہن بھی کیا بن رہی ہے؟ عصبہ۔ لیکن حقیقی بہن کے ساتھ کتنی قرابتیں؟ دو، باپ کی طرف سے بھی اور ماں کی طرف سے بھی۔ اور علاتی بہن کے ساتھ صرف باپ کی طرف سے قرابت ہے، تو لہٰذا حقیقی بہن اولیٰ ہے علاتی بہن کے مقابلے میں۔ لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلاّت، بے شک اعیان بنی الام جو ہیں، ماں کے بیٹوں میں سے جو عینی ہیں، اعیان بنی الام، ماں کے بیٹوں میں سے جو عینی ہیں، يتوارثون، وہ وارث ہوں گے دون بني العلاّت، نہ کہ علاتی بھئی، وہ نہیں بھئی۔ لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلاّت۔ أعيان بني الأم، بھئی اعیان جمع ہے عین کی، عین کی۔ اور عین کہتے ہیں عمدہ شے کو بھئی۔ عین کسے کہتے ہیں؟ عمدہ اور اعلیٰ شے کو کہتے ہیں۔ تو یہاں بنی الام آیا بھئی، بنی الام۔ بنی الام کا کیا معنی؟ ماں کے بیٹے۔ تو اس کے اندر حقیقی بھئی بھی داخل ہوئے کیونکہ وہ بھی مرنے والے کی ماں کے بیٹے ہیں، حقیقی بھئی۔ اور اخیافی بھئی بھی داخل ہوئے کہ والد تو الگ ہے لیکن ماں تو ایک ہی ہے، تو یہ بھی ماں کے بیٹے، مرنے والے کی ماں کے بیٹے۔ کون کون اس میں داخل ہوئے بنی الام میں؟ حقیقی بھئی اور اخیافی بھئی بھئی۔ اور مقصود یہ پر صرف حقیقی بھئی ہیں، اخیافی بھئی مراد نہیں کیونکہ وہ تو عصبات میں سے نہیں ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر بني الأم سے پہلے اعيان حدیث میں آیا بھئی، اعيان بني الأم۔ ماں کے بیٹوں میں سے جو اعلیٰ ہیں، عمدہ ہیں، اور ماں کے بیٹے دو قسم کے تھے: ایک حقیقی بھئی اور اخیافی بھئی، اور دونوں میں عمدہ کون ہیں؟ حقیقی بھئی عمدہ ہیں، ظاہر سی بات ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ وہاں پر وہ ماں باپ دونوں طرف سے شریک ہیں بھئی، ماں باپ شریک بہن بھئی۔ اچھا، تو اعيان بني الأم بھئی، اس سے کیا مراد ہوئے؟ حقیقی بھئی مراد ہوئے۔ یہ يتوارثون وہ وارث ہوتے ہیں دون بني العلاث نہ کہ علاتی بھئی بھئی۔ تو حدیث کا کیا معنی ہوا؟ إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلاث، حقیقی بھئی وارث ہوتے ہیں نہ کہ علاتی بھئی۔ کیوں؟ وجہ کیا؟ وجہ پیچھے انہوں نے ذکر کر دی بھئی، کہ حقیقی بھئی کے ساتھ دو طرف سے قرابت ہے بھئی، اور علاتی بھئی سے ایک قرابت ہے۔ علاتی بھئی سے قرابت ہے صرف باپ کے واسطے سے، جبکہ حقیقی بھئی کے ساتھ قرابت باپ کے واسطے سے بھی ہے اور ماں کے واسطے سے بھی ہے۔ تو لہٰذا جب حقیقی بھئی بھی موجود ہو اور علاتی بھئی بھی موجود ہو، تو حقیقی بھئی جو ہے وہ اولیٰ ہے، وہ عصبہ بنے گا نہ کہ علاتی بھئی بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ كالأخ لأب وأم، جیسے کہ أخ لأب وأم، یہ کیا ہے بھئی؟ أخ لأب وأم، حقیقی بھئی۔ والأخت لأب وأم، اور یہ کیا؟ حقیقی بہن۔ جیسے کہ حقیقی بھئی اور حقیقی بہن إذا صارت عصبة من البنت، جب کہ یہ حقیقی بہن عصبہ بن جائے من البنت کس کی وجہ سے؟ بیٹی کی وجہ سے۔ تو اولىٰ، تو یہ اولیٰ ہیں من الأخ لأب، یہ حقیقی بھئی اولیٰ ہے کس سے؟ من الأخ لأب، علاتی بھئی سے۔ اور وہ جو حقیقی بہن جب عصبہ بن گئی کس کی وجہ سے؟ بیٹی کی وجہ سے، تو یہ اولیٰ ہے والأخت لأب، علاتی بہن سے۔ من الأخ لأب والأخت لأب، یہ اولیٰ ہیں حقیقی بھئی سے اور علاتی بھئی سے۔ یہ اولیٰ ہیں علاتی بھئی سے اور علاتی بہن سے۔ اور اسی طرح وابن الأخ لأب وأم، ابن الأخ لأب وأم، یہ کیا بنا بھئی؟ الأخ لأب وأم، یہ تو ہو گیا حقیقی بھئی، اس کا بیٹا ابن الأخ لأب وأم، حقیقی بھئی کا بیٹا یعنی حقیقی بھتیجا۔ أولى من ابن الأخ لأب، یہ اولیٰ ہے کس سے؟ علاتی بھئی کے بیٹے سے۔ علاتی بھئی کے بیٹے یعنی علاتی بھتیجے سے، تو حقیقی بھتیجا اولیٰ ہے علاتی بھتیجے سے۔ وكذلك الحكم في أعمام الميت، اور اسی طرح حکم ہے میت کے چچاؤں میں بھی۔ ثم في أعمام أبيه، پھر میت کے باپ کے چچاؤں میں بھئی، اسی طرح ترتیب چلے گی یعنی حقیقی مقدم ہوگا کس پر؟ علاتی پر۔ ثم في أعمام جده، اور پھر میت کے دادا کے چچاؤں میں۔ و أما العصبة بغيره، اور باقی عصبہ بغیرہ جو ہے، فأربع من النسوة، وہ چار ہیں عورتوں میں سے۔ عصبہ بغیرہ، عصبہ بنفسہ تو صرف مرد تھے، عصبہ بغیرہ کون ہیں؟ کہتے ہیں فأربع من النسوة، وہ چار ہیں عورتوں میں سے۔ معلوم ہوا عصبہ بغیرہ عورتوں کا نام ہے بھئی، وہ ہیں صرف بھئی۔ وہن اللاتي، اور یہ وہ عورتیں ہیں فرضهن، کہ ان کا حصہ جو تھا، النصف والثلثان، نصف تھا اور ثلثان، دو ثلث بھئی۔ بھئی کس کس کا حصہ نصف اور ثلثان تھا؟ بیٹی جب اکیلی ہو تو اس کو بھی نصف ملتا ہے اور دو سے زیادہ، دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ثلثان۔ بیٹی کے بجائے اگر پوتی، پڑ پوتی ہو اور وہ ایک ہو تو نصف اور دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ثلثان۔ اور اسی طرح بھئی، حقیقی بہن، وہ ایک ہو تو نصف، دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ثلثان۔ اور اسی طرح علاتی بہن۔ تو چار عورتیں ہوئیں جو ذوی الفروض میں سے ہیں بھئی، چاروں کی چاروں، وہ عصبہ بغیرہ ہیں بھئی۔ ایک حقیقی، حقیقی بیٹی، دوسرا پوتی، اور حقیقی بہن اور علاتی بہن، یہ چار عورتیں ہیں بھئی۔ لکھا فرضهن النصف والثلثان، جن کا فرض کیا ہے؟ نصف اور ثلثان۔ معلوم ہوا یہ ذوی الفروض ہی میں سے ہیں۔ يصرن عصبة باخوتهن، یہ عصبہ بن جائیں گی اپنے بھائیوں کی وجہ سے، كما ذكرنا في حالاتهن، جیسے کہ ہم نے ذکر کیا ان کے حالات میں۔ تو ان کے ساتھ ان کا بھئی آ گیا تو پھر وہ یہ ذوی الفروض سے نکل کر کس میں چلی جائیں گی؟ عصبہ میں بھئی۔ ومن لا فرض لها من الإناث، اور وہ جس کے لیے کوئی حصہ نہ ہو من الإناث عورتوں میں سے، وأخوها عصبة، اور اس کا بھئی کیا ہو؟ بھئی وہ عورت جس کا، جو ذوی الفروض میں سے نہیں ہے، لیکن اس کا بھئی کیا بن جاتا ہے؟ عصبہ بن جاتا ہے۔ فلا تصير عصبة بأخيها، تو یہ عورت اپنے بھئی کی وجہ سے عصبہ نہیں بنے گی۔ بھئی کی وجہ سے صرف وہ عورت عصبہ بنے گی جو ذوی الفروض میں سے بھی ہو۔ بھئی کی وجہ سے صرف وہ عورت عصبہ بنے گی جو، اور جو عورت ذوی الفروض میں سے نہیں، لیکن اس کا بھئی کس میں سے ہے؟ عصبات میں سے ہے، تو پھر یہ عورت عصبہ نہیں بنے گی اس کے ساتھ۔ یہاں اگر مال بچا اور بھئی اور بہن اکٹھے ہوئے یہ والے اس، تو پھر یہاں جو بھئی ہے صرف وہ عصبہ بنے گا اور اس کی بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔ مثلاً بھئی، چچا کس میں سے ہے؟ عصبات میں سے، آپ نے ابھی پڑھا۔ تیسرے درجے پر ہے وہ۔ بیٹے بھی نہ ہوئے، اصولِ میت بھی نہ ہوئے، تو پھر، چوتھے پر ہے، چوتھے پر۔ پھر بھئی بھی نہ ہوئے تو چوتھے پر عصبہ کون بن جائے گا؟ چچا۔ چچا تو عصبہ بن رہا ہے، اس چچا کی جو بہن ہے وہ بھی زندہ ہے، یعنی پھوپھی۔ تو کیا پھوپھی بھی چچا کے ساتھ عصبہ بنے گی، ان میں للذكر مثل حظ الأنثيين کا لحاظ رکھیں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، پھوپھی ذوی الفروض میں سے ہے؟ جی؟ نہیں، ذوی الفروض میں سے پھوپھی نہیں ہے، لہٰذا پھوپھی کو کچھ بھی نہیں ملے گا، صرف کس کا، سارا مال کون لے جائے گا؟ چچا لے جائے گا۔ باقی ذوی الفروض کو دے دیں گے، پھوپھی نہیں بنے گی عصبہ۔ تو کہتے ہیں ومن لا فرض لها من الإناث، اور وہ جس کا کوئی حصہ نہ ہو عورتوں میں سے، وأخوها عصبة، اور اس کا بھئی عصبہ ہو، فلا تصير عصبة بأخيها، تو وہ عورت عصبہ نہیں بنے گی اپنے بھئی کی وجہ سے، كالعم والعمة، جیسے چچا اور اماں پھوپھی۔ المال كله للعم دون العمة، مال تو مال جو ہے وہ سارا کا سارا، یرحمک اللہ، تو مال جو ہے سارا کا سارا چچا کے لیے ہوگا دون العمة نہ کہ پھوپھی کے لیے۔ وأما العصبة مع غیرہ، اور باقی جو عصبہ مع غیرہ جو ہے، فكل أنثى، ہر وہ مؤنث ہے، تصير عصبة مع أنثى أخرى، کہ وہ عصبہ بن جائے دوسری مؤنث کے ساتھ۔ عصبہ مع غیرہ کیا ہے؟ ہر وہ مؤنث جو کسی دوسری مؤنث کے ساتھ کیا بن جائے؟ عصبہ۔ پہلے عصبہ بغیرہ تو وہ تھی جو اپنے بھائیوں کی وجہ سے عصبہ بن رہی تھی، اور کچھ وہ ہیں جو دوسری عورتوں کی وجہ سے عصبہ بن جائیں۔ جیسے کہ وہ حدیث آئی تھی بھئی، اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة، کہ بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنا دو۔ تو کہتے ہیں وأما العصبة مع غیرہ فكل أنثى تصير عصبة مع أنثى أخرى كالأخت مع البنت، جیسے کہ بہن ہے بیٹی کے ساتھ، لما ذكرنا، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی، یعنی وہ جو حدیث ہے اس کی وجہ سے یہ کیا بن جاتی ہیں؟ عصبہ بنتی ہیں۔ تو یہ عصبہ مع غیرہ ہیں بھئی۔ ذوی الفروض تو صرف بارہ ہیں، اور عصبات آپ نے پڑھا کہ وہ تو، وہ مذکر جس کے ساتھ درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے۔ عورت کا واسطہ نہ آئے، اور عصبات کسی کے نہ ہوں یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔ کسی کا کوئی عصبہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، جتنے فاروقی ہیں، نسبت ہے ان کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف، ان کی اولاد میں سے ہیں۔ تو یہ سارے کہیں نہ کہیں اوپر جا کر ملتے چلے جائیں گے یا نہیں بھئی؟ بھئی، قریب والے عصبات میں کوئی نہیں دیکھا، بیٹا، اولاد وغیرہ نہیں، دادا، پردادا وغیرہ نہیں، چچا وغیرہ کوئی نہیں، بھئی کوئی نہیں، لیکن یہ جو سلسلہ اوپر جا رہا ہے، ایک شخص فاروقی ہے، دوسرا بھی فاروقی اپنے آپ کو کہتا ہے، تو معلوم ہوا کہیں نہ کہیں اوپر جا کر ان کا نسب مل رہا ہے۔ تو اور پھر وہاں سے اس شخص کے، یعنی کہ سلسلہ نسب الگ ہے، اس آدمی کا الگ، لیکن درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں، کیونکہ نسب تو چلتا ہی کس سے ہے؟ باپ سے۔ وہ اپنے آپ کو فاروقی کہہ رہا ہے، معلوم ہوا مردوں کے واسطے سے اس کا نسب اوپر تک جا رہا ہے۔ یہ بھی اپنے آپ کو فاروقی کہتا ہے، معلوم ہوا اس کا بھی نسب مردوں کے واسطے سے اوپر تک جا رہا ہے۔ تو پھر وہاں جا کر جہاں مل گئے، وہیں سے پھر واپسی کی طرف اتریں گے تو کہاں تک پہنچ جائیں گے؟ اس دوسرے آدمی تک پہنچ جائیں گے اور درمیان میں کسی عورت کا واسطہ آیا؟ نہیں آیا، تو یہ عصبہ ہو گیا اس کا۔ تو یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کسی کا عصبہ نہ ہو۔ دسویں پشت، بیسویں پشت، چالیسویں، پچاسویں پشت میں کتنے ہی ساتھ مل جائیں گے، لیکن اب یہ پتا نہیں کون کس پشت میں جا کر ملتا ہے۔ یہ علم ہی نہیں ہے۔ پتا چلے گا تو طے کریں گے، جو قریب والا ہوگا وہ مستحق ہوگا، دور والا کیا ہو جائے گا؟ محروم ہو جائے گا۔ تو چونکہ یہ علم ہو ہی نہیں سکتا کہ کون سا کس پشت میں جا کر مل رہا ہے اور کون مستحق ہے، فاروقی تو ہزاروں ہوں گے، لاکھوں ہوں گے، لیکن کون مستحق ہے ان میں سے بھئی درجے کے اعتبار سے؟ یہ پتا ہی نہیں چل سکتا بھئی۔ تو لہٰذا جب پتا ہی نہیں چل سکتا، تو یوں سمجھا جائے گا اس کا گویا کوئی عصبہ ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ذوی الفروض کوئی نہیں، لیکن عصبات تو ہر حال میں ہوں گے ضرور، لیکن ان کا پتا جب نہیں چل سکتا، تو اس عدمِ علم کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ وجود کے درجے میں، گویا کوئی ہے ہی نہیں، اور پھر مال کس کو دے دیا جاتا ہے؟ ذوی الارحام کو دے دیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی سب کو؟ تو عصبہ تو ہر حال میں ہوگا، لیکن ہمیں پتا نہیں ہوتا بعض صورتوں میں بڑی اوپر جا کر ایک آدمی کی سلسلہ ملتا ہے دوسرے سے، علم نہیں ہو سکتا، تو عدمِ علم کو عدمِ وجود کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے، گویا اس کا کوئی عصبہ ہے ہی نہیں۔ جب ذوی الفروض بھی کوئی نہیں، عصبہ بھی کوئی نہیں، تو پھر بالآخر مال کس کو دے دیا جاتا ہے؟ ذوی الارحام کو دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ صورت بہت کم پیش آتی ہے بھئی، بہت کم پیش آتی ہے۔ کہ مال کس کو دینا پڑے؟ ذوی الارحام کو دینا پڑے بھئی۔ اس لیے عموماً یہ حصہ پڑھایا بھی نہیں جاتا بھئی، لیکن بہرحال مسائل تو ہیں، پتا تو ہونا چاہیے، کبھی تو پیش آ سکتی ہے ایسی صورت بھئی۔ تو ذوی الارحام کا باب شروع کر رہے ہیں ہم، اس سے پہلے عصبات کی تفصیل آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے۔ عصبات۔ تو عصبات کی بحث کا خلاصہ ایک مرتبہ پھر سن لیں بھئی۔ عصبات کی بحث کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا عصبہ تین قسم پر ہے: ایک عصبہ بنفسہ، ایک عصبہ بغیرہ، ایک عصبہ مع غیرہ۔ عصبہ بنفسہ تو وہ مرد ہیں کہ جن کا ساتھ درمیان میں، جن کے ساتھ رشتہ جڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے۔ جیسے بیٹا ہے، پوتا ہے، پڑپوتا ہے، اوپر کی طرف چلے جائیں باپ، دادا ہے، پردادا ہے، اور اطراف میں چلے جائیں بھئی ہے، حقیقی بھئی ہے، علاتی بھئی ہے، چچا ہے، حقیقی چچا، حقیقی تایا۔ چچا میں سب داخل ہیں بھئی، اردو میں تو بڑا بھئی ہو جو والد کا اس کو تایا کہتے ہیں، اور جو چھوٹا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ چچا۔ لیکن یہاں چچا کا لفظ یاد رکھنا بس عام ہے، چھوٹا ہو یا بڑا دونوں شامل ہیں اس میں۔ تو حقیقی چچا ہو یا علاتی چچا ہو، اگر وہ نہیں ہے تو اس کی اولاد، مذکر اولاد، اگر مذکر اولاد نہیں ہے تو مذکر اولاد کی اولاد آگے۔ اس سے بھی اوپر چلے جائیں، والد کے جو چچا ہیں، اگر وہ نہیں تو ان کی جو مذکر اولاد ہے، اگر وہ بھی نہیں تو اس سے اوپر چلے جائیں، دادا یا دادا کی جو مذکر اولاد ہے، یعنی دادا کے، تو دادا کے مذکر اولاد، پھر آگے ان کی، دادا کی اولاد کی مذکر اولاد۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ ہیں عصبہ بنفسہ وہ مرد جن کے ساتھ میت کا رشتہ جڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے، اسے عصبہ بنفسہ کہتے ہیں۔ اور عصبہ بغیرہ بھئی وہ چار عورتیں ہیں۔ چار عورتیں جو ذوی الفروض میں سے ہیں، لیکن جب ان کے ساتھ ان کے بھئی مل جاتے ہیں تو وہ عصبہ بن جاتی ہیں۔ وہ چار عورتیں کون کون سی ہیں؟ بیٹی ہے، اور پوتی نیچے تک بھئی، اور حقیقی بہن اور علاتی بہن۔ یہ ان چار، یہ چاروں ذوی الفروض میں سے ہیں، لیکن ان کے ساتھ جب بھی ان کا کوئی بھئی آ جائے گا تو بھئی کی وجہ سے یہ کیا بن جائیں گی؟ عصبہ، اور للذكر مثل حظ الأنثيين کے طریقے پر پھر مال ان میں تقسیم ہوتا ہے، یہ تھیں عصبہ بغیرہ۔ یاد رکھیے، جو عصبہ، وہ عورتیں جو عصبہ بغیرہ نہیں ہیں، نہیں، یوں کہیں، جو عورتیں ذوی الفروض نہیں ہیں، وہ اپنے بھئی کے ساتھ آ بھی جائیں تو وہ عصبہ نہیں بنیں گی۔ یہ آپ پڑھ چکے ہیں عصبات کے باب میں بھئی، وہ عورتیں جو ذوی الفروض میں سے نہیں ہیں۔ مثلاً بھئی، اور کوئی رشتہ دار نہیں، نیچے کی طرف بھی کوئی مذکر اولاد نہیں، اوپر کی طرف بھی کوئی مذکر زندہ نہیں، ہاں والد کا بھئی زندہ ہے، یعنی چچا۔ چچا زندہ ہے۔ اور چچا کے ساتھ والد کی بہن یعنی پھوپھی بھی زندہ ہے۔ اب یہاں پر صرف چچا ہے اور ساتھ پھوپھی ہے، تو کیا ان میں بھی مال اسی طرح تقسیم ہوگا للذكر مثل حظ الأنثيين، کیا پھوپھی بھی عصبہ بن جائے گی چچا کے ساتھ؟ نہیں بھئی، ضابطہ یاد رکھنا۔ پھوپھی ذوی الفروض میں سے ہے؟ جی؟ وہ عورت اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بنے گی جس جو ذوی الفروض میں سے بھی تھی۔ حقیقی بہن، علاتی بہن، بیٹی، پوتی وغیرہ، یہ ذوی الفروض میں سے بھی تھیں، یہ جب اپنے، جب ذوی الفروض میں سے ہیں، پھر جب یہ اپنے بھئی کے ساتھ جمع ہوں گی تو کیا بنیں گی؟ عصبہ۔ اور جو ذوی الفروض میں سے ہی نہیں ہے، وہ عورت اپنے بھئی کے ساتھ جمع ہو کر کبھی بھی عصبہ نہیں بنے گی۔ لہٰذا اس صورت میں چچا ہے اور چچا کی بہن ہے، تو صرف چچا کو مال ملے گا، بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ اگر پھوپھی ذوی الفروض میں سے ہوتی تو پھر اس کو یہ بھی عصبہ اس کے ساتھ بن جاتی۔ لیکن عصبہ ذوی الفروض تو 12 افراد آپ نے پڑھے، ان میں پھوپھی کا ذکر نہیں تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ (جی ہاں)۔ جی، الحمدللہ۔ اور ایک ہے عصبہ مع غیرہ بھئی۔ یہ تو اس سے پہلے گزرے عصبہ بغیرہ۔ ایک عصبہ مع غیرہ، وہ کون ہے؟ وہ میت کی بہن حقیقی یا علاقی بہن جب وہ میت کی بیٹی کے ساتھ جمع ہو جائے۔ حدیث نہیں آئی تھی بھئی؟ "بہنوں کو کیا کرو بیٹیوں کے ساتھ؟" (عصبہ) عصبہ بنا دو۔ تو یہ بیٹیوں کے ساتھ مل کر عصبہ بنیں گی اور ما بقیہ مال لے لیں گی بھئی اس حدیث کی وجہ سے۔ تو یہ ہیں عصبہ مع غیرہ۔ یہ دیکھو، اپنے بھئی کی وجہ سے عصبہ نہیں بن رہیں، بلکہ کس کی وجہ سے بن رہی ہیں؟ (بیٹی) غیر کے ساتھ مل کر یہ عصبہ بن رہی ہیں، اس لیے ان کو عصبہ مع غیرہ کہتے ہیں۔ تو گویا عصبات کتنی قسم پر ہوئے؟ تین قسم پر: ایک عصبہ بنفسہ اور ایک عصبہ بغیرہ اور ایک عصبہ مع غیرہ۔ اب عصبہ بنفسہ کے اندر آپ نے پڑھا تھا چار درجے ہیں بھئی۔ چار درجے۔ یاد رکھیے! سب سے پہلے مال پہلے درجے والوں کو دیتے ہیں، ان میں دیکھتے ہیں کوئی ہے یا نہیں۔ اگر وہ اس میں سے کوئی نہ ہو، پھر کس کی طرف جاتے ہیں؟ (دوسرے) دوسرے درجے کی طرف۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں، پھر کہاں کدھر جائیں گے؟ تیسرے۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں، پھر کہاں جائیں گے؟ چوتھے درجے کی طرف ترتیب آپ پڑھ چکے بھئی۔ لہٰذا اگر کوئی دوسرے درجے والا موجود ہے، تو تیسرے کی طرف نہیں جائیں گے بھئی، تیسرے اور چوتھے درجے والے محروم رہیں گے۔ اگر پہلے درجے والا کوئی موجود ہے، تو دوسرے، تیسرے اور چوتھے تینوں درجات والے محروم رہیں گے بھئی۔ اب پہلے درجے میں کون ہیں؟ وہ میت کے اولاد ہیں، مذکر بھئی۔ بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ نیچے تک بھئی۔ یہ پہلے درجے میں ہیں جو میت کے فروع ہیں، فروع۔ اور دوسرے درجے میں میت کے اصول ہیں بھئی۔ باپ، دادا، پردادا وغیرہ اوپر تک بھئی۔ یہ دوسرے درجے میں ہیں۔ اگر نیچے والے موجود ہیں، تو پھر اوپر والوں کو کچھ نہیں، دوسرے درجے والوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ تیسرے درجے پر ہیں جو میت کے بھئی اور حقیقی بھئی اور علاقی بھئی اور آگے ان کی اولاد مذکر۔ حقیقی بھئی اور علاقی بھئی اور ان کی مذکر اولاد۔ اور چوتھے درجے میں میت کے چچا اور ان کی مذکر اولاد نیچے، بھئی۔ چار درجات سمجھ میں آگئے؟ (جی)۔ پہلے درجے پہ کون ہیں؟ (میت کی) میت کی مذکر اولاد۔ دوسرے درجے پر؟ میت کے مذکر جو اصول ہیں، اوپر کی طرف۔ اور تیسرے درجے پر؟ جو میت کے برابر میں ہیں، یعنی میت کے بھئی، حقیقی بھئی اور علاقی۔ اور آگے انہی کی اولاد بھی وہ بھی اسی درجے میں ہے۔ اور چوتھے درجے میں میت کے چچا اور ان کی اولاد بھی جو مذکر ہے، وہ اسی درجے میں ہے۔ اور اسی میں پھر آگے یہ تو میت کا چچا تھا، اس سے آگے جائیں گے، پھر باپ کا جو چچا ہو اور اس کی مذکر اولاد، اس سے آگے جائیں گے جو دادا کا جو چچا ہو اور اس کی مذکر اولاد، یہ سب چوتھے درجے میں ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہوگئی بھئی؟ (آگئی)۔ اچھی طرح؟ (جی)۔ ہاں، یہ عصبات کا باب خوب اچھی طرح آنا چاہیے، کیونکہ اگر ان میں سے کوئی ہو تو اس کو مال ملے گا پھر بھئی، ذوی الارحام کو پھر نہیں ملے گا۔ اچھا! اب ان کی ترتیب کس طرح ہے بھئی؟ ترتیب لکھ لیجیے بھئی، جلدی جلدی۔ جلدی لکھیے! اوپر لکھیے بھئی "نقشہ عصبات ترتیب وار"۔ نقشہ عصبات ترتیب وار۔ اس کے نیچے لکھ لیجیے "درجہ اول کے عصبات"۔ درجہ اول کے عصبات۔ لکھ لیا بھئی؟ (جی)۔ اس سے نیچے لکھیے، اب نمبر دیتے جائیے: 1۔ میت کا بیٹا۔ اسی سے آگے لکھیں، 2۔ پوتا۔ 3۔ پڑپوتا۔ 4۔ نمبر چار کیا ہوگا بھئی؟ (جی؟) (سکڑ پوتا) سکڑ پوتا کہ لکڑ پوتا؟ (جی؟) (لکڑ پوتا)۔ اچھا، چلیں جو بھی ہو، لکڑ پوتا چلیں لکھ لیں بھئی۔ نمبر چار لکڑ پوتا۔ 5۔ سکڑ پوتا۔ یعنی یہ اوپر سے نیچے کی طرف ہم جا رہے ہیں، ترتیب سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ (جی)۔ نام چاہے کسی کوئی کچھ کہتا ہو، کوئی کچھ کہتا ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم اوپر سے نیچے کی طرف جا رہے ہیں، ترتیب سے بھئی۔ کتنے ہوگئے؟ (پانچ)۔ پانچ عصبات۔ سب سے پہلے بیٹے کو دیں گے، بیٹا نہ ہوا تو پھر پوتے کو دیں، پوتا بنے گا عصبہ۔ پوتا نہ ہوا تو پڑپوتا بنے گا، پڑپوتا نہ ہوا تو...۔ جی، ہاں ان میں سے اگر کوئی بھی نہیں پہلے درجے والوں میں سے، پھر ہم جائیں گے درجہ ثانی کی طرف بھئی۔ نیچے لکھیے "درجہ دوم" بھئی۔ درجہ دوم۔ کتنے ہوگئے بھئی اوپر؟ (پانچ)۔ اچھا، آخری کیا لکھا تھا اوپر پانچ؟ (سکڑ پوتا)۔ اسی کے آگے لکھ لیجیے ایک دو لفظ بھی بھئی، "نیچے تک"۔ نیچے تک۔ تاکہ بات یاد رہے بھئی، نیچے تک۔ یہ سارا پہلا درجہ ہی چل رہا ہے، نیچے تک۔ آگے کیا لکھا آپ نے؟ (درجہ دوم)۔ 6۔ چھ نمبر پر لکھیے بھئی، میت کا باپ۔ 7۔ سات نمبر پر لکھیے، دادا۔ 8۔ آٹھ نمبر پر لکھیے، پردادا۔ 9۔ نو نمبر پر لکھیے، لکڑ دادا۔ 10۔ 10 نمبر پر لکھ لیجیے بھئی، سکڑ دادا۔ بس یہ ترتیب ہے، اوپر کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ آپ جو بھی نام رکھیں ان کے بھئی، چاہے سکڑ دادا کو پہلے ہی لکھ، پہلے کا نام سکڑ دادا رکھ لیں، اس کے بعد والے کا لکڑ دادا رکھ لیں، لیکن بس ترتیب یاد رکھنا بھئی۔ آخر میں آگے لکھ لیجیے بھئی، "اوپر تک"۔ اوپر تک۔ بھئی، درجہ اول والا کوئی موجود ہو تو درجہ ثانی کی طرف قطعاً نہیں جانا، اول والے عصبہ بنیں گے۔ کوئی بھی ہو نیچے تک۔ اگر ان میں سے کوئی نہیں، پھر ہم کہاں آئیں گے؟ درجہ دوسرے درجہ میں آئیں گے اور وہ پھر آخر تک بھئی۔ آگے لکھیے "درجہ سوم" بھئی۔ 11۔ 11 نمبر بھئی، حقیقی بھئی۔ 12۔ 12 نمبر، علاقی بھئی۔ 13۔ 13 نمبر، حقیقی بھئی کا بیٹا۔ 14۔ 14 نمبر، علاقی بھئی کا بیٹا۔ 15۔ 15 نمبر، حقیقی بھئی کا پوتا۔ 16۔ 16 نمبر، علاقی بھئی کا پوتا۔ 17۔ 17 نمبر، حقیقی بھئی کا پڑپوتا۔ 18۔ 18 نمبر، علاقی بھئی کا پڑپوتا۔ بھئی لکھ رہے ہیں یا میں زیادہ تیز تو نہیں لکھوا رہا؟ (نہیں)۔ لکھ لیا ہے؟ (جی، جی، جی)۔ بھئی، دوبارہ سن لو! 11 نمبر ہے حقیقی بھئی، 12 نمبر ہے علاقی بھئی، 13 نمبر ہے حقیقی بھئی کا بیٹا، 14 نمبر ہے علاقی بھئی کا بیٹا۔ 15 نمبر ہے حقیقی... بھئی، ترتیب یاد رکھو آپ خود۔ اول، پہلے درجے والا کوئی نہیں، میت کے فروع میں سے کوئی نہیں۔ دوسرے نمبر پر میت کے اصول میں سے بھی کوئی نہیں۔ اب وہ جو میت کے برابر ہیں، یعنی بھئی۔ ان میں پہلا درجہ کس کا؟ حقیقی بھئی کا۔ اس کے بعد، اگر حقیقی بھئی نہ ہوا تو کون؟ (علاقی بھئی) علاقی بھئی۔ اچھا، حقیقی بھئی بھی نہیں، علاقی بھئی بھی نہیں، تو پھر حقیقی بھئی کا بیٹا۔ اگر حقیقی بھئی کا بیٹا نہیں، تو پھر کون؟ (علاقی بھئی کا بیٹا) علاقی بھئی کا بیٹا۔ اگر علاقی بھئی کا بیٹا بھی نہیں، تو پھر دیکھو حقیقی بھئی کا پوتا ہے، تو وہ۔ اگر حقیقی بھئی کا پوتا بھی نہیں، تو پھر کس کا حق؟ (علاقی بھئی کا پوتا) علاقی بھئی کا پوتا۔ اگر حقیقی بھئی کا بھی پوتا ہے، علاقی بھئی کا بھی پوتا ہے، تو کون مقدم ہے بھئی؟ (حقیقی بھئی) حقیقی بھئی والا مقدم۔ یہ ترتیب میں لکھوا رہا ہوں آپ کو اسی لیے بھئی۔ اچھا، حقیقی بھئی کا پوتا بھی نہیں، علاقی بھئی کا پوتا بھی نہیں، تو پھر؟ (حقیقی بھئی کا پڑپوتا) حقیقی بھئی کا پڑپوتا۔ اور اگر وہ بھی نہ ہو تو؟ (علاقی بھئی کا) علاقی بھئی کا پڑپوتا۔ یہ کتنے ہوگئے؟ (18) 18 تک۔ آگے لکھیں "اسی ترتیب سے نیچے تک"۔ اسی ترتیب سے نیچے تک۔ آگے لکھیے "درجہ چہارم"۔ درجہ چہارم۔ 19۔ 19 نمبر پر لکھیے، حقیقی چچا۔ 20۔ 20 نمبر پر لکھیے، علاقی چچا۔ 21۔ 21 نمبر پر لکھیے، حقیقی چچا کا بیٹا۔ 22۔ 22 نمبر پر لکھیے، علاقی چچا کا بیٹا۔ 23۔ 23 نمبر پر لکھیے، حقیقی چچا کا پوتا۔ 24۔ 24 نمبر پر لکھیے، علاقی چچا کا پوتا۔ 25۔ 25 نمبر پر لکھیے، حقیقی چچا کا پڑپوتا۔ 26۔ 26 نمبر پر لکھیے، علاقی چچا کا پڑپوتا۔ آگے لکھیے "اسی ترتیب سے نیچے تک"۔ اسی ترتیب سے نیچے تک۔ ترتیب سمجھ میں آرہی ہے یہاں بھی بھئی؟ (جی)۔ حقیقی اور علاقی دونوں چچا موجود ہوں، تو کس کو دیں گے؟ (حقیقی چچا) حقیقی چچا مقدم ہے، کیونکہ اس کی رشتہ داری دو جانب سے ہے، ماں کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی، اور آپ پڑھ چکے ہیں دو قرابتوں والا اولیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ ایک قرابت والے کے مقابلے میں۔ اگر حقیقی چچا نہیں، تو پھر دیکھیں علاقی چچا ہے، تو اس کو دے دیں گے مال۔ اگر علاقی چچا بھی نہیں، تو پھر کس کو دیکھیں گے؟ (حقیقی چچا کا کوئی بیٹا) حقیقی چچا کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر بیٹا حقیقی چچا کا نہیں، تو پھر کس کو دیں گے؟ (علاقی...) علاقی چچا کے بیٹے کو دیں گے۔ اگر حقیقی چچا کا بیٹا اور علاقی چچا کا بیٹا یہ بھی نہیں ہے، تو پھر کس کو دیں گے؟ (حقیقی چچا کے پوتے کو) حقیقی چچا کے پوتے کو۔ اگر وہ بھی نہیں، تو پھر علاقی چچا کے پوتے کو۔ آخر تک اسی طرح سلسلہ چلے گا بھئی۔ کتنے ہوگئے بھئی؟ (26)۔ 26۔ 27۔ 27 نمبر پر لکھیے بھئی، میت کے باپ کا حقیقی چچا۔ یہ اس سے نچلی سطر میں لکھیں، یہ اسی میں ہے، یہ سلسلہ اوپر تک اسی طرح جائے گا۔ اگلی اگر ایک کے اس شاخ سے نہ ملیں تو اس سے اوپر والی شاخ میں چلے جائیں گے۔ اس سے اوپر والی شاخ میں نہ ملیں تو اس سے ایک درجہ اوپر جا کر پھر شاخوں میں ہم جائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ سب چوتھے درجے والے ہیں۔ 27 نمبر کیا ہے؟ میت کے باپ کا حقیقی چچا۔ 28۔ 28 نمبر ہے باپ کا علاقی چچا۔ 29۔ 29 نمبر ہے باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا۔ 30۔ 30 نمبر ہے باپ کے علاقی چچا کا بیٹا۔ 31۔ 31 نمبر ہے باپ کے حقیقی چچا کا پوتا۔ 32۔ 32 نمبر پر ہے باپ کے علاقی چچا کا پوتا۔ نیچے تک بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آئی بھئی؟ (جی)۔ عصبات میں ترتیب درجات کا بھی خیال رکھنا، پھر ہر درجے کے اندر بھی ترتیب ہے، اس کا بھی خیال رکھنا۔ سب سے پہلے اول درجے کے عصبات کون ہیں؟ (بیٹے) بیٹے اور اس سے نیچے تک جو مذکر اولاد بھئی۔ اور پھر ان میں بھی یاد رکھنا، جب قریب والا ہر درجے کے اندر پھر ترتیب ہے، قریب والا موجود ہے تو بعید والا محروم ہوگا بھئی۔ پھر اس کے بعد دوسرے درجے میں چلے گئے اگر اولاد نہیں تو، اس میں اصول کو دیکھیں: باپ، دادا، پردادا۔ وہاں بھی وہی اصول، قریب والا موجود ہے تو بعید والا محروم ہوگا۔ اچھا! اس کے بعد تیسرے درجے میں چلے گئے، تیسرے درجے میں پھر پہلا درجہ ہے حقیقی بھئی کا، دوسرا درجہ ہے علاقی بھئی کا۔ پھر حقیقی بھئی کا بیٹا، اگر وہ نہیں تو پھر علاقی بھئی کا بیٹا بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آئی؟ (جی)۔ اچھا! یہ اسی طرح نیچے تک چلے جائیں گے بھئی۔ اور چوتھے درجے میں کیا تھا؟ حقیقی چچا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد علاقی چچا۔ اب بھئی، ایک مجھے مسئلہ بتائیے! ایک آدمی کا انتقال ہوا اور اس کے صرف ایک حقیقی چچا کا بیٹا ہے اور علاقی چچا ہے۔ حقیقی چچا کا بیٹا ہے، یعنی چچازاد بھئی ہے۔ اور ایک علاقی چچا بھی ہے۔ کس کو عصبہ بنائیں گے؟ (علاقی چچا کو) علاقی چچا کو، شاباش! کیوں؟ (قریب ہے) قریب ہے وہ، تو قریب والے کا درجہ اولیٰ ہے بھئی۔ تو یہ ترتیب یاد رکھنا عصبات کے اندر بھئی، عصبات کے اندر۔ پھر اس میں دیکھیے ذرا! یہ جو درجہ اول میں ہیں: بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ، ان کے ساتھ ان کی بہن بھی آ جائے تو وہ کیا بنے گی؟ عصبہ بن جائے گی۔ اچھا، دوسرے درجے میں آئیے، یہ یہاں پر اگر یہ باپ کے ساتھ اس کی بہن یا دادا کے ساتھ اس کی بہن آئی، تو کیا وہ عصبہ بنے گی؟ (نہیں) نہیں بھئی، کیونکہ ذوی الفروض میں ان کا شمن دی ذکر کیا بھئی۔ باپ کی بہن کی بات کر رہے ہیں بھئی، باپ کی بہن بھئی۔ وہ ذوی الفروض میں سے نہیں، تو یہاں بھی اس کا حصہ نہیں ہوگا بھئی۔ أچھا، تیسرے درجے میں آئیے! حقیقی بھئی کے ساتھ اگر بہن آ گئی، عصبہ بنے گی کہ نہیں؟ (بنے گی) بنے گی، کیونکہ حقیقی بہن ہے، وہ ذوی الفروض میں سے تھی۔ علاقی بھئی کے ساتھ اس کی بہن آئی تو؟ وہ بھی عصبہ بنے گی۔ اچھا! جی، آگے بھئی حقیقی بھئی کا بیٹا، حقیقی بھئی کا بیٹا یعنی بھتیجا۔ بھتیجے کے ساتھ بہن آ گئی؟ (نہیں) جی؟ (نہیں) بھتیجی کے ذوی الفروض میں کوئی بھتیجی کا ذکر تھا؟ (نہیں) نہیں، جب نہیں تھا تو بس سیدھی سی بات ہے، وہ عصبہ نہیں بنے گی اس کے ساتھ، صرف بھتیجے کو حصہ ملے گا، بھتیجی کو کچھ نہیں ملے گا۔ بھتیجی ذوی الارحام میں چلی جائے گی بھئی، کس کے اندر؟ ذوی الارحام میں بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آگئی؟ (جی)۔ چوتھے درجے میں ذرا آؤ، حقیقی چچا کے ساتھ اگر اس کی بہن بھی آ گئی، یعنی پھوپھی۔ جی؟ وہ ذوی الفروض میں سے نہیں، تو لہٰذا وہ اپنے بھئی کے ساتھ عصبہ نہیں بنے گی، وہ کس میں داخل ہے؟ وہ ذوی الارحام میں داخل ہے۔ ترتیب ساری اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ (جی)۔ یہ عصبات کی ترتیب آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے بھئی، یہ بڑی ضروری ہے۔ اسی پر آگے پھر آپ طے کریں گے کہ کون عصبہ بن رہا ہے، قریب والا ہو تو بعید والا نہیں بنے گا۔ اب پہلے درجات میں دیکھیں گے ہر درجے میں۔ پھر اگر اس درجے کے اندر دو تین افراد ملتے ہیں، تو جو قریب والا ہوگا وہ عصبہ بنے گا اور بعید والا محروم ہوگا بھئی۔ اور اگر ایک درجے کا نہیں ہے، تو پھر اس کے بعد اگلے درجے کی طرف ہم جائیں گے۔ اگر دوسرے درجے کا بھی نہیں، پھر اس کے بعد ہم تیسرے درجے کی طرف جائیں گے۔ ترتیب اچھی طرح ذہن نشین ہوگئی بھئی؟ (جی)۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
92 approved lectures · 19 of 92